51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 51:38–46

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور (تمہارے لئے نشانی ہے) موسیٰ (کی سرگزشت) میں جب ہم نے اس کو صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا۔

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو اس نے اپنی قوت (کے زعم) میں سرتابی کی اور (موسیٰ کی نسبت) کہا کہ یہ (تو) جادوگر ہے یا دیوانہ۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو (عذاب میں) پکڑ لیا اور سب کو دریا میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت (اور مستحق عذاب) ۔

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور (تمہارے لئے نشانی ہے قوم) عاد (کے ہلاک ہونے) میں جب ہم نے ان پر ایک منحوس ہوا بھیج دی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر بھی گزری اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا۔

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور (تمہارے لئے نشانی ہے قوم) ثمود (کے ہلاک ہونے) میں (بھی) جب ان لوگوں سے کہا گیا تھا کہ کچھ مدت کے لئے اور مزے کرلو۔

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

مگر (اس تنبیہہ پر بھی) انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کے دیکھتے دیکھتے ایک چنگھاڑ نے ان کو پکڑ لیا۔

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ وہ اٹھ ہی سکے اور نہ (ہم سے) بدلہ ہی لے سکے۔

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور (ان سب سے) پہلے (ہم) قوم نوح کو (ہلاک کرچکے تھے) ۔ اس میں شک نہیں کہ وہ (بھی بڑے ہی) نافرمان لوگ تھے۔

[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔
Ayahs 51:47–48

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) آسمان کو ہم نے اپنے دست (قدرت) سے بنایا ہے اور ہم (بڑی) وسیع قدرت رکھتے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور ہم ہی نے زمین کو بچھایا ہے تو (دیکھو) ہم (کیسے) اچھے بچھانے والے ہیں۔

[21] اس آیت کا ایک ترجمہ تو وہ ہوسکتا ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو ہستی اس عظیم الشان کائنات کو وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے انسان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔ آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور ہم اس میں توسیع کر رہے ہیں۔ آج سے چودہ سو سال پہلے جب عربوں کے پاس فلک بینی کا کوئی آلہ موجود نہ تھا قرآن نے ایک ایسی بات کہہ دی جس کی تصدیق 1948 ء میں تمام ستارہ شناسوں نے متفقہ طور پر کردی اور اعلان کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو ہستی کائنات میں مسلسل توسیع کر رہی ہے وہ اعادہ خلق سے کیونکر عاجز ہوسکتی ہے۔
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم (اس سے) سبق لو۔

[22] اصل میں لفظ '' زوجین '' استعمال ہوا ہے جس سے یہاں مراد مقابلے کی چیزیں ہیں، مثلاً گرمی سردی، آسمان زمین، پستی بلندی، نور ظلم وغیرہ۔ کائنات ایسی ہی اضداد یا متقابلات سے بھری پڑی ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہوتا کہ اس میں جو خلا نظر آتا ہے اس جوڑے کے ساتھ مل کر بھر جائے۔ یہ جوڑا آخرت ہے۔ آخرت کو مان لینے کے بعد یہ دنیا ایک بامقصد اور باحکمت چیز بن جاتی ہے۔
Ayahs 51:50–52

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ان لوگوں سے کہو کہ) دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ۔ میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے ساحر یا مجنوں نہ کہا ہو۔

[23] مطلب یہ ہے کہ گمراہ قوموں کے تذکرے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان سن لینے کے بعد اب تو ماسو کو چھوڑ کر اللہ کے ہوجاؤ۔
Ayahs 51:53–55

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا لوگ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ (نہیں، ) بلکہ یہ سب ہیں ہی سرکش لوگ۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) ان کی (مطلق) پروا نہ کرو کیونکہ (ان کے کفر وانکار کا) تم پر کوئی الزام نہیں۔

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

ہاں نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت ایمان والوں کو نفع پہنچاتی ہے۔

[24] یعنی جس تسلسل و تواتر کے ساتھ شروع سے اب تک پیغمبروں کی مخالفت ہوتی آئی ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلی نسل اپنی پچھلی نسل کو اس بات کی وصیت کرتی چلی آئی ہے لیکن عمل کی اس مشابہت کی اصل وجہ یہ ہے کہ طغیانی و سرکشی سب میں مشترک رہی ہے اور وہی تکذیب و انکار کی محرک ہے۔
Ayahs 51:56–60

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

(اور دیکھو، ) ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ وہ ہماری عبادت کریں۔

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

ہم ان سے کچھ روزی کے خواہاں تو ہیں نہیں اور نہ اس کے خواہاں ہیں کہ ہم کو کھلائیں (پلائیں) ۔

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

اللہ تو خود ہی روزی رساں، قوت والا (اور) زبردست ہے۔

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس ان ظالموں کی (سزا کی بھی) باری (علم الٰہی میں مقرر ہے) جیسے ان کے (گزرے ہوئے) ہم مشربوں کی باری (مقرر) تھی، تو یہ ہم سے (عذاب کی) جلدی نہ مچائیں۔

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

آخر کو تباہی ہے کافروں کے لئے اس دن (کے آنے) سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

[25] یعنی اپنی ساری زندگی ہماری بندگی و اطاعت میں گزاریں۔ نیز ملاحظہ ہو سورة فاتحہ۔