Ayah 47:1(1) وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا ان کے اعمال خدا تعالیٰ نے نیست ونابود اور ضائع کردیئے۔ یعنی خود بھی دین حق کے منکر ہوئے اور دوسروں کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکا اور ان کے لئے طرح طرح کی مشکلات پیدا کیں تو ایسے لوگوں کے تمام وہ اعمال جن کو وہ اچھا سمجھ کر کیا کرتے ہیں ان کے وہ تمام اعمال کھودیئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کالعدم کردیا۔
Ayah 47:2(2) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور جو کچھ محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اس سب پر ایمان لائے اور بات بھی یہ ہے کہ جو کچھ محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں کے پروردگار کی طرف سے ایک امر واقعی برحق اور سچا دین ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے ان کی برائیاں دور کردیں اور اتار دیں اور ان کو سنوارا اور درست کردیا۔ اوپر کی آیت میں دو باتیں اعمال کو کالعدم کرنے کے لئے بیان فرمائیں ایک کفر دوسرے رکاوٹ عن سبیل اللہ اگرچہ ایک بات بھی یعنی فقط کفر ہی اعمال کی بربادی کے لئے کافی ہے لیکن وہ دونوں باتوں کے چونکہ مرتکب ہوئے تھے اس لئے دو باتوں کا ذکر فرمایا۔
اس آیت میں ایمان اور عمل صالح اور ایمان بمانزل علی محمد ﷺ پر گناہوں کی معافی اور حالت کی درستی کا اعلان فرمایا یہ درستی دونوں جہان میں ہوتی ہے دنیا میں مزید نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے اور آخرت میں اجروثواب عطا ہوتا ہے۔
بیچ میں بطور تاکید فرمایا وھوالحق من ربھم یعنی جو احکام اور جو دین اور جو قرآن محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہ واقع میں بھی امر حق ہے اس پر ہر شخص کو ایمان لانا اور اس کو ماننا ہی چاہیے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے زمانے میں سب خلق کو تکلیف نہ تھی ایک شرع کی اس وقت سب جہان کو ایک حکم ہے اب سچا دین یہی ہے اور کام بھلے برے مسلمان بھی کرتے ہیں اور کافر بھی لیکن سچا دین ماننے سے یہ قبولیت ہے کہ نیکی ثابت اور برائی معاف اور نہ ماننے کی یہ سزا ہے کہ نیکی برباد گناہ لازم۔
Ayah 47:3(3) یہ مختلف سلوک کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ منکر ہیں انہوں نے باطل اور غلط راہ کی پیروی کی اور جو لوگ اہل ایمان ہیں انہوں نے دین حق کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہواہی اس کی پیروی اختیار کی اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کے فائدے اور نفع کے لئے فریقین کے احوال بیان کرتا ہے۔ یعنی منکر باطل اور جھوٹ کی اتباع کرتا ہے اور ایمان دار اس حق کی پیروی کرتا ہے جو اس کے پروردگار کی جانب سے آیا ہے اس لئے دونوں کے انجام اور دونوں کے ساتھ سلوک بھی مختلف ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان لوگوں کے احوال بیان فرماتا ہے اور فریقین کا ذکر کرتا ہے تاکہ لوگوں کو ترغیب وتہذیب ہو۔
Ayah 47:4(4) پھر جب منکروں سے تمہارامقابلہ ہوجائے اور تم صف بستہ ہوکر اہل باطل سے بھڑ جائو تو ان کی گردنوں کو مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خوں ریزی کرچکو تو پھر ان کو قید کرو اور خوب مضبوط باندھو پھر اس قیدوبند کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کردینا ہے جب تک کہ لڑنے والے اپنے ہتھیار نہ رکھ دیں اور ہتھیار نہ ڈال دیں یہ سن چکے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کافروں سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے تم کو قتال کا حکم دیا تاکہ وہ تم میں سے بعض کا بعض کے ذریعے امتحان کرے اور امتحان لے اور تم کو آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ تعالیٰ ہرگز ان کے اعمال کو ضائع نہیں کریگا۔
Ayah 47:5(5) اللہ ان شہید ہونے والوں کو ان کے مقصد تک پہنچا دے گا اور ان کے حال کو سنوار دے گا اور درست کردے گا۔
Ayah 47:6(6) اور ان کو اس جنت میں داخل کردے گا جس کی تعریف ان سے کردی گئی ہے اور ان کو وہ بہشت معلوم کرادی ہے۔ ہم متعدد بار عرض کرچکے ہیں کہ جہاد یا قتال کا منشاء اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ملک میں شرارت بند ہو اور امن قائم رہے۔ اسی لئے جن سے شرارت اور بدامنی کا وقوع نہیں ہوتا ان کو جہاد میں بھی قتل کا حکم نہیں۔
مثلاً عورتیں، بچے ، بوڑھے وغیرہ۔
یہاں بھی یہی حکم ہے کہ جب کبھی دشمنوں سے بھڑ جائو تو پھر گردنوں کا مارنا ہے یعنی قتل کرنا چونکہ عام طور پر گردن کاٹنے سے قتل واقع ہوجاتا ہے اس لئے سبب کا بیان فرمایا ورنہ قتل اعدا جس طرح بھی ہوا اسے حاصل کیا جائے پھر جب دشمن کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ مغلوب ہوجائے تو پھر قید کرنا ہے قید کے بعد پھر اختیار ہے چاہے احسان رکھ کر چھوڑ دو اور ان کے ممنون احسان بنالو چاہے کچھ فدیہ لے کر رہا کردو فدیہ چاہے مال کی شکل میں ہو یا جو قیدی مسلمان کافروں کے قبضے میں ہوں ان کی رہائی کے بدلے میں ہو لڑائی کا ہتھیار رکھ دینا یہ کہ اہل حرب اور شرارت پسند لوگ مغلوب ہوکر جنگ کو بند کردیں۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ قتادہ، ضحاک اور مجاہد اس کے قائل ہیں کہ یہ آیت سورہو برات کے حکم سے منسوخ ہوچکی اب سوائے قتل اور استرقاق کے دوسری بات نہیں چونکہ سورة برات سورة محمد ﷺ سے بعد میں نازل ہوئی ہے اس لئے سورة برات کی آیت اتتلوالمشرکین حیث وجدتموھم کو ناسخ قرار دیا ہے۔
