Explained with ayahs 47–55
شکوک و شبہات کے مریض لوگ
بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
سورة الْقَمَر 24
یہ صریح پیش گوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت، جس کی طاقت کا انہیں بڑا زعم تھا، عنقریب مسلمانوں سے شکست کھا جائے گی۔ اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ مستقبل قریب میں یہ انقلاب کیسے ہوگا۔ مسلمانوں کی بےبسی کا حال یہ تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبش میں پناہ گزیں ہوچکا تھا، اور باقی ماندہ اہل ایمان شعب ابی طالب میں محصور تھے جنہیں قریش کے مقاطعہ اور محاصرہ نے بھوکوں مار دیا تھا۔ اس حالت میں کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جانے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ فرماتے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
خلاصہ تفسیر
یہ کفار کے قصے اور کفر کی وجہ سے ان پر عذاب ہونے کے واقعات تو تم نے سن لئے اب جبکہ تم بھی اسی جرم کفر کے مرتکب ہو تو تمہارے عذاب سے بچنے کی کوئی وجہ نہیں کیا تم میں جو کافر ہیں ان میں ان (مذکورہ پچھلے لوگوں سے کچھ فضیلت ہے (جس کی وجہ سے تم باوجود ارتکاب جرم کے سزا یاب نہ ہو) تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں کوئی معافی (نامہ لکھ دیا) ہے (گو کوئی خاص فضیلت نہ ہو) یا (ان میں کوئی ایسی قوت ہے جو ان کو عذاب سے بچالے جیسا) یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو غالب ہی رہیں گے (اور جب کہ ان کے مغلوب ہونے کے دلائل واضح موجود ہیں اور خود بھی اپنی مغلوبیت کا ان کو یقین ہے تو پھر ایسی بات…
Read the full tafseer →(یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوتوا مس سقر) (48)
(استکبار کی سزا)۔ اس دن ان مجرمین کو جس ذلت سے سابقہ پیش آئے گا، یہ اس کی یاددہانی ہے۔ فرمایا کہ آج تو یہ بہت اکڑ اکڑ اور نتھنے پھلا پھلا کر جھٹلا رہے ہیں لیکن وہ دن آنے والا ہی ہے جب یہ دوزخ کی آگ میں مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے۔ مونہوں کے بل گھسیٹے جانا انتہائی ذلت کی تصویر ہے۔ یہ سزا انکی اس وجہ سے دی جائیگی کہ انہوں نے محض غرور کے سبب سے ایک واضح حقیقت کو جھٹلایا۔ (ذوتوا مس سقر) یہ قول زبان قال سے بھی ہوسکتا ہے اور زر بان حال سے بھی، میں دوسری صورت کو ترجیح دیتا ہوں۔ ان کا اس طرح گھسیٹا جانا خود ہی انہیں سب سے زیادہ واضح طور پر تباہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
48۔ 1 سَقَرً بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
14: یہ قوم ثمود کی اس بات کا جواب ہے جو اوپر آیت نمبر 24 میں ذکر کی گئی تھی۔ چونکہ مکہ مکرمہ کے کافر بھی اسی جیسی بات کہا کرتے تھے، اس لیے ان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ان المجرمین ............ مس سقر (45: 8 4) ” یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (یاگمراہی اور آگ میں ہیں) جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ “ یعنی وہ گمراہی میں ہیں جہاں عقل اور روح کی سزا ہوتی ہے اور جہنم میں ہیں جہاں جسم اور جلد کو سزا ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ کہتے تھے اور ان جیسے سب لوگوں نے بھی کہا ہے۔
ابشرامنا ................ وسعر (45:4 2) ” کیا ہم میں سے ایک اکیلے شخص کی ہم تابعداری شروع کردیں۔ اگر ایسا کریں تو گویا ہم بہک گئے اور کئی آگوں میں پڑگئے۔ “ اب ان کو معلوم ہوگا کہ گمراہی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
10 یعنی اس وقت غفلت کے نشہ میں پاگل بن رہے ہیں۔ یہ سودا دماغ میں سے اس وقت نکلے گا جب اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو ! اب ذرا اس کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →آیت 48 { یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ ط } ”جس دن یہ گھسیٹے جائیں گے آگ میں اپنے چہروں کے بل۔“
{ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ } ”ان سے کہا جائے گا : اب چکھوآگ کی لپٹ کا مزا !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
33 سعر کا لغوی مفہوم :۔ سُعُر۔ سعر بمعنی آگ کا بھڑکنا اور شعلے نکلنا۔ پھر یہ لفظ مجازاً اشتعال دلانے اور مشتعل ہونے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور سعر سے مراد ایسی دیوانگی ہے کہ کسی بات پر انسان فوراً مشتعل ہو کر غلط کام کرنے لگے اور اس کی عقل صحیح کام نہ کرے۔ یعنی ان مجرموں کی یہ کیفیت ہوگئی ہے کہ ہدایت کی کسی بات پر غور کرنے سے پہلے ہی سیخ پا ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
