53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

(لوگو، ہم کو) قسم ہے ستاروں کی جب وہ غروب ہوئے،

[1] مطلب یہ ہے کہ ستارے غروب ہو کر صبح روشن نمودار ہوگئی۔
Ayahs 53:2–3

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے اور نہ بہکا ہے۔

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ اپنی خواہش (نفسانی) سے بولتا ہے۔

[2] یعنی محمد ﷺ ۔ کفار مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ پیغمبر جو تمہارا دن رات کا ساتھی ہے تمہارے لئے کوئی اجنبی نہیں ہے۔ تم اس کے ماضی وحال، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے رجحان و ذوق سے اچھی طرح واقف ہو۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ بھٹکا اور بہکا ہوا آدمی نہیں ہے۔
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو ایک وحی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے۔

[3] یہ وحی خواہ لفظی ہو جو قرآن کہلاتی ہے خواہ معنوی ہو جو سنت کہلاتی ہے اور خواہ محض کسی قاعدہ کلی کی ہو جس سے آپ اجتہاد کرتے ہیں، مقصود اس سے کفار کے دعویٰ باطل کی نفی ہے یعنی اس حقیقت کا اظہار کہ آپ کسی غلط بات کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں کرتے۔
Ayahs 53:5–6

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اسے ایک زبردست قوت والے زور آور (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو طاقت ور ہے پھر وہ (سامنے) آکھڑا ہوا،

[4] مراد ہیں جبرائیل علیہ السلام۔
Ayahs 53:7–8

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ نزدیک ہوا اور جھک گیا۔

[5] آسمان کے بلند کنارے سے مراد اس کا مشرقی کنارہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے۔ مقصود اس وضاحت سے یہ ہے کہ جبرائیل اپنی اصل ہیئت میں پیغمبر ﷺ کے سامنے مشرقی افق سے نمودار ہوئے اور آپ ﷺ نے کھلی آنکھوں سے صبح کی روشنی میں ان کا اچھی طرح مشاہدہ کیا۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

(یہاں تک) پس وہ دو کمانوں کے برابر یا (اس سے بھی) کم فاصلہ رہ گیا۔

[6] یعنی جبرائیل پیغمبر ﷺ سے اتنے قریب ہوگئے کہ بس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ اس تشبیہ میں اہل عرب کے ذوق کا لحاظ ہے۔ وہ تیر وکمان والے لوگ تھے اس وجہ سے غایت قریب کی تعبیر کے لئے ایک کمان دو کمانوں کے بقدر تشبیہ استعمال کرتے تھے جس طرح ہم گز بھر یا دوگز کے الفاظ بولتے ہیں۔
Ayahs 53:10–14

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

تو اس نے اللہ کے بندے پر جو وحی کرنی تھی سو کی۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

(پیغمبر نے) جو کچھ دیکھا تھا (اس کے) دل نے اس میں کچھ جھوٹ نہ ملایا۔

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

تو کیا تم لوگ اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتا ہے ؟

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور اس نے اس (فرشتے) کو ایک بار اور بھی دیکھا۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرۃ المنتہیٰ کے قریب۔

[7] یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے جب جبرائیل (علیہ السلام) پہلی مرتبہ اپنی اصلی صورت میں نبی ﷺ کو نظر آئے۔ اس وقت آسمان مشرق سے مغرب تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

کہ جس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔

[8] سدرہ بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں اس عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیری کا درخت عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان حد فاصل ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ کی نشاندہی یہ کہہ کر فرما دی کہ اس کے پاس جنت الماویٰ یعنی آرام سے رہنے کی بہشت بھی ہے۔ یہ سب چیزیں متشابہات میں داخل ہیں۔
Ayahs 53:16–17

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب کہ (اس) سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

(اس وقت بھی پیغمبر کی) نظر نہ (کسی طرف کو) بہکی نہ حد سے بڑھی۔

[9] یعنی اس وقت سدرہ پر انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Ayahs 53:18–24

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ اس نے (اس موقع پر) اپنے رب (کی قدرت) کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

(مشرکو، ) بھلا تم نے دیکھا ہے لات و عزیٰ کو۔

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور (وہ جو ایک) تیسری آخری (دیوی) منات کو (دیکھا ہے ) ۔