یہی قوال امام ابوحنیفہ (رح) اور زاعی کا بھی ہے ، دوسرے ائمہ اس بات کے قائل ہیں کہ نہیں اب بھی امام کو اختیار ہے کہ مناسب سمجھے تو قتل کرے مناسب سمجھے تو استرقاق کرے اور مناسب سمجھے تو من اور فدیہ لے کر چھوڑ دے۔
یہ مسلک ہے عبداللہ بن عمر ؓ حسن اور عطا اور اکثر صاحبہ اور ثوری اور شافعی اور احمد (رح) اور اسحاق کا ۔
آخر میں اس قتال کی ایک حکمت بھی بیان فرمائی کہ اگر اللہ تعلایٰ چاہے تو اپنا انتقام خود بھی لے سکتا ہے جیسا کہ بعض اقوام متشددہ سے لیا گیا ۔ لیکن وہ تمہارے بعض کا بعض کے ذریعے امتحان لیتا ہے اس لئے جہاد اور قتال تمہاری آزمائش اور امتحان کی ایک شکل ہے۔
پھر شہدا کی فضیلت اور ان کے اجر بیان فرمائے کہ ان کو مقصد تک پہنچایا جائے گا اور اس جنت میں داخل کئے جائیں گے جس کا تعارف ان کو حاصل ہے اور جس کی تعریف بار بار سنتے رہتے ہیں اب آگے پھر مسلمانوں کو خطاب ہے اور ان کی ثابت قدمی کے لئے وعدہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب تک کافر کا زور نہیں ٹوٹتا تب تک قتل ہی چاہیے اور جب زور ٹوٹ چکا تب قید بھی کفایت ہے تاڈر کر مسلمان ہوں یا احسان کر کرچھوڑئیے تو ہمیشہ احسان مانیں اور دین محبت آوے یا چھڑوائی لے کر چھوڑے تو دو فائدے اب اختلاف ہے کہ کافر قید میں آئے تو اس کو پھر اپنے گھر جانے دیجئے یا نہیں اگر چھوڑئیے تو اس طرح کہ رعیت ہوکر رہے۔
Ayah 47:7(7) اے ایمان والو ! اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا یعنی تم کو دشمنوں پر غالب کرے گا اور میدان جہاد میں تم کو ثابت قدمی عطافرمائے گا۔
Ayah 47:8(8) اور جو لوگ منکر ہیں ان کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے اور کھو دیئے ان کے کئے اور ان کے اعمال کالعدم کردیئے۔ یعنی مقابلے کے وقت دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں اعمال کا نیست ونابود ہوجانا غرض دارین میں زیاں و خسران آگے سبب اس نقصان کا ذکر فرمایا۔
Ayah 47:9(9) یہ تباہی اور اعمال کا بیکار ہوجانا اس سبب سے ہے کہ ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو پسند نہ رکھا اور ناپسند کیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو اکارت اور بیکار اور نابود کردیا۔ یعنی دین حق کی مخالفت اور مانزل اللہ سے بغاوت کرنے کا یہ قدرتی اثر ہے کہ اس کے اعمال ضائع کردیئے جائیں اور ان اعمال پر جو اس نے بھلے سمجھ کر کئے ہیں کوئی مفید نتیجہ مرتب نہ ہو، دوسری قوموں کے حالات دیکھنے اور چل پھر کر دوسرے منکروں کے انجام سے عبرت پکڑنے کو فرمایا۔
Ayah 47:10(10) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں جو دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت تباہی اور بربادی واقع کی اور ان کو درہم برہم کردیا اور ان کو اکھاڑمارا اور ان کافروں کے لئے بھی اسی کی مانند ہونے والا ہے اور اسی قسم کے حالات ان منکروں کے بھی ہونے والے ہیں۔ یعنی زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ پہلی قوموں کے ساتھ کیا سلوک ہوا ان کی انہی حرکات نے اور رسولوں کی مخالفت نے ان کو مبغوض ٹھہرایا۔ یہی حرکات تم کررہے ہو۔ ان کو اسی مبغوض ہونے کی سزا ملی اسی سزا کا یہ استحقاق پیدا کررہے ہیں۔ پھر جو سلوک ان کے ساتھ ہوا اسی کی مانند ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔ آگے پھر اس کا سبب بیان فرمایا۔
Ayah 47:11(11) اس سلوک کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور ماننے والوں کا رفیق ہے اور اہل کفر اور نہ ماننے والوں کا کوئی رفیق اور مددگار نہیں۔ یعنی ولایت عامہ بمعنی مالک اور رب اگرچہ تمام بندوں کو حاصل ہے لیکن یہاں اس ولایت کا ذکر ہے جو کفر کے مقابلے میں دین حق کی حمایت اور نصرت سے تعلق رکھتی ہے یہاں اس ولایت کا اظہار ہے اور وہ مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ حاصل ہے اور منکر اس سے محروم ہیں اور منکرین کا عارضی غلبہ اس کے منافی نہیں۔
فھو مولی المومنین والکافرین من جھتہ الاختراع والتصرف فیھم ومولی المومنین خاصۃ من جھتہ النصرۃ
Ayah 47:12(12) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور نیک اعمال کے پابند رہے ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ لوگ جو دین حق کے منکر اور کفر پیشہ ہیں وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور اس طر ح دنیا میں بےفکر ہوکر کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھایا کرتے ہیں اور ان منکروں کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جانور کا سا کھانا یعنی حرص سے اور مسلمان کھاویں رفع حاجت کو۔
خلاصہ : یہ ہے کہ اس آیت میں فریقین کا انجام مذکور ہے یعنی جو لوگ ایمان اور عمل صالح کے پابند ہیں وہ جنت میں داخل ہوں گے جن کے پائیں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
اور منکرین کی حالت بیان فرمائی کہ وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور دنیوی زندگی سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں اور چونکہ آخرت کا یقین نہیں رکھتے اس لئے عبادت سے بےفکر ہوکر کھاتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے ہیں کہ ان کہ نہ آخرت کی جوابدہی کا اندیشہ اور نہ عبادت کی فکر یہی حالت ان منکرین کی ہے اور ان کا انجام اور آخری ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے۔
