Ayah 51:41(41) اور عاد کے واقعہ میں بھی عبرت اور سبق آموز نشانی ہے جب ہم نے ایک نامبارک اور بےمنفعت ہوا بھیجی۔
Ayah 51:42(42) وہ آندھی اور تیز ہوا کسی چیز پر نہیں گزرتی تھی مگر یہ کہ وہ ہوا اس کو ایسا کردیا کرتی تھی جیسے چورایا بوسیدہ اور گلی ہوئی ہڈی۔ قوم عاد وہی ہے جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا تفصیل ذکر سورة ہود اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ سورة شعراء اور سو رہ احقاف میں بھی ذکر آیا ہے ۔
ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا کہا نہ مانا اور ان کی مخالفت کی آخر ان پر پچھوا ہوا کا عذاب بھیجا وہ ہوا ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہی۔
ہوا کو قرآن میں عقیم فرمایا یعنی عقیم سے مشتق ہے عقیم اصل میں تو اس عورت کو کہتے ہیں جس کی بچہ دانی کسی خرابی کی وجہ سے اولاد نہ پیدا کرسکے یہاں اس کے معنی ہیں کہ اس ہوا میں خیر نہ تھی اس نے پوری قوم ہی کو ہلاک کردیا اور توالد وتناسل کا تمام سلسلہ منقطع کردیا ہوا میں اس قدر زور تھا کہ اٹھا اٹھا کر لوگوں کو پھینکتی تھی اور ریت اڑا کر لاتی تھی جس سے قوم مٹی میں دب گئی۔
غرض چورا چورا کردیا جیسے گلی ہوئی ہڈی ہوتی ہے جس چیز پر گزرتی اس کو ریزہ ریزہ کردیتی۔
Ayah 51:43(43) اور ثمود کے واقعہ میں عبرت کی نشانی ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم لوگ اور چند دن تک فائدہ اٹھالو اور کچھ عرصہ اور بہرہ مندرہو۔
Ayah 51:44(44) پس ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی پھر ان کو ایک عذاب اور کڑاکے نے آپکڑا دراں حالیکہ وہ دیکھ رہے تھے۔ یعنی سرکشی کرتے رہے اور ان کو دیکھتے ہی دیکھتے ان کو ایک نعرہ تند نے آپکڑا۔ صاعقہ مہلک عذاب کو بھی کہتے ہیں۔ یہ جو اوپر کی آیت میں مہلت دی گئی تھی یہ شاید وہی تین دن ہوں گے جن کا ذکر سورة ہود میں گزرا ہے۔ کما قال عبداللہ بن عباس ؓ یا عام طور پر کہا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آجائو ورنہ ہلاک کردیئے جائو گے زندگی دن پورے کرلو بہرحال ان کی آنکھوں دیکھتے ان کو عذاب نے آلیا اور پھر حالت یہ ہوگئی۔
Ayah 51:45(45) کہ نہ تو وہ اٹھ ہی سکے نہ کھڑے ہی ہوسکے اور نہ وہ عذاب الٰہی کو ہی روک سکے۔ یعنی جہاں بیٹھے تھے بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے اور ہولناک چیخ سے سب کے سب مرگئے۔
وماکانوا منتصرین کے معنی ہم سے بدلہ نہ لے سکے مقابلہ نہ کرسکے۔ یا ممتنعین منا ہمارے عذاب کو نہ روک سکے غرض کئی معنی ہوسکتے ہیں ہم نے ترجمے اور تیسیر میں فرق کردیا ہے۔
Ayah 51:46(46) اور ہم نے ان مذکورہ قوموں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ بھی بڑے ہی نافرمان اور بےحکم لوگ تھے۔ یعنی عادو ثمود وغیرہ کی قوموں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی ہلاک کرچکے ہیں کیونکہ وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بڑے نافرمان اور بدکار تھے۔
Ayah 51:47(47) اور ہم نے آسمان کو اپنی طاقت اور اپنی قدرت اور ہاتھ کے بل سے بنایا اور بلاشبہ ہم بڑی قدرت اور بڑی قوت والے ہیں موسع روزی کے فراغ کرنے والے غنی اور بھی کئی معنی ہیں مگر ہم نے تیسیر میں راجح معنی اختیار کرلئے ہیں۔
Ayah 51:48(48) اور ہم نے زمین کو بچھایا سو کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ اگرچہ زمین کو گول کہا جاتا ہے لیکن وہ اپنی پہنائی کی وجہ سے ہر جگہ بچھی ہوئی ہے فرش کا فرش ہے اور دستر خوان کا دستر خوان نعمت کی تمام اقسام اس فرش کے نیچے دبی ہوئی ہیں ۔ فسبحان من خلق السمآء والارض۔
Ayah 51:49(49) اور ہم نے ہرچیز کو جوڑ جوڑا یعنی ایک کو ایک کا جواب اور مقابل بنایا تاکہ تم نصیحت پکڑو اور سمجھ سے کام لو۔ یعنی ہر چیز ایک دوسرے کے مقابل اور جواب ہے مثلاً روشنی اور تاریکی ، نر اور مادہ آسمان اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن ، ایمان اور کفر سعادت اور شقاوت، کھڑا اور بیٹھا، حق اور باطل کائنات میں دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ ہر شئے کی نظیر اور مثل اور جواب موجود ہے۔
