53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے۔

(1) قسم ہے تارے کی جب وہ غروب ہونے لگے۔
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق صحبت یعنی محمد ﷺ نے نہ راہ گم کی اور نہ وہ غلط راہ چلے۔

(2) کہ تمہارے رفیق صحبت اور ساتھی یعنی محمد ﷺ نے نہ راہ گم کی اور نہ وہ راہ سے بہکے اور نہ بےراہ چلے۔ سیاروں کے طلوع اور غروب سے مسافروں کو جہت کا پتہ چلتا ہے اور رات کی تاریکی میں ان سیاروں سے بڑی رہنمائی ہوتی ہے اور چونکہ نبی کریم ﷺ کے ہادی برحق ہونے اور ہر قسم کی گمراہی اور غوایت سے پاک ہونے پر قسم کھائی تھی اس لئے تارے کی قسم کھائی اور اس مناسبت سے قسم کا یہ عنوان قائم کیا۔ عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ نجم سے مراد یہاں تاروں کی جنس ہے کوئی خاص تارا مراد لینا راجح نہیں اگر مفسرین کے بیشمار اقوال ہیں جیسے ثریا، زحل ، زہرہ یا وہ ستارے جو نبی کریم ﷺ کی ولادت کے وقت اترے اور لٹکتے تھے یا وہ نجوم جو رجم شیاطین کے وقت مستعمل ہوتے ہیں بعض نے نجم سے مراد قرآن کی آیتیں اور سورتیں لی ہیں۔ بہرحال قسم کا جواب ہے ماضل صاحبکم وماغوی گمر کردہ را جو راستہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کھڑا رہ جائے اور غویٰ وہ جو ایک رستے سے بہک کر دوسی بٹیا پر پڑجائے سرکار دوعالم ﷺ سے دونوں باتوں کی نفی فرمائی۔ کفار اکثر دو باتیں کہتے تھے دعویٰ رسالت کے بعد گم کردہ راہ اور راستے سے بھٹک جانے والا عام طور سے کہتے تھے حضرت حق تعالیٰ نے دونوں کی نفی فرمائی کہ نہ یہ گمراہ ہے نہ راستے سے بہکا ہے۔ ھری کا ترجمہ ہم نے مصدر کو قبول کے وزن پر رکھتے ہوئے کیا ہے اور اگر ھوی کو دخول کے وزن پر رکھا جائے تو اس کے معنی طلوع کے ہوں گے بہرحال ہم نے غروب کو اختیار کیا کیونکہ تارے کے غروب کے وقت مسافروں کو راہ اور جہت معلوم کرنے کا زیادہ شوق ہوتا ہے اور وہ اس وقت کا اہتمام بھی زیادہ کرتے ہیں۔ رفیق صحبت اور ساتھی اس لئے فرمایا کہ اس کی تمام زندگی سے تم واقف ہو تمہارے سامنے بڑھا اور پلا ہے اور تم خود بھی اس کی صداقت اور امانت کے معترف ہو۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ وہ اپنی نفسانی خواہش سے کوئی بات بنا کر کہتے ہیں۔

(3) اور نہ وہ اپنی نفسانی خواہشات سے کوئی بات بنا کر کہتے ہیں۔ یعنی جیسا کہ م کہتے ہو کہ یہ قرآن اس نے خود بنالیا ہے یا اس نے کوئی نئی شریعت بنائی ہے حالانکہ جہاں تک انسانی ہدایت اور رہنمائی کا تعلق ہے ان کی کوئی بات بھی خود ساختہ اور اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے بلکہ۔
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

ان کا فرمان تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔

(4) ان کا ہر فرمان اور ان کا ہر ارشاد تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ یعنی انسانی ہدایت کے بارے میں ان کا ہر کلام اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو وحی ان کی جانب بھیجی جاتی ہے……وہ وحی متلو یعنی قرآن ہو یا غیر متلو یعنی حدیث ہو، غرض شریعت اور دین کے بارے میں وہ کوئی بات اپنی جائو اور اپنی خواہش سے نہیں کہتے اور نہیں بولتے۔
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اس وحی کو انہیں ایک بڑا طاقتور فرشتہ تعلیم کرتا ہے۔

(5) اس وحی کو انہیں ایک بڑا طاقت ور فرشتہ تعلیم کرتا ہے۔ یعنی جو وحی ان کی جانب کی جاتی ہے اسکو ایک بڑا زور آور اور طاقت دار فرشتہ لے کر آتا ہے اور ان کے سامنے پڑھتا اور بیان کرتا ہے اسی کو تعلیم سے تعبیر کیا ہے طاقت دار اس فرشتے کو کہا تاکہ معلوم ہو کہ راستے میں اس کے بدلنے اور گھٹنے بڑھنے کا احتمال بھی نہیں۔ مراد اس فرشتے سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جن کی بےپناہ طاقت اور زور کا اندازہ کرنا مشکل ہے جن کی ایک آواز سے لوگوں کے پتے پھٹ جائیں اور جو بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر الٹ دیں تو جو پیام وہ لے کر آئیں ان سے کون چھین سکتا ہے اور کون تبدیل کرسکتا ہے۔ شدید القوی کی اضافت صفت مشبہ کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ یعنی ملک شدید قواۃ یعنی ایک ایسا فرشتہ جس کیقوابہت قوی اور سخت ہیں۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو خوش منظر اور زور آو رہے پھر وہ فرشتہ سیدھا کھڑا ہوا ۔