حضرت سعدی (رح) نے خوب فرمایا ہے۔ ؎
خوردن برائے زیستن وذکر کہ دن است
تو معتقد آں کہ زیستن برائے خوردن است
بس یہی فرق مومن اور منکر کے تمتع اور کھانے پینے میں ہے۔
Ayah 47:13(13) اور اے پیغمبر کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو آپ کی اس بستی سے جس کے باشندوں نے آپ کو جلاوطن اور گھر سے بےگھر کیا ہے قوت و طاقت اور زور میں بڑھی ہوئی تھیں ہم نے ان زور آور بستیوں کو ہلاک کرڈالا اور کوئی بھی ہلاک کرتے وقت ان کا مددگار نہ ہوا۔ یعنی بہت سی بستیاں جس کے رہنے والے باشندے ان مکہ والوں سے طاقت اور زور میں بہت زیادہ تھے جنہوں نے آپ کو آپ کے وطن سے نکالا ہے ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کو ہلاک کرڈالا اور ہلاک ہوتے وقت ان کی کوئی مدد کرنے والا اور ان کو بچانے والا نہ ہوا تو یہ مکہ کے منکر کس گنتی اور شمار میں ہیں۔
Ayah 47:14(14) کیا بھلا وہ شخص جو اپنے پروردگار کے صاف واضح اور سوجھی راہ پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے اور اس جیسا ہوسکتا ہے جس کے لئے اس کا برا عمل خوش منظر کردیا گیا ہو اور اس کی بداعمالی اس کی نگاہ میں آراستہ کردی گئی ہو اور وہ لوگ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہوں۔
سو عمل کی تزیین پر کئی دفعہ بحث ہوچکی ہے یہ گمراہی کا ایک درجہ ہے جب انسان کی نظر میں اس کی بداعمالی اور اس کی بدکاری اچھی اور خوش نما معلوم ہونے لگے اور اس قسم کے لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہوں تو بھلا یہ اس شخص کی مانند ہوسکتے ہیں جو اپنے پروردگار کی روشن دلیل اور اس دلیل سے جو راستہ ثابت ہے وہ اس راستے پر قائم ہو تو اس کو اس قسم کے بدکار لوگوں سے کیا نسبت اور ان دونوں میں برابر کہاں ہوسکتی ہے یہ فرق بیان فرمایا مومن متقی اور منکر شقی کا۔
Ayah 47:15(15) جس جنت کا اہل تقویٰ اور متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت اور اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس پانی کے رنگ وبو اور مزہ میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس دودھ کے ذائقہ میں تغیر نہ ہوگا اور ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بہت لذیذ اور مزے دار ہوگی اور ایسے شہد کی نہریں ہوں گی جو بالکل صاف اور خالص ہوگا اور ان اہل جنت کے لئے اس جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی جانب سے ان کے لئے بڑی مغفرت اور بخشش ہوگی کیا یہ اہل جنت کہیں ان کے برابر اور ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے اور وہ سخت کھولتا ہوا پانی پلائے جائیں گے پس وہ کھولتا ہوا پانی ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور پارہ پارہ کردے گا۔
اوپر فریقین کے اعمال کا فرق بیان فرمایا تھا یہاں سے فریقین کے انجام کا ذکر فرمایا نہر کا پانی کبھی خراب نہ ہوگا دودھ کا مزہ کبھی نہ بگڑے گا شراب بہت مزیدار ہوگی شہد میں میل کچیل نہ ہوگا ہر قسم کے بہتر سے بہتر پھل کھانے کو ہوں گے مزید برآں حضرت حق تعالیٰ کی بخشش اور مغفرت ایک طرف یہ سازو سامان دوسری طرف سدا آگ میں رہنا کھولتا ہوا پانی پلایا جانا جو آنتوں اور انتڑیوں کے کاٹ کر ٹکڑے اڑادے ان دونوں حالتوں میں مساوات کہاں ہوسکتی ہے۔
پہلے اعمال کا ذکر تھا اب اس آیت میں اس کا پس منظر مذکور ہوا تسادی کی نفی فرمائی اور واقعی کہاں یہ بےکراں نعمتیں اور کہاں عذاب کی شدت دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔
آگے منافقین کی حالت کا بیان ہے۔
Ayah 47:16(16) اور ان منکروں میں بعض آدمی ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو یہ منافق ان لوگوں سے جو اہل علم ہیں اور جن کو صحیح علم دیا گیا ہے یوں دریافت کرتے ہیں کہ ا س شخص نے ابھی بھی کیا کہا تھا یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے اور یہ لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔
یعنی حضور ﷺ کی صحبت میں یہ منافق اس طرح کان لگا کر آپ کی باتیں یا قرآن سنتے ہیں کہ یہ بڑے اعتقاد سے سن رہے ہیں لیکن دل سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے چناچہ جب باہر نکلتے ہیں تو مخلص مسلمانوں سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی کہا تھا۔
کہتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ سے استہزا اور تمسخر کے طور پر پوچھتے تھے کہ یہ شخص کیا کہہ رہا تھا۔
حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے سنتے ہیں اور دل قبول نہیں کرتا اور دل میں حق نہیں اترتا یہی لوگ اپنی نفسانی خواہشات پر اور نفس کے کہنے پر چلتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے قلوب پر مہر کی گئی ہے۔
Ayah 47:17(17) اور جو لوگ راہ یافتہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت میں اور بڑھاتا ہے اور ان کو بچ کر چلنے کی اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ یعنی جو لوگ مسلمان ہیں ان کی ہدایت و رہنمائی میں ترقی ہوتی ہے یا کلام سن کر اور نئی باتیں معلوم کرکے ایمان اور تصدیق کے افراد باعتبار متعلقات کے زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے تقوے کی ان کو توفیق عطا فرمانا یہی کہ وہ نفسانی خواہشات سے بچتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کے کلام سے اثر پایا اور گناہوں سے بچنے لگے۔
