Ayah 54:1اقتربت الساعۃ وانشق القمر۔ اقتربت یعنی قریب آگئی یہ ازقت الازقۃ۔ (النجم) کی مثل ہے جس طرح ہم نے اسے بیان کیا ہے جو وقت گزر گیا ہے اس کی طرف منسوب ہونے کی بنا پر یہ قریب ہے کیونکہ دنیا کا اکثر وقت گزر چکا ہے جس طرح قتادہ نے حضتر انس سے روایت کیا ہے : رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا جب کہ سورج غروب ہوا چاہتا تھا (2) فرمایا :” دنیا میں سے جو باقی ہے اس کی گزرے ہوئے وقت کے ساتھ وہی نسبت ہے جس طرح اس دن کے باقی ماندہ وقت کی گزرے ہوئے وقت کے ساتھ جو نسبت ہے۔ “ ہم سورج کو تھوڑا ہی دیکھ رہے تھے۔ کعب اور وہب نے کہا : دنیا کا زمانہ چھ ہزار سلا ہے۔ وہب نے کہا : ان میں سے پانچ ہزار چھ سو سال گزر چکے ہیں، نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔
وانشق القمر یعنی قد انشق القمر چاند پھٹ چکا ہے۔ حضرت حذیفہ نے اسی طرح اقتربت الساعۃ وقد انشق القمر پڑھا ہے یعنی قد کو زائد کہا ہے جمہرو علماء اسی پر ہیں۔ صحیح بخاری اور دوسری کتب میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عمر، حضرت انس، حضرت جبیر بن مطعم اور حضرت ابن عباس سے اسی طرح مروی ہے۔ حضرت انس سے روایت مروی ہے : اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ کا مطالبہ کیا تو مکہ مکرمہ میں چاند دو دفعہ پھٹا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
اقتربت الساعۃ وانشق القمر۔ وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر۔ (1) ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بخاری کے ہاں حضرت انس سے یہ الفاظ مروی ہیں : چاند دو حصوں میں تقسیم ہوگیا (2) ایک قوم نے کہا، ابھی تک چاند پھٹا نہیں بلکہ اسکے پھٹنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یعنی قیام قیامت اور چاند کا پھٹنا قریب ہے اور قیامت جب قائم ہوگی تو آسمان اور اس میں جو کچھ ہے سب پھٹ جائیں گے، قشیری نے یہی کہا ہے۔
ماوردی نے یہ ذکر کیا ہے۔ یہ جمہور عملاء کا قول ہے اور کہا، جب وہ پھٹے گا تو ہر کوئی اسے دیکھ لے گا کیونکہ یہ ایک نشانی ہے اور لوگ نشانیوں میں برابر ہیں (3) حضرت حسن بصری نے کہا، قیامت قریب آگئی جب وہ آجائے گی تو چاند دوسرے نفخہ کے بعد پھٹ جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وانشق القمر کا معنی ہے امر واضح اور ظاہر ہوجائے گا۔ عرب اظہر امر کے لئے چاند کے ساتھ ضرب المثل بیان کرتے تھے : شاعر نے کہا،
اقیموا بنی امی صدور مطیکم فانی الی حی سوا کم لامیل
فقد حمت الحاجات واللیل مقمر وشدت لطیات مطایا وارحل
اے میری ماں کے بیٹو ! اپنی سواریوں کے سینے سیدھے کرو میں تمہارے سوا کسی اور قبیلہ کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہوں حاجات گرم ہیں اور رات روشن ہے اور سواریاں وکجاوے سفروں کے لئے تیار ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اشنق القمر سے مراد چاند سے تاریکی کا چھٹ جانا ہے جب وہ تاریکی کے دوران طلوع ہو جس طرح صبح کو فلق کہتے ہیں، کیونکہ اس سے تاریکی پھٹ جاتی ہے۔ بعض اوقات انفلاق کو انشقاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ نابغہ نے کہا :
فلما ادبروا ولھم دوی دعانا عند شق الضبح داع
جب انہوں نے پیٹھ پھیرلی اور ان کی آواز آرہی تھی تو صبح پھوٹنے کے وقت ایک بلانے والے نے ہمیں بلایا۔
میں کہتا ہوں : اخبار احاد جو عادل راویوں سے مروی ہیں ان سے یہ بات ثابت ہے کہ چاند مکہ مکرمہ میں پھٹا۔ یہی اس آیت کا ظاہر معنی ہے یہ لازم نہیں آتا کہ لوگ اس میں برابر ہوں، کیونکہ یہ ایسا معجزہ ہے جو رات کو ظاہر ہوا تھا۔ یہ امر نبی کریم ﷺ کی دعا سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ظاہر ہوا تھا جب چیلنج کیا گیا تھا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضتر حمزہ بن مطلب جب ایمان لائے کیونکہ ابوجہل نے نبی کریم ﷺ کو گالیاں دی تھیں اس پر حضرت حمزہ غضب ناک ہوئے تھے تو انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں آپ ﷺ ایسا معجزہ کھائیں جس کے ساتھ ان کے ایمان و یقین کا اضافہ ہو۔
صحیح میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں چاند کو دو حصوں میں دکھایا (1) جس طرح حضرت ابن مسعود اور دوسرے راویوں کی حدیث میں ہے۔
حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مدائن میں خطبہ دیا فرمایا : خبردارچ قیامت قریب آچکی ہے اور چاند نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں پھٹ چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی۔ انشق القمر واقتربت الساعۃ یہ ابن کیسان کا قول ہے۔ فراء کا یہ قول گزر چکا ہے جب وہ فعل معنی میں قریب قریب ہوں تو تجھے ان میں تقدیم و تاخیر کا حق ہوتا ہے یہی قاعدہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں جاری ہوتا ہے : ثم دنا فتدلی۔ (النجم)
Ayahs 54:2–3وان یروا ایۃ یعرضوا یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے چاند کو پھٹتے ہئوے دیکھا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مشرکین رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے انہوں نے کہا اگر آپ سچے ہیں تو چاند کو دو حصوں میں پھاڑ دو ۔ اس کا صنف ابی قبیس پر ہو اور نصف قعیقعان پر ہو (2) رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’ د اگر میں ایسا کر دوں تو تم ایمان لے آئو گے۔ “ انہوں نے کہ: ہاں۔ چودہویں کی رات تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ انہوں نے جو مطالبہ کیا وہ عطا فرما دے تو چاند دو حصوں میں پھٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ مشرکوں کو ندا دے رہے تھے :” اے فلاں ! اے فلاں ! گواہ رہنا۔ “
حضرت ابن مسعود کی حدیث میں ہے : رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا (3) قریش نے کہا، یہ ابن بی کبشہ کا جادو ہے اس نے تم پر جادو کردیا ہے اپنے قافلوں سے پوچھو۔ انہوں نے قافلہ والوں سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا : ہم نے چاند کو پھٹا ہوا دیکھا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مراد ہے اگر وہ کوئی ایسی آیت دیکھیں جو حضرت محمد ﷺ کی صداقت پر دلیل ہو تو وہ ایمان لانے سے اعراض کرلیتے ہیں۔
ویقولوا سحر مسیر۔ وہ کہتے ہیں : یہ ایسا جادو ہے جو ختم ہوجانے والا ہے۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے مر الشعی واستمر جب وہ ختم ہوجائے یہ حضرت انس، قتادہ، مجاہد، فرائ، کسای اور ابوعبیدہ کا قول ہے، نحاس نے اسیپ سند کیا ہے۔ ابوالعالیہ اور ضحاک نے کہا : وہ محکم، قوی اور شدید ہے۔ یہ مرہ سے مشتق ہے جس کا معنی قوت ہے۔
