52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 52:1–2

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ہم کو) قسم ہے طور کی۔

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے۔

[1] قسم کی تشریح کیلئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062 [2] یعنی کوہ طور جہاں موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔
Ayah 52:3

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

اور جھلی کے کھلے اوراق میں ہے،۔

[3] مراد ہے مجموعہ کتب مقدسہ تورات، انجیل اور دوسرے آسمانی صحیفے، قدیم زمانے میں جن کتابوں اور تحریروں کو زمانہ دراز تک محفوظ رکھنا مقصود ہوتا ان کو بجائے کاغذ کے ہرن کی کھال پر لکھا جاتا جو لکھنے کے لئے خاص طور پر جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی۔

[4] آباد گھر سے مراد خانہ کعبہ ہے جو ایک ویرانے میں بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آبادی بخشی جو دنیا میں کسی عمارت کو نہیں بخشی گئی تھی اور جو کبھی حج، عمرہ، طواف اور زیارت کرنے والوں سے خالی نہیں رہتا۔
Ayahs 52:5–6

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی،

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور موجزن سمندر کی،

[5] یعنی آسمان کی۔
Ayahs 52:7–20

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تمہارے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا۔

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

کسی کی مجال نہیں کہ اس کو ٹال سکے۔

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

(وہ اس روز واقع ہوگا) جس روز آسمان تھرتھرانے لگے گا۔

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے۔

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

پس تباہی ہے اس دن ان جھٹلانے والوں کے لئے۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو (آج) بیہودگی کے ساتھ (تکذیب کے) مشغلے میں لگے ہوئے ہیں۔

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

اس دن انہیں دھکے مار مار کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

(اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہی وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو (بتلاؤ) کیا یہ بھی جادو ہے یا تمہیں (اب بھی) سجھائی نہیں دیتا ؟۔

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

چلے جاؤ اس کے اندر، پھر صبر کرو یا نہ کرو تمہارے حق میں (سب) برابر ہے۔ (آج) تم کو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے عمل تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

(رہے) متقی لوگ (تو وہ) بلاشبہ (بہشت کے) باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے،

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

خوش ہو رہے ہوں گے ان (نعمتوں) سے جو ان کے رب نے انہیں دی ہوں گی اور ان کا رب انہیں عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو خوب مزے سے ان (نیکیوں) کے بدلے میں جو تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