خلاصہ : یہ کہ اوپر کی آیت میں منافقوں کے متعلق دو باتیں فرمائی ہیں ایک قلوب پر مہر کہ حق بات دل میں اترہی نہ سکے۔ دوسری بات نفسانی خواہشات کی پیروی ان دونوں باتوں کے مقابلے میں مخلص مسلمانوں کی دو باتوں کو دیکھنا چاہیے قلب کی کشادگی کہ ہر وقت نئے نئے احکام کی وجہ سے ان کی تصدیق اور ایمان بڑھتا رہتا ہے۔ دوسرے نفسانی خواہشات کو پامال کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو پورا کرنے سے پرہیز کرتے ہیں جس کو تقویٰ کہتے ہیں۔
وہاں قلب پر مہر یہاں قلب حق قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار وہاں نفسانی خواہشات کی غلامی اور یہاں نفسانی خواہشات کی پامالی۔
Ayah 47:18(18) اب کیا یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ قیامت ان پر دفعتہ آپڑے اور اس میں شک نہیں کہ اس قیامت کی علامتیں تو آہی چکی ہیں پھر جب وہ قیامت ان پر آپہنچے گی تو اس وقت ان کو سمجھنا اور نصیحت قبول کرنا کہاں نصیب ہوسکتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب ہر قسم کے دلائل اور براہین سے قائل نہیں ہوتے تو بس اب صرف قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک واقع ہوجائے اور دفعتہ قیامت ان پر آجائے چناچہ اس کی علامتیں تو آہی گئی ہیں، مثلاً نبی کریم ﷺ کی بعثت اور انشقاق قمر وغیرہ یہ علامات قیامت میں سے ہیں اور جب قیامت آجائے گی تو اس وقت ایمان لانا اور سمجھنا اور نصیحت قبول کرنا کہاں میسر ہوسکتا ہے۔
احادیث میں قیامت کی علامتیں بہت مذکور ہیں جن کی تعداد تقریباً اسی ہے یہاں ان کی تفصیل کا موقع نہیں ہے نبی آخرالزمان کی تشریف آوری اور چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا یہ بھی قیامت کی علامتوں میں سے ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی کا پیدا ہونا سب نبی راہ دیکھتے تھے خاتم النبین کی جب وہ آچکے اب قیامت ہی رہی باقی۔
Ayah 47:19(19) پس اے پیغمبر آپ اس کا یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں ہے کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالیٰ اور اے پیغمبر آپ اپنی خطائوں کے لئے بخشش طلب کیجئے اور تمام مسلمان مردوں کے لئے اور مسلمان عورتوں کے لئے بھی بخشش طلب کیجئے اور اللہ تعالیٰ تمہارے آنے جانے اور چلنے پھرنے کی جگہ اور تمہارے رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس توحید کی آپ تبلیغ کرتے ہیں اور جس طرح آپ خود بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اسی پر قائم رہیے اور اگر کوئی آپ کی شان نبوت کے نامناسب فعل آپ سے صادر ہوجائے گو وہ آپ کی معصومیت کے منافی نہ ہو اور محض آپ کی شان ارفع اور اعلیٰ کے اعتبار سے صورتاً خطا ہو تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور بخشش طلب کیا کیجئے اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے لئے بخشش طلب کیا کیجئے کیونکہ عام مومنین اور مومنات سے گناہ کا سرزد ہونا ظاہرہی ہے آپ کا بخشش طلب کرنا اپنی امت کے لئے بہت زیادہ مفید اور سودمند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے شہروں میں آنے جانے سے بھی بخوبی واقف ہے اور تمہارے رہنے سہنے کو بھی خوب جانتا ہے۔ یامثویٰ سے مراد آخری ٹھکانا ہے یعنی دنیوی بودوباش کو جانتا ہے اور آخری ٹھکانے کو بھی جانتا ہے کہ وہ دوزخ ہے یا جنت ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جتنے شہروں میں پھروگے پھر بہشت یا دوزخ میں پہنچوگے اپنے گھر میں۔
بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے لئے بہت امید افزا ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ مومنین اور مومنات کے لئے بخشش طلب کرو۔ حضور ﷺ نے اس حکم کی یقینا تعمیل کی ہوگی اور جب اللہ تعالیٰ نے خود حکم دے کر ایسی دعا امت کے لئے کرائی ہوگی تو یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ قبول نہ فرمائی ہو۔
پس امت کے گناہوں کی بخشش اس آیت سے ظاہر ہوئی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ہر روز سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر مجلس میں آپ کا تکیہ کلام تھا کہ جب بات کرتے کرتے توقف فرماتے یا کسی مخاطب سے خطاب کو ختم کرتے تو فرماتے ۔
رب اغفرلی وتب علی انک انت التوب الغفور۔
یعنی میری خطائوں کو بخش دیجئے بیشک تو توبہ کا قبول کرنے والا اور گناہوں کو بخشنے والا ہے۔
حدیث میں آتا ہے۔ افضل الذکر لا الہالا اللہ و افضل الدعاء الا ستغفار ۔
یعنی تمام اذکار میں بڑھیا ذکر لا الہ اللہ ہے اور تمام دعائوں میں سب سے بڑھیا دعا استغفار ہے۔
اللھم اجعلنی من الذین اذاحسنو استبشر واواذا اسائو استغفروا۔
یا اللہ ! مجھے ان لوگوں میں کردیجئے کہ جب وہ کوئی نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور جب کوئی برائی ان سے ہوجاتی ہے تو استغفار کرتے ہیں۔
