Ayah 48:1(1) اے پیغمبر ہم نے آپ کو صاف اور کھلی ہوئی فتح دی۔
Ayah 48:2(2) تاکہ اس فتح کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی اور پچھلی تمام خطائیں تمام خطائیں معاف فرمادے اور تاکہ آپ پر اپنی نعمتیں پوری کردے اور تاکہ آپ کو سیدھی راہ پر لے چلے۔
Ayah 48:3(3) اور تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائے جو باعزت فتح کو شامل ہو اور آپ کو ایسا غلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہو اور جو غلبہ قوی ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تجھ کو اس تحمل سے درجے بڑھے اور یہ بات اللہ نے کسی بندے کو نہیں فرمائی کہ اگلے پچھلے گناہ بخشے اگرچہ بہت بندے بخشے اس میں نڈر کردینا ہے۔
آپ کے گناہوں سے مراد وہی شان برتر کے نامناسب کام جو صورۃ خطا سمجھی جائے خواہ معنی وہ خطا نہ ہو اور کوئی ایسی خطا ہو جو صورۃ خطا ہو اور حقیقت میں خطانہ ہو وہ خطا معصومیت کے منافی نہیں۔ ایسی ہی خطائوں کو فرمایا کہ اگلی پچھلی سب بخش دیں صلح حدیبیہ کے ساتھ ان آیتوں کا تعلق ہے۔
بعض علمائے فتح مکہ سے ان آیتوں کا تعلق بیان کیا ہے لیکن راجح اور جمہور علماء کی رائے وہی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے چونکہ یہ صلح آئندہ ہونے والی فتح کی تمہید اور سبب تھی اس لئے اس صلح کو فتح فرمادیا۔ بعض حضرات نے ماتقدم سے آدم (علیہ السلام) وحوا کی خطا اور ماتاخر سے امت کے گناہ گاروں کی خطائیں مراد لی ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں۔
خطا کے جو معنی ہم نے بیان کئے ہیں وہ راجح ہیں اور چونکہ اس صلح حدیبیہ کے بعد بعض عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں اور تبلیغ میں آسانیاں ہوئیں اور لوگ بکثرت مسلمان ہوئے اور اس صلح میں بھی آپ نے بڑی دانشمندی اور تحمل کا ثبوت دیا اس لئے آپ کے اجروثواب اور آپ کے درجات عالیہ میں زیادتی ہوئی اور یہی وجہ آپ کی تقصیرات اور خطائوں کی عام معافی کی موجب ہوئی۔ نعمتوں میں تکمیل اور احسانات کا اتمام یعنی آپ کے ہاتھ پر بہت لوگ مسلمان ہوں اور آپ کے لئے تبلیغ میں آسانیاں پیدا ہوں اور دین کی تکمیل ہوجائے اور آپ کو بغیر کسی مزاحمت اور روک ٹوک کے دین کی سیدھی راہ لے چلے اور وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ آپ کی مدد فرما کر آپ کو ایسا غلبہ دیا جائے کہ کوئی دین کی سیدھی راہ پر لے چلے اور وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ آپ مدد فرما کر آپ کو ایسا غلبہ دیا جائے کہ کوئی دین حق کا منکر آپ سے آنکھ نہ ملا سکے یعنی وہ غلبہ نہایت مضبوط اور قوی ہو۔
Ayah 48:4(4) وہی تو ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل اور ضبط و اطمینان نازل فرمایا تاکہ وہ اس ایمان کے جو ان کو پہلے سے حاصل تھا ایمان میں اور بڑھ جائیں اور ٓسمان و زمین کے تمام لشکر اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چین سے رسول کے حکم پر رہے ضدیوں کے ساتھ ضد نہ کرنے لگے اس میں ان کو ایمان کا درجہ بڑھا۔ سکینہ کی بحث سورة انفال اور سو رہ براۃ میں گزر چکی ہے کہ یہ ایک حالت ہے جو اہل ایمان کے قلوب میں ڈال دی جاتی ہے جس سے مسلمانوں کو پریشانی کے وقت اطمینان اور چین حاصل ہوجاتا ہے۔
اس سورت میں نزول سکینہ کا دو جگہ ذکر آیا ہے ایک اس موقعہ پر جب کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر لشکر اسلام میں پھیلی اور آپ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے قتال پر بیعت لی اور لوگوں نے جواں مردی سے جہاد پر آمادہ ہوکر حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور خوش دلی سے لڑنے پر تیار ہوگئے۔
دوسری شاید کفار کی ضد کے موقعہ پر جب آپ نے لڑائی سے منع فرمایا اس وقت بھی مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت کی اور حمیتہ جاہلیۃ سے متائر نہ ہوئے اور پیغمبر ﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری کے لئے آمادہ ہوگئے پیغمبر کی اطاعت اور فرماں برداری سے ایمان کے کمال اور ایمان کے نور میں ترقی ہوتی ہی اور ایمان کی ترقی جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے اسی لئے دخول جنت کا آگے ذکر فرمایا۔ فرشتوں کے اور دیگر مخلوقات کے سب لشکر اسی کے ہیں وہ چاہے تو ان کفار کو ہلاک کردے لیکن وہ بڑے علم اور حکمت کا مالک ہے جنگ کی مصلحت ہو تو جنگ اور لڑائی کا حکم دیتا ہے اور صلح کی مصلحت اور حکمت کا مقتضی ہو تو صلح کا حکم دیتا ہے۔
Ayah 48:5(5) یہ سکینہ اس لئے نازل فرمایا اور کمال ایمانی کو اس لئے ترقی دی تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو ایسے باغوں اور ایسی بہشتوں میں دالخ فرمائے جن کے پائیں اور جن نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے اور اس لئے تاکہ ان کے گناہ ان سے زائل کرد اور دور کردے اور یہ جنت میں داخل ہونا اور گناہوں کا معاف ہوجانا اللہ کے ہاں بہت بڑی کامیابی اور مراد پانی ہے۔ یعنی نزول سکینہ سے جو اثرات قلوب پر مرتب ہوئے وہ اثرات موجب ہوئے وہ اثرات موجب ہوئے جنت میں داخل ہوکر ہمیشگی اختیار کرنا اور گناہوں کا بالکل معاف ہوجانا یہی باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ منافق اور مشرک وغیرہ اس سکینہ کی برکت سے محروم رہے آگے اس محرومی پر جو اثر مرتب ہوا اور وہ اثر جن چیزوں کا سبب بنا اس کو بیان فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 48:6(6) نیز اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور ان مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو سخت سزا دے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت برے برے گمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں کیا کرتے ہیں ان لوگوں پر بری گردش واقع ہونے والی ہے اور اللہ تعالیٰ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان پر لعنت کرے گا اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردے گا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جہنم تیار کررکھی ہے اور وہ جہنم بہت ہب برا ٹھکانا ہے۔ یعنی سکینہ کی محرومی کا یہ اثر مرتب ہوا کہ منافق اپنے نفاق پر اور مشرک اپنے شرک پر قائم رہے اور کافر اپنے کفر پر جمے رہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں کرتے رہے۔
