Ayah 54:1(1) قریب آپہنچی قیامت اور پھٹ گیا چاند۔ اوپر کی سورت کے آخر میں قیامت کے قریب آنے کا ذکر فرمایا تھا اور یہ واقعہ بھی ہے کہ جس چیز کا آنا یقینی ہو وہ قریب ہی ہے اس سورت میں بھی اسی کے قرب کا اظہار فرمایا کیونکہ قیامت کی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت بھی ظاہر ہوگئی یعنی چاند بھی پھٹ گیا اگرچہ یہ شق قمر اور چاند کا پھٹنا بطور معجزہ ہوا اور دلائل رسالت کی دلیل ہوکر اس کا ظہور ہوا لیکن اس معجزے سے اول تو یہ بات معلوم ہوگئی کہ چاند کا پھٹ جانا ممکن ہے دوسرے یہ کہ محمد ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جب رسول کسی بات کی خبر دے تو اس میں شک کی گنجائش نہیں رہتی۔
ہماری اس تقریر سے انشقاق قمر کے ساتھ اقتراب قیامت کا تعلق بھی سمجھ میں آگیا ہوگا۔ اس لئے فرمایا کہ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا آگے معجزات کی تکذیب اور قیامت کے انکار پر زجرو تو بیخ فرمائی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حج کے دنوں میں آدھی رات کو کافر جمع تھے حضرت ان کو سمجھاتے تھے انہوں نے مانگی کچھ نشانی حضرت نے فرمایا دیکھو آسمان کی طرف چاند دو ٹکڑے ہوگیا ان میں سے مشرق کو آیا ایک مغرب کو جب تک خوب طرح دیکھ لیا پھر آپس میں مل گیا، یہ نشانی ہے قیامت کی آگے سب کچھ یوں ہی پھٹے گا۔ معجزہ شق القمر مشہو رہے۔
مولانا شاہ رفیع الدین صاحب (رح) کا رسالہ اس باپ میں بہت کافی اور بس ہے۔
Ayah 54:2(2) اور اگر یہ کفار کوئی معجزہ اور نشانی دیکھتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ یہ ایک چلتا ہوا جادو ہے۔ مستھر کے کئی معنی کئے گئے ہیں قوی، دائم ، مستحکم، زائل ہوجانے والا باقی نہ رہنے والا۔
Ayah 54:3(3) اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور اپنی نفسانی خواہشات پر چلے اور ہر کام کی ایک حد ہے جہاں وہ ٹھہرنے والا ہے۔ یعنی دین حق اور پیغمبر اسلام کی تکذیب کرتے ہیں اور باطل اور شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ جو فرمایا وکل امر مستقر یہ ایک ایسا جملہ ہے جیسے ہم بولا کرتے ہیں کہ ہر کام کا ایک وقت ہوا کرتا ہے یعنی کب تک کوئی یہ کام کرتا رہے گا آخر ہر کام کی ایک حد اور اس کا ٹھہرائو ہے۔
یہاں شاید نبی کریم ﷺ کی مخالفت اور تکذیب کی انتہا کی طرف اشارہ ہے کہ کب تک حق کی مخالفت کرتے رہیں گے آخر کسی دن تو اس کی انتہا ہوگی یا شاید دین حق کی مقبولیت کی طرف اشارہ ہو کہ ایک دن تو یہ دن مقبول عام وخاص ہوگا اور لوگ سمجھتے سمجھتے حق و باطل میں امتیاز کرنے لگیں گے اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کی جانب اشارہ ہو کہ ان کا انکار کب تک چلے گا آخر تو ایک دن ان کو ماننا ہی پڑے گا کہ قیامت حق ہے اور یہ بھی ہوسکتا کہ ہر امر خیر وشر کا ایک مستقر ہے یعنی دوزخ میں یا جنت میں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کا عذاب بھی ایک وقت آئے گا۔
Ayah 54:4(4) اور بلا شبہ سابقہ واقعات میں سے ان کے پاس اس قدر خبریں پہنچ چکی ہیں کہ ان میں ان کے لئے کافی نصیحت اور عبرت اور ڈانٹ ہوسکتی ہے۔ قادہ ہے کہ افتعال کی تاکودال مشدد یا ڈال سے یا زا سے بدل لیا کرتے ہیں۔ ازدجار کسی کو جھڑک کر کسی بات سے روکنا اور منع کرنا مطلب یہ ہے کہ امم سابقہ کی تعذیب کے جو واقعات ان تک آئے ہیں اور جو خبریں ان تک پہنچی ہیں ان خبروں میں کافی جھڑکی اور منع ہے یہاں بھی کہا کرتے ہیں خبردارایسا نہ کرنا کبھی چیخ کر کہتے ہیں کبھی تیز آواز سے منع کرتے ہیں اسی کو فرمایا کہ وہ واقعات خود اس قسم کی جھڑکی اور روک ہیں یا ان میں سے اس قدر جھڑکی اور ڈانٹ ہے کہ ایک سمجھ دار آدمی کو انہیں سن کر گناہوں سے بچ جانا چاہیے۔
