50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق ٓ قف قسم ہے اس قرآن شریف کی۔ (کہ آپ ﷺ ہمارے رسول ہیں مگر یہ کافر یقین نہیں کرتے)

(1) ق ٓ قف قسم ہے قرآن مجید بڑے شان والے کی۔ ق تو حروف مقطعات میں سے ہے اور قارئین کو معلوم ہے کہ ہم حروف مقطعات کے کوئی معنی نہیں کرتے اس لئے ان حروف کا حقیقی علم اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں۔ اگرچہ اکثر مفسرین نے معنی بیان کئے ہیں لیکن ہم نے احتیاطاً کسی جگہ اس کے معنی تیسیر میں نہیں کئے۔ مجد کے معنی شرف اور بزرگی کے ہیں اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے۔ قرآن کا مجد اور شرف ظاہر ہے دوسری کتب سماویہ پر قرآن کو ایک خاص شرف اور بزرگی حاصل ہے یہ سب کا ناسخ ہے اس میں تحریف نہیں جس طرح نازل ہوا اسی طرح امت کے سینوں میں محفوظ ہے اس قسم کا جواب محذوف ہے۔ بعض نے کہا بیشک ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے بعض نے کہا کفار مکہ ایمان نہیں لاتے محمد ﷺ پر بعض نے کہا ہم نے آپ کو قیامت سے ڈرانے والا بھیجا ہے ہم نے ترجمے میں جواب قسم یہ لکھا ہے کہ آپ ﷺ ہمارے رسول ہیں مگر یہ کافر یقین نہیں کرتے۔ بہرحال المحذوف کا لملفوظ کی بنا پر ہم نے جواب قسم لکھ دیا ہے ورنہ قرآن میں مذکور نہیں بعض حضرات نے قدعلمنا ما تنقص الارض کو اور بعض حضرات نے مایلفظ من قول کو جواب قسم کہا ہے۔
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہو کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا ایٓا اس پر کافر کہنے لگے یہ ایک عجیب سی بات ہے۔

(2) کافروں نے نہیں مانا بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا سو دین حق کے منکروں نے کہا یہ ایک عجیب سی بات ہے۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مرگئے اور مرکر خاک ہوگئے تو کیا پھر لوٹ کر زندہ ہوں گے یہ دوبارہ پھر زندہ ہونا بہت ہی بیعداز عقل ہے،۔

(3) کیا جب ہم مرگئے اور مر کر مٹی اور خاک ہوگئے تو کیا پھر لوٹ کر زندہ ہوں گے یہ دوبارہ پھر زندہ ہو کر لوٹنا بہت ہی بعید از عقل بات ہے۔ یعنی اول تو اس پر تعجب کہ ہماری ہی جنس سے یعنی بشر ہم کو ڈرانے کے لئے آیا پھر اس پر تعجب یہ کہ کہتا ہے کہ مرجانے اور مٹی ہوجانے کے بعد پھر تم کو دوبارہ زندہ ہونا اور زندہ ہوکر لوٹنا ہے تو یہ رجعت اور دوبارہ لوٹنا تو عقل وفہم سے بہت دور اور بعید بات ہے بھلا خاک ہوجانے کے بعد پھر ہمارا انسان بن جانا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ سورہ مومنون میں گزر چکا ہے ھیھات ھیھات لما توعدون اگرچہ یہ قول نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے لیکن دین حق کے سب منکروں میں ایک ہی قسم کی ذہنیت کارفرما ہے جو بات ہزار ہابرس پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی وہی برس ہا برس کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کی قوم یعنی کفار عرب نے کہا۔ ذلک رجع بعید یعنی بعید ازامکان
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

بیشک ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں جن کو زمین ان سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔

(4) یقینا ہم ان کے ان اجزا کو جانتے ہیں کہ جن کو زمین ان میں سے کم کرتی اور گھٹائی ہے اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے اور جو حفاظت کرنے والی ہے۔ یہ اس بعید از مکان کا جواب ہے کہ آخر یہ غیر ممکن کیوں ہے یا تو یوں کہو کہ محل میں حیات کی قابلیت نہیں اور یہ ہدایتہ غلط ہے کیونکہ محل تو بالفعل حیات سے متصف ہے یا یوں کہو کہ فاعل اور زندہ کرنے والے کو اتنا علم کہاں کہ وہ ہمارے اجزائے منتشرہ کو جمع کرسکے اس کو فرمایا کہ زمین جس قدر حصے کو کم کرتی ہے فاعل کو اس کا سب علم ہے اور یہ علم آج سے نہیں بلکہ تمہارے پیدا کرنے سے پہلے بھی جانتا تھا کہ تم مرکر کہاں جائو گے اور تمہارا ہڈی چمڑا کہاں کہاں منتشر ہوگا اور کسی قدر ذرے کہاں ہوں گے تو جس فاعل اور زندہ کرنے والے کا علم اتنا وسیع ہو اس کے لئے نہ بعید از عقل ہے نہ بعید ازامکان ہے۔ اسی کو فرمایا وعندنا کتاب حفیظ کہ ہمارے پاس لوح محفوظ ہے جس میں تمہارا بلکہ تمام عالم کا احوال درج اور ضبط ہے پھر تمہارا زندہ کرلینا اور تمہارا لوٹنا فاعل اور زندہ کرنے والے کو کیا مشکل ہے حفیظ کا ترجمہ اگر محفوظ کریں تو مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے تغیر سے ، شیاطین کے تصرف سے اور پرانا ہونے سے وہ محفوظ ہے اور اگر حافظ سے ترجمہ کریں جیسا کہ ہم نے دونوں کو ظاہر کردیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ اس کتاب میں جو لکھا ہے وہ کتاب خود اس کی حفاظت کرنے والی اور نگہبان ہے۔ بہرحال حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سارے مٹی نہیں ہوجاتے جان سلامت رہتی ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ ہم کو معلوم ہے کہ کون مرتا ہے اور کس کو زمین کم کرتی ہے اور کیا چیز زندہ رہتی ہے آگے منکروں کی عام تکذیب کا ذکر فرماتے ہیں کہ بعث کے انکار پر کیا منحصر ہے یہ تو ہر امر حق کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جب سچی بات ان کو پہنچی تو وہ اس کی تکذیب کرنے لگے غرض یہ لوگ تردد و اضطراب کی حالت میں مبتلا ہیں۔

