Ayah 54:1[ 1] قرب قیامت کے بارے میں تنبیہ وتحذیر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ قریب آگئی فیصلے کی وہ ہولناک گھڑی، کہ اس نے بہرحال آکر رہنا ہے اور ہر ایسی چیز جس نے آکر ہی رہنا ہو، وہ بہرحال قریب ہی ہوتی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے " کل ما ھو اتٍ فھو قربت " یعنی جس خیر نے آنا ہے وہ بہرحال قریب ہی ہوتی ہے، اور اس کی سب سے بڑی نشانی کا ظہور بھی ہوگیا، یعنی خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت و تشریف آوری، جیسا کہ حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت سے مروی و منقول ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملا کر فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اس طرح ہے جس طرح یہ دو انگلیاں، یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کسی اور چیز کا فاصلہ نہیں، اسی طرح اب میرے اور قیامت کے درمیان کسی اور پیغمبر وغیرہ کا کوئی فاصلہ نہیں، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔ { اتی امر اللّٰہ فلا تستعجلوہ ط سنحنہٗ وتعلی عما یشرکون } [ النحل : 1 پ 14] یعنی اللہ کا حکم آگیا پس تم اس کے لے جلدی مت مچاؤ نیز فرمایا گیا۔ { اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون } [ الانبیائ : 1 پ 17] یعنی لوگوں کا حساب ان کے قریب آپہنچا ہے مگر یہ ہی کہ منہ موڑے غفلت میں پڑے ہیں، سو اس طرح کے تمام ارشادات میں تخضیض وتحریض ہے لوگوں کے لئے کہ تم چونک جاؤ، اور خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنی آخرت کے لئے تیاری کرو، قبل اس سے کہ فرصت عمر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا اور افسوس کرنا پڑے، والعیاذ باللّٰہ العظیم بہرکیف " الساعۃ " [ گھڑی ] سے یہاں پر مراد قیامت کی وہ ہولناک گھڑی ہے جس جیسی لوئی گھڑی نہیں ہوسکتی، یہی متبادر بھی ہے اور یہی جمہور علماء و مفسرین کا قول بھی ہے، [ ابن کثیر، ابن جریر، مراغی، صفوۃ التفاسیر اور فتح القدیر وغیرہ ] جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک اس سے مراد عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے قریش کو خبردار کیا گیا تھا۔ مطلب بہرحال یہی ہے کہ تم لوگ آنے والی اس گھڑی کو کوئی دور کی چیز نہ سمجھو، بلکہ اس کو آپہنچنے والی سمجھو اور اٹھو اور جاگو، اور اس سے بچنے کی فکر و تدبیر اور سعی و کوشش کرو، اور جس کی ایک ہی صورت ہے کہ اس دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنا کر ان کی اتباع اور پیروی کرو اور کفر و انکار کی راہ اور اعراض و روگردانی کی روش ترک کردو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
[ 2] ظہور عذاب کی ایک نشانی کا ذکر وبیان :
چناچہ ارشاد فرمایا کہ قیامت قریب آگئی اور پھٹ پڑا چاند۔ سو یہ وقوع قیامت کی ایک اہم علامت اور نشانی ہے کہ قیامت کے آنے پر بھی زمین و آسمان کا یہ سارا نظام اسی طرح درہ برہم ہوجائے گا، اگرچہ بعض مفسرین کے نزدیک انشقاق قمر کا یہ واقعہ ابھی تک رونما نہیں ہوا، بلکہ یہ قیامت کے نزدیک واقع ہوگا اور یہ ا کے متعلق پیشگوئی اور پیشگی خبر ہے، اور ماضی کا صیغہ یہاں پر مستقبل کے معنی میں ہے، جو کہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے، مگر جمہور مفسرین کر ان کے نزدیک یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں پیش آچکا ہے، اور یہ حضور کے عظیم معجزات میں سے ایک اہم معجزہ ہے، وھو الصحیح اور علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ معجزہء شق القمر سے متعلق روایات حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں، بہرکیف جمہور علماء مفسرین کے نزدیک یہ بات اتفاقی اور اجماعی ہے کہ شق قمر کا یہ معجزہ واقع ہوچکا ہے، یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پان سال قبل اس وقت ظہور پذیر ہوا جب کہ اہل مکہ نے آنحضرت ﷺ سے معجزہ دکھانے کی فرمائش کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ چاند کی طرف دیکھو، چناچہ دیکھا تو چاند دو ٹکڑے ہوچکا تھا ایک پہاڑی کے اس طرف، اور دوسرا اس طرف اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ابن ابی کبثہ [ وہ لوگ حضور کے بارے میں طنز وتشنیع کے طور پر یہ نام استعمال کیا کرتے تھے ] نے ہم پر جادو کردیا ہے، لہٰذا صبر کو دیکھتے ہیں کہ کل اطراف و اکناف سے آنے والے مسافر کیا کہتے ہیں، کہ انہوں نے بھی ایسا دیکھا ہے یا نہیں، کہ آخر یہ سب لوگوں پر تو جادو نہیں کرسکتا، چناچہ دوسرے روز آنے والے مسافروں نے بھی جب اس واقعہ کی تصدیق کردی تو اس سے یہ بات تو پوری طرح ثابت اور واضح ہوگئی تھی، مگر کفار قریش جو کہ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے تھے، انہوں نے پھر بھی مان کے نہیں دیا، آیت کریمہ میں اسی واقعہ کا ذکر فرمایا گیا ہے، رہ گیا یہ اعتراض کہ پھر اس واقعہ کو اتنی شہرت کتابوں وغیرہ میں کیوں نہ مل سکی ؟ جس کا یہ عظمت کی بناء پر مستحق تھا ؟ تو اس بارے میں عرض ہے کہ اول تو یہ واقعہ رات کا ہے، جب کہ نصف کرہ ارضی پر رات کی بجائے یقینی طور پر دن ہوا ہوگا، تو ایسے تمام ممالک کے لئے اس واقعہ کو دیکھنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جہاں اس وقت رات کی بجائے دن تھا دوسرے جن ممالک میں اس وقت رات تھی وہاں بھی کتنے ہی ممالک ایسے ہوں گے جہاں رات کا بھی نصف یا اس کا ایک بڑا حصہ بھی گزر ہوچکا ہوگا، جب کہ دنیا عموماً سوچکی ہوتی ہے، اور جہاں لوگ سوئے ہوئے نہ بھی ہوں تو وہ ان بھی ضروری نہیں کہ وہ سب لوگ باہر کہیں کھلی فضا میں بیٹھے ٹکٹکی باندھے چاند کی طرف ہی دیکھ رہے ہوں، بلکہ چاند کی طرف دیکھنے کی نوبتے بھی کبھی کبھار ہی آتی ہے، چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ چاند کو گہن لگتا ہے مگر لاکھوں کی تعداد میں لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس کو نہیں دیکھتے، حالانکہ اس وقت چاند کی چاندنی کے ختم ہوجانے یا کم از کم مدھم پڑجانے کا ایک قوی داعیہ بھی ایسا موجود ہوتا ہے، کہ لوگ چاند کی طرف دیکھیں، جب کہ انشقاق قمر کے اس معجزہ میں یہ بات بھی نہیں تھی، کہ چاند کے دو ٹکڑوں میں بٹ جانے کے بعد بھی اس کی روشنی اور چاندنی بدستور ہی رہی ہوگی، نیز واقعہ بھی توڑی سے دیر کا تھا نہ کہ بہت لمبے چوڑے وقت کے لئے اور بایں ہمہ تاریخ فرشتہ وغیرہ بعض تواریخ میں اس کا ذکر بھی آتا ہے، اور جیسا کہ تفسیر فوائد عثمانیہ میں لکھا ہے کہ ملیبار کے ایک ہندو راجہ کے اسلام کا سبب بھی یہی واقعہ بنا تھا، بہرکیف یہ واقعہ ظہور عذاب کی ایک نشانی اور قرب قیامت کی ایک علامت اور نمونہ تھا۔ جس کا تقاضا ہے آخرت کیلئے تیاری کی جائے اور فرصت عمر کو غنیمت سمجھا جائے۔