بیچ میں فرمایا انہی پر بری گردش آنے والی ہے یہ بری گردش تو دنیا میں ہوگی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کا غصہ اور اس کی رحمت سے دوری۔ اور جہنم کو برا ٹھکانا فرمایا اور واقعی جہنم سے برا ٹھکانا اور ہو بھی کیا سکتا ہے ۔ بہرحال ! یہ کفر وشرک اور نفاق ان کے عذاب اور غضب الٰہی کا موجب ہوئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو لوگ کہتے ہیں جنت کی طلب نقصان ہے یہاں سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں یہی بڑا کمال ہے۔
شاہ صاحب (رح) نے اور فرمایا بڑی اٹکلیں یہ کہ مدینے چلتے وقت منافق بہانے کرکے بیٹھ رہے جانا کہ یہ لڑائی میں تباہ ہوں گے وطن سے دور ہے اور فوج کم اور دشمن کا دیس اور کفاروں نے جانا کہ عمرے کے نام سے آئے ہیں چاہتے ہیں دغا سے شہر مکہ لے لیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) کے زمانے میں کچھ جاہل پیر ایسے بھی تھے جو اپنے مریدوں کو جنت کی دعا مانگنے سے منع کرتے تھے اور کہتے تھے جنت مانگ کر ہم اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتے ہم تو وصال چاہتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے وکان ذلک عنداللہ فوزاً عظیماً سے اس کا رد فرمایا اور بدگمانیاں یعنی بری اٹکلیں کرنے لگے اور یہ خیال کر بیٹھے کہ اتنی دور لڑنے جارہے ہیں ان مسلمانوں کی قضالے جارہی ہے چناچہ گائوں کے اکثر لوگ گھروں میں بیٹھے رہے اور مسلمانوں کے ساتھ نہیں آئے بدگمانی کرنے والوں کو بیچ میں فرمایا تھا کہ ان پر ہی بری گردش پڑنے والی ہے چناچہ مسلمانوں کی فتح یابی کے بعد ان بدگمانی کرنے والوں پر جو گزری اس کا اندازہ آج کرنا مشکل ہے۔
جب ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے کفر کو سمٹتے ہوئے اور اسلام کو پھیلتے ہوئے دیکھا ہوگا تو ان کے کلیجے پر سانپ لوٹتا ہوگا اور اپنی موت نظر آتی ہوگی اور آخرت میں جو کچھ ہونے والا ہے وہ ابھی باقی ہے۔
Ayah 48:7(7) اور آسمان و زمین کے تمام لشکر اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال قوت و حکمت کا مالک ہے۔ اس کا لشکر فرشتے اور دیگر مخلوقات جس سے چاہیں کام لیتے ہیں اور باوجود اتنی بڑی قوت کے کوئی کام بغیر مصلحت اور حکمت کے نہیں ہوتا۔
Ayah 48:8(8) بلا شبہ ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہی دینے والے اور بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔
Ayah 48:9(9) تاکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اس کے دین کی مدد کرو اور اس کا ادب ملحوظ رکھو اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو۔ آپ کو گواہی دینے والا یعنی اور رسولوں پر یا اپنی امت پر بشارت دینے والا یعنی ہر ایمان لانے اور نیک اعمال بجا لانے والے کو آپ نجات کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ڈرانے والا یعنی ہر منکر اور معاند کو خدا کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔
اور اے مسلمانو ! ہم نے ان کو اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو اور اس کا ادب ملحوظ رکھو اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو ۔ ادب محلوظ رکھنا یعنی اس کے احکام بجا لائو اور جن باتوں سے وہ منع فرمائے ان سے رک جائو۔
پاکی بیان کرنے سے مراد یا تو اس کا ذک رہے اور یا صبح شام کی نماز ہے۔
بعض حضرات نے تعزروہ توقروہ کی ضمیریں بنی کریم ﷺ کی طرف اور تسبحوہ کی ضمیر خدا کی طرپھیری ہے یہ ضمائر کا انتشار صحیح نہیں ہے بلکہ راجح یہی ہے کہ تینوں ضمیریں حضرت حق جل مجدہ کی جانب پھرتی ہیں جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے۔ بعض نے ابتدا کی وہ ضمیریں دونوں کی طرف راجع کی ہیں۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف اور تیسری ضمیر وتسبحوہ کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف راجع کی ہے۔
ہوسکتا ہے کہ بکرۃ سے مراد صبح کی نماز اور اصیلا سے باقی چاروں نمازیں مراد ہوں۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے۔
بہرحال اعمال نیک کی اس آیت میں ترغیب ہے ، حضرت صدیق اکبر ؓ کا یہ قول مشہور ہے صنائع المعروف تقی مصارع السوع یعنی افعال پسندیدہ اور برگزیدہ کا بجا لانا چاہیے تاکہ ان افعال کی برکت سے ڈر اور ہلاکت کے مواقع سے محفوظ رہے۔
Ayah 48:10(10) بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں ان بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے پھر جو شخص عہد شکنی کرتا ہے تو وہ اپنے ہی ضرر اور اپنی ہی ذات کی برائی کے لئے عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس نے اس پر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم اور بہت بڑانیگ عطا فرمائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہاتھ ملاتے تھے وقت قول کے وقت اول قول مسلمان کا قول ہوتا تھا پھر جس بات کا تقیید منظور ہوا لڑائیوں میں مرتے دم تک نہ بھاگنے کا۔
صلح حدیبیہ کے متعلق چند امور ذہن نشین کرلینے چاہئیں تاکہ سورة فتح کی تفسیر سمجھنے میں آسانی ہو یہ واقعہ حدیبیہ کا 6 ھ میں پیش آیا، واقعہ کی بنا یہ ہوئی۔
1 ۔ کہ نبی کریم ﷺ نے ایک خواب دیکھا کہ ہم مکہ معظمہ میں امن وامان سے گئے اور ہم نے عمرہ کیا قربانی کے جانور ذبح کئے اور سر منڈائے اور بال کتروائے۔ اس خواب کی تعبیر کے لئے کوئی تاریخ مقرر نہ تھی عام طور سے صحابہ ؓ سمجھے کہ حضور کا یہ خواب اسی سال پورا ہوگا چناچہ انہوں نے سفر کی تیاریاں شروع کردیں اور حضور ﷺ نے بھی عمرے کا ارادہ کرلیا۔