وہ بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کو بیاہ دیں گے۔

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے لئے انعام اور ظالموں کے لئے سزا کی مثالیں مسلسل پائی جاتی ہیں۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ دنیا کی اس زندگی میں بھی انسان کے ساتھ اس کے خالق کا معاملہ صرف قوانین طبیعی (Physical Laws) پر مبنی نہیں ہے بلکہ اخلاقی قانون (Moral Laws) بھی اس کے ساتھ کارفرما ہے اور جب سلطنت کائنات کا مزاج یہ ہے کہ جس مخلوق کو اخلاقی اعمال کا موقع دیا گیا ہو اس کے ساتھ حیوانات و نباتات کی طرح محض طبیعی قوانین پر معاملہ نہ کیا جائے بلکہ اس کے اخلاقی اعمال پر اخلاقی قانون بھی نافذ کیا جائے تو یہ بات بجائے خود اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس سلطنت میں ایک ایسا وقت ضرور آنا چاہئے جب اس طبیعی دنیا میں انسان کا کام ختم ہوجائے اور خالص اخلاقی قانون کے مطابق اس کے اخلاقی اعمال کے نتائج پوری طرح ظاہر ہوں کیونکہ اس طبیعی دنیا میں وہ مکمل طور پر برآمد نہیں ہوسکتے۔ دنیا میں بہت سے نیک اور ایماندار آدمی قسم قسم کے آفات و مصائب میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش اور بدکردار مزے کرتے ہیں۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو جس میں ہر نیک وبد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ مل سکے، یہی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (ب) کتب مقدسہ کے مجموعے کی قسم اس لئے کھائی گئی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انبیاء آئے ہیں اور جو کتابیں بھی وہ لائے ہیں ان سب نے ہر زمانے میں یہی خبر دی ہے جو محمد ﷺ دے رہے ہیں، یعنی یہ کہ تمام انسانوں کو ایک دن ازسرنو زندہ ہو کر اپنے خالق کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کے مطابق جزأ یا سزا پانی ہے۔ کوئی کتاب آسمانی کبھی ایسی نہیں آئی جو اس خبر سے خالی ہو۔ (ج) آباد گھر کی قسم اس لئے کھائی گئی ہے کہ ایک شخص اس سنسان جگہ پر اللہ کی عبادت کے لئے ایک گھر بناتا ہے اور لوگوں کو پکارتا ہے کہ لوگو آؤ اور اس گھر کا حج کرو۔ اس تعمیر اور اس پکار کو یہ حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہوتی ہے کہ وہی گھر تمام اہل عرب کا مرکز بن جاتا ہے اس پکار پر عرب کے گوشے گوشے سے لوگ لبیک لبیک کہتے ہوئے کھچے چلے آتے ہیں۔ ڈھائی ہزار برس تک یہ گھر امن کا ایسا گہوارا بنا رہتا ہے کہ اس کے گردوپیش سارے ملک میں کشت و خون کا بازار گرم ہوتا ہے لیکن اس کے حدود میں آکر کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اسی گھر کی بدولت عرب کو ہر سال چار مہینے ایسے امن کے میسر آجاتے ہیں جن میں قافلے اطمینان سے سفر کرتے ہیں، تجارت چمکتی ہے اور بازار لگتے ہیں، پھر اس گھر کا یہ دبدبہ تھا کہ اس پوری مدت میں بڑے سے بڑا جبار بھی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکا اور جس نے یہ جرأت کی وہ اللہ کے غضب کا ایسا شکار ہوا کہ عبرت بن کر رہ گیا۔ یہ کرشمہ ان آیات کے نزول سے صرف 54 برس پہلے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے اور اس کے دیکھنے والے اس وقت مکہ معظمہ میں موجود تھے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سورة فیل حاشیہ 2۔ (د) اونچی چھت سے مراد وہ پورا عالم ہے جسے انسان شب و روز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے جس میں دن کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بیحد و حساب تارے روشن نظر آتے ہیں دوربین کے ذریعہ ایک ایسی وسیع و عریض کائنات دکھائی دیتی ہے جو ناپیدا کنار ہے، کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی، زمین سے لاکھوں گنا بڑے سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی ایسی دس لاکھ کہکشاؤں کا پتہ دے رہا ہے۔ اس عظیم الشان کائنات کو جو اللہ وجود میں لایا ہے اسی کے بارے میں یہ چھوٹا سا حیوان ناطق جس کا نام انسان ہے اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ (ہ) موجزن سمندر کی قسم اس لئے کھائی گئی ہے کہ یہ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت پر دلالت کرتا ہے۔ زمین پر پانی کے اتنے بڑے ذخیرے کا فراہم ہوجانا بجائے خود ایک ایسی کاریگری ہے جو کسی اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہیں ہوسکتی۔ پھر اس میں بیحد وحساب حیوانات پیدا کئے گئے ہیں۔ اس کے پانی کو نمکین بنادیا گیا ہے تاکہ روزانہ کروڑوں جانور جو اس میں مرتے ہیں، ان کی لاشیں سڑ نہ جائیں۔ جس قادر مطلق کی قدرت کا کرشمہ اس عظیم الشان سمندر کی تخلیق ہے جس نے فضا میں گھومنے والے اس معلق کُرّے پر پانی کے اتنے بڑے ذخیرے کو تھام رکھا ہے جو ہر سال اربوں من پانی اس میں سے اٹھا کر ہوا کے دوش پر لے جاتا ہے اور کروڑوں مربع میل کے خشک علاقوں پر اسے بڑی باقاعدگی کے ساتھ برساتا ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟
Ayahs 52:21–25

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی، ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کرتی رہی (گو اعمال میں وہ اپنے آباء کے رتبے کو نہ پہنچے لیکن جنتیوں کے اکرام اور ان کو خوش کرنے کے لئے) ان کی (اس) اولاد کو (بھی) ہم (جنت میں) ان کے ساتھ ملا دیں گے اور (اس کے بدلے میں) ہم ان (جنتیوں) کے اعمال (کے صلے) میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ (لیکن اولاد نیک نہیں ہے تو اس کا اپنے مومنین آباء کے ساتھ الحاق نہیں ہوسکتا کیونکہ) ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں رہن ہے۔

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جس میوے اور گوشت کو ان (جنتیوں) کا جی چاہے گا ہم ان کے لئے اس کی ریل پیل کردیں گے

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

(اور بطور خوش طبعی کے) وہ آپس میں جام (شراب) پر چھینا جھپٹی بھی کریں گے۔ اس (شراب) میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ بدکرداری۔

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور (ان کی خدمت کے لئے ایسے خوبصورت) لڑکے ان کے پاس آئیں جائیں گے کہ گویا وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور (یہ جنتی) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں باتیں کریں گے۔

