46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 46:1
(1) حٰم ٓ
Ayah 46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔

(2) اس کتاب کا بھیجنا اور اتارنا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ کمال طاقت اور قوت کی وجہ سے کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں اور کمال حکمت کی بنا پر اس کتاب کے مضامین اور احکام حکمت سے لبریز ہیں۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان چیزوں کو جو ان دونوں کے مائین ہیں نہیں بنایا مگر خاص مصلحت کے ماتحت اور ایک میعاد مقررہ تک کے لئے بنایا ہے اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس سے بےرخی برتتے ہیں۔

(3) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں کے مابین ہیں ان سب کو نہیں بنایا مگر خاص مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور ایک میعاد مقررہ تک کے لئے بنایا ہے اور وہ لوگ جو دین حق کے منکر ہیں ان کو جس چیز میں ڈرایا جاتا ہے اور اس سے اعراض کرتے اور بےرخی اور بےالتفائی برتتے ہیں۔ یعنی عالم علوی ہو یا عالم سفلی جو کچھ بنایا ہے وہ سب مبنی برحکمت اور مبنی برحکمت اور مبنی بر مصلحت ہے نیز یہ کہ یہ سارا نظام شمسی ایک خاص وقت اور خاص میعاد تک کے لئے ہے معیاد آنے پر اور وقت پورا ہونے پر یہ تمام نظام درہم برہم کردیا جائے گا۔ منکروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے یعنی قیامت کے واقعات سنا کر یا قرآن سنا کر جب ان کو ڈرایا جاتا ہے اور خود دلایا جاتا ہے تو یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور بےتوجہی کرتے ہیں۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے بھلا دیکھو تو جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو ذرا مجھ کو یہ تو دکھائو کہ انہوں نے زمین کو کون سا حصہپیدا کیا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت ہے میرے پاس یا تو کوئی کتاب لائو جو اس قرآن سے پہلے کی ہو یا انبیائے سابقین کی کوئی معتبر روایت جو نقل ہوتی چلی آئی ہو اسے پیش کردو اگر تم سچے ہو۔

(4) اے پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے بھلا دیکھو تو سہی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو اور جن کی تم عبادت کرتے ہو ذرا مجھ کو یہ تو دکھائو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ بنایا اور پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے یا تو کوئی کتاب لائو جو اس قرآن سے پہلے کہو یا انبیائے سابقین کی کوئی معتبر روایت جو نقل ہوتی چلی آئی ہو وہ پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ یعنی بطور احتجاج ان سے کہو کہ تمہارے ان معبودوں نے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور پوجا کرتے ہو انہوں نے زمین کا کوئی حصہ بنایا ہو تو ان کی بنائی ہوئی زمین مجھ کو دکھائو آسمانوں کے پیدا کرنے میں کوئی شرکت اور ساجھا ہو تو مجھ کو بتائو۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی دلیل عقلی ہو تو وہ لائو دلیل عقلی تو ہے نہیں کیونکہ تم خود ان معبودان باطلہ کی خالقیت کے قائل نہیں اور الوہیت جو بلا شرکت غیر سے خالقیت کو مستلزم ہے اس کو بھی نہیں مانتے بلکہ شرک کرتے ہو تو اچھا کوئی نقلی دلیل لائو اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی کتاب لے آئو جو قرآن سے پہلے کی ہو کیونکہ قرآن تو خدا کے ہوا دوسرے کی خالقیت کی نفی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کا مدعی ہے اس میں تو یہ چیز مل نہیں سکتی لہٰذا کوئی دوسری کتاب جو اس سے پہلے کی ہو یا کوئی کتبہ ہو وہ لاکر دکھائو یا کوئی روایت ہی پہلے پیغمبروں کی نقل ہوتی چلی آتی ہو یا علوم اولین میں سے کوئی علم تو اتر کے ساتھ نقل ہوتا ہوا چلا آتا ہو جس میں ان معبودوں کے زمین یا آسمانوں کو پیدا کرنے کا ذکر ہو وہی مجھ کو دکھا دو یا بتادو۔ کہ ان غیر اللہ نے زمین کا کوئی حصہ بنایا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی شرکت تھی اگر تم ان غیر اللہ کی پرستش کرنے میں سچے ہو تو ان کی خالقیت کا ثبوت پیش کرو۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو خدا کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی پکار کو قبول نہ کرسکے اور ان کو ان مشرکوں کے پکارنے کی بالکل خبر بھی نہ ہو۔