Ayah 47:20(20) اور جو لوگ اہل ایمان ہیں وہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل ہوئی لیکن جب کوئی ایسی سورت نازل ہوتی ہے جس کے معنی واضح ہوں اور وہ سورت واضح المعنی ہو اور اس سورت میں جہاد اور قتال کا بھی ذکر کیا گیا ہو تو اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے دل میں نفاق کا روگ اور بیماری ہے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے اور تکنے لگتے ہیں جیسے وہ شخص تکتا ہے جس پر موت بےہوشی طاری ہورہی ہو اور اس طرف اس طرح دیکھنے اور تکنے لگتے ہیں جیسے وہ شخص تکتا ہے جس پر موت کی بےہوشی طاری ہورہی ہو اور اس طرح تکتے ہیں جیسے کوئی بےہوش پڑا مرنے کے وقت سو ایسے منافقوں کے لئے خرابی اور دائے ہے اور ایسوں کی کم بختی آنے والی ہے۔ یعنی مومن اور مخلص حضرات کو قرآن سے جو ذوق ہے اس کی بنا پر یہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی اور سورت نازل ہوتا کہ اس پر ایمان لانے سے اور ہدایت کی زیادتی ہو یا یہ کہ کفار کی ایذارسانی سے تنگ آکر یہ خواہش کرتے ہوں کہ جہاد کا حکم ہوا اور کوئی آیت نازل ہوئی۔
بہرحال جب کوئی سورت محکم غیر متشابہ نازل ہوجائے اور اس میں حکم ہو لڑائی کا تو آیت کا نزول ہی سے منافق اور مومن کا حال کھل جاتا ہے جو نفاق کے روگی ہیں اور ان کے دل میں نفاق کی بیماری ہے ان کی عجیب حالت ہوتی ہے اور وہ آپ کی طرف اس طرح پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہیں جیسے مرتے وقت کوئی دیکھتا ہے جب موت کی بےہوشی طاری ہوتی ہے جب بھی آدمی خوف زدہ اور بےرونق آنکھوں سے دیکھا کرتا ہے یہی حالت ان منافقوں کی جہاد کے خوف سے ہوجاتی ہے کہ انکار کریں تو مشکل جہاد میں جائیں تو مشکل اس لئے فرمایا ایسے منافقوں کی خرابی ہے یعنی دنیا میں بھی اور اگر دنیا میں رسوائی سے بچ گئے تو آخرت میں تو یقینی ذلت و رسوائی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مسلمان سورت مانگتے تھے یعنی کافروں کی ایذا سے عاجز ہوکر آرزو کرتے کہ اللہ تعالیٰ حکم دے جہاد کا تو جو ہوسکے کر گزریں جب حکم آیا جہاد کا تو کچے لوگوں پر بھاری پڑا مردے کی طرح بےرونق آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ہم کو کاش اس حکم سے معاف رکھیں، بےحد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی جیسے مرتے وقت ہوجاتی ہے۔
Ayah 47:21(21) فرماں برداری کرنا اور بھلی بات کہنی چاہیے پھر جب جہاد کا حکم لازم ہوجائے اور اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو سچے ثابت ہوں تو یہ ان کے لئے بہت ہی بہتر ہو۔ طاعتہ وقول معروف کے کئی طرح معنی کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ پہلے کلام سے اس کو جدا رکھا جائے اور کلام مستانف سمجھ کر یوں ترجمہ کیا جائے طاعت اور بھلی بات اچھی ہے یعنی منافق قتال کے حکم سے پہلے کہا کرتے تھے۔ امرنا طاعۃ وقولمعروف۔ یعنی ہمارا کام تو فرمانبرداری اور بھلی بات کہنا ہے لیکن جب جہاد کا حکم آیا تو اس کہنے کی حقیقت ظاہر ہوگئی دوسرے بعض لوگوں نے یوں ترجمہ کیا کہ خدا اور رسول کی اطاعت ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ کرتے بعض نے اور طرح بھی ترجمے کئے ہیں۔
بہرحال مطلب یہ ہے یعنی ظاہر میں یہ لوگ فرماں برداری کا اظہار کرتے ہیں اور زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں مگر کام کی بات یہ ہے کہ عملاً اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانیں اور بات اچھی اور معقول کہیں پھر جب جہاد لازم ہوجائے اور لڑائی کی بات آپڑے اس وقت اللہ تعالیٰ کے روبرو سچے ثابت ہوں تو ان کے لئے بہتر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکم شرع کو نہ ماننے سے کافر ہو ہر طرح سے ماننا ہی چاہیے پھر رسول بھی جانتا ہے کہ نامردوں کو کیوں لڑائے اور جو بہت ہی تاکید آپڑے اسی وقت لڑنا ضروری ہوگا نہیں تو لڑنے والے بہت ہیں۔
خلاصہ : یہ ہے کہ اسلام کی بات مانیں اور بھلی باتوں کے پابند رہیں پھر جب جہاد کا موقع ہو اور جہاد فرض عین ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے سچے ثابت ہوں ورنہ اگر فرض کفایہ یہ تو ہر شخص کو لڑنا ضروری نہیں۔
Ayah 47:22(22) پھر تم سے یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اگر تم کو اقتدار ہوجائے تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور اپنے رشتے ناتوں کو منقطع کرڈالو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آرزو کرتے ہو جہاد کی جان سے تنگ ہوکر اور اگر اللہ تم ہی کو غالب کردے تو فساد نہ کرنا۔
یہ معنی اس تقدیر پر ہیں کہ تولیتم کے معنی غالب آنے اور حکومت مل جانے کے کئے جائیں جیسا کہ صاحب معالم نے پہلا قول یہی نقل کیا ہے البتہ صاحب مدارک اور صاحب جلالین نے دوسرا قول اختیار کیا ہے اور تقدیر پر۔
مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے اعراض کرو گے تو دنیا میں امن اور انصاف قائم نہیں ہوسکتا اور جب امن و انصاف قائم نہ رہے گا تو فساد بدامنی وغیرہ کا زور ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم ایمان لانے سے اعراض کرو گے تو زمانہ جاہلیت کی حالت پھر لوٹ آئے گی اور جو فساد اور خرابیاں اور قطع رحمی وغیرہ اس وقت میں ہوتی تھیں وہی پھر ہونے لگیں گی۔ یا منافقوں ہی سے خطاب ہو اور یوں کہا جائے کہ اگر اے منافقو تم جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے کچھ بعید نہیں کہ اپنی منافقانہ شرارتوں سے ملک میں دھوم مچائو گے اور مسلمان قرابتیوں سے رشتہ ناتا توڑ کر کافروں سے کھل کر مل جائو گے۔
بہرحال اور بھی کئی قول ہیں مگر ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کے معنی کو ترجیح دی ہے اور اسی کو اختیار کرلیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب وعندہ علم الکتاب۔
