Explained with ayahs 47–55
شکوک و شبہات کے مریض لوگ
بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر…
Read the full tafseer →سورة الْقَمَر 25
یعنی دنیا کی کوئی چیز بھی اَلَل ٹپ نہیں پیدا کردی گئی ہے، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے، ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے، ایک خاص حد تک نشو و نما پاتی ہے، ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے، اور ایک خاص وقت پر ختم ہوجاتی ہے۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص ہی پر اسے ختم ہونا ہے۔ جو وقت اس کے خاتمہ کے لیے مقرر کردیا گیا ہے نہ اس سے ایک گھڑی پہلے یہ ختم ہوگی، نہ اس کے ایک گھڑی بعد یہ باقی رہے گی۔ یہ نہ ازلی و ابدی ہے کہ ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ قائم رہے۔ اور نہ کسی بچے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ، قدر کے لغوی معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کو حکمت و مصلحت کے مطابق اندازے سے بنانے کے ہیں، اس آیت میں یہ لغوی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے عالم کی تمام مخلوقات کو اور اس کی ہر نوح و صنف کو ایک حکیمانہ اندازہ سے بڑا چھوٹا اور مختلف ہیئت و صورت میں بنایا ہے، پھر ہر نوع و صنف کے ہر فرد کی تخلیق میں بھی حکیمانہ انداز بڑی حکمت کے ساتھ رکھا ہے، انگلیاں سب یکساں نہیں بنائیں، طول میں فرق رکھا، ہاتھوں پاؤں کے طول و عرض اور ان کے کھلنے بند ہونے سمٹنے اور پھیلنے کے لئے اسپرنگ لگائے، ایک ایک عضو کے ایک ایک جز کو دیکھو تو قدرت و حکمت خداوندی کے…
Read the full tafseer →(انا کل شی خلقنہ بقدر) (49)۔
(ہر کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت مقرر ہے)۔ یعنی اس عذاب اور قیامت کا آنا تو قطعی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ان کا آنا قطعی ہے تو وہ کیوں نہیں جاتے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ایک خاص اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔ اس نے ہر چیز کے لیے ایک اجل معین ٹھہرائی ہے جس میں وہ اس کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی غایت کو پہنچ جائے۔ قوموں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ اسی اصول پر ہے۔ کوئی قوم سر کشی کی راہ اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس کو اتنی مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی خیر و شر کی تمام صلاحیتیں اجاگر کرسکے تاکہ اس پر حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
48۔ 1 سَقَرً بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
15: یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ناپ تول اور ہر کام کا ایک وقت مقرر رکھا ہے، اس لیے وہ قیامت اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما رکھا ہے۔
Read the full tafseer →انا کل ........ بقدر (45: 9 4) ” ہم نے ہر چیز تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔ “ ہر چیز ، چھوٹی ہو یا بڑی ہو ، بولنے والی ہو یا خاموش ، متحرک ہو یا ساکن ، گزری چیز حاضر ، معلوم چیز یا مجہول ، اللہ نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے۔
یہ تقدیر اس کی حقیقت طے کرتی ہے۔ اس کی صفت طے کرتی ہے۔ اس کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس کا زمانہ طے کرتی ہے۔ اس کا مکان طے کرتی ہے۔ اس کے ماحول کے ساتھ اس کے روابط طے کرتی ہے۔ اس کائنات میں اس کے اثرات طے کرتی ہے۔
یہ قرآنی آیت چند مختصر الفاظ پر مشتمل ہے لیکن یہ آیت ایک عظیم اور محیرالعقول حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ اس آیت کا مفہوم میں یہ پوری کائنات شامل ہے۔ اس حقیقت کو…
Read the full tafseer →11 یعنی ہر چیز جو پیش آنے والی ہے اللہ کے علم میں پہلے سے ٹھہر چکی ہے دنیا کی عمر اور قیامت کا وقت بھی اس کے علم میں ٹھہرا ہوا ہے اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 49 { اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ۔ } ”یقینا ہم نے ہرچیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ‘ ہے۔