اخفش نے کہا، یہ امرار الحبل سے ماخوذ ہے جس کا معنی سختی سے باٹنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے کڑوا یہ مرارہ سے ماخوذ ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے امر الشیء صار مرا (1) اسی طرح یہ ہے مرالشق یمرمرارۃ فھو مرامرہ اغیرہ و مرزہ ربیع نے کہا، مشتمز کا معنی ہے نافذ۔ یمان نے کہا، معنی ہے گزر جانے والا۔ ابو عبیدہ نے کہا، معنی ہے باطل۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے ہمیشہ رہنے اولا، اسی معنی میں مصرعہ میں یہ لفظ ہے۔
ولیس علی شیء قدیم بمستمر
یعین کوئی چیز دائمی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ان میں سے بعض بعض کے مشابہ ہے یعنی (حضرت) محمد ﷺ کے افعال اسی طریقہ پر جاری وساری ہیں۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں لاتے جس کی کوئی حقیقت ہو بلکہ سب تخیلات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ زمین سے آسمان تک جا پہنچا ہے۔
وکذبوا واتبعوآ اھوآء ھم انہوں نے ہمارے نبی کو جھٹلایا اور پانی گمراہیوں اور پسندیدہ چزیوں کی اتباع کی۔ وکل امر مستقر۔ یعنی ہر عامل کے ساتھ اس کا عمل برقرار ہوگا بھلائی، بھلائی کرنے والے کے ساتھ جنت میں ثابت ہوگی اور شر شرک کرنے والے کے ساتھ جہنم میں قائم ہوگی۔
شیبہ نے قاف کے فتحہ کے ساتھ مستقر پڑھا ہے یعنی ہر شی کا وقت ہے جس میں بغیر تقدیم و تاخیر کے واقع ہوگا۔ ابوجعفر قعقاع سے مروی ہے وکل امر سمتقر یعنی قاف اور راء مکسور ہے۔ اسے امر کی نعت بنایا ہے اس تعبیر کی بنا پر کل مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع اور خبر محذوف ہو۔ گویا فرمایا : ہر امر جو ام الکتب میں ثبت ہے وہ ہو کر رہنے والا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الساعۃ پر عطف کی وجہ سے مرفوع ہو۔ معنی ہوگا قیامت اور ہر ثابت شدہ امر قریب آگیا ہے یعنی قیامت کے روز امور کا استقرار قریب آگیا ہے۔ جس نے اسے رفع دیا ہے اس نے اسے کل کی خبر بنایا ہے۔
Ayahs 54:4–5ولقد جآء ھم من الانبآء یہاں من بعضیہ ہے اللہ تعالیٰ نے خبروں میں سے ان کا ذکر کیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ اس کے محتاج ہوں گے اور ان کے لئے اس میں شفاء ہے وہاں اس سے بھی زیادہ امور تھے۔ ہمارے اوپر ان کو ہی بیان کیا گیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ہمیں اس کی حاجت ہے اور باقی سے خاموشی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مقصود ہے۔ یعنی ان کفار تک سابقہ امتوں کی خبریں پہنچیں۔ مافیہ مزدجر۔ جو انہیں کفر سے جھکڑنے والی ہے اگر وہ اس کو قبول کریں۔ یہ اصل میں مزتجر تھا اس کی تاء کو دال سے بدل دیا۔ کیونکہ تاء حرف مہموس ہے اور زاء حرف مہجور ہے تاء کو دال سے بدل دیا کیونکہ یہ مخرج میں اس کے موافق ہے اور جہر میں زاء کے موافق ہے مز دجر یہ زجر سے مشتق ہے جس کا معنی رک جانا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : زجرہ ازدجرہ فانزجرواز دجر، زجرتہ انا فانزجر یعنی میں نے اسے روکا تو وہ رک گیا۔ جس طرح شاعری نے کہا اور یہ لفظ سابقہ معنی میں مستعمل ہے :
فاصبح ما یطلب الغانیات مزدجر عن ھواہ ازجدارا
اسے مزدجر پڑھا گیا ہے تاء افتعال کو زاء سے بدلا اور زاء کو اس میں ادغام کردیا، یہ زمحشری نے بیان کیا ہے۔ حکمۃ بالغۃ مراد قرآن حکیم ہے یہ فاء سے بدل ہے جو مافیہ مزدجر میں مقنول ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے، یعنی ھو حکمۃ فماتغن النذر۔ جب انہوں نے جھٹلایا اور مخالفت کی جس طرح اللہ تعالیٰ فرمان ہے : وما تغنی الایت والنذرعن قوم لایومنون۔ (یونس) مانا فیہ ہے یعنی انہیں نذر کچھ نفع نہ دیں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ما استفہامیہ ہو اور یہ تو بیخ کے لئے ہو، یعنی انہیں نذر کیا نفع دے گی جب کہ وہ اعراض کرنے والے ہوں۔ النذر کے بارے میں یہ جائز ہے کہ وہ انذار کے معنی میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ نذیر کی جمع ہے۔
Ayah 54:6فتول عنھم ان سے اعراض کیجیے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ آیت آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام کا تتمہ ہے پھر فرمایا : یوم یدع الداع یوم میں عامل یخرجون یا خشعا ہے یا ایسا فعل ہے جو مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہے واذکر یوم۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، یہاں حرف فاء محذوف ہے اور وہ بھی جس میں اس نے عمل کیا یعنی جواب امر۔ تقدیر کلام ہوگی فتول عنھم فان لھم مریدعوالداعی ایک قول یہ کیا گیا : اے محمد چ ان سے اعراض کیجیے آپ نے حجت قائم کردی اور جس دن داعی بلائے گا اس دن انہیں دیکھو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے، قیامت کے روز ان سے اعراض کیجیے ان کے بارے میں اور ان کے احوال کے بارے میں سوال نہ کیجیے کیونکہ انہیں شدید عذاب کی طرف دعوت دی گئی ہے معاملہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : لاتسال عما جری علی فلان اذا اخبرتہ بامرعظیم ایکق ول یہ کیا گیا ہے، ہر امر قرار پذیر ہوگا جب دعوت دینے والا دعوت دے گا۔
الی شیء قدر۔ ابن کثیر نے کاٹ کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی نے کاف کو ضمہ دیا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح عسر اور عسر شغل اور شغل اس کا معنی ہے ایسا امر جو خوفناک اور عظیم ہوگا مراد یوم قیامت ہے داعی سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہے۔ مجاہد اورق تادہ سے مروی ہے کہ دونوں پڑھا الی شی نکر یعنی کاف کو کسرہ اور راء کو فتحہ دیا یعنی فعل مجہول ہے۔
Ayahs 54:7–8خشعا ابصارھم بصر میں خشوع سے مراد عاجزی اور ذلت ہے خشوع کو ابصار کی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ عزت اور ذلت کا اثر انسان کی آنکھ سے ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ابصارھا خاشعۃ۔ (النازعات) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : خشعین من الذل ینظرون من طرف خفی (الشوریٰ : 45 )
یہ کہا جاتا ہے : خشع واختشع جب وہ ذلیل ہوجائے، خشع یبصرہ جب وہ آنکھ کو بند کر دے۔ حمزہ، کسائی اور ابو عمرو نے خاشعا پڑھا ہے اسم فاعل میں یہ جائز ہے کہ جب فاعل جماعتوں ہو اور اس فاعل اس سے پہلے ہو تو اسے واحذ ذکر کیا جائے جس طرح خشعا ابصارھم ہے اس کو مئونث بھی لا سکتے ہیں جس طرح خاشعۃ ابصارھم اسم فاعل کے صیغہ کو جمع مذکر کرنا بھی جائز ہے جس طرح خشعا ابصارھم ہے۔ شاعر نے کہا :