Ayah 54:5(5) اعلیٰ درجے کی حکمت اور انتہائی دانائی اور پوری عقل کی بات موجود ہے مگر ان کو ڈرانے والی باتیں اور خوف دلانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ حکمۃ بالغتہ یا تو مبتدا محذوف کی خبر ہے یا مافیہ میں جو ما ہے اس سے بدل ہے اور ہوسکتا ہے مزدجر سے بدل ہو مطلب یہ ہے کہ وہ خبریں اور وہ واقعات پوری دانائی اور حکمت ہیں یا ان واقعات میں انتہائی حکمت و دانائی ہے یا یہ واقعات جس قرآن میں مذکور ہیں وہ قرآن حکمت بانو ہے یا وہ جھڑکی اور ڈانٹ انتہائی حکمت و دانائی ہے مگر ان کو ان ڈرانے والی باتوں سے کچھ نفع نہیں ہوتا اور ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا خواہ وہ ڈرانے والے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوں یا امم سابقہ کی ہلاکت اور تباہی کے واقعات ہوں۔
Ayah 54:6(6) سوائے پیغمبر آپ ان کو منہ نہ لگائیے اور ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے جس دن ایک بلانے والا فرشتہ ایک ناخوش اور ان دیکھی چیز کی طرف ان کو بلائے گا۔
Ayah 54:7(7) یہ قبروں سے اس حال میں نکلیں گے کہ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور اس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ یعنی جب ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو کوئی خوف دلانے والی بات نفع نہیں پہنچاسکتی تو آپ ان کا خیال چھوڑ دیجئے اور ان کی طرف التفات نہ کیجئے کیونکہ جس دن سے آپ ان کو ڈراتی ہیں وہ دن آئے گا تو ان کو خود ہی معلوم ہوجائے گا وہ دن ایسا ہوگا جس دن ایک بلانے والا فرشتہ ان کو بلائے گا یعنی نفخہ صور ہوگا اور یہ قبروں سے نکلیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں ہوتی ہیں آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ چیزجس کے طرف وہ فرشتہ بلائے گا وہ چیز ناخوش اور ان دیکھی ہوگی حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حساب کو۔ اور چونکہ قبروں سے نکلنے کے بعد مختلف حالات سے دو چار ہونا پڑے گا اس لئے کبھی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی کبھی آنکھیں پھٹی ہوئی ہوں گی اور اوپر کی جانب ٹکٹکی لگی ہوئی ہوگی، یہاں قبروں سے اٹھنے کی حالت مذکور ہے پراگندہ ٹڈیوں سے تشبیہہ فرمائی جیسے ٹڈیاں ادھر ادھر اڑتی پھرتی ہیں اسی طرح قبروں سے نکلنے والے ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہونگے۔
Ayah 54:8(8) ان کی حالت یہ ہوگی کہ اس بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کافر اس دن کہیں گے یہ دن بڑا ہی سخت ہے۔ یعنی بلانے والے کی آواز پر بھاگتے ہوں گے دین حق کے منکریوں کہتے ہوں گے یہ دن بڑا ہی سخت اور دشوار دن ہے جب اس دن کی مشکلات سامنے آئیں گی تب یہ کہیں گے آگے گزشتہ اقوام کے چند واقعات بیان فرمائے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 54:9(9) ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تکذیب کی اور نوح کی قوم بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کرچکی ہے چناچہ انہوں نے ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اس کی تکذیب کی اور اس کو جھوٹا بتایا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کو جھڑک دیا اور اس کو دھمکی دی گئی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور دیوانہ کہا اور جھڑکا اور دھمکایا جیسا کہ سورة شعراء میں گزرا ہے کہ اے نوح (علیہ السلام) اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھ کو سنگسار کردیں گے جب نوح (علیہ السلام) کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تو انہوں نے قوم کے حق میں یہ دعا کی۔