Ayah 54:2[ 3] منکروں کے اعراض اور روگردانی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا، اور منکروں کی ہٹ دھرمی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور اگر ان کے پاس کوئی بھی نشانی آجائے تو یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ یعنی کوئی ایسی نشانی جو کہ حق و صداقت کو پوری طرح واضح کردینے والی ہو، اور اس میں کوئی خفاء و غموض بھی نہ ہو، تو انہوں نے پھر بھی منہ موڑ دینا ہے اور ماننا نہیں، کہ یہ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں، اور ضد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں، جب کہ نور ہدایت سے سرفراز ہونے کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق اور اخلاص نیت ہے، سو وعناد و ہٹ دھرمی اور اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی اساس و بنیاد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سارشاد میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ آپ کی تعلیم و تبلیغ میں کسی طرح کا کوئی فرق و قصور یا کمی و کا تاہی نہیں، بلکہ اصل فرق و قصور خود ان لوگوں میں ہے کہ یہ عناد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کو جو بھی نشانی دکھائی جائے انہوں نے نہیں ماننا۔ اور دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبین کی ملامت ہے کہ یہ لوگ محض ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنے آپ کو نور حق و ہدایت کی دولت سے محروم کر رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 4] منکرین کی ہٹ دھرمی کے ایک نمونے کا ذکر وبیان :
سو منکرین کی ہٹ دھرمی کا نمونہ پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے چلتا ہوا۔ یعنی جو پہلے سے چلا آرہا ہے، کہ پہلے بھی ایسے لوگ ہوئے ہیں جو اس طرح کی چیزیں دکھلاتے رہے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ یہ چلنے والا اور گزر جانے والا ہے، ای مضمحل باطل [ جامع البیان، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] ہم بہرحال اس پر ایمان لانے والے اور اس کو ماننے والے نہیں، سو یہ حال تھا ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ لوگ ماننے اور ایمان لانے کی بجائے الٹا اس نشانیء حق کو جادو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اسی قسم کا جادو ہے جو پچھلے جادوگروں نے دکھایا، اور یہ بھی گزر جائے گا، جیسا کہ پہلوں کا جادو گزر گیا تو پھر ایسے ہٹ دھرموں کو حق اور ہدایت کی دولت سے سرفرازی آخر کیسے اور کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 54:3[ 5] تکذیب و انکار حق کا اصل سبب اور باعث، اتباع ہویٰ ، والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ان لوگوں کی تکذیب اور انکار حق کے اصل سبب اور باعث کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پیچھے چل پڑے اپنی خواہشات کے۔ سو یہ ہے وہ اصل وجہ اور بنیادی فساد جو ہمیشہ راہ حق میں رکاوٹ بنتا رہا، اور آج تک بن رہا ہے، یعنی خواہشات نفس کی پیروی جس کی بناء پر لوگ کل بھی حق سے محروم رہے، اور آج بھی اس سے حرمان نصیبی کا شکار اور نور حق و ہدایت سے محروم اور دور و نفور ہیں، کہ دین پر چلنے سے ہم اپنی ان نفسانی خواہشات پر نہیں چل سکیں گے، جن پر ہم اب شتر بےمہار کی طرح چل رہے ہیں، سو یہ لوگ آزاد حیوانی زندگی چاہتے ہیں اور بس، جیسا کہ سورة قیامہ میں ارشاد فرمایا گیا۔ { بل یرید الانسان لیفجر امامہٗ } [ القیامۃ : 5 پ 29] والعیاذ باللّٰہ من کل زیغ و ضلال، سو اتباع ہوی یعنی خواہشات نفس کی اتباع و پیروی محرومیوں کی محرومی اور منبع شر و فساد ہے، کہ یہ اتباع ہویٰ یعنی حق و ہدایت کی پیروی کی ضد اور اس کی معارض و معاکس ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، یامن بیدہٖ ملکوت کل شیئٍ وھو یجیر ویجار علیہ،
[ 6] منکرین کیلئے ایک تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہر کام کا بہرحال ایک وقت مقرر ہے۔ پس حق اور اہل حق کے اس دنیا میں غلبہ، اور آخرت میں دائمی فوز و فلاح اور باطل اور اس کے پجاریوں کی اس دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں دائمی عذاب کا بھی ایک وقت مقرر ہے، اور یہ سب کچھ اپنے مقرر وقت پر بہرحال ہو کر رہے گا، پس کسی کو اللہ پاک کی ڈھیل سے دھوکے میں میں پرنا چاہیے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو یہ لوگ اللہ کے نزیر اور اس کے انذار کی تکذیب کے جرم کا ارتکاب کرکے عذاب الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں، اس لیے اس کا ہولناک عذاب ان پر اپنے وقت مقرر پر بہرحال آکر رہے گا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ کے یہاں ہر کام ایک خاص اور معین پروگرام کے مطابق ہی ہوتا ہے جو کہ خاص حکمتوں پر مبنی ہوتا ہے کہ وہ حکیم اور حکیم مطلق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ۔ کے مشہور و معروف اصول و ضابطے کے مطابق اس حکیم مطلق۔ جل وعلا شانہ۔ کا کوئی فعل اور کوئی ضابطہ و پروگرام حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا۔ سو جب ان کی اجل معین پوری ہوجائے گی تو ان کو ان کے انجام میں دھرلیا جائے گا۔ اس لئے ان کو اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرنی چاہئے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
Ayahs 54:4–5[ 7] تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین کا ذکرو بیان :