(5) یہی نہیں بلکہ جب سچی بات اور امرحق ان کو پہنچا اور ان کے پاس آیا تو وہ اس کی تکذیب کرنے لگے غرض یہ لوگ تروددواضطراب کی حالت میں مبتلا ہیں اور الجھی بات میں پڑے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک بعث بعدالموت کے کیا منکر ہیں امر حق اور دین حق کی تکذیب کرتے ہیں جس میں نبوت اور قرآن بھی داخل ہے تو سب کی ہی تکذیب کرتے ہیں نبوت کو جھٹلاتے ہیں قرآن کی تکذیب کرتے ہیں بعث کی تکذیب کرتے ہیں۔ غرض عقائد حقہ کے مکذب ہیں اور ان کو قرار نہیں یہ ایک حالت پر نہیں رہتے۔ مریح ھرج الخاتم فی اصبعہ کے محاورے سے ہے یعنی انگلی میں انگوٹھی ڈھیلی ہو تو وہ ایک حالت پر نہیں رہتی بلکہ ہر تی پھرتی اور آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے یہی ان کی حالت ہے کہ کسی بات پر قائم نہیں بلکہ ڈانوں ڈول ہیں آگے حضرت حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے آسمان کی جانب جوان کے اوپر ہے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس آسمان کو کیسا بنایا اور کس طرح اس کو آراستہ کیا اور اس میں کہیں کوئی شگاف نہیں۔

(6) کیا ان لوگوں نے آسمان کی جانب جو ان کے اوپر ہے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور کس طرح اس کو آراستہ کیا اور اس کو زینت دی اور اس میں کہیں کوئی شگاف اور ڈڑاڑ نہیں۔ یعنی آسمان جو ان کے اوپ رہے اور نہایت آسانی سے جب نگاہ اٹھائے دیکھ سکتے ہیں کبھی نظر نہیں ڈالی کہ ہم نے اس کو کیسا اونچا بنایا اور اس کو تاروں سے کیسی زینت بخشی اور پھر مردرزمان کے باوجود اس میں نہ کوئی بال پڑا نہ شگاف نہ دڑاڑ نہ اس میں کوئی سوراخ ہوا جیسا کہ عام تعمیرات میں ہوا کرتا ہے۔
Ayah 50:7

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ہم نے بھاری بھاری پہاڑ جما دیئے اور ہم نے اس میں سے ہر قسم کی پررونق چیزیں اگائیں۔

(7) اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ہم نے بھاری بھاری پہاڑ ڈالے اور پہاڑوں کو جما دیا اور ہم نے اس زمین میں سے ہر قسم کی پررونق چیزیں اگائیں۔ یعنی قسم قسم کی نباتات ۔
Ayah 50:8

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ ہر اس بندے کے لئے یہ چیزیں موجب ہدایت و نصیحت ہوں جو خدا کی طرف رجوع ہونے والا ہے۔

(8) تاکہ ہر اس بندے کے لئے یہ چیزیں موجب اور ذریعہ ہوں ہدایت اور نصیحت کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والا ہے۔ ہم نے مفعول لہ کی تقدیر پر تبصرہ کا ترجمہ کیا ہے یعنی فعلنا ذلک تبصیرامنا دوسرے بھی احتمال ہیں مثلاً خلقنا السمآء تبصرۃ اور خلقنا الارض ذکری اور بھی اس کے علاوہ احتمالات ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ ہر عبد منیب کے لئے یہ چیزیں بینائی اور دانائی کا سبب اور موجب ہیں ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہ بھی ملتی ہے اور نصیحت بھی بشرطیکہ کوئی بندہ حضرت حق تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونے کے لئے آمادہ اور تیار ہو آگے اور دلائل توحید مذکور ہیں۔
Ayah 50:9

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی سے بہت سے باغ پیداکئے اور وہ اناج پیدا کیئے جس کا کھیت کاٹا جاتا ہے۔

(9) اور ہم نے آسمان سے بابرکت اور برکت والا پانی اتارا پھر اس پانی سے بہت سے باغ پیدا کئے اور وہ اناج پیدا کئے جن کا کھیت کاٹا جاتا ہے۔ یعنی دانے اور غلے والی کھیتی جیسے جو چنا گیہوں جوار وغیرہ جس کا کھیت عام طور سے کاٹا جاتا ہے۔ حب الحصید کی ترکیب ایسی ہیجی سے مسجد الجامع یعنی صفت کی اضافت موصوف کی طرف۔
Ayah 50:10

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوروں کے اونچے اونچے درخت اگائے کہ ان درختوں کا گابھا اوپر تلے خوب گتھا ہوا ہوتا ہے۔

