51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 51:1

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہوائوں کی جو اڑا کر بکھیرنے والی ہیں۔

(1) قسم ہے ان ہوائوں کی جو بکھیرنے اور اڑا کر پراگندہ کرنے والی ہیں۔
Ayah 51:2

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان بدلیوں کی قسم جو بوجھ کو اٹھانے والی ہیں۔

(2) پھران بدلیوں کی قسم جو بوجھ کو اٹھانے والی ہیں۔
Ayah 51:3

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر ان کشتیوں کی قسم جو نرم رفتار سے چلنے والی ہیں۔

(3) پھر ان کشتیوں کی قسم جو نرم رفتار سے چلنے والی ہیں۔
Ayah 51:4

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر ان تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قسم جو خدا کے حکم سے تقسیم کرتے ہیں۔

(4) پھران تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قسم جو امرالٰہی سے تقسیم کرتے ہیں۔
Ayah 51:5

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

یقینا تم لوگوں سے جو کچھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔

(5) یقینا تم لوگوں سے جس کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔
Ayah 51:6

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور یقینا بدلا ضرور ملنے والا ہے۔

(6) اور یقینا اعمال کی جزا ضرور ملنے والی ہے۔ یعنی بارش سے پہلے جو بادلوں کو ابھارنے کے لئے تیز ہوا چلتی ہے جس سے خاک اور غبار اڑتا ہے اس کی قسم پھر جب پانی سے بھرے ہوئے بادل اٹھ آتے ہیں ان بدلیوں کی قسم، اور سازگاری ہوا کے ساتھ جو نرم رفتار کے ساتھ کشتیاں چلتی ہیں ان کی قسم اور ان فرشتوں کی قسم جو ارزاق وغیرہ کی تقسیم پر موکل ہیں یا اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق مختلف علاقوں میں بارش کی تقسیم کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ چاروں قسمیں ہوا کی ہوں۔ مثلاً یوں ترجمہ کیا جائے قسم ہے ان ہوائوں کی جو اڑا کر بکھیرتی ہیں جن سے غبار اور خاک وغیرہ اڑتی ہے۔ پھر وہ ہوائیں جو بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور بدلیوں کی حامل ہوتی ہیں پھر وہ نرم رفتار ہوائیں جو بارش سے پہلے آہستہ اور سبک خرام ہوتی ہیں پھر ان ہوائوں کی قسم جو حکم الٰہی کے موافق پانی کو بانٹتی اور تقسیم کرتی ہیں ان تمام قسموں کا جواب قسم یہ ہے۔ انما توعدون لصادق وان الدین لواقح یعنی جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے اور جس بعث بعد الموت کا تم کو وعدہ دیاجارہا ہے وہ بالکل سچ ہے اور اعمال کی جزا ضرور واقع ہونے والی ہے اور حساب اعمال کا ضرور ہونے والا ہے قیامت کے صدق پر ان چیزوں کی قسم کھائی۔ مناسبت ظاہر ہے کہ قیامت تمام عالم کو درہم برہم کردے گی خواہ وہ عالم علوی ہو یا عالم سفلی ہو، یا خلا اور جو ہو، فرشتے عالم علوی کے، کشتیاں عالم سفلی کی، ہوا اور بادل خلا اور جو کے اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ حضرت حق تعالیٰ جوان سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے اور جس نے یہ نظام ہوائوں کا اور بدلیوں کا اور تقسیم امور کا قائم کیا ہے وہ اس سب کو فنا کرنے کی بھی طاقت اور قدرت رکھتا ہے اور ختم کرنے کے بعد پھر انسان کو دوبارہ پیدا بھی کرسکتا ہے۔ بعض علماء نے جاریات کا ترجمہ بجائے کشتیوں کے ستارے کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ قسم ہے بادوں کی اول آندھی چلتی ہے غبار اڑاتا ہے اور بادل بنتے ہیں پھر ان میں پانی بنتا ہے اس بوجھ کو لئے پھر تیاں ہیں پھر برسنے کے قریب رم بائو چلتی ہے پھر ہانک کر اور جگہ کا حصہ پہنچاتی ہیں موافق حکم کے۔ خلاصہ : یہ کہ حضرت شاہ صاحب (رح) کے نزدیک یہ چاروں قسمیں ہوائوں کی ہیں اس لئے ان کے منہیہ میں فرشتوں کا اور کشتیوں کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) کے نزدیک ذاریات ، حاملات، جاریات مقسمات یہ سب ہوائیں ہیں۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہ راستوں والے آسمان کی۔

