53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 53:41

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کو پورا پورا بدلا دیاجائے گا۔

(41) پھر اس کو اس کمائی اور سعی کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ یعنی ہر انسان نے جو سعی اور کمائی کی ہے اس کا پھل اس کو ملے گا یعنی کسی شخص کے ایمان کا پھل اسی کو ملے گا جس کا وہ ایمان ہوگا یعنی ہر ایمان والے کو اسی کے ایمان کا فائدہ پہنچے گا اور عنقریب اس کی سعی اور کمائی دیکھی جائے گی پھر ہر شخص کو اپنی کمائی کا پورا پورا بدلا دیاجائے گا۔ وان لیس للانسان الا ماسعی میں جن لوگوں نے اعمال کو بھی داخل کیا ہے اور صرف ایمان نہیں لیا ہے ان پر یہ شبہ کیا گیا ہے کہ اس طرح ایصال ثواب کا دروازہ بالکل بند ہوگیا جیسا کہ معتزلہ نے کہا ہے کہ کسی ایک مسلمان کا ثواب دوسرے مسلمان کی طرف منتقل ہی نہیں ہوسکتا۔ بہرحال یہ ایک بڑی طویل بحث ہے اہل سنت اور اہل سنت میں سے حنفیہ کا مسلک بالکل صاف ہے کہ زندوں کی جانب مردوں کو ایصال ثواب ہوتا ہے اور مالی اور بدنی دونوں قسم کی عبادتوں کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے یہ ظاہر ہے کہ فرض و واجبات کے علاوہ نفلی عبادتوں کے ثواب کا یہ حکم ہے جیسے کوئی نفلی صدقہ یا حج یا روزے یا نماز یا قربانی کا ثواب کسی اپنے بزرگ کو پہنچائے۔ یہ سب صورتیں حنفیہ کے نزدیک جائز ہیں کمائی دیکھی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ کمائی والے کو اس کی کمائی دکھائی جائے گی اور جو کچھ اس نے کیا ہے وہ اس کے روبرو رکھ دیا جائے گا ایصال ثواب کی بحث میں اگر الاماسعی کا ترجمہ ایمان سے کیا جائے ، جیسا کہ بعض نے کہا ہے تو پھر اس آیت میں ایصال ثواب کی بحث کے لئے گنجائش نہیں ۔ واللہ اعلم
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف سب کو پہنچنا ہے۔

(42) اور یہ کہ آپ کے پروردگار ہی کی طرف سب کو پہنچنا ہے - یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سب کی انتہا ہے اور سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔
Ayah 53:43

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے۔

(43) اور یہ کہ وہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے۔ یعنی ہر قسم کی خوشی اور غم کا سامان اسی کے اختیار میں ہے۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی موت دیتا ہے اور زندگی بخشتا ہے۔

(44) اور یہ کہ وہی موت دیتا ہے اور وہی زندہ کرتا ہے۔ یعنی موت و زندگی کا مالک وہی ہے
Ayah 53:45

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی دونوں قسمیں نر اور مادہ کی پیدا کرتا ہے۔

(45) اور یہ کہ وہی دونوں قسمیں نر اور مادہ کی پیدا کرتا ہے۔ ہر انسان اور حیوان کے جوڑے نر اور مادہ کے وہی پیدا کرتا ہے۔
Ayah 53:46

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

نطفے سے جب وہ نطفہ رحم میں ڈالا جاتا ہے۔

(46) پانی کی بوند یعنی نطفے سے جب ڈالا جاتا ہے وہ رحم میں۔ یعنی ظاہری اسباب پر وہ مسبب حقیقی اپنا اثر مرتب کرتا ہے جب یہ تمام چیزیں حضرت حق تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہیں تو ولید نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ قیامت کے دن اس پر سے عذاب کو کوئی اور اپنے ذمے لے لیگا۔
Ayah 53:47

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ دوسری بار پیدا کرنا اس پر ضروری ہے۔

(47) اور یہ کہ دوسری بار پیدا کرنا اس پر لازم ہے۔ عالم آخرت کا قیام ضروری ہے اور یہ وعدے کی بنا پر اس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔
Ayah 53:48

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مال دار بنانا اور سرمایہ دیتا ہے۔

(48) اور یہ کہ وہی مال دار بناتا ہے اور وہی سرمایہ کو محفوظ بناتا ہے۔ اقنی کے معنی کئی طرح کئے گئے ہیں چونکہ دولت مندی بھی کئی طرح ہوتی ہے یا تو نقدروپیہ کو اغنا فرمایا اور اقنازمین اور مویشی کو فرمایا یا بڑے سرمایہ دار، اور کم سرمایہ دار ، یا ضرورت کے لئے جو کافی ہو وہ اغنا اور جو ضرورت سے زائد ہو وہ اتنا بہرحال سرمایہ داری میں جو تفاوت نظر آتا ہے اس کی جانب اقنی کہہ کر اشارہ فرمایا۔
Ayah 53:49

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور وہی شعریٰ نامی ستارے کا مالک ہے۔

(49) اور یہ کہ وہی پروردگار ہے شعری نامی ستارے کا مالک اور پروردگار ہے۔ عرب میں شعریٰ ستارے کی پوجا ہوتی تھی زمانہ جاہلیت میں اس کی پرستش خوب ہوا کرتی تھی اس کو فرمایا کہ اس کا مالک اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شعریٰ ایک تارا ہے بہت بڑا اس کو بعضے عرب پوجتے تھے۔
Ayah 53:50

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاداولیٰ یعنی قدیم قوم عاد کو ہلاک کیا۔

