Explained with ayahs 8–10
مال فے کے حقدار
اوپر بیان ہوا تھا کہ فے کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آگیا ہو اس کے مالک رسول اللہ ﷺ ہیں پھر آپ یہ مال کسے دیں گے ؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حق دار وہ غریب مہاجر ہیں جنہوں نے اللہ کو رضامند کرنے کے لئے اپنی قوم کو ناراض کرلیا یہاں تک کہ انہیں اپنا وطن عزیز اور اپنے ہاتھ کا مشکلوں سے جمع کیا ہوا مال وغیرہ سب چھوڑ چھاڑ کر چل دینا پڑا، اللہ کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی مدد میں برابر مشغول ہیں، اللہ کے فضل و خوشنودی کے متلاشی ہیں، یہی سچے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا فعل اپنے قول کے مطابق کر دکھایا، یہ اوصاف سادات مہاجرین میں تھے ؓ۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْحَشْر 20
یہاں تک جو احکام ارشاد ہوئے ہیں ان میں یہ فیصلہ کردیا گیا ہے کہ فَے میں اللہ اور رسول اور اقربائے رسول، اور یتامیٰ اور مساکین اور ابن السبیل، اور مہاجرین اور انصار، اور قیامت تک آنے والی مسلمان نسلوں کے حقوق ہیں۔ قرآن پاک کا یہی وہ اہم قانونی فیصلہ ہے جس کی روشنی میں حضرت عمر ؓ نے عراق، شام اور مصر کے مفتوحہ ممالک کی اراضی اور جائدادوں کا اور ان ممالک کی سابق حکومتوں اور ان کے حکمرانوں کی املاک کا نیا بندوبست کیا۔ یہ ممالک جب فتح ہوئے تو بعض ممتاز صحابہ کرام نے، جن میں حضرت زبیر، حضرت بلال، حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت سلمان فارسی ؓ جیسے بزرگ شامل تھے، اصرار کیا کہ ان کو…
Read the full tafseer →مہاجرین و انصار کے بعد عام امت کے مسلمان
(آیت) وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ الایة، اس آیت کے مفہوم میں صحابہ کرام مہاجرین و انصار کے بعد پیدا ہونے والے قیامت تک کے مسلمان شامل ہیں اور اس آیت نے ان سب کو مال فئی میں حقدار قرار دیا ہے، یہی سبب تھا کہ حضرت فاروق اعظم نے دنیا کے بڑے ممالک عراق، شام، مصر وغیرہ فتح کئے، تو ان کی زمینوں کو غانمین میں تقسیم نہیں فرمایا بلکہ ان کو اگلی آنے والی نسلوں کے لئے وقف عام رکھا کہ ان کی آمدنی اسلامی بیت المال میں آتی رہے اور اس سے قیامت تک آنے والے مسلمان فائدہ اٹھا سکیں، بعض صحابہ کرام نے جو ان سے مفتوحہ زمینوں کی تقسیم کا سوال کیا تو انہوں نے اسی…
Read the full tafseer →(والذین جاء و من بعد ھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا ربنا انک رئو وف رحیم) (10)۔
(مہاجرین تماخرین کی تحسین)۔ انصار اور مہاجرین اولین کا رویہ بیان کرنے کے بعد یہ مہاجرین متاخرین کا رویہ بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے دلوں میں بھی اپنے ان سابق الایمان اور سابق الہجرت بھائیوں کے لیے بڑا اخلاص اور بڑی محبت ہے۔ ان کو یہ حسد نہیں ہے کہ انہوں نے پہلے پہنچ کر تمام میسر وسائل و اسباب پر قبضہ جما لیا اور گھر دروالے بن گئے جب کہ یہ ابھی ہر چیز سے محروم ہیں بلکہ یہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے اور اپنے ان بھائیوں کے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب،…
Read the full tafseer →10۔ 1 یہ مال فئی کے مستحقین کی تیسری قسم ہے یعنی صحابہ ؓ کے بعد آنے والے اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان وتقوی آگئے لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار و مہاجرین کو مومن ماننے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے اور ان پر سب وشتم کرنے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض وعناد رکھنے والے امام مالک ؒ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات ارشاد فرمائی ہے ان الرافضی الذی یسب الصحابۃ لیس لہ فی مال الفی نصیب لعدم اتصافہ بما مدح اللہ بہ ھولاء فی قولھم رافضی کو جو صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین پر سب وشتم کرتے…
