49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کی رسول سے سبقت نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

(1) اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے قول اور فعل میں سبقت اور پیش دستی نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کسی کام میں آگے نہ بڑھ جایا کرو مسلمانوں کو یہ ادب سککھایا پیغمبر کی تعظیم کا۔ کہتے ہیں بعض لوگوں نے عیدالضحیٰ کی نماز سے پہلے قربانیاں کرلی تھیں بعض نے کہا یوم الشک کے روزے کی نہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں لا تقولوا خلاف الکتاب والسنۃ یعنی قرآن اور سنت کے خلاف کوئی بات نہ کہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مجلس میں کوئی کچھ پوچھے تو حضرت کی راہ دیکھو کہ کیا فرمادیں تم اپنی عقل سے آگے جواب نہ دے بیٹھو۔ خلاصہ : یہ کہ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کسی کی بات میں دخل دے کر خود جواب دینے لگتے ہیں پیغمبر (علیہ السلام) کی مجلس میں بھی کسی نے ایسا کیا ہوگا کہ حضور ﷺ سے سوال کرنے والے کا جواب حضور ﷺ سے پہلے خود جواب دینا شروع کردیا ہوگا یہ بہت بڑے عیب کی بات ہے اور بالخصوص پیغمبر ﷺ کی مجلس میں یہ بڑی بےادی ہے اس لئے مسلمانوں کو اس قسم کی سبقت اور پیش قدمی اور آگے بڑھنے سے منع فرمایا۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ ہونے دو اور نہ تم ان سے اس طرح پکار کر بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے پکار کر بات کرتے ہو کبھی تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

(2) اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ ہونے دو اور نبی کی آواز سے اپنی آوزیں اونچی نہ کرو اور نہ تم ان سے اس طرح پکار کر بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے پکار کر بات کیا کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ نبی تمیم کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور گفتگو اس امر میں ہوئی کہ نبی تمیم کے لئے حاکم کس کو مقرر کیا جائے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے تھی کہ قعقاع بن معبد کو بنایا جائے حضرت عمر ؓ کی رائے اقرع بن حابس کے حق میں تھی اس گفتگو میں آوازیں حاضرین کی بلند ہوئیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی عبداللہ ؓ سے منقول ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی ان کے کان میں گرانی اور ثقل تھا اور آواز بڑی تھی بعض دفعہ اس قدران کی آواز بلند ہوجاتی تھی کہ حضور کو اذیت ہوتی تھی اس لئے کلام میں پستی کا حکم دیا گیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے آداب سکھائے رسول کے ایک یہ کہ مجلس میں شور نہ کرو کہ حضرت کی بات سنی نہ پڑے دوسرے یہ کہ خطاب کرو ادب سے گہک کر نہ بولو۔ خلاصہ : یہ کہ حضور ﷺ کی مجلس میں زیادہ بلند آواز سے کلام نہ کرو اور نہ ان سے اس طرح بات کرو جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بلند آوازی کے ساتھ بات کیا کرتے ہو کیونکہ یہ کبھی نبی کی ایذارسانی کا موجب ہوتا ہے اور پیغمبر ﷺ کی اذیت ایک ایسا فعل ہے کہ اس کی شامت سے اندیشہ ہے کہ نوبت حبط اعمال تک پہنچ جائے اور کبھی نشاط اور انبساط کے وقت رفع صورت ناگواری خاطر کا سبب نہ ہو تو اس کا پتہ چلنا مشکل ہے۔ اس لئے عام طور پر حکم دیا اور ڈرایا کہ اگر حضور ﷺ کی مجلس میں رفع صوت کا ترک کا التزام نہ کیا تو حبط عمل کا اندیشہ ہے اور ناگواری خاطر کا موجب ہونا یا نہ ہونا اس کا تمہیں علم نہیں تم یہ سمجھتے رہو کہ ہماری بلند آواز ملال کا سبب نہیں ہے اور وہ پیغمبر کے ملال کا موجب ہو تو تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ آگے ترغیب کے طور پر فرماتے ہیں۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے روبرو اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقوے کے لئے آزمالیا ہے ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

(3) بے شک جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے روبرو اپنی آوزوں کو پست رکھتے ہیں اور دبی آواز سے بولتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوے کے لئے آزمالیا ہے اور نکھار لیا ہے اور خالص کردیا ہے ان کے لئے بڑی مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ یہ آیت بقول بعض مفسرین سعد بن معاذ ؓ کے بارے میں اتری ہے اور بعض نے کہا کہ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رسالت مآب کی جناب میں دبی آواز سے گفتگو کرتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے نکھار کر خالص کرلیا ہے یعنی ان کے دلوں میں غیر تقوی نہیں ہے اور یہی وہ تقویٰ کا اعلیٰ درجہ ہے جس کو فرمایا۔ لا یبلغ العبد ان یکون من المتقین حتیٰ یدع ملا باس بہ حذرالمابہ باس۔ یعنی تقوی کے اعلیٰ درجہ پر جب پہنچ سکتا ہے جبکہ ان چیزوں کو اندیشہ سے جن میں خطرہ ہے ان چیزوں کو چھوڑ دے جن میں کوئی خطرہ نہ ہو۔ یہاں پر بھی رفع صوت جو پیغمبر کی ایذا کا موجب ہو اس میں خطرہ ہے اور جو ایذا کا سبب نہ ہو اس میں کوئی اندیشہ نہیں انہوں نے مطلقاً رفع صوت کو ترک کرکے تقویٰ کے اعلیٰ اصول پر عمل کیا یعنی خطرہ کے اندیشہ اور حبط عمل کے ڈر سے اتنی آواز بھی بلند نہ کی جو حبط کا موجب نہیں سبحان اللہ کیسا ادب ہے اور کیسا تقویٰ ہے۔ انہی کے لئے فرمایا تہم مغفرۃ واجر عظیم صحابہ کرام کے اتباع کا یہ حال تھا (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں میں اکثر ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔

(4) بلا شبہ جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ ذرا صبر سے کام لیتے یہاں تک کہ آپ خود نکل کر اس کے پاس تشریف لے آتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے ۔

(5) اور اگر یہ لوگ ذرا صبر کرتے اور صبر سے کام لیتے یہاں تک کہ آپ خود حجرے سے نکل کر ان کے پاس تشریف لے آتے تو یہ ان کے لئے بہترہوتا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا بہت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نبی تیمم آئے ملنے کو حضرت گھر میں تھے باہر سے لگے پکارنے چاہیے تھا کہ آدمی کی زبانی خبر کرتے۔ یہ بھی ایک ادب کی بات سکھائی کہ اگر کبھی پیغمبر کی خدمت میں آئو اور پیغمبر کسی ضرورت سے مکان میں تشریف رکھتے ہوں تو آپ کو یا محمد اخرج الیناکہہ کر پکارنا مناسب اور آپ کی شان کے خلاف ہے۔ اطلاع کے اور ذرائع بھی ہوسکتے ہیں یا یہ کہ صبر اور انتظار کرو یہاں تک کہ حضور ﷺ خود ہی باہر تشریف لائیں تو اس وقت ملاقات کرلو۔ کیونکہ جو لوگ عوام سے رابطہ رکھتے ہیں وہ گھر میں زیادہ دیر نہیں ٹھہرتے اکثر اس لئے کہا کہ شاید کچھ لوگوں نے اس کی ابتداء کی ہو اور کچھ نے دیکھا دیکھی یہ حرکت کی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ وہ حضور ﷺ کے قیلو لے کا وقت ہوکیون کہ آپ گھر میں آرام فرماتے تھے اس لئے ان لوگوں کا ہر حجرے پر آواز دیتے پھرنا اور انتظار نہ کرنا خلاف تہذیب اور خلاف ادب قرار دیا گیا۔ آپ خود نکل کر ان کے پاس تشریف لے آتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتظار کرتے تو یہ بہتر ہوتا کیونکہ زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ حضور ﷺ کو ان کے آنے کی خبر نہ ہوتی لیکن بہرحال جب آپ باہر نکلتے خواہ ان کی ملاقات کے لئے نہیں بلکہ کسی اور کام کو مکان سے باہر تشریف لاتے اور ان کو بیٹھے ہوئے دیکھتے تو ضرور ان سے دریافت کرتے اور ان سے ملاقات کرتے۔ اور یہ ان کے لئے بہتر ہوتا کیونکہ اس میں پیغمبر کی گستاخی اور بےادبی سے محفوظ رہتے۔ بہرحال اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے ان کی غلطیوں کو معاف کردیا جائے ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کا ادب تعلیم کیا ہے اور بتایا ہے کہ پیغمبر ﷺ کی جناب میں حاضر ہونے اور بات چیت کا طریقہ کیا ہونا چاہیے اور معصیت میں کیا نقصان پہنچتا ہے۔ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اہل سنت کے نزدیک معصیت حبط عمل کا موجب نہیں ہوتی۔ یہ مذہب تو معتزلہ وغیرہ کا ہے جیسا کہ ہم نہایت وضاحت کے ساتھ پہلے پارے میں آیت بلی من کسب سیئۃ کے تحت عرض کرچکے ہیں اور تسہیل میں تفصیلی بحث ہوچکی ہے۔ یہاں بھی ہم نے تیسیر میں اس طرف اشارہ کردیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی معصیت براہ راست حبط عمل کا سبب نہ بنتی ہو لیکن معصیت سے آئندہ نیکی کی توفیق سلب ہوسکتی ہے اور معاصی موجب الی الخذلان ہوسکتے ہیں اور خذلان منجرال الکفر ہوسکتا ہے اور کفر اختیاری سے تو بالاتفاق عمل کا حبط ہونا لازمی ہے تو رفع صوت بالجہر آہستہ آہستہ تم کو کفر تک پہنچا دے اور تمہارے تمام اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو کہ یہ سزا کون سے جرم کی پاداش میں دی گئی ذرا تامل کرنے سے تیسیر کی یہ بات سمجھ میں آجائے گی، لیکن اشارے کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا اس لئے میں نے صراحتہً عرض کردیا۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اگر کوئی گنہگار آدمی تمہارے پس کوئی خبر لے کر آئے تو اس خبر کی خوب چھان بین کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو اپنی لاعلمی سے کوئی ضرر پہنچا دو پھر تم اپنے کئے پچھتاتے پھرو۔

(6) اے ایمان والو اگر کوئی گناہ گار اور شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس خبر کی خوب چھان بین کرلیا کرو اور تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی لاعلمی اور نادانی سے کسی قوم کو ضرر پہنچا دو پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے پھرو۔ اور پشیمان ہو۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور یہ بات خوب جان رکھو کہ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے بہت سی باتیں ہوتی ہیں کہ اگر وہ رسول ان میں تمہاری رائے پر عمل کرنے لگے تو تم بڑی مشقت میں پڑ جائو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا اور ایمان کو تمہارے دلوں میں خوش نما اور مستحسن کردیا اور کفر اور فسق سے اور نافرمانی سے تم کو نفرت دے دی یہی لوگ سیدھی راہ پرچلنے والے ہیں۔