2 ۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار آدمی آپ کے ہمراہ جانے کو تیار ہوگئے آس پاس کے اعراب کو بھی آپ ﷺ نے دعوت دی لیکن انہوں نے اپنے نفاق کی وجہ سے عذر کردیا اور آپ کے ساتھ سفر میں موافقت نہیں کی۔ جب یہ خبر مکہ میں پہنچی تو کفار مکہ نے باہم مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ ہم اس سال عمرے کی غرض سے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ میں آنے دیں گے۔
3 ۔ حضور اکرم ﷺ کو جب کفار کا یہ عزم معلوم ہوا تو آپ بجائے زبردستی مکہ میں داخل ہونے کے حدیبیہ جو مکہ سے قریب ایک جگہ ہے وہاں اتر پڑے اور قربانی کے جانور جو آپ کے ہمراہ تھے وہ بھی وہیں روک لئے۔ یہ حدیبیہ مکہ سے تقریباً نو کوس کے فاصلے پر آپ کی اونٹنی ثینہ کے پاس بیٹھ گئی لوگوں کے اٹھانے کی کوشش کی تو فرمایا چھوڑ دو اس کو اسی نے روکا ہے جس نے اصحاب فیل کو روکا تھا ثنیہ ایک گھاٹی کا نام ہے جہاں سے مکہ کا راستہ پھٹتا ہے۔
4 ۔ بہرحال حدیبیہ میں قیام فرما کر آپ نے ایک قاصد کو بھیجا کہ ہم لوگ عمرہ کرنے کی غرض سے آئے ہیں لڑنے کا ارادہ نہیں ہے اس قاصد کو قریش نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ نے حضرت عثمان ؓ کو بھیجا حضرت عثمان کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو یہاں یہ شہرت ہوئی کہ حضرت عثمان کو کفار نے شہید کردیا۔ چناچہ اس خبر نے مسلمانوں میں تشویش پیدا کردی اور آپ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر لوگوں سے جہا پر بیعت لینی شروع کردی۔
5 ۔ جب یہ خبر مکہ والوں نے سنی تو انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو واپس بھیج دیا اور چند آدمی صلح کا پیغام لے کر آئے صلح کی شرائط پر بحث شروع ہوئی کفار کا رویہ بہت جارحانہ تھا اول بسم اللہ الرحمن الرحیم پر اعتراض کیا پھر محمد رسول اللہ پر اعتراض کیا ایک شرط یہ تھی کہ آپ اس سال عمرہ نہ کریں بلکہ آئندہ سال آکرعمرہ کرلیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے تمام شرطیں منظور فرمالیں اور حضرت علی کو یا محمد بن مسلمہ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم کیا اور جب محمد رسول اللہ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پر کفار کی جانب سے اعتراض ہوا تو آپ نے محمد رسول اللہ کی بجائے محمد بن عبداللہ اور بسم اللہ کی بجائے باسمک اللہم لکھوایا اور علی سے فرمایا رسول اللہ کو مٹا کر ابن عبداللہ لکھ دو اس پر حضرت علی ؓ نے عذر کیا کہ میں اپنی قلم سے رسول اللہ کو کس طرح مٹادوں تو حضور ﷺ نے خود صلح نامہ لے کر رسول اللہ کو صاف کردیا۔
6 ۔ ابھی صلح نامہ کی تکمیل نہ ہوئی تھی کہ مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ کوئی جماعت خفیہ مکہ سے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کی غرض سے آئی ہوئی ہے چناچہ ان کا سراغ لگا کر مسلمانوں نے اس جماعت کے افراد کو گرفتار کرلیا لیکن بعد میں حضور ﷺ نے ان کو رہا کردیا۔
7 ۔ چلتے وقت حضور ﷺ نے مدینہ سے کافی اصحاب کو اپنے ہمراہ لیا لیکن اعراب اس خیال سے کہ جنگ ہوگی اور ہم لوٹ کر واپس نہ آسکیں گے شریک نہ ہوئے اور حضور ﷺ کی واپسی پر آکر طرح طرح کے جھوٹے عذر کرنے لگے۔
8 ۔ صح نامے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ دس سال تک جنگ نہ ہوگی اس عرصہ میں اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر مکہ بھاگ آئے تو ہم اسے واپس نہ کریں گے اور اس عرصہ میں اگر مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ پہنچ جائے تو آپ کو اسے واپس کرنا ہوگا۔ چناچہ ابوجندل ابن سہیل کو اسی شرط کے ماتحت حدیبیہ ہی سے واپس کردیا گیا ہرچند کہ مسلمانوں کو اس کا واپس کرنا بہت شاق گزرا لیکن آپ ﷺ نے شرائط کی پابندی کی۔
اسی طرح ابوبہر مدینہ میں بھاگ کر آئے اور ان کو بھی حضور ﷺ نے واپس فرمادیا۔
9 ۔ صلح طے ہونے کے بعد آپ نے وہیں حدیبیہ میں علق کیا قربانیاں ذبح کیں اور احرام کھول دیا اور سلامتی کے ساتھ واپس تشریف لے آئے اور جنگ نہیں کی بعض جوشیلے مسلمانوں پر یہ صلح بہت شاق تھی اور وہ اس کو اپنی کمزوری سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے راستے میں جب حضور ﷺ واپس ہورے تھے تو یہ سورت نازل فرمائی۔
چنانچہ اس کے بعد کفار کی جانب سے نقص عہد ہوا اور حضور ﷺ نے 8 ھ میں مکہ کو فتح کرلیا۔ مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے خیبر کو فتح فرمایا اور وہاں سے بہت غنیمت ہاتھ لگی لیکن متخلفین کو اس خیبر کی فتح میں شرکت کی ممانعت کردی گئی جس کا ذکر اسی سورت میں آتا ہے۔
Ayah 48:11(11) اے پیغمر دیہاتی جو حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے عنقریب آپ سے کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور ہمارے بیوی بچوں نے ہم کو مشغول رکھا اور ہم کو فرصت نہ لینے دی اور ہم لگے رہ گئے اپنے مالوں میں اور گھروں میں سو آپ ہمارے لئے بخشش کی دعا کردیجئے یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے آپ ان سے فرمادیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا تم کو کسی نفع اور فائدے سے بہرہ مند کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو۔ بلکہ بات یہ ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سب سے باخبر ہے۔
مدینے کے آس پاس کے بعض قبائل بنی غفار مزینہ جھنیہ اور اسلم وغیرہ کو آپ نے مکہ جانے کے لئے دعوت دی لیکن وہ اس سفر میں شریک نہیں ہوئے۔ جیسا کہ ہم نمبر ایک میں عرض کرچکے ہیں۔
انہی کی طرف اشارہ ہے کہ اب آپ کے مدینے پہنچنے پر یہ لوگ عذر کرنے آئیں گے تو آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے لئے نفع اور ضرر کا کوئی شخص بھی کچھ اختیار رکھتا ہے !