Read the full tafseer →9: اس سے ایک تو وہ حضرات مراد ہیں جو مذکور صحابہ کے بعد پیدا ہوئے، یا مسلمان ہوئے، ان کو بھی اس مال فیئ سے حصہ دیا جائے گا، دوسرے اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مال فیئ کا جو حصہ بیت المال میں محفوظ رہے گا، وہ آنے والے مسلمانوں کی ضروریات میں استعمال ہوگا۔ حضرت فاروق اعظم ؓ نے اسی آیت کی بنا پر عراق کی زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجائے ان پر خراج عائد کردیا تھا، تاکہ وہ بیت المال میں جا کر تمام آنے والوں کے کام آئے۔ اس مسئلے کی تفصیل کے لیے اہل علم معاف القرآن اور بندے کی کتاب ملکیت زمین کی شرعی حیثیت ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →والذین .................... رءوف رحیم (95 : 01) ” جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “
یہ تیسری تصویر ہے جو نہایت پاکیزہ ، راضی رضا اور سمجھنے والے لوگوں کی تصویر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مہاجرین وانصار کے بعد آئے۔ اس آیت کے نزول کے وقت وہ تو مدینہ میں موجود نہ تھے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ازلی علم میں آچکے تھے جو زمان ومکان کے حدود سے وراء ہے اور یہ دنیا میں بعد میں آنے والے تھے۔ اللہ نے پیشگی ان کی صفات بیان کردی…
Read the full tafseer →7 یعنی ان مہاجرین و انصار کے بعد عالم وجود میں آئے، یا ان کے بعد حلقہ اسلام میں آئے، یا مہاجرین سابقین کے بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ والظاہر ہو الاول۔
8 یعنی سابقین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور کسی مسلمان بھائی کی طرف سے دل میں بیر اور بغض نہیں رکھتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ " آیت سب مسلمانوں کے واسطے ہے جو اگلوں کا حق مانیں اور انہی کے پیچھے چلیں اور ان سے بیر نہ رکھیں۔ " امام مالک نے یہیں سے فرمایا کہ جو شخص صحابہ سے بغض رکھے اور ان کی بدگوئی کرے اس کے لیے مال فئے میں کچھ حصہ نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 10{ وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ } ”اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے وہ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے“
{ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رُئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے ‘ اے ہمارے رب ‘ بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔“
اس آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ مال فے کی تقسیم میں حاضر و موجود…
Read the full tafseer →13 اموال فے میں بعد میں آنے والے مسلمانوں کا حصہ :۔ یعنی اموال فے کے حقداروں میں جن لوگوں کا اللہ نے بطور خاص ذکر فرمایا۔ ان میں پہلے محتاج مہاجرین کا بھی کا ذکر کیا۔ پھر ایثار کرنے والے مہاجرین کا، اور تیسرے نمبر پر بعد میں آنے والوں کا۔ کیونکہ اموال فے میں جائیداد غیرمنقولہ، زمینیں اور ان کے علاوہ وہ جزیہ و خراج کی رقوم بھی شامل ہیں جو سرکاری سطح پر وصول کی جاتی ہیں۔ چناچہ جب دور فاروقی میں مسلمانوں نے عراق اور شام کو فتح کرلیا اور ان زمینوں پر قبضہ ہوگیا تو امرائے فوج نے اصرار کیا کہ مفتوحات انہیں بطور جاگیر عنایت کئے جائیں اور باشندوں کو ان کی غلامی میں دیا جائے۔ سیدنا عمر نے سیدنا سعد بن…
Read the full tafseer →19۔ (اس لئے ہماری یہ دعا دنیا وآخرت دونوں میں ضرور قبول کرے گا) یہ قرآنی مدح صحابہ کا تیسرا جزو ہے، اور مہاجرین وانصار دونوں کے حق میں جامع۔ یہ لوگ وہ تھے کہ اپنے سے اگلوں کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے، اور اپنے سامنے والوں اور اپنے پچھلوں کے ساتھ محبت و شفقت، اور دعائے خیر اب کے لئے عام رکھتے تھے۔ (آیت) ” والذین جآء و من بعدھم “۔ یعنی ان مہاجرین وانصار کے بعد، دنیا میں آئیں گے، یا اسلام میں داخل ہوں گے، یا ہجرت میں شریک ہوں گے۔ تقسیم فے کا یہ سلسلہ قیامت تک برابر امت میں جاری رہے گا۔ اور یہ قول خلیفہ حضرت عمر ؓ کے علاوہ صحابیوں، تابعین اور فقہاء کی ایک بڑی جماعت کا ہے :۔ قال عمر ؓ دخل فی ھذا الفیء…