(6) جو خوش منظر صاحب حسن اور زور آور ہے پھر وہ فرشتہ اپنی اصل شکل میں سیدھا کھڑا ہوا۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

ایسی حالت میں کہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا۔

(7) دراں حالانکہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا۔ ھرۃ کے معنی بھی مضبوط کے ہیں۔ مریرہ اس رسی کو کہتے ہیں جو بہت ہی مضبوط بٹی ہوئی ہو۔ استحکام عقل اور مضبوطی رائے اور دین کی متانت کے لئے بھی بولا جاتا ہے صاحب حسن اور وجیہ کو بھی کہتے ہیں فلاں ذومرہ کانہ محکم الفتل۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) نے صاحب حسن ترجمہ کیا ہے اس لئے ہم نے خوش منظر کردیا ہے بہرحال شدید القوی کے بعد پھر ذومرۃ فرمایا تو یا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی روحانی اور جسمانی طاقت کو ظاہر کرنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ بڑی قوت والا پیدائشی طاقت ور اور زور آور ہے بہرحال حضرت جبرئیل کی کمال طاقت اور کمال زور کا اظہار ہے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہمیشہ آپ کی خدمت میں انسانی شکل و صورت کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ حضرت وحیہ کلبی ؓ کی شکل میں آتے تھے اور ان کا قاعدہ بھی یہی ہے کہ ہر پیغمبر کے پاس انسانی صورت میں آتے رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو ان کی اصلی شکل میں دیکھنے کی خواہش کی چناچہ وہ افق اعلیٰ میں اپنی اصلی صورت میں حضور کو نظرآئے یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب آپ غارحرا میں خلوت کی زندگی بسر فرمایا کرتے تھے اور کئی کئی دن بعد گھر آیا کرتے تھے اور عام طریقے سے جو خواب آپ شب میں دیکھتے تھے وہ دوسرے دن صبح کی روشنی کی مانند ظاہرہوجاتا تھا اور دوسرے ہی دن وہ واقعہ اسی طرح ظہور پذیر ہوجاتا تھا یہ ان ہی دنوں کی بات ہے وحی کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا چناچہ جبرئیل آسمان کے کنارے کی بلندی پر نظر آئے ان کی چھ سو پر تھے جن کی لمبائی چوڑائی سے مشرق سے لے کر مغرب تک کی تمام فضا پر نظر آئی حضور ﷺ یہ شکل و صورت دیکھ کر گھبرا گئے اور آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی اسی وقت حضرت جبرئیل نے انسانی شکل اختیار کی اور آپ کے قریب آکر آپ کو اٹھایا چناچہ اسی کو آگے بیان فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) بیان فرماتے ہیں حضرت کو اول نبوت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نظر آئے اصل صورت پر ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے آسمان سے بھر رہا کنارے سے کنارے تک یہ دیکھ کر گھبرائے تو سورت مدثر اتری شدید القوی ذومرہ کی صفتیں سورة کورت میں حضرت جبرئیل کی کہی ہیں۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ فرشتہ نزدیک ہوا اور اترایا۔

(8) پھر وہ فرشتہ نزدیک ہوا اترآیا۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم۔

(9) یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی ۔

(10) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ بھی نازل فرمائی۔ جیسا کہ اوپر فرمایا تھا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی شکل میں نظر آئے جب حضور ﷺ کو پریشانی اور بےہوشی ہوئی تو وہ انسان شکل کے ساتھ متشکل ہوکر حضور کے قریب آئے اور جھک کر آپ کو اٹھایا جس کو قرآن نے فتدلی فرمایا قرب کو محاورے کے طور پر فرمایا وہ کمان یا اس سے بھی کم فاصلہ تھا عرب کا قاعدہ تھا کہ جب وہ شخص باہمی یکانگت اور اتحاد کا عہد کرتے تھے تو وہ کمانوں کو باہم ملا کر آدمی مل کر ایک تیر پھینکتے تھے اور اس کو دوستی اور اتحاد کا عہد کہا کرتے تھے۔ اسی اتحاد اور یگانگت کی طرف شاید اشارہ ہو۔ بہرحال جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کو اٹھایا اور پیشانی سے خاک کو صاف کیا تو اس وقت حضرت جبرئیل کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محمد ﷺ پر وحی بھیجی وہ وحی مخفی ہے اس وحی میں شاید آپ کی امت کے لئے کوئی بشارت تھی۔ بعض لوگوں نے کہا اس وحی کا مضمون یہ تھا کہ جنت میں اس وقت تک کوئی نبی داخل نہ ہوگا جب تک آپ جنت میں داخل نہ ہوجائیں اور تمام انبیاء کی امم پر دخول جنت اس وقت تک حرام کردیا گیا ہے جب تک آپ کی امت جنت میں نہ داخل ہوجائے، بعض نے کچھ اور فرمایا ہے۔ بہرحال کوئی حقیقی بات اس وحی کے متعلق نہیں کہی جاسکتی آگے اپنے پیغمبر کی تصدیق فرماتے ہیں۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ پیغمبر کی آنکھوں نے دیکھا اس کے سمجھنے میں دل نے غلطی نہیں کی۔