وشباب حسن اوجھھم من ایاد بن نزار بن معد (1)
یہاں محل استدلال حسن أوجھھم ہے خشعا یہ خاشع کی جمع ہے۔ اس کو نصب حال ہونے کی وجہ سے دی گئی ہے کیونکہ یہ عنھم کی ضمیر سے حال ہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر عنھم پر عطف قبیح ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ یخرجون کی ضمیر سے حال ہو تو اس صورت میں عنھم پر وقف کیا جاسکتا ہے۔ اسے خشک ابصارھم بھی پڑھا اس وقت یہ مبتدا اور خبر ہوں گے جملہ حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہوگا جس طرح یہ جملہ ہے :
وجدتہ حاضراہ الجود و الکرم
میں نے اسے اس حال میں پایا کہ جو دو کرم دونوں اس کے پاس حاضر تھے۔ محل استدلال حاضراہ الجود و الکرم ہے۔ یخرجون من الاجداث، اجداث سے مراد قبریں ہیں اس کا واحد جدث ہے کا نھم جواد منتشر۔ فھطعین الی الداع ایک دوسرے موقع پر فرمایا : یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ (القارعہ) یہ دونوں مختلف اوقات میں اس کی صفات ہیں (1) قبروں سے نلکتے وقت وہ گھبرا کر نکلیں گے انہیں کچھ پتہ نہ ہوگا کہ کدھر جائیں ان میں سے بعض بعض میں داخل ہوں گے اس وقت وہ بکھری ہوئی پتنگوں کی طرح ہوں گے بعض بعض میں ہوں گے ان کی کوئی جہت نہ ہوگی جس کا وہ قصد کریں (2) جب وہ منادی کو سنیں گے تو وہ منتشر ٹڈی دل کی طرح ہوں گے کیونکہ ٹڈی کی کوئی جہت نہیں ہوتی جس کا وہ قصد کرے۔ مھطعین کا معنی ہے وہ جلدی کر رہے ہوں گے۔ یہ ابو عبیدہ کا قول ہے، اسی معنی میں شاعر کا قول ہے :
بدجلۃ دارھم ولقد اراھم بدجلۃ مھطعین الی السماع (1)
دجلہ میں ان کا گھر ہے میں انہیں دجلہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ آواز کی طرف جلدی کر رہے ہیں۔
ضحاک نے کہا، معنی ہے وہ متوجہ ہوں گے۔ قتادہ نے کہا، وہ قصد کر رہے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ عکرمہ نے کہا : وہ اپنے کانوں کو آواز کی طرف کھولے ہوں گے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے ھطع الرجل یھطع ھطوعا جب وہ اپنی آنکھ کے ساتھ کسی چیز کی طرف متوجہ ہو اس سے توجہ نہ ہٹائے اھطاع جب اپنی گردن لمبی کرے اور سر کو نیچے کیا۔ شاعر نے کہا :
ونمرین سعدلی مطیع و مھطع
نمربن سعد میرا مطیع ہے اور سر جھکائے ہوئے ہے
بغیر مھطع اس کی گردن میں پیدائشی جھکائو ہے۔ اھطع فی عدرہ اس نے دوڑ میں تیزی کی۔ یقول الکفرون ھذا یوم عسر۔ مراد یوم قیامت ہے۔
Ayah 54:9کذبت قبلھم قوم نوح سابقہ قوموں کے کچھ واقعات کا ذکر کیا مقصود نبی کریم ﷺ کو مانوس کرنا اور تسلی دینا تھا۔ قبلھم سے مراد آپ کی قوم سے پہلے۔
فکذبوا عبدنا عبد سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ زمحشری نے کہا، اگر تو سوال کرے کہ کذبت کے بعد کذبوا کا کیا معنی ہے تو میں اس کا جواب دوں گا : اس کا معنی ہے کذبوا فکذبوا عبدنا انہوں نے جھٹلانے کے بعد جھٹلایا۔ جب کبھی بھی جھٹلانے والی ایک قوم گزری اس کے بعد دوسری قوم آگئی یا معنی ہے قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہمارے بندے کو بھی جھٹلایا یعنی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ وہ سرے سے نبوت کا انکار کرتے تھے تو انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا کیونکہ وہ بھی رسولوں میں سے تھے۔
وقالوا مجنون تقدیر کلام یہ ہے جو مجنون وازدجرا انہیں نبوت کا دعویٰ کرنے سے جھڑکا گیا کبھی گالیاں دی گئیں اور کبھی قتل کی دھمکیاں دی گیئں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے ازدجر پڑھا گیا ہے یعنی یہ مجہول کا صیغہ ہے کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے۔
Ayahs 54:10–11فدعا ربۃ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے خلاف بد دعا کی اور عرض کی : ابی مغلوب وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے مجھ پر غالب آگئے ہیں۔ فانتصر۔ میری مدد فرما۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انبیاء اپنی قوموں کے خلاف ہلاکت کی بد دعا نہیں کیا کرتے تھے مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ انہیں اجازت دیتا۔ ففتحنا ابواب السمآء یعنی ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا، ہم نے کشتی بنانے کا حکم دیا اور آسمان کے دروازے کھول دیئے اور ماء منھمر سے مراد زیادہ پانی ہے۔ شاعر نے کہا :
اعینی جو دا بالذموع الھوامر علی خیر باد من معذ و حاضر (1)
اے میری دونوں آنکھو ! کثیر آنسو بہائو معد میں سے ہلاک ہونے والوں اور ان میں سے موجود افراد میں سے بہترین پر۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا معین بہنے والا، اچھلنے والا ہے۔ اس معنی میں امرء القیس کا شعر ہے وہ بارش کی صفت بیان کرتا ہے :
راح تمریہ الصبا ثم انتحی فیہ شوبوب جنوب منھمر (1)
محل استدلال جنوب منھمر ہے۔
الھمر کا معنی بہانا ہے یہ جملہ بولتے ہیں : قد ھمر الماء والد مع یھمر ھمرا اس نے پانی اور آنسو بہائے۔ ھمر کا یہ معنی بھی ہے جب وہ زیادہ گفتگو اور تیز گفتگو کرے ھمرلہ من مالہ جب وہ اسے عطا کرے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، معنی ہے ہم نے بادل کے بغیر آسمان کے دروازے تیز بہنے اولے پانی سے کھول دیئے پھر چالیس دن تک بارش ختم نہ ہوئی۔ ابن عامر اور یعقوب نے ففتحنا پڑھا ہے یعنی تاء مشدد ہے یہ معنی کی کثرت پر دال ہے۔ باقی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر یہ قول کیا گیا ہے : اس نے آسمان کے پھاٹک اور کھلے رساتوں کو کھول دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد کہکشاں ہے یہ آسمان کا کھلا راستہ ہے اسی جگہ سے اسے کثیر بہنے والے پانی کے ساتھ کھولا گیا (2) یہ حضرت علی شیر خدا کا قول ہے۔
Ayah 54:12وفجرنا الارض عیوناً عبید بن عمیر نے کہا : اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی کی کہ وہ پانی نکالے تو وہ چشموں کے ساتھ کھل گئی ایک چشمہ نے تاخیر کی تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوا تو اس کا پانی قیامت تک شدید کڑوا بنا دیا گیا۔