اگر وہ تم کو نفع پہونچانا چاہے یا نقصان پہنچانا چاہے لہٰذا یہ عذر بھی تمہارا صحیح نہیں ہے۔ عذر کے مواقع کے لئے بعض احکام ہوتے ہیں لیکن قطعی حکم کے بعد عذر کا کیا موقع پھر یہ جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں ان کے قلوب اس کے موافق نہیں۔ لہٰذا جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض شک ونفاق کی بنا پر کہہ رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے اور جب یہ بات ہے کہ نفع اور ضرر پر اسی کی قدرت ہے و باوجود گھر پر رہنے کے بھی وہ نقصان پہنچ سکتا ہے اور گھر چھوڑ کر جانے پر بھی نفح پہنچ سکتا ہے۔
Ayah 48:12(12) یہ بات نہیں ہے بلکہ تم نے یہ گمان کرلیا تھا کہ اب رسول اور ان کے ہمراہی مسلمان اپنے گھروں میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں آراستہ اور خوش نما کردی گئی ہے یعنی یہ گمان تم کو اچھا اور بھلا بھی معلوم ہوا کیونکہ دل کی خواہش کے مطابق تھا اور تم نے طرح طرح کی بدگمانیاں کیں اور برے برے گمان کئے اور تم لوگ ہوگئے ہلاک و برباد ہونے والے۔ یعنی اصل اقعہ یہ ہے کہ تم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ اب پیغمبر اور مسلمان مکہ سے واپس آنے ہی کے نہیں کیونکہ وہاں جنگ ہوگی اور یہ وہاں سب کے سب کام آجائیں گے وہاں کفار کی تعداد زیادہ ہوگی اور یہ کم ہوں گے لہٰذا اب لوٹ کر آنے کا کوئی سوال نہیں اور برے برے گمان کررہے تھے۔
وزین ذلک فی قلوبکم۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ گمان دل کو بھلا لگ رہا تھا اور یہی گمان خوشنما اور دل کو بھارہا تھا کہ بس جی ایسا ہی ہوگا۔ اسی بدگمانی نے تم کو مستحق عذاب قرار دیا۔ اور تم ہلاک ہونے والے ہوگئے۔ گمان بدیہی کہ کافر غالب ہوں گے مسلمان مارے جائیں گے اور اسلام ختم ہوجائے گا۔ (معاذ اللہ) وزین ذلک فی قلوبکم یعنی شیطان کی طرف سے اس گمان کو آراستہ کیا گیا۔
Ayah 48:13(13) اورجوشخص اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا تو ہم نے ایسے منکروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔
Ayah 48:14(14) اورتمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور اللہ ہی کا راج ہے آسمانوں کا اور زمین کا وہ جس کو چاہے معاف کردے اور بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے اور عذاب کرے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی کافر اگرچہ مستحق عذاب ہے لیکن وہ ایسا غفوررحیم ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی بخش دیتا ہے۔
Ayah 48:15(15) یہی لوگ جو حدیبیہ میں پیچھے رہ گئے تھے عنقریب تم سے جب تم خیبر کی غنیمتیں حاصل کرتے چلو گے تو کہیں گے ہم کو چھوڑ یعنی ہم کو اجازت دو ہم بھی تمہارے ہمراہ چلیں یہ لوگ چاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس کا کہا بدل دیں آپ کہہ دیجئے تم اس سفر میں ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اسی طرح فرمادیا ہے اس پر یہ لوگ کہیں گے یہ بات نہیں بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو اور تم ہمارے بھلے سے جلتے ہو بلکہ یہ لوگ بات کو نہیں سمجھتے مگر بہت کم۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب مکہ سے پھرے وہاں سے حکم ہوا کہ خیبر پر چلو اور ان لوگوں کے سوا کوئی ساتھ نہ چلے۔ مدینے میں تین دن رہ کر ارادہ کیا جو لوگ پہلے سفر میں ڈر کر رہ گئے تھے اس سفر میں لالچ کو ت یار ہوئے ان کو اللہ نے منع سنادیا۔
خیبر میں جو یہوذد تھے وہ جنگ احزاب میں قوموں کو چڑھا لائے تھے۔
یعنی جب خیبر کو فتح کرنے جائو گے خیبر کی فتح کو غنائم سے تعبیر کیا چونکہ فتح اور غنائم یقینی تھے یہ خیبر کے یہودوہی ہیں جن کا ذکر سورة احزاب میں ہوچکا ہے۔ یہ بڑے شریر تھے انہوں نے عرب کی تمام قوموں کو ابھار کر مدینے پر حملہ کیا تھا اب ان سے انتقام کا وقت آگیا۔
چنانچہ آپ ذی الحجہ 6 ھ میں حدیبیہ سے واپس تشریف لائے اور محرم 7 ھ میں خیبر کی جانب متوجہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے خیبر فتح ہوگیا چونکہ حکم یہ تھا کہ خیبر کی لڑائی میں متخلفین میں سے کوئی شریک نہ ہو لہٰذا اسی کا ان آیتوں میں اظہار ہے۔ یعنی جب تم چلو گے تو یہ دیہاتی بھی اس کی خواہش کریں گے یہ اللہ تعالیٰ کی بات کو بدلنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کا حکم ہے کہ اور کوئی ہمراہ نہ جائے اور وہ پہلے ہی سے یہ حکم دے چکا ہے اور چونکہ یہ حکم تابیدی نہ تھا اس لئے ہم نے اس سفر میں قید بڑھا دی ہے کہ یہ حکم صرف خیبر کے لئے تھا آگے کیا ہو وہ ان کے حسب حال ہوگا۔
جیسا کہ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ متخلفین میں سے بعض قبائل آئندہ لڑائیوں میں شریک ہوئے اور یہ جو فرمایا کہ بہت کم سمجھتے ہیں اس لئے کہ وحی کی بات کو مسلمانوں کے حسب پر محمول کرتے ہیں ہیو قوفی سے اگر سمجھدار ہوتے تو وحی کی بات کا انکار نہ کرتے۔
Ayah 48:16(16) آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجئے کہ عنقریب ایسے لوگوں کے مقابلے کی دعوت دی جائے گی اور ایسے لوگوں سے لڑنے کو کہا جائے گا جو سخت جنگ جو ہوں گے کہ یا تو ان سے جنگ کرتے رہو یا وہ اسلام کے مطیع اور فرمانبردار ہوجائیں پھر اگر تم اس وقت حکم بجا لائو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو اچھا صلہ اور عمدہ اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے اسی طرح روگردانی کی جس طرح تم اس سے پہلے حدیبیہ میں روگردانی کرچکے ہو تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت دردناک سزا دے گا۔ آئندہ فارس اور روم کے ساتھ ہونے والی لڑائیوں کی جانب اشارہ فرمایا۔
فارس اور روم پرانی حکومتیں تھیں اور اس زمانے کی مہذب قوموں میں شمار ہوتی تھیں فوجیں باقاعدہ اور سامان جنگ بہت رکھتی تھیں۔
اسی لئے اول باس فرمایا یہ لڑائیاں فاروق اعظم ؓ اور حضرت عثمان ذی النورین کے زمانہ میں وقوع پذیر ہوئیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بڑے لڑدیے حق تعالیٰ فرماتا ہے فارس کے لوگوں کو ان کی سلطنت ہمیشہ زبردست رہی تھی حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے وقت فارس کا ملک فتح ہوا اور کچھ مسلمان ہوئے بن لڑے وہاں سے غنیمتیں بہت ہاتھ لگیں۔