Ayah 47:23(23) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا پھر ان جکو بہرہ کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔
Ayah 47:24(24) کیا یہ لوگ قرآن میں غور اور دھیان نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکومت کے غرور میں ظلم کرنے لگے پھر کسی کا سمجھایا نہ سمجھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا اس کا تعلق اسی معنی سے ہے جو انہوں نے اختیار کئے ورنہ دوسرے لوگوں نے ان آیتوں سے منافق مراد لئے ہیں اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ جب کفر ونفاق اور عناد طبیعت میں پرورش پاتے رہتے ہیں تو ان کا انجام یہی ہوتا ہے کہ وہ شخص رحمت سے دور کردیاجاتا ہے آنکھیں اور کان حق کو سمجھنے اور دیکھنے سے بےکار ہوجاتے ہیں قرآن کو سمجھنے کا شعور سلب ہوجاتا ہے اور دلوں پر تالے ڈال دیئے جاتے ہیں اور بھلی بات دل میں اثر نہیں کرتی اور دل میں گھس ہی نہیں سکتی اور اس پھٹکار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کھلم کھلا کفر کی طرف عود کرجاتا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 47:25(25) جو لوگ دین حق سے پیٹھ پھیر کر الٹے لوٹ گئے اور چلے گئے بعد اس کے ان پر صحیح راہ حق دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے واضح ہوچکی تھی اور صاف طور پر حق کا راستہ ان کو معلوم ہوچکا تھا پھر بھی لوٹ گئے تو یہ بات ان کو شیطان نے آراستہ کرکے دکھائی اور شیطان نے ان کے دل میں بات بنائی اور ان کے امیدوں کو دراز کردیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منافق قرآن کو نہیں سمجھتے کہ جہاد میں کتنے فائدے ہیں اور قرار ایمان سے پھرے جاتے ہیں کہ لڑائی میں نہ جاویں گے تو دیر تک جیویں گے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ ان منافقین مرتدین سے مراد اگر اہل کتاب ہیں تب تو یہ معنی ہیں کہ ان کو اپنی کتابوں سے بھی اسلام کی حقانیت اور قرآن کی سچائی واضح ہوچکی ہے پھر بھی الٹے پھرے جاتے ہیں اور جہاد سے بچنا چاہتے ہیں اور اگر منافق غیر اہل کتاب ہیں تو معنی یہ ہیں کہ قرآن کے اعجاز اور نبی کریم ﷺ کے معجزات سے اسلام کی حقانیت اور قرآن کی سچائی ان کو صاف طور سے معلوم ہوچکی ہے پھر بھی الٹے پھرتے ہیں تو یہ شیطان کی فریب دہی کا اثر ہے۔
تسویل کسی کو فرضی چیز پر ملمع کرکے اور آراستہ کرکے دھوکہ دینا تو شیطان نے ان کو فریب اور دھوکے میں مبتلا کیا ہے املی لھم یعنی مدلھم فی الامال والامافی یعنی زندگی آرزوئوں اور امیدوں میں الجھا کر مہلت دے دینا۔
بعض ق راتوں میں واملی لھم بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کو مہلت دے رکھی ہے۔ لیکن یہ قرات حفص (رح) کی نہیں ہے۔
Ayah 47:26(26) ان منافقوں کے اس ارتدادکا سبب یہ ہے کہ ان منافقوں نے ایسے لوگوں سے جو اللہ کے نازل کردہ احکام کو ناپسند کرتے ہیں یوں کہا کہ ہم بعض باتوں میں تمہارے کہنے پر چلیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی رادارانہ اور خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منافقوں نے کافروں سے کہا کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں لیکن تم سے نہ لڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے نزل کردہ احکام سے بیزار اور ناپسند کرنے والے کافر ہیں خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین مکہ ہوں تو یہ لوگ ان سے ساز باز رکھتے ہیں اول نفاق پھر کافروں سے ساز باز یہ چیزیں ان کے ارتداد کا سبب ہوئیں اگرچہ یہ باتیں خفیہ ہوتی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مشوروں کو ظاہر کردیا۔
Ayah 47:27(27) پھر اس وقت ان مرتدین کا کیا حال ہوگا کہ جس وقت فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہوں گے اور ان کے مونہوں پر اور ان کی پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تب موت سے کیونکر بچیں گے اور تب نفاق کا مزہ کافرچکھیں گے۔ خلاصہ : یہ کہ موت کے فرشتے مسلط ہوں گے وہ جان بھی نکال رہے ہوں گے اور مارتے بھی جاتے ہوں گے۔
Ayah 47:28(28) یہ سلوک اس بنا پر ہوگا کہ ان لوگوں نے وہ روش اختیار کی جو روش اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی تھی اور انہوں نے رضائے الٰہی کو برا جانا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نیست ونابود اور ضائع کردیئے۔ یعنی اس سزا اور عقوبت کا سبب یہ ہے کہ جو طریقہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب تھا اور جو اس کو غصے میں لانے والا تھا وہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی و خوشی کو ناپسندیدہ رکھا اور اس کی رضامندی سے بیزاری کا اظہار کیا اس لئے ان کے اعمال کا لعدم کردیئے گئے۔
Ayah 47:29(29) جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عداوتوں اور ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا۔ یعنی کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا نفاق کبھی آشکارا نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 47:30(30) اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو وہ تمام منافق بتادیتے اور ان کا پورا پتہ آپ کو بتادیتے پھر آپ ان کو ان کی صورت اور حلیہ سے پہچان لیتے اور اب بھی آپ ان کے انداز گفتگو اور طرز کلام سے ان کو پہچان لیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