31۔ (اور اسی انداز معین ومقرر میں تعین زمان بھی شامل ہے جب علم الہی کے مطابق وقت مناسب آئے گا اس وقت قیامت لازما واقع ہو کر رہے گی نہ کہ اس کے قبل) (آیت) ” ان المجرمین “۔ مجرموں سے مراد یا تو مشرکین ہیں، یا وہ سارے فرقے جو یوم آخرت کی طرف سے تردوارتیاب میں پڑے ہوئے ہیں۔ المشرکین (معالم) ھذا یشتمل کل من اتصف بذلک من کافر ومبتدع من سائر الفرق (ابن کثیر) (آیت) ” ان ..... سعر “۔ دنیا کی کوئی حماقت ونافہمی اس سے بڑھ کر اور ہو کیا سکتی ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ قطعی اور یقینی ہے۔ انسان اس کی طرف سے غافل وبے فکر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر مطلب یہ ہے کہ دنیا میں غزوہ بدر کے موقع پر جو مشرکین مکہ کو سزا ملی قتل کئے گئے اور قیدی بنائے گئے یہ ان کی آخری سزا نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوا قوامس سقر .
جس روز منہ کے بل جہنم کے اندر ان کو گھسیٹا جائے گا (اور کہا جائے گا) آگ لگنے کا مزہ چکھو۔ “
مس سقر : یعنی آگ کی گرمی اور اس کے دکھ کا مزہ چکھو۔ مِسّ (چھونا اور لکچانا) تکلیف کا سبب ہے۔
Read the full tafseer →قیامت کے دن جبکہ فرشتے ان لوگوں کو جہنم میں ان کے مونہوں کے بل گھسیٹ کرلے جائیں گے تو ان سے فرشتے کہیں گے کہ دوزخ کی آگ کا مزہ چکھو۔
شان نزول : اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ (الخ)
امام مسلم اور ترمذی نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین مکہ نے آکر رسول اکرم سے تقدیر کے بارے میں مباحثہ کرنا شروع کردیا ان المجرمین سے خلقناہ بقدر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ۔۔۔۔۔:”سقر“ جہنم کا علم (نام) ہے اور مؤنث سماعی ہے ، اس لیے غیر منصرف ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی۔ اشتقاق اس کا ”ستقرتہ النار“ (آگ نے اسے جھلس دیا) سے ہے ، یعنی ان پر ان کی ضلالت اور دیوانگی اس دن واضح ہوگی جب انہیں ان کے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جہنم کے چھونے کا مزہ چکھو۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان (34)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ان المجرمین فی ضلل وسعر۔ اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 فی ضلل یعنی حق سے دور اور سعر یعنی جلنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سعر سے مراد جنون ہے جس طرح اس سورت میں پہلے گزرا ہے۔ یوم یسحبون فی النار علی وجوھم ذوقوامس سقر۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے قریش کے مشرک آئے وہ رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ اسے امام ترمذی نے بھی نقل کیا ہے اور کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
امام مسلم نے طائوس سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگوں کو یہ کہتے ہئوے پایا، وہ کہہ رہے تھے ،: کل شی بقدر (1) ہر شی تقدیر کے مطابق ہے میں نے حضرت…
Read the full tafseer →1:۔ احمد ومسلم وعبد بن حمید (رح) والترمذی وابن ماجہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین قریش نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور تقدیر کے مسئلے پر جھگڑا کرنے لگے تو یہ (آیت) '' نازل ہوئی '' ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم، ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (جس روز منہ کے بل جن ہم کے اندر ان کو گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا آگ لگنے کا مزا چکھو)
2:۔ الزھد وابن المنذر عبد بن حمید (رح) عمر و بن شعب سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ یہ (آیت ) '' ویوم یسحبون فی النار علی وجوھہم، ذوقوا مس سقر (48) انا کل شیء خلقنہ بقدر '' اہل قدر کے بارے…
Read the full tafseer →يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ [ جس دن وہ لوگ گھسیٹے جائیں گے ] فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ [ آگ میں اپنے چہروں کے بل ] ذُوْقُوْا [ (اور کہاجائے گا ) تم لوگ چکھو ] مَسَّ سَقَرَ [دوزخ کی چھواہٹ (آنچ ) کو ]