(10) اور کھجوروں کے اونچے اونچے درخت اگائے کہ ان درختوں کا گابھا اوپر تلے خوب گتھا ہوا اور تہ بر تہ ہوتا ہے - یعنی ان کے گچھے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
Ayah 50:11

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

یہ سب کچھ بندوں کو رزق مدینے کے لئے اگایا اور اسی پانی کے ذریعہ ہم نے مری ہوئی زمین کو زندہ کیا اسی طرح قبروں سے نکلنا ہوگا۔

(11) یہ سب کچھ بندوں کے رزق دینے کے لئے اگایا اور اسی پانی کے ذریعے ہم نے مری ہوئی زمین کو زندہ کیا اور اسی طرح قبروں سے مردوں کا نکلنا ہوگا۔ بارش کے پانی کو برکت والا فرمایا کیونکہ مخلوق کے لئے اس میں خیر کثیر اور منافع کثیرہ ہیں اس برکت والی بارش کی وجہ سے ہی زمین سے ہر قسم کی چیز پیدا ہوتی ہے نباتات ہی کیا بلکہ جمادات لوہا، سیسہ، سونا، چاندی غرض زمین کی ہر چیز کا تعلق آسمانی بارش سے ہے۔ بلدۃ کا ترجمہ ہم نے زمین کردیا ہے اس لئے کہ شہر کا زندہ کرنا یا کسی قصبہ کا زندہ کرنا یہی ہے کہ اس کی زمین میں زندگی پیدا ہوجائے اور اس میں روئیدگی کی طاقت از سر نو آجائے۔ اس میں مری ہوئی زمین کو زندہ کرنے کی تشبیہہ دی مردوں کے زمین سے نکلنے کو۔ جب اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے تو انسان کے دوبارہ پیدا کرنے پر ان دین حق کے منکروں کو تعجب کیوں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اناج وہی جس کے ساتھ کھیت بھی کٹ جاوے اور درخت قائم رہتا ہے پھل ٹوٹ کر۔ آگے دین حق کے منکروں کے لئے تہدید اور وعید ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 50:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان کفار قریش سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور کنویں والے اور ثمود۔

(12) ان کفار قریش سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور کنویں والے اور ثمود۔
Ayah 50:13

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کی قوم۔

(13) اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائیوں یعنی لوط کی قوم۔
Ayah 50:14

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم تکذیب کرچکے ہیں ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا پھر میرے عذاب کا وعدہ ان پر سچا ہوکر رہا۔

(14) اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم تکذیب کا شیوہ اختیار کرچکے ہیں ان میں سے ہر قوم نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا اور ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی سو میرے عذاب کا وعدہ ان پر ثابت اور سچا ہوکر رہا۔ اس تہدید میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ جس طرح سابقہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام ہوا اور ان پر میرے وعید ثابت ہوئی۔ اسی طرح آپ کی تکذیب کرنے والوں کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا، کنویں والے وہی ہیں جن کا ذکر سورة فرقان میں گزرچکا ہے۔ کہتے ہیں عدن کی نواحی میں کوئی چھوٹی سی ریاست تھی انہوں نے اپنے بادشاہ کی پرستش شروع کردی تھی اس زمانے کے نبی نے ان کو سمجھایا لیکن وہ نہ مانے آخر وہ کنواں بھی زمین دھنس گیا اور ریاست کے لوگ بھی زمین میں دھنسا دیئے گئے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود و مشہور قومیں ہیں فرعون بھی معروف ہے بن والے مدین والوں کو فرمایا۔ یعنی حضرت شعیب کی قوم لوط کی قوم یعنی سدوم کے رہنے والے۔ ہرچند کہ حضرت لوط مہاجر تھے اور حضرت ابراہیم کے ساتھ عراق سے شام چلے گئے تھے لیکن شاید وہاں جاکر نکاح کرلیا تھا اس لئے سسرالی رشتہ قائم ہوجانے کی وجہ سے اخوان لوط فرمایا۔ تبع کی قوم وہی جس کا ذکر سورة دخان میں گزرا ہے یعنی تبع حمیری جس کا نام اسعد اور کنیت ابوبکر ہے ایک رسول کی تکذیب کرنا ایسا ہی ہے جیسے سب رسولوں کی تکذیب اس لئے رسولوں کو جمع فرمایا کیونکہ ان قوموں نے اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی اس لئے ارشاد ہوا۔ کل کذب الرسل فحق وعید۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا اب ہم پہلی بار پیداکرکیتھک گئے ہیں نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف لئے ایک شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔

(15) کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے عاجز ہوگئے اور تھک گئے نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں اور نئے بننے کی طرف سے شبہ میں اور دھوکے میں پڑے ہوتے ہیں۔ یعنی شیطان نے ان کو شبہ میں ڈال دیا ہے کہ مر کر زندہ ہونا عادت کے خلاف ہے اس لئے اس دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہ کوئی دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا چونکہ یہ شبہ کیا جاسکتا تھا کہ محل قابل حیات بھی اور فاعل یعنی زندہ کرنے والا قادر بھی ہو لیکن تھک جانے کی وجہ سے تنفیذ کی قدرت باقی نہ رہی ہو۔ اس احتمال کا جواب ہے کہ ہم عاجز نہیں ہوتے اور تھکتے نہیں کیونکہ جو صفات مستفاد من الغیرنہ ہوں اس میں نقص محال ہے وہقادر بالذات ہے یہ وصف کسی غیر سے حاصل شدہ نہیں ہے اس لئے اس میں کوئی احتمال عاجز ہونے کا نہیں۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور یقینا انسان کو ہم نے بنایا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں ان کو ہم جانتے ہیں اور ہم انسان کے قریب تر ہیں اس کی شہ رگ سے۔