(7) قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔
Ayah 51:8

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ تم لوگ قرآن کے متعلق مختلف باتیں کرنے میں مبتلا ہو۔

(8) کہ تم ایک اختلاف کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔
Ayah 51:9

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس کے ماننے سے وہی پھرا جس کو پھیر دیا گیا۔

(9) اس کے ماننے سے وہی پھرا اور بازرہا جو راندہ گیا اور پھر دیا گیا۔ یہ آسمان کی قسم کھائی راستوں والا آسمان جس میں فرشتوں کے جانے آنے کے راستے ہیں یا تاروں والا آسمان حبک جمع ہے جی کہ کی جیسے طریق جمع طریقہ کی یا جمع ہے حباک کی جس کے معنی ستارے کے ہیں اسی وجہ سے ترجمے میں دو قول ہیں راستوں والے آسمان کی قسم اور تاروں والے آسمان کی قسم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اپنے ترجمے میں فرمایا قسم ہے آسمان جالی دار کی پھر موضع القرآن میں فرمایا آسمان جالی دار یعنی تارے ہیں اس میں جال سا اور جھگڑے کی بات آخرت کا جینا جو اس کی نہ مانے وہ درگاہ سے پھیرا گیا۔ جس طرح حبک کے معنی دو طرح کے گئے ہیں اسی طرح قول مختلف میں بھی کئی قول ہیں یا تو وہی مرنے کے بعد آخرت میں زندہ ہونا۔ یا قرآن کے بارے میں مختلف قول کہتے ہو یارسول اللہ کے بارے میں مختلف باتیں کہتے ہو۔ بہرحال آسمان کی قسم کھا کر فرمایا کہ تم بلاوجہ ایک اختلاف میں مبتلا ہو اور جس چیز میں اختلاف کررہے ہو وہ ایسی ہے کہ اس سے وہی شخص بازرہ سکتا ہے اور اس پر ایمان لانے سے وہی پھرتا ہے جو درگاہ خداوندی سے پھر دیا گیا اور لوٹا دیا گیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا یضل عنہ من ضل یعنی وہ شخص گمراہ ہوتا ہے اس سے جس کو گمراہ کیا گیا۔ صاحب قاموس نے کہا ہے ۔ مافوک مصروف عن الحق مطلب یہ ہے کہ جس بارے میں اختلاف کررہے ہو وہ آخرت کا جینا ہو یا قرآن ہو، یا نبی کریم ﷺ کی ذات ہو ، بحال اس سے وہی پھرتا ہے جو پھیر دیا گیا اور راندا گیا یعنی جو ازلی بدبخت ہے وہی سے انکار کرتا اور پھرتا ہے۔ غرض قیامت رسول یا قرآن کے اقرار اور ایمان سے وہی پھر تا ہے جس کی ہر قسم کی خیروسعادت سے پھرنا اور محروم رہنا ہوتا ہے۔
Ayah 51:10

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

ہلاک کئے جائیں وہ تخمینے لگانے والے۔

(10) ہلاک کئے جائیں اور خدا کی رحمت سے دور کئے جائیں وہ تخمینے لگانے اور اٹکل کرنے والے اور بےسند باتیں کرنے والے۔
Ayah 51:11

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو غفلت و جہالت میں بھولے ہوتے ہیں ۔

(11) جو غفلت اور جہالت میں فراموش کرنے اور بھولنے والے ہیں۔
Ayah 51:12

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا۔

(12) پوچھتے اور دریافت کرتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا۔
Ayah 51:13

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

وہ اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔

(13) وہ اس دن ہوگا جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔
Ayah 51:14

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

کہا جائیگا اپنی تکذیب کی جزا کا مزہ چکھو یہی تو وہ عذاب ہے جس کے طلب کرنے میں تم جلدی کیا کرتے تھے۔