Read the full tafseer →34 اللہ کا ہر چیز کو اندازے سے پیدا کرنا :۔ یہ آیت اتنا وسیع مفہوم رکھتی ہے جس کی تشریح غالباً انسان سے ناممکن ہے۔ کیونکہ اس میں ایک تو ہر شے کا ذکر آگیا۔ دوسرے قدر یا مقدار یا اندازے کا۔ پھر اس اندازے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ تو انسان بیچارہ اس کی کیا تشریح کرسکتا ہے۔ سمجھانے کی خاطر محض ایک دو مثالوں پر ہی اکتفا کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک انسان کے قد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا اندازہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں اس کا قد چھ فٹ ہو۔ اب اس میں چند انچوں کی کمی بیشی تو ہوسکتی ہے۔ مگر کوئی انسان دگنی خوراک کھا کر چھ فٹ کے بجائے بارہ فٹ کا نہیں ہوسکتا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے اس اندازے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
31۔ (اور اسی انداز معین ومقرر میں تعین زمان بھی شامل ہے جب علم الہی کے مطابق وقت مناسب آئے گا اس وقت قیامت لازما واقع ہو کر رہے گی نہ کہ اس کے قبل) (آیت) ” ان المجرمین “۔ مجرموں سے مراد یا تو مشرکین ہیں، یا وہ سارے فرقے جو یوم آخرت کی طرف سے تردوارتیاب میں پڑے ہوئے ہیں۔ المشرکین (معالم) ھذا یشتمل کل من اتصف بذلک من کافر ومبتدع من سائر الفرق (ابن کثیر) (آیت) ” ان ..... سعر “۔ دنیا کی کوئی حماقت ونافہمی اس سے بڑھ کر اور ہو کیا سکتی ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ قطعی اور یقینی ہے۔ انسان اس کی طرف سے غافل وبے فکر رہے۔
Read the full tafseer →مسئلہ تقدیر :۔
انا کل شیء خلقناہ بقر ائمہ اہل سنت نے اس آیت اور اسی جیسی دیگر آیات سے استدلال کرتے ہوئے تقدیر الٰہی کا اثبات کیا ہے جس کا فرقہ قدر یہ انکار کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز الل ٹپ نہیں پیدا کردی گئی ہے، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر اور منصوبہ بندی ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے اور خاص شکل و صورت اختیار کرتی ہے ایک خاص مدت تک نشو و نما پاتی ہے ا ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے اور ایک خاص وقت پر ختم ہوجاتی ہے، اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص پر اسے ختم ہونا ہے۔
Read the full tafseer →انا کل شی خلقنہ بقدر . ” ہم نے ہر چیز کو اندازہ سے پیدا کیا۔ “
اِنَّا کُلَّ شَیْ ءٍ : تقدیر کے مسئلہ میں قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مباحثہ کیا تھا۔ ان کی تردید کے لیے یہ آیت بطور جملہ معترضہ ذکر کردی گئی۔ مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ قریشی مشرک تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑا کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تھے۔ اس وقت یہ آیت : اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلاَلٍ وَّسُعُرٍ سے اِنَّا کُلَّ شَیْ ءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ : تک نازل ہوئی۔ قدر سے مراد ہے تخلیق سے پہلے اندازہ کرلینا یا قدر سے مراد ہے امر مقدر جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور ہر چیز کی پیدائش سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49۔ 50) ہم نے تمہارے اعمال کو خاص انداز سے پیدا کیا مگر تم اس کے منکر ہو جیسا کہ قدریہ فرقہ لکھتا ہے یا یہ کہ ہم نے ہر ایک چیز کی شکل و صورت اور اس کی ضروریات کو خاص انداز سے پیدا کیا اور ہمارا حکم قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں بس ایسا اچانک ایسا ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکانا۔