(16) اور انسان کو یقینا ہم نے بنایا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں اور جو باتیں اس کے جی میں آتی ہیں اور جو چیزیں اس کا نفس خاطر میں لاتا ہے ان کو ہم جانتے ہیں اور ہم انسان سے اس کی شہ رگ سے اور اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ درید اگرچہ وہ رگ ہے جس کے قطع ہوجانے سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے علم کے اعتبار سے ہر انسان کی روح اور اس کے نفس سے بھی زیادہ قریب ہیں فقہ میں جن عروق کا ذکر آتا ہے اور ذبح کی شرط کہاجاتا ہے وہ حلقوم مری اور دو جان ہیں ان عروق کی اکثریت کا کٹ جانا ذبیحہ کو حلال کردیتا ہے لیکن یہاں رگ جان سے شریان سمجھنا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گردن کی رگ مراد ہے جس میں جان پھرتی ہے دل سے دماغ تک اس کے کٹنے سے موت ہے اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر ہے جان سے۔ اس کے علمی قرب کا کیا ٹھکانہ ہے مولانا فرماتے ہیں۔ جان نہاں درجسم تو در جان نہاں اے نہاں اندر نہاں اے جان جاں صاحب مفردات نے درید کے معنی میں کہا ہے وہ ایک رگ ہے جو جگر اور قلب کے متصل ہے۔ وفیہ مجاری الروح بہرحال حضرت حق نے اس اتصال علمی کو اقرب الہ من حبل الورید سے تعبیر فرمایا۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب دائیں اور بائیں جانب بیٹھے دو لینے والے فرشتے لیتے رہتے ہیں۔

(17) جب دولینے والے فرشتے لیتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں جانب بیٹھے رہتے ہیں۔ اپنے قرب کے بعد اور اتصال علمی کے بعد دو فرشتے جن کو کراماً کا تبین کہا جاتا ہے اور جو بندے کے اعمال پر نگراں ہیں اور ہر عمل لکھتے رہتے ہیں ان کا ذکر فرمایا جیسا کہ سورة جاثیہ میں گزرچکا ہے۔ انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملون۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالنے اتا مگر یہ کہ اس کے پاس ہی ایک انتظار کرنے والا تیار ہوتا ہے۔

(18) وہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالنے پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس ہی ایک انتظار کرنے والا تیارہتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اس کے منہ سے نکلا وہ لکھ لیتے ہیں نیکی داہنی والا اور بدی بائیں والا۔ پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لکھنے کو تیار ہے۔ خلاصہ : دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ ہر انسان کے اعمال کی نگرانی دو فرشتے کرتے رہتے ہیں ایک داہنی جانب ایک بائیں جانب جہاں کوئی بات منہ سے نکالی اور اس کے لینے اور لکھنے کو ایک منتظر فرشتہ تیار بیٹھا ہے اور اس تاک میں لگا ہوا ہے کہ یہ منہ سے کہے اور میں لکھوں۔ پہلی آیت میں صرف لینے اور اخذ کرنے کا ذکر تھا اور دوسری آیت میں ان کی تیاری اور انتظار ہے مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتے اپنے کام سے غافل نہیں ہیں بلکہ ہر وقت ہوشیار اور چوکنے ہیں تاکہ کوئی لفظ رہ نہ جائے آگے قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کا پھر ذکر فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور واقعی موت کی سختی آپہنچی یہی تو وہ چیز ہے جس سے تو بچتا پھرتا تھا۔

(19) اور موت کی سختی اور بےہوشی حقیقتہً قریب آپہنچی یہی تو وہ چیز ہے جس سے تو بچتا اور بدکتا پھرتا تھا۔ یعنی یہ لوگ تو دوبارہ زندہ ہونے کو بہت بعید کہتے ہیں حالانکہ اس کے آثار اور اس کی ابتداء تو موت سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور وہ حقیقتہً قریب ہے یا یہ مطلب ہے کہ موت کی بےہوشی بہت حقائق اور امور داقعیہ کو اپنے ساتھ لے آئی اور جو چیزیں موت کے بعدآنے والی ہیں اور آخرت میں جو احوال اور جو اہوال پیش آنے والے ہیں وہ ظاہر ہونے شروع ہوجائیں گے۔ اور یہ جو فرمایا ذلک ماکنت منہ تحید اگر یہ صرف منکر قیامت کو کہا جائے تب تو ظاہر ہے کہ کافر موت سے بہت گھبراتا ہے اور اگر عام لیا جائے تو یہ اس لئے فاسق فاجر اپنے گناہوں کی وجہ سے بچتا ہے اور موت سے ٹلناچاہتا ہے اور نیک بندے طبعاً موت نہیں چاہتے یہ طبیعت انسانی کا مقتضا ہے کہ انسان مرنے کو پسند نہیں کرتا اور شاید فرشتے مرتے وقت مرنے والے کو خطاب کرکے یہ کہتے ہوں کہ ذلک ماکنت منہ تحید جیسا کہ بعض نے کہا ہے اب آگے وقوع قیامت کا ذکر ہے۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی دن ہوگا عذاب کے وعدے کا۔