یعنی اول تو جو نور بصیرت آپ کو عطا ہوا ہے اس سے ہی آپ کو ان کے نفاق کا اندازہ ہوگا اور اگر ہم چاہیں تو ہر ایک منافق کا پورا پتہ آپ کو بتادیں کہ آپ ان کا چہرہ ان کی صورت اور ان کا حلیہ دیکھ کر ہی ان کو معلوم کرلیں نیز ان کے طرز کلام ہی سے آپ کو معلوم ہوجاتا ہوگا کیونکہ یہ اکھڑی اکھڑی غیر اطمینان بخش باتیں کرتے ہیں جو دل کو نہیں لگتیں اس سے ہی ان کے نفاق کا اندازہ ہوجاتا ہوگا پھر مسلمان اور نا مسلمان سب کو خطاب فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال اور تم سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے کام کے موافق بدلا دے گا۔
Ayah 47:31(31) اور ہم ضرور تم سب کی آزمائش کریں گے تاکہ ہم تم میں سے جو جہاد کرنے والے اور مصائب پر صبر کرنے والے اور تکالیف کو برداشت کرنیوالے ہیں ان کو جان لیں اور ظاہری طور پر ان مجاہدین اور صابرین کو دوسروں سے متمیز کردیں اور تاکہ ہم تمہارے دوسرے حالات کی جانچ کرلیں۔
یعنی جیسا کہ ابھی مذکور ہوا فھل عسیتم اسی سلسلے میں فرماتے ہیں کہ ہم تمہارا امتحان اور تمہاری جانچ کریں گے تاکہ بزدل کمزور اور بہادر متمیز ہوجائیں اگرچہ ان کو سب کی حالت معلوم ہے اسی لئے مقصود اعلام نہیں بلکہ استعلام ہے تاکہ ہر شخص کی حالت معلوم ہوجائے اور منافق اور مومن معلوم ہوجائیں پھر فرمایا امتحان صرف جہاد پر ہی موقوف نہیں بلکہ اور بھی باتیں جانچنے کے لئے ہیں ان سے تمہارے حالات کا اظہار ہوجائیگا آگے پھر کفار کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 47:32(32) جن لوگوں نے بعد اس کے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ اور اس کے راستے سے روکا اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جب کہ ان کو سیدھی راہ دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے واضح اور منکشف ہوچکی تھی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ذرا سا نقصان اور زیاں نہ پہنچاسکیں گے البتہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو رائیگاں اور کالعدم کردے گا۔
مطلب یہ ہے کہ ہدایت اور صحیح راہ جب واضح اور ظاہر ہوچکی اور دین حق معلوم ہوگیا پھر اس کے بعد جو لوگ کفر اختیار کریں اور کافرانہ روش کے پابند ہوں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے ترغیب یاترہیب سے روکیں یعنی لالچ دے کر یا ڈرا دھمکا کر باز رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر ہر وقت آمادہ رہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ہرگز کوئی ضرر اور نقصان نہ پہنچا سکیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال نابود اور کالعدم کردے گا ان حرکات سے ان کو ہی نقصان پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ کا دین تو پورا ہی ہوکر رہے گا۔
Ayah 47:33(33) اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرو اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت بجا لائو اور اپنے اعمال ضائع اور برباد نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بجا لائو اور منافقوں کی طرح اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرکے اپنے اعمال بربادنہ کرو۔ یعنی تم بھی منافقین اور مرتدین کے گروہ میں شامل ہوجائو یا اپنے اعمال میں ریا اور دکھاوے کو دخل دے کر اپنے اعمال کو باطل کردو ایسا کرنے سے مسلمانوں کو حضرت حق تعالیٰ نے منع فرمایا آگے کفار کی برائی بیان فرمائی۔
Ayah 47:34(34) بلا شبہ جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی اور کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکا پھر وہ کفر وشرک کی ہی حالت میں مرگئے یعنی کافر ہی مرے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا اور ان کی مغفرت کبھی نہیں فرمائے گا۔ یعنی ایسے لوگوں کی کبھی بخشش نہیں ہوگی۔ آگے مسلمانوں کو پھر خطاب فرمایا۔
Ayah 47:35(35) اور اے مسلمانوں تم کفار کے مقابلے میں بودے اور کم ہمت نہ بنو اور کافروں کو ہمت ہار کر خود بخود صلح کی دعوت نہ دو اور صلح کے لئے نہ پکارو جس حال میں کہ تم غالب ہو یا تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ ہرگز تمہارے اعمال کے ثواب کو کم نہ کرے گا اور تمہارے کاموں میں نقصان نہیں دے گا تم کو۔ جہاد کی ترغیب فرمائی کہ تم مومن ہو جبن اور بزدلی نہ دکھائو اور اپنی طرف سے خودبخود صلح کی دعوت نہ دو جبکہ تم کو اپنے غلبہ کا یقین ہو یا یہ مطلب ہے کہ دعوت صلح کے لئے کافروں کونہ پکارو تم غالب ہونے والے ہو اللہ تعالیٰ تمہاری امداد اور نصرت کے لئے تمہارے ساتھ ہے وہ تم کو نقصان سے بچائے گا یا تم کو تمہارے اعمال کے ثواب میں کسی طرح کی کمی نہیں کرے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں محنت سے بھاگ کر صلح نہ چاہیے اور اگر صلح نظر آوے تو درست ہے آگے آوے گا بیان اس کا سورة فتح ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ کم ہمتی اور بزدلی کی بنا پر صلح نہ چاہو ہاں صلح میں فائدہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں جیسا کہ سورة انفال میں تفصیل گزرچکی ہے اب آگے اور صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں ذکر آئے گا۔ چونکہ جہاد بھی ایک قسم کی لڑائی ہے اور لڑائی کے لوازمات میں سے ہے شکست فتح اور صلح تو صلح کی ممانعت نہیں البتہ گر کر صلح نہ کرنی چاہیے اب آگے دنیا کی بےثباتی اور جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
