54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 54:1–2

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہوگیا۔

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر (یہ منکرین) کوئی نشانی دیکھ لیں گے تو (اس سے) اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔

[1] ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے نبی ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ کفار کا مجمع تھا۔ انہوں نے آپ سے نشانی طلب کی۔ آپ نے فرمایا آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کردو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف چلا گیا۔ جب سب نے یہ معجزہ خوب اچھی طرح دیکھ لیا تو دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ کفار کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ یہ نشانی اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جب قیامت کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہوسکتی ہے اور عالم کا سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا ہوتا تو دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا۔ تو یاد رہے کہ یہ واقعہ مکہ میں رات کے وقت پیش آیا۔ اس وقت بہت سے ممالک میں دن ہوگا اور بعض جگہ آدھی رات ہوگی اور لوگ عموماً سوتے ہوں گے اور جہاں بیدار ہوں گے اور کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوں گے تو یہ عادتہً ضروری نہیں کہ سب آسمان کی طرف تک رہے ہوں۔ پھر یہ تھوڑی دیر کا معاملہ تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بار بار چاند گرہن ہوتا ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ نیز اس زمانے میں رصدگاہیں اس حد تک ترقی یافتہ نہ تھیں کہ افلاک میں پیش آنے والے ہر واقعے کا نوٹس لیتیں۔ باایں ہمہ مالا بار کی تاریخوں میں یہ ذکر آیا ہے کہ وہاں کے ایک راجہ نے یہ منظر دیکھا تھا۔
Ayahs 54:3–5

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے (پیغمبر کو) جھٹلا دیا اور اپنی (نفسانی) خواہشوں کی پیروی کی۔ اور ہر کام قرار پا چکا ہے۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور یقینا ان لوگوں کے پاس (پچھلی قوموں کے) حالات پہنچ چکے ہیں جن میں (کافی) سامان عبرت ہے۔

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

(اور) انتہائی درجہ دانائی (کی باتیں بھی) مگر ڈرانا ان پر کارگر نہیں ہوتا۔

[2] یعنی ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے ان لوگوں کو عذاب بھی اپنے وقت پر آئے گا۔
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم ان لوگوں سے رخ پھیر لو (اور اس دن کا انتظار کرو) جس دن پکارنے والا ان کو ایک (سخت) ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور یہ قبروں سے اس طرح نکل پڑیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں،

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

(اور) پکارنے والے کی طرف بھاگے چلے جا رہے ہوں گے۔ (اس وقت) کافر کہتے (جا رہے) ہوں گے کہ یہ تو (بڑا ہی) سخت دن ہے۔

[3] یعنی میدان حشر کی طرف حساب دینے کے لئے۔
Ayahs 54:9–11

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم جھٹلا چکی ہے، ان لوگوں نے ہمارے بندے (نوح) کو جھٹلایا اور (اس کی نسبت) کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اسے جھڑکیاں دی گئیں۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

(آخرکار) اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ میں (ان کے ہاتھ سے) عاجز ہوں بس اب تو ہی ان سے انتقام لے۔

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دئیے۔

[4] آیت نمبر 4 میں پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ کیا گیا تھا اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل شروع ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے اس بیان سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ تنہا تم ہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دوچار ہونا نہیں پڑا ہے، ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
Ayahs 54:12–16

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ پس پورا پانی مل گیا اس کام کے لئے جو تجویز ہوچکا تھا۔

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور نوح کو ہم نے (لکڑی کے) تختوں اور کیلوں سے بنائی ہوئی (کشتی) پر سوار کردیا۔

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ (یہ تھا) بدلہ اس شخص کا جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشان عبرت بنا چھوڑا۔ تو ہے کوئی جو (اس سے) نصیحت پکڑے ؟

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پس (دیکھ لو، ) کیسا تھا ہمارا عذاب اور (کیسا تھا) ہمارا ڈرانا۔

[5] یعنی قوم نوح کی ہلاکت اور غرقابی کا کام۔
Ayahs 54:17–18

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے اس قرآن کو (لوگوں کے) نصیحت پکڑنے کے لئے آسان کردیا ہے، پھر ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

عاد نے (بھی) جھٹلایا تو (دیکھ لو) کیسا تھا ہمارا عذاب اور (کیسا تھا) ہمارا ڈرانا۔

[6] نصیحت کا ایک ذریعہ تو وہ عبرتناک عذاب ہیں جو سرکش قوموں، عاد، ثمود، قوم لوط وغیرہ پر نازل ہوئے اور دوسرا یہ قرآن ہے جو دلائل، وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتارہا ہے۔ اس ذریعہ کے مقابلے میں نصیحت کا ذریعہ بہت زیادہ آسان ہے پھر کیوں تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
Ayahs 54:19–27

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن باد صرصر ان پر بھیج دی۔

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

جو لوگوں کو (ان کی جگہ سے ایسا) اکھاڑ پھینکتی تھی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

تو (دیکھ لو، ) کیسا تھا ہمارا عذاب اور (کیسا تھا ہمارا) ڈرانا۔

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے اس قرآن کو (لوگوں کے) نصیحت پکڑنے کے لئے آسان کردیا ہے، پھر ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

(قوم) ثمود نے (بھی) ڈرانے والوں کو جھٹلایا۔

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

اور (اپنے پیغمبر صالح کی نسبت) کہنے لگے، کیا ہم ایسے شخص کی پیروی کریں جو ہم ہی میں کا ایک بشر ہے ؟ اگر ہم ایسا کریں تو (اس کے معنی یہ ہوں گے کہ) ہم گمراہی اور حماقت میں (پڑگئے) ہیں۔

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر وحی نازل کی گئی ؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا (اور) شیخی باز ہے۔

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ) انہیں کل ہی معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

بیشک ہم ان کے لئے ایک اونٹنی کو آزمائش بنا کر بھیجنے والے ہیں پس تم صبر کے ساتھ (نتیجہ کا) انتظار کرو۔

[7] صرصر شمال کی اس تند ہوا کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے جس سے ہر چیز پر ایک نحوست سی چھا جاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نحس کہتے۔ یہاں یوم نحس سے کوئی خاص دن مراد نہیں بلکہ وقت اور زمانہ مراد ہے۔
Ayahs 54:28–30

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور ان کو خبر کردو کہ پانی ان کے (اور اونٹنی کے) درمیان تقسیم ہوگا (اور) ہر ایک اپنی باری پر حاضرہو گا

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

آخرکار ان لوگوں نے اپنے ایک ساتھی کو پکارا تو اس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور اس کو ہلاک کر ڈالا۔

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

تو (دیکھ لو) کیسا تھا ہمارا عذاب اور (کیسا تھا ہمارا) ڈرانا ؟

[8] اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی نامزد کر کے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ پینے کے پانی کا جو گھاٹ ہے اب اس پر پانی پلانے کی باری تقسیم کردی گئی ہے۔ اب ہر ایک کو اپنی باری پر آنا ہوگا اور جو باری اللہ کی اونٹنی کے لئے مقرر کردی گئی ہے کسی شخص کو حق نہیں ہوگا کہ اس کی باری کے دن گھاٹ پر خود پانی لینے آئے یا اپنے جانوروں کو لائے اور اگر اونٹنی کو کوئی گزند پہنچایا گیا تو یہ اللہ کے عذاب کا پیش خیمہ ہوگا۔