52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی۔

(1) قسم ہے طور پہاڑ کی۔
Ayah 52:2

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس لکھی ہوئی کتاب کی۔

(2) اور اس لکھی ہوئی کتاب کی۔
Ayah 52:3

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو کھلے کاغذ میں لکھی ہوئی ہے۔

(3) جو کھلے اور کشادہ کاغذ میں لکھی ہوئی ہے۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی۔

(4) اور آباد گھر کی۔
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی۔

(5) اور اونچی اور بلند چھت کی۔
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور جوش مارنے والے سمندر کی۔

(6) اور ابلتے اور جوش مارنے والے سمندر کی۔
Ayah 52:7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہوکر رہے گا۔

(7) کہ یقینا آپ کے پروردگار کا عذاب اس دن واقع ہوکر رہے گا۔
Ayah 52:8

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

کوئی اس عذاب کو ٹالنے والا نہیں۔

(8) کوئی اس عذاب کو ٹالنے والا نہیں اور دفع کرنے والا نہیں۔
Ayah 52:9

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان بڑے زور سے لرزنے لگے۔

(9) جس دن آسمان بڑے زور سے تھرتھرانے اور لرزنے لگے۔
Ayah 52:10

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ نہایت تیزی سے چل پڑیں۔

(10) اور پہاڑ نہایت تیزی سے چل پڑیں اور اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔
Ayah 52:11

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

پھر اس دن تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔

(11) پھر اس دن تکذیب کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی اور تباہی ہے۔
Ayah 52:12

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو بیہودہ نکتہ چینیوں میں مشغول رہتے ہیں۔

(12) جو بےہودہ نکتہ چینیوں میں مشغول رہتے ہیں اور کھیلتے ہوئے باتیں کرتے ہیں۔
Ayah 52:13

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ آتش دوزخ کی طرف دھکے دے کر دھکیلے جائیں گے۔

(13) وہ دن وہ ہوگا جس دن یہ لوگ دوزخ کی طرف دھکے دے دے کر دھکیلے جائیں اور سختی سے نار جہنم کی طرف روانہ کئے جائیں گے۔
Ayah 52:14

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

کہا جائیگا یہی تو وہ دوزخ ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے ۔

(14) کہا جائے گا یہی تو وہ جہنم اور آتش دوزخ ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اور جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayah 52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

کیا یہ کوئی جادو ہے یا تم کو اب بھی نظر نہیں آتا۔

(15) اب بتائو کیا یہ کوئی جادو ہے یا تم کو اب بھی دکھائی نہیں دیتا اور تم کو سوجھتا نہیں۔
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

جائو اس دوزخ میں داخل ہوجائو پھر اب تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں پس تم کو ویسا ہی بدلا دیا جائے گا جیسے اعمال تم کیا کرتے تھے۔