(20) اور صور پھونکا جائے گا یہی دن ہوگا عذاب کے وعدے کا۔ یہ دوسرا نفخہ صور ہوگا جس سے تمام لوگ اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوں گے۔ ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ صور میں پھونکا جائے گا اور فرشتے کہیں گے یہی تو وہ وعدہ عذاب کا دن ہے۔ وعدہ اور وعید کا فرق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں وعید اس وعدے کو کہتے ہیں جس میں دھمکی اور تخویف ہو وعدہ وہ وعدہ ہے جس میں عام طور سے بھلائی اور منافع کا وعدہ ہو۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ ایک اس کے ساتھ اس کو میدان حشر میں لانے والا اور ایک اس کے ساتھ گواہ ہوگا۔

(21) اور ہر شخص اس طرح آئے گا کو دو فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے ایک ہانکنے والا اور ہمراہ لانے والا اور ایک گواہی دینے والا اور احوال بتانے والا۔ یہ دونوں فرشتے یا تو وہی کراماً کاتبین ہیں یا دوسرے دو فرشتے ہوں گے ایک نیکی کا فرشتہ جس کو شہید فرمایا اور ایک بدی لکھنے والا جس کو سائق کہا گیا ہے۔ بہرحال مفسرین کے کئی قول ہیں اسی طرح کل نفس میں بھی علماء کے دو قول ہیں ایک یہ کہ آیت عام ہے ہر مسلمان اور کافر اسی طرح آئے گا دوسرا قول یہ ہے کہ کل نفسی سے مراد صرف منکر اور کافر ہیں۔ بہرحال آگے کی آیت کا تعلق صرف منکروں کے ساتھ ہے کہ میدان حشر میں دین حق کے منکروں سے کہا جائیگا۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

کہا جائے گا تو اس دن سے بیخبر تھا اب ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔

(22) یقینا تو اس دن سے بیخبر اور بڑی غفلت میں تھا اب ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز بیں ہے۔ یعنی تو انکار کرتا تھا اور مانتا نہ تھا قیامت کو جھٹلاتا تھا اور عالم برزخ کی کسی چیز کا قائل نہ تھا اب معائنہ کرلیا اور تجھ کو معلوم ہوگیا کہ پیغمبر جو کچھ کہا کرتے تھے وہ سب سچ تھا آج بڑا تیزبیں ہے کہ کوئی چیز مانع ادراک نہیں اگر دنیا ہی میں اس پردے کو ہٹا دیتا اور ان چیزوں پر ایمان لے آتا تو تیرے حق میں کیا اچھا ہوتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے الناس نیام اذا ماتواذا نتبھوا یعنی لوگ سو رہے ہیں جب مرجائیں گے تو بیدار ہوجائیں گے دنیا میں انسان پر غفلت کی نیند طاری ہے جب مرجائے گا تب آنکھیں کھلیں گی۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا وہ ساتھی جو گواہ تھا کہے گا اس کے اعمال کا وہ دفتر جو میرے پاس تھا یہ حاضر ہے۔

(23) اور اس کا ساتھی کہے گا اس کے اعمال کا وہ دفتر جو میرے پاس تھا یہ حاضر ہے - قرین یہ شاید وہی فرشتہ ہے جس کو اوپر شہید کہا گیا ہے یہ نامہ اعمال پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا ھذا مالدی عتید کہ جو اس کی مسل اور روزنامچہ اور نامہ اعمال میرے پاس تھا وہ یہ حاضر ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتہ اعمال حاضر کرے گا۔ خلاصہ : یہ کہ وہ دو فرشتے جو ساتھ ہوں گے ایک سائق اور ایک شہید وہی پیش کریں گے اور اسی وقت فیصلہ کردیا جائے گا حضرت مجاہد نے اس قرین سے وہ شیطان مراد لیا ہے جس کا ذکر سورة زخرف میں گزرچکا ہے وہ یہ کہے گا کہ میں اس پر متعین تھا یہی وہ شخص ہے اس کو میں حاضر کررہا ہوں چونکہ یہ قبول مرجوع تھا اس لئے اس کو ہم نے چھوڑ دیا جمہور کا قول یہی ہے کہ وہ فرشتہ کاتب اعمال ہوگا جو اس کا نامہ اعمال پیش کرتے ہوئے کہے گا، ھذا مالدی عتید
Ayah 50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

فرشتوں کو حکم ہوگا تو دونوں ! ہرای سے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو ناسپاسی اور سرکش ہو۔

(24) فرشتوں کو حکم ہوگا تم دونوں ہر ایسے شخص کو جہنم میں جھونک دو اور ڈال دو جو ناسپاس سرکش ہو۔
Ayah 50:25

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

اور نیکی سے روکنے والا حد سے تجاوز کرنے اور دین میں شبہ پیدا کرنے والا ہو۔

(25) اور نیکی سے روکنے والا حد سے تجاوز کرنے والا دین میں شبہ پیدا کرنے والا ہو۔
Ayah 50:26

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جسن نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود تجویز کیا ہو سو ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈل دو ۔