فالتقی المآء یعنی آسمان کا پانی اور زمین کا پانی مل گئے۔ علی امر قد قدر۔ ایک مقدار پر ان میں سے ایک دوسرے پر زائد نہیں (3) ، اسے ابن قتیبہ نے بیان کیا ہے یعنی آسمان و زمین کا پانی برابر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہغے : قدر کا معنی ہے ان پر فیصلہ کردیا گیا۔ قتادہ نے کہا، جب انہوں نے کفر کیا تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں غرق کردیا جائے۔ محمد بن کعب نے کہا روزی جسموں سے پہلے تھی اور فیصلہ آزمائش سے پہلے تھا اور یہ آیت تلاوت کی کہا فالتقی المآء التقاء دویا زائد چیزوں میں ہوتا ہے کیونکہ پانی جمع بھی ہوتا ہے اور واحد بھی وہتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ جب وہ دونوں جمع ہوئے تو ایک پانی بن گیا۔ حجدری نے کہا : دونوں پانی جمع ہوئے۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا فالتقی الماوان۔ یہ عام طریقہ کے خلاف ہے۔ قشیری نے کہا، بعض مصاحف میں فالتقی الماوان ہے یہ بنوطی کی لغت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : آسمان کا پانی برف کی طرح ٹھنڈا تھا اور زمین کا پانی گرم تھا جس طرح کھولتا ہوا پانی ہوتا ہے۔
Ayah 54:13وحملنہ علی ذات الواح یعنی ایسی کشتی پر جو تختوں والی تھی۔
ودسر۔ قتادہ نے کہا : مراد ایسے کیل ہیں جن کے ساتھ کشتی کو باندھ گیا، یہ قول قرظی، ابن زید اور ابن جبیر نے کیا، والبی نے اسے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ حسن بصری، شہر بن حوشب اور عکرمہ نے کہا : یہ کشتی کا اگلا حصہ ہوتا ہے جس کے ساتھ موج ٹکراتی ہے۔ اسے دسر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ پانی کو دھکیلتی ہے۔ دسر کا معنی دھکیلنا ہے۔ عوفی نے اسے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے دسر سے مراد کشتی کا سینہ ہے۔ لیث نے کہا : دسار چھال کا ایسا رسا ہے جس کے ساتھ کشتی کے تختوں کو باندھا جاتا ہے۔ صحاح میں ہے : دساریہ دسر کا واحد ہے : اس سے مراد کیل ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے علی ذات الواح و دسر، دسر بھی عمر عمر کی طرح ہے دسر کا معنی دھکیلنا ہے حضرت ابن عباس نے عنبر کے بارے میں کہا : انما ھوشی، یدسرہ البحر دسرا وہ ایسی چیز ہے جسے سمندر باہر پھینک دیتا ہے۔ دسرہ بالرمع نیزے کے ساتھ پرے دھکیلا۔ رجل مدسہ۔ تجری باعیننا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ ہمارے حکم سے چلتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہماری حفاظت میں چلتی ہے۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اس معنی میں لوگوں کا قول ہے اس آدمی کے بارے میں جس کو الوداع کہا گیا ہو، عین اللہ علیک اللہ تیری حفاظت فرمائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہماری مرضی کے مطابق چلتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان چشموں کے ساتھ چلتی ہے جو زمین سے پھوٹتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرشتوں میں سے ہمارے اولیاء کی نگرانی میں چلتی ہے جو اس کی حفاظت پر مامور ہیں (1) اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی پیدا کیا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف کرنا ممکن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہمارے اولیاء کے ذریعے چلتی ہے جس طرح حدیث میں ہے : مرض عین من عیوننا فلم تعدہ ہمارے دوستوں میں سے سے ایک بیمار ہوگیا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی۔
Ayah 54:14جزآء لمن کان کفر۔ یعنی ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے صبر کی جزا بنا دیا جو انہوں نے اپنی قوم کی اذدیتوں پر کیا تھا۔ لمن میں لام مفعول کا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : کفر کا معنی ہے انکار کیا گیا۔ من یہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کنایہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے کنایہ ہے اور جزا عقاب کے معنی میں ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کا جو انکار کیا ہے اس کی جزا ہے۔ یزید بن رومان، قتادہ مجاہد اور حمید نے کہا : جزاء لمن کان کفر یعنی کاف اور فاء مفتوح ہیں معنی ہے غرق اللہ تعالیٰ کے انکار کی جزا اور عقاب تھی۔ عوج بن عنق کے علاوہ کوئی بھی غرق ہونے سے نجات پانے والا نہ ہوا۔ پانی اس کے نیفہ تک تھا اس کی نجات کا سبب یہ بنا کہ حضتر نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کے لئے ساگوان کی لکڑی کی ضرورت تھی مگر اس کو اٹھا کر لاممکن نہ تھا عوج وہ لکڑی شام سے اٹھا کر لایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کیا اور اسے غرق ہونے سے نجات دی۔
Ayah 54:15ولقدثر کنھا ایۃ اس عمل سے عبرت دلانا مقصود تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کشتی کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد بطور نشانی چھوڑیں جس سے وہ عبرت حاصل کریں تو وہ رسولوں کو نہ جھٹلائیں۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے جزیرہ کے علاقہ میں باقروی کے مقام پر عبرت اور نشانی کے طور پر چھوڑا یہاں تک کہ اس وقت کے اولین لوگوں نے اسے دیکھا (2) کتنی ہی کشتیاں اس کے بعد ہوئیں جو راکھ ہوگئیں (3) فھل من مد کر۔ ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے اولا اور ڈرنے والا۔ یہ اصل میں مذتکر تھا جو ذکر سے مفتعل کے وزن پر ہے۔ یہ لفظ زبانوں پر ثقیل تھا اس کو تاء کو دال سے بدل دیا کیو کہ جہری میں یہ ذال کے موافق ہے اور ذال کو اس میں مدغم کردیا گیا۔
Ayah 54:16فکیف کان عذابی ونذر۔ یعنی میرا ڈرانا کیسا تھا۔ فراء نے کہا : انذار اور نذر دونوں مصدر ہیں (4) ایک قول یہ کیا گیا : نذر، نذیر کی جمع ہے اور نذیر، انذار کے معنی میں ہے جس طرح نکیرا، انکار کے معنی میں ہے۔
Ayah 54:17ولقد یسرنا القرآن للذکر یعنی ہم نے اسے سہل کردیا ہے اور جس نے بھی اس کے حفظ کا ارادہ کیا ہم نے اس کی مدد کی کیا کوئی اس کے حفظ کا خواہش مند ہے تو اس کی مدد کی جائے۔ یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو ہم نے اسے یاد کرنے کیلئے تیار کیا ہے۔ یہ ماخوذ ہے یسرنا قتہ للسفر جب وہ سفر کرے اور اپنا گھوڑا جنگ کے لئے تیار کرے جب وہ اس پر زین ڈالے اور اسے لگاپہنائے، کہا :
قمت الیہ باللجام میسرا
میں اس کی طرف لگام کے ساتھ اٹھا اس کو تیار کرتے ہوئے۔
سعید بن جبیر نے کہا، قرآن کے سو اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کوئی بھی ایسی کتاب نہیں جس کو مکمل پڑھا جاتا ہو (1) دوسرے علماء نے کہا، یہ بنی اسرائیل کے لئے نہیں وہ تورات کو صرف دیکھ کر پڑھا کرتے تھے صرف حضرت موسیٰ ، حضرت ہ اورن، حضرت یوشع بن نون اور حضرت عزیز علیہم السلام۔ اس وجہ سے بنی اسرائیل حضرت عزیز کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوئے جب تو رات کے جل جانے کے بعد انہوں نے حافظ سے کتاب لکھی تھی جس کی وضاحت سورة برأت میں گزر چکی ہے اللہ تعالیٰ نے اس اتم پر اس کتاب (قرآن) کو یاد کرنا آسان کردیا تاکہ وہ یاد کریں۔ اس میں افتعال یہ ہے کہ یہ ان میں داخل ہو کر اثر کرے یہاں تک کہ وہ چیز ذات کی طرح ہو ائے اور ان میں مل جانے کی طرح ہوجائے۔