(11) جو کچھ پیغمبر کی آنکھ نے معائنہ کیا اس کے سمجھنے میں دل نے غلطی نہیں کی اور جھوٹ نہیں کہا۔
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

سو کیا تم پیغمبر کی دیکھی ہوئی چیز میں اس سے جھگڑتے ہو۔

(12) پس تم کیا پیغمبر کی دیکھی ہوئی چیز میں اس سے جھگڑتے ہو۔ یعنی محمد ﷺ نے اس فرشتہ کا جس طرح مشاہدہ کیا اور معائنہ کیا دلنی اور دماغ نے اسی طرح سمجھا دل نے جھوٹ نہیں کہا اور دماغ نے اس کے سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی تو اب ایسی بات جس کو ان کی آنکھوں نے دیکھا اور دل و دماغ نے سمجھا تم اس چیز میں اے منکرو اس پیغمبر سے جھگڑا کرتے ہو۔ ایسا جھگڑا کٹ حجتی اور حماقت نہیں تو اور کیا ہے تمہاری گفتگو اور مجادلہ بیکار اور تمہاری ایک عامیانہ حرکت ہے۔
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور بلا شبہ انہوں نے اس فرشتے کو اس کی حقیقی شکل میں ایک اور مرتبہ بھی دیکھا

(13) اوربلا شبہ پیغمبر نے اس فرشتے کو ایک اور مرتبہ بھی اس کی حقیقی شکل میں دیکھا ہے۔
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

ہے اس بیری کے پاس جو منتہائے حد پر واقع ہے۔

(14) یہ دیکھنا اس بیری کے پاس تھا جو منتہائے حد پر واقع ہے۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی بیری کے قریب ہے بہشت آرام سے رہنے کی۔

(15) اس بیری کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

فرشتے کو اس وقت دیکھا کہ جس وقت اس بیری کا ڈھانک رکھا تھا جس نے بھی ڈھانک رکھا تھا۔

(16) اس وقت اس فرشتے کو دیکھا جس وقت اس بیری کو ڈھانک رہا تھا جس نے بھی ڈھانک رکھا تھا۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

پیغمبر کی نگاہ نے نہ کجروی اختیار کی اور نہ اس نے مقصد سے تجاوز کیا ۔

(17) نہ تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگاہ نے کجروی کی اور نہ مقصد کی حد سے تجاوز کیا۔ مطلب یہ ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اس نے فرشتے کو اس کے اصلی روپ میں زمین پر دیکھا بلکہ اس نے ساتویں آسمان پر سورة المنتہیٰ کے قریب ہی اس فرشتے کو اس کی اصل شکل میں دیکھا۔ سیدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر ایک بیری کا درخت ہے منتہیٰ اس بنا پر کہا کہ یہ ایک مرکزی مقام ہے عرش الٰہی سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ پہلے یہیں پہنچتے ہیں اور وہاں سے ہر چیز فرشتے زمین پر لاتے ہیں۔ اسی طرح زمین والوں کے تمام اعمال پہلے وہاں پہنچتے ہیں اور وہاں سے اوپر لے جائے جاتے ہیں ہر جگہ کے فرشتے علیحدہ علیحدہ ہیں فرشتوں کی جماعتیں وہاں بکثرت جمع رہتی ہیں اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں جنت الماویٰ متقیوں کی آرام گاہ ہے پھر فرشتے کے دیکھنے کا وقت بیان فرمایا جب بیری کو ڈھانک رکھا تھا جس نے ڈھانک رکھا تھا وہ وقت کہ حضور ﷺ نے فرشتے کو اصلی شکل میں دیکھا۔ بہرحال معراج میں تو جبرئیل ہر وقت ساتھ ہی تھے سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ کر آپ نے ان کو اصل شکل میں دیکھ لیا ڈھانک رکھا تھا یعنی انوار الٰہی نے ، یا فرشتے، یا بعضی روایات ڈھانکنے والے اور لپٹنے والے پر وانے تھے یعنی لپٹنے والوں کی شکل پروانوں کی سی معلوم ہوتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی نگاہ نے کسی چیز کو دیکھنے میں نہ تو کجروی کی ۔ یعنی جس چیز کو دیکھنے کا حکم ہوا اس کو خوب دیکھا اور جس کے دیکھنے کا حکم نہ ہوا اس کے دیکھنے میں جلدی نہ کی بلکہ حکم کے بعد دیکھا جو کچھ آپ نے ملاحظہ فرمایا وہ چونکہ عجیب و غریب تھا اس لئے آگے فرمایا۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