(16) جائو اس دوزخ میں داخل ہوجائو پھر اب تم خواہ صبر کرو یا صبرنہ کرو تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں۔ بس تم کو ویسا ہی بدلا دیاجائے گا جیسے اعمال تم کیا کرتے تھے - یہ قسمیں مجازاۃ عمل کی غرض سے ارشاد فرمائیں کیونکہ منکرین قیامت اور جزائے اعمال کے منکروں کا جس قدر ان کا بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اس کے اثبات کو موکد فرماتے ہیں۔ طور سے مراد ہی پہاڑ ہے جس پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا تھا لکھی ہوئی کتاب جو کشادہ کاغذ میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بظاہر صحائف اعمال ہیں جن کو نامہ اعمال کہتے ہیں یا مراد توریت ہے یا قرآن ہے یا تمام کتب سماویہ یا لوح محفوظ مراد ہیں اس بارے میں علماء کے کئی قول ہیں۔ آباد گھر سے مراد بظاہر خانہ کعبہ ہے یا بہت معمور جو اس کعبہ کے بالکل محاذ میں آسمان کے اوپر کوئی چیز ہے فرشتے جس کی زیارت اور طواف کرتے ہیں خواہ وہ ساتویں آسمان میں ہو یا پہلے آسمان پر یا کسی اور آسمان پر علی اختلاف الاقوال کہتے ہیں ہر روز ستر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں بلند اور اونچی چھت سے مراد آسمان ہے اور یا عرش الٰہی ہے جوش مارتا ہوا سمندر۔ یہ شاید اس لئے فرمایا کہ جس طرح سمندر میں پانی جوش مارتا ہے اسی طرح جہنم میں آگ جوش مارتی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ اوپر کوئی دریا ہو اس کی طرف اشارہ ہو۔ جواب قسم ہے کہ پروردگار کا عذاب ضرور واقع ہوگا اس کو کوئی ہٹانے والا اور دفع کرنے والا نہیں ہم نے تیسیر میں عذاب سے پہلے اس دن کا لفظ بڑھا دیا ہے تاکہ یوم تمورالسمآء سے ربط کی عبادت درست ہوجائے یعنی وہ دن عذاب کا ہے جس دن آسمان لرزنے لگے اور جھٹکے کھانے لگے یعنی پھٹنے سے پہلے ایسا ہوگا پہاڑ ابتداء میں اپنی جگہ سے ہٹ کر چلنے لگیں گے پھر اڑنے لگیں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس دن ان منکروں کو دھکے دے کر جہنم میں لے جایا جائے گا۔ بےہودہ نکتہ چینی یعنی قرآن کو ایک مشغلہ اور کھیل بنارکھا ہے قرآن کی باتیں کرکے ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور قیامت کی اور دین حق کی تکذیب کرتے ہیں دوزخ کے کنارے پر پہنچا کر کہا جائے گا کیا یہ جادو ہے کیونکہ قرآن کے وعدے اور وعید کو جادو کہتے ہیں یا اب تم کو دکھائی نہیں دیتا جس طرح دنیا میں دوزخ دکھائی نہ دیتی تھی اور تم انکار کرتے تھے اب کہو کیا کہتے ہو اب تو یہ جہنم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے جائو اس میں داخل ہوجائو اب تم صبر کرو اور عذاب کو سہارو یا چیخو چلائو دونوں باتیں برابر ہیں یہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں جو کچھ تم نے کیا ہے اس کا بدلہ دیا جائے گا کچھ تم پر ظلم اور زیادتی نہیں ہوگی۔ آگے اہل تقویٰ اور پرہیزگار مومنین کا ذکر فرمایا تاکہ دونوں فریق اہل حق اور اہل باطل کا انجام معلوم ہوجائے اور ہر انسان کو اپنے متعلق فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
Ayah 52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

پرہیزگار لوگ بلاشبہ باغوں میں اور مختلف قسم کی نعمتوں میں ہوں گے۔

(17) بلا شبہ پرہیز گار لوگ باغوں میں اور انواع و اقسام کی نعمتوں میں ہوں گے۔
Ayah 52:18

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے رب نے ان کو دیا ہوگا وہ اس سے شادماں ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

(18) اور جو کچھ ان کو ان کے پروردگار نے دیا ہوگا یعنی جو عیش و آرام کی چیزیں عطا فرمائی ہوں گی ان پر شادماں اور خوش حال ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ فاکھین کا ترجمہ ہم نے خوش دل اور خوش حال وشاماں کیا ہے ، بعض حضرات نے فاکہین کا ترجمہ میوے کھاتے کیا ہے میوے کھانا بھی اطمینان کے ساتھ خوش حالی کی دلیل ہے اس لئے مطلب ایک ہی ہے۔
Ayah 52:19

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

تم ان اعمال کے بدلے میں جو کیا کرتے تھے خوب مزے کیساتھ کھائو پیو۔

(19) ارشاد ہوگا تم ان اعمال کے بدلے میں جو کیا کرتے تھے خوب مزے کے ساتھ رچ کر کھائو۔
Ayah 52:20

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

یہ لوگ ان تختوں پر جو برارب بچھے ہوئے ہوں گے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا ان سے نکاح کردیں گے۔