Read the full tafseer →والذین جاء ومن بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا (الآیۃ) یہ مال فئی کے مستحقین کی تیسری قسم ہے یعنی صحابہ کرام ؓ کے بعد آنے والے اور صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پر چلنے والے اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان وتقویٰ سب آگئے، لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار و مہاجرین کو مومن مانتے ہوں اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے والے اور ان پر سب و شتم کرنے والے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض وعناد رکھنے والے، امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات فرمائی ان الرافضی الذی یسب الحابۃ لیس لہ فی مال الفی نصیب لعدم اتصافہ بما مدذح…
Read the full tafseer →والذین جاء وا من بعد ھم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا ربنا انک رء وف رحیم .
” اور ان لوگوں کا بھی (مالِ فے میں) حق ہے جو ان کے بعد آئے ‘ بعد کو آنے والے ان اگلوں کے لیے (دعا کرتے اور) کہتے ہیں۔ اے ہمارے ربّ ! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ان ایمان والوں کے لیے کینہ نہ پیدا کردینا۔ اے ہمارے ربّ ! آپ بڑے شفیق ‘ رحیم ہیں۔ “
بَعْدِھِمْ : یعنی مہاجرین و انصار کے بعد۔ ان سے مراد ہیں وہ صحابی جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ تمام مؤمن بھی مراد ہیں جو صحابی کے بعد قیامت تک آنے…
Read the full tafseer →اور اسی طرح ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان مہاجرین اولین کے بعد آئے اور وہ اس طرح دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کے گناہوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ہجرت کرچکے ہیں اور ہمارے دلوں میں مہاجرین اولین کی طرف سے بغض و حسد نہ ہونے دیجیے۔
کیونکہ ان لوگوں کو اپنے بارے میں اس چیز کا خوف ہوا کہ رسول اکرم نے مہاجرین اولین کو جو کچھ دے دیا تو کہیں اس سے ہمارے دلوں میں ان کے متعلق کینہ نہ ہوجائے اس لیے ان لوگوں نے یہ دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →1۔ وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ : اس کا عطف مہاجرین و انصار پر ہے جن کا ذکر پچھلی دو آیات میں گزرا۔ یعنی اموال فے مہاجرین و انصار کے فقراء کے لیے ہیں اور ان فقراء کے لیے جو ان کے بعد آئے۔ یہ اموال فے کے مستحقین کی تیسری قسم ہے۔ ان میں تابعین ، تبع تابعین اور قیامت تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں ، اگر ان میں سے وہ صفات موجود ہوں جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔
2۔ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ۔۔۔۔۔: ان میں سے پہلی صفت جو ”الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ“ سے ظاہر ہے ، یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصا کو مومن مانتے ہوں اور انہی…
Read the full tafseer →تفسیر
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ …مراد تابعین اور قیامت تک اسلام میں داخل ہونے والے ہیں۔ ابن ابی لیلی نے کہا : لوگوں کے دین درجے ہیں (1) مہاجرین (2) انصار جن کا ذکر ان الفاط میں کیا گیا ہے۔ ……(3) بعد کے مومنین جو قیامت تک آئیں گے جن کا ذکر والذین جاء و من بعدھم کے ساتھ کیا گیا ہے، اس لئے کوشش کرو کہ ان سے باہر نہ نکلو۔ کسی نے کہا : سورج بنو، اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تو چاند بنو، اگر یہ بھی طاقت نہیں رکھتے تو روشن ستارہ بنو۔ اگر تم یہ بھی طاقت نہیں رکھتے تو چھوٹا ستارہ بن جائو اور نور کی جہت ختم نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا معنی ہے مہاجر ہی بن جائو۔ اگر تو کہتے : میں تو ایسا موقع نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین جاء و من بعدہم اور جو ان کے بعد آئے یعنی وہ لوگ جو ان کے بعد اسلام لائے تو انہوں نے اس سے عبداللہ بن نبتل اور اوس بن قیظی کو مراد لیا۔