Read the full tafseer →1۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ :”بقدر“ پر تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی اگر انہیں شبہ ہے کہ قیامت ابھی واقع کیوں نہیں ہوتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہر چیز کو اپنے عظیم مستحکم اندازے کے ساتھ پیدا کیا جو کبھی غلط نہیں ہوسکتا ، کیونکہ ہمیں گزشتہ کی طرح آئندہ کا بھی پورا علم ہے کہ کوئی بھی چیز کس طرح ہوگی ، کتنی ہوگی اور کب ہوگی ؟ غرض ہم نے اس کی شکل و صورت ، زمان و مکان ، قوت و ضعف وغیرہ ہر چیز کا اندازہ طے کردیا ہے ، مثلاً جس کے قدر کا اندازہ چھ فٹ طے کیا ہے وہ چھ فٹ ہی ہوگا ، جسے سعید طے کردیا ہے وہ سعید ہوگا اور جسے شقی طے کردیا ہے وہ شقی ہوگا ، جس کا جتنا وقت مقرر کیا ہے اس سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ان المجرمین فی ضلل وسعر۔ اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 فی ضلل یعنی حق سے دور اور سعر یعنی جلنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سعر سے مراد جنون ہے جس طرح اس سورت میں پہلے گزرا ہے۔ یوم یسحبون فی النار علی وجوھم ذوقوامس سقر۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے قریش کے مشرک آئے وہ رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ اسے امام ترمذی نے بھی نقل کیا ہے اور کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
امام مسلم نے طائوس سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگوں کو یہ کہتے ہئوے پایا، وہ کہہ رہے تھے ،: کل شی بقدر (1) ہر شی تقدیر کے مطابق ہے میں نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
8:۔ ابن جریر وابن لمنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' انا کل شیء خلقنہ بقدر '' (کہ ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو اندازے کے ساتھ پیدا کیا اور ان کے لئے خیر اور شر کو بھی اندازے سے پیدا فرمایا۔
ہر چیز قضاء وقدر سے ہے :
9:۔ مسلم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز قضا اور قدر سے ہے یہاں تک کہ عاجز ہونا اور عقل مند ہونا بھی۔
10:۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز قضا اور قدر کے ساتھ ہے یہاں تک تیرا ہاتھ رکھنا اپنے رخسار پر (یہ بھی تقدیر میں سے ہے)
11:۔ احمد نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ [بیشک ہرچیز ] خَلَقْنٰهُ [ ہم نے پیدا کیا اس کو ] بِقَدَرٍ [ایک اندازے سے ]
نوٹ۔ 4: ۔ آیت ۔ 49 ۔ میں قدر کا لفظ آیا ہے ۔ قدر کے لغوی معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کو حکمت و مصلحت کے مطابق اندازے سے بنانے کے ہیں ۔ اس آیت میں یہ لغوی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں ۔ اور اصطلاح شرع میں لفظ قدر ہم معنی تقدیر الہی بھی استعمال ہوتا ہے اور اکثر ائمہ تفسیر نے بعض احادیث کی بناء پر اس آیت میں قدر سے تقدیر الہی مراد ہوسکتے ہیں ۔ اور اصطلاح شرع میں لفظ قدر ہم معنی تقدیر الہی بھی استعمال ہوتا ہے اور اکثر ائمہ تفسیر نے بعض احادیث کی بناء پر اس آیت میں قدر سے تقدیر الہی مراد لی ہے ۔ اس لحاظ…
Read the full tafseer →ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی تخلیق کے بارے میں خبر دی ارشاد فرمایا ﴿اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ 0049﴾ (بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک انداز پر پیدا کیا ہے) یعنی ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، مخلوق کے وجود میں آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ لکھ دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قریش مکہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے اس پر ﴿یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ اِنَّا كلَّ شَیْءٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ﴾ دونوں آتیں نازل ہوئیں۔ (صحیح مسلم صفحہ 336: ج 2)
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
تنبیہ قریش مکہ بعدذکر واقعات عبرت ونصیحت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اکفارکم خیر ...... الی ....... عندملیک مقتدر “۔