(20) یہ پرہیزگار لوگاتختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہوں گے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا ان سے نکاح کردیں گے۔ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے یہ تخت برابر برابر بچھے ہوئے ہوں گے اور ان سے ہم حورعین کو بیادہ دیں گے آنکھیں بڑی اور رنگت گوری یہ حال تھا عام اہل ایمان کا اب آگے ایک آیت مخصوص مومنین کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان سے ملادیں گے اور ان سابقہ اہل ایمان کے اعمال میں سے کوئی عمل کم نہیں کریں گے ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے رہن رکھا ہوا ہے۔

(21) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان کے پاس پہنچادیں گے اور ان سے ملادیں گے اور ان سابقہ اہل ایمان کے اعمال میں سے کوئی عمل کم نہیں کریں گے ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس اور رہن رکھا ہوا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکوں کی اولادکو یہ فائدہ ہے کہ اگر ایمان رکھیں تو ان کی راہ پر چلیں تو ان کے درجے میں پہنچیں نیکوں کا عمل ان کو نہیں بانٹ دیتے پر ان کی خوشی پر ان پر مہر کی اور ان کی راہ نہ چلیں تو جیسے اور ۔ خلاصہ : یہ کہ نیک اور متقیوں کے لئے بشارت ہے کہ ان کی اولاد بھی اگر مومن ہوگی تو اس مومن اولاد کو اپنے خاندان سے ملادیا جائے گا جیسا کہ ہم سورة مومن میں عرض کرچکے ہیں۔ وہاں ومن صلح من ایاتھم وازواجھم وذریاتھم فرمایا۔ صلاحیت یہی ایمان اور عمل صالح کی ہے اگر اولاد باپ دادا کے نقش قدم پرچلنے والی ہے تو ایسی اولاد کو جنت میں ان کے آبائو اجداد کے ساتھ جمع کردیاجائے گا اور اتنی مہربانی مزید کی جائیے گی کہ اگر اولاد کے اعمال میں کچھ کوتاہی ہوگی تو بھی ان کے درجے بڑھا کر ان کے آباء تک پہنچا دیا جائے گا یہ نہیں کیا جائے گا کہ آباء کے عمل کم کرکے ان کے درجے نیچے کردیئے جائیں ۔ بہرحال نیک لوگوں کے خاندان اگر اپنے بزرگوں کی طرح مومن اور عمل صالح کے پابند ہوں گے اور ان کے عمل اپنے بزرگوں کے عمل سے کم ہوں گے تب بھی بڑوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو ان تک پہنچادے گا تاکہ ان کی آنکھیں اپنی اولاد کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ان اللہ یرفع ذریۃ المومن فی درجۃ وان کانوا دونہ فی الحمل لتقربھم۔ عینہ : یعنی اللہ تعالیٰ مومن کی اولاد کے درجے بلند کردے گا اگرچہ وہ عمل میں کم بھی ہو تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ حضرت حق نے آخر میں منکر اور کافر کی طرف اشارہ فرمایا کہ ہر نفس اپنے شرک وکفر کی وجہ سے محبوس اور گرد رکھا ہوا ہے دوزخ میں جب تک رہن کی ادائیگی نہ ہو سے مر ہو نہ کو چھوڑا نہیں جاسکتا مومن اس سے مستثنا ہے جیسا کہ سورة مدثر میں ہے۔ الااصحاب الیمین خازن میں اسی طرح ہے۔ بعض مفسرین نے عام رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہر نفس رہن ہے اور مطالبہ ہے اعمال صالح کا جس بندے نے نیک اعمال کئے اس کا نفس چھوڑ دیا جائے گا اور جس نے نیک عمل نہیں کئے اس کا نفس محبوس ہے یہ ایک تمثیل ہے جو راہن مرہون اور مرتہن کی شکل میں سمجھائی گئی ہے مگر صاحب خازن نے صرف کفار کے لئے شکل بیان کی ہے یہ خاص مومنین کا ذکر بیچ میں آگیا تھا اب پھر اہل جنت کا ذکر فرماتے ہیں۔ بعض حضرات نے اولاد نسبی کے ساتھ اولاد سببی کو بھی شرک کیا ہے یعنی ایک شیخ کے مرید اور ایک عالم کے شاگرد اللہ تعالیٰ کے فضل سے کچھ بعید نہیں اگر نیک مرید اور نیک شاگرد اپنے شیخ اور اپنے استاد سے قریب کردیئے جائیں ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآئ۔
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ہم ان اہل جنت کو جس جس قسم کے میوے اور گوشت وہ چاہیں گے برابر پے درپے دیتے رہیں گے۔