سو اس سے دوسروں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ چناچہ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان کے پاس پہنچ چکیں ایسی سرگزشتیں جن میں بڑا سامان عبرت ہے۔ یعنی اس قرآن حکیم کے ذریعے جو کہ حقانیت و صداقت، اور عبرت و نصیحت کا کامل و اکمل نمونہ و مرقع ہے، جس جیسا دوسرا کوئی نمونہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتا ہے، سو ان لوگوں کو گزشتہ قوموں کی جو سرگزشتیں سنائی گئیں ان میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے، اور ان سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ کے رسول اور اس کے انذار کی تکذیب کی وہ بالآخر عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر رہی، اور عذاب کی تاخیر سے وہ قومیں بھی اسی طرح کی غلط فہمی میں مبتلا ہوئی تھیں کہ پیغمبر کی یہ تنبیہات محض خالی خولی دھمکیاں ہیں، سو اس کے نتیجے میں آخر کار وہ قومیں اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ان گزشتہ قوموں کے حالات اور ان کے انجام میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ان لوگوں کیلئے جو درعبرت لینا چاہتے ہوں۔ پس لوگوں کو چاہیے وہ غور و فکر سے کام لیں اور گوش ہوش نیوش سے سنیں۔ ان فی ذلک لذکریٰ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھیدٌ۔ [ ق :37] وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 54:6[ 10] ہٹ دھرموں سے اعراض و رُوگردانی کی ہدایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کو چھوڑ دو ان کے حال پر اور مزید ان کی فجر میں نہ پڑیں کیونکہ منوا لیتا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے بلکہ آپ ﷺ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے اور بتمام و کمال کرچکے۔ { لیس علیک ھداھم } [ البقرۃ : 272] سو ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے، بہرکیف اس میں پیغمبر کے لئے تسکین و تسلی آمیز خطاب ہے کہ آپ نے تبلیغ حق کا فریضہ ادا کردیا اور یہی آپ کی اصل ذمہ داری تھی۔ آگے ایسے اندھوں کی آنکھوں سے پٹی کھولنا اور ایسے ہٹ دھرموں کی راہ حق و ہدایت پر ڈال دینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ کی ذمہ داری۔ لہٰذا اب آپ ان کے لیے نہ افسوس کریں نہ غم کھائیں۔ { فلا تذھب نفسک علیہم حسرات } بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں تب ان کو کھرا کھوٹا سب کچھ خود اور پوری طرح معلوم ہوجائے گا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، جل وعلا، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف۔
[ 11] ہٹ دھرم منکرین کا معاملہ ان کے انجام کے حوالے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اب ان کا معاملہ اس دن پر چھوڑ دو جس دن کو پکارے گا وہ پکارنے والا۔ یعنی اسرافیل [ روح، خازن وغیرہ ] جو کہ صور منہ میں لئے اللہ پاک کے حکم کی انتظار میں بیٹھا ہے، جیسا کہ احادیث میں مصرح ہے۔ سو اس روز ان لوگوں کو خود معلوم ہوجائے گا اور ان کی ساری اینکڑی پینکڑی ختم ہوجائے گی اور ان کے سارے ایچ پیچ اس طرح نکل جائیں گے، کہ اس داعی کی آواز سنتے ہی یہ سب فوراً اپنے رب کی حمد وثناء کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد گرمایا گیا۔ { یوم یدعوکم فتستجیون بحمدہٖ ویظنون ان لبثتم الا قلیلاً } [ بنی اسرائیل : 52 پ 15] مگر اس دن کا سننا اور ماننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا کہ اس کا وقت بہرحال گزر چکا ہوگا اور اس وقت ان کو یاس و حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ایسے ہٹ دھرموں کا معاملہ ان کے انجام کے حوالے کردو کہ پتھر پہ جونک لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ان کے کان صور اسرافیل ہی سے کھل سکیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
[ 12] روز قیامت کی ہولناکی کی طرف اشارہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے منہ موڑ لو اور انتظار کور اس ہولناک دن کا جس میں پکارنے والا پکارے گا ایک بڑی ہی ناگوار چیز کی طرف۔ یعنی روز قیامت کی طرف، جس کی ہولناکیاں حد تصور سے بڑھ کر ہوں گی، اس دن ان کو وہ سب کچھ خود نظر آجائے گا جس کی یہ زندگی بھر تکذیب کرتے رہے تھے، تب ان کی یاس و حسرت اور صدمے و افسوس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا، اور یہ مارے افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے مگر بےوقت کے اس پچھتاوے کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سو ارشاد فرمایا گیا کہ آج اگر یہ ہٹ دھرم منکر لوگ سننے کو تیار نہیں ہوتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، ایسے اندھوں کو، ان کی آنکھوں کی پٹی کھولنا اور ان کو راہ راست پر لے آنا آپ ﷺ کے بس میں نہیں، اور اس ہولناک دن کا انتظار کرو جس دن کہ اسرافیل صور پھونکیں گے، اور ان کو قیامت کے اس ہولناک دن اور اس کے عذاب کیلئے پکارا جائے گا، اس روز یہ نہایت عاجزی و بےبسی کے ساتھ اپنے رب کی حمد وثناء کرتے ہوئے اور نگاہیں جھکائے ہوئے اس کے حضور حاضر ہوں گے، جہاں ان کی آنکھیں اچھی طرح کھول دی جائیں گی، اور وہ سب کچھ ان کے سامنے آجائے گا جس کی خبر آج ان کو اللہ کے پیغمبر دے رہے ہیں، اور یہ ماننے کو تیار نہیں ہورہے۔ [ نُکر ] کے لفظ سے یہاں پر ہول قیامت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اور اس کی ہولناکی کی شدت کی ظاہر کرنے کیلئے ابہام کا یہ اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے۔ اسی مضمون کو قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ { واستمع یوم یناد المنادِ من مکانٍ قریبٍ } [ ق : 41 پ 26] یعنی کان لگائے رکھو اس دن کی پکار کے لیے جس دن پکارنے والا پکارے گا نہایت قریب کی جگہ سے۔ سو اس یوم عظیم کو ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 54:7[ 13] منکرین کی قیامت کے روز کی ذلت و رسوائی کا ایک منظر :
سو ارشاد فرمایا گیا اور اس یوم عظیم میں منکرین کی ذلت و رسوائی کے ایک منظر کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جھکی ہوئی ہونگی ان کی نگاہیں۔ اس دن کی ہولناکیوں اور ان کے اپنے کرتوتوں کی بناء پر جب کہ اہل ایمان اس کی ہولناکیوں اور محاذف سے امن وامان میں ہوں گے۔ { من جاء بالحنسۃٍ فلہٗ خیر منھا ج وھم من فزعٍ یؤمئذٍ امنون } [ النمل : 89 پ 20] سو ایمان و یقین کی دولت ہی انسان کو امن وامان کی نعمت سے سرفراز کرنے والی دولت ہے، اس دنیا میں بھی، اور آخرت کے اس جہاں میں بھی جو کہ اس دنیا کے بعد آئیگا، اور جو ابدی جہاں ہوگا، اور جہاں کے فیصلے ابدی حقائق کے مطابق اور ابدالاباد کی طرح ہوں گے، فالحمدللّٰہ الذی شرفنا بہ اللّٰہم زدنا منہ وخذ بنواصینا الیٰ ما تحب وترضی من القول والعمل اور اس کے برعکس کفر و انکار اور عناد و ہٹ دھرمی دارین کی ناکامی ہلاکت و تباہی، اور ذلت و رسائی کا باعث ہے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ سو آج تو یہ لوگ اپنے کبر و غرور اور عناد وہٹ دھرمی کی بنا پر اللہ کے رسول کی دعوت اور حق و ہدایت کی آواز کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہو رہے لیکن اس روز یہ لوگ حشر کے اس داعی کی آواز کو سنتے ہی ذلت و رسوائی کی تصویر بنے فوراً دوڑے چلے آئیں گے، مگر اس سننے اور دوڑنے کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ کاش کہ یہ لوگ آج سن اور مان لیتے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