(ربط) گذشتہ آیات کا حاصل امم سابقہ کی ہلاکت وتباہی کے احوال کا ذکر تھا کہ یہ عظیم قومیں کس طرح عذاب خداوندی سے تباہ کردی گئیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہیں لائے تو ان واقعات کو ذکر کرکے اہل مکہ کو خطاب کیا جارہا ہے اور غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے کہ آخرت وہ سوچ کر بتائیں کہ جب ان میں وہی نافرمانیں اور خدا کے رسول کا انکار ایمان سے روگردانی پائی جارہی ہے، تو آخرکیوں نہیں ان پر بھی ایسے ہی عذاب مسلط ہوں گے جیسے کہ ان سابقہ قوموں پر ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
23:۔ ” انا کل شیء۔ الایۃ “ یہ آخر میں سورت کا دعوی ہے کہ ہر چیز کو اندازے کے ساتھ پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی کارساز ہے اور حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ ” وما امرنا۔ الایۃ “ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ فرمایا ہر چیز کے بارے میں ہمارا حکم صرف ایک کلمہ کن ہوتا ہے یعنی آنکھ کے اشارے کی مانند یعنی جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ کام اسی لمحہ مکمل ہوجاتا ہے۔ وما امرنا لشیء نرید تکوینہ الا ان نقول لہ کن فیکون (مدارک ج 4 ص 156) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ…
Read the full tafseer →اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ 49
شيء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم .
( ش ی ء ) الشئی
بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ،
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–55
ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا…
Read the full tafseer →اِنَّا کُلَّ شَیْ ئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ ۔ (القمر : 49)
(ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔ )
ایک سوال کا جواب
یہ ایک سوال کا جواب ہے جو ذہنوں میں ابھرتا ہے ممکن ہے زبانوں پر بھی آتا ہو کہ قریش اور دیگر مخالفین نے افہام و تفہیم اور دعوت و تبلیغ اور ہمدردی اور خیرخواہی کی ہر کوشش کو حقارت سے ٹھکرایا۔ حتیٰ کہ گزشتہ معذب قوموں کی سرگزشتیں ان کے سامنے دہرائی گئیں کہ شاید وہ ان سے عبرت حاصل کریں۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ایسے لوگوں کی سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے۔ تو قریش اور دیگر مخالفین اب تک اس سے بچے ہوئے کیوں ہیں۔ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا دنیا اور آخرت میں انجام ذکر کرنے کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ کوئی چیز اپنے اندازے اور وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ اگر ان لوگوں کی ابھی تک گرفت نہیں ہوئی تو اس کا بھی وقت مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں کی طرف بھیجا اور ہر نبی نے اپنی امت کو نیکی کرنے کا حکم دیا اور قیامت کے دن اس کے صلہ کی خوشخبری سنائی۔ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے لوگوں کو برے اعمال سے منع کیا اور اس کے انجام سے ڈرایا۔ ہر نبی کے مخاطبین کی اکثریت نے قیامت اور اس کی…
Read the full tafseer →آیت 49: اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ (ہم نے ہر چیز کو اندازہ سے پیدا کیا۔ ) نحو : کل یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر یہ فعل ظاہر کر رہا ہے۔
قراءت : شاذ قراءت میں کل کو مرفوع پڑھا گیا ہے۔ نصب پڑھنا اولیٰ ہے کیونکہ اگر رفع دیا جائے تو ممکن ہے کہ خلقناہ موضع خبر میں ہو۔ اور شیٔ کا وصف بن جائے۔ اور بقدر یہ خبر بن جائے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ انا کل شیٔ مخلوق لنا کائن بقدرٍ ۔ ہر مخلوق چیز جو ہماری ہے۔ وہ اندازہ کے مطابق ہوگی۔ نمبر 2۔ خلقناہ خبر ہو اور تقدیر عبارت یہ ہو۔ انا کل شیٔ مخلوق لنا بقدر۔ ہماری ہر مخلوق ایک اندازے کے مطابق ہے۔ جب معاملہ رفع میں متردد ہوا تو نصب کی طرف…
Read the full tafseer →48 ۔” پھر ان کے عذاب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” یوم یسحبون “ وہ گھسیٹے جائیں گے۔ ” فی النار علی وجوھھم “ اور ان کو کہا جائے گا۔ ” ذوقوا مس سقر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