(7) اور یہ بات خوب جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ رسول ان میں تمہاری رائے پر عمل کرنے لگے تو تم بڑی مشقت میں پڑ جائو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب بنادیا اور ایمان کو تمہارے دلوں میں خوشنما اور مستحسن کردیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو نفرت دی یہی لوگ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

(8) یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام و احسان کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ ولید بن عتبہ کو نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بنی مصطلق روانہ کیا۔ سوء اتفاق سے ولید میں اور بنی مصطلق میں زمانہ جاہلیت سے ایک خون کے متعلق عداوت چلی آتی تھی بنی مصطلق کے مسلمان ان کے استقبال کو نکلے یہ سمجھے کہ میرے قتل کو نکلے یہ ڈر کر بھاگ آئے یہاں آکر انہوں نے اطلاع دی کہ وہ قوم تو مرتد ہوگئی۔ زکوٰۃ سے انکار کیا اور انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا یہ خبر سن کر بعض لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان پر فوج کشی کریں اور ان کو سزا دیں لیکن حضور ﷺ نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور خالد بن ولید کو ایک چھوٹے سے لشکر کے ہمراہ خفیہ طور سے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ معاملہ کی خوب تحقیق کرو اگر واقعی وہ مرتد ہوگئے ہیں اور تم پر حملہ کریں تو تم ان کا مقابلہ کرو ورنہ زکوٰۃ لے کر چلے آئو۔ چنانچہ خالد بن ولید ؓ گئے اور زکوٰۃ لے کر چلے آئے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنی المصطلق کے لوگ خود آئے اور زکوٰۃ پیش کی اور سارا ماجرا حضور ﷺ کو سنایا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور یہ حکم دیا گیا کہ اگر کوئی شریر اور گنہگار آدمی کوئی خبر لائے اور تم کو سنائے پہلے اس کی تحقیق کرلو اس خوف سے کہ کہیں بغیر تحقیق کے کسی قوم کو تمہارے ہاتھوں سے گزند نہ پہنچ جائے پھر تم کل کو پشیمان اور نادم ہو اور جو کچھ تم نے کیا اس پر تم کو پشیمان ہونا پڑے ۔ پھر فرمایا تم میں اللہ تعالیٰ کا رسول موجود ہے اگر یہ بہت سے کاموں میں تمہارے مشوروں کو قبول کرلیں اور ان پر عمل کرنے لگیں تو تم مشقت میں پڑجائو اور تم کو سخت مضرت پہنچے لیکن وہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے کہ اپنے فضل و احسان کے سبب اس نے تمہارے دلوں میں ایمان کامل کو محبوب بنادیا اور کمال ایمان کی تحصیل کو تمہارے قلوب کے لئے مرغوب اور خوش منظر کردیا اور اسی کے ساتھ کفر کی اور فسق کی یعنی کبیرہ گناہوں کی اور عصیان یعنی صغیرہ گناہوں کی نفرت پیدا کردی کہ تم کو یہ سب باتیں بری لگتی ہیں چونکہ ان لوگوں کی رائے صائب تھی جنہوں نے لشکر کشی سے پہلے تحقیق کا مشورہ دیا۔ اس لئے ان کو اولئک ھم الراشدون۔ فرمایا یعنی یہ لوگ راہ حق پر مستقیم رہنے والے ہیں جو پہاڑ کی طرح صحیح بات پر جمے رہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کی وجہ سے ہوا۔ ایمان کامل کی محبت اور گناہوں سے نفرت یہ ان کے فضل اور احسان کی نوازش سے ہی ہوسکتا ہے وہ علیم بھی ہے ہر شخص کی حالت سے واقف ہے اور ہر ایک کو اپنی حکمت سے عطا کرنے والا ہے کیونکہ وہ بڑی حکمت والا ہے جس پر چاہتا ہے انعام کرتا ہے اور جس کو اس کی مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے اس کو فضیلت دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک شخص کو حضرت نے بھیجا ایک قوم پر زکوٰۃ لینے کو وہ نکلے اس کے استقبال کو اسلام سے پہلے اس قوم میں اور اس کی قوم میں بیر تھا ڈرا کر میرے مارنے کو نکلے الٹا بھاگا مدینے میں آکر مشہور کردیا کہ فلانی قوم مرتد ہوئی حضرت ان پر فوج بھجیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شہادت فاسق کی قبول نہیں، فاسق جس پر بےشرع کام عیاں ہوں۔ اور فرمایا یعنی تمہارا مشورہ قبول نہ ہو تو برا نہ مانو رسول عمل کرتا ہے اللہ کے حکم پر اسی میں تمہارا بھلا ہے اگر تمہاری بات مانا کرے تو ہر کوئی اپنے بھلے کی کہے کس کس کی بات پر چلے۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے مابین اختلاف کو رفع کرو کے صلح کرا دو پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو جو گروہ زیادتی کرتا ہے تم اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوکع ہوجائے پھر اگر وہ زیادتی کرنے والا فریق رجوع ہوججائے تو ان دونوں کے مابین انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کیا کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