Ayah 47:36(36) سوائے اس کے نہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو جب کا بہلانا اور ایک کھیل ہے اور اگر تم ایمان لے آئو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو وہ اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اجروثواب عطا فرمائے گا اور تم سے تمہارے مال طلب ہیں کرے گا۔
دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشا ہے اگر تم ایمان اور تقوے کی روش اختیار کرو گے اور ایمان اور تقویٰ کے پابند رہو گے تو تم کو اجروثواب بھی اپنے وقت پر ملے گا اور تم سے مال کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا یا کل مال طلب نہیں کرے گا۔
دوطرح معنی کئے گئے ہیں ہم نے دونوں کی رعایت کردی ہے یعنی ابتدائی دور میں جان اور مال دونوں ہی کی ضرورت ہے آگے چل کر مال کا مطالبہ بھی کم ہوجائے گا اور جب مال کا مطالبہ نہ ہوگا تو جان وجومال سے کہیں زیادہ محبوب ہے اس کا مطالبہ اور بھی نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے ملک فتح کرائے مسلمانوں کو زرخرچ کرنا تھوڑے ہی دنوں پڑا سوجتنا خرچ کیا تھا اس سے سوسوبرابر ہاتھ لگا اسی واسطے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو قرض دو ۔
خلاصہ : یہ کہ شروع شروع میں مال کی بھی ضرورت تھی اور جان کی بھی اب چونکہ اسلام پھیل گیا اور مالی بہتات ہوگئی تواب ضرورت کم ہوگئی تو اب ضرورت کم ہوگئی البتہ جو چالیسواں حصہ زکوٰۃ ہے وہ بدستور جاری ہے اسی کو آگے فرماتے ہیں۔
Ayah 47:37(37) اگر تم تمہارے کل مال طلب کرنے لگے اور اس طلب کرنے میں میں مبالغہ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور اللہ تعالیٰ تمہارے بخل اور باطنی ناگواری کو ظاہر کردے۔ یعنی اگر تم سے زیادہ مال کا مطالبہ کیا جائے اور اس میں سختی سے کام لیا جائے تو سب نہ سہی اکثر بخل کرنے لگیں اور مال کی محبت میں جو کمزوریاں ہوتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ظاہر کردے تو ایسا نہیں۔
بعض حضرات نے یوں تفسیر کی کہ مال خرچ کرنے میں جو تاکید سنتے ہو تو یہ مطلب نہیں کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے اپنے لئے مانگتے ہیں بلکہ مانگتے ہیں تم سے فقراء کے لئے اور راہ دین کے قائم کرنے کے لئے اس مال میں کہ تنگ نہیں کرتے تم کو اور نہ بہت مانگتے ہیں تم سے۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ وسعت سیزیادہ کسی کو تکلیف نہیں دی جاتی اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کو بہت شاق ہوتا اور بہت سے حضرات سے کمزوریاں ظاہر ہوتیں اب عام طور سے لوگوں کی حالت پر تبصرہ فرمایا۔
Ayah 47:38(38) آگاہ ہو تم لوگ ایسے ہو کہ جب تم کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی ہی ذات سے بخل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے ہاں ! تم سب اس کے محتاج ہو اور اگر روگردانی اختیار کروگے تو وہ تمہاری جگہ غیروں کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے بخیل و نافرمان نہ ہوں گے اور وہ تمہاری مانند اور تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ یعنی تمام مال کا مطالبہ تو بہت بڑی بات ہے تمہاری حالت تو یہ ہے کہ زکوٰۃ جو محض چالیسواں حصہ ہے مال کا اسی کے لئے بھی بلائے جاتے ہو حالانکہ وہ چالیسواں حصہ تمہارے ہی غریب بھائیوں پر خرچ ہوتا ہے پھر بھی بعض لوگ تم میں بخل کرتے ہیں اور اگر کوئی بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی سے بخل کرتا ہے کیونکہ جو مال جمع کرکے قوم کی بہبود اور قوم نفع کے لئے خرچ کیا جائے اس میں کوتاہی کرنا یا اس سے بچنا یا چھپانا۔ یہ تو اپنے ہی کو نقصان پہنچانے کے مرادف ہے قوم کو نقصان پہنچنا ہر فرد قوی کا نقصان ہے۔ ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے یعنی محتاج نہیں ہے وہ تو تمام عالم کو کھلاتا ہے اور خود کچھ نہیں کھاتا اور تم سب محتاج اور فقیر ہو جب اللہ تعالیٰ محتاج نہیں تو کل مال طلب کرنا یا بعض مال طلب کرنا اس کی اپنی ضرورت کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے لئے اور تمہاری ہی دینی مصلحتوں کے لئے طلب کرنا ہے اگر اس معاملے میں بخل کرو گے یعنی انفاق فی سبیل اللہ میں کمی اور کوتاہی کرو گے تو تمہارے ضرر کا موجب ہوگا۔
اگر جہاد میں زیادہ دینے سے جی چرائو گے تو سب ہلاکت میں پڑ جائو گے۔
ولا تلفو ا بایدیکم الی التھل کہ اور اگر زکوٰۃ میں کمی کرو گے یا دوسرے صدقات میں سیر چشمی سے کام نہ لوگے تو پوری قوم کو نقصان پہنچ جائے گا۔
بہرحال اگر ہمارے احکام سے روگردانی کرو گے اور مونہہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سوا کسی اور قوم سے تم کو بدل دے گا یعنی تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا اور وہ تم جیسی نہ ہوگی یعنی بخل کرنے والی یا نافرمنی کرنے والی نہ ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تاکید جو سنتے ہو مال خرچ کرنے کی نہ جانو کہ اللہ مانگتا ہے یارسول یہ تمہارے بھلے کو فرماتا ہے پھر ایک کے ہزار ہزار پائو گے اور اللہ کو کیا پرواہے اور اس کے رسول کو۔
تم لفسیر سورة محمد اللہ علیہ وسلم