2۔ حاکم وصححہ وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ لوگ تین مراتب میں ہیں ان میں دو کا ذکر پہلے گزر چکا ایک مرتبہ کا ذکر باق ہے۔ سو اچھا ہے جو تم اس مرتبہ پر ہوتے یعنی تم اس رتبہ اور درجہ پر ہو جس کا ذکر ابھی باقی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم۔ ان فقراء مہاجرین کے لیے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے۔ پھر فرمایا اس سے مراد مہاجرین ہیں اور یہ…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : اور ان کے لیے ہے جو آئے ان کے بعد ][ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا : کہتے ہوئے اے ہمارے رب تو بخش دے ہمارے لیے ][ وَلِاِخْوَاننَا الَّذِينَ : اور ہمارے ان بھائیوں کے لیے (گناہ) جنھوں نے ][ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَان : سبقت کی ہم پر ایمان میں ][وَلَا تَجْعَلْ : تو مت بنا ][ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا : ہمارے دلوں میں کوئی کدورت ][ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ][ رَبَّنَآ انكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : اے ہمارے رب بیشک تو ہی انتہائی نرمی کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 4 : آیت نمبر۔ 10 ۔ تک جو احکام ارشاد ہوئے ہیں ان میں یہ…
Read the full tafseer →مہاجرین و انصار کے بعد آنے والے مسلمانوں کا بھی اموال فئی میں استحقاق ہے
اكثر علماء کے نزدیک یہ بھی المہاجرین پر معطوف ہے اور اس میں بعد میں آنیوالے حضرات کا اموال فئی میں حصہ بتایا ہے اور مقصد یہ ہے کہ مہاجرین وانصار کے بعد دیگر مسلمان جو قیامت تک آئیں گے ان سب پر مال فئی میں سے خرچ کیا جائے۔ مفسرابن کثیر نے تفسیر ابن جریر سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آیت شریفہ ﴿ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ ﴾ کی آخر تک تلاوت کی، پھر فرمایا کہ یہ صدقات ان لوگوں کے لئے ہیں (جن کا آیت میں ذکر ہوا) اس کے بعد آپ نے آیت کریمہ ﴿ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ ﴾ آخر تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
استحقاق مہاجرین وانصار ومحبین و مخلصین صحابہ کرام کرام ؓ درمال فئی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” للفقرآء المھجرین الذین اخرجوا ...... الی ...... انک رء وف رحیم “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں بنو نضیر کی جلاوطنی کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کے اموال جو بطور فئی حاصل ہوئے ہیں ان کا متولی و متصرف کلیۃ اللہ نے اپنے پیغمبر کو بنایا پیغمبر ہی کو ان پر تسلط و غلبہ عطا کیا گیا اب ان ہی کے اختیار میں ہے کہ جس کو چاہیں اور جتنا چاہیں عطا کریں کسی کو اس میں ذرہ برابر نکتہ چینی کا حق نہیں، اور اللہ نے ان اموال کے مستحق، ذوی القربی، یتامی و مساکین اور اب السبیل بنائے ہیں ان مصارف کے ذکر کے بعد خاص طور پر اب ان آیات میں…
Read the full tafseer →10:۔ ” والذین جاء وا من بعدھم “ یہ بھی ” الفقراء “ پر معطوف ہے۔ مہاجرین و انصٓر ؓ کے بعد جو اہل ایمان مستحق ہوں گے ان کو بھی اس مال سے حصہ دیا جائے لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ مہاجرین وانصار ؓ کے بغض سے ان کے دل پاک ہوں بلکہ ان کی محبت سے لبریز ہوں اور وہ ہمیشہ مہاجرین و انصار کو دعاء خیر سے یاد کریں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کے بغض سے دل کو صاف رکھنا اور ان کے ھق میں دعاء کرنا بعد والوں کے لیے لازم ہے۔ یہاں تک کہ امام مالک (رح) فرماتے ہیں جس شخص کے دل میں کسی بھی صحابی کا بغض ہوگا مال فیئ میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ وفی الایۃ حث علی الدعاء للصحابۃ و تصفیۃ القلوب من بغض احد منہم (روح ج…