(26) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود تجویز کیا ہو سو ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو ۔ کفار برانا سپاس اور ناشکرا۔ عنید سرکش ضدی، متاع الخیر بھلائی سے روکنے والا مال میں ممسک اور بخیل معتدی حد سے تجاوز کرنے والا۔ ھریب شک کرنے والا، شبہے میں ڈالنے والا، شبہات پیدا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے کو معبود تجویز کرنے والا۔ یہ حکم ہوگا کہ اس قسم کے مجرم کو جہنم میں ڈال دو ۔ یہ شاید ان ہی دو فرشتوں کو حکم دیا جائے گا یا اور دو فرشتے ہوں گے جن کو حکم دیا جائے گا دو فرشتوں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ عام طور سے مجرم کو دو آدمی بادشاہ اور قاضی کے روبرو پیش کیا کرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ حکم مالک کو دیا جائے جو دوزخ کا داروغہ ہے اور اس کی عظمت کی وجہ سے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ بہرحال عام مفسرین کا قول یہی ہے کہ یہ فرشتے وہی سائق اور شہید ہیں۔
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کافر کا ساتھی وہ شیطان جو اس پر متعین تھا کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے تو اس کو گمراہ نہیں کیا تھا لیکن یہ خود ہی پر لے درجہ کی گمراہی میں مبتلا تھا۔

(27) اس کافر کا وہ ساتھی جو اس پر متعین تھا وہ کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو زبردستی اور جبراً گمراہ نہیں کیا تھا لیکن یہ خود ہی پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا تھا۔ یہ وہی قرین یعنی شیطان ہے جو بدکرداری کی وجہ سے انسان پر مسلط کردیا جاتا ہے جس کا ذکر سورہزخرف میں گزر چکا ہے وہ اپنی صفائی میں یہ کہے گا کہ جناب میں نے اس کو زبردستی گمراہ نہیں کیا میں اس پر مسلط ضرور تھا اور اس کو برے کاموں پر بھی ابھارتا تھا لیکن میں نے اس پر کوئی زیادتی اور جبر نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا یعنی ایسی گمراہی جو راہ حق سے بہت دور تھی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ساتھی شیطان ہے آپ کو بےگناہ کیا چاہتا ہے۔ جمہور کا قول یہی ہے البتہ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ قرین وہی کاتب اعمال فرشتہ ہے۔ یہ کافر اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر کہے گا اس فرشتے نے مجھ پر بڑی زیادتی کی کیونکہ میرے نامہ اعمال میں ایسی باتیں درج کردیں جن کا ارتکاب میں نے نہیں کیا وہ فرشتہ اپنی صفائی میں کہے گا اے ہمارے پروردگار میں نے تو کوئی زیادتی نہیں کی یہ ہی راہ حق ہے بہت دور کی گمراہ ی میں پڑا ہوا تھا یہ جو کچھ کرتا تھا میں تو وہی لکھا کرتا تھا۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ کا ہے۔ بہرحال یہ کہنے والا کاتب اعمال فرشتہ ہو یا وہ شیطان مسلط اور متعین ہو جس کو ومن یعش من ذکر الرحمان نقیض لہ شیطانا میں فرمایا ہے آگے حضرت حق تعالیٰ کا جواب ہے۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

ارشاد ہوگا میرے روبرو جھگڑا نہ کرو اور میں تمہارے پاس پہلے ہی عذاب کا وعدہ بھیج چکا تھا۔

(28) ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو اور میرے روبرو جھگڑا نہ کرو اور میں تمہاری طرف پہلے ہی عذاب کا وعدہ بھیج چکا تھا۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں مقررہ بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔

(29) میرے ہاں مقررہ بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بدلتی نہیں بات اور کافر بخشا نہیں جاتا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ اس وقت جھگڑانہ کرو جھگڑا کرنا اور عذر کرنا بیکار ہے میں تو تم کو پہلے ہی اپنے پیغمبروں کی معرفت تمام باتیں بتاچکا ہوں اور تم کو عذاب کا وعدہ دے چکا تھا کہ اگر کافرانہ روش سے باز نہ آئو گے تو تم کو جہنم میں ڈال دوں گا۔ تو میری جناب میں وہ وعید جو وہی جاچکی ہے بدلی نہیں جائے گی اور تم سب دین حق کے منکروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا ۔ اور میں اس عذاب کو تجویز کرنے میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں بلکہ بندے خود ہی اپنی جان پر ظلم کرنے والے تھے کہ وہ افعال ناشائستہ کی وجہ سے اپنی جان پر ظلم کیا کرتے تھے اور کفر وشرک سے اور رسولوں کی تکذیب سے باز نہ آتے تھے۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اے پیغمبر ان کو وہ دن یاد دلائیے جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کہ تو بھر چکی اور وہ جواب دیگی کیا کچھ اور بھی ہے۔

(30) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ تو پر ہوگئی اور بھر بھی گئی اور وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ یعنی کچھ اور زیادہ اس سے ہے۔ بعض حضرات نے پہلے ہل کے معنی قد کے گئے ہیں اور دوسرے ہل کے معنی لا کے لیا ہے اس تقدیر پر ترجمہ اس طرح ہوگا تحقیق بھر گبی تو وہ جواب میں کہے گی اور زیادہ نہیں چاہتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوزخ کا پھیلائو اس قدر لوگوں سے نہ بھرے گا۔ خلاصہ : یہ کہ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اس سے سوال کیا جائے گا اور وہ زیادہ طلب کرے گی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتقول ھل من مزید کے جواب میں اپنا قدم جہنم میں رکھ دے گا جس پر وہ کہے گی بس بس۔ بہرحال یہ پائوں رکھنا کنایہ ہے کہ اس کو دبا دیا جائے گا۔ اور پھیلی ہوئی چیز کو سمیٹ دیا جائے گا۔ جس سے وہ بھر جائے گی۔ حضرت حق تعالیٰ نے لاملئن جھنم فرمایا تھا اور وہ بات پوری ہوگئی۔ اگر کسی مکان میں یادالان میں دس پانچ آدمیوں کی دبا کر اور گنجائش نکال جائے تو اس کو بھرا ہوا ہی کہتے ہیں۔ وتقول ھل من مزید کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بھر تو چکی ہوں اگر اور حکم ہو تو دب دبا کر اور جگہ بھی نکالی جاسکتی ہے اور زیادہ بھیج دیئے دوزخ کو بھرنے کے لئے کوئی اور مخلوق پیدا نہیں کی جائے گی جیسے جنت کو پر کرنے کے لئے نئی مخلوق پیدا کی جائے گی جب وہ دوزخ پر ہوجائے گی تو اس کو بند کردیا جائے گا اور ڈھانک دیا جائے گا آگے جنت کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت پرہیز گاروں کے اتنی قریب کردیجائیگی کہ کچھ دور نہ رہیگی۔