آگے معذورین اور اپاہج لوگوں کو مستثنیٰ فرماتے ہیں جیسا کہ ہم والمحصنت کے پارے میں بتا چکے ہیں اور بھی کئی جگہ تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 48:17(17) ہاں اندھے اور نابینا پر کچھ گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ مریض اور بیمار پر کوئی گناہ ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اطاعت وفرماں برداری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایس بہشتوں اور باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور جو شخص روگردانی کرے اور پلٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو درد ناک عذاب کی سزا دے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد ان معذور لوگوں پر فرض نہیں۔
Ayah 48:18(18) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے راضی ہوا جب کہ وہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے اور جو خلوص اور توکل ان بیعت کرنے والوں کی دلوں میں تھا اللہ تعالیٰ کو وہ بھی معلوم تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں پر سکینہ نازل فرمایا یعنی ان میں اطمینان قلب پیدا کردیا اور ان کو اس جرات ایمانی کے بدلے میں ایک ایسی فتح عنایت کی جو بہت ہی قریب تھی۔
Ayah 48:19(19) اور بکثرت غنیمتیں بھی دیں جن کو یہ لوگ حاصل کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔
Ayah 48:20(20) اور اللہ تعالیٰ تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرماچکا ہے جن کو تم حاصل کرو گے پس اس نے جلدی عطا کی یہ تم کو یعنی فی الحال اور سردست یہ خیبر کی غنیمت تم کو عطا کی اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا یہ اس لئے کیا کہ علاوہ اور مقاصد کے یہ واقعہ مسلمانوں کے لئے قدرت کا ایک نمونہ ہوجائے نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو سیدھی راہ چلائے۔
Ayah 48:21(21) اور ایک اور فتح بھی موعود ہے جس پر سردست تم کو دسترس نہ ہوسکی اور تم اس پر قابو نہ پاسکے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے جیسا کہ ہم تمہید کے نمبر 4 میں عرض کرچکے ہیں۔
یہ وہی بیعت ہے جو نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھ کر کہ جنگ ناگزیر ہے مسلمانوں کو جمع کرکے جہاد پر بیعت لی اور تقریباً چودہ سو آدمیوں نے بیعت کی۔ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی اور رضامندی کا اظہار فرمایا یہ بیعت ایک کیکر کے درخت کے نیچے کی گئی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے صدق و خلوص کا یہ کہہ کر اظہار فرمایا۔ تعلم ما فی قلوبھم۔
اس موقعہ پر سکینہ نازل فرمایا اور مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا اور جو فرمایا فتح قریب تو اس سے مراد خیبر کی فتح ہے اور مغانم کثیرۃ وہاں سے حاصل ہوئیں اللہ تعالیٰ نے فتح بھی دی اور غنائم بھی بکثرت عطا فرمائے اللہ تعالیٰ کمال قوت و طاقت کا مالک ہے اور بڑی حکمت والا ہے جب کسی کو چاہتا ہے فتح دیتا ہے اور جب چاہتا ہے غنائم سے مالا مال کردیتا ہے اور ایک خیبر پر کیا موقوف ہے۔
یہ تو اللہ تعالیٰ نے تم کو جلدی عطا کردی ہے اس نے ت تم سے اور بھی غنائم کا وعدہ کررکھا ہے شاید ان غنائم سے مراد فارس اور روم کے غنائم ہوں یا قیامت تک جو غنائم حاصل ہوتے ہیں۔
اس انعام کے بعد اور انعام فرمائے کہ تم پر حملہ کو روکا اور لوگوں کو تم پر ہاتھ نہیں اٹھانے دیا۔ ان لوگوں سے مراد خیبر اور ان کا حلفاء مراد ہیں۔
بنی اسد اور بنی غطفان ان کے حلفاء تھے وہ مدد کو خیبر والوں کی آئے تھے لیکن مرعوب ہوکر واپس ہوگئے ان انعامات میں اگرچہ بہت سی مصلحتیں تھیں اور بہت سے منافع مقصود تھے اور ان منافع اور مقاصد کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ مسلمانوں کے لئے یہ کافروں کے ہاتھوں کو روکنا ا کی نمونہ اور نشانی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کا حامی اور مددگار ہے اور مسلمان اللہ کے نزدیک ذی مرتبت ہیں اور وہ ان کا ضامن ہے یا ہاتھ روکنے سے مراد کفار مکہ کے ہاتھوں کو روکنا ہے کہ وہاں صلح ہوگئی اور تم سب سلامت واپس آئے۔
بہرحال جہاں تمہارے لئے یہ ایک نمونہ اور نشان تھا وہاں یہ بھی مقصود تھا کہ تم کو راہ مستقیم پر قائم رکھے تماری بصیرت اور تمہارا اعتماد اور توکل اللہ تعالیٰ کے فضل پر خوب پختہ ہو اور تم راہ مستقیم پر مضبوطی سے قائم رہو دوسری فتح شاد مکہ کی فتح ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب صلح سوال کا جواب تھا حضرت ﷺ نے بھیجا مکہ میں حضرت عثمان ؓ کو یہاں جھوٹی خبراڑای کہ ان کو مار ڈالا حضرت ﷺ نے کہا اب مجھ کو لڑنا حلال ہوا کہ پہل انہوں نے کی اور وہ خبر جھوت تھی اور یہ بھی کہ اسی آدمی مکہ کے گرد آئے کہ اکیلے دو کیلے کو ماریں وہ سب جیتے پکڑلئے پس حضرت نے ارادہ کیا لڑنے کا تو ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھے اور کہا مجھ سے قول کرو کہ مرتے دم تک کوتاہی نہ کرو گے سب نے قول دیا۔
ایک منافق تھا جد بن قیس اس کے سوا کوئی نہیں رہا وہ بیعت اللہ کے ہاں قبول پڑی اللہ نے جانا جو ان کے دل میں ہے یعنی ظاہر کا اندیشہ اور دل کا توکل اور نعام میں دی یہ فتح خیبر اس سے مسلمان آسودہ ہوئے اور حضرت ﷺ نے فرمایا اس بیعت والا کوئی نہ جاوے گا دوزخ میں۔
یہ بھی انعام میں داخل ہے کہ لوگوں کے ہاتھ یعنی لڑائی نہ ہونے دی۔ یعنی اس بیعت کے انعام میں فتح خیبر دی اور فتح مکہ جو اس وقت ہاتھ نہ لگی وہ بھی مل ہی چکی ہے۔
خلاصہ : یہ کہ ان آیات میں بیعت کے واقعہ کے ساتھ ساتھ جس کو بیعت رضوان کہتے ہیں حضرت حق تعالیٰ نے اپنے احسانات بتائے مثلاً مسلمانوں کے خلوص اور توکل کا اعلان، سکینہ کا نزول فتح خیبر اور اس کے غنائم میں تعجیل دیگر مغانم کثیرہ کا وعدہ لوگوں کے حملے سے بچانا اور دشمنوں کا مرعوب کردینا مسلمانوں کے لئے ان تمام امور کو ایک نشان قرار دینا، اور مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی بشارت دینا۔ دوسری ایک اور فتح کی یعنی مکہ معظمہ یا فارس وروم کی بشارت اور سب سے بڑی بات اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی کا اعلان۔