(5) اور اس سے بڑھ کر کون شخص گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ای سے معبود کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی پکار کو قبول نہ کرسکے اور اس کی پکار کو نہ پہنچ سکے اور ان معبودوں کو ان مشرکوں کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو۔ یعنی اول تو ان کو خبر ہی نہیں کہ ہم کو کون پکار رہا ہے اور اگر بالفرض محال کسی طرح خبر بھی ہوجائے تو پکارنے والی کی مدد کرنے یا اس تک پہنچنے کی صلاحیت اور قابلیت نہیں۔ ایسے اپاہج اور غافل معبود کو جو پکارے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ جیسے معبود حقیقی کو چھوڑ کر تو ایسے بدبخت سے زیادہ اور کون گمراہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب سب لوگ جمع کئے جائیں گے تو یہ معبود ان باطلہ ان مشرکوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کے بھی منکر ہوں گے۔

(6) اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو یہ معبود ان باطلہ اپنے پوجنے اور پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کے بھی منکر ہوں گے۔ یعنی یہاں تو ان اپاہج معبودوں کا یہ حال ہے کہ کسی کام کے نہیں اور جب قیامت میں ایک میدان میں سب اکٹھے کئے جائیں اور آمنا سامنا ہو تو اپنے پوجنے والوں کے دشمن ہوجائیں اور ان کی عبادت اور ان کی پکار کے منکر ہوجائیں اور اپنی لاعلمی کا اظہار کردیں۔ جیسا کہ سورة یونس کی تفسیر میں گزر چکا ہے ۔ ماکنتم ایانا تعبدون۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر ان کو سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر اس امر حق یعنی قرآن کی نسبت جب وہ ان تک پہنچتا ہے یوں کہتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

(7) اور جب ہماری واضح آیتیں اور کھلے کھلے دلائل ان کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو یہ منکر اس امر حق یعنی قرآن کے متعلق جب وہ ان تک پہنچتا ہے یوں کہتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی ان منکرین رسالت کی یہ حالت ہے کہ جب ان پر قرآن کی واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور قرآن ان تک پہنچتا ہے تو اس کو کھلا جادو کہتے ہیں۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کو اس شخص نے از خود گھڑ لیا ہے آپ فرمادیجئے کہ اگر اس قرآن کو میں نے از خود بنایا ہے تو تم خدا کی گرفت سے مجھ کو ذرا بھی نہیں بچا سکتے تم قرآن کے بارے میں جو باتیں بنا رہے ہو خدا ان کو خوب جانتا ہے میرے اور تمہارے مابین گواہی دینے کا وہی کافی ہے اور وہی بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

(8) کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ قرآن کو اس شخص نے ازخود بنایا اور گھڑ لیا ہے آپ فرمادیجئے اگر اس قرآن کو میں نے خود گھڑ لیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے مجھ کو ذرا بھی نہیں بچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے تم جو گفتگو قرآن کے بارے میں کررہے ہو اور جو باتیں بنا رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے اور میرے اور تمہارے مابین گواہی دینے کو وہی کافی ہے اور زروئے گواہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی ہے اور وہ بہت بخشش کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی پیغمبر پر اور الزامات کے علاوہ یہ بھی الزامات لگاتے ہیں کہ قرآن کو یہ شخص خود ہی بناتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہم کو خدا کا کلام کہہ کر سناتا ہے اس کا جواب دیا گیا کہ اگر میں اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھ کو سزا دے گا…یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والے کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے کہ وہ تلبیس کرتا پھرے اور کاذب کا کذ بظاہر نہ ہو اور جب اللہ تعالیٰ مجھ کو سزا دے گا تو تم اس کے سامنے میرے کچھ کام نہ آسکو گے اور چونکہ وہ ان تمام باتوں سے واقف ہے جو تم بناتے ہو اس لئے میرے تمہارے درمیان وہی گواہ ہے یعنی وہ واقف اور باخبر ہے اس لئے وہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ اگر میں کاذب اور مفتری ہوں تو مجھ کو اور اگر تم جھوٹے ہو تو تم کو سزادے گا یہ دوسری بات ہے کہ تمہاری باتوں کا بخوبی علم رکھتے ہوئے تمہاری سزا اور عذاب میں تاخیر اور مہلت سے کام لے رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے اس لئے عقوبت میں تعجیل نہیں کرتا۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے آتی ہے اور میں تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