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لئے بیٹیاں ؟۔

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو بڑی ہی بےڈھنگی تقسیم ہے۔

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ (بت) تو نرے نام ہی (نام) ہیں جو تم نے اور تمہارے بڑوں نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے تو ان (کے معبود ہونے) کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (حقیقت یہ ہے کہ) یہ لوگ محض (وہم و) گمان اور (اپنے) نفس کی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی ہدایت آچکی ہے۔

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

بھلا کہیں انسان کو ہر وہ چیز مل جاتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے ؟

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔
Ayahs 53:25–26

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

(نہیں، بلکہ ہر تمنا) اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آخرت (کی بھی) اور دنیا (کی بھی) ۔

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے (بھرے پڑے) ہیں، ان کی سفارش کچھ بھی کام نہیں آتی مگر ہاں، بعد اس کے کہ اللہ اجازت دے دے جس کی (سفارش) وہ سننا چاہے اور (اس کو) پسند کرے۔

[11] یعنی جب صورت حال یہ ہے کہ تو پھر ان مشرکوں کی یہ کیسی حماقت ہے کہ وہ ان کی آرزوؤں کے مطابق ان کے کام آئیں گے اور ان کے لئے سعی و سفارش کریں گے۔
Ayahs 53:27–31

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہی فرشتوں کو زنانے ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ اس بارے میں کوئی علم انہیں حاصل نہیں۔ وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور گمان حق کے مقابلے میں ذرا بھی کام نہیں دیتا۔

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) جو شخص ہمارے ذکر سے رو گردانی کرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے اس سے منہ پھیر لو۔

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان لوگوں کے علم کی رسائی بس یہیں تک ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کہ وہ ان لوگوں کو جنہوں نے برے عمل کئے ان کے کئے کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھا بدلہ دے جنہوں نے اچھے عمل کیے۔

[12] یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن اللہ تعالیٰ کے کامل ظہور کا دن ہوگا اور ہر شخص ٹھیک ٹھیک اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔ [13] یعنی انہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ لئے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ان کو وہ سب کچھ دلوائیں گی جو وہ چاہیں گے۔
Ayahs 53:32–34

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے رہے مگر چھوٹے چھوٹے گناہ (کہ ان سے کون بشر بچ سکتا ہے اے پیغمبر، ) تمہارے رب کی مغفرت بلاشبہ (بڑی) وسیع ہے (اور) وہ (اس وقت سے) تم لوگوں کو جانتا ہے جب اس نے زمین (مٹی) سے تمہیں (اول بار) بنا کھڑا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے ہی تھے۔ پس تم اپنے آپ کو پاکیزہ نہ سمجھو۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ (واقعی) متقی کون ہیں۔

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بھلا تم نے اس شخص (کے حال) پر (بھی) نظر کی جس نے (اطاعت الہٰی سے) منہ موڑا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور (اللہ کی راہ میں) تھوڑا سا (مال) دیا اور (پھر) ہاتھ روک لیا ؟

[14] گناہ کبیرہ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔
Ayahs 53:35–37

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ (اپنے انجام کو) دیکھ رہا ہے ؟

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو ان (باتوں) کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) (کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں) جس نے (حق بندگی) پورا پورا ادا کردیا ؟۔

[15] یہاں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے کردار کو ایک تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھّدا اتارنے کے لئے لیکن اپنے لئے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے جس کی مدد سے وہ ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے زعم کے مطابق ان کے لئے محفوظ ہیں۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

(ان صحیفوں میں لکھا ہے) کہ کوئی (شخص) دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ (اپنی گردن پر) نہیں لے گا،

[16] یعنی اصل مجرم کو اس بناء پر چھوڑا نہیں جاسکتا کہ اس کا گناہ کوئی دوسرا شخص اپنے اوپر لے رہا ہے اور اپنے آپ کو اس کی سزا بھگتنے کے لئے پیش کر رہا ہے۔
Ayahs 53:39–40

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کے لئے اس نے سعی کی ہے۔

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی۔

[17] یہ پچھلی آیت کی مزید تشریح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اللہ کے ہاں صرف اپنی محنت کا پھل پائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ نیکی تو کسی نے کی اور اس کا بدلہ کسی اور کو ملے۔ بدی کوئی کرے اور اس کی سزا کوئی اور بھگتے۔