(9) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ اور دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے مابین اصلاح کردو یعنی اختلاف اور مابہ النزاع امور کو رفع کر ا کے دونوں میں صلح کرادو، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو جو گروہ اور جو جماعت زیادتی کرتی ہے تم اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع ہوجائے یعنی قتال ترک کردے پھر اگر وہ زیادتی کرنے والا فریق رجوع ہوجائے تو ان دونوں کے مابین انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کیا کرو بیشک اللہ تعالیٰ انٹاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ کو خوش آتے ہیں انصاف والے۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

(10) سوائے اس کے نہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب حکم شرع کے تابع ہوں تو انصاف سے صلح کروادو ایک کی طرف داری نہ کرو۔ یہ حکم ہے خانہ جنگی کا جو مسلمان آپس میں لڑپڑیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں اگر جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ آپس میں سمجھا بجھا کر مابہ النزاع امور کو ختم کر ا کے اصلاح کردیں اور دونوں پارٹیوں میں صلح کرادیں اور اگر باوجود اصلاح کی اور صلح کی کوشش کے کسی جماعت کی زیادتی دیکھو یعنی وہ قتال کے ترک پر آمادہ نہ ہو اور زیادتی اور تعدی سے باز نہ آئے تو زیادتی کرنے والی جماعت سے تم سب مل کر لڑو اور جنگ کرو یہاں تک کہ وہ تعدی اور زیاتی کرنے والی جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے فیصلے کے آگے جھک جائے اور جنگ بند کردے۔ پھر جب وہ پارٹی جھک جائے اور جنگ سے رجوع کرلے تو حدود شرعیہ کے موافق ان کی اصلاح کردو عدل کا مطلب سے شرعی حدود کے موافق صلح کرادو تاکہ صلح پائے دار دائمی ہو صرف جنگ بند کرادینے سے پھر اندیشہ رہے گا کہ کسی وقت پھر لڑائی ہوجائے اس لئے تمام معاملات کو انصاف کے ساتھ طے کرادو اور انصاف کیا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ آگے پھر اس مضمون کی تاکید ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں تو کبھی بھائیوں میں لڑائی ہوجائے تو تم اپنے دونوں بھائیوں میں اصلاح کردیا کروکیون کہ بہرحال وہ دونوں پارٹیاں تمہارے بھائی ہیں اور صلح کراتے وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو یعنی جانب داری سے کام نہ لو اور کسی پارٹی کی طرف داری نہ کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ کہتے ہیں کہ انصار کے بعض حضرات اور عبداللہ بن ابی کے بعض طرف داروں میں میں ایک جھگڑا ہوگیا جھگڑا معمولی بات پر تھا۔ نبی کریم ﷺ ایک سواری پر سوار تھے سواری نے پیشاب کیا عبداللہ بن ابی نے پیشاب پر کچھ ناک بھول چڑھائی عبداللہ بن رواحہ نے اس کی ناک بھوں چڑھانے پر کوئی ناراضگی کا اظہار کیا اسی پر بات بڑھ گئی اور اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اس آیت کے متعلق بہت سے مسائل ہیں کیونکہ یہ آیت ہراس جنگ کو شامل ہے جو مسلمان آپس میں لڑیں امام سے بغاوت کرکے مقابلے میں آئیں اور آپس میں لڑیں ان کا حکم فرمایا مرتدین کا نہیں ہے۔ حضرت کرم اللہ وجہہ نے جنگ جمل صفین کے موقعہ پر فرمایا تھا اخواننا بغواعلینا۔ حضرت علی ؓ نے بغاوت کرنے والوں کو اپنا بھائی فرمایا معلوم ہوا کہ ایسی بغاوت یا باہمی جنگ سے مسلمان کا نام باقی رہتا ہے اور ایک مسلمان کو کفار نہیں کہا جاسکتا اسی لئے اس قسم کے لڑنے والوں کے احکام بھی جدا ہیں مثلاً جودو پارٹیاں باہم نبردآزما ہیں وہ دونوں امام المسلمین کی ولایت کے تحت ہیں یا دونوں امام المسلمین کی ولایت کے ماتحت نہیں ہیں یا ایک امام کی ولایت کے تحت ہے اور دوسری نہیں ہے ان کے تمام احکام علیحدہ علیحدہ فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں جو ان کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس مختصر تیسیر میں ان کی گنجائش نہیں یہاں صرف اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ مسلمانوں کو اخوۃ قائم رکھنے کی غرض سے ایک طریقہ صلح وآشتی اور باہم صفائی کا بتایا گیا ہے اور تیسری پارٹی جو اصلاحی ہو اس کو عدل و انصاف کی تاکید کی گئی ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے اور آداب تعلیم فرمائے اور سماج کو اعلیٰ کردار سکھائے تاکہ اخلاق کی بلندی میسر ہو اور باہمی خانہ جنگی بند ہو۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو نہ تو مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کی کسی جماعت سے مذاق کرے کیا عجب ہے کہ جو لوگ مذاق اڑا رہے ہیں ان سے وہ لوگ بہتر ہوں جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے یہ ممکن ہے کہ جو عورتیں ہنسی اڑانے والی میں ان سے وہ عورتیں بہتر ہوں جن کو ہنسی اڑائی جارہی ہے اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ دیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارا کرو ایمان لانے کے بعد فسق کا نام بہت برا ہے اور جو توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہں گے۔