فھل من مد کر۔ کیا کوئی ایسا قاری ہے جو اسے پڑھے۔ ابوبکر وراق اور ابن شوذب نے کہا : کیا کوئی خیر اور علم کا طالب ہے کہ اس کی مدد کی جائے ؟ اس صورت میں تنبیہ اور افہام کے لئے اسے مکرر ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں اس امت پر امتوں کی خبریں اور مرسلین کے قصے اور ان کی امتوں نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا اور ان کے امور اور مرسلین کے امور کا جو انجام ہوا اسے بیان کیا۔ ہر قصہ اور خبر میں سننے اولے کے لئے نصیحت ہے اگر وہ نصیحت حاصل کیر۔ ہر قصہ کے ذکر کے وقت اسی آیت فھل من مد کر۔ کو مکرر ذکر کیا، کیونکہ ھل کلمہ استفہام ہے ھل میں لام استعراض کے لئے اور ھاء استخراج کے لئے ہے۔
Ayah 54:18کذبت عادعاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ فکیف کان عذا بی ونذر۔ اس صورت میں نذر کا لفظ چھ مقامات پر آیا ہے تمام مصاحف میں اس کا یاء محذوف ہے۔ یعقوب نے اسے دونوں حالتوں میں ثابت کر کے پڑھا ہے ورش نے وصل میں ثابت رکھا ہے دوسری صورت میں ثابت نہیں رکھا، باقی قراء نے اسے حذف کیا ہے فما تغن النذر میں راء کے حذف میں کوئی اختلاف نہیں اسیطرح یدع کی وائو کے حذف میں کوئی اختلاف نہیں۔ جہاں تک پہلے الداع میں یاء ہے ابن محصصین، یعقوب حمید اور بزی نے دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے اورب اقی قراء نے اسے حذف کیا ہے۔
Ayah 54:19انا ارسلنا علیھم ریحاصر صراً ، صرصراً اسے مراد سخت ٹھنڈی (1) ، یہ قتادہ اور ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سخت آواز۔ حم سجدہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
فی یوم نحس مستمر۔ یعنی ایسے دن میں جو ان پر منحوس تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ مہینے کے آخری بدھ کو عذاب آیا جس نے ان کے چھوٹے اور بڑے کونا کردیا۔ ہ اورن اعور نے کہا : نحس حاء کے کسرہ کے ساتھ ہے اس بارے میں قول حم سجدہ آیت 16 فی ایام نحسات گزر چکا ہے۔ فی یوم نحس مستیز۔ یعنی نار جہنم تک ان پر جاری رہا۔ ضحاک نے کہا : وہ عذاب ان پر کڑوا تھا (2) اسی طرح کسائی نے حکایت بیان کی ہے کہ ایک قوم نے کہا، یہ مرارہ سے مشتق ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے مرالشی وامر یعنی وہ کڑوی شی کی طرح ہوگیا جسے لوگ نپاسند کرتے ہیں۔ تحقیق فرمایا : فذوقوا جسے چکھا جاتا ہے وہ کبھی کڑوا ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مرہ سے مشتق ہے جس کا معنی قوت ہے یعنی ایسے دن میں جو منحوس ہے جس کی نحوست بڑی مستحکم ہے جس طرح وہ چیز ہو جس کی بٹائی بڑی مضبوط ہو جس کے کھولنے کسی کو طاقت نہ ہ۔ اگر یہ کہا جائے : جب بدھ کا دن منحوس دن تھا جس کی نحوست بڑی مضبوط تھی تو اس میں دعا یک سے قبول ہو سکتی ہے ؟ جب کہ یہ روایت آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعا اس دن میں ظہر اور عصر کے درمیان قبول ہوئی (3) حضرت جابر کی حدیث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس کا جواب وہ ہے جو اس خبر میں آیا ہے جسے مسروق نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا :” جبرئیل امین میرے پاس آئے کہا، اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ قسم کے ساتھ ایک گواہ کے ہوتے ہوئے فیصلہ کردیں اور ہا، بدھ کا دن منحوس دن ہے جس کی نحوست بڑی مضبوط ہے “ یہ بات تو معلوم ہے کہ اس سے یہ ارادہ نہیں کیا کہ یہ صالحین پر منحوس ہے بلکہ یہ ارادہ کیا ہے کہ فجار اور مفسدین پر منحوس ہے جس طرح قرآن میں منحوس ایام کا ذکر ہے وہ قوم عاد کے کافر پر مناحوس تھے ان کے نبی اور مومنوں پر منحوس نہیں تھے۔ جب معاملہ اس طرح ہے تو یہ کوئی بعید نہیں کہ ظالموں کو بدھ کے پہلے سے لے کر سورج ڈھلنے تک مہلت دی جائے جب پچھلا پہر ہوجائے اور اس کی جانب سے رجوع ثابت نہ ہو تو مظلوم کی اس کے بارے میں بد دعا قبول ہوجاتی ہے تو وہ دن ظالم پر منحوس ہوجاتا ہے نبی کریم ﷺ کی بد دعا بھی کفار کے بارے میں ہوتی تھی حضرت جابر کا قول لم ینزل بی امر عظیم (1) جوان کی حدیث میں ہے اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
Ayahs 54:20–22تنزع الناس یہ ریح کی صفت کے محل میں ہے یعنی وہ ہوا انہیں ان کی جگہوں سے اٹھا لیتی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ہوا نے انہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس طرح اٹھا لیا جس طرح کھجور کو اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : وہ ہوا انہیں زمین سے اٹھاتی انہیں سر کے بل گراتی ان کے گردنیں پس جاتیں اور ان کے سر ان کے جسموں سے الگ ہوجاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ ہوا لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالتی۔ محمد بن کعب نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ہوا نے لوگوں کو ان کی قبروں سے نکال لیا۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے گڑھے کھودے اور ان میں داخل ہوگئے ہوا انہیں وہاں سے نکالتی اور ریزہ ریزہ کردیتی تو وہ گڑھایوں رہ جاتا گویا وہ کھجوروں کے مڈھ ہیں کہ ان میں جو کچھ تھا ہلاک ہوگیا ہے اور ان کی جگہیں خالی باقی رہ گئی ہیں۔
یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ ان میں سے سات افراد نے گڑھے کھودے اور ان میں کھڑے ہوگئے تاکہ ہوا کا مقابلہ کرسکیں۔ ابن اسحاق نے کہا : جب ہوا نے شدت اختیار کی تو عاد کے ساتھ افراد اٹھے ان میں سے چھ کے نام ہمارے سامنے ذکر کئے گئے جو قوم عاد کے سب سے قوی اور جسیم تھے ان میں عمرو بن علی، حرث بن شداد، ہلقام، تقن کے دو بیٹے اور خلجان بن سعد انہوں نے اپنے خاندانوں کو دو پہاڑوں کی گھاٹی میں داخل کردیا پھر گھاٹی کے دروازے پر صف بنائی تاکہ وہا کو ان سے روک لیں جو گھاٹی میں ان کے بال بچے موجود ہیں ہوا نے ان میں سے ایک ایک کو گرانا شروع کردیا تو عاد کی ایک عورت نے ان کے بارے میں یہ کہا :
ذھب الدھر بعمرو بن حلی والھنیات (2)
ثم الحرث والھلقام طلاع الثنیات
والذی سذ مھب الریح ایام البلیات
زمانہ نے عمرو بن حلی، ہنیات پھر حرٹ اور ہلقام کو ہلاک کردیا جو مثنیات پرک ھڑے تھے اور جس نے آزمائش کے دنوں میں ہوا کی گزر گاہ کو بند کردیا تھا۔