49۔ 55۔ مسند 3 ؎ امام احمد اور صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ سے قضاء و قدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں کے دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضاء و قدر کے بھی وہ لوگ جو منکر تھے یہ انکار اور ہے اور صحابہ ؓ کے آخر زمانہ میں بصرہ کے ایک شخص معبد الجہنی کے سبب سے اہل قبلہ میں ایک اختلاف قضاء و قدر کے مسائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ) بیشک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے کے مطابق پیدا کیا۔ یہ آیت کریمہ تمام مخلوقات تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے تمام کائنات کو اللہ تعالیٰ اکیلے نے پیدا کیا اللہ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے اس نے اس کائنات کو ایسی قضاوقدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا اس کی مقدار وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کرلیا یہ سب کچھ اللہ کے لیے بہت آسان تھے اس لیے فرمایا (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ ) اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپنکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–55
پانی کی تقسیم اور باری مقرر کرنا
قول باری ہے (ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم اور انہیں خبر دے دینا کہ پانی ان کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے) تاآخر آیت۔ یہ قول باری پانی پر باری مقرر کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قوم ثمود نے ایک دن اونٹنی کے لئے پانی کی باری مقرر کی تھی اور ایک دن اپنے لئے۔
یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ باری مقرر کرنا جسے مہا یاۃ کہا جاتا ہے دراصل ایک چیز سے حاصل ہونے والے منافع کو بانٹ دینا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تقسیم کا نام دیا ہے اور یہ چیز صرف پانی کی باریوں کی تقسیم تھی اصل پانی کی تقسیم نہیں تھی۔
امام محمد بن الحسن نے اس سے پانی کی باریوں کو اس طرح تقسیم کردینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
[ 51] منکرین کیلئے اصل عذاب کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے دنیا کے اسی عذاب پر بس نہیں بلکہ ان کو اصل عذاب قیامت کے روز ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ارشاد سے صاف وصریح طور پر اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسی دنیاوی ہزیمت و پامالی اور تذلیل و رسوائی پر بس نہیں، بلکہ ان کے اصل عذاب کا وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کی وہ گھڑی انتہائی ہولناک اور بڑی ہی تلخ گھڑی ہوگی۔ اتنی تلخ اور اس قدر ہولناک کہ اس کی ہیبت و دہشت اور تلخی و مرارت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس ہزیمت اور پامالی سے تو یہ لوگ عنقریب اس دنیا میں ہی دوچار ہوں گے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
نوح، عاد، ثمود، صالح، لوط اور فرعون کی قوموں کا ذکر عبرت کے لئے
تشریح : ان آیات میں انسان کو چاہے وہ کسی دور اور کسی بھی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہو بڑے ہی واضح الفاظ میں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے کہ انسان کی نجات اس کی بڑائی اور اس کی بہتری صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ وہ قرآن کو غور سے پڑھے سمجھے اور یاد رکھ کر اس کی ہدایت پر عمل کرے اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ان تمام گزری ہوئی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہٹ دھرمی، بےوقوفی اور گمراہی کی وجہ سے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، ان پر تہمتیں لگائیں ان کو برا بھلا کہا بلکہ قتل تک کردیا تو ایسے لوگ ایسی قو میں باالاخر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–55