(11) اے ایمان والو ! نہ تو مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کی کسی جماعت سے مذاق کرے کیا عجب ہے کہ جو لوگ مذاق اڑا رہے ہیں اور سخر یہ کررہے ہیں ان سے وہ لوگ بہتر ہوں جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور جن سے تمسخر کیا جارہا ہے اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا اور ان سے مذاق کرنا چاہیے یہ ممکن ہے کہ جو عورتیں ہنسی اڑانے والی ہیں ان سے وہ عورتیں بہتر ہوں جن کی ہنسی اڑائی جارہی ہے اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ دیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارا کرو۔ ایمان لانے کے بعد مسلمان کے لئے فسق کا نام بہت برا ہے اور جو توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا مذاق اور تمسخر جو کسی کی تحقیر اور دل آزاری کے لئے کیا جائے وہ حرام ہے خواہ مرد کسی مرد کے ساتھ ایسا مذاق کرے یا عورت کے ساتھ ایسا مذاق کرے یا عورت مرد کے ساتھ یا مرد عورت کے ساتھ تحقیر آمیز مذاق کرے تو وہ ناجائز ہوگا باقی جس میں دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری نہ ہو وہ مزاح اور خوش طبعی ہے اس میں مضائقہ نہیں اور مزاح جائز ہے۔ یہاں جو رجال اور نساء فرمایا ہے اس سے محض جنس مراد ہے جیسا کہ ہم نے عرض کردیا ہے یہاں یہ بحث شاید غیر ضروری ہوگی کہ قوم کا اطلاق صرف مردوں پر ہوا کرتا ہے عورتیں قوم کے لفظ میں داخل نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی ہیں تو تبعاً مداخل ہوتی ہیں۔ اور یہ جو فرمایا کہ شاید وہ تم سے بہتر ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص بہتر ہو جس کی تم تحقیر اور دل آزاری کررہے ہو یعنی اس کا خاتمہ ایمان پر مقدمہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سے زیادہ مقبول ہو ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول مشہور ہے۔ ابلاء موکل بالقول لو سخرت من کل لخشیت ان احول کلبا۔ یعنی ہر قسم کی بلا قول پر سونپی گئی ہے اکثر بلائیں زبان کی بدولت نازل ہوتی ہیں میں تو کسی کتے سے بھی مذاق نہیں کرتا اگر کتے سے بھی تحقیر آمیز مذاق کروں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں میں کتا نہ بنادیاجائوں۔ بہرحال وہ شخص جو اپنی حقارت سے اور ذلت پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ دوسرے آدمی کو ذلیل کرنے سے احتیاط کرتا ہے۔ تلمزدا کو میم کے زیر سے اور میم کے پیش سے دونوں طرح کی قرات ہے خواہ کسی طرح پڑھیے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی پر طعن نہ کرو اور عیب نہ لگائو۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ایسا کوئی فعل اختیار نہ کرو جس کی وجہ سے تم کو طعن کیا جائے۔ تنابزوا بالالقاب کا مطلب یہ کہ کسی کو برے لقب سے پکارنا جو کسی کو ناگوار گزرے یعنی ایسے لقب سے نہ پکارو جو اس کی دل آزاری کا موجب ہو جیسے کسی شخص کی کوئی چڑ بنالیتے ہیں اور پھر اس چڑ سے اس کو پکارتے ہیں۔ اور وہ ایک مومن کی ناگواری کا سبب ہوتا ہے ہاں اگر کوئی ایسا نام لیاجائے اور ایسا لقب دیا جائے جو ناگوار نہ ہو تو مضائقہ نہیں جیسا کہ بعض لوگ کسی لقب سے خوش ہوتے ہیں۔ آخر فرمایا کہ ایمان کے بعد تو مسلمان کے لئے سب سے برا نام فسق کا ہے یعنی کسی مسلمان کو یافاسق کہہ کر پکارنا جیسے بعض لوگ ان مسلمانوں کو جو یہودی سے مسلمان ہوئے تھے یا یہودی کہہ کر پکارتے تھے تو سب سے برا لقب تو ایمان لانے کے بعدفسق کا لقب ہے اس میں سب گناہ داخل ہوگئے مثلا ً کسی کو یافاسق یا زانی، یا سارق کہنا سب داخل ہوگئے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو برا لقب دینے سے پہلے یہ تو دیکھو کہ تم ایک گناہ کرنے سے فاسق ہوجاتے ہو جو ایمان کے بعد بہت ہی برا لقب ہے یعنی دوسرے کو برا لقب دینے سے اپنا لقب فاسق ہوجاتا ہے اس لئے ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہیے جس میں اپنا لقب فاسق ہوجائے اور جو شخص ان حرکات ناشائستہ اور ممنوعہ سے باز نہ آئے گا اور توبہ نہ کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم اور ناانصاف ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں کسی پر برانام ڈالا پہلے تو اپنا نام پڑگیا فاسق آگے تھا مومن اس پر عیب لگایا نہ لگا۔ خلاصہ : یہ کہ ایسے افعال سے بچنا چاہیے جو کسی مسلمان کی دل آزاری اور ناگواری کا موجب ہو اور بات بڑھ کر فتنہ و فساد اور قتل و قتال کی نوبت آئے اور خود فاسق قرارپائے انسان اگر اپنے آپ کو خود حقیر سمجھے تو دوسروں پر عیب لگانے کی جرات نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ کی یہ دعا مشہور ہے۔ اللھم اجعلنی صبورا واجعلنی شکورا وجعلنی فی عینی صغیرا وفی اعین الناس کبیرا۔ یعنی اللہ مجھ کو صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا بنادے اور مجھے کو اپنی آنکھوں میں چھوٹا اور دوسروں کی آنکھوں میں بڑا بنادے یعنی جب میں خود اپنے پر نظرکروں تو اپنے کو چھوٹا سمجھوں اور دوسرے جب مجھ کو دیکھیں تو بڑا سمجھیں۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان والو بہت گمان کرنے سے احتراز کیا کرو کیونکہ بعضے گمان گناہ ہوا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے عیب کی ٹٹول نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے بڑا کہا کرو کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس کو تو تم برا سمجھتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔

(12) اے ایمان والو بہت گمان کرنے سے احتراز کیا کرو اور بہت سے گمانوں سے بچا کرو بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے عیب کی ٹٹول نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے برا کہا کروں کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ اور مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے سو تم کو اس سے گھن آئے اور تم اس سے متنفر ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنیوالا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ چونکہ ظن کی بہت سی اقسام ہیں بعض جائز ، بعض واجب، بعض مباح۔ اس لئے فرمایا بعض حرام اسلئے ظن اور گمان کی کثرت سے احتراز کردیا یہ مطلب ہے کہ اجتنبوا اجتنا باکثیراً کہ بچو بچنا بہت۔ اہل خیر اور صلاح کے ساتھ بدگمانی کرنا بہت بری بات ہے اور اہل فسق کے معاملے میں بدگمانی جائز ہے اور جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ بعضے افراد ظن اور گمان کے گناہ ہیں تو ان کی تحقیق کرنے کے بعد جہاں بدگمانی جائز ہو یا ضروری ہو وہاں بدگمانی کرے تو مضائقہ نہیں یہ نہیں کہ ہر موقعہ پر اور ہر معاملے میں بدگمانی کرو۔ اور برے ظن سے کام لو۔ جوشخص بہت بدگمانیوں سے احتراز کرے گا تو بعض سے بچ جائے گا تجسس کسی کے عیب تلاش کرنا اور مسلمان کے عیب ڈھونڈتے پھرنا۔ حضرت مجاہد کا قول ہے خذواماظھر ودعواماسترہ اللہ یعنی جو کچھ ظاہر ہو وہ لے لو اور جو کچھ اللہ نے چھپالیا اسے چھوڑ دو ۔ بہرحال عیب جوئی سے منع فرمایا کسی کی چھپ کر باتیں سننا یا سونے والے کی حالت بنا کر جاگتے رہنا اور دوسروں کی باتیں سنتے رہنا تجسس ہے اس میں بھی اگر کہیں اپنے آپ کو ضرر سے بچانے یا کسی مسلمان کو نقصان سے بچانے کی غرض سے دشمن کی تدابیر کا کھوج لگائے تو جائز ہوگا۔ پھر فرمایا ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو یعنی پیٹھ کے پیچھے ایسی برائی کرنا جو سچی ہو کہ اگر اس کے سامنے کرو تو اس کو ناگوار گزرے یہ غیبت ہے اور اگر وہ بات سچی نہ ہو تو بہتان ہے اور اس میں بہت لوگ مبتلا ہیں بلکہ یہ مرض علماء اور صوفیاء میں آج کل کے بہت ہے۔ نعوذ باللہ من شرور انفسنا گوشت کھانا فرمایا جس طرح کسی انسان کا گوشت نوچ نوچ کر کھانے سے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح اس کی آبروریزی بھی اس کی تکلیف کا موجب ہے اگرچہ اس آبروریزی کا اس کو علم نہ ہو تو عدم حس میں مشابہت مردے کے ساتھ دی لیکن فی نفسہ تو تکلیف وہ چیز ہے گویا مرے ہوئے بھائی کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے ہو پس جس طرح مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اسی طرح اس کی پیٹھ پیچھے اس کی آبرو ریزی سے بھی بچو اور اس کو برا سمجھو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تہمت اور بھید ٹٹولنا اور پیٹھ پیچھے بد کہنا کسی جگہ نہیں بےگناہ یعنی مظلوم ظالم کو کچھ کہے جہاں اس میں دین کا فائدہ ہو اور نفسانیت غرض نہ ہو۔ خلاصہ : یہ کہ مظلوم ظالم کی بدگوئی کرسکتا ہے بشرطیکہ دین کا کچھ فائدہ ہو۔ ہم اس مسئلے کو چھٹے پارے کی ابتداء میں تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں اس کی تسہیل میں ملاحظہ کرلیا جائے۔ یہ غیبت جس طرح قول سے ہوتی ہے فعل سے بھی ہوتی ہے مثلاً کسی لنگڑے کی نقل اتارنا ، یا کسی پستہ قد کو اشارہ کرکے اور مٹھی بنا کے دکھانا وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال اس بات میں تفصیل ہے جو مقامی علماء سے دریافت کی جاسکتی ہے اور یہ جو فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ یعنی غیبت کرنے سے بچو اور توبہ کرو بلا شبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور ہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے غیبت حق العباد بھی ہے اور حق اللہ بھی یعنی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معاف کر ائو اور اگر وہ مرگیا ہو تو اس کے لئے استغفار کرے، غیبت صرف مسلمان ہی کی حرام نہیں بلکہ کافر جو ذمی ہو اس کی بھی غیبت حرام ہے۔ بہرحال اس باب میں بھی بڑی تفصیل ہے جو اس مختصر میں نہیں کی جاسکتی چونکہ اوپر تقویٰ کا ذکر فرمایا تھا اس لئے آگے متقی کی تعریف اور اس کی خوبی بیان فرمائی چناچہ اشاد ہوتا ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف شاخیں اور مختلف جھیلے بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو اللہ کے نزدیک تو تم سب میں بڑا عزت والا وہ ہے جو تم سب میں بڑا پرہیز گار ہے بیشک اللہ سب کو جانتا ہے اور سب کے حال سے باخبر ہے۔