Ayah 54:10(10) پھرنوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں اور دب گیا ہوں سو تو ان سے میرا بدلا لے ۔
Ayah 54:11(11) پھر ہم نے بکثرت برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے اور دہانے کھول دیئے
Ayah 54:12(12) اور ہم نے زمین سے چشمے بہادیتے پھر دونوں جانب کا پانی مل کر اس کام کے لئے جمع ہوگیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ یعنی آسمان سے موسلادھار بارش ہوئی ادھر زمین سے چشمے ابلنے لگے اور زمین کو باعتبار چشموں کے پھاڑ دیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زمین کے پردے پھٹ گئے ہیں ادھر آسمان نہ رکتا تھا دونوں پانی مل کر اکٹھے ہوگئی اور جو کام علم الٰہی میں تجویز ہوچکا تھا وہ کام ہوگیا یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم ہلاک کردی گئی اور طوفان میں غرق ہوگئی مطلب یہ کہ پانی اس کام پر مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔
Ayah 54:13(13) اور ہوم نے اس نوح (علیہ السلام) کو تختوں والی اور کیلوں والی ایک کشتی پر سوار کردیا۔
Ayah 54:14(14) وہ کشتی ہماری حفاظت و نگرانی میں اور ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کے لئے کیا گیا جس کی بےقدری کی گئی تھی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
تجری باعیننا کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حفاظت میں جاری تھی گویا کشتی بنی بھی حضرت حق کی نگرانی میں جیسا کہ فرمایا واصنح الفلک باعیننا اور چلتی بھی رہی نگرانی میں جیسا کہ فرمایا تجری بایننا یہاں ایک اور بات کا بھی اظہار فرمایا جزآء ملن کان کفر یعنی یہ طوفان کا آنا نور قوم نوح (علیہ السلام) کا غرق کرنا یہ سب اس شخص کی ناقدری حق ناشناسی اور بےقدری کا بدلا تھا جس کی قدر نہ پہچانی اور اس کی بےقدری اور اس کا انکار کیا گیا۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےعزتی اور تذلیل اور نافرمانی کا انتقام اور بدلا لینا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ والوں کی اذیت اور تذلیل کا بدلا لیا جاتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے ان کی بےقدری کا انتقام کفر باللہ کا انتقام تھا پس نوح (علیہ السلام) کی بےعزتی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر سب کا ہی انتقام لیا گیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ والوں کی اذیت اور تذلیل کا بدلا لیا جاتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے ان کی بےقدری کا انتقام کفر باللہ کا انتقام تھا پس نوح (علیہ السلام) کی بےعزتی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر سب کا ہی انتقام لیا گیا۔
Ayah 54:15(15) اور ہم نے اس واقعہ کو ایک سبق آموز نشانی کے طور پر چھوڑ دیا سو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے یعنی جو اس عبرت انگیز واقعہ سے نصیحت پکڑے ہوسکتا ہے کہ ترکنھا سے مراد وہ کشتی ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی کو باقی رکھا تاکہ اس سے عبرت ہو۔
چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نشانی کو یعنی دنیا میں تب سے کشب رہی یا وہ کشتی رہ گئی جودی پہاڑ پر نظر آئی قرنوں تک اس امت کے لوگوں نے بھی دیکھی۔
خلاصہ : یہ کہ کشتی چلانے کا دستور باقی رہا شاید اس سے پہلے کشتی کا دستور نہ تھا یا یہ کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کی کشی کو محفوظ رکھا جیسا کہ آج کل بھی اخبارات میں اس کے تذکرے ہوتے رہتے ہیں اور شاید ابھی اس کے کچھ تختے کہیں کسی پہاڑ پر برف میں موجود ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 54:16(16) پھر دیکھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ یعنی نافرمانوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوا۔
Ayah 54:17(17) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی سوچنے والا اور غور کرنے والا ہے کہ وہ اس کے پندو و عظ سے فائدہ حاصل کرے۔
للذکر کی قید سے ان لوگوں کے خیالات کی نفی ہوگئی جو آج کل کے لوگ اجتہاد اور استنباط کے لئے قرآن کو آسان سمجھتے ہیں۔
Ayah 54:18(18) قوم عاد نے بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا - یعنی ان کا انجام بھی دیکھ لو۔
Ayah 54:19(19) ہم نے ان پر ایک سخت نامبارک دن میں نہایت تیزوتند ہوا بھیجی۔
Ayah 54:20(20) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی تھی جیسے وہ جڑ سے سے اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔ ہم نے مستمر کا ترجمہ سخت کیا ہے بعض حضرات نے دوام کیا ہے دوام کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کا ان پر اثر ہمیشہ رہا یعنی برزخ میں بھی اور جہنم میں بھی۔
یوم نحس سے مراد زمانہ ہے یعنی زمانہ نحس میں وہ ایک دن ہو یا آٹھ دن ہوں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے کھجوروں کے تنوں سے تشبیہ دینے میں شاید ان کے مضبوط اور جسیم ہونے کی طرف اشارہ ہو کیونکہ وہ بڑے لمبے تڑنگے اور ڈیل ڈول کے لوگ تھے اور بڑے طویل الجثہ تھے اور اگر مستمر کا ترجمہ شدید اور سخت کیا جائے تو معنی ظاہر ہیں۔
نحوست اس سے کیا زیادہ سخت ہوگی کہ بستیوں کا نام ونشان مٹ گیا آبادیاں بالکل تباہ و برباد ہوگئیں اور مرنے کے بعد بھی عذاب نے پیچھا نہیں چھوڑا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نحوست نہ اٹھی جب تک تمام ہوچکے نحوست کا دن انہی پر تھا یہ نہیں ہمیشہ کو۔
Ayah 54:21(21) پھر تم نے دیکھا اور سنا کہ میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ یعنی ان کی تباہ شدہ بستیوں کو دیکھ کر اور ان کی ہلاکت کے واقعات کو سن کر معلوم کیا کہ میری سزا اور میرے ڈراوے کیسے ہوئے اور ان کا انجام کیسا ہوا۔
Ayah 54:22(22) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی غور کرنے والا اور نصیحت قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 54:23(23) قوم ثمود نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی اور ڈرانے والوں کو جھوٹا بتایا۔
Ayah 54:24(24) سو کہنے لگے کہ کیا اپنی ہی جنس کے ایک ایسے آدمی کی پیروی کرنے لگیں جو اکیلا اور تن تنہا ہے اگر ایسا کریں گے تو اس وقت ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں پڑجائیں گے۔ یعنی یہ بھی ہم میں سے اور ہم ہی جیسا بشر ہے پھر اکیلا ہے یعنی ظاہری دولت وامارت اور جاہ وحشم بھی نہیں نہ فرشتہ نہ ذی اثر بشر پھر اگر ایسے شخص کی ہم پیروی کرنے لگیں اور اس کا کہنا ماننے لگیں تو ہم بڑی گمراہی غلطی بلکہ دیوانگی اور جنون میں مبتلا ہوجائیں گے اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا۔