(14) کہا جائے گا اپنی تکذیب اور اپنی شرارت کا مزہ چکھو یہی تو وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی اور شتابی کیا کرتے تھے۔ قتل بددعا کے طور پر ہے۔ یعنی لحن خراصون محض بدگمان اور اٹکل سے بےسند بات کرنے والے عمرۃ ، جمل، ضلال، غفلت، تعنت اور استہزاء اور جلدی کرنے کی غرض سے پوچھتے تھے انصاف کا دن کب ہوگا ۔ فتنت الشئی جلانا عذاب کرنا آگ پر تپانا ، آگ کے کوئلوں پر رکھ کر الٹ پلٹ کرنا اپنے فتنے کا مزہ چکھو یعنی اپنی شرارت اور شرک کا مزہ آگے پرہیزگاروں کے انجام کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 51:15

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

البتہ پرہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔

(15) البتہ پرہیزگار اور ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے۔
Ayah 51:16

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

ان کی حالت یہ ہوگی کہ جو کچھ ان کے رب نے ان کو یاد ہوگا وہ اسے حاصل کرتے ہوں گے کیونکہ وہ اس عالم آخرت سے پہلے نکوکار تھے۔

(16) ان کی حالت یہ ہوگی کہ جو نعمتیں اور جو ثواب ان کے پروردگار نے ان کو دیا ہوگا وہ اس کو حاصل کررہے ہوں گے کیونکہ وہ اس عالم آخرت سے پہلے نکوکار اور نیکی کرنے والے تھے۔
Ayah 51:17

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ لوگ رات میں بہت ہی کم سویا کرتے تھے۔

(17) وہ لوگ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
Ayah 51:18

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور شب کے آخری حصہ میں استغفار کیا کرتے تھے۔

(18) اور رات کے آخری حصے میں یعنی سحر کے وقت بخشش طلب کیا کرتے تھے۔
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والوں اور سوال سے بچنے والوں کا حصہ تھا۔

(19) اور ان کے مالوں میں حصہ مقرر تھا سوال کرنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا۔ یعنی ایسے باغات میں ہوں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور جو جو نعمتیں ان کا پروردگار ان کو عطا فرمائے گا ان کو حاصل کرتے ہوں گے کیونکہ یہ پرہیزگار لوگ دنیا میں نیک روش رکھتے تھے اور نیکیاں کرنے کے خوگر تھے اور علاوہ فرائض و واجبات کے نوافل اور تطوعات بھی بجا لاتے تھے رات کو بہت کم سوتے تھے یعنی رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارتے تھے اور سحر کے وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا کرتی تھے یہ استغفار یا تو تھوڑی دیر سو جانے پر کیا کرتے تھے یا رات نہیں سوتے تھے بلکہ عشاء کی نماز پڑھتے تھے اس تقدیر پر اس آیت کا تہجد کی نماز سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ بہرحال عبادات بدنی کے بعد عبادات مالی اور ان کی خیرات کا حال بتایا کہ وہ اپنا مال مانگنے والوں کو بھی دیتے تھے اور جو سوال سے تعفف کی وجہ سے بچتے اور پرہیز کرتے ہیں ان کو بھی دیتے ہیں۔ تلک الرسل میں تفصیل گزر چکی ہے سائل کی دو قسمیں بیان فرمائیں ایک وہ جو عام طور سے سوال کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو سفید پوش ہیں اور شرم وحیاء کی وجہ سے سوال نہیں کرتے پھرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہارا وہ محتاج ہے اور مانگتا نہیں پھرتا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ پہلی آیتوں میں منکروں کا ذکر تھا ان آیتوں میں متقیوں کا ذکر فرمایا آگے دلائل توحید اور رزق کے وعدہ کی تاکید ہے۔
Ayah 51:20

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سے دلائل موجود ہیں۔

(20) اور زمین میں یقین کرنیوالوں کے لئے بہت سے دلائل موجود ہیں۔
Ayah 51:21

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہاری ذات میں بھی دلائل موجود ہیں پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا ۔