طبری نے کہا : کلام میں حذف ہے معنی ہے وہ لوگوں کو اٹھاتی ہے اور انہیں یوں چھوڑتی ہے گویا وہ کھجور کے ایسے تنے ہیں جنہیں ان کی جڑوں سے اکھیڑ لیا گیا ہے کاف محذوف عامل کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ زجاج نے کہا، کاف محل نصب میں ہے اور حال ہے معنی ہے وہ لوگوں کو اٹھاتی ہے جو مجور کے تنوں کے مشابہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تشبیہ ان گڑھوں کی وجہ سے تھی جس میں وہ تھے۔ اعجاز یہ عجز کی جمع ہے۔ اس سے مراد شی کا آخری حصہ ہے قوم عاد کے لوگ طویل قد ہونے کے ساتھ موصوف تھے، انہیں ان کھجور کے درختوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی جو اپنے منہ کے بل گر پڑتے ہیں فرمایا : اعجاز نخل منقعر۔ لفظ نخل کا اعتبار کرتے ہوئے منقعر کہا گیا یہ ایسی جمع سے تعلق رکھتا ہے جو مذکر و مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ منقعر سے مراد ہے جس کو اس کی جڑ سے اکھیڑ لیا گیا ہو۔ قعرت الشجرۃ قعرا میں نے اسے جڑ سے اکھیڑا تو وہ اکھڑ گیا۔ کسائی نے کہا : قعرت البئر یعنی میں اس میں اترا یہاں تک کہ میں اس کی گہرائی تک جا پہنچا، اسی سے قعرت الاناء یعنی اس برتن میں جو کچھ تھا میں نے اسے پیا یہاں تک کہ میں اس کی گہرائی تک پہنچ گیا۔ اقعرت البئر میں نے اسے گہرا کیا۔ ابوبکر بن انبار نے کہا : مبرد سے اسماعیل قاضی کی موجوگدی میں جن ہزار مسئلوں کے بارے میں پوچھا گیا یہ بھی ان میں سے تھا، انہیں کہا گیا :
اللہ تعالیٰ کے فرمان وبسلھن الریح عاصفۃ (النبیائ : 81) اور جآء تھا ریح عاصف (یونس : 22) میں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا نھم اعجاز نخل خاویۃ۔ (الحاقہ) اور اعجاز نخل منقعر۔ میں کیا فرق ہے ؟ مبرد نے جواب دیا : اس باب سے جب بھی تجھ پر کوئی چیز وارد ہوا اگر تو چاہے تو لفظ کا اعتبار کر تخے ہوئے مذکر ضمیر لوٹا دے یا معنی کا اعتبار کرتے ہوئے مونث ضمیر لوٹا دے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ نخل اور نخیل ایک ہی معنی میں ہیں مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 54:23–24کذبت ثمود بالنذر۔ سے مراد حضرت صالح علیہ ال سلام کی قوم ہے جنہوں نے رسولوں اور اپنے نبی کو جھٹلایا یا آیات کو جھٹلایا جو نذر ہیں۔ فقالوآ بشرا منا واحد انتبعہ کیا ہم اپنے میں سے ایک فرد کی اتباع کریں اور جماعت کو ترک کریں۔ ابواشہب (رح) ، ابن سمقیع اور ابو سمال عدوی نے اسے ابشر رفع کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح واحد کو مبتدا ہونے کی حدیث سے مرفوع پڑھا ہے اس کی خبر نتبعہ ہے باقی نخ نصب دی ہے تقدیر کام یہ ہوگی انتبع بشرا منا واحد انتبہ ابو سمال نے ابشر منا واحداً پڑھا ہے بشر کو رفع فعل مضمر کی وجہ سے دیا ہے جس فعل پر القی دلالت کرتا ہے۔ گویا کہا : اینبتا بشر منا اور واحد میں یہ جائز ہے کہ یہ نتبعہ کی ضمیر سے حال ہو، یعنی اس حال میں کہ وہ منفرد ہو اس کا کوئی مددگار نہ ہو انا اذاً لفی ضلل یعنی صحیح بات سے دور ہوں گے وسعر۔ اس کا معنی جنون ہے عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے ناقۃ مسعورۃ گویا زیادہ چشتی کی وجہ سے مجنون ہے، ابن عباس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ شاعر اپنی اونٹنی کی تعریف کرتا ہے :
تحال بھا سعراً اذا السفرا ھرھا ذمیل وایقاع من السیر متعب
ذمیل اونٹ کی چال کی ایک صورت ہے۔ ابوعبید نے کہا جب چال عنق سے بڑھ جائے تو اسے تزیہ کہتے ہیں جب وہ اس سے بڑھ جائے تو وہ ذمیل ہوتی ہے پھر رسیم ہے۔ یوں باب ذکر کیا جاتا ہے، ذمل یذمل ویذمل ذمیلا اصمعی نے کہا، لایذمل بعیر یوما ولیلۃ الامھری۔ مہری اونٹ کے سوا کوئی اونٹ رات اور دن لگاتار ذمیل چال نہیں چل سکتا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : السعر کا معنی عذاب ہے (1): یہ فراء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، حق سے دور۔ سدی نے کہا، اس کا معنی ہے جلنا (2) ۔
شاعر نے کہا :
ومن الحب جنون مستعر
محبت کی وجہ سے ایسا جنون لاحق ہوتا ہے جو بھڑکتا ہے۔
ابو عبید نے کہا، یہ سعیر کی جمع ہے جس کا معنی آگ کی لپک ہے مجنون اونٹ یہاں وہاں جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ گری کی وجہ سے وہ جل رہا ہوتا ہے۔ آیت کا معنی ہے بیشک ہم بدبختی اور تھکاوٹ میں ہیں جو ہمیں لازم ہوچکی ہے۔
Ayah 54:25ء القی الذکر علیہ من بیننا کیا آل ثمود میں سے اسے رسالت کے لئے خاص کیا گیا ہے جب کہ آل ثمود میں اس سے بڑھ کر مالدار ہیں اور اچھے حال والے ہیں۔ یہاں ہمزہ استفہام کے لئے ہے اور معنی انکار کا دے رہا ہے۔ بل ھو کذاب اشر۔ یعنی بات اس طرح نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے بلکہ وہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ بڑا بنے اور وہ بغیر استحقاق ہم پر بڑائی تلاش کرتا ہے الشر کا معنی تکبر، تجبر اور نشاط ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فرس اشر جب وہ سرکش اور چست ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اشر کا معنی سرکش ہے اشر، بطر کے معنی میں آتا ہے : شاعر نے کہا :
اشرتم بلبس الخز لما لبستم ومن قبل ماتدرون من فتح القری (3)
جب تم نے ریشم پہنا تو اسے پہننے کی وجہ سے تم نے تکبر کیا اس سے پہلے تم نہیں جانتے کہ بستیاں کس نے فتح کی ہیں۔
اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد اشریاشر اشرا فھو اشر واشران و قوم اشاری جس طرح سکران اور سکاری، شاعر نے کہا :
دخلت وعولاً اشاری بھما
وہ ان پہاڑی بکروں سے خالی ہوگئی جو اس پر فخر کرتے تھے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس مقام کی طرف تجاوز کرنے والا ہے جس کا وہ مستحق نہیں۔ معنی ایک ہی ہے۔ ابن زید اور عبدالرحمٰن بن حماد نے کہا، الاشر اسے کہتے ہیں جس کو جو بات کہی جائے اس کی پرواہ نہ کرے۔ ابو جعفر اور ابوقلابہ نے کہا : اشرشین کے فتحہ اور اء کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی اس کی وجہ سے ہم شریر ہوئے اور خبیث ہوئے۔
Ayah 54:26سیعلمون غداً وہ قیامت کے روز عذاب کو ضرور دیکھیں گے یا معنی ہے دنیا میں ہی جب ان پر عذاب نازل ہوگا تو وہ اسے دیکھیں گے۔ ابن عامر اور حمزہ نے اسے ت اء کے ساتھ پڑھا ہے کہ حضرت صالح انہیں خطاب کریں گے باقی یاء کے ساتھ پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت صالح کو ان کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : غداً لوگوں کی عادت کے طور پر ہے کہ وہ انجام کے قریب ہی وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے کہتے ہیں : ان مع الیوم غدا۔
شاعر نے کہا :
للموت فیھا سھار غیر مخطبۃ من لم یکن میتاً فی الیوم مات غداً