(13) اے انسانو ! اور اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف شاخیں اور مختلف قبیلے بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو اور پہچان سکو ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو تم سب میں بڑا شریف اور عزت والا وہ ہے جو تم سب میں بڑا پرہیزگار اور زیادہ تقویٰ والا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور سب کے حال سے باخبر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بڑائیاں ذات کی اور قوم کی عبث میں صفت نیک چاہیے نری ذات کس کام کی۔ خلاصہ : یہ کہ سب لوگ ایک مرد اور ایک عورت یعنی آدم وحوا سے پیدا ہوئے ہیں جس قدر اولاد بڑھی گئی ان کے شعب قبیلہ ، عمارہ ، بطن، فخذ اور فیصلہ بنتے گئے اس سے باہمی تعارف اور پہچان میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ ایک ایک نام کے بہت سے آدمی ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی اور بہت سے فوائد ہیں مثلا قرب وبعد کی مناسبت سے ان کے حقوق شرعیہ رو کے جاتے ہیں حاجب اور محجوب کا پتہ چلتا ہے ایک خاندان کا آدمی دوسرے خاندان کے آدمی سے متمیزرہتا ہے۔ شعوب جمع ہے شعب کی شعب جمع کرتا ہے قبائل کو اور قبیلہ جمع کرتا ہے عمائر کو اور عمارہ جمع کرتا ہے بطون کو اور بطن جمع کرتا ہے افخاذ کو اور فخذ جمع کرتا ہے فصائل کو یہ ہم نے عربی قبائل کی اصطلاح بیان کی دوسری قوموں میں کوئی اور دستور ہوگا۔ بہرحال یہ اولاد آدمی کی تقسیم ہوتی چلی گئی مثلاً فرض کرو خزیمہ شعب ہے اور کنانہ قبیلہ اور قریش عمارہ اور قصی بطن اور ہاشم فخذ اور عباس فیصلہ یہ تمام ت قسمیں باہمی شناخت کے لئے ہیں اور کسی کو کسی پر فضیلت نہیں شرافت اور بزرگی اور عزت اللہ تعالیٰ کی نظر میں اسی کی ہے جو متقی ہو جو تقوی میں اونچا اور اعلی اور اتقیٰ ہے وہی اللہ کے نزدیک بڑاشریف اور مکرم ہے۔ اس اعلان نے نبی نوح انسان میں مساوات اور یگانگت پیدا کردی اور زمانہ جاہلیت کے خاندانی تفاخر اور بڑائی کو پارہ پارہ کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن کو خطبہ فرمایا اس میں اس بات کا اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور تکبر کو دور کردیا۔ آدمیوں کی دو ہی قسمیں ہیں مومن جو پرہیزگارہو وہ اللہ کے نزدیک عزت دار اور کریم ہے اور جو فاجر شقی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ذلیل و خوار ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انسان آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیا گیا ہے نہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت ہے نہ عجمی کو عربی پر کوئی بزرگی ہے نہ سرخ رنگ والے کو سفید رنگ والے پر کوئی بزرگی ہے نہ سفید رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت اور برائی حاصل ہے مگر تقوے اور پرہیزگاری سے پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کا یہ بنی نوع انسان پر کتنا بڑا احسان ہے کہ تمام دنیا کے انسانوں سے نسبی تفاخر کو مٹا کر سب کو بھائی بھائی بنادیا اور صرف تقوے اور پرہیزگاری کو امتیاز کی وجہ قرار دیا۔ یعنی جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے وہی بڑا ہے جس قدر تقوے میں بڑھا ہوا ہے اس قدر بزرگی میں بڑھا ہوا ہے۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے من بطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جو عمل میں پیچھے رہا اس کا نسب اس کو آگے نہ بڑھا سکے گا اللہ تعالیٰ علیم اور خیبر ہے یعنی ہر شخص کے نسب اور اس کے نسبی تفاخر کو بھی جانتا ہے اور ہر شخص کے تقوے سے بھی باخبر ہے۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہہ دیجئے تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم فرمانبردار ہوگئی اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی صحیح طور پر اطاعت کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجر میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا بیشک اللہ برا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔

(14) یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم فرماں بردارہوگئے یعنی ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی صحیح اطاعت کرو۔ تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجروثواب میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے عرب کے اکثر دیہاتیوں نے صدق دل سے ایمان قبول کیا تھا لیکن یہ بنی اسد کے لوگ قحط کے زمانے میں غلہ وغیرہ حاصل کرنے مدینے میں آئے تو کہنے لگے ہم ایمان لے آئے اس پر تنبیہہ کی کہ ایمان صرف زبان سے کہنے سے نہیں ہوتا بلکہ دل سے اس کی نیت بھی کرو۔ یعنی جب تک تصدیق قلبی میسر نہ ہو صرف قول سے مومن نہیں ہوتا ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم صلح میں داخل ہوکر آپ کے مطیع ہوگئے ہیں اور ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور ابھی ایمان تمہارے قلب میں داخل نہیں ہوا یعنی تصدیق قلبی حاصل نہیں ہوئی اور اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جس میں تصدیق قلبی بھی آگئی یعنی دل سے بھی ایمان لے آئو اور زبان اور قلب میں مطابقت پیدا کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ان اعمال کے اجر میں جو ایمان لانے کے بعدتم کرو گے اس وقت کے کفر وشرک کی وجہ سے کچھ کمی نہیں کرے گا۔ یعنی ایمان لانے کے بعد جو عمل کرو گے اس کا پورا پورا ثواب ملے گا اور تمہاری موجودہکافرانہ روش کی وجہ سے ایمان لے آنے کے بعد کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور دل سے ایمان لانے اور زبان سے اقرار کرنے اور ارکان اسلامی پر عمل کرنے کے بعد پہلے اعمال کفریہ کو ساقط کردیا کرتا ہے اور ان اعمال کفریہ پر کوئی محاسبہ نہیں کرتا جو ایمان سے پہلے ہوچکے ۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