غرض ان آیات میں حضرت حق جل مجدہ نے ان احسانات کا اظہار فرمایا جو حدیبیہ میں حضور ﷺ کے ساتھ شریک سفر تھے اور بیعت میں شریک تھے اور جنگ کے موقعہ پر جنگ کے لئے آمادہ ہوئے اور حضور ﷺ کے روکنے اور صلح کرنے کے بعد صلح کے لئے آمادہ ہوگئے آگے اور اسی صلح کے جوحقیقتاً پیغمبر کی فتح تھی احوال بیان فرمائے۔
Ayah 48:22(22) اور اگر یہ کافر اور دین حق کے منکر تم سے لڑتے اور صلح نہ ہوتی تو یقینا پیٹھ پھیر کر اور پیٹھ دے کر بھاگتے پھر وہ اپنا نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ مددگار۔ یعنی اگر مکہ والے تم سے صلح نہ کرتے اور لڑائی کی نوبت آجاتی اور وہ لڑنے کو آمادہ ہوجاتے تو وہ بری طرح بھاگتے اور ان کو نہ کوئی یار ملتا نہ مددگار۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خیبر کے حلف کی طرف اشارہ ہوکر بنی اسد اور بنی غطفان مرعوب ہوکر لوٹ گئے اگر وہ خیبر والوں کی طرف سے لڑتے تو بری طرح پیٹھ دے کر بھاگتے۔
بعض مفسرین نے ایسا کہا ہے۔
Ayah 48:23(23) یہ اللہ تعالیٰ کی رسم پڑی ہوئی ہے اور اس نے اپنا یہی دستور اور طریقہ قائم کررکھا ہے جو پہلے سے ہوتا چلا آتا ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے آئین اور اس کی ڈالی ہوئی رسم میں کوئی تبدیلی اور کسی شخص کی طرف سے ردوبدل نہ پائیں گے۔ یعنی رسم اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی ہے کہ اپنے دوستوں کو غالب اور منکروں کو مغلوب کرتا رہتا ہے اس کی اس ربم میں کوئی تدبیلی آپ نہیں پائیں گے۔
Ayah 48:24(24) اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے مکہ کی سرحد میں اور شہر مکہ کے قریب ان منکروں پر قابو یافتہ ہونے کے باوجود ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا اور جو اعمال تم کرتے ہو وہ ان سب کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی مکہ سے بالکل قریب پہنچنے کے بعد، بعد اس کے کہ تم کو ان پر فتحمند اور فیروزمند کردیا پھر بھی جنگ کرنے سے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکے رکھا۔ یہ بھی حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے کہ ایک ایسے مقام پر پہنچ کر جہاں جنگ ناگزیر تھی اور جنگ کی حالت میں مسلمانوں کی فتح یقینی تھی پھر بھی جنگ سے روک دیا اور اس جنگ نہ ہونے سے جو فوائد ظہور پذیر ہوئے اور جس آسانی سے مکہ معظمہ فتح ہوا وہ بات مسلمانوں کو حاصل نہ ہوتی۔
بعض حضرات نے فرمایا یہ ان آدمیوں کی طرف اشارہ ہے جن کو مسلمانوں نے گرفتار کیا تھا اور ان کے بعد میں رہا کردیا۔
بہرحال جو کچھ ہوا وہ حق تعالیٰ کا احسان ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ اسی آدمی پکڑے بیچ شہر مکہ کے یعنی قریب شہر کے گویا شہر کا بیچ ہی ہے۔ اسی آدمیوں کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی غرض سے آئے تھے کہ اکا دکا حملہ کرکے مسلمانوں کو قتل کریں تمہارے کام جو تم کررہے تھے ان کو دیکھ رہا تھا اور ان کے اثرات سے واقف تھا۔
Ayah 48:25(25) یہ اہل مکہ وہی ہیں جنہوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا یعنی عمرے کے احکام بجا لانے سے تم کو روک دیا اور نیز قربانی کے وہ جانور جو حدیبیہ میں رکے ہوئے تھے۔ ان جانوروں کو ان کے ٹھکانے پر پہنچنے سے روکا یعنی ہدی کو منیٰ میں پہنچ کر ذبح ہونے سے روک دیا اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم بہت سے ان مسلمان مردوں اور ان مسلمان عورتوں کو جن کو تم جانتے اور پہچانتے نہیں ہو اپنی بیخبر ی اور لاعلمی کے باعث ان کو روند ڈالتے اور پامال کردیتے پھر ان بےگناہوں کی وجہ سے تم کو تکلیف پہنچتی تو یہ سب قضیہ طے کردیا جاتا اور خواب کی تصدیق اسی سال ہوجاتی اور مکہ کی فتح نصیب ہوجاتی لیکن فتح کو اس لئے موخر کیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے۔
ہاں ! اگر یہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ان کفار سے جدا ہوگئے ہوتے اور ایک طرف ہوجاتے تو ہم ان اہل مکہ میں سے جو کافر تھے ان کو سخت دردناک سزادیتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس ماجرے میں ساری ضد اور بےادبی کعبے کی انہی سے ہوئی تم باادب رہے انہوں نے عمرے والوں کو منع کیا اور قربانی نہ بھیجنے دی وہ اس قابل تھے کہ اسی وقت تمہارے ہاتھ سے فتح ہوتے مگر بعض مسلمان چھپے تھے مردوزن اور بعضے ابھی مسلمان ہونے مقدر تھے اس روز فتح میں وہ پیسے جاتے آخر دو برس کی صلح میں جتنے مسلمان ہونے تھے وہ سب ہوچکے اور نکلنے والے نکل آئے تب اللہ نے مکہ فتح کرایا۔
خلاصہ : یہ کہ خواب کی تعبیر تو اسی سال پوری ہوجاتی لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے کہ اس نے مکہ کے کافروں کی حد سے بڑھی ہوئی شرارتوں اور گستاخیوں اور بےادبیوں کے باوجود بعض حکمتوں کی بنا پر سزا کو موخر کردیا۔ اور جنگ کو ٹلا دیا۔ حالانکہ یہ وہ شقی ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا نہ عمرے کے احکام یعنی طواف وسعی وغیرہ کرنے دیئے نہ تمہاری ہدی کو منیٰ جو ان کے ذبح کا مقام تھا وہاں پہنچنے دیا بلکہ تم نے مجبوراً حدیبیہ میں ہی جو حرم کا ایک حصہ اور کونا ہے سر منڈوائے اور قربانیاں کیں اور حلال ہوکر واپس ہوگئے اگر حملہ ہوجاتا تو بہت مسلمان مردہ عورتیں کو کفار مکہ کی قید میں تھے ان کو گزند پہنچ جاتا تم نادانستہ ان کو بھی قتل کردیتے اور کافر سمجھ کر مار ڈالتے یا کافران کو تمہارے حملے سے متاثر ہوکر قتل کردیتے۔
بہرحال وہ بےگناہ پس جاتے پھر ان کے قتل سے تم کو رنج اور کوفت ہوتی اور تم کو افسوس ہوتا اور تم کو بھی نادانستگی میں ضرر سختی اور گناہ پہنچتا بغیرعلم کو بعض نے ان تطوھم کے اور بعض نے فتصیبکم کے متعلق کیا ہے۔
ہم نے دونوں باتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے تمہاری نادانستگی کی وجہ سے وہ مظلوم مسلمان پس جاتے یا تم کو نادانستہ کوئی سزا اور سختی پہنچتی کیونکہ بےگناہ مسلمان تمہارے ہاتھ قتل ہوتے ان کافروں میں بعض مسلمان ہونے والے بھی تھے اس لئے فتح کو موخر کیا کہ وہ مسلمان ہوکر اللہ کی رحمت میں داخل ہوجائیں اور جو نکل سکیں وہ نکل آئیں، ہاں ! اگر وہ مسلمان جو کافروں کی قید میں تھے اور کافروں سے دبے پڑے تھے کہیں ٹل جاتے اور ان کافروں سے جدا ہوگئے ہوتے تو پھر اسی سال ان کو تمہارے ہاتھوں سے سخت دردناک سزا دیتے یعنی مکہ فتح ہوجاتا اور کافروں کو ختم کردیا جاتا۔