Ayah 54:25(25) کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل کی گئی اور اسی پر نصیحت کی بات اتاری گئی یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ شخص بڑا جھوٹا اور خود پسند اور بڑائی مارنے والا ہے۔ یعنی ہم سب میں سے پیغمبری کے لئے اسی کو منتخب کیا ہے نہیں بلکہ یہ بڑا جھوٹ اور شیخی خورہ ہے بڑائی اور سرداری چاہتا ہے آگے حضرت حق تعالیٰ کا جواب ہے۔
Ayah 54:26(26) انہیں ابھی کل کو ہی معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون دروغ گو اور شیخی مارنے والا ہے - یعنی جھوٹا اور شیخی خورہ کون ہے بہت جلد کل کو وہی یہ جان لیں گے۔
Ayah 54:27(27) اے صالح (علیہ السلام) ہم ان کو آزمائش کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو ہوشیاری سے ان کو دیکھ بھال رکھ اور صبر سے کام لے۔
Ayah 54:28(28) اور ان کو آگاہ کردے کہ پانی کو ان میں تقسیم کردیا گیا ہے ہر باری والے کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہے - یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) جو ان کی پیغمبر تھے ان کو ہم نے حکم بھیجا کہ ہم ان کی آزمائش اور ان کے امتحان کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں جیسا کہ سورة اعراف میں مفصل گزر چکا ہے۔
صالح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تو ان کو دیکھتا رہ کہ یہ کیا کرتے ہیں اور ان کی ایذارسانی پر صبر کئے جا اور ان کو خبردار کردے کہ پانی قوم کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے یعنی نوبت بہ نوبت پانی استعمال کرنا ہوگا ایک دن قوم کے مویشی پئیں گے اور ایک دن اونٹنی پئے گی یا تو اس وجہ سے کہ پانی کم ہے یا اس وجہ سے کہ مویشی اس اونٹنی کو دیکھ کر ڈرتے ہیں، بہرحال ہر نوبت والے کو اپنی اپنی باری پر حاضر ہونا ہے۔
Ayah 54:29(29) آخر کار ثمود نے اپنے رفیق اور ساتھی قذار بن سالف کو پکارا پس اس نے جرات کی اور حملہ کیا اور دست درازی کی اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ قذار بن سالف ایک شقی تھا اس نے اپنی محبوبہ کے اشارے سے یہ جرات کی اور تلوار سے اس اونٹنی پر حملہ کیا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں یعنی قتل کردیا سورة اعراف میں فعقروا فرمایا یعنی باقی لوگوں کی بھی ہمدردیاں حاصل تھیں یا اس کے اس ناشائستہ فعل پر راضی تھے اس لئے اس کا فعل پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا۔
Ayah 54:30(30) پھر دیکھو کہ میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ یعنی تیسرے دن عذاب آگیا اسی کو فرماتے ہیں۔
Ayah 54:31(31) ہم نے ان پر ہولناک آواز اور ایک نعرے کو مسلط کردیا اور ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی۔
پھر وہ ایسے ہوگئے جیسے کسی باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا چورا ہوجاتا ہے۔ یعنی ایک فرشتے کو مسلط کردیا اس نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے پتے پھٹ گئے اور ایسے ہوگئے جیسے باڑ لگانے والے کی باڑ کا چورا۔ اکثر دیہات میں مویشیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ کانٹول کی باڑ لگادیا کرتے ہیں تاکہ مویشی درندوں سے محفوظ رہیں لیکن چونکہ اس باڑ کے پاس سے مویشی گزرتے ہیں اس لئے وہ باڑ مویشیوں کے گزرنے کی وجہ سے کچھ عرصہ کے بعد چورا چورا ہوجاتی ہے اس سے تشبیہ دی کہ ان کا بھی یہی حال ہوگیا پامال شدہ باڑ کے ساتھ تشبیہہ دینا اہل عرب کے سمجھانے کے لئے ہے وہ اس کو خوب سمجھتے تھے۔