بلاشبہ انہوں نے اپنے رب کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے۔

(18) بلا شبہ انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات ملاحظہ فرمائے - عرش کرسی، رفرف اور ملاء اعلیٰ کے تمام فرشتے اور جو باتیں معراج کے بیان میں ذکر کی جاتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس نے اپنے حبیب اور اپنے معزز مہمان کو کیا کیا دکھایا اور کہاں کہاں کی سیرکرائی۔ اس مختصر میں اول تو ان سب باتوں کی گنجائش نہیں، نیز راز کی باتیں راز ہی میں رہیں تو اچھی ہیں جو باتیں حد ادراک سے آگے ہوں اور جہاں عقل وخرد تھک کر گرجائے ان کا بیان ہو بھی کب سکتا ہے او وہ کسی کی سمجھ میں بھی کیا آسکتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوسری بار جبرئیل کو اپنی صورت پر دیکھا معراج کی رات میں سات آسمان سے اوپر جہاں درخت ہے بیری کا وہ حد ہے نیچے کی اور اوپر کی نیچے کے لوگ اوپر نہیں پہنچتے اور اوپر کے لوگ نیچے نہیں اترتے۔ اس کے بعد بہشت کو دیکھا اس بیری پر چھا رہے پروانے سبزے ایسے خوش رنگ جن کے دیکھے سے دل کھچا جاوے اور نمونے جو دیکھے سو اللہ ہی کو خبر ہے۔ فائدہ : واضح رہے کہ ہم نے ان آیات کی تفسیر مشہور اور راجح قول کی بنا پر کی ہے ورنہ بعض صحابہ ؓ سے تفسیر اور طرح منقول ہے مثلاً فاستوی وھو بالافق الاعلی میں یوں ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ شب معراج میں دونوں افق اعلیٰ پر کھڑے ہوئے ایسے ہی دلی فتدلی میں نبی کریم ﷺ قریب ہوئے اللہ تعالیٰ کے اور سجدے میں گرپڑے۔ یا قریب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے انوار اور اس کی رحمت نے بڑھ کر ان اٹھا لیا ایسے ہی فکان قاب قوسین میں قریب خداوندی کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر جو وحی کی دوبارا دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بار بار ملاتی ہوئے وپس آتے تھے اور پھر لوٹ کر تخفیف کراتے تھے جیسا کہ شریک کی روایت میں نمازوں کی تخفیف کے لئے بار بار لوٹنے کا ذکر ہے۔ غرض فاستوی سے لے کر آخر تک سب آیتوں کا تعلق معراج سے ہی بیان کیا گیا ہے اور بجائے جبرئیل کے حضرت حق تعالیٰ کی طرف ضمائر کا مرجع بتایا ہے پھر حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے درمیان اللہ تعالیٰ کی رویت میں اختلاف کا ذکر کیا ہے حالانکہ درحقیقت وہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بعض علماء نے دونوں کے قول جمع کرنے میں توجیہات سے کام لیا ہے بہرحال ہم نے ان تمام عنوانات کو چھوڑ دیا ہے بلکہ قرآن کا نفس مطلب مشہور قول کی بنا پر سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب وعندہ علم الکتاب والیہ المرجع والماب۔ حضرت حق تعالیٰ کی قدرت اور اس کی خالقیت کو بیان کرنے کے بعد اب بتوں کی بےبسی کا اظہار فرماتے ہیں۔
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

سو کیا تم نے لات اور عزی کے حال پر۔

(19) پس اے دین حق کے منکرو ! تم نے لات اور عزیٰ کے حال پر۔
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور ایک اور تیسرے منات کے حال پر غور بھی کیا ہے۔

(20) اور تیسرے ایک اور منات کے حال پر غور کیا ہے۔ یعنی جب نبی کریم ﷺ کی وحی اور آپ کا جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھنا تم کو معلوم ہوگیا اور تم کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کی توحید کا حال معلوم ہوگیا اب بتائو کہ تم نے ان بتوں کے حال پر بھی غور کیا جن کے نام تم نے لات اور عزلی اور تیسرے ایک اور کا نام منات رکھ چھوڑا ہے ان میں کیا قدرت ہے اور ان کی کیا حقیقت ہے اور کیا یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جائے۔ لات، عزیٰ اور منات قریش کے مشہور بت ہیں، لات کی ثقیف کے لوگ پوجا کیا کرتے تھے عزیٰ کو غطفان پوجتے تھے منات ایک پہاڑ کا ٹکڑا تھا جس کو خزاعہ پوجتے تھے حضرت حق تعالیٰ نے منات کے ساتھ اخریٰ فرماکر اس کی بےقدری اور اس کے گھٹیا ہونے پر اشارہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ نام ہیں بتوں کے کافر کہتے تھے یہ بیٹیاں ہیں اللہ کے ان کی ماں جنوں کی بیٹیاں۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے خیال میں فرشتوں کے یہ فرضی نام رکھ لئے ہوں کیونکہ عام طور سے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ ک بیٹیاں کہتے تھے اسی بات کا آگے رد فرماتے ہیں۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں۔