آیات 41 تا 55۔
اسرار ومعارف۔
اسی طرح آل فرعون کو دیکھ لیجئے۔
آل : قرآن حکیم نے آل میں سب متبعین کو شمار کیا ہے جو بہت طاقتور اور شان و شوکت کے مالک تھے ان کے پاس بھی اللہ کا نبی اعمال بد کے نتائج سے خبردار کرنے کو آیا مگر انہوں نے تمام دلائل معجزات کو ٹھکرادیا اور اس کے نتیجے میں انہیں اللہ کے عذاب نے بہت ہی سختی سے پکڑ اور تباہ کردیاتوکیایہ آج کے کفار ان سے کچھ بہتر ہیں کہ یہ نہ پکڑے جائیں گے یا ان کے لیے عذاب سے برات آسمانی کتابوں میں کہیں لکھ دی گئی ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں کوئی ایسی خبر نہیں کہ ان کے کفر اور برائی پر عذاب نہ ہوگایا انہیں یہ خیال ہے کہ ہم بڑی زبردست اور طاقتور قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 9 یعنی وہ اس طرح پیش آئے وہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ اس کا نام تقدیر ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور حدیث میں ’ دقدر پیغمبروں رکھنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جبرئیل کی حدیث میں ہے وتومن بالقدر خیرد وشرہ “ کہ تم تقدیر کے خیرہ شر پر ایمان رکھو۔ ایک حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کرو اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔ اگر تمہیں کوئی چیز پہنچے تو کہو کہ اللہ نے میری تقدیر میں یونہی لکھا تھا اور ہوتا بھی وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے اور ہرگز یہ نہ لکھو اگر میں یوں کرلیتا تو ایسے ہوں اس لئے کہ یہ اگر شیطان کے عمل کو کھولتا ہے یعنی اس کی راہ دکھاتا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(54:49) انا کل شیء خلقنہ بقدر۔ ای انا خلقنا کل شیء بقدر (بےشک ہم نے ہر چیز کو بنایا ہے اندازہ سے ۔ (حاشیہ تفسیر الکشاف) ۔
روح المعانی میں ہے :۔ انا خلقنا کل شیء خلقنہ (بقدر) ہم نے ہر چیز پیدا کی۔ اسے ایک اندازے سے پیدا کیا۔
صاحب تفسیر المظہری اس آیت کی تشریح میں رقمطراز ہیں :۔ تقدیر کے مسئلہ پر قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مباحثہ کیا تھا۔ ان کی تردید کے لئے یہ آیت بطور معترضہ ذکر کردی گئی۔
مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ قریشی مشرک تقدیر کے مسئلہ میں جھگڑا کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تھے اس وقت یہ آیات ان المجرمین فی ضلل وسعر سے کل شیء خلقنہ بقدر تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 55
برآءۃ معافی ہے۔
الزبر کتابیں، صحیفے۔ منتصر غالب رہنے والا۔ سیھزم بہت جلد وہ شکست کھائے گا۔ ادھی زیادہ مصیبت والا۔ سعر پاگل پن۔ یسبحون وہ گھسیٹیں گے۔ سقر جہنم کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کی آگ کلمح بالبصر جیسے آنکھ کا جھپکنا اشیاع ساتھی۔ مستطر لکھا گیا۔ مقعد بیٹھنے کی جگہ، ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 43 تا 55
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چار ایسی طاقت ور اور دنیاوی وسائل سے بھرپور قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر کرنے کے بعد مکہ کے رہنے والے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ اتنی طاقت ور قوموں کا بدترین انجام اور ان کے کھنڈرات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
مسئلہ تقدیر اور قدرت کی نشانیاں۔
(ف 2) شان نزول : مسند امام احمد اور صحیح مسلم، ترمزی، وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش لوگ نبی ﷺ سے قضا وقدر کی باتیں سن کر ان باتوں میں طرح طرح کی بحث کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں دین اسلام کے منکر لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کے اور نبی ﷺ کے رسول ہونے کے اور ضروریات دین کے جس طرح منکر تھے اسی طرح قضا وقدر کے بھی وہ لوگ منکر تھے صحابہ اور تابعین کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ نیک وبد دنیا میں ہونے والا تھا اس سب کو اپنے علم ازلی کے موافق لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