[8] یعنی یہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان مومنین کے آباء کے بعض اعمال لے کر ان کی اولاد کو دے دے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مومنین و صالحین کی اولاد کو ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دے گا اگرچہ عمل کے لحاظ سے وہ اولاد اس درجے کی مستحق نہ ہو۔ [9] یعنی جس طرح کوئی شخص قرض ادا کئے بغیر گروی کی ہوئی چیز نہیں چھڑا سکتا اسی طرح کوئی شخص فرض ادا کئے بغیر اپنے آپ کو اللہ کے مواخذہ سے نہیں بچا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہیں۔ جب تک وہ ادا نہ ہوں نجات ممکن نہیں۔ لہذا آباؤ اجداد کی نیک عملی بدعمل اولاد کو نجات نہیں دلا سکتی۔
Ayahs 52:26–29

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

اور (اثنائے گفتگو میں) کہیں گے کہ ہم (اس سے) پہلے اپنے گھر والوں میں (انجام کار سے) ڈرتے (ہوئے زندگی بسر کرتے) تھے۔

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

آخرکار اللہ نے ہم پر (بڑا ہی) فضل کیا اور ہمیں (دوزخ کی جھلسا دینے والی) لو کے عذاب سے بچا لیا۔

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

بیشک (اس سے) پہلے ہم اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ واقعی وہ بڑا احسان کرنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، تم ان لوگوں کو) نصیحت کئے جاؤ کیونکہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے (جیسا کہ یہ مشرکین کہتے ہیں) ۔

[10] یعنی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھئے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آدمی اکثر جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہوتی ہے۔
Ayahs 52:30–31

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا یہ لوگ (تمہاری نسبت) کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں ؟

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

(تم ان سے) کہو، (بہت اچھا) انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

[11] یعنی پیغمبر کو یہ محض شاعر سمجھتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ جس طرح قدیم زمانے کے بہت سے شعراء گردش زمانہ سے یونہی مرمرا کر ختم ہوگئے یہ بھی ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ کوئی کامیاب مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں۔ محض چند روز کی وقتی واہ واہ ہے اور بس۔
Ayahs 52:32–35

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہ باتیں سکھاتی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے (قرآن خود) گھڑ لیا ہے ؟ (یہ بات نہیں، ) بلکہ (یہ بات وہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ) یہ لوگ ایمان ہی لانا نہیں چاہتے

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

(اچھا) تو یہ لوگ اسی طرح کا کلام (بنا کر) لے آئیں اگر ( اپنے دعوے میں) سچے ہیں

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کسی (خالق) کے بغیر (خود) پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟

[12] یعنی ان کی عقل و دانش نے جس پر انہیں ناز ہے یہ سکھلایا ہے کہ ایک انتہائی صادق، امین، عاقل و فرزانہ اور سچے پیغمبر کو شاعر، کاہن اور دیوانہ کہہ کر نظرانداز کردیا جائے۔ پھر اگر عقل کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے۔ بہت سے متضاد حکم کیسے لگاتے ہیں ؟ آخر ایک شخص بیک وقت شاعر، کاہن اور دیوانہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دل میں سمجھتے سب کچھ ہیں مگر محض سرکشی اور شرارت سے باتیں بناتے ہیں۔
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا زمین اور آسمان کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ (نہیں، ) بلکہ (بات یہ ہے کہ) یہ لوگ (اللہ پر) یقین ہی نہیں رکھتے۔

[13] یعنی یہ بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا اور ساری دنیا کا خالق اللہ ہے۔ مگر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کرو تو بوجہ جہل اس کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
Ayahs 52:37–38

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تمہارے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں یا وہ (خود) حاکم ہیں ؟

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ (اس پر چڑھ کر عالم بالا کی باتیں) سن آیا کرتے ہیں ؟ تو ان میں سے جو سن آیا ہو لائے (اپنے دعوے پر) کھلی دلیل۔

[14] یعنی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے خزانے جن میں نبوت بھی شامل ہے ان کے قبضے میں ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں یا ان خزانوں پر حاکم ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دلوا دیں۔
Ayahs 52:39–40

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تم لوگوں کے لئے بیٹے ؟

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم ان لوگوں سے (تبلیغ رسالت کا کوئی) معاوضہ طلب کرتے ہو کہ یہ (اس) چٹی (کے بوجھ) سے دبے جاتے ہیں ؟

[15] اپنے لئے تو وہ چیزیں پسند کرتے ہو جنہیں اپنے نزدیک اعلیٰ سمجھتے ہو اور اللہ کے لئے وہ چیزیں جو تمہارے معیار سے ادنیٰ درجے کی ہیں۔ آیت میں اشارہ ان مشرکین کی طرف ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