(22) اور ہم ان اہل جنت کو جس قسم کے میوے اور گوشت وہ چاہیں گے پے درپے دیتے رہیں گے۔ یعنی یہ نعمتیں کسی خا ص مدت کے لئے نہ ہوں گی بلکہ برابر ملتی رہیں گی۔
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہ جنت میں شراب کے جام پر باہمی چھینا جھپٹی بھی کریں گے اس شراب میں نہ لغو بکواس ہے اور نہ کوئی اور گناہ کی بات ہے۔

(23) وہ اس جنت میں جام شراب پر باہمی چھینا جھپٹی بھی کریں گے اس شراب سے لیس گے یا یہ کہ جیسا عام مجمع میں ہوتا ہے کہ دیا زید کو لے لیا محمود نے یا ایک دوسرے کے ہاتھ سے لیگا کہ پہلے میں پیوں گا غرض جو باتیں ایسے موقعہ پر لطف اٹھانے اور دل لگی کرنے کی ہوتی ہیں وہ بھی ہوں گی۔ البتہ اس شراب میں بیہودگی اور گناہ کا کوئی بات نہ ہوگی دنیا کی شراب پر وہاں کی شراب کو قیاس نہ کرنا چاہیے۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کے غلام جو ان کی خدمت کے لئے ان کے پاس پھرتے ہوں گے ایسے ہوں گے جیسے محفوظ موتی۔

(24) اور ان کی خدمت کے لئے جو غلام اور خادم ان اہل جنت کے پاس آمدورفت کرتے ہوں گے اور ان پر پھرتے ہوں گے ایسے ہوں جیسے سیپی میں محفوظ ہوتی۔ خدام جنت کی صفائی اور سفیدی میں تشبیہہ بیان کی گئی جو موتی غلاف میں یا سیب میں رکھا ہو اس کی صفائی اور سفیدی بہت بڑھیا ہوتی ہے مکنون کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور وہ اہل جنت ایک دوسرے کی جانب متوجہ ہوکر آپس میں گفتگو کریں گے۔

(25) وہ اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کی جانب متوجہ ہوکر گفتگو اور پوچھ گچھ کرتے ہوں گے۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے کے واقعات دریافت کریں گے۔
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے ہم اس سے پہلی اپنے گھر یعنی دنیا میں بہت ڈرا کرتے تھے۔

(26) دوران گفتگو میں کہیں گے ہم ا س سے پہلے اپنے گھر میں اور گھر والوں میں بہت ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہر وقت انجام سے ڈرا کرتے تھے دنیا میں۔
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

سو اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔

(27) پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ سمول اصل میں گرم ہوا کو کہتے ہیں یہاں دوزخ مراد ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دوزخ کی بھاپ بھی نہ لگی۔ خلاصہ : یہ کہ دنیا میں ڈرنا آج کام آیا اور جہنم کی آگ اور اس کے عذاب سے محفوظ رہے۔
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس عالم سے پہلے اسی کو پکارا کرتے تھے واقعی وہی بڑا محسن اور نہایت مہربان ہے۔

(28) ہم اس عالم سے پہلے اسی کو پکارا کرتے تھے اور اس سے ہی دعائیں کرتے تھے واقعی وہ بڑا محسن اور نہایت مہربان ہے۔ یعنی دنیا میں اس کی عبادت کرتے تھے اسی سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ ہم کو عذاب سے بچائیو اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھیں اس سے پہلے یعنی عالم آخرت سے پہلے یا اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