[10] یعنی ان تینوں احتمالات کا کذب عنقریب اسی دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گا۔ کفار مکہ کی قوت اور غلبہ کے سارے ظاہری آثار و قرائن کے پیش نظر ایک بظاہر بےیارو مددگار شخص کی زبان سے ایسی زبردست پیشین گوئی کا ادا ہونا اور پھر اس کا لفظ بلفظ پورا ہوجانا اعجاز قرآن کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
ف 3: فرمایا : مکہ والو ! کیا تم ان لوگوں سے بہتر ہو ۔ جن کو اللہ کے غضب نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ یا تمہارے لئے کوئی معافی نامہ سابقہ کتب میں موجود ہے ۔ کہ تمہیں بہرآئینہ زندہ اور باقی رکھا جائیگا ۔ تمہاری سرکشی اور بغاوت کا آخر سبب کیا ہے ؟
کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تمہاری جماعت بہو ٹیج مظفر ومقصور رہے گی ۔ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو ۔ تو سمجھ لو ۔ کہ حکمت اور ہزئمیت تمہارے لئے مقدارات میں سے ہے ۔ عنقریب تم حق وصداقت کے سپاہیوں کے مقابل ہمیں آؤ گے ۔ اور دم دبا کر بھاگو گے ۔ یہ ایک پیشگوئی تھی ۔ اور اس کا اظہار اس وقت کیا گیا ۔ جب کہ مسلمان نہایت کمزور اور بےسروسامنی کے عالم میں تھے ۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →(49) ہم نے ہر چیزکو ایک مقررہ اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یعنی زمان اور مکان وغیرہ کے اعتبار سے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر ہے اسی طرح قیامت اور اس کے عذاب کا بھی ایک وقت اور اندازہ مقررہ اور طے شدہ ہے لہٰذا اپنے مقررہ وقت پر وہ سب چیزیں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
ف 3۔ یہ پیشنگوئی بدر و احزاب میں واقع ہوئی۔
Read the full tafseer →ہم نے ہر ایک چیز مقرر اندازہ سے بنائی ہے
49 ؎ دنیا کا نظام ایک باقاعدگی کے ساتھ بنایا گیا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ چلایا گیا ہے اور اسی باقاعدگی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے اور اس کا بنانے والا اور چلانے والا رب ذوالجلال والاکرام ہے جس نے ہر ایک چیز کے لئے ایک بندھن باندھ دیا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ اس میں عمل تخلیق جاری وساری کیا ہے اور اسی کے مطابق ہرچیز کی تخلیق ہوتی چلی جا رہی ہے۔
انسان اپنی ہی پیدائش پر غور کرلے تو ساری باتیں اس کے سامنے واضح اور روشن ہوجاتی ہیں کہ انسان کیا تھا ؟ منی کی ایک بوند جو خواہشات نفس کی صورت میں ٹپکائی گئی تھی پھر کونسے اطوار میں وہ گزرتی ہوئی کیا سے کیا بنتی چلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (Verily, We have created everything according to [ Our ] predestination...54:49). In the prepositional phrase bi-qadar, the word qadar literally denotes to 'measure' and to create something with a proper measure and proportion. It is possible for this literal sense of the word to apply in the current verse: Allah is the Supreme Sage Who created every species of the existent entity wisely with proper measurement - whether big or small, and in different shapes and sizes. Having created, He maintains the structure of every individual in a very wise…
Read the full tafseer →25 That is, 'Nothing in the world has been created at random but with a purpose and destiny. A thing comes into being at an appointed time, takes a particular form and shape, develops to its fullest extent, survives for a certain period, and then decays and dies at an appointed time. Even according to this universal principle this world too has a destiny in accordance with which it is functioning till an appointed time and will come to an end at an appointed tune. It will neither come to an end a moment earlier than its appointed time of end nor survive a moment longer; it has neither existed…
Read the full tafseer →