51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 51:1

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

ہوائیں جو گرد اڑاتی ہیں،

Ayah 51:2

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر (پانی سے لدے ہوئے بادل کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔

Ayah 51:3

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں۔

[1] عام قاعدہ ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادلوں کو ہانک ہانک کر لاتی ہیں اور جس علاقے کو سیراب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اس پر ان بادلوں کی تہہ بر تہہ جما دیتی ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور مینہ برسنا شروع ہوجاتا ہے۔
Ayah 51:4

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر ایک (بڑی ضروری) چیز کی تقسیم کرتی ہیں،

[2] یعنی بارش۔ [3] یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پانی تقسیم کرتی ہیں۔ بعض علاقوں کو جل تھل کردیتی ہیں، بعض کو نیم تشنہ اور بعض کو خشک چھوڑ جاتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے کہ بعض علاقوں پر وہ طوفان و سیلاب بن کر نازل ہوتی ہیں۔
Ayah 51:5

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

(غرض ہم کو) ان (ہواؤں) کی قسم ہے کہ جس (عذاب) کا تمہیں وعدہ دیا جا رہا ہے وہ سچ ہے۔

[4] قسموں کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062
Ayah 51:6

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور (اعمال کی) جزا (سزا) ضرور ہونی ہے۔

[5] ہواؤں کے تصرفات پر یہاں دو چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، ایک اس بات پر کہ کفار کو بصورت تکذیب جس عذاب کا وعدہ دیا جا رہا ہے وہ بالکل سچا ہے۔ جن قوموں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو ہواؤں کے ذریعے ہلاک کر مارا۔ آگے تاریخ کی روشنی میں اس وعدے کو سچ ثابت کرنے کے لئے قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ دوسری چیز جس پر قسم کھائی ہے، وہ آخرت ہے۔ بارش کا یہ نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ دنیا بےمعنی اور بےمقصد گھروندا نہیں ہے بلکہ یہ ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان کو زمین میں اختیارات دے کر بس یونہی چھوڑ دیا جائے اور کبھی اس سے حساب نہ لیا جائے کہ اس نے یہ اختیارات کس طرح استعمال کئے، نیکی کی راہ میں یا بدی کی راہ میں اور اس کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا یا سزا اسے ملنی چاہئے۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے دھاریوں والے آسمان کی۔

[6] یہ قسم سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کی ہے جو شمال کی بادوتند کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں اور جن کو پچھلی قوموں کی تباہی میں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے بڑا دخل رہا ہے۔
Ayahs 51:8–12

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

تم لوگ بیشک ایک اختلاف میں پڑے ہوئے ہو۔

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی روگردانی اختیار کرتا ہے جو (حق سے) پھرا ہوا ہے۔

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

ہلاک ہوں قیاس آرائیاں کرنے والے۔

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو غفلت میں بھولے ہوئے ہیں !

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ (آخر) وہ جزا (سزا) کا دن کب آئے گا ؟

[7] یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق ان لوگوں کی باتوں میں تضاد ہے۔ کچھ لوگ آخرت کا صاف انکار کرتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ آخرت کا انکار تو نہیں کرتے لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے شرکاء و شفعاء ان کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔
Ayahs 51:13–18

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن یہ لوگ (کباب کی طرح) آگ پر سینکے جائینگے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

(اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو اپنی شرارت (کا مزا) ۔ یہی وہ (عذاب) ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ (اس دن) باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

(اور) جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے (لپک لپک کر) لے رہے ہوں گے۔ یہ لوگ اس سے پہلے نیکوکار تھے۔

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

(اور عبادت میں مشغول رہنے کے بہ سبب) رات کو بہت کم سوتے تھے۔

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور صبح سویرے استغفار کیا کرتے تھے۔

[8] کفار کا یہ سوال کہ روز جزا کب آئے گا طنز و تمسخر کے طور پر تھا اس لئے ان کو جواب اس انداز میں دیا گیا ظاہر ہے تاریخ کا تعین سرے سے کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ کسی منکر آخرت کو اقرار پر آمادہ کر دے کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یقین کرلیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہوجائے گی۔
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے۔

[9] وہ جو منہ سے سوال کرے۔ [10] جو منہ سے سوال نہ کرے مگر ہو حاجت مند۔
Ayah 51:20

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (اللہ کی قدرت کی بہت سی) نشانیاں ہیں،