(21) اورخود تمہاری ذات میں بھی دلائل موجود ہیں پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا۔ اوپر محسنین کا ذکر تھا اب فرمایا سب کاموں کا دارومدار یقین پر ہے یقین کرنے والوں کے لئے زمین قدرت الٰہی کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے اس کی نباتات رنگ برنگ کے پھول اور پتوں کی ساخت معدنیات قسم قسم کے جواہرات غرض کیا چیز ہے جو زمین ہر نہیں اگلتی۔ یہ کارخانہ ارضی اپنے اندر ہزاروں نشانیاں قدرت خداوندی کی پنہاں رکھتا ہے اور ان کو وقتاً فوقتاً آشکارا کرتا رہتا ہے اور زمین تو بڑی چیز ہے خود انسان کے اندر کیا نہیں ہے۔ انسان خود ایک عالم صغیر ہے جس میں سب کچھ موجود ہے سرے لے کر پائوں تک قدرت الٰہی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے کیا تم دیکھتے نہیں اور اپنی ساخت اور اپنی بناوٹ پر غور نہیں کرتے۔ ؎ نظرے بسوئیخود کن کہ تو جان دل ربائی مفگن بخاک خود را کہ تو از بلند جائی تو زچشم خود نہانی تو کمال خود چہ دانی چوں دراز صدف بروں آ کہ تو بس گران بہائی بہرحال خواہ عالم صغیر ہو یا عالم کبیر ہو ہر ایک میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بےپناہ قدرت کے دلائل موجود ہیں آگے خیرات کرنے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں اور رزق کی جانب سے اطمینان دلاتے ہیں۔
Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارارزق اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سب آسمان میں ہے۔

(22) اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سب آسمان میں ہے۔ یعنی رزق کا سامان آسمان سے ارتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جس قدر رزق تمہارے لئے مقسوم ہے اور جس قدر رزق تمہاری قسمت میں ہے اور جو ثواب و عقاب اور خیر اور شر اور قیامت کا وقوع یہ سب امور لوح محفوظ میں درج ہیں اور وہیں کے لکھے کے موافق آسمان پر سے ہرچیزنازل ہوتی ہے آسمان میں ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ سب لوح محفوظ میں درج ہے۔
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

آسمان و زمین کے رب کی قسم بیشک یہ بات بالکل ایسی ہی برحق ہے جیسے تم بول رہے ہو۔

(23) آسمان و زمین کے پروردگار کی قسم یہ بات بالکل ایسی ہی برحق ہے جیسے تم بولتے اور باتیں کررہے ہو - حضرت حق تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھاکر یقین دلایا کہ اس کلام میں شبہ نہیں جیسے اپنے بولنے میں شبہ نہیں ۔ تم اپنے بولنے میں شبہ نہیں کرتے ایسے اس بات کو بھی حق سمجھو اور اس کے حق ہونے میں شبہ نہ کرو کہ رزق پہنچ کر رہے گا اور قیامت آکر رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوکر رہیں گے چونکہ رزق کی بحث تھی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی توفیق کا بیان تھا اس لئے آگے حضرت اسراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا۔
Ayah 51:24

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

اے نبی کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی بات بھی آپ تک پہنچی ہے۔

(24) اے پیغمبر کیا ابراہیم کے معزز اور بزرگ مہمانوں کی بات بھی آپ تک پہنچی ہے۔ یہ فرشتے تھے جیسا کہ سورة حجر میں گزر چکا ہے زیادہ سے زیادہ ان کی تعداد مع جبرائیل (علیہ السلام) کے دس بتائی جاتی ہے ہوسکتا ہے کہ کم وبیش ہو مکرم فرما رہے تھے اس سے بڑھ کر اور کیا مکرم ہوسکتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور اس کی عزت کرے۔
Ayah 51:25

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ مہمان ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا سلام ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا سلام یہ لوگ اجنبی ہیں۔

(25) یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ مہمان ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا سلام ، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا سلام یہ لوگ اجنبی ہیں۔ یعنی تحیہ جو دستور تھا کہ انہوں نے سلام کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب وعلیکم السلام کہا ، پھر فرمایا دل میں یہ لوگ اوپری اور ناشناختہ ہیں۔ ابن عبات کا قول یہی ہے کہ دل میں فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ زبان سے کہا ہو کہ آپ نے لوگوں کو پہچانا نہیں مگر فرشتوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ یا یہ کہ وہ دیار کفر تھا وہاں اسلامی تہذیب کو سن کر اوپری خیال کیا۔ بہرحال سلام و کلام کے بعد۔
Ayah 51:26