س ق ر : (ن) سقرا ۔ جھلس دینا ۔ سقر ۔ (غیر منصرف ہے) دوزخ (جھلس دینے والی ) زیر مطالعہ آیت ۔ 48 ۔
Read the full tafseer →﴿يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ 1ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 0048﴾ (جس دن یہ لوگ چہروں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے چھونے کو چکھ لو) دنیا کی آگ کا جلانا دوزخ کی آگ کے جلانے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، وہاں کی آگ کیسی ہوگی اس کا اندازہ کرلیا جائے اس آگ کو چھونا ہی بہت سخت عذاب کا سبب ہوگا۔ پھر اس میں جلنا کیسا عذاب ہوگا ہر مجرم کو یہ سوچنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →22:۔ ” یوم یسحبون۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ قیامت کے دن جب مجرمین کو مونہوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائیگا اس وقت ان سے کہا جائیگا دنیا میں عیش و آرام کے مزے لیتے رہے آج بھڑکتی آگ کے درد والم کا مزہ بھی چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْہِہِمْ 0 ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48
سحب
أصل السَّحْبِ : الجرّ کسحب الذّيل، والإنسان علی الوجه، ومنه : السَّحَابُ ، إمّا لجرّ الرّيح له، أو لجرّه الماء، أو لانجراره في مرّه، قال تعالی: يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] ، وقال تعالی: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ [ غافر/ 71] ، وقیل : فلان يَتَسَحَّبُ علی فلان، کقولک : ينجرّ ، وذلک إذا تجرّأ عليه، والسَّحَابُ : الغیم فيها ماء أو لم يكن، ولهذا يقال : سحاب جهام «4» ، قال تعالی: أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] ، حَتَّى إِذا أَقَلَّتْ سَحاباً [ الأعراف/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–55
ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…
Read the full tafseer →یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ ط ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ۔ (القمر : 48)
(جس دن یہ کافر لوگ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اس روز ان سے کہا جائے گا) اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزہ۔ )
قیامت کے روز بدترین انجام
قریش اور دیگر کفار کو آئینہ دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آج یہ لوگ کیسے ہی استکبار کا اظہار کریں اور اپنے بارے میں کیسی ہی خودفریبی میں مبتلا ہوں، قیامت کے دن یہ ذلت کی بدترین تصویر ہوں گے۔ انھیں جہنم میں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا۔ چہروں کے بل کسی کا گھسیٹا جانا ذلت کی بدترین صورت ہے۔ لیکن ان کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے ہوگا کہ انھوں نے محض غرور کے سبب سے ایک واضح حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو دنیا میں عذاب دینے کے ساتھ آخرت میں بھی عذاب دیا جائے گا۔
اہل مکہ کو جو انتباہ کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور ان کی جمعیت اور قوت کو تہس نہس کردیا گیا۔ اس کے باوجود فرمایا کہ انہیں اصل سزا قیامت کے دن دی جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ دن بذات خود بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ یقیناً مجرم کھلی گمراہی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں۔ اس دن ان کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر کیا ہے تاکہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کی پوری پوری جزا دے۔ مجرموں کے لیے…
Read the full tafseer →آیت 48: یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ (جس روز آگ میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ) اس میں کھینچا جائے گا۔ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ (منہ کے بل) اور ان کو کہا جائے گا۔ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ (تم آگ لگنے کا مزہ چکھو۔ ) جیسا کہتے ہیں۔ وجد مس الحمّٰی ٗ وذاق طعم الضرب۔ سقر یہ غیر منصرف ہے۔ تانیث ومعرفہ یہ جہنم کا نام ہے۔ یہ سقرتہُ النار سے لیا گیا ہے جس کا معنی جب آگ اس کو متغیر کر دے۔