Ayah 48:26(26) اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں اس غیرت وحمیت اور عار کو جگہ دی جو جاہلیت کی غیرت وحمیت اور عار تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا سکینہ اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر نازل فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بات پر ثابت اور جمائے رکھا اور وہ مسلمان اس کلمہ تقویٰ کے زیادہ حقدار اور تقویٰ کی بات کے حقیقی اہل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر شئی کو خوب جانتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک ضد یہ کہ اس سال عمرہ نہ کرنے دیا اور یہ کہ جو مسلمان ہجرت کرے پھر بھیجو اور اگلے سال عمرے کو آئو تین دن سے زیادہ نہ رہو اور ہتھیار کھلے نہ لائو ۔ حضرت ﷺ نے یہ سب قبول کرلیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ کافروں نے کس قدر جاہلانہ ضدیں اور ہٹیں کیں۔ رسول اللہ کا کٹواکر محمد بن عبداللہ کا لکھوانا بسم اللہ الرحمن الرحیم کٹوا کر باسمک اللھم لکھوانا وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایسی غیرت اور عار ہے جس کو جاہلیت کی عار اور حمیت و غیرت سے تعبیر فرمایا ہے کفار نے انتہائی تنگ دلی کا ثبوت دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر سکینہ یعنی ضبط تحمل اور رواداری نازل فرمائی اور مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری پر جمائے رکھا مسلمان باوجودناراضگی اور کفار کی بےہودگیوں سے تنگ آنے کے پھر بھی کلمہ توحید اور پیغمبر کی فرماں برداری پر جمے رہے اسی لئے فرمایا وکانوا احق بھاواھلھا کہ یہ مسلمان دنیا میں بھی کلمہ تقویٰ کے غیروں سے زیادہ حق دار ہیں اور قیامت میں بھی اس کے اجروثواب کے اہل ہیں ۔ اس ضبط و تحمل کا تقاضہ تھا کہ نبی کریم ﷺ نے کفار کی ان سب باتوں کو تسلیم کرلیا اور مسلمانوں نے اپنی رواداری سے پیغمبر کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے یعنی ان کی ضدوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے صبروتحمل کو بھی جانتا ہے اور اپنی حکمتوں اور اپنے مصالح کو بھی جانتا ہے کہ ان تمام موانع پر وہ اثر مرتب فرمایا کہ جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔
آگے نبی کریم ﷺ کے اس خواب کا ذکر فرماتے ہیں جس کا ہم نے سورت کی ابتداء میں ذکر کیا تھا۔
Ayah 48:27(27) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھلایا جو واقع کے مطابق ہے تم ضرور مسجد حرام میں انشاء اللہ تعالیٰ امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے کہ اپنے سر منڈواتے اور بال کترواتے ہوگے اور تمہیں کسی طرح کا خوف اور اندیشہ نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان باتوں کو جانتا ہے جو تم نہیں جانتے پھر اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کے داخلہ سے پہلے ایک ایسی فتح عنایت کردی جو بہت ہی قریب تھی۔
ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خوا ب دیکھا تھا صحابہ یہ سمجھے کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے اور مکہ میں داخل ہوں گے ، وہاں جانے کے بعد روکے گئے اور جو واقعات پیش آئے ان کو ہم بیان کرچکے ہیں۔ جب مدینے آئے تو یہاں کے بعض منافقین منہ جوڑنے لگے اور طعن وتشنیع پر اتر آئے۔
چنانچہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ما حلقنا ولا قصرنا ولا راینا مسجد الحرام یعنی نہ ہم نے سر منڈوائے اور نہ بال کتروائے اور نہ ہم نے مسجد حرام کو دیکھا اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ وہ خواب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دکھایا اس کو اللہ تعالیٰ نے سچ کردیا اور وہ واقع کے مطابق ہے تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے یہاں انشاء اللہ تعلیق کے لئے نہیں ہے بلکہ تاکید اور تحقیق کے لئے ہے یہ داخلہ پر امن ہوگا کوئی تم میں سے سرمنڈواتا ہوگا کوئی تم میں سے بال کترواتا ہوگا پرامن داخلہ کے بعد کسی قسم کا خوف اور اندیشہ نہ ہوگا۔
فعلم مالم تعلموا میں ان تمام امور کی طرف اشارہ ہے جو پیش آئے اور جن میں بڑے بڑے انعامات اور احسانات پوشیدہ تھے انہی احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے پہلے ایک اور فتح جو بہت قریب ہے وہ حاصل ہوئی مراد اس سے خیبر کی فتح ہے۔
بہرحال جو تاخیر بیشمار مصالح اور حکمتوں کو اور بیشمار فوائد اور منافع کو شامل تھی ان پر زبان طعن دراز کرنا منافقوں کی ایک حماقت اور جہالت ہے مسلمانوں کو اس سے متاثر نہ ہونا چاہیے۔
آگے نبی کریم ﷺ کی مزید تائید و تصدیق فرماتے ہیں احرام سے نکلنے کے لئے حلق اور تقصیر کراتے ہیں عورتوں کے لئے تقصیر اور مردوں کے لئے تحلیق اور تقصیر دونوں کی اجازت ہے تحلیق افضل ہے جو صورت نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو پیش آئی اس کو احصار کہتے ہیں احصار کے مفصل مسائل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
Ayah 48:28(28) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین کے ساتھ اور ہدایت ودین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین حق کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کردے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے والا اور اللہ تعالیٰ بس ہے حق ثابت کرنے والا۔ ہدایت یعنی قرآن۔ دین حق یعنی اسلام، غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ تمام ادیان مروجہ کا ناسخ ہے یا دلیل کے اعتبار سے ہر دین غالب ہے اور شوکت وقوت کے اعتبار سے بھی غالب ہے اگر مسلمانوں کی عملی حالت درست اور صحیح ہو۔
بعض علما نے فرمایا یہ غلبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوگا اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا یعنی اس بات پر جو وعدہ فرمایا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگ رکافر تیری رسالت اور تیری صداقت کی گواہی نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ گواہی دینے کو کافی ہے کہ تو اس کا رسول ہے اور دین حق لے کر آیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دین کو اللہ نے ظاہر میں بھی سب سے غالب کردیا ایک مدت اور دلیل سے غالب ہے ہمیشہ۔