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر ابراہیم (علیہ السلام) خاموشی کے ساتھ اپنے گھر گیا اور ایک فربہ بچھڑا تلا ہوا لے آیا۔

(26) ابراہیم خاموشی کے ساتھ اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک خوب فربہ اور موٹا بچھڑا گھی میں تلا ہوا لے آیا۔
Ayah 51:27

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر وہ بچھڑا ان کے سامنے لاکر رکھا اور فرمایا آپ حضرات کھاتے کیوں نہیں۔

(27) پھر وہ بچھڑا ان کے سامنے لاکر رکھا اور فرمایا آپ کھاتے کیوں نہیں یعنی مہمانوں سے بات کرکے جلدی سے گھر گئے یہ جانا خفیہ طور پر تھا جیسا کہ قاعدہ ہے گھر گئے اور گھر جاکر ایک موٹ بچھڑا تلواکر گھی میں لے آئے اب وہ بچھڑا مہمانوں کے آگے رکھا جب مہمانوں نے ہاتھ نہ بڑھایا تو فرمایا۔ الا تاکلون۔
Ayah 51:28

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پھر ابراہیم (علیہ السلام) ان سے اپنے دل ہی دل میں خوف کرنے لگا ان مہمانوں نے کہا آپ ڈرئیے نہیں اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک ایسے لڑکے کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا۔

(28) پھر ابراہیم (علیہ السلام) ان سے اپنے دل ہی دل میں خوف کرنے لگا ان مہمانوں نے کہا آپ ڈرئیے نہیں اور انہوں نے ابراہیم کو ایک ایسے لڑکے کی بشارت دی جو بڑا عالم ہوگا۔ جب انہوں نے کچھ نہ کھایا تو ان کو اندیشہ ہواکیون کہ مہمان کا کھانا نہ کھانا خطرناک سمجھا جاتا تھا کہ یہ کھانا نہیں کھاتے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نیت تکلیف پہنچانے کی ہے وہ فرشتے تھے ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے اور اندیشہ نہ کیجئے اور ایک لڑکے کی جو دانا اور علیم ہوگا یعنی نبی ہوگا اس کی بشارت دی یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ہونے کی تھی۔
Ayah 51:29

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

اتنے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی بولتی ہوئی سامنے آئی اور اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنالگی میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی۔

(29) اتنے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی بولتی ہوئی سامنے آئی اور اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی۔ یہ بیوی حضرت سارا ہیں یہ گھر میں سن رہی ہوں گی انہوں نے لڑکے کی بشارت سنی تو ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں جیسے عورتوں کی عادت ہے کہ تعجب کے وقت ایسا کرتی ہیں وہ آگے آئیں اور ہاتھ مار کر کہنے لگیں میں بڑھیا بھی اور بانجھ بھی ایسی حالت میں بچہ ہونا بڑے تعجب کی بات ہے۔ یہ قصہ سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ بہرحال جب حضرت سارانے ہاتھ مار کر ماتھے تر تعجب کا اظہار کیا تو ان فرشتوں نے عورت کا یہ تعجب دیکھ کر فرمایا۔
Ayah 51:30

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

ان مہمانوں نے کہا تیرے رب نے اسی طرح فرمادیا ہے بیشک وہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔

(30) ان مہمان فرشتوں نے کہا تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے بیشک وہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی تعجب کی کوئی بات نہیں یہ تو اللہ کا فرمودہ ہے وہ جانتا ہے کہ کس کو اولاد دینی ہے اور کیونکر دینی ہے اور وہ بڑی حکمت والا ہے اس کی حکمت اور مصلحت کے ماتحت ہی نبوت تقسیم ہوتی ہے وہ جس خاندان میں چاہتا ہے علم ونبوت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور جب تک چاہتا ہے اس کو قائم رکھتا ہے ۔ بہرحال اس بات کو سن کر حضرت سرا کا تعجب دور ہوگیا۔
Ayah 51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

پھر ابراہیم نے کہا اے فرشتوں اب تمہیں کیا مہم در پیش ہے۔

(31) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے خدا کے فرستادواب تمہارا کیا مقصد ہے اور تم کو کیا مہم درپیش ہے۔ یعنی جب بات کھل گئی تو ان سے دریافت کیا کہ اے خدا کے بھیجے گئے فرشتو ! اب تمہارا کیا کام ہے انہوں نے بتادیا کہ حضرت لوط کی قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں اب وہیں جارہے ہیں تفصیل سورة ہود اور سورة حجر دیکھ لی جائے۔
Ayah 51:32