[ 14] منکرین کے قبروں سے نکلنے کی تصویر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر ایسے پھیلے پڑ رہے ہوں گے جیسے ٹڈی دل پھیلے ہوئے ہیں۔ یعنی کثرت کے اعتبار سے، اور اپنی حیرت و ہولناکی کی بناء پر، سو اس روز یہ سب اس داعی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے میدان حشر کی طرف سر اٹھائے دوڑے جا رہے ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ { مھطعین مقنعی رء وسھم لایرتک الیہ طرفھم ج وافئدتھم ھوائٌ} الایۃ۔[ ابراہیم : 43 پ 13] اور یہ حالت ان کے بعد میں ہوگی جب کہ شروع میں یہ پراگندہ پتنگوں کی طرح ہوں گے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { یوم یکون الناس کالفراش المبثوث } [ القارعۃ : 4] ابن الجوزی (رح) کہتے ہیں کہ ان کو پتنگوں سے جو تشبیہ دی گئی ہے، یہ ان کی پراگندہ حالی اور پریشان ہالی کے اعتبار سے ہے، کہ پتنگے اسی طرح ہوتے ہیں، جب کہ ٹڈی دل سے ان کی تشبیہ ان کی کثرت اور بہتات کے اعتبار سے ہے، [ الکبیر، الصفوۃ، وغیرہ ] والعیاذ باللہ۔ اور یہ اس لیے کہ ان کی کوئی ایک جہت نہیں ہوتی بلکہ وہ ہر طرف پھیلے ہوتے ہیں۔ سو یہی حال ان لوگوں کا اس وقت ہوگا جبکہ یہ قبروں سے نکل نکل کر مارے خوف و دہشت کے ہر طرف دوڑے چلے جا رہے ہوں گے۔ [ زادالمسیر، الکبیر اور الصفوۃ وغیرہ ]
Ayah 54:8[ 15] منکروں کیلئے یوم حشر کی سختی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کافر لوگ کہیں گے کہ یہ بڑا ہی سخت دن ہے۔ معلوم ہوا کہ اس دن کی سختی صرف کافروں کیلئے ہوگی، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں اس طرح ارشاد فرمایا گیا۔ { فذلک یؤمئذٍ یوم عسیر علی الکفرین غیر یسیر } [ المدثر : 9-10 پ 29] سو ایمان امن کا ذریعہ و وسیلہ اور سلامتی کا ضامن ہے، اس جہان فانی اور عالم رنگ و بو میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی جو کہ اس دنیا کے بعد آنے والا اور جو ابدی اور سرمدی جہاں ہوگا، فالحمدللّٰہ الذی شرفنا بھذہ النعمۃ العظمیٰ والمنۃ الکبری بمحض منہٖ وکرمہٖ واحسانہٖ جل جلالہ وعم نوالہٗ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آج تو کافر لوگ اس دن کو جھٹلا رہے ہیں اور ان کو یہ چیز ناممکن اور انہونی نظر آرہی ہے، اور آج یہ نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن کل جب وہ جہاں ان کے سامنے آجائے گا تو یہ نہایت یاس و حسرت اور ذلت و رسوائی کے ساتھ پکاراٹھیں گے کہ لاریب وہ کٹھن اور ہولناک دن آگیا، جس کے بارے میں حضرات انبیاء و رسل ہمیں بتایا کرتے تھے، جس کی شدت اور ہولناکی سے وہ ہمیں ڈرایا کرتے تھے، مگر اس وقت کے ان کے اس اقرار و اعتراف کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے حسرت و افسوس میں اضافے کے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 54:9[ 16] قوم نوح کا حوالہ و ذکر عبرت پزیری کیلئے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا، یعنی انہوں نے بھی جھٹلایا دعوت و ہدایت کو۔ پس نہ تو حضرت محمد ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے، کہ ان سے پہلے بھی بہت سے حضرت انبیاء کرام ایسی ہی دعوت اور پیغام کے ساتھ تشریف لاچکے ہیں، اور نہ ہی ان کفار کی یہ تکذیب کوئی نئی چیز ہے، کہ اس سے پہلے کے کفار بھی حق کو جھٹلاتے چلے آئے ہیں، اور تکذیب حق کا جو خمیازہ ان کفار و منکرین کو بھگتنا پڑا، اس سے دور حاضر کے ان کفار و منکرین کو بھی سابقہ پیش آسکتا ہے، کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے، پس ان قصوں میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے جملہ اہل حق اور دعاۃ حق کے لئے تسکین و تسلی کا سامان ہے، اور دوسری طرف ان میں کفار قریش اور ان کے ہمنواؤں کیلئے تہدید و تکویف بھی، کہ باز آجاؤ تم لوگ اپنے اس کفر و انکار سے، ورنہ اس انجام کیلئے تیار ہوجاؤ جس سے ان دوسرے کافروں کو دو چار ہونا پڑا۔ والعیاذ باللّٰہ من کل زیغ و ضلال۔ بہرکیف گزشتہ قوموں کے ان قصوں میں منکرین کیلئے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ان قصوں کے ذکر وبیان سے منکرین کو اس بارے میں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہ لوگ عذاب مانگنے کی بجائے آخر ان قصوں میں غور و فکر سے کام لے کر درس عبرت کیوں نہیں لیتے ؟ اور عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
[ 17] تکذیب حق محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلایا ہامرے بندے کو اور کہا کہ یہ تو ایک دیوانہ شخص ہے۔ کہ اس کی باتیں عقل کے خلاف ہیں، اور یہی مرض دور حاضر کے ان روشن خیالوں، اور عقل کے دعویداروں میں بھی پایا جاتا ہے، جو دبے لفظوں میں، یا کھلے عام دین حق کے بارے میں اسی طرح کی کفریات بکتے اور اس سے استہزا کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ سو ایسوں کو بھی اسی انجام سے دو چار ہونا ہوگا جس سے وہ لوگ ہوچکے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور خبردار کیا، اور ایسا اور اس طور پر کہ اس کیلئے آپ نے دن اور رات کو ایک کردیا تو اس بدبخت قوم کے عیش پرستوں اور لذت و جاہ کے متوالوں نے اس بات کو مان کر نہ دیا، اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آئے گا، اگر وہ سزا اور عذاب کے مستحق ہیں تو پھر انہیں یہ عزت و دولت کیوں حاصل ہوئی ؟ یہ تو اس بات کہ دلیل ہے کہ ہم خدا کی نظروں میں معزز ہیں، یہ شخص تو دیوانوں کی باتیں کرتا ہے، اور انہوں نے آپ (علیہ السلام) کو سختی سے ڈانٹا اور جھڑکا، اور کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں سنگسار کردیا جائے گا، جیسا کہ سورة شعراء کی آیت نمبر 116 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، سو انہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی تکذیب ہی کی جس کے نتیجے میں آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو تکذیب حق محرومیوں کی محرومی اور دائمی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنا ہی بنائے رکھے، آمین
Ayahs 54:10–11[ 18] حضرت نوح کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی :
سو اس واضح فرما دیا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے تمام انبیاء و رسل کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو مدد کیلئے پکارا اور اس کے حضور فریاد کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوں پس تو میری مدد فرما۔ سو جب اتنے اولوالعزم رسول اور جلیل القدر پیغمبر، اور ابو البشر ثانی بھی اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارتے ہیں اور اپنے قول وقرار سے اسی کو پکارنے کا درس دیتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے کو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہوسکے ؟ پس اس سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ حاجت روا اور مشکل کشا سب کا وہی اور صرف وہی وحدہٗ لاشریک ہے، اس کے سوا کسی اور کو حاجت روا مشکل کشا ماننا عقل و نقل کے بھی خلاف ہے، اور حقیقت نفس الامری اور واقع کے بھی خلاف، اور اس طرح کا عقیدہ رکھنا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف جب اس بدبخت قوم کی عداوت و بدبختی انتہا کو پہنچ گئی اور انہوں نے حق کو قبول کرنے کی بجائے الٹا حضرت نوح (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکی بھی دے دی، تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور اس طرح فریاد کی کہ اے میرے مالک، میرے اندر جتنا زور تھا، وہ میں سے اس قوم کے سمجھانے کیلئے صرف کردیا، مگر انہوں نے مان کر نہیں دیا، لہٰذا اب تو ان سرکشوں سے خود ہی نبٹ، انتصار کے معنی مدافعت کرنے کے بھی آتے ہیں اور بدلہ و انتقام لینے کے بھی۔ سو اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تو ان سے میری مدافعت بھی فرما اور ان کی سرکشی کا انتقام بھی لے۔ بہرکیف اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے۔ حضرات انبیاء و رسل (علیہم السلام) بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 54:12[ 19] حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاء کی قبولیت اور قوم نوح کے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کام ہم نے آسمان سے موسلا دھار بارش کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھوڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا۔ جس کے نتیجے میں پانی جاپہنچا۔ اس نشان پر جس کو اس مقصد کے لیے مقرر کرلیا گیا تھا یعنی ان بدبختوں کے آخری انجام اور ان کی ہلاکت و تباہی اور ان کی غرقابی کے لئے کہ ان کی مدت مہلت اب ختم ہوچکی تھی، اور وہ اپنے کفر و انکار پر ایک ایسا ناسور بن چکے تھے جس کا جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اب ضروری ہوگیا تھا والعیاذ باللّٰہ سو آسمان سے موسلا دھار بارش کے ساتھ اس کے تمام دروازے کھول دئیے گئے اور زمین کو پھوڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا گیا، اور ظاہر ہے کہ ایسی طوفانی بارش جس کیلئے آسمان کے تمام دروازے کھول دیے گئے ہوں، اور زمین کو پھوڑ کر چمشے ہی چشمے کردیا گیا ہو، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے زمین کو پانی میں غرق کردیا ہوگا، جس کے نتیجے میں وہ بدبخت قوم ہمیشہ کے لئے مت کر رہ گئی، سو یہ نتیجہ و انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو حق کے انکار و تکذیب ہی پر اڑے رہتے ہیں اور بالآخر اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ ایسوں کو مہلت جتنی بھی ملے ان کا انجام بہرحال دائمی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
Ayah 54:13[ 20] حضرت نوح (علیہ السلام) کیلئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نوح کو سوار کردیا کچھ تختوں اور میخوں کی اس کشتی پر جو چل رہی تھی ہماری حفاظت و نگرانی میں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { فانجینہ واصحب السفینۃ وجعلنھا اٰیۃ للعلمین } [ العنکبوت : 15 پ 20] مگر یہاں اس کو سفینہ کے مختصر لفظ کی بجائے " ذات الواح ودسر " کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، جس میں یہ درس ہے کہ بچانے والی ذات دراصل اللہ پاک ہی کی ذات ہے، ورنہ وہ کشتی تو محض ایک مجموعہ تھا لکڑی کے کچھ بےجان پھٹوں اور لوہے کی کیلوں کا، البتہ اللہ پاک اس جہاں میں جو کچھ کرتا ہے وہ اسباب کے ذریعے اور اسباب و وسائل کے پردے ہی میں کرتا ہے کہ اس جہان رنگ و بو اور دار ابتلاء و آزمائش میں اس کا قانون و نظام یہی ہے، ورنہ جہاں تک اس کی قدرت کا تعلق ہے تو وہ کسی سبب کی محتاج نہیں، سبحانہ و تعالیٰ ، بس بھروسہ اسباب پر نہیں مسوب الاسباب ہی پر کرنا چاہیے، کہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ سو اس کشتی کے اجزاء کے اس طرح ذکر کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا اظہار وبیان ہے کہ جس طوفان نے پوری قوم کا بیڑا غرق کردیا اور اس طور پر کہ ان میں سے کوئی متنفس بھی نہ بچ سکا۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو بچانا تھا ان کو میخوں سے جڑے ہوئے لکڑی کے کچھ تختوں کے ذریعے بچا لیا۔ سو اصل چیز اسباب و رسائل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہے۔ وہ اگر شامل حال ہو تو چند تختے طوفان نوح سے بھی بچا سکتے ہیں اور وہ اگر شامل نہ ہو تو بڑے سے بڑے جنگی جہاز بھی چشم زون میں پانی کے بلبلے کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور مضبوط سے مضبوط بند بھی تنکوں کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، جل شانہ وعم نوالہ،
Ayah 54:14[ 21] اللہ کے بندوں کا انتقام خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے :
سو قوم نوح کی غرقابی کے ان اسباب و ذرائع کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے اس بندے کی دادرسی کیلئے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دادرسی کیلئے جن کو اور ان کے پیغام کو جھٹلایا گیا تھا، اور ان کی ناشکری اور بےقدری کی گئی تھی، کہ پیغمبر کا وجود مینارہ رشدو ہدایت اور اللہ پاک کی ایک عظیم الشان نعمت اور باعث رحمت ہوتا ہے، اس صورت میں کفر کا لفظ یہاں پر کفران نعمت کے معنی میں ہوگا، [ روح، صفوۃ وغیرہ ] اور کفر بمعنی تکذیب و انکار بھی ہوسکتا ہے، کہ آنجناب کو ان کی قوم کی طرف سے جھٹلایا گیا تھا، اور ان کا انکار کیا گیا تھا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قہر و غضب کی یہ شان اس لیے دکھائی کہ اپنے اس بندے کی دادرسی فرمائے جس کی بےقدری اور ناشکری کی گئی تھی، یہاں تک کہ اس کو مجبور و لاچار ہوکر۔ { رب انی مغلوبٌ فانتصر } کی فریاد کرنا پڑی تھی، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کا بدلہ و انتقام خود لیتا ہے۔ پس بندے کا کام ہے کہ وہ اپنا معاملہ اپنے اس خالق ومالک سے صحیح رکھے۔ ہمیشہ دل و جان سے اس کے حضور جھکا رہے اور اپنا بھروسہ و اعتماد اسی وحدہٗ لاشریک پر رکھے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرضی، وعلی ما یحب ویرضی، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 54:15[ 22] قصہء نوح کے نشان عبرت ہونے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا اور بلاشبہ ہم نے اس کو چھوڑ دیا ایک عظیم الشان نشانی کے طور پر۔ یعنی کشتی نوح (علیہ السلام) کو یا اس واقعہ کو ہم نے نشان عبرت بنادیا کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، اور یہ کہ وہ بالآخر کس طرح تباہی کے گھاٹ پر اتر کر رہتے ہیں والعیاذ باللّٰہ العزیز اور قوم نوح (علیہ السلام) کی یہ سرگزشت تورات کے صحیفوں میں بھی نقل ہوئی ہے، اور ہر دور میں اس قصہ کو تو اتر عام کی حیثیت حاصل رہی ہے، سو اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، اور سب سے بڑا درس عبرت یہ ہے کہ کفر و انکار اور تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہولناک تباہی ہے، اور ایسے لوگوں کو جو ڈھیل ملتی ہے وہ بہرحال ایک ڈھیل اور مہلت ہوتی ہے جس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف گزشتہ قوموں کے ان قصوں اور تذکروں کے اندر اور خاص کر قوم نوح کی قصے کے اندر بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں لیکن افسوس کہ دنیا کی اکثریت اس اصل مقصد سے غافل و لاپرواہ ہے۔ الاماشاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنا بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 54:16[ 23] غافل لوگوں کے دل و دماغ پر ایک دستک :
سو ارشاد فرمایا گیا اور غافل لوگوں کے دل و دماغ پر ایک دستک کے طور پر اور ان کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا سو کیسا تھا میرا خبردار کرنا۔ استفہام ہیں تہویل و تخویف اور تنبیہ و تہدید کیلئے ہے کہ کیسا ہولناک اور عبرت انگیز انجام تھا ان لوگوں کا، جنہوں نے تکذیب کی حق کی، والعیاذ باللّٰہ العظیم نذر اصل میں نذر ہی ہے، ی کاف یے کی رعایت کی بناء پر کرگئی اور کسرہ اس کی نشانی کے طور پر باقی رہ گیا، یہاں پر یہ لفظ انذار سے اہم ہے اور اس کے معنی تنبیہ، ڈراؤے اور آگہی کے ہیں، سو مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی کے پاس سننے والے کان اور عبرت پکڑنے والا دل ہو تو وہ قوم نوح کی اس سرگزشت کے آئینے میں دیکھ سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب کیسا بےپناہ ہوتا ہے، اور اس کی گرفت کتنی سخت ہوتی ہے، اور اس کی دھمکی کس طرح پوری ہوتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو درس عبرت و بصیرت اور نشان ہائے قدرت و حکمت سے تو اللہ تعالیٰ کی یہ کائنات بھری پڑی ہے لیکن کمی اگر ہے تو وہ عبرت پذیر دل کی ہے { فہل من مد کر ؟] یعنی کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے اور درس عبرت لے ؟ یعنی ضرور عبرت لینی چاہے کہ یہی اصل مقصد ہے ان قصوں کے سنانے کے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
Ayahs 54:17–18[ 24] قرآن حکیم کی تیسیر برائے نصیحت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے آسان کردیا قرآن کو نصیحت کیلئے "۔ نہ کہ اخذ واستنباط معانی و مسائل کیلئے۔ نیز ذکر کے معنی یاد کرنے کے بھی آتے ہیں تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اس قرآن کو یاد کرنے کیلئے آسان کردیا ہے، اور یہ تیسیر خداوندی ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس کو ازبر حفظ کرلیتے ہیں، جب کہ دنیا کی کسی بھی دوسری آسمانی یا غیر آسمانی کتاب کی یہ شان نہیں کہ وہ اس طرح کسی کو مِنْ وعِنْ یاد ہوسکے، اور ضحاک حضرت ابن عباس ؓ ما سے روایت کرتے ہیں کہ اگر اللہ پاک اس کتاب حق کو لوگوں کی زبان پر آسان نہ فرما دیتا تو کسی کے بس میں نہ تھا کہ وہ اس کو زبان سے ادا بھی کرسکتا [ ابن کثیر، مراغی وغیرہ ] سبحان اللّٰہ ! کیسی عظمت ہے اس کلام صدق نظام کی، اور کتنا بڑا کرم ہے اس اکرم الاکرمین کا، جل جلالہ وعم نوالہ کا۔ سو اس ارشاد ربانی میں اس بات کیلئے ترغیب وتحریض ہے کہ قرآن حکیم کو سیکھنے اور اس سے درسہائے عبرت و بصیرت حاصل کرنے کیلئے کوشش و محنت کی جائے اللہ توفیق نصیب فرمائے آمین، اور ایک اور پہلو اس کتاب حکیم کی تیسیر کا یہ ہے کہ اس میں ہر بات کو گونا گوں پہلوؤں مختلف شکلوں صورتوں مختلف سوابق و لواحق، طرح طرح کے انداز و اسالیب اور نئے نئے اطراف و جوانب کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے تاکہ اگر قاری کے ذہن میں ایک جگہ بات نہ آئی ہو تو دوسری جگہ آجائے۔ اور اگر ایک مقام پر کوئی دلیل دل میں نہ اتری ہو تو دوسرے سیاق وسباق میں ذہن نشین ہوجائے۔ اسی چیز کو قرآن حکیم میں تصریف آیات سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { والبلدا لطیب یخرج نباتہٗ باذن ربہ ج والذی خبث لایخرج الا نکدا ط کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون } [ الاعراف : 58 پ 8] والحمدللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 54:19–22[ 25] قوم عاد کیلئے دائمی نحوست کے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان پر سخت قسم کی آندھی بھیجی ایک دائمی نحوست کے دن میں۔ سو وہ دن قوم عاد کے لیے بڑی ہی نحوست کا دن تھا۔ یعنی ایک ایسے دن میں جو کہ ان کے حق میں منحوس تھا، کہ اس دن ان بدبختوں پر ایسا ہولناک اور تباہ کن عذاب آیا اور اس دنیاوی عذاب کے ساتھ برزخی اور پھر اخروی عذاب مل گیا، اور اس طرح وہ لوگ ایک دائمی اور نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو اس طرح یہ دن ان لوگوں کیلئے دائمی نحوست کا دن بن گیا، ورنہ بزات خود کوئی دن نہ منحوس ہوتا ہے نہ سعید، بلکہ سب ہی ایام برابر ہیں کہ وہ مطلقاً ظرف ہیں، ان کی سعادت و نحوست ان کو موں اور ان امور سے متعلق و وابستہ ہوتی ہے جو ان دونوں کے اندر انجام دئیے جاتے ہیں ورنہ ایام ولیالی سب کے سب ایک برابر ہوتے ہیں، کہ وہ محض ظرف ہوتے ہیں سوائے ان خاص دنوں کے جن کے فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔ پس لوگوں نے جو بعض خاص خاص دنوں کے لئے نحوستوں اور سعادتوں کے قصے ازخود اور اپنے طور پر گھڑ رکھے ہیں کہ فلاں دن نحس ہوتا ہے اور فلاں دن سعید وغیرہ۔ سو وہ سب بےاصل اور بےبنیاد باتیں ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ یہاں پر یوم نحس سے مراد کوئی خاص اور عمین دن نہیں بلکہ اس سے مطلق زمانہ اور وقت مراد ہے اور عربی زبان میں بلکہ ہر زندہ زبان میں یہ اسلوب بیان مشہور و معروف ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اسی مضمون کو حٰمٓ السجدۃ : 12 میں { ایامٍ نحساتٍ " کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ { فارسلنا علیہم ریحا صرصرًا فی ایام نحسات لنذیقہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ط ولعذاب الاخرۃ اخزی وھم لا ینصرون } [ حٰمٓ السجدۃ : 16 پ 24] اور ایک مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ اس ہولناک آندھی کو ان لوگوں پر سات راتوں اور آٹھ دنوں تک مسلط رکھا گیا۔ { سخرھا علیہم سبع لیالٍ وثمنیۃ ایامٍ حسومًا فتری القوم فیہا صرعی لا کانھم اعجاز نخل خاویۃٍ ۔ [ الحاقۃ : 7 پ 29] اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیئ۔ جل شانہ،