اس میں موت کے ایسے تیر تیر ہیں جو خطا نہیں جاتے جو آج نہیں مرے گا کل مر جائے گا۔
فمن الکذاب الاشر۔ ابوقلابہ نے الاشر پڑھا ہے یعنی شین پر فتحہ اور راء مشدد ہے یہ اپنے اصل پر ہے۔ ابو حاتم نے کہا : عرب اشر اور اخیر ضرورت شعری کے سوا نہیں بولتے جس طرح رئوبہ کا قول ہے :
بالل خیر الناس و ابن الاخیر
بلال لوگوں میں سے بہترین ہے اور بہترین کا بیٹا ہے۔
وہ کہتے ہیں : ھو خیر قومہ، ھوشر الناس اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کنتم خیرامۃ اخرجت للناس (آل عمران : 110)
فرمایا فسیعلمون من ھو شر مکانا (مریم : 75)
ابوحیوہ سے شین کے فتحہ اور راء کی تحفیف کے ساتھ مروی ہے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے شین کے ضمہ کے ساتھ یہ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ بھی الاشر کے معنی میں ہے اس کی مثل رجل حذر اور رجل حذر ہے۔
Ayah 54:27انا مرسلوا الناقۃ ہم اس اونٹنی کو اس پہاڑ سے نکالنے والے ہیں جس سے نکلنے کا انہوں نے سوال کیا تھا۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ حضتر صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی تو جس چٹان کو انہوں نے معین کیا تھا وہ اس اونٹنی کی کہ ان سے پھٹ گئی تو دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکل آئی۔ فتنۃ لھم ان کی آزمائش کے لئے۔ یہ مفعول لہ ہے فارتقبھم یعنی جو کچھ و کر رہے ہیں اس کا انتظار کیجیے واصطبر۔ ان کی اذیتوں پر صبر کیجیے اصطبر میں طاء کی اصل تاء ہے تو یہ طاء سے بدل گئی تاکہ اطباق میں طاء کے موافق ہوجائے۔
Ayah 54:28ونبئھم ان المآء قسمۃ بینھم انہیں بتا دیں کہ پانی آل ثمود اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہے اونٹنی کے لئے ایک دن ہے اور ان کے لئے ایک دن ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم۔ (الشعرائ) حضرت ابن عباس نے کہا : جس دن آل ثمود کی باری ہوتی تو اس دن اونٹنی کچھ پانی بھی نہ پیتی لوگوں کو دودھ دیتی اور وہ نعمتوں میں ہوتے اور جس روز اونٹنی کی باری ہوتی تو سارا پانی لی جاتی ان کے لئے کچھ چیز نہ چھوڑتی۔ بینھم ارشاد فرمایا کیونکہ عرب میں چوپائوں کے ساتھ انسانوں کے بارے میں خبر دیتے تو انسانوں کو غلبہ دیتے۔ ابو زبیر نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ جب ہم حجر کی وادی میں اترے (1) جب کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے سفر میں تھے فرمایا :” اے لوگو ! ان آیات کے بارے میں سوال نہ کرو یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ہیں انہوں نے اپنے نبی سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایک اونٹنی بھیجے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک اونٹنی بھیج دی وہ اس راستہ سے آئی جس دن اس کی باری ہوتی ان کا سارا پانی پی جاتی اور جس دن باری نہ ہوتی وہ اس اونٹنی سے اتنا ہی دودھ دوہتے اللہ تعالیٰ کے فرمان، ونبئھم ان المآء قسمۃ بینھم کا یہی معنی ہے۔ “
کل شرب محتضر۔ شرب جب کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی پانی کا حصہ ہے ضرب المثل میں ہے آخرھا اقلھا شربا اس کا اصل معنی اونٹوں کو پانی پلانا ہے کیونکہ ان کا آخری اونٹ پانی پر وارد ہوتا تو حوض کا پانی ختم ہوچکا ہوتا۔ مختضر کا معنی ہے اس کے پاس وہی حاضر ہوتا جس کا حق ہوتا۔ اونٹنی اپنی باری کے دن پانی پر حاضر ہوتی اور جس دن آل ثمود کی باری ہوتی اس دن غائب ہوجاتی، یہ مقاتل کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ثمود پانی پر حاضر ہوتے جس روز اونٹنی کی باری نہ ہوت تو وہ پانی پیتے اور جس دن اس کی باری ہوتی وہ دودھ پر حاض رہتوے اور اس کا دودھ دوہتے۔ (2)
Ayahs 54:29–30فنادوا صاحبھم انہوں نے اپنے ساتھی کو بلایا تاکہ اسے اس کی کونچیں کاٹنے پر برانگیختہ کریں۔ قتعاطی اس نے اس کی کونچیں کاٹنے کی ذمہ داری قبول کرلی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ تعاطی کا معنی ہے اس فعل کو اپنے ذمہ میں لے لیا۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے عطوت یعنی میں نے اسے لے لیا۔
محمد بن اسحاق نے کہا، وہ اس اونٹنی کے لئے اس کے راستے میں ایک درخت کی جڑ میں چھپ گیا اور اسے تیر مارا اورس تیر کے ساتھ اس کی پنڈلی کے پٹھے کو چھید دیا پھر تلوار سے اس پر حملہ کیا اور اس کی کونچ کو ظاہر کردیا وہ اونٹنی گری اور ایک ہی دفعہ بلبلائی اس کا نوزائدہ بچہ اس کے بطن سے گرگیا پھر اس نے اس کی گردن کو کاٹ دیا۔ اس کا نوزائد بچہ چلا یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر ایک چٹان پر آیا بلبلایا پھر چٹان کی پناہ لے لی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) قوم کے پاس آئے جب آپ نے اونٹنی کو دیکھا کہ اس کی کونچیں کاٹ دی گئی ہیں تو آپ رونے لگے فرمایا : تم نے اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی بشارت ہو۔ سورة اعراف میں اس کا معنی کا بیان گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جس آدمی نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں اس کا رگن سرخ، آنکھیں نیلی، زری مائل، سر سے گنجا اور گدی پر بال تھے (1) اس کے نام کے بارے میں کہا جاتا ہے : قدار بن سالف۔ افوہ او وی نے کہا :
او قبلہ کقدار حین تابعہ علی الغوایۃ اقوام فقد بادوا
یا اس سے پہلے جس طرح قدار جب سرکشی پر اس کی پیروی کی مختلف قوموں نے تو وہ ہلاک ہوگئے۔
عرب قصاص کو قدار کا نام دیتے ہیں وہ اسے قدار بن سالف سے تشبیہ دیتے ہیں جو آل ثمود کا منحوس آدی تھا۔
مہلہل نے کہا :
ان لنضرب بالسیوف رء و ستھم ضرب القدار نقیعۃ القدام (2)
ہم تلواروں کے ساتھ ان کے سروں پر ضرب لگاتے ہیں جس طرح قدار نے ضرب لگائی مقصد آنے والوں کی ضیافت کا اہتمام ہوتا ہے۔
Ayah 54:31انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ اس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز ہے۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے : فکانوا کھشیم المختظر۔ حضرت حسن بصری (رح) ، قتادہ اور ابوالعالیہ نے المحتظر پڑھا (3) یعنی ظاء پر فتحہ ہے اس سے انہوں نے باڑہ کا ارادہ کیا ہے باقی قرئا نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے باڑے والے کا ارادہ کیا ہیخ صحاح میں ہے المحتظر اسے کہتے ہیں جو باڑہ بناتا ہے اسے کھشیم المحتظر پڑھا گیا ہے جس نے اسے کسرہ دیا ہے اس نے اسے فاعل بنایا ہے جس نے اسے فتحہ دیا ہے اس نے اسے مفعول بہ بنایا ہے۔ وہ آدی جو کم بھلائی والا ہو اس کے بارے میں کہا اجتا ہے : انہ لنکدا لخطیرۃ ابوعبید نے کہا، میرا خیال ہے اس کے اموال کو حظیر کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس نے ان اموال کو اپنے پاس محفوظ کیا ہے فعیلۃ کا وزن ہے جو مفعولہ کے معنی میں ہے۔ مہدوی نے کہا، جس نے محتظر کی ظاء کو فتحہ دیا تو اس کے نزدیک یہ مصدر ہے معنی ہوگا کھشیم الاحتظار۔ یہ بھی جائز ہے کہ المحتظر سے مراد وہ درخت ہو جس سے باڑا بنایا جاتا اس سے جو گرتا ہے اور ریوڑ جسے پیس دیتا ہے اسے ہشیم کہتے ہیں۔