کامل ایمان والے تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کبھی شک نہیں کیا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں مشقتیں برداشت کیں یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔

(15) کامل ایمان والے تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کبھی شک و شبہ نہیں کیا ۔ یعنی ہمیشہ ایمان پر قائم رہے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مشقتیں برداشت کیں اور جہاد کیا یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔ یعنی تم تو کاذب ہوکر جھوٹ بولے ایمان کا اور ایمان تھا نہیں سچے اور پورے ایماندار تو وہ لوگ ہیں جو تصدیق قلبی کے ساتھ ایمان لائیں اور زبان سے اقرار کریں اور جہاد میں اپنی جان اور مال لڑادیں تو یہ لوگ سچے اور کامل ایمان والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اعمال میں کچھ کوتاہی بھی ہو مگر تصدیق قلبی تو ہو جب بھی تم کو صادق کہا جاسکتا تھا لیکن یہاں تو صدق ہی مفقود ہے بلکہ جھوٹ بول کر دھوکہ دینا مقصود ہے تو تم کو مومن کس طرح کہا جاسکتا ہے اور صادقوں میں سے ہونا تو بہت اونچی چیز ہے۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

آپ ان دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کیا تم اللہ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو حالانکہ اللہ تو ان سب چیزوں سے آگاہ ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ اور خدا تعالیٰ تمام چیزوں کو جانتا ہے۔

(16) آپ ان دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو اور اپنی دینداری اس کو جتاتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی چیزوں کے علاوہ بھی ہر ایک چیز کو جانتا ہے سورة یونس میں بھی گزر چکا ہے۔ قل اتنبون اللہ بمالا یعلم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر سچا دین تم کو ہے تو کہے سے کہا ہوگا جس سے معاملت ہے وہ آپ خبردار ہے۔ خلاصہ : یہ کہ جب وہ ہر شئی کو جانتا ہے اور ہر شئے کا جاننے والا ہے تو تمہارے ایمان کو بھی جانتا ہوگا۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

اے بنی (علیہ السلام) یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھ پر اپنے سلام لانے کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے ایمان کی جانب تمہاری رہنمائی فرمائی ہے بشرطیکہ تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو۔

(17) اے پیغمبر یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں آپ فرمادیجئے تم مجھ پر اپنے اسلام لانے اور مسلمان ہونے کا حسان نہ رکھو بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے ایمان کی جانب تمہاری رہنمائی فرمائی بشرطیکہ تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو نیکی اپنے ہاتھ سے ہوا اپنی تعریف نہیں رب کی تعریف ہے جس نے کروائی۔ یعنی اگر تمہارا یہ دعویٰ ایمان سچا بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ کا احسان مانو کہ اس نے تم کو ہدایت ایمان کی توفیق دی اور تمہاری رہنمائی فرمائی تم الٹا اپنا احسان جتاتے ہو۔ اور یہاں تو بات ہی دوسری ہے کہ دعوئے اسلام میں ہی سچے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم تمہارے ایمان کے خلاف ہے۔ یہ تمام آیتیں اعراب مذکورہ سے ہی تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ صاحب مدراک کا خیال ہے اسی لئے ہم نے سب آیتوں کا سلسلہ قالت الاعراب سے ہی رکھا ہے۔ اب خلاصہ یہ ہوا کہ یہ اعراب کذب خدع یعنی دھوکہ اور تمنن یعنی احسان جتانا تینوں افعال قبیحہ کے مرتکب ہوئے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کئی مرتبہ کی گفتگو کا خلاصہ ہو جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بنی اسد پہلے چلے گئے جب انہوں نے یہ آیتیں سنیں تو پھر آئے اور قسمیں کھا کر یقین دلانے لگے اس پر آگے کی آیتیں نازل ہوئیں۔ ایمان اور اسلام امام ابوحنیفہ کے نزدیک اور امام احمد (رح) کی ایک روایت کی بنا پر دونوں چیزیں ایک ہی ہیں یہاں ایمان اور اسلام کی جو بحث ہے وہ لغوی ہے شرعی نہیں۔
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

یقین جانو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی تمام مخفی باتیں جانتا ہے۔ اور جو تم کررہے ہو وہ سب اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

(18) بلا شبہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی تمام مخفی اور پوشیدہ باتیں جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ صاحب مدارک نے فرمایا یہ ان اعراب کی غیر صادق ہونے کا بیان ہے یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو آسمان و زمین کو جانتا ہے اور تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور دیکھنے والا ہے تو اس سے یہ وہ بات کیوں کر پوشیدہ ہوسکتی ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ تم تفسیر سورة الحجرات