Ayah 48:29(29) محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کی صحبت یافتہ اور ہمراہی ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو کبھی رکوع اور کبھی سجدے کی حالت میں دیکھے گا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضامندی کی جستجو اور تلاش میں لگے رہتے ہیں ان کی علامت اور رشدوصلاح کی نشانی سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہے اصحاب رسول اللہ کے یہ اوصاف تورات میں مذکور ہیں اور یہ اوصاف ان کے انجیل میں بھی ہیں جیسے کھیتی کہ اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس ابتدائی سوئی کو اس کھیتی نے قوی کیا پھر وہ اور بڑھ کر موٹی ہوئی اور آخر کار وہ کھیتی اپنی نال یعنی پائوں اور اپنی پنڈلیوں پر اس طرح سیدھی ہوگئی کہ کاشت کرنے والوں کو خوش کرنے لگی۔
یہ زور اور قوت اس لئے عطا فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کافروں کو غیظ وغضب میں مبتلا کرے اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے بڑی مغفرت اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کررکھا ہے۔ یعنی محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مدح فرمائی۔
اعداء کے مقابلے میں تیز اور مسلمانوں میں کے باہم معاملات میں مہربان بکثرت رکوع اور سجدے یعنی نوافل پڑھنے والے اللہ تعالیٰ کی فضل و رضامندی کی متلاشی۔ جب دیکھو نوافل کی عبادت میں مشغول اس کثرت عبادت کی علامت ان کے چہروں سے ظاہر ہے یعنی سجدے کے نشان پیشانی پر نمایاں ہیں یا چہرے کی زردی جو ریاضت اور محنت شاقہ سے پیدا ہوجاتی ہے مراد اس سے وہ نور ہے جو تہجد گزاروں اور شب بیداروں کے چہرے پر نمایاں ہوتا ہے یہ اوصاف ان صحابہ کرام کے تورات میں مذکور ہیں اور انجیل میں ان اصحاب رسول اللہ کی یہ مثال ہے جیسے کھیتی ابتداء میں بہت کمزورہوتی ہے پھر قوت پکڑ کر اور قوی ہوئی پھر موٹی ہوئی یہاں تک کہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوگئی۔ کھیتی کرنے والوں کو کھیتی کی یہ حالت خوش کرنے لگی۔ یہ قوت صحابہ کرام کی وجہ سے اسلام میں اس لئے آئی تاکہ کفار کو غم وغصے میں مبتلا کردے اور وہ حسد کی آگ میں جلتے رہیں آخر میں صحابہ کر امکو آخرت کے اجر وثواب اور بخشش و مغفرت کی بشارت دی اور ان سے وعدہ فرمایا ایمان اور عمل صالح کی قید لگا دی تاکہ یہ معلوم ہو کہ مرتے دم تک اسلام کی محبت پر اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت پر قائم رہے۔
کھیتی کی تمثیل اور ان کے خشوع اور خضوع کا وصف بیان فرما کر یہ بات ظاہر کی کہ تورات و انجیل میں بھی نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کے اصحاب اور آپ کے ہمراہیوں کے یہ اوصاف بیان ہوچکے ہیں۔
کھیتی کی ابتدائی حالت ضعیف اور کمزور ہوتی ہے پھر آہستہ آہستہ قوی ہوتی ہے آگے چل کر قوی تر ہوجاتی ہے یہی اسلام کی تقویت کا حال ہے ابتدا میں ایک پھر دو پھر تین پھر چار پھر بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ اصحاب کرام کی تعداد ہزار ہا تک پہنچ گئی ابتداء میں ضعیف تھے پھر رفتہ رفتہ بہت اور غالب ہوگئے۔
حضرت حسن بصری ؓ فرماتے ہیں ذرع محمد ﷺ ہیں۔
خراج شطاہ ابوبکر فازرہ عمر فاستغلظ عثمان فستوی علی سوقیہ علی ابن ابی طالب ؓ آیت کے آخری حصے میں بعض نے من کو بیانیہ کہا اور بعض نے تبعیضہ فرمایا بعض نے زائدہ کہا۔
بہرحال صحابہ کرام کے دشمنوں کی موشگافیوں کے لئے آیت میں کوئی گنجائش نہیں صحابہ کرام سب کے سب قابل تعظیم اور لائق ادب ہیں ان کی اتنی بڑی اکثریت میں سے اگر کوئی ایک دو فرد جن کو صحبت پیغمبر کم میسر آئی ہو وہ خارج بھی ہوجائیں تو تمام صحابہ پر کوئی حرف گیری نہیں کی جاسکتی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذو ھم غرضا بغدی فمن احبھم بیجی احبھم ومن ابغضھم فبغضی ابغضھم۔
یعنی میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو تم میرے پیچھے ان کو ہدف ملامت اور طعن وتشنیع نہ بنانا پس جس نے ان کو دوست اور محبوب رکھا تو میری محبت کی وجہ سے ان کو محبوب رکھا اور جس نے ان کو مبغوض رکھا اور ان سے بغض کیا تو میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان کو مبغوض سمجھا اور مبغوض رکھا، حضرات صحابہ کرام کی شان میں بےادبی اور گستاخی کرنا، ان پر لعن طعن کرنا یا ان کی شان میں سب وشتم سے پیش آنا، ایمان کے زائل ہونے کی علامت اور نشانی ہے اور یہ جو فرمایا ذلک مثلھم فی التورتہ ومثلھم فی الا نجیل۔ اس میں مفسرین کے کہا احتمال بیان کئے ہیں اور ترجمہ کرنے والوں نے بھی کئی طرح ترجمے کئے ہیں ہم نے ان میں سے ایک بات اختیار کرلی ہے پہلا حصہ اور پہلے اوصاف والذین معہ سے توریت میں جو اوصاف مذکور ہیں ان کا بیان ہے اور کزرع سے وہ اوصاف مذکور ہیں جو انجیل میں ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ اصحاب نبی ﷺ کے یہ اوصاف توریت اور انجیل دونوں میں مذکور ہوں۔
بہرحال کتب سابقہ منزل من السماء میں جس طرح نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بشارت جگہ جگہ مذکور ہے اسی طرح آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف کا بھی تذکرہ و صلی اللہ تعالیٰ علی رسولہ و اصحابہ اجمعین۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو تندی اور نرمی اپنی خوہو وہ سب جگہ برابرچلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ۔ ان کا بانا یعنی تہجد کی نماز صاف نیت سے چہرے پر ان کے نور ہے حضرت کے اصحاب لوگوں میں پہنچانے پڑتے۔
چہرے کے نور سے اور کھیتی کہاوت یہ کہاوت ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر قوت بڑھتی گئی حضرت ﷺ کے وقت پھر خلیفوں کے وقت اور یہ کہ وعدہ دیا ان کو جو ایمان لائے اور بھلے کام کرتے رہے حضرت ﷺ کے اصحاب ایسے ہی تھے مگر خاتمے کا اندیشہ رکھاحق تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسی خوشخبری نہیں دیتا کہ نڈر ہوجاویں مالک سے اتنی شاباشی بھی غنیمت ہے۔
حضرت ابی بن کعب سے منقول ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس سے پڑھی سورة فتح پس گویا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوا جنہوں نے بیعت کی نیچے درخت کے۔ یعنی بیت الرضوان میں شریک ہوا۔
تم تفسیر سورة الفتح