54. Surah Al-Qamar
القمرThe Moon · 55 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
” قیامت قریب آپہنچی اور چاند پھٹ گیا۔ “ چاند کا پھٹ جانا اور بےنور ہوجانا اس بات کی نشانی ہے کہ اب قیامت دور نہیں ہے اور اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہو بلکہ ہر چیز کو فنا ہونا ہے۔ جن کفار کے مطالبہ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑادوسری طرف چلا گیا اور پھر فوراً ہی مل گیا۔ اس کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے اور باہر سے آنے والوں کی تصدیق کے باوجود انہوں نے اس کو جادو قرار دے دیا اور اپنے کفر و شرک پر پہلے کی طرح اڑے رہے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کفار اپنے نفس اور خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے تھے۔ حالانکہ اتنا بڑا واقعہ ان کی نصیحت کے لئے بہت کافی تھا مگر جن لوگوں نے اس بات کی قسم کھا رکھی ہو کہ نہ تو وہ انسانی تاریخ، گناہگاروں کے برے انجام اور قوموں کے عروج پر زوال سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں گے اور نہ وہ آخرت کی ابدی زندگی کی فکر کریں گے ان کے لئے تو کوئی ہولناک حادثہ ہی عبرت دلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ فرمایا کہ وہ عبرت ناک اور ہلناک واقعہ یعنی قیامت کے آنے میں بہت دیر نہیں ہے۔ جب پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا تو اس وقت ان کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی اور وہ زمین سے اور قبروں سے نکل کر بدحواسی میں اس طرح زمین پر بکھر جائیں گے جس طرح ٹڈی دل ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت سوں کو قیامت کا یہ منظر قیامت آنے سے پہلے ہی دکھا دیتا ہے چناچہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون جو اپنے زمانے میں بہت زبردست قوت و طاقت رکھتے تھے لیکن جب ان کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون کی مسلسل نافرمانیوں کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد بتایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت دے کر اس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ دونوں راستوں میں سے کسی ایک راستہ کا انتخبا کرلیں دونوں راستوں کا انجام اور قوموں کی تاریخ کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ کرلے کہ وہ کون سے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے۔ ایک نجات کا راستہ ہے اور دوسرا تباہی کا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے بلکہ اللہ ہر شخص کے تمام اعمال سے پوری طرح واقف اور باخبر ہے اور اس کے حکم سے اس کے فرشتے آدمی کے ایک ایک عمل کو لکھ رہے ہیں جو قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور کوئی اس سے انکار نہ کرسکے گا۔ اللہ کے نبیوں اور ان کی تعلیمات کا اناکر کیا تو ان پر دنیا کا عذاب قیامت بن کر ٹوٹ پڑا۔ فرمایا حضرت نوح جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی کئی نسلوں کو سمجھایا مگر ان کی قوم نے ان کا مذاق اڑا دیا۔ ان کو دیوانہ اور مجنوں کہا۔ طرح طرح سے ستایا، ان کو دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ ان کی نافرمانیوں کے باوجود ان کے عبرت ناک انجام سے ڈراتے رہے۔ جب حضرت نوح نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ ایمان لے آئے اور اب ان کی قوم میں ماننے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے تو انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :” الٰہی میں ان سے مغلوب و مجبور ہوگیا اب آپ ہی ان سے بدلہ لیجیے۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی دعا کو قبول کرتے ہوئے زمین و آسمان میں جتنے پانی کے سوتے ہیں ان کو ڈبونے کے لئے کھول دیا۔ حضرت نوح اور ان پر ایمان لانے والوں کو ایک ایسی کشتی میں سوار کر کے جو تختوں اور کیلوں سے بنی ہوئی تھی نجات عطا فرما دی اور ان کی پوری قوم کو اللہ نے پانی کے اس طوفان میں ڈبو دیا جس سے کوئی بھی کافر و مشرک زندہ نہ رہ سکا۔ اسی طرح قوم عاد جو دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ قوم تھی جس نے اپنی طاقت کا لوہا ساری دنیا سیم نوا رکھا تھا جب انہوں نے اپنے نبی حضرت ھود اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو جھٹلایا اور نافرمانیوں کی انتہا کردی تب اللہ نے ان پر زبردست طوفانی ہواؤں کو بھیجا جن سے ان کے گھر بار اور ہر چیز تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔ ہوا اس قدر تیز تھی کہ وہ لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پتھروں پر پٹک رہی تھی جیسے ان کے وجود کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو اور ہر طرف میدانوں میں ان کی لاشیں اس طرح بکھری پڑی تھیں جیسے کھجور کے بڑے بڑے تنے کاٹ کر بکھیر دیئے گئے ہوں۔ قوم ثمود جو پہاڑوں کو تراش کر بلند ترین عمارتیں بنانے کے ماہر تھے، مال و دولت سے مالا مال اور ہر نعت ان کے چاروں طرف بکھری ہوئی تھی جب انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح کو جھٹلایا ان سے کہا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو تم میں اور ہم میں کیا فرق ہیڈ کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی نہیں ملا جس کو بنی بنا کر بھیجا جاتا۔ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اگر ہم تمہیں نبی مان لیں تو ہم سے بڑا بیوقوف کون ہوگا۔ انہوں نے حضرت صالح کو جھوٹا اور شیخی باز تک کہنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انہوں نے معجزہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایک گابھن اونٹنی اس پہاڑ میں سے باہر آئیا ور وہ ہمارے سامنے ایک بچہ دے تو ہم تمہیں نبی ماننے پر غور کرسکتے ہیں۔ جب اللہ نے دو معجزہ عطا کردیا تب بھی وہ ایمان نہ لائے۔ پھر ال لہ نے اس اونٹنی کے متعلق فرما دیا تھا کہ اس کو کوئی نہ ستائے تمہارے کنوئیں سے ایک دن وہ پانی پئے گی دوسرے دن اپنی باری پر تم پانی پی سکتے ہو اور اپنے مویشیوں کو پلا سکتے ہو۔ اس قوم نے تنگ آ کر ایک شخص کو تیار کیا اس نے اس اونٹنی کو مار ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک زور دار دھماکے سے پوری قوم کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ مرے ہوئے ایسے پڑے تھے جیسے وہ بھوسا جسے جانوروں نے کھا کر بکھیر دیا ہو۔ قوم نوح ، قوم عاد ثمود کے عبرت ناک انجام کے بعد قوم لوط کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جب حضرت لوط کی قوم نے اپنے خلاف فطرت فعل کو نہ چھوڑا بلکہ وہ فرشتے جو انسانی شکل میں لڑکوں کی صورت میں آئے تھے اور حضرت لوط کے مہمان تھے ان کی بےعزتی کرنا چاہی تو اللہ نے اس قوم کو اندھا کردیا اور اسی حالت میں اس پوری قوم پر ہوا کے جھکڑ اور طوفانوں سے ان کی بستیوں کو الٹ کر اس پوری قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور حضرت لوط اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرما دی۔ فرعون اور آل فرعون کے متعلق فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ معجزات اور دلائل سے قوم فرعون کو سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے بھی گزری ہوئی قوموں کی طرح نافرمانیوں کی انتہا کردی تب فرعون اور اس کی پوری قوم کو تباہ کر کے حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور ایمان لانے والے بنی اسرائیل کو نجات عطا فرما دی۔ اللہ کا یہی دستور ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں اتٓی کہ وہ نافرمانوں کو ختم کر دیات ہے اور اپنے نبیوں، رسولوں اور ایمان رکھنے والوں کو نجات عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کو بیان کرنے کے بعد مکہ والوں سے پوچھا ہے کہ آج اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری رہنمائی کے لئے قرآن کریم جیسی کتاب دے کرب ھیجے گئے ہیں اگر تم نے بھی نافرمان قوموں جیسا طریقہ اختیار کیا تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہ ہوگا۔ اللہ نے پوچھا ہے کہ تم تو ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے تمہارے اوپر آسمان سے کوئی ایسا معافی نامہ نازل ہوگیا ہے جس کے ذریعے تمہیں پوری طرح معاف کردیا گیا ہے۔ فرمایا کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بہت مضبوط جماعت ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر ان کا یہ گمان ہے تو ان کی جماعت اور جتھا بہت جلد اللہ کے فیصلے کے سامنے بری طرح شکست کھا جائے گا اور ان کا یہ گھمنڈ ان کے کسی کام نہ آسکے گا اور قیامت کے دن کا ان کو کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی عقل ماری گئی ہے جب قیاتم کے دن منہ کے بل جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا اس وقت ان سے کہا جائیگا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے اور اب اس آگ کی لپیٹ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرمایا کہ جب ہم کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں تو اس میں دیر نہیں کی جاتی بلکہ ہم جیسے ہی حکم دیتے ہیں پلک جھپکتے ہی وہ کام ہمارے حکم کے مطابق ہوجاتا ہے۔ یہ بھی فرما دیا کہ یہ لوگ اس گمان میں نہ رہیں کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان کے کرتوتوں سے بیخبر ہے بلکہ ان کے ایک ایک عمل کو اللہ کے فرشتے لکھ رہے ہیں جو قیامت میں لکھا لکھا یا ان کے سامنے آجائے گا۔ البتہ وہ لوگ جو اللہ کے فرمانبرار اور تقویٰ و پرہیز گاری کو اختیار کرتے ہیں وہ جنت کی ابدی راحتوں اور پانی کے بہتے چشموں سے لطف اندوز ہوں گے اور وہ ان کے لئے انتہائی اعلیٰ عزت کا مقام ہوگا۔ سب سے بڑی نعمت انہیں اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی۔ وہ اللہ جو ہر چیز پر پوری پوری قدرت و طاقت رکھنے والا ہے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ایک بات کو بار بار دہرایا ہے کہ ان تمام باتوں کو سمجھانے کے لئے اللہ نے جس قرآن کو نازل کیا وہ وہ انتہائی آسان اور سہل ہے۔ اللہ کی آیات سے اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو یہ بات نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جائیگی کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو مہلت اور مدت عطا کرتا ہے۔ اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ ان کو ہر طرح سمجھاتا ہے۔ اگر کوئی سنبھل جاتا ہے تو اس کو جنت اور اس کی ابدی راحتوں کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اور اگر وہ سمجھانے کے باوجود مسلسل نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے تو پھر اس قوم کو عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔ دونوں راستے کھلے ہوئے ہیں اب یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام قوموں کی تاریخ سے اور اللہ کی آیات سے سمجھنا دشوار نہیں ہے۔
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader
قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا
وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader
اور اگر وہ (کفار) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر کر یہ کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ختم ہوجانے والا ہے
وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader
اور انہوں نے اس کو جھٹلایا اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں اور ہر بات کو قرار آجانے والا ہے
وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader
اور ان لوگوں کے پاس بہت سے واقعات آگئے ہیں جن میں عبرت کا سامان ہے
حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader
اور حکمت و دانائی کی باتیں ہیں لیکن ان کو وہ باتیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان کی طرف سے منہ پھیر لیں وہ دن (آنے والا ہے) جب ایک پکارنے والا (فرشتہ) ان کو ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader
(اس دن) ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ وہ اپنی قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈی دل (بکھری ہوئی ٹڈیاں) نکلتا ہے۔
مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader
وہ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی سخت دن ہے۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader
ان سیپ ہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا تھا۔ پھر انہوں نے ہمارے بندے (نوح) کو جھٹلاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دیوانہ ہے اور دھمکایا بھی گیا تھا۔
فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader
پھر اس نے (نوح نے) اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں بس آپ ہی ان سے انتقام لے لیجیے۔
فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader
تب ہم نے کثرت سے برسنے والے (پانی کے لئے) آسمان کے دروازے کھول دیئے
وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader
اور ہم نے زمین سے چشمے بہا دیئے پھر (زمین و آسمان کا) پانی مل کر اس کام کے لئے جمع ہوگیا جو مقدر ہوچکا تھا۔
وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader
پھر ہم نے نوح کو تختوں اور کیلوں والی (کشتی پر) سوار کیا
تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader
وہ کشتی ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ اس شخص کا بدلہ تھا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔
وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader
پھر ہم نے اس واقعہ کو نشان عبرت بنا دیا۔ کوئی دھیان دینے والا ۔
فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader
پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader
اور یقیناً ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے۔ ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