سو آپ نصیحت کیے جائیے کیونکہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہیں نہ مجنون۔

(29) پس اے پیغمبر آپ نصیحت کرتے رہیے آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہیں نہ دیوانے - اوپر جو اہل جنت اور اہل جہنم کا ذکر تھا وہ سب ترغیب اور ترہیب کو شامل تھا اور یہی مضمون ہے نصیحت کا اسی پر تفریع فرمائی کہ آپ تذکیر اور نصیحت کئے جائیے نہ کاہن ہیں آپ نہ مجنوں ، کاہن وہ جو شیطان کب بتائی ہوئی باتیں جھوٹی سچی غیب کا نام لے کر لوگوں کو بتائے۔ مجنون کے معنی ظاہر ہی ہیں اکثر لوگ مکہ سے باہر جاکر قافلے والوں کو بہکاتے تھے اور آپ کے متعلق کاہن کا دیوانہ کہہ کر ان مسافروں کو بہکاتے تھے اس لئے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

ہاں تو یا یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ جو شخص شاعر ہے ہم اس کے لئے زمانہ کی گردش یعنی موت کا انتظار کررہے ہیں۔

(30) ہاں تو یہ کافر یوں کہتے کہ یہ شخص شاعر ہے ہم اس کے لئے زمانے کی گرشت یعنی موت کا انتظار کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح اور شاعرعرب کے مرگئے اور حوادث زمانہ نے ان کو ختم کردیا اور ان کے رفقا بھی ھختم ہوگئے اسی طرح اس کی بھی موت کا انتظارکرو یہ مرجائے گا تو اس کی بھی پارٹی اور اس کی رفقا بھی منتشر ہوجائیں گے اور یہ روز روز کا قصہ ختم ہوجائے گا۔
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

سو آپ ان سے کہہ دیجئے اچھا تم انتظار کیے جائو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہے ہوں۔

(31) آپ فرمادیجئے اچھا تم انتظا کئے جائو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی تمہاری طرح میں بھی منتظر ہوں تمہارے انجام کا۔
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کو اس قسم کی باتیں ان کی عقلیں سکھاتی ہیں یا یہ لوگ سرکش واقع ہوئے ہیں۔

(32) کیا ان کو اس قسم کی باتیں اور اس قسم کے عقیدے ان کی عقلیں سکھاتی ہیں یا یہ لوگ سرکش اور شریر واقع ہوئے ہیں۔ یعنی یہ خود بھی اپنے عقل مند ہونے کے مدعی ہیں اور کفار عرب میں بھی مکہ والے عقل مند مشہور ہیں تو کیا ان کی عقلیں ان کو یہ تعلیم دیتی ہیں یا یہ کہ وہ سرکش ہیں۔
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا یہ یوں کہتے ہیں کہ اس نے قرآن کو از خود گھڑ لیا ہے نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ امان نہیں لاتے۔

(33) ہاں تو کیا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے قرآن کو ازخود گھڑ لیا اور بنا لیا ہے یہ بات نہیں بلکہ اصل بات یہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اس قرآن کی تصدیق نہیں کرتے اور جب ان کا مقصد ایمان نہیں ہے تو مختلف باتیں اور شاخسانے نکالتے ہیں آگے الزامی جواب ہے۔
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اچھا اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو یہ بھی اس قرآن کی مثل کوئی کلام لے آئیں۔

(34) اچھا اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اس قرآن کی مثل کوئی کلام لے آئیں۔ یعنی اگر ایسا معجزہ اور اعجاز نماکلام بشر ککا ہوسکتا ہے جس کی بنا پر انہوں نے بنانے کا الزام گھڑا ہے تو یہ بھی آخر بشر ہیں پھر ی ایسا کلام بنالائیں اگر یہ اس بات میں سچے ہیں کہ محمد ﷺ نے بنا لیا ہے تو یہ یکوں نہیں بنا لاتے یہاں تک رسالت کی بحث تھی اور منکرین رسالت کا رد تھا آگے توحید کے مضامین مذکور ہیں۔
Ayah 52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔

(35) کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ یعنی بغیر خالق کے پیدا نہیں ہوئے اور خود یہ اپنے خالق نہیں ورنہ تحصیل حاصل ہوگا پھر کیوں خالق کی یعنی واحدنیت پر ایمان نہیں لاتے۔ اس آیت میں کئی شکلیں بن سکتی ہیں مگر ہم نے محض استفہام انکار کی تقری کردی ہے۔
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ یقین نہیں کرتے۔

(36) کیا انہوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے ۔ یعنی کیا یہ زمین و آسمان کے خالق ہیں نہیں یہ بات یعنی نہ یہ اپنے خالق اور نہ آسمان و زمین کے خالق سوائے اللہ تعالیٰ کے پھر یہ سوچتے سمجھتے نہیں کہ خالق کائنات کے لئے الوہیت اور توحید لازم ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور یقین نہیں کرتے آگے پھر رسالت کے متعلق ان کے چند مزعومات باطلہ کا ردفرماتے ہیں۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ کوئی حکمراں ہیں۔

(37) کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ کوئی داروغہ اور حکمراں ہیں یعنی یہ جو کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو نبوت دی جاتی یا فلاح شخص کو کو یں نہیں دی گئی اس کا جواب ہے کہ آپ کے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں یا یہ ان خزانوں پر حکمراں ہیں کہ فلاں کو دو فلاح کو نہ دو بلکہ ہم مالک ہیں اور اپنی مصلحت کے موافق جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت یعنی نبوت سے نوازتے ہیں۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آیا کرتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو ان میں سے جو سن کر آنے والا ہے وہ کوئی واضح دلیل پیش کرے۔

(38) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں اگر ایسا ہے تو ان میں سے جو سننے والا ہے وہ کوئی واضح دلیل پیش کرے۔ آسمانی باتوں کی دو ہی شکلیں میں یا تو وحی آئے یا صاحب وحی خود آسمان پر جائے وحی تو ان پر آتی نہیں اب یہ اگر مدعی ہیں تو کیا انہوں نے آسمان پر صعود کیا ہے وہاں سے سن کر آئے ہیں کہ فلاح شخص نبی نہیں ہے یا قرآن ہم نے نہیں اتارا تو اگر ان میں سے کوئی شخص سن کر آیا ہے تو اس کو چاہیے کہ واضح دلیل کے ساتھ اپنا صاحب وحی ہونا اور اپنی وحی کو بیان کرے اور پیش کرے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا مشریف بہ وحی ہونا دلائل ظاہرہ سے ثابت ہے اسی طرح یہ آسمان پر چڑھنے والے بھی اپنے سن کر آنے کو ثابت کریں آگے مشرکوں کے ایک اور دعوے پر تنقید ہے۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا خدا کے ہاں بیٹیاں ہوں اور تمہارے ہاں بیٹے ہوں۔

(39) کیا اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کی جائیں اور تمہارے لئے بیٹے۔ یعنی اول تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا قول کرنا پھر اولاد میں سے بیٹیوں کی نسبت کرنا جسکو اپنے لئے پسند نہ کریں یہ کس قدر بہتان اور ظلم ہے۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا آپ ان سے تبلیغ پر کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں کہ وہ اس تاوان کے بوجھ میں دبے جاتے ہیں۔

(40) کیا آپ سے تبلیغ پر کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں کہ وہ اس تاوان میں دبے جاتے ہیں اور وہ تاوان ان کو گراں معلوم ہوتا ہے مغرم لازمی ٹیکس یا تاوان جس کو چٹی کہتے ہیں اور جب آپ ان سے کوئی مزدوری اور معاوضہ نہیں طلب کرتے تو پھر آپ کی نبوت کا ان پر کیا با رہے۔