Read the full tafseer →47 ۔” ان المجرمین “ مشرکین۔ ” فی ضلال وسعر “ کہا گیا فی ضلال حق سے دور۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” وسعر “ یعنی آگ جو ان پر بھڑکائی جائے گی اور کہا گیا ” فی ضلال “ ۔ جنت کے راستے سے آخرت میں گمراہی میں ہیں۔ ” وسعر “ بھڑکائی ہوئی آگ۔ حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں بیشک مجرمین دنیا میں گمراہی اور آخرت میں جہنم میں ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں مشقت و عذاب میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–48
37۔ 48۔ سورة اعراف ‘ سورة ہود ‘ سورة شعراء ‘ سورة نمل ‘ سورة والصافات وغیرہ میں حضرت لوط اور ان کی امت کے لوگوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی امت کے لوگوں میں لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ جس کو اغلام کہتے ہیں۔ اس عادت کے چھڑا دینے کے لئے مدتوں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا۔ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا یہاں اس سورة میں ان لوگوں کے اندھے ہونے کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل نو عمر خوبصورت لڑکوں کی صورت میں حضرت لوط کے پاس مہمان بن کر آئے۔ حضرت لوط نے ان فرشتوں کو نہیں پہچانا اور امت کے لوگوں کی عادت سے…
Read the full tafseer →(يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ) جس دن انہیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا چہر جو تمام اعضا میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے پس انہیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا (ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ) تم جہنم کے عذاب کی تکلیف چکھو یعنی آگ اس کے غم اس کے غیظ وغضب اور اس کے شعلوں کے عذاب کو چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
[ 51] منکرین کیلئے اصل عذاب کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے دنیا کے اسی عذاب پر بس نہیں بلکہ ان کو اصل عذاب قیامت کے روز ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ارشاد سے صاف وصریح طور پر اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسی دنیاوی ہزیمت و پامالی اور تذلیل و رسوائی پر بس نہیں، بلکہ ان کے اصل عذاب کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کی وہ گھڑی انتہائی ہولناک اور بڑی ہی تلخ گھڑی ہوگی۔ اتنی تلخ اور اس قدر ہولناک کہ اس کی ہیبت و دہشت اور تلخی و مرارت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس ہزیمت اور پامالی سے تو یہ لوگ عنقریب اس دنیا میں ہی دوچار ہوں گے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 9 یعنی وہ اس طرح پیش آئے وہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ اس کا نام تقدیر ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور حدیث میں ’ دقدر پیغمبروں رکھنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جبرئیل کی حدیث میں ہے وتومن بالقدر خیرد وشرہ “ کہ تم تقدیر کے خیرہ شر پر ایمان رکھو۔ ایک حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کرو اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔ اگر تمہیں کوئی چیز پہنچے تو کہو کہ اللہ نے میری تقدیر میں یونہی لکھا تھا اور ہوتا بھی وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے اور ہرگز یہ نہ لکھو اگر میں یوں کرلیتا تو ایسے ہوں اس لئے کہ یہ اگر شیطان کے عمل کو کھولتا ہے یعنی اس کی راہ دکھاتا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(54:48) یوم : فعل محذوف کا مفعول ای اذکر یوم۔ یاد کرو وہ دن کہ جس روز۔
یسحبون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ سحب (باب فتح) مصدر۔ وہ گھسیٹے جائیں گے۔
علی وجوہہم۔ اپنے منہ کا بل۔ وجوہ جمع وجہ کی بمعنی منہ۔
ذوقوا۔ اس سے قبل عبارت یقال لہم مقدر ہے۔ ان سے کہا جائے گا (آگ لگنے کا) مزہ چکھو۔ ذوقوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر، ذوق (باب نصر) مصدر۔ تم چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
(ف 1) اے قریش ! کیا تم کافروں کی جماعت ان اگلے کافروں سے کچھ بہتر ہے قوت وجماعت میں زائد ہے کیا ہے کچھ بھی نہیں۔ کیا تمہارے لیے کوئی پروانہ نجات ، برات نامہ خدا کا اس کی کتابوں میں لکھ کر آگیا ہے شرک کی اجازت مل گئی ہے۔ اے محبوب ﷺ کیا ان کافروں کو یہ گھمنڈ اور دعوی ہے کہ ہم سب اکٹھے ایک جماعت، ایک دل آپس میں مدد کرنے والے ہیں ہم پر کون قابوپائے گا تو اے محبوب ﷺ عنقریب وہ وقت آگیا کہ ان کی جماعتیں پراگندہ ہوں اور سب شکست کھائیں اور پیٹھ پھیربھاگیں ۔ بلکہ اصل عذاب کا تو وعدہ آخرت کے عذاب کا ہے جس کے ظہور کا وقت قیامت ہے جو بڑی آفت کا دن ہے اور نہایت کڑوی گھڑی ہے جس میں اس طرح کے نافرمان لوگ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