[11] یہاں نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو آخرت اور جزا سزا پر دلیل ہیں۔ ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ زمین جو بالکل مردہ اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے اس پر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی گھٹا بھیجتا ہے تو بارش کا ایک ہی چھینٹا اس کو زندگی اور شادابی سے معمور کردیتا ہے۔ جو اللہ اپنی قدرت کی یہ شان دکھا سکتا ہے کیا وہ اس بات سے عاجز ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے ؟
Ayah 51:21

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہاری ذات میں (بھی، ) کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

[12] قرآن نے جگہ جگہ انسان کی خلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو اللہ پانی کی حقیر بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر ایک بھلا چنگا انسان بنا کھڑا کرتا ہے کیا اس کے لئے ناممکن ہے کہ انسان کو ازسرنو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرے اور اس کے اعمال و اقوال کا حساب کرے ؟ جب پہلی بار پیدا کیا جانا اس کے لئے ناممکن نہیں ہوا تو دوبارہ یہی کام اس کے لئے کیوں ناممکن ہوجائے ؟
Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے۔

[13] یہاں آسمان سے مراد عالم بالا ہے اور رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو دنیا میں انسان کی زندگی اور اس کے رہن سہن کے لئے ضروری ہیں اور جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے، اس سے مراد وہ عذاب ہے جسے لوگوں کو پیغمبروں کی تکذیب کی صورت آگاہ کیا جاتا رہا۔ مطلب یہ ہے کہ عالم بالا ہی سے ہر انسان کے رزق کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسے کیا کچھ دیا جائے اور وہیں سے یہ بھی فیصلہ ہوتا ہے کہ نافرمانی اور سرکشی کرنے والوں پر عذاب کب نازل کیا جائے۔
Ayahs 51:23–29

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی، یہ (بات) حق ہے (اور ایسی ہی یقینی) جیسے تم بول رہے ہو۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کی حکایت تم تک پہنچی ہے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا۔ اس نے سلام کا جواب دیا (اور دل میں کہا کہ یہ) لوگ کچھ اجنبی (سے معلوم ہوتے) ہیں۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر (چپکے سے) اپنے گھروالوں کے پاس گیا (اور) ایک (بھنا ہوا) فربہ بچھڑا (مہمانوں کے لئے) لے آیا۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

اور اسے ان کے آگے پیش کیا (تو انہوں نے کھانے میں تامل کیا) ۔ ابراہیم نے کہا، '' آپ لوگ کھاتے نہیں ؟ ''

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

(اس پر بھی انہوں نے کھانے سے انکار کیا تب) تو ابراہیم نے ان سے (ایک قسم کا) اندیشہ محسوس کیا۔ انہوں نے (اس کی یہ حالت دیکھ کر) کہا، '' آپ ڈرئیے نہیں '' اور اسے ایک ذی علم فرزند کی بشارت دی۔

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

تو (یہ سن کر) اس کی بیوی چلاتی ہوئی آگے بڑھی اور (تعجب سے) اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی، '' (اول تو) میں بڑھیا (پھر) بانجھ، (مجھ سے بیٹا کیسے ہوگا) ''۔

[14] یعنی جس طرح تمہیں اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کے وقوع میں کوئی شک و شبہ نہیں، اس کو یقینی سمجھو۔
Ayahs 51:30–31

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے، '' ایسا ہی فرمایا ہے تمہارے رب نے۔ وہ بڑا حکمت والا (اور ہر چیز سے) واقف ہے ''۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

(اب ابراہیم نے فرشتوں سے) پوچھا، '' اے فرستادگان (الٰہی) آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟ ''

[15] یہ قصہ سورة ہود صفحہ 492 اور سورة حجر صفحہ 586 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حواشی دیکھ لئے جائیں۔
Ayahs 51:32–33

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ بولے، '' ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان لوگوں پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں

[16] مراد ہے قوم لوط۔
Ayahs 51:34–36

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان کئے ہوئے ہیں ''

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

(غرض انجام یہ ہوا کہ) اس بستی میں جتنے اہل ایمان تھے ان کو ہم نے (وہاں سے) نکال لیا،

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور ہم نے وہاں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا (کوئی اور گھر) نہیں پایا۔

[17] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 45 صفحہ 522۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور (پتھراؤ کے بعد) ہم نے اس (بستی) میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لئے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔

[18] یعنی قوم لوط کی بستی کے کھنڈرات۔ [19] لوط (علیہ السلام) کا قصہ تفصیل سے سورة ہود آیت 77 تا 83 صفحہ 508 میں گزر چکا ہے۔