(21) کیا تمہارے لئے بیٹے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

اگر ایسا ہے تو یہ تو بہت ہی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

(22) اگر ایسا ہے تو پھر اس حالت میں تو یہ بہت ہی بھونڈی اور غیر منصفانہ تقسیم ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ جن بیٹیوں کو تم ناپسند کرتے ہو وہ ناپسندیدہ چیزتم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو اور اپنے لئے بیٹے تجویز کرتے ہو اس قسم کی تقسیم تو بہت ہی غیر منصفانہ ہے۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ بت کچھ نہیں مگر چند نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں نازل کی یہ لوگ محض اپنے بےبنیاد خیالات اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ یہ واقعہ ہے کہ ان کے رب کی جانب سے ان کے پاس صحیح ہدایت آچکی ہے۔

(23) یہ مذکورہ اصنام کچھ نہیں مگر چند نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ثبوت پر کوئی دلیل اور حجت نہیں نازل فرمائی یہ لوگ محض بےبنیاد خیالات اور وہم فاسد اور اٹکل کی اور اپنی نفسانی خواہش اور جیوں کے چائو کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ یہ واقعہ ہے کہ ان کے پروردگار کی جانب سے ان کے پاس صحیح ہدایت اور رہنمائی پہنچ چکی ہے۔ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے پاس قرآنی تعلیم اور پیغمبر ﷺ جن کی ذات مقدس جو ہدایت ہی ہدایت ہے ۔ یہ تمام سامان ہدایت پہنچ چکا ہے مگر باوجود اس کے کہ ان کی حالت یہ ہے کہ چند من گھڑت نام جو انہوں نے اور ان کے بڑوں نے دیوی اور دیوتائوں کے وضح کر رکھنے ہیں جن کے لئے آسمان سے کوئی دلیل نہیں اتری اور اللہ تعالیٰ نے کوئی حجت نہیں نازل فرمائی ان کے مفروضہ بتوں کی پرستش کئے جاتے ہیں یہ پیروی نہیں کرتے مگر محض اٹکل اور تخمینے اور گمان فاسد کی اور اپنے نفوس اور جیوں کی خواہش کی صرف پیروی کرتے ہیں اور جو سامان ہدایت ان کو پہنا ہے اس پر غور نہیں کرتے۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

بھلا کہیں انسان کا ہر چاہا پورا ہوا کرتا ہے۔

(24) بھلا کہیں انسان کا ہر چاہا پورا ہوتا ہے اور کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے اور کہیں آدمی کو ملتا ہے جو کچھ چاہے۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

پس خدا ہی کے اختیار میں ہے وہ عالم بھی اور یہ عالم بھی۔

(25) سو اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے وہ عالم بھی یہ عالم بھی۔ یعنی انسان کی ہر آرزو پوری نہیں ہوا کرتی خواہ ان منکروں کی یہ آرزو ہو کہ یہ بت ان کی سفارش کریں گے یا یہ آرزو ہو کہ اسلام دنیا میں نہ پھیلے اور مسلمان ختم ہوجائیں یا یہ آرزو ہو کہ نبوت اس پیغمبر سے چھن کر عرب کے کسی اور بڑے آدمی کو مل جائے۔ بہرحال یہ بات نہیں ہے کہ انسان کی ہر تمنا پوری ہوجائے بلکہ وہ جہاں اور یہ جہاں یعنی عالم آخرت اور عالم دنیا سب میں اللہ تعالیٰ ہی کی فرماں روائی ہے اور دونوں عالم اسی کے اختیار میں ہیں وہ جو چاہتا ہے وہ ہوتا ہے فللہ الاخرۃ والاولیٰ ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بت پوجنے سے کیا ملتا ہے وہی جو اللہ وہ پچھلے اور پہلے یعنی آخرت اور دنیا کی پادشاہی۔ ؎ ماکل ما یتمنی المرید رکہ تجری الریاح بمالا تشتھی اسفن
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں جن کی شفاعت ذرا بھی نفع نہیں د ے سکتی مگر ہاں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہے سفارش کرنے کا حکم دیدے اور اس کے لئے سفارش کو پسند کرے۔

(26) اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے موجود ہیں کہ ان کی سفارش اور شفاعت ذرا بھی نفع نہیں دے سکتی اور کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی مگر ہاں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے شفاعت کرنے کا حکم اور اجازت دے دے اور اس کے لئے سفارش کو پسند کرے۔ یعنی اول تو فرشتے بلا اجازت کسی کی سفارش ہی نہیں کرسکتے اور اگر سب فرشتے مل کر بھی کسی کی شفاعت کریں تو نافع نہیں…ہاں صرف اس صورت میں نافع ہوسکتی ہے کہ اللہ جس کے لئے چاہے اذن دیدے اور اس کو پسند کرے یعنی اس کے حق میں سفارش کرنا اس کو پسندیدہ ہو یہ نہیں کہ جیسے دنیا میں بعض موقعہ پر محض دبائو سے یا لالچ سے کوئی کسی کی سفارش کرتا ہے یا کسی سے سفارش کرالیتا ہے۔
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو لڑکیوں کے نام سے نامزد کرتے ہیں۔