یہی حالت نباتات کی ہے اور یہی جمادات کی ہے جس شعبے کو دیکھئے اس میں یہ اتارچڑھائو موجود ہیں اس سب پر غور کیجئے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ خلق ہر شئی کی نظیر اور جواب ہے لیکن خالق وحدہ لاشریک ہے جس کی نہ نظیر ہے نہ ضد ہے نہ اس کا کوئی مقابل ہے نہ کوئی جواب ہے۔
اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا لعلکم تذکرون فرما کر یہ ظاہر کیا یعنی فتعلمون ان خالق الازواج فردلا نظیر لہ ولا شریک معہ۔ یعنی یہ بات سمجھ لو کہ ہر چیز کا جواب اور جوڑا پیدا کرنے والا خود لاجواب ہے اور اکیلا ہے نہ اس کا کوئی نظیر ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی شریک ہے۔
Ayah 51:50(50) پس بھاگو اللہ تعالیٰ کی طرف بیشک میں اس کی جانب تم سب کے لئے صاف اور آشکارا طور پر ڈرانے والا ہوں۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف بھاگو۔ یا عذاب سے ثواب کی طرف بھاگو یا ماسوی اللہ سے اللہ کی طرف بھاگو، باطل سے حق کی طرف اور اللہ کے غضب سے اللہ کی رحمت کی طرف بھاگو عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ اللھم انی اعوذبک منک۔
Ayah 51:51(51) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنائو اور کوئی اور معبود تجویز نہ کرو بیشک میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم سب کو صاف اور کھلا ڈرانے والاہوں۔ اوپر فرار الی اللہ توحید باری کو مستلزم تھا اور یہاں شرک کی نہی مقصود ہے تمہارے سمجھانے کے واسطے میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ کھل کر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں اگر شرک سے باز نہ آئے تو عذاب کئے جائو گے۔
Ayah 51:52(52) جس طرح یہ لوگ آپ کو کہتے ہیں اسی طرح جو منکران سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے پاس کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس کو انہوں نے جادوگر یا دیوانہ نہ کہا ہو، یعنی اگر یہ لوگ آپ کی بات نہیں مانتے اور آپ پر طرح طرح کے الزام لگا رہے ہیں اسی طرح وہ کافر جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا حال تھا کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس کا ساحر یا مجنون نہ کہا جیسا کہ ابھی موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرعون کا قول گزر چکا ہے۔
Ayah 51:53(53) کیا ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سب کے سب ہی سرکش لوگ ہیں۔ یعنی کچھ اس طرح تمام منکر اور کافر رسولوں کے ساتھ ایک سا سلوک کرتے رہے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرتے وقت ایک دوسرے کو کہہ کر مرتا ہے کہ اگر تمہارے زمانے میں کوئی رسول آئے تو اس کو جادوگر اور مجنون کہنا۔
پھر فرمایا بل ھم قوم طاغون نہیں بلکہ یہ سب کے سب ہی سرکش ہیں اور تمام کافروں کی ذہنیت ایک سی ہے۔
Ayah 51:54(54) لہٰذا آپ ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے اور ان کی جانب التفات نہ کیجئے کیونکہ اب آپ پر کوئی الزام اور اولاہنا نہیں۔ یعنی آپ ان کی جانب التفات نہ کیجئے آپ نے تبلیغ کا حق ادا کردیا اب آپ پر کوئی الزام نہیں اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے اپنے کام میں کوتاہی کی آپ اطمینان کے ساتھ اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیے اور ان سے کسی قسم کا تملق اور چاپلوسی نہ کیجئے یعنی کھینچ کر بات کیجئے اور ان سے منہ پھیر لیجئے یعنی ان سے کوئی اچھی امید نہ رکھیے اور ان کی تکذیب کی پروانہ کیجئے۔
Ayah 51:55(55) ہاں نصیحت کرتے اور سمجھاتے رہیے بیشک سمجھانا کام آتا ہے ایمان والوں کو۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ وحی منقطع ہوگئی اور کام بند ہوگیا نہیں۔ اپنا کام کرتے رہیے یعنی نصیحت اور سمجھانے کا کام جاری رکھیے نہ ماننے والوں پر اتمام حجت ہوگا جس کی قیمت میں ایمان لکھا ہے وہ ایمان لے آئے گا اور جو ایمان والے ہیں ان کو آپ کی نصیحت سے بہت نفع ہوگا۔