Ayah 54:23[ 27] قوم ثمود کے جرم تکذیب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور قوم ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔ انہوں نے تکذیب تو اگرچہ صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تھی، جن کو ان کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا لیکن سب انبیاء کرام کی دعوت چونکہ ایک ہی ہوتی ہے، اور اصل دین میں ان سب حضرات کا اتحاد و اتفاق ہوتا ہے، اس لئے ایک کی تکذیب دراصل ان سب ہی کی تکذیب ہوتی ہے، اس لئے ایسے موقع پر عموماً جمع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے، سو حضرات انبیاء و رسل (علیہم السلام) اصول دین کے اعتبار سے آپس میں ایک ہوتے ہیں، جیسا کہ متفق علیہ حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم انبیاء آپس میں علاقی بھائی ہوتے ہیں، علاقی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف، چناچہ آپ ﷺ نے اس کی تشریح میں خود فرمایا کہ ان کی مائیں الگ الگ ہوتی ہیں لیکن دین ایک ہی ہوتا ہے، یعنی ان کی شریعتیں مختلف ہوتی ہیں مگر اصل دین ایک ہی ہوتا ہے یعنی اسلام۔ جو کہ دین فطرت ہے، اور جو اس پوری کائنات کا دین ہے، بہرکیف اس سے اس حقیقت کو بیان اور واضح فرما دیا گیا۔ ایک پیغمبر کی تکذیب و انکار سب کی تکذیب ہوتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال جل وعلا،
Ayah 54:24[ 28] منکرین کا بشریت پیغمبر کی بنا پر حق کا انکار، والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے منکرین کے بشریت پیغمبر پر استعجاب و اچنبھے اور اس بنا پر ان کے انکار حق کے جرم کا ذکر فرمایا گیا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا کہ ہم اپنے ہی میں کے ایک بشر کی پیروی کرنے لگ جائیں ؟ ایسی صورت میں تو ہم یقینا بڑی گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہوں گے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔ کہ ہم اپنے ہی اندر کے ایک بشر کی پیروی کرنے لگیں، یہ ایک انہونی بات ہے کہ ہم ہی میں سے ایک پیغمبر بن جائے، اور ہم اس کی پیروی کرنے لگیں، بالفاظ دیگر ان کے نزدیک نبوت اور بشریت میں باہم منافات تھی، کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی تھیں، اور یہی غلط فہمی آج بھی پائی جاتی ہے اور بہت سے کلمہ گوؤں [ نام کے مسلمانوں ] میں پائی جاتی ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مقابلے میں اس وقت کے ان لوگوں نے ان حضرات کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا، اور دور حاضر کے جہالت کے مارے برخود غلط یہ لوگ نبوت و رسالت کو مان کر ان حضرات انبیاء ورسل کی بشریت کا انکار کرتے ہیں، جبکہ امر واقع اور اصل حقیقت وہ ہے جسے نصوص قرآن سنت میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے نکھار کر اور کھول کر بیان فرمایا گیا ہے، کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں یہ دونوں وصف بیک وقت جمع ہوتے ہیں، اور بتمام و کمال جمع ہوتے ہیں، سو اپنی اصل اور ذات کے اعتبار سے تو یہ مقدس ہستیاں انسان اور بشر ہی ہوتی ہیں، مگر نبوت و رسالت کے شرف سے مشرف فرما کر اللہ پاک ان کو تمام مخلوق میں سب سے بڑا مرتبہ عطا فرما دیتے ہیں، اور اسی حقیقت کا اقرار و اظہار ہر مسلمان اپنے کلمے میں عبدہ و رسولہٗ کے الفاظ سے کرتا ہے، مگر جہالت اور عناد و ہٹ دھرمی کا برا ہو، کہ اس کی وجہ سے اہل زیغ و ضلال کے لئے یہ سیدھی سیدھی حقیقت سمجھنا مشکل ہو رہی ہے، اور وہ اس بناء پر ان صاف وصریح نصوص میں طرح طرح کی تاویلات اور تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قوم ثمود نے اپنے پیغمبر کی بشریت پر تعجب و اچنبھے کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ہم نے اپنے ہی اندر کے ایک بشر کی پیروی کی تو یقینا ہم لوگ بری گمراہی اور سخت جنون اور دیوانگی میں گرفتار ہوگئے۔ سو اس بناء پر انہوں نے دعوت حق کو ماننے اور قبول کرنے سے انکار کردیا اور بالآخر وہ " فی النار والسقر " ہو کر اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ،
Ayah 54:25[ 29] منکرین کی طرف سے پیغمبر کی تکذیب و توہین۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے منکرین کے بشریت پیغمبر کی بنا پر قبول حق سے انکار اور پیغمبر کی تکذیب و توہین کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ بشریت پیغمبر کی بنا پر قبول حق سے انکار کرتے ہوئے ان بدبختوں نے کہا کہ کیا ہم میں سے بس انہی پر یہ ذکر اتارا جاتا تھا ؟ جب کہ ہمارے درمیان دنیاوی جاہ و جلال، چن لیا گیا۔ سو ایسے نہیں بلکہ یہ شخص پرلے درجے کا جھوٹا اور شیخی باز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ دنیاداروں کے لئے دنیاوی مال و دولت نور حق سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے۔ " الا من عصمہ اللّٰہ " وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا وہ مال و دولت کامل جانا حق پر ہونے کی دلیل ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو دنیاوی مال و دولت حاصل ہے وہ ٹھیک ہیں ورنہ ان کو یہ سب کچھ کیوں ملتا ؟ سو یہ دنیاوی دولت کا سب سے بڑا خطرناک پہلو ہے، کہ اس کی بناء پر مست ہو کر انسان حق اور ہدایت کی دولت سے مزید دور اور اس سے محروم ہوتا جاتا ہے، جو کہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اول تو یہی بات ایک عجیب بات ہے کہ کسی بشر کو اور ہم سے کسی بشر کو رسول بنایا جائے اور پھر مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے لیے چنا بھی ایسے شخص کو گیا ہے، جس کی ہمارے معاشرے میں اور ہمارے بڑے سرداروں کے سامنے دنیاوی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں، کیا اس منصب کیلئے ہمارے بڑوں اور سرداروں کو چھوڑ کر اسی شخص کو چنا جانا تھا، اور اللہ کی طرف سے وحی اور ہدایت کی دولت کو انہی پر اتارا جانا تھا ؟ اور ہم لوگ جو جدی پشتی سردار اور پیشوا چلے آئے ہیں ہم میں سے کوئی بھی اس کا اہل نہیں تھا ؟ سو ایسی کوئی بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹا اور شیخی باز شخص ہے جو اس طرح کا دعویٰ کرکے ہم پر اپنی دھونس جماتا اور اپنی برتری کا سکہ بٹھانا چاہتا ہے۔ لہٰذا ہم اس کی بات کو ماننے والے نہیں سو اس طرح وہ ہمیشہ کی محرومی میں مبتلا ہوگئے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔
Ayahs 54:26–27[ 30] منکرین کا معاملہ ان کے انجام کے حوالے :
سو منکرین کی اس کافرانہ اور معاندانہ بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برسر موقع ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے بڑا جھوٹا شیخی باز۔ یعنی کل عذاب آئے گا، جب کہ ان کی یاس و حسرت کی کوئی حد و انتہاء نہ رہے گی، مگر اس سے ان کو اس وقت کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سوائے دکھ اور صدمے میں اضافے کے، والعیاذ باللّٰہ، سو اب یہ لوگ جو بکواس کرنا چاہتے ہیں کرلیں، فیصلے کی گھری قریب ہے تب ان کو خود اچھی طرح معلوم ہوجائے گا اور دنیا بھی کھلی آنکھوں دیکھ لے گی کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ سو یہ ایسے منکرین اور معاندین کو آخری جواب ہے جو حق بات سننے ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ ان کا معاملہ ان کے انجام کے حوالے کردیا جائے۔ وقت آنے پر ان کو خود معلوم ہوجائے گا۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، ولک الحمد، یاربی حتی ترضی، ولک الحمد بعد الرضاء، انت الحنان المنان، وانت اکرم الاکریمین، وارحم الراحمین، لا الہٗ الا انت ولا معبود بحق سواک، یا ذا الجلال والاکرام۔
Ayah 54:28[ 32] ناقہء صالح سے متعلق آزمائش کا ذکر وبیان :
سو پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کو آگاہ اور خبردار کردو کہ ان کیلئے پانی کی باری مقرر کردی گئی۔ پس اونٹنی اپنی باری پر پانی پیئے، اور یہ لوگ اپنی باری پر، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { قال ھذہٖ ناقۃ لہا شرب ولکم شرب یومٍ معلومٍ ۔ [ الشعرائ : 155 پ 19] پس اس کے حصے میں دخل نہ دینا، ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہوگا اور جو باری اونٹنی کیلئے مقرر کی گئی ہے، اس میں کوئی دخل نہ دے اور اگر اونٹنی کو گزند پہنچایا گیا تو یہ عذاب کا پیش خیمہ گا۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کیلئے یہ امتحان اس لئے مقرر فرمایا گیا کہ تاکہ اس طرح انکے اندر کا سارا کھوٹ باہر آجائے اور یہ بات آشکار ہوجائے کہ ان کی سرکشی کا پارا کتنا چڑھ چکا ہے اس کے بعد ان کا جرم و قصور اس قدر آشکار ہوجائے گا کہ اور اس کے بعد ان کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اور ہر طرح سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین
Ayahs 54:29–30[ 33] قوم ثمود کے اپنے شقی اور بدبخت سردار کو پکارنے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تنبیہات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ساتھی کو پکارا اور اس سے فریاد کی۔ جس کا نام قدار بن سالف تھا اور جو اس قوم کا سب سے بڑا بدبخت انسان تھا، جیسا کہ دوسرے مقام فرمایا گیا اذا انبعت اشقھا کہ اس نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا، جس کے نتیجے میں اس بدبخت قوم پر وہ آخری عذاب آیا، جس نے ہمیشہ کیلئے اسکا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ان لوگوں نے حضرت صالح کی بات کی پرواہ نہ کی، اور سمجھا کہ یہ محض ان کی دھونس دھمکی ہے، چناچہ انہوں نے اپنے سردار سے فریاد کی وہ بدبخت لپکا، اور اس نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اور اس طرح اس شخص نے اپنی قوم کیلئے عذاب کی دعوت دے ڈالی اور وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 34] عذاب الٰہی کو دعوت۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے قوم ثمود کے سردار کی طرف سے عذاب الٰہی کو دعوت دینے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ قوم کی دعوت و فریاد پر وہ شخص بڑی بہادری دکھاتے ہوئے آگے بڑھا اور اس نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ تلوا مار کر اس کے پاؤں کاٹ ڈالے جس سے وہ گرگئی، اور بالآخر مرگئی، اور اس بدبخت قوم کی شامت آکر رہی، اور یہ ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹ گئی، والعیاذ باللّٰہ اہل لغت کہتے ہیں کہ تعاطی کے معنی پنجوں پر کھڑے ہو کر کسی کام کیلئے اقدام کرنے کے آتے ہیں، سو اس شخص نے اپنے زعم اور گھمنڈ میں بڑی بہادری دکھائی، اور اپنے خیال کے مطابق بڑا جرات مندانہ قدم اٹھایا، مگر اس کو نہیں پتہ تھا کہ اس طرح وہ اپنی پوری قوم کیلئے دائمی ہلاکت اور تباہی کا سامان کر دہا ہے، سو اس کی یہ جسارت اس کی پوری قوم کو لے ڈوبی، اور وہ بدبخت قوم جس نے اپنے کبرو غرور میں مبتلا ہو کر اور اپنی شقاوت و بدبختی کی بناء پر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے الٹا ان کو [ کذاب ] اور [ اشر ] قرار دیا اور ان کی ناصحانہ تنبیہات کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے سرکش و بدبخت سردار کو بلایا اور اس کے آگے فریاد کی۔ سو وہ بدبخت قوم اپنے اس بدبخت قائد کے کرتوت کے نتیجے میں اور اس کی سربراہی میں ہمیشہ ہمیش کیلئے " فی النار والسقر " ہوگئی۔ اور یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے کبر و غرور اور انکار و تکذیب حق کا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 54:31–32[ 35] قوم ثمود کے ہولناک انجام کی تصویر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار وہ سب لوگ روندی ہوئی باڑھ کا چورا بنکر رہ گئے اور ایسے ہوگئے گویا کہ وہ مدتوں سے مرے پڑے تھے جس طرح کہ باڑ والے کی باڑ کا پرانا اور روندھا ہوا چورا پڑا ہوتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ محتظر ] باڑھ بنانے والے کو کہتے ہیں، چرواہے عام طور پر میدانوں میں اپنے گلوں کی حفاظت کے لئے جھاڑ جھنکار کی باڑھ بنا لیتے ہیں، جن کے اندر وہ رات کے وقت اپنے گلوں کو محفو کرلیتے ہیں، اس قسم کی باڑھ کچھ عرصہ بعد بارش، ہوا اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے، اسی کو عربی زبان میں ہشیم کہا جاتا ہے، سو یہ ان لوگوں کی تباہی اور بربادی کی تمثیل و تصویر ہے جس کو ان لفظوں سے یہاں پیش فرمایا گیا ہے کہ ان کے عذاب نے ان کی بجائے اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ جل وعلا،