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

(32) ان فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں کہا بلاشبہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔
Ayah 51:33

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ہم ان مجرموں پر کھنگر کے پتھر برسائیں۔

(33) تاکہ ہم ان مجرموں پر کھنگر پتھر برسائیں۔
Ayah 51:34

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

ان پتھروں پر آپ کے رب سے حد سے نکل جانے والوں کے لئے خاص نشان بھی پڑے ہوئے ہیں۔

(34) ان پتھروں پر آپ کے پروردگار کی طرف سے حد سے نکل جانے والوں کے لئے خاص نشان بھی پڑے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں اور مسرف ہیں ان پر جو پتھر برسیں گے ان پتھروں پر آپ کے پروردگار کی جانب سے خاص علامت اور نشان ہوں گے یعنی ان کے نام لکھے ہوئے ہوں گے تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
Ayah 51:35

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

آخر کار اس بستی میں جتنے ایماندار تھے ہم نے ان کو وہاں سے بچا نکالا۔

(35) آخر کار اس بستی میں جتنے ایمان والے تھے ہم نے ان کو وہاں سے بچا کر نکال لیا۔
Ayah 51:36

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا اور کوئی گھر پایا ہی نہیں۔

(36) اور ہم نے اس بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا اور کوئی گھر پایا بھی نہیں۔ یعنی وہاں ایک گھر کے سوا کوئی اور گھر ہی مسلمانوں کا نہ تھا ورنہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کو بھی محیط ہوتا بہرحال ایمان والوں کو بچا نکالا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سورة حجر اور سو رہ ہود میں پڑھ لیجئے۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور ہم نے ان تباہ شدہ بستیوں میں ایسے لوگوں کے لئے ایک سبق آموز نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔

(37) اور ہم نے ان تباہ شدہ بستیوں میں ایسے لوگوں کے لئے ایک سبق آموز نشان باقی رکھا جو درد ناک عذاب سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں۔ یعنی عذاب الیم سے جو لوگ ڈرتے ہیں ان کے لئے اب تک وہ الٹی ہوئی بستیاں پڑی ہیں اور مکان الٹے پڑے ہیں اور وہاں سڑا ہوا بدبودار پانی بہتا ہے۔
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی عبرت آموز نشانی ہے جب ہم نے اس کو فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا۔

(38) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی عبرت آموز نشانی ہے جب کہ ہم نے فرعون کی طرف واضح اور کھلی دلیل دے کر بھیجا یعنی معجزہ دے کر بھیجا۔
Ayah 51:39

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنی فوجی طاقت کے بل پر روگردانی کی اور کہنے لگا جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

(39) پھر فرعون نے اپنی فوجی طاقت کے بل پر روگردانی اور سرتابی کی اور کہنے لگا تو یہ جادو گر ہے یا یہ دیوانہ ہے۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) آیا اور اس کا معجزہ دیکھا تو اس کو شعبدہ باز جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہنے لگے۔ برکنہ کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے ارکان سلطنت کے ساتھ اس نے سرتابی کی…… اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رو گردانی اس طرح کی کہ بازوہ اور کھوئے تک پھیر لئے یعنی اعضاء بھی پھیر لئے لیکن ہم نے فوجی قوت کا بل کیا ہے اور ہم اسی کو اس موقع پر مناسب سمجھتے ہیں فرعون کے وقت سے لے کر آج کے دم تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ فوجی طاقت کو حکمرانوں میں بڑا دخل ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی اور اس کے لشکروں کی گرفت کی اور ان سب کو دریا میں جا پھینکا اور اس کی حالت یہ تھی کہ وہ ملامت زدہ تھا۔

(40) پھر ہم نے اس فرعون کو اور اس کے لشکر کو پکڑ لیا اور ان سب کو دریا میں جاپھینکا اور اس کی حالت یہ تھی کہ وہ ملامت زدہ تھا اور اس نے کام ہی ایسا ہی کیا تھا جو اولاہنے اور ملامت کا موجب تھا۔