Ayah 54:32(32) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے وال ا اور سوچنے والا ہے۔
Ayah 54:33(33) لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور رسولوں کو جھٹلایا۔ چونکہ کسی ایک پیغمبر کی تکذیب مستلزم ہے سب رسولوں کی تکذیب کو اس لئے رسول کو جمع لائے۔
Ayah 54:34(34) ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا کو بھیجا مگر ہاں لوط (علیہ السلام) کے متعلقین کو ہم نے اخیر شب میں۔
Ayah 54:35(35) اپنے فضل سے بچا نکالا جو شکر بجا لاتا ہے اور حق مانتا ہے ہم اس کو ایسا ہی صلہ اور ایسی جزا دیا کرتے ہیں۔ یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم پر پتھرائو ہوا پتھروں کا مینہ برسا آندھی آئی پتھرائو کی البتہ جو لوگ اس پر ایمان لائے تھے وہ بچائے گئے ایمان والوں کو آل فرمایا ان کو سحر کے وقت بچا نکالا۔ آخر میں فرماتے ہیں ہم شکر گزاروں کو ایسا ہی صلہ عطا فرماتے ہیں۔ کذلک نجزی من شکر۔
Ayah 54:36(36) اور بلا شبہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری گرفت اور ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا سو انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے نکال کھڑے کئے اور جھگڑے پیدا کیئے اور مکابرہ کیا۔ یعنی اس کی بات کو غلط ثابت کرنیل گے اور ٹکرانے لگے۔
Ayah 54:37(37) اور انہوں نے بری نیت اور نیت بد سے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو لوط (علیہ السلام) سے حاصل کرنا چاہا پھر ہم نے ان کی آنکھیں بےنور کردیں اور ان کی آنکھیں مٹا دیں اور کہا گیا کہ لو اب میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں جو فرشتے مہمان بن کر آئے تھے ان مہمانوں پر حملہ آور ہوئے اور چاہا کہ ان مہمانوں کو لوط سے چھین کرلے جائیں اور یہیورش ان کی بدنیتی اور برے ارادے سے تھی تو ہم نے ان کو اندھا کردیا، آنکھیں پٹ ہوگئیں اور ارشاد ہوا اب میری سزا اور میرے ڈرانے کا مزہ چکھو کہتے ہیں حضرت جبرئیل نے اپنا پر ان کی آنکھوں پر مارا جس سے وہ اندھے ہوگئے۔
Ayah 54:38(38) اور بلا شبہ صبح سویرے ہی ان پر ایک دائمی عذاب آپہنچا۔
Ayah 54:39(39) کہا گیا اب تم میرے عذاب اور میرے ڈراے کا مزہ چکھو۔
Ayah 54:40(40) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور سوچنے والا ہے۔ یعنی یورش کے وقت تو اندھا کردیا گیا اور صبح ہونے کے وقت ٹھہر جانے والا عذاب نازل ہوگیا جو برزخ میں بھی رہا اور جہنم میں بھی ہوگگا۔ یعنی تمام بستیاں الٹ دی گئیں اور کھنگر کا پتھرائو ہوا جیسا کہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزرا ہے۔
آخر میں پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کو آسان کردیا نصیحت کے لئے تو کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا۔
مدکر کے ترجمے میں حضرت شاہ رفیع الدین صاحب (رح) اور شاہ عبدالقادر صاحب (رح) نصیحت حاصل کرنا اور سوچنا کرتے ہیں اس لئے ہم نے دونوں باتیں لکھی ہیں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے جو سوچے اور غور کرے گا وہی نصیحت بھی قبول کرے گا ڈرانے اور عذاب کے چونکہ واقعات کا بیان ہے اس لئے بار بار فذوقواعذابی ونذر فرمایا جیسا کہ نعمتوں کے موقعہ پر بار بار فبای الاء ربکما فرمایا۔