(31) اور جنت پرہیزگاروں کے نزدیک کردی جائیگی جو دور نہ ہوگی۔ یعنی اہل تقوی سے بہشت قریب کردی جائے گی غیر بعید تاکید کے طور پر فرمایا جیسے کہا کرتے ہیں عزیز غیر ذلیل یعنی جنت میں جانے سے پہلے اس کو دیکھ لیں جنت اتنی قریب لے آئی جائے گی۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

کہا جائیگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ یہ ہر اس شخص کے لئے ہوئی جو رجوع ہونے والا اور حقوق الٰہی کی حفاظت کرنے والا ہو۔

(32) کہا جائے گا یہ وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ یہ ہراس شخص کے لئے ہوگی اور ہر اس شخص کو ملے گی جو رجوع ہونے والا اور حقوق الٰہی کی حفاظت کرنے والا ہو۔ یعی یہ بہشت جو قریب کردی گئی ہے یہ وہی بہشت ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا کہ یہ جنت اس شخص کے لئے ہوگی جو دل سے رجوع ہوکر نیک اعمال کا پابند ہو اور احکام الٰہی کی حفاظت کرنے والا یعنی ان کو اپنے وقت پر بجا لانے والا ہو۔ غرض یہ بہشت ہرای سے شخص کیلئے ہوگی۔
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو شخص بن دیکھے خدائے رحمان سے ڈرا اور رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہو۔

(33) جو رحمان سے بن دیکھے اور غائبانہ ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونے والا دل لے کر حاضر ہوا۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

ان سے ارشاد ہوگا تم اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو یہ ہمیشہ کے فیصلے کا دن ہے۔

(34) ان سے ارشاد ہوگا تم اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو یہ ہمیشہ کے فیصلے اور ہمیشہ کے حکم کا دن۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کو اس بہشت میں جو وہ چاہیں کے میسر ہوگا اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔

(35) ان کو اس بہشت میں جو وہ چاہیں گے وہ ملے گا اور میسر ہوگا اور ہمارے پاس ان کی چاہی ہوئی چیزوں سے اور بھی زیادہ ہے حدیث میں آتا ہے جس شخص نے شروع دن میں اور دن کے ابتدائی حصے میں چاررکعتیں پڑھنے پر مداومت کی اور چاررکعتیں ہر روز پابندی سے پڑھتا رہا تو وہ شخص اداب حفیظ میں داخل ہے یہ نماز اشتراق کی چار رکعتیں ہیں گو اشراق کی نماز پر حفاظت رکھنے والے کو اداب حفیظ کہا گیا ہے۔ من خشی الرحمن یا تو اداب سے بدل ہے اور یا مبتدار ہے۔ بہرحال رحمان سے ڈرتا ہے اور باوجود اس علم کے کہ رحمان وسیع الرحمت ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے۔ قلب منیب رجوع رکھنے والا دل یعنی صحیح عقیدہ رکھنے والا دل یا گناہوں سے نیکیوں کی طرف رجوع کرنے والا یا گناہ کرکے توبہ کرنے والا بہرحال اداب کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں۔ اسی طرح منیب کے بھی بہت سے معنی کئے ہیں اخلاص رکھنے والا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف متوجہ ہونے والا، سلامتی کے ساتھ داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب سے سلامتی یا تفکرات اور ہر قسم کی تکلیف سے سلامتی ۔ یا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے سلام کے ساتھ والدینا فرید۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رویت اور ان کا دیدار جو بلاکیف ہوگا یا اللہ تعالیٰ کے ارضی ہونے اور کبھی ناراض نہ ہونے کا اعلان۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو نعمتیں ان کے خیال میں نہیں۔ آگے نبی کریم ﷺ کی تسلی اور وقوع قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے کا مضمون ہے۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم بہت سی قوموں کو ان کفار مکہ سے پہلے تباہ و برباد کرچکے ہیں جو قوت وزور میں ان سے بہت زیادہ تھیں پھر وہ اپنی بستیوں میں تلاش کرتے پھرے کہ کہیں کوئی پناہ کی جگہ ہے۔