Read the full tafseer →ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ نے بنی نضیر کے یہودیوں پر مسلمانوں کے غلبے کا ذکر کیا اور پھر اس ضمن میں مال فے کے احکام اور اس کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا اللہ نے اس مال کے مستحقین کے طور پر فرمایا کہ اس کے حقدار اللہ اور اس کے رسول اور اس کے قرابتدار ہیں۔ پھر یہ مال یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ درمیان میں اللہ نے اسلام کے نظام معیشت کا یہ اصول بھی ذکر کردیا کہ مال و دولت محض دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اس کا بہائو نیچے کی طرف کمزورطبقات تک ہونا چاہیے۔ پھر اللہ نے نادار مہاجرین کو حقدار ٹھہرایا جو اپنے گھر بار اور سازو سامان چھوڑ کر اللہ کے دین کی خاطر…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِہِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 10 ۧ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فے اور غنیمت کے معنی :
تفسیر : اس کے بعد بنی نضیر کے مال و اسباب کی بابت فرماتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور جس کو وہ نہ لے جاسکے۔ فقال وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما ادجفتم علیہ من خیل دلارکاب الخ۔ مبرد کہتے ہیں فاء یفیٔ کے معنی ہیں رجوع کے اور افاء اللہ جب کہتے ہیں کہ جب اللہ بھیجے۔ ازہری کہتے ہیں فیٔ اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ مخالفوں سے حاصل ہو خواہ اس طور سے کہ کفار چھوڑ کر چلے جائیں یا جزیے کے طور ادا کریں یا رعب میں آ کر جان بچانے کے لیے کچھ رقم یا چیزیں دیں ‘ یہ سب فیٔ ہے۔ اس کو لغوی معنی کے لحاظ سے فی اس لیے کہتے ہیں کہ کفار سے اللہ نے مسلمانوں کے پاس بھیجا ہے۔ برخلاف غنیمت…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْ م بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلاَ تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّـنَـآ اِنَّـکَ رَئُ ْوفٌ رَّحِیْمٌ۔
(اور جو ان کے بعد آئے ہیں وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کینہ نہ پیدا ہونے دے، اے ہمارے رب بیشک تو نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ 10)
اموالِ فے کا آخری مصرف
یہ اموالِ فے کا آخری مصرف ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فے میں اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مال فئی میں بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی حصہ رکھنا چاہیے اور پہلے فوت شدگان کے لیے دعا کرنی چاہئے۔
مالِ فئی میں ان لوگوں کا حصہ بھی شامل ہے جو ہجرت میں پہل کرنے والوں کے بعد ایمان لانے والے ہیں کیونکہ ان کا تعلق اور محبت ان مومنوں کے ساتھ ہے جو ان سے پہلے دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ بعد میں مسلمان ہونے والے نہ صرف فوت ہونے والے مومنوں کے ساتھ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں بلکہ ان کے لیے ان الفاظ میں دعا گو ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہمارے ان بھائیوں کی بشری کمزوریوں کو معاف فرمادے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں کو ایمانداروں کے بارے میں حسد و کینہ سے محفوظ فرما۔ اے ہمارے رب…
Read the full tafseer →حکم استغفار :
10 : وَالَّذِیْنَ جَآ ئُ وْ مِنْم بَعْدِھِمْ (اور ان لوگوں کا بھی جو ان کے بعد آئے) اس کا عطف بھی المہاجرین پر ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بعد میں ہجرت کی۔ ایک قول : احسان سے ان کی اتباع کرنے والے۔ ایک قول یہ ہے ان کے بعد قیامت تک آنے والے لوگ۔ قول عمر ؓ : اس میں ہر وہ بچہ داخل ہے جو قیامت تک مسلمانوں کا پیدا ہوگا۔ پس انہوں نے دونوں میں وائو کو عاطفہ مانا۔
قراءت : دونوں آیات میں للذین پڑھا گیا ہے۔
یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ (بعد کو آنے والے کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم…
Read the full tafseer →9 ۔” والذین تبوالدار والایمان “ اور وہ انصار ہیں، ان کے اقامت کی، گھر کی اور وطن بنایا گھر کو یعنی مدینہ دار ہجرت ہو ایمان بنایا۔ ” من قبلھم “ یعنی وہ اپنے گھروں میں اسلام لائے اور ایمان کی ترجیح دی اور نبی کریم ﷺ کے آنے سے دو سال پہلے مسجدیں بنائیں اور آیت کی ترتیب ” والذین تبو وا الدار والایمان من قبلھم “ یعنی مہاجرین ان کے پاس آنے سے پہلے اور وہ ایمان لے آئے اس لئے کہ ایمان اقامت کی جگہ نہیں ہے۔ ” یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صغوزھم حاجۃ “ گھٹن، غصہ اور حسد ۔ ” مما اوتوا “ یعنی جو مہاجرین ان کے بغیر مال فئی دیئے گئے اور یہ بیشک رسول اللہ ﷺ کے بنو نضیر کے اموال کو مہاجرین کے درمیان…