Ayah 51:56(56) اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کیا کریں اور نہیں پیدا کیا میں نے جن وانس کو مگر اس لئے کہ پوجیں مجھ کو۔ مراد عبادت سے تشریعی عبادت ہے جو بالاختیار ہو اور ابتلائو امتحان کے طور پر ہو ملائکہ میں ابتلا نہیں اور دوسری مخلوقات میں اختیار نہیں یہ تشریعی عبادت جو بالاختیار کی جائے جن وانس کے ساتھ خاص ہے اسی لئے ان کی تخصیص فرمائی اور یہی عبادت ان سے مطلوب ہے۔
Ayah 51:57(57) میں ان سے رزق رسائی کی خواہش نہیں کرتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ککھانا کھلایا کریں۔ یعنی میری یہ خواہش نہیں کہ تم میری مخلوق کو رزق بانٹتے پھرو نہ میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ مجھ کو کھانا کھلایا کرو غرض نہ مخلوق کی رزق رسائی ان کے سپرد ہے نہ میں غذا کا اور کھانے کا محتاج ہوں اور یہ کیوں ہوتا ہے جبکہ میں خود ہی سب کو روزی دینے والا ہوں چناچہ فرماتے ہیں۔
Ayah 51:58(58) بیشک اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا زور آور اور مضبوط ہے۔ یعنی جب ہم خود ہی سب کو روزی دینے والے ہیں اور خود روزی کے محتاج نہیں تو عبادت میں ہمارے کسی نفع کا تصور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس عبادت میں بندوں ہی کا نفع ہے۔
زور آور مضبوط شاید اس لئے فرمایا کہ جس کو وہ روزی دینا چاہے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا نہ اس کی دی ہوئی روزی کو کوئی چھین سکتا ہے۔ رزاق بھی اور ذوالقوۃ المتین بھی۔
رساند رزق بروج ہے کہ شاید
بسازو کا رہا نوحے کہ باید
بہ روزی بےنوایاں را نوازد
بہ رحمت بےکساں را کارسازد
Ayah 51:59(59) پس بلا شبہ ان ظالموں کے لئے بھی ایک باری مقرر ہے جس طرح ان کے ہم مشربوں کی باری مقرر تھی لہٰذا یہ مجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کریں۔ یہ عبادت میں شریک کرنے والوں کو دھمکی فرمائی یعنی یہ کفار مکہ جو ظلم اور شرک فی العبادات کا ارتاکاب کررہے ہیں اور اپنی صفائی میں یہ کہتے ہیں کہ اگر غلط کار ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس کو فرمایا کہ ان کا بھی عذاب میں ایک حصہ ہے جس طرح ان سے پہلے جو ان کے ہم خیال اور مشرک تھے ان کا بھی ایک حصہ اور باری مقرر تھی جب ان کی نائو اور ان کا ڈول بھر گیا تو ان کی باری پوری ہوگئی جب ان کا ڈول اور ان کے پاپ کی نائو بھر جائیگی تو ان کی بھی باری پوری ہوجائے گی عذاب الٰہی ایک پنگھٹ ہے جس کا وقت اور جس کی باری آجاتی ہے اسی کا ڈول بھر دیاجاتا ہے اور اسی پر عذاب خداوندی نازل ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا عذاب میں جلدی کرنا بےسود ہے۔
حضرت شاہ صاحب کے ترجمے سے یہ بات خوب سمجھ میں آجائیگی حضرت شاہ صاحب (رح) اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں سو ان گناہگاروں کا بھی ڈول بھرا ہے جیسے ڈول بھران کے ساتھیوں کا اب مجھ سے شتابی نہ کریں مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے ڈول بھرنے کی باری مقرر ہے ان کے ہم خیالوں کی باری آئی تو ان کا ڈول بھر دیا گیا۔
جب ان کی باری آئے گی تو ان کو بھی حصہ مل جائے گا عذاب کی تاخیر کے لئے کیا بہترین تعبیر ہے عرب میں پانی سے بھر کر بڑا ڈول رکھ لیا کرتے تھے اور باری باری سے حصہ رسدی پانی سب کو ان کے وقت پر دیاجاتا تھا کئی طرح شارحین نے مطلب بیان کیا ہے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ عذاب میں جلدی کرنا بےکار ہے کام اپنے نمبر پر ہوگا۔
Ayah 51:60(60) غرض ان کافروں کے لئے اپنے اس دن ک یآنے سے بڑی خرابی ہوگی جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی دین حق کے منکروں کے لئے اپنے اس دن میں بڑی خرابی تباہی اور ہلاکت ہوگی جس دن کا وعدہ کیا گیا ہے وہ دن یا تو وہی انصاف کا دن ہے جس کا شروع سورت میں وعدہ کیا گیا ہے۔
انماتوعدون لصادق وان الدین لواقع۔
اور یا دنیوی عذاب کا کوئی دن ہو اور ہوسکتا ہے کہ یوم بدر ہو۔ (واللہ اعلم)
تم تفسیر سورة الذاریات