(36) اور ہم بہت سی امتوں اور قوموں کو ان کفار مکہ سے پہلے تباہ و برباد کرچکے ہیں جو وقت وزور میں اور دست درازی میں ان سے بہت زیادہ تھیں پھر وہ اپنی بستیوں میں تلاش کرتے پھرے اور شہروں کو چھانتے پھرے کہ کوئی پناہ کی جگہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں نے یہ شیوہ اختیار کیا کہ پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے وہ ان سے قوت اور زور میں بھی زیادہ تھے۔ پھر جب عذاب آیا تو شہروں میں بھاگنے کی جگہ تلاش کرتے پھرے یا یہ ان کی قوت و طاقت کے ساتھ ان کا شہروں میں پھر کر دنیاوی سازو سامان میں ترقی کرنے کو ظاہر کیا گیا ہے کہ زور آور بھی اور سازوسامان میں بھی ان سے زیادہ تھے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ مکہ والے جو سفر کرتے رہتے ہیں ان مکہ والوں نے تفتیش کی اور تضحص کیا کہ ان کے لئے کوئی بھاگنے کی جگہ تھی تاکہ ان پر عذاب آئے تو یہ وہاں جاکر پناہ حاصل کرلیں۔ تنقیب کے معنی میں تنقیر اور تفتیش کسی بات کی ۔ تفحص چلنا، زمین میں پہاڑوں میں چلنا اور بحث یعنی کرید کرنا کسی بات کی انہی معنی کے اعتبار سے ترجمے کئی طرح سے کئے گئے ہیں بھاگنے کی جگہ موت سے یا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سب کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی قومیں قوت میں سازوسامان زیادہ تھیں سو وہ عذاب کے وقت بچنے کی جگہ ڈھوندتی پھریں۔ اور ان کو کہیں بچنے کی جگہ نہ ملی اور سب ہلاک ہوگئیں آگے ان واقعات سے عبرت اور نصیحت پکڑنے کا ذکر فرمایا۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس واقعہ مذکور میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے کہ جس کے پہلو میں دل ہو یا وہ متوجہ ہو کر کان لگا دیتا ہو۔

(37) بلا شبہ اس واقعہ میں اس شخص کے لئے بڑی نصیحت اور عبرت ہے کہ جس کے پہلو میں دل ہو یا وہ متوجہ ہوکر کان لگادیتا ہو۔ یعنی گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے واقعات میں وہی لوگ عبرت وموعظت حاصل کرسکتے ہیں جن کے پہلو میں قلب سلیم اور فہیم ہو اور ان کا دل زندہ ہو یا کان لگا کر قرآن کو سنتے اور سمجھتے ہوں اور اپنا ذہن حاضر رکھتے ہوں یعنی دل اور دماغ دونوں میں صلاحیت ہو یا کم از کم ایک چیز میں بھی صلاحیت ہو تو کچھ نہ کچھ عبرت ہوجائے دل لگا کر سنتا بھی رہے تو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ حضرات صوفیانے بہت سے معنی بیان فرمائے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ جس کے دل میں اعتقاد نہ ہو وہ دل ایسا ہے جیسے دل نہ ہو۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کے چھ دن میں پیدا کیا ہے اور ہم کو تکان نے چھوا تک بھی نہیں۔

(38) بلا شبہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس سب کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور ہم کو تکان اور ماندگی نے چھوا تک بھی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مجازاۃ یعنی قیامت کے دن ہر شخص کو عمل کا بدلا ملنا ضروری ہے اس پر شبہ نہ کرنا چاہیے اسی سلسلے میں قدرت اور توانائی کا اظہار فرمایا جیسا کہ سورة احقاف کے آخر میں فرمایا تھا۔ ولم یعی بخلقھن اسی طرح یہاں فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین اور اس کے درمیانی چیزوں کو صرف چھ دن کی مقدار میں بنایا اور اس تعمیر سے ہم میں کوئی سہار کی ہدایت فرماتے ہیں۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو آپ ان کفار کی باتوں پر صبر کیجئے اور آفتاب کے طلوع و غروب سے قبل اپنے رب کی حمدوثناء کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہیے۔

(39) سو اے پیغمبر آپ ان کفار کی باتوں پر اور جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور ان باتوں کی سہار کیجئے اور طلوع آفتاب سے قبل اور غروب آفتاب سے قبل اپنے پروردگار کی حمدوثنا کے ساتھ پاکی بیان کیا کیجئے۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات میں بھی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی۔

(40) اور کچھ رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے اور نمازوں کے بعد بھی یعنی اس کی تسبیح و تقدیس کیا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور اس کی تحمید علاج ہے دل کے مضبوط اور قلب کے مطمئن ہونے کا۔ اہل علم نے فرمایا اس میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے اور نماز کے بعد سنن ونوافل کی طرف اشارہ ہے مثلاً سورج کے طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز اور غروب سے قبل ظہر اور عصر کی نماز رات میں مغرب اور عشاء کی نماز ادبار السجود یعنی نماز کے بعد نوافل وغیرہ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ومن الیل میں تہجد بھی داخل ہو، بہرحال جب یہ لوگ اتنے دلائل واضحہ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کو دوبارا پیدا کرنے سے عاجز کہتے ہیں تو آپ صبر سے کام لیجئے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تقدیس اور تحمید می مشغول رہئے اس میں نماز بھی آگئی ۔ سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر ، ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھے یا ننانوے کلمے ہوئے آخر میں ایک مرتبہ کہے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد ۔ وھو علیٰ کل شیء قدیر۔ اس کلے سو کی تعداد پوری کردے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دو وقت یاد کے ہیں اس وقت دعا اور عبادت بہت قبول ہوتی ہے۔ اور فرماتے ہیں یعنی نماز کے۔ خلاصہ : یہ کہ طلوع و غروب سے قبل کا وقت قبولیت کا ہے اور ہر نماز کے بعد پاکی بیان کیا کرو۔