ف 3: فرمایا : مکہ والو ! کیا تم ان لوگوں سے بہتر ہو ۔ جن کو اللہ کے غضب نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ یا تمہارے لئے کوئی معافی نامہ سابقہ کتب میں موجود ہے ۔ کہ تمہیں بہرآئینہ زندہ اور باقی رکھا جائیگا ۔ تمہاری سرکشی اور بغاوت کا آخر سبب کیا ہے ؟
کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تمہاری جماعت بہو ٹیج مظفر ومقصور رہے گی ۔ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو ۔ تو سمجھ لو ۔ کہ حکمت اور ہزئمیت تمہارے لئے مقدارات میں سے ہے ۔ عنقریب تم حق وصداقت کے سپاہیوں کے مقابل ہمیں آؤ گے ۔ اور دم دبا کر بھاگو گے ۔ یہ ایک پیشگوئی تھی ۔ اور اس کا اظہار اس وقت کیا گیا ۔ جب کہ مسلمان نہایت کمزور اور بےسروسامنی کے عالم میں تھے ۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →(48) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن یہ لوگ اپنے منھوں کے بل جہنم میں گھسیٹتے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ دوزخ کی آگ کے لپٹنے کا مزہ چکھو۔ ارتباط آیت سابقہ سے بھی ہوسکتا ہے اور استیناب بھی ہوسکتا ہے اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں رعایتیں رکھی ہیں۔ سقر دوزخ کے درکات میں سے ایک درک کا ناک ہے بلکہ منہ کے بل گھسیٹ کرلے جائیں گے اور کہیں گے اس جہنم کے عذاب کے لپٹنے کا مزہ چکھو آگے عذاب جلدی طلب کرنے والوں کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
ف 3۔ یہ پیشنگوئی بدر و احزاب میں واقع ہوئی۔
Read the full tafseer →جس دن ان کو اوندھے منہ جہنم میں گھسیٹا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو
48 ؎ (یسحبون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول سحب مصدر۔ وہ گھسیٹے جائیں گے۔ سحب گھسیٹنا ‘ بسیار خوری کرنا ‘ بہت پینا ‘ بچھانا ‘ جاری ہونا ‘ اس جگہ گھسیٹے جائیں گے ہی صحیح ترجمہ ہے یعنی جس روز وہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم میں جھونکے جانے کا مزہ چکھو۔ (سقر) آگ ‘ دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہے۔ (سقر) کے بارے میں دو اقوال ہیں ایک یہ کہ آتش کا نام (سقر) رکھ دیا گیا ہے اس لفظ کے اشتقاق کا کچھ معلوم نہیں ہے۔ (امام سیوطی رحمتہ اللہ نے الاتقان میں جو الیقی سے نقل کیا ہے کہ یہ عجمی لفظ ہے ج اول ص 138) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
Lexicological analysis
The word زُبُر zubur (in verse 43) is the plural of zabur, which stands for any written book. It specifically refers to the Scripture that was revealed to Prophet Dawud (علیہ السلام) .
أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ (...more calamitous and more bitter...54:46). The word adha means more or most calamitous. The word amarr is derived from murr which originally means 'bitter'. By extension anything 'difficult' or 'painful' is also referred to as amarr and murr. In the phrase فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ fi dalalin wa su'ur, dalal, as is known, means 'error' or 'deviation' and the word su'ur…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
24 This is a specific prophecy that was made five years before the hijrah, saying that the hosts of the Quraish who waxed proud of their strength would soon be put to rout by the Muslims. At that time no one could imagine how such a revolution would take place in the near future. Such was the helplessness of the Muslims that a group of them had already left the country and taken refuge in Habash and the rest of the believers lay besieged in Shi'b Abi Talib, and were being starved by the Quraish boycott and siege. Under such conditions no one could imagine that within only the ncxt seven years…
Read the full tafseer →