(27) بلا شبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو لڑکیوں کے نام سے نامزد کرتے ہیں اور ……فرشتوں کے زنانے اور عورتوں کے سے نام رکھتے ہیں۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض بےبنیاد خیالات کی پیروی کرتے ہیں اور یقینی بات کے مقابلہ میں بےبنیاد خیالات ذرا بھی بھی کارآمد نہیں ہوسکتے۔

(28) حالانکہ ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض بےبنیاد اور بےاصل خیالات اور صرف اٹکل کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ ایک حقیقت واقعیہ اور ثابتہ کے مقابلے میں اٹکل اور اوہام فاسدہ ذرا بھی کارآمد اور مفید نہیں ہوسکتے۔ یعنی ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اس لئے ان کے نام بھی عورتوں اور لڑکیوں کے سے رکھتے ہیں حالانکہ ان کے ایسا کرنے کی کوئی سند نہیں۔ یہ لوگ محض اٹکل کی باتوں پرچلتے ہیں اور اہام کی باتیں کرتے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ امر حق کے مقابلے میں بےاصل اوہام اور خیالات اور اٹکل جن کی کوئی سند نہ ہو کچھ کام نہیں آسکتے۔ وان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔ مجتہدین کے کسی مسئلے کا مختلف فیہ ہونا اس کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں جو لوگ مسائل فقیہہ کے اختلاف میں اس آیت کو پڑھا کرتے ہیں یا پیش کرتے ہیں وہ بڑی زیادتی اور بےباکی سے کام لیتے ہیں۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

سو آپ ایسے شخص کو منہ نہ لگائیے جس نے ہماری نصیحت سے روگردانی اختیار کررکھی ہہ اور بجز دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔

(29) پس آپ ایسے شخص کو منہ نہ لگائیے اور ایسے شخص سے منہ پھیر لیجئے اور اس سے بےالتفاقی کا برتائو کیجئے جس نے ہماری نصیحت اور ہماری ذکر سے روگردانی اختیار کر کھی ہو اور سوائے دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

بس ان لوگوں کے فہم کی رسائی یہیں تک ہے بیشک آپ کا رب ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی اس سے بھی خوب واقف ہے جس نے صحیح راہ پائی۔

(30) ان لوگوں کے فہم کی رسائی اور ان کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے بیشک آپ کا پروردگار ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہی اس سے خوب واقف ہے جس نے صحیح راہ پائی۔ ذکر سے مراد قرآن، یا ایمان، یا ذکر الٰہی اور خدا تعالیٰ کی یاد ہے ایسے لوگ جو ہمارے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں اور کسی طرح نہیں مانتے آپ بھی ان سے بےتوجہی کا برتائو کیجئے کیو کہ ان کا مقصد صرف دنیوی زندگی کا عیش و آرام ہے اور ان کا مبلغ علم اور ان کے فہم کی رسائی اس سے آگے نہیں ہے یعنی عالم آخرت تک پہنچا ہی نہیں ان کے علم کی پہنچ اور رسائی کی حد یہیں تک ہے ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد اور حوالے کیجئے وہی جانتا ہے کہ گم کردہ راہ کون ہے اور وہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے تاکہ آخرکار جن لوگوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے ان کو ان کے کئے کا بدلا دے اور جنہوں نے بھلے کام کئے ہیں ان کو اچھا صلہ عنایت فرمائے۔

(31) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کے اختیار میں ہے تاکہ انجام کار ان لوگوں کو جنہوں نے برے عمل کئے ہیں اور برائیوں کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے کئے کا ان کا بدلا دے اور جنہوں نے بھلے کام کئے اور بھلائیاں کیں ان کو اچھا صلہ عنایت فرمائیے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

وہ بھلے لوگ وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں الا یہ کہ کوئی معمولی گناہ جو اتفاقیہ واقع ہوجائے بلا شبہ آپ کے رب کی مغفرت بڑی وسیع ہے وہ تم کو اس وقت سے اچھی طرح جانتا ہے جب اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی مائوں کے پیٹ میں بچے تھے لہٰذا تم خود ستائی نہ کیا کرو خدا ہی خوب جانتا ہے اس کو جو پرہیزگار ہے۔