Read the full tafseer →10۔ صحابہ کے ذکر کے بعد یہ تابعین کا ذکر ہے جن لوگوں نے حالت اسلام میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا۔ اور پھر حالت اسلام پر مرتے دم تک قائم رہے وہ صحابہ کہلاتے ہیں اسی طرح جن لوگوں نے صحابہ کو دیکھا وہ تابعین کہلاتے ہیں اور جن لوگوں نے تابعین کو دیکھا وہ اتباع تابعین کہلاتے ہیں۔ 220 ہجری تک اتباع تابعین کا زمانہ دینداری کا رہا پھر فرقہ معتزلیوں اور فلسفیوں کا زور ہوگیا اور لوگوں کے اعتقاد اور قول فعل سلف کے موافق نہیں رہے۔ اس لئے اگرچہ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ آیت کی تفسیر فقط تابعیوں تک کے عہد سے کی جائے لیکن صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ میں ابو سعید خدری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس لشکر اسلام میں…
Read the full tafseer →(وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ) یعنی جو اہل ایمان مہاجرین وانصار کے بعد آئے ( يَقُوْلُوْنَ ) وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیرخواہی کے لیے کہتے ہیں ( رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ ) اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ کرام ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔ یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
قول باری ہے (ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے) حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین سے اللہ کے دیے ہوئے فضل پر حسد نہیں کرتے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرات انصار حضرات مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس سے ان کے دلوں میں تنگی پیدا نہیں ہوتی۔
صدقہ کی کہاں تک حد ہے ؟
قول باری ہے (ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اور وہ اپنی ذات پر انہیں ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں) خصاصہ حاجت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے حضرات انصار کے اس طرز عمل پر ان کی تعریف کی کہ وہ انفاق کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[ 30] متأخرین کیلئے صحیح رویے کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ متاخرین کیلئے صحیح رویہ متقدمین کیلئے دعا کرنا ہے۔ سو اس سے دو اہم باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ دعا صرف اپنے لئے ہی نہیں دوسروں کے لئے بھی کرنی چاہیے، خاص کر ان لوگوں کیلئے جو پہلے گزر چکے ہوں، اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اصل رشتہ جو درکار ہے اور جو دعا کا باعث اور محرک بن سکتا ہے، اور جس کی بنا پر دعاء نفع دے سکتی ہے وہ رشتہ ایمان کا رشتہ ہے، جو سب رشتوں سے بڑھ کر ہے، جو اس دار فانی کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی کام آئے گا، جب کہ اس کے علاوہ دوسرے تمام رشتے اور تعلقات کٹ جائینگے اور وہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
مال غنیمت اور مال فَیْ کی تقسیم انصار کی فراخدلی
تشریح : سب سے پہلے تو یہودیوں کو اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ بیشک پھل دار درخت کاٹنے کی مسلمان کو ممانعت ہے مگر اب جو مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹ دئیے ہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہی کاٹے ہیں کچھ تو جنگی مصلحت کی بنا پر اور کچھ دشمنوں کو ان کے باغات کی تباہی و بربادی دکھا کر جلانے اور پریشان کرنے کیلئے۔ دوسرا بڑا اہم مسئلہ فی، اور مال غنیمت کی تقسیم کا تھا۔ مال غنیمت اور فَیْ ، دونوں ہی دشمن کے چھوڑے ہوئے منقولہ وغیر منقولہ مال کو کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فَیْوہ مال ہے جو بغیر جنگ و جدل بغیر خون خرابے کے حاصل ہو اور غنیمت وہ ہے جو جنگ و جدل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔ یہود کے قبیلہ بنونظیر کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ تھا جب آپ ﷺ ایک کام سے ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے قتل کی سازش کی جس کی اطلاع بذریعہ وحی ہوگئی۔ آپ واپس تشریف لائے انہیں حکم دیا کہ تم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی لہذا دس روز کے اندر گھر سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے ساتھ جنگ ہوگی ۔ منافقین نے انہیں مدد کا یقین دلایا وہ نہ گئے تو آپ نے محاصرہ کرلیاچنانچہ جانے پر رضامند ہوگئے آپ نے مال لے جانے کی اجازت دے دی صرف ہتھیار ضبط فرمالیے تو کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے کچھ خیبر میں اور کچھ شام وغیرہ میں چلے گئے پھر خلافت عمر میں سب کو شام کی طرف نکال دیا گیا یہی دو جلاوطنیاں…
Read the full tafseer →ف 10 ان سے مراد بعد میں ہجرت کر کے آنے والے صحابہ بھی ہیں اور قیامت تک آنے والے وہ مسلمان بھی جو صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلیں۔
1 پہلے ایمان لانے والوں میں صحابہ کرام بذریعہ اولی شامل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اسلام کا دعویٰ کرنیکے باوجود صحابہ کرام کی پوری جماعت کے لئے مغفرت اور روضان کی دعا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے اس آیت میں دیئے ہوئے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اگر وہ اپنے دل میں ان کی طرف سے کینہ رکھتا ہے تو وہ دراصل شیطان کا پیروی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور امت محمدیہ کے بہترین طبقہ کے خلاف اپنے دل میں دشمنی رکھتا ہے اور اگر وہ مرنے سے پہلے اپنی اس روش سے…
Read the full tafseer →(59:10) جاء وا : ماضی جمع مذکر غائب وہ آئے۔ مجیء (باب ضرب) مصدر۔
بعدھممضاف مضاف الیہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع مہاجرین و انصار ہیں۔ یعنی مہاجرین و انصار کے بعد۔ ان سے وہ صحابہ کرام مراد ہیں جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ تمام مومن بھی مراد ہیں جو صحابہ کے بعد قیامت تک آنے والے ہیں۔ (تفسیر قرطبی)
سبقونا : سبقوا ماضی جمع مذکر غائب۔ سبق (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی سبقت لے جانا۔ آگے نکل گئے ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم وہ ہم سے آگے نکل گئے۔ وہ ہم سے سبقت لے گئے۔
غلا : کینہ۔ حسد، بغض۔ غل یغل (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ کسی کے متعلق دل میں کینہ رکھنا۔ غلل مادہ۔ اس مادہ سے باب افعال سے اغلال بمعنی خیانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
لغات القرآن۔
افائ۔ اس نے لوٹایا۔ اوجفتم۔ تم نے بھگایا۔ تم نے دوڑایا۔ دولۃ۔ مال و دولت۔ نھی۔ منع کردیا۔ تبوئ۔ انہوں نے ٹھکانا بنایا۔ حاجۃ۔ ضرورت۔ یوثرون۔ وہ ترجیح دیتے ہیں۔ خصاصۃ۔ ضروریات زندگی۔ فقر وغربت۔ شح۔ کنجوسی۔ لالچ۔ غلا۔ کینہ۔ بغض۔
تشریح : جنگ میں فتھ کے بعد کفار سے جو مال مجاہدین کے ہاتھ لگتا ہے اگر باقاعدہ جنگ کے ذریعہ حاصل ہو تو اس کو ” مال غنیمت “ اور ” انفال “ کہا جاتا ہے اور بغیر جنگ کے صلح کے ذریعہ مال و دولت ، زمین و جائیداد ہاتھ آتی ہے اس کو ” مال فے “ کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کو کس طرح صرف کیا جائے گا اس کے الگ الگ احکامات ہیں۔
دور جہالت میں عربوں کا دستور یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →حضور ﷺ کی فرمانبرداری کا حکم اور بیعت کا ذکر۔
(ف 1) شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلاوطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلاوطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا، اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں چار خمس لشکراسلام میں تقسیم کیے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیرلڑائی کے ہاتھ…