(9) آپ ان منکرین رسالت سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا رسول نہیں آیا ہوں اور میں کوئی انوکھا اور دنیا سے نرالا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے میں تو صرف اس حکم کی پیروی اور اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے آتا ہے میں تو صرف ایک کھلا اور صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں کوئی دنیا سے انوکھا اور نیا اور نرالا رسول نہیں آیا ہوں آخر مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آچکے ہیں ان کی تعلیم اور میری تعلیم کو ملا کر دیکھ لو۔ جس طرح وہ اپنے فرشتہ ہونے اور عالم الغیب ہونے کی نفی کیا کرتے تھے میں بھی اپنے عالم الغیب ہونے کی نفی کرتا ہوں مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے میں تو اپنے علم وعمل میں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو وحی کی ذریعہ میرے پاس کوئی حکم آتا ہے میں تو ڈرانے والا ہوں صاف صاف بعض مفسرین نے اس آیت کو منسوخ بتابا ہے اور سور فتحنا کی ابتدائی آیتوں کو اس کا ناسخ قراردیا ہے مگر یہ قول راجح نہیں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سورة فتحنا کی آیتوں سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ اجمالی طور پر سے یہ بتایا گیا کہ انبیاء اور صلحاء کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا سوروہ فتحنا کا یہ اجمالی علم اس آیت کے اطلاق کا ناسخ نہیں ہوسکتا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

آپ ان سے فرمائیے بھلا یہ تو بتائو اگر یہ قرآن خدا کی جانب سے آیا ہو اور تم اس کو ماننے سے انکار کرو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے دے پھر اس پر ایمان بھی لے آگے اور تم تکبر ہی کرتے رہو تو تم سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں فرماتا جو ظالم ہوں۔

(10) آپ ان سے کہئے کہ بھلا یہ توبتائو اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا ہو اور تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو اور بنی اسرائیل میں سے کوئی معتبر اور مقتدر گواہ اس جیسی کتاب کے منجاب اللہ ہونے پر گواہی دے اور پھر اس قرآن پر ایمان بھی لے آئے اور تم تکبر اور غرور ونخوت ہی کرتے رہو تو تم سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں فرماتا جو ظالم ہوں۔ قرآن میں کئی جگہ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اگر تم کو اس قرآن کی منجانب اللہ ہونے میں شک ہے تو علماء بنی اسرائیل سے دریافت کرو کہ اس قرآن کی صفت توریت میں مذکور ہے یا نہیں اور سورة زخف میں ابھی گزرا ہے کہ پہلے رسولوں کی کتابوں میں دیکھ لو اور ان کتابوں سے دریافت کرلو کہ ان میں قرآن کا ذکر ہے یا نہیں یہ آیت بھی اس قسم کے مضمون کو ظاہر کرتی ہے۔ کہ فرض کرو یہ قرآن خدا کی جانب سے ہو اور تم انکار کرتے رہو اور بنی اسرائیل کا کوئی بڑا عالم اس قرآن کے منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کرکے اس پر ایمان لے آئے اور تم تکبر اور نخوت و غرور ہی کرتے رہو اور اس قرآن پر ایمان نہ لائو تو بتائو تم سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ ظالموں کی رہنمائی نہیں فرماتا اس میں اہل کتاب کے ان علماء کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے قرآن کی تصدیق کی اور نبی آخرالزمان پر ایمان لائے اور اگر یہ آیت مدنی ہو جیسا کہ بعض علماء نے کہا ہے تو یہ آیت عبداللہ ؓ بن سلام کو بھی شامل ہوگی۔ بہرحال منکروں کو سمجھایا گیا ہے کہ جب اہل کتاب کے پڑھے لکھے لوگ جن کو تم بھی اہل علم سمجھتے ہو اگر اس کو تسلیم کرکے قبول کرلیں اور تم اپنی ضد اور غرور میں الجھے رہو تو تم سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور یہ منکر اہل ایمان کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس دین کی طرف ہم سے آگے نہ نکلتے اور جب ان منکروں کو اس قرآن سے ہدایت نصیب نہیں ہوئی تو یہ اب یہی کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔

(11) اور دین حق کے منکر اہل ایمان کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ دین یا یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس قرآن یا دین کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے اور آگے نہ بڑھتے اور جب ان منکروں کو اس قرآن سے ہدایت میسر نہ ہوئی تو اب یہی کہیں گے کہ یہ قرآن ایک پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی عناد اور تکبر کی راہ سے یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ دین اسلام یا یہ قرآن کوئی اچھی چیز ہوتا تو ہم لوگ جو اہل عقل و دانش ہیں اور رئیس اور بڑے لوگ ہیں ہم اسکو ان سے پہلے قبول کرتے اور یہ اس کے قبول کرنے میں ہم سے آگے نہیں بڑھتے ان کا قبول کرلینا اور ہمارا قبول نہ کرنا یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین اور یہ قرآن کوئی بہتر چیز نہیں ہے ورنہ بڑھیا لوگ کیوں چھوڑتے اور ذلیل اور گھٹیا درجے کے لوگ کیوں قبول کرتے اور جب ان کو اس قرآن سے ہدایت نصیب نہ ہوئی تو ان کا عناد ظاہر ہوگیا اور یہ کہنے لگے یہ قرآن تو پرانا جھوٹ ہے۔ کہتے ہیں جب عرب کے بعض قبیلے جہنیہ اور مزینہ وغیرہ مسلمان ہوئے تو بعض دوسرے قبائل بنو عامر اور غطفان وغیرہ نے ان پر یہ طعن کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعض یہودیوں کے مسلمان ہونے پر دوسرے کافر یہود نے یہ کا تھا بعض نے کہا یہ مکہ کے مشرکوں کا قول ہے وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کہا کرتے تھے کہ ہم اشراف ہیں اچھی چیز کے اشراف مستحق ہیں اگر اچھی ہوتی تو ہم اس کے قبول کرنے میں آگے ہوتے نہ کہ یہ ذلیل کم درجہ کے لوگ آگے ہوتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لوگ ہمیشہ ایسی باتیں کہا کرتے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ جس طرح یہ مکہ کے کفار اساطیرالاولین اور ھذا افک قدیم کہہ رہے ہیں اسی طرح پہلے کافر بھی آسمانی کتابوں کے متعلق ایسا ہی کہا کرتے تھے۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے جو مقدم ہونے کے اعتبار سے امام اور ہدایت کے اعتبار سے رحمت تھی اور یہ قرآن بھی عربی زبان کی ایک کتاب ہے جو اس توریت کو سچا کرتی ہے تاکہ جو لوگ ظالم ہیں ان کو ڈرائے اور ان لوگوں کو خوشخبری دے جو نکوکار ہیں۔

(12) اور اس قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے جو مقدم ہونے کے اعتبار سے امام اور پیشوا تھی اور ہدایت کے اعتبار سے رحمت ہے اور قرآن بھی عربی زبان کی ایک کتاب ہے جو اس توریت کی پیشین گوئی کو سچا کرنے والی ہے تاکہ جو لوگ ظلم اور ناانصافی کا شیوہ اختیار کرچکے ہیں ان کو ڈرائے اور ان لوگوں کو خوشخبری اور بشارت دے جو نکوکار ہیں۔ یعنی اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت نازل ہوچکی ہے جو امام اور رحمت تھی اس کتاب میں اس قرآن کی پیشین گوئی موجود ہے اس قرآن نے جو عربی زبان کی کتاب ہے اس توریت کی تصدیق کی ہے اور اس پیشین گوئی کو سچا کردیا ہے یہ اس لئے نازل ہوئی کہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوں کو خوشخبری دے۔
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے توای سے لوگوں پر نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔

(13) بلا شبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر اس کہنے پر مضبوطی کے ساتھ قائم اور ثابت رہے سو نہ ان پر کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یعنی آخرت میں ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے بشرطیکہ ربنا اللہ کا اقرار صدق دلی کے ساتھ ہو۔
Ayah 46:14

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہلوگ اہل جنت ہیں جو اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ صلہ ان کو ان اعمال کے بدلے میں دیاجائیگا جو وہ کرتے تھے۔

(14) ایسے لوگ یعنی سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرنے اور اس پر مستقیم رہنے والے اہل جنت ہیں جو اس بہشت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ صلہ ان کو ان اعمال کے بدلے میں دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ یعنی ان کے نیک اعمال کا صلہ ہوگا۔ اوپر کافروں کا ذکر تھا پھر مومنوں کا ذکر فرمایا اب نیک اعمال میں سے بعض کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی دشواری سے اس کو جنا اور اس کو پیٹ میں رکھنے اور اس کے دودھ چھڑنے کی مدت تیس مہینے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بچہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس کی عمر کو پہنچ گیا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیرے ان احسانات کا شکر بجا لائوں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں اور نیز یہ کہ میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جن سے تو خوش ہو اور میرے لئے میری اولاد میں صلاحیت پیدا کردے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں فرمابرداروں میں سے ہوں۔

(15) اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں بڑی مشقت اور تکلیف کے ساتھ رکھا اور بڑی دشواری سے اس کو جنا اور اس کے پیٹ میں رکھنے اور اس کا دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بچہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیرے ان احسانات کا شکر بجا لائوں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں اور نیز یہ کہ میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جن سے تو راضی اور خوش ہو اور میرے لئے میری اولاد میں صلاحیت پیدا کردے اور میرے نفع کے لئے میری اولاد کو نیک کردے میں تیری جناب میں رجوع کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اس آیت میں چند باتیں فرمائیں ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنا ماں کا کام حمل رکھنا اور جننا اور بات کا کام دیکھ بھال کرنا اور ماں کے لئے آرام مہیا کرنا اس لئے وہ دونوں اس کے مستحق ہیں کہ ان کا احسان ماناجائے یہاں حمل اور فصل کو تیس مہینے فرمایا۔ اگر بچہ قوی ہو تو اکیس مہینے میں بھی دودھ چھڑایا جاسکتا ہے اور اگر دو سال دودھ کے ہوں تو حمل کی اقل مدت مراد ہوگی کہ کم سے کم حمل کی مدت چھ ماہ ہے اور دودھ کے حولین کا ملین کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ بلغ اشدہ کا مطلب یہ ہے کہ بالغ ہوگیا اور حد بلوغ کو پہنچ گیا پھر چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے یوں دعا کی کیونکہ یہ عمر سوچنے اور سمجھنے کی ہوجاتی ہے اور عقل پختہ ہوجاتی ہے ماں باپ پر جو احسان کیا اور بچہ پر جو احسان کیا یعنی ان پر جو احسان ہوا اس کا اثر دینی اور دنیوی مجھ پر بھی پہنچا۔ میری اولاد میں میرے نفع کے لئے صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں میری خدمت کریں میں ان کو دیکھ کر خوشی حاصل کروں اور مرنے کے بعد وہ میری مغفرت کے لئے دعا کرکے ایصال ثواب کیا کریں۔ رجوع کرنے کا مطلب یہ کہ خطائوں سے توبہ کرکے رجوع ہونا بعض نے کہا اشدہ سے مراد تیتیس سال کی عمر ہے یتیم کے بارہ میں حتی یبلغ اشدہ فرمایا وہاں بلوغ ہی مراد ہے۔
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