(32) وہ بھلے لوگ وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے اور اجتناب کرتے ہیں الا یہ کہ کوئی معمولی اور صغیرہ گناہ جو اتفاقیہ واقع ہوجائے بلا شبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت اور بخشش بہت وسیع ہے وہ تم کو اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا تھا اور جب تم اپنی مائوں کے پیٹ میں بچے اور جنین تھے لہٰذا تم خود ستائی اور خود اپنی پاکیزگی بیان نہ کیا کرو اور اپنے کو مقدس نہ سمجھا کرو وہ اللہ تعالیٰ ہی تقوے والوں کو خوب جانتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے اس کو جو پرہیزگار ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہر گمراہ اور ہدایت یافتہ کو خوب جانتا ہے تو اب یہ بات فرمائی کہ وہ مالک الملک ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو سزا اور جزا بھی دے گا ورنہ نیکی اور بدی بےکار اور عبث ہوکر رہ جائے گی۔ اس لئے فرمایا کہ وہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس سب کا مالک ہے اس لئے انجام کار یہ ہوگا کہ ہر برائی کے مرتکب کو اس کی برائی کا بدلہ اور جزا دی جائے گی اور جو محسن اور نکوکار ہیں ان کا اچھا صلہ یعنی جنت ملے گی۔ بعض حضرات نے لیجزی کا تعلق ان ربک ھواعلم من ضل عن سبیلہ ھوا اعلم بمن اھتدی سے بیان کیا ہے اور وللہ مافی السموت ومافی الارض کو جملہ معترضہ بنایا ہے۔ اس تقدیر پر مطلب بالکل صاف ہے اور اس تقدیر پر لیجزی کے لام کو لام عاقبت رہے کی ضرورت نہ ہوگی آگے محسنین کا مزید وضاحت اور ان کا وصف بیان فرمایا کہ وہ لوگ کبائر سے بچتے اور اجتناب کرتے ہیں یعنی کبیرہ گناہ اور خاص طور پر ان کبیرہ گناہوں میں سے جو فواہش اور بےحیائی کے کام ہیں اس سے بچتے ہیں یا تو کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کرتے اور اگر ہوجائے تو فوری طور پر توبہ اور ندامت سے اس کا تدارک کرتے ہیں وقوع گناہ پر لاپروائی نہیں کرتے الا اللھم میں بھی دو قول ہیں اگر استثنا منقطع ہو تو مطلب یہ ہے کہ معمولی اور صغیرہ گناہ اگر کبھی اتفاقیہ ہوجائے تو وہ گزر ہوجاتے ہیں بشرطیکہ ان پر اصرار نہ ہو اور ان پر دوام نہ ہو کہ ہمیشہ لاپروائی کے ساتھ صغیرہ گناہ کرتا رہے کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی مل کر ایک دن بڑا گناہ ہوجاتا ہے۔ بہرحال بعض متقدمین نے استثنا کو متصل کہا ہے اس تقدیر پر کبائر سے استثنا ہوگا یعنی اگر کبھی کسی گناہ میں گرفتار ہوجاتے ہیں تو توبہ کرتے ہیں اور دوبارہ وہ گناہ نہیں کرتے۔ چونکہ مفسرین کے کئی قول ہیں اس لئے ہم نے ان کی جانب اشارہ کردیا ہے اور استثنا منقطع لیا جائے تو مطلب صاف ہے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ الذین احسنوا کا جو وصف الذین یجتنبون میں بیان کیا گیا ہے اس میں کبیرہ کے مرتکب کو حسنیٰ یا کوئی صلہ ہی نہیں ملے گا۔ آیت کا یہ مطلب نہیں بلکہ نیک کاموں کا بدلہ ضرور دیا جائے گا اور حسنیٰ ان کو ضرور ملے گا۔ یہ دوسری بات ہے کہ کچھ تاخیر سے ملے یہ نہیں کہ کسی گناہ کی وجہ سے نیکوں کا اجر ہی ختم کردیاجائے۔ بہرحال اب مطلب بالکل واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ جو مالک الملک ہے اس کے لئے ہر نیک وبد کو جزا اور مکافات اور اجر وثواب عطا کرنا کچھ مشکل نہیں وہ بدوں کو بدی کی مکافات دے گا اور نیکوں کو صلہ یعنی حسنیٰ دے گا۔ یہ حسنیٰ کے مستحن اولین وہ محسن ہوں گے جو کبائر سے اجتناب کرتے ہیں مگر ہاں کوئی معمول گناہ اور آلودگی کبھی ہوجائے تو وہ درگزر ہوجاتی ہے کیونکہ آپ کا پروردگار بڑا وسیع المغفرت اور بڑی بخشش کرنے والا ہے وہ معمولی لغزشوں کو درگزر کرتا ہے اور کبائر سے وبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالیتا ہے آگے ایک اور اخلاقی اور بلند بات فرمائی کہ محسنین اور نکوکاروں کو اپنی نیکی پر فخر وعجب اور تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ نیکیوں میں کوئی ایسی کوتاہی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں یا کوئی پوشیدہ برائی اس نیکی میں شامل ہوجاتی ہے جس سے وہ نیکی نیکی نہیں رہتی اس لئے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرنا چاہیے کہ کون نیک ہے اور کون متقی ہے اور کسی کی نیکیاں مقبول ہیں کیونکہ وہ تم کو اس وقت بھی جانتا تھا جب تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا تھا اور ابتداء میں ان کو مٹی سے بنایا تھا پھر جب توالد تناسل کا سلسلہ شروع ہوا تو جب تم ماں کے پیٹ میں تھے اس وقت بھی تم کو جانتا تھا اور تمہارے احوال اور تمہاری حالت سے واقف تھا لہٰذا اس واقف کار کو اپنے محسن اور نیک ہونے کا معاملہ سپرد کردو اور اپنی خوبیاں اور اپنی پاکیزگی خود اپنی زبان سے بیان نہ کیا کرو اور اپنے کو پاکباز اور متقی نہ سمجھو بیٹھو۔ جو متقی اور پرہیزگار ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ خود ستائی اور اپنی پاکبازی بیان نہ کیا کرو حقیقت حال ازابتداتا انتہا اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کون پرہیزگار اور تقوی کا اہل ہے۔ حضرت حسن ؓ نے خوب فرمایا ہے۔ علم اللہ من کل نفس ماھی صانعۃ والی ماھی صائرۃ فلا تزکوا انفسکم ولا تطھروھا …من الاثام ولا تمدحوھا بحسن الاعمال۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہر شخص کو جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والا ہے اور اس کا کیا ہونے والا ہے تم اپنے کو پاکباز نہ سمجھو بیٹھو اور اپنے کو گناہوں سے پاک نہ ظاہر کرو اور نہ اپنے اعمال کی بھلائی پر اپنی تعریف کرو۔ نیک بندوں کا ذکر فرمانے کے بعد اب بعض کافروں کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی۔