ان سے یہ بھی مروی ہے : اس گھاس کی مانند جسے ریوڑ کھا جاتا ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے، بوسیدہ اور جلی ہوئی ہڈیوں کی مانند، یہ قتادہ کا قول ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، اس سے مراد ایسی مٹی ہے جو ہوا والے دن دیواروں سے گرتی ہے۔ سفیان ثوری نے کہا، جب تو باڑے کو ڈنڈا مارے تو باڑے سے جو چیز گرتی ہے اسے ھشیم کہتے ہیں، یہ فعیل بمعنی مفعول ہے۔ ابن زید نے کہا، عرب ہر اس چیز کو ہشیم کہتے ہیں جو پہلے تر ہو پھر خشک ہوجائے۔ حظر کا معنی روکنا اور محفوظ کرنا ہے محتظر یہ فعتحل کا وزن ہے اس معنی میں کہا جاتا ہے : احتظر علی ابلہ وحظر یعنی اس نے درخت جمع کئے اور بعض کو بعض پر رکھا تاکہ وہ اپنے اونٹوں کو ہوا کی ٹھنڈک اور درندوں سے محفوظ رکھے، شاعر نے کہا :
تری جیف المطی بجانبیہ کان عظما مھا خشب الھشیم (1)
تو سواری کے ڈھانچہ کو اسی کی دونوں جانب دیکھے گویا اس کی ہڈیاں بوسیدہ لکڑیاں ہیں۔
حضرت ابن عباس نے کہا، گویا وہ اس گندم کی طرح ہیں جسے گا ہیا گیا ہو۔ اس تعبیر کی صورت میں محتظر ہے مراد کھیتی کی باڑ ہے ھشیم سے مراد بالی اور بھوسہ کے ریزے ہیں۔
Ayah 54:32ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر۔ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 54:33کذبت قوم لوط بالنذر ۔ قوم لوط کے بارے میں خبر دی جب انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھٹلایا
Ayahs 54:34–39انا ارسلنا علیھم حاصباً یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان پر کنکر پھینت کی تھی۔ حصباء سے مراد حصی ہے۔ نضر نے کہا، حاصب سے مراد ہوا میں سنگریزے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، حاصب سے مراد پتھر ہیں۔ صحاح میں ہے : حاصب سے مراد ایسی شدید ہوا ہے جو سنگریزہ کو اڑاتی ہے اسی طرح حصبہ ہے۔ عصفت الریح یعنی ہوا تیز ہوئی۔ ھی ریح عاصف و عصرف۔ الا ال لوط اس سے مراد وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے دین کی اتباع وہ صرف آپ کی دو بیٹیاں تھیں۔ نجینھم بسحر۔ اخفش نے کہا، اسے منصرف ذکر کیا ہے کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ اگر معین دن کی سحری کا ارادہ ہوتا تو پھر اسے منصرف ذکر نہ کیا جاتا اس کی مثل اھبطوا مصراً (بقرہ : 61) جب اسے نکرہ ذکر کیا جب اللہ تعالیٰ نے اسی لفظط کو معرفہ ذکر کیا ادخلوا مصر ان شآء اللہ (یوسف : 99) اسے غیر منصرف ذکر کیا۔ زجاج نے بھی یہی ہے : سحر جب نکرہ ہو تو اس سے سحریوں میں سے ایک سحری مراد ہوگی اور اسے منصرف شمار کیا جائے گا تو کہے گا : اتیتہ سحرا جب تو اپنے دن کی سحری مراد لے گا تو تو اسے غیر منصرف بنائے گا تو کہے گا : اتیتہ سحر اور اتیتہ بسحر۔
سحر سے مراد رات کے آخری حصہ میں اور طلوع فجر کے درمیان کا وقت ہے۔ لغت عرب میں اس سے مراد رات کی سیاہی کا دن کے پہلے حصہ کی سفیدی کے ساتھ مل جانا کیونکہ اس وقت رات اور دن کے آثار ہوتے ہیں۔
نعمۃ من عدنا ہماری جانب سے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی دو بیٹیوں پر انعامات ہیں۔ نعمۃ مفعول بہ ہنے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ کذلک نجزی من شکر۔ من شکر سے مراد ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور اس کی اطاعت کی۔ ولقد انذرھم یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں ڈرایا۔ بطشتنا اس سے مراد ہماری سزا ہے اور ہم انہیں عذاب سے جو پکڑ سکتے ہیں۔ فتماربوا بلانذر۔ رسول نے انہیں جس چیز سے ڈرایا تھا اس میں انہوں نے شک کیا اور اس کی تصدیق نہ کی (1) یہ مریۃ سے تفاعل کا وزن ہے۔ ولقد راودوہ عن ضیفہ قوم کے افراد نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ انہیں فرشتوں پر قدرت دے دیں جو ان کے پاس مہمان کی حیثیت سے آئے ہیں وہ بےحیائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ باب ذکر کیا جاتا ہے راودتہ علی کذا مراودۃ روادا میں نے اس کا ارادہ کیا۔ رادالکلا یرودہ رودا و ریادا، ارتادہ ارتیادا سب کا ایک ہی معنی ہے یعنی گھاس کو تلاش کیا۔ حدیث طیبہ میں ہے : اذا بال احد کم فذیرت لبولہ (2) یعنی جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کا ارادہ کرے تو نرم جگہ یا پست جگہ کو تلاش کرے۔
فطمسناً اعینھم روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضتر جبرئیل امین نے ان کو پر مارا تو وہ اندھے ہوگئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کی آنکھیں چہرے کی طرح ہوگئیں ان کا شگاف بھی دکھائی نہیں دیتا تھا جس طرح ہوا آثار کو مٹا دیتی کہ ان پر مٹی ڈال دیتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اندھا کردیا جب کہ ان کی آنکھیں درست تھیں تو وہ ان کو دیکھ نہیں رہے تھے۔ ضحاک نے کہا، اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا وہ فرشتوں کو دیکھ نہیں رہے تھے۔ انہوں نے کہا : جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو ہم نے انہیں دیکھا تھا وہ کہاں چلے گئے ہیں ؟ وہ واپس پلٹ آئے اور انہیں نہ دیکھا (3) فذوقوا عذابی ونذر۔ ہم نے انہیں کہا، میرا عذاب چکھو۔ اس امر سے مراد خبر ہے یعنی میں نے انہیں اپنا وہ عذاب چکھایا جس کے بارے میں انہیں لوط علیہ ال سلام نے خبردار کیا تھا۔ ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستقر۔ یعنی دائمی اور عام عذاب وہ ان میں رہا یہاں تک کہ یہ عذاب انہیں عذات آخرت کی طرف لے گیا۔ وہ عذاب یہ تھا کہ ان کی بستی ان پر الٹ دی گئی اور ان کے اوپر والے حصہ کو نیچے والا حصہ بنا دیا۔ بکرۃ یہاں یہ نکرہ ہے اسی لئے منصرف ہے۔ فذوقوا عذابی و نذر۔ یہاں عذاب سے مراد و عذاب ہے جو ان پر آنکھوں کے بےنور ہونے کی صورت میں واقع ہوا یہ اس عذاب سے مختلف تھا جس کے ساتھ انہیں ہلاک کیا گیا اس وجہ سے مکرر ذکر کرنا اچھا عے۔
Ayah 54:40ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر۔ اس کے بارے میں تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