Read the full tafseer →[15] یعنی ان مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمان۔ مطلب یہ ہے کہ تقسیم فے کا یہ سلسلہ قیامت تک برابر امت میں جاری رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 1: ان آیات میں ان لوگوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔ جو اموال غنیمت کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ فرمایا ۔ اس مال میں ان غریب مہاجرین کا حصہ ہے ۔ جو اپنے گھر اور اپنے مال و سامان سے جبرا جدا کردیئے گئے ۔ جو محض اللہ کی رضامندی کے طالب ہیں ۔ اور وقتاً فوقتاً جب ضرورت پڑے میدان جہاد میں بطور سپاہی کے لڑتے ہیں ۔ اور اپنی صداقت ایمانی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ پھر وہ انصار بھی اس کا ستحقاق رکھتے ہیں ۔ جو مدینہ میں پہلے سے قیام پذیر ہیں ۔ اور ایمان کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے ۔ جو مہاجرین کو وقعت کی کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی آسودگی سے نہ صرف خوش ہوتے ۔ بلکہ بسا اوقات ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ۔…
Read the full tafseer →(10) اور وہ لوگ بھی اس مال فئے کے حقدار ہیں جوان انصار و مہاجرین کے بعد آئے اور جو اپنے پروردگار سے یوں دعا کیا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دیجئے جو ایمان لانے میں ہم سے سبقت کرچکے ہیں اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ بغض اور عداوت کو جگہ نہ دے۔
اے ہمارے پروردگار بیشک تو بڑی شفقت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ آیت سب مسلمانوں کے واسطے ہے جو اگلوں کا حق مانیں اور انہی کے پیچھے چلیں اور ان سے بیر نہ رکھیں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد تابعین ہیں بعض نے کہا تبع تابعین بعض نے ان کے بھی بعد کے لوگ مراد…
Read the full tafseer →ف 4۔ حرص طبعی و جبلی پر ملامت نہیں، البتہ اس کے مقتضائے نا مشروع پر عمل کرنا مذموم ہے۔
Read the full tafseer →تابعین کرام (رح) اور قیامت تک آنے والے نیک لوگوں کے اخلاق و کردار کا ذکر
10 ؎ گزشتہ دو آیتوں میں صحابہ کرام ؓ کا ذکر خیر اور مناقب بیان کیے گئے آیت 8 میں مہاجرین کا اور آیت 9 میں انصارکا ذکر خیر تھا۔ زیر نظر آیت میں صحابہ کرام ؓ کے بعد آنے والے یعنی تابعین (رح) اور قیامت تک آنے والے نیک لوگوں کے اخلاق و کردار کو بیان کیا گیا ہے فرمایا جو ان مہاجرین و انصار صحابہ کرام ؓ کے بعد آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور اپنے سے پہلے گزرنے والے صحابہ کرام ؓ کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ان کا تذکار پڑھ کر ان میں سے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
All Muslims after the Muhajirin and the Ansar are entitled to fai'
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ "And [ fai' is also ] for those who came after them ....59:10) This verse lays down that all Muslims until the Last Hour, after the noble Companions from amongst the Muhajirin and Ansar, are entitled to a share in the fai' property. This was the reason why Sayyidna ` Umar Al-Faruq ؓ conquered great territories like ` Iraq, Syria, Egypt and so on, but did not distribute them among the fighters. He retained them as public endowment for next generations, so that the income might accrue to the…
Read the full tafseer →17 This implies the Ansar. In other words, not only arc the Emigrants entitled to fai but those Muslims also are entitled to receive thair share from it, who were already living in the abode of Islam (Madinah).
18 This is in praise of the Ansar, the Muslims of Madinah. When the Emigrants came from Makkah and other places to their city, they offered their gardens and oases to the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) with the request that he distribute them among their emigrant brethren-in-faith. The Holy Prophet said: "These people do not know gardening: they have come from a region where…
Read the full tafseer →