(33) بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا اور بند کردیا۔

(34) اور تھوڑا سا دیا……اور بند کردیا اور سخت دل ہوگیا۔ کہتے ہیں ولید بن مغیرہ دین حق کی جانب کچھ مائل ہوچلا تھا مشرکوں نے اس کو سمجھایا کہ تو یہ کیا کرتا ہے اس نے کہا خدا کے عذاب سے ڈر لگتا ہے اس پر ایک معتصب مشرک نے کہا کہ اگر عذاب کی نوبت آئی تو میں ضامن ہوتا ہوں کہ تیرا عذاب میں اوٹ لوں گا بشرطیکہ تو اپنے مال میں سے اتنا اتنا مال مجھے دیدے۔ ولید نے ان کی بات مان لی اسلام سے بھی ہٹ گیا اور مشرک کو جس کا نام عاتیہ تھا مال بھی پورا نہ دیا اور بند کردیا اس کو فرمایا کہ آپ نے اس شخص کی حالت کو بھی ملاحظہ فرمایا جس نے پیٹھ پھیری اور اسلام سے روگردانی کی یعنی اسلام سے ہٹ گیا اور جو تھوڑا سا مائل ہوا تھا اس سے لوگوں کے کہنے سننے میں آکر ہٹ گیا اور پھر جو ضامن بنا تھا یعنی عاتیہ اس کو مال بھی نہ دیا۔ مال دینا بند کردیا یا سخت دل ہوگیا۔ دونوں ہی معنی کئے گئے ہیں اکدیٰ حافر البیر کے محاورے سے لیا گیا ہے یعنی کنواں کھودنے والے نے کنواں کھودنا بند کردیا زمین کی سختی کی وجہ سے۔ بہرحال جو وعدہ کیا تھا اس کے موافق مال ادا نہیں کیا اور سخت دل ہوگیا اور بخیل ہوگیا تھوڑا سا دے دیا اور بند کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا پھر سخت ہوگیا اس کا دل۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

(35) کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی کیا ولید کے پاس علم غیب ہے کہ وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ مجھ کو عذاب ہوگا تو فلاں شخص یعنی عاتبہ میرے عذاب کو اٹھالے گا اور میں سبکدوش ہوجائوں گا۔
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو ان مضامین کی خبر نہیں پہنچی جو حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں مذکورہ ہیں۔

(36) کیا اس کو ان مضامین کی خبر نہیں پہنچی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں مذکور ہیں۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور نیز اس ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں جس نے ہر حکم کو پورا کیا ۔

(37) اور نیز اس ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں جس نے ہر حکم کو پورا کیا۔ توریت کے علاوہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور چند صحیفے دیئے گئے تھے ان صحف میں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحاف میں مذکور ہیں کیا ان مضامین کی خبر اس ولید کو نہیں پہنچی یعنی ان مضامین پر مطلع نہیں ہوا وہ مضامین تو قرآن سے بہت پہلے کے ہیں آگے ان مضامین کا ذکر ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) کے صحائف میں مذکور ہیں علاو ہ اس کے کہ کفار مکہ کو ان مضامین سے آگاہ کرنا ہے اور ان کو تنبیہ کرنی ہے اس مضامین سے یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ انبیاء کی تعلیمات میں کس قدر باہم آہنگی اور یکسانیت ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

وہ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

(38) وہ یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی ان دونوں اولوالعزم پیغمبروں کے صحائف میں یہ مضمون موجود ہے کہ کوئی گنہگار دوسرے گنہگار کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک بالکل اٹھالے اور دوسرا سبکدوش ہوجائے اور دوسرے پر کوئی بار نہ رہے جیسا کہ تفصیل سورة عنکبوت میں گزر چکی ہے بعض حضرات نے وفی کو وفا سے لیا ہے اور یہ معنی کئے ہیں کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) جو بڑا پابند وفا تھا۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کی اس نے سعی کی۔

(39) اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی اس نے سعی کی اور کمایا۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کی سعی عنقریب دیکھی جائے۔

(40) اور یہ کہ آدمی کی سعی اور کمائی عنقریب دیکھی جائے گی۔