(50) اور یہ کہ اس نے عاد اولی یعنی قدیم عاد کو ہلاک کیا۔
Ayah 53:51

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی ہلاک کیا سو کسی کو باقی نہ چھوڑا۔

(51) اور ثمود کو بھی ہلاک کیا سو ان میں سے کسی کی باقی نہ چھوڑا۔
Ayah 53:52

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کیا اس میں شک نہیں کہ وہ بڑے ہی ظالم اور بہت زیادہ سرکش تھے۔

(52) اور عادثمود سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کیا اس میں شک نہیں کہ وہ بڑے ہی ظالم اور بہت زیادہ سرکش تھے۔
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور لوط کی بستیاں بھی اسی نے اٹھا کردے ماریں۔

(53) اور لوط کی بستیاں بھی اس نے اٹھا کردے ماریں۔
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر ان بستیوں کو ڈھانک لیا جس چیز نے کہ ڈھانک لیا۔

(54) پھر ان بستیوں کو ڈھانک لیا جس چیز نے کہ ڈھانک لیا - یہ سابقہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا کہ عرب کے کفار کو عبرت ہو۔ کہتے ہیں عاد اول کی طرف سورة اعراف میں ہم اشارہ کرچکے ہیں یہ وہی ہود کی قوم ہے اور جن کو عاد ثانیہ کہتے ہیں وہ مکہ میں آباد تھے اور وہ بعد میں مکہ سے نکل کر کہیں اور جاب سے تھے اور وہ بھی ہلاک کئے گئے یا یہ کہ عاد اولیٰ کو عاد اولیٰ فرمانا ایک حقیقت واقعیہ ہے جو ان کی قدامت کی وجہ سے ہے اس لئے عاد اخریٰ کی حاجت نہیں موتکفات میں الٹی ہوئی بستیاں ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) کی۔ ڈھانک لیا یعنی پتھر اس طرح برسے جس طرح مینہ برستا ہے اور جس طرح بارش کسی بستی کو ڈھانک لیتی ہے اسی طرح پتھروں نے ان بستیوں کو اپنی بارش سے ڈھانک لیا۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

سو اے مخاطب تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرتا رہے گا۔

(55) پس اے مخاطب تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرتا رہے گا۔ یعنی اے انسان تو اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں میں شک اور انکار کرتا رہے گا اور ایمان نہیں لائے گا اور ایمان لاکر منتفع نہیں ہوگا یہ شاید آخر میں ولید اور اس کے رفقاء کو فرمایا۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ نبی بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ایک ڈرانے والا ہے۔

(56) یہ محمد ﷺ بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ایک ڈرانے والا ہے۔ یعنی جس طرح سابقہ پیغمبر ڈرانے والے ہوئے ہیں انہی کی جنس میں سے یہ بھی ایک ڈرانے والے ہیں ان پر ایمان لانے میں دیر نہ کرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری آواز اور آخری پیغام ہے بس اب قیامت آنے والی ہے ایمان لانے کی جلدی کرو۔
Ayah 53:57

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

قریب آپہنچی قریب آنے والی یعنی قیادت۔

(57) قریب آگئی قریب آنے والی۔ یعنی قیامت کو آیا ہی سمجھو۔
Ayah 53:58

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں ہے۔

(58) اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا اور رد کرنے والا نہیں۔ یعنی اس کے آئے پیچھے
Ayah 53:59

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

کیا تم اس بات یعنی قرآن سے تعجب کرتے ہو۔

(59) کیا تم اس بات پر تعجب اور اچنبھا کرتے ہو۔
Ayah 53:60

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور اس پر ہنستے ہو اور روتے نہیں۔

(60) اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں۔
Ayah 53:61

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم متکبرانہ برتائو کرتے ہو۔

(61) اور تم متکبرانہ برتائو کرتے ہو۔ حدیث سے مراد قرآن ہے یعنی اس قرآن میں تعجب کرتے ہو اور خوف کی باتیں سن کر بھی اس قرآن پر استہزاء ہنستے ہو روتے ہیں اور تم اس قرآن کی اطاعت سے متکبرانہ برتائو کرتے ہو یا اس قرآن سے کھیل کرتے ہو اور کھلاڑیاں کرتے ہو یا غل مچاتے ہو یا گانے بجانے کا شور کرتے ہو بجائے رونے اور اپنے انجام پر غور کرنے کے تمہاری یہ حرکات ہیں۔
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

بس اب اللہ کے آگے سجدہ کرو اور عبادت کرو۔

(62) پس اب اللہ کی جناب میں سجدہ ریز ہو اور عبادت کرو۔ سجدہ کرو یعنی اس کی اطاعت کرو اور اسی کی پرستش کیا کرو ۔ جب یہ سورت پڑھی گئی تو اس کا قدرتی اثر ایسا ہوا کہ جب اس کے ختم پر نبی کریم ﷺ نے اور آپ کے ہمراہ مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکوں نے بھی سجدہ کیا البتہ ایک متعصب مشرک نے نہیں کیا بلکہ اس نے ایک خاک کی مٹھی اٹھا کر پیشانی سے لگالی۔ بہرحال یہ ایک وقت کی بات تھی اور فوری اثر کا کرشمہ تھا یا بقول حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کہ اس وقت غاشیہ الٰہی نے سب کو اس طرح گھیرا کہ کسی کو سجدہ نہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی سب نے ہی سجدہ کیا کسی نے اختیاری اور کسی نے غیر اختیاری اور بےساختہ۔ بعض مفسرین نے جو اس سجدے کے سلسلہ میں بہت سب باتیں نقل فرمائی ہیں ان کی اصل کا محققین نے انکار کیا ہے اس لئے ہم نے اسے بالکل ہی ترک کردیا۔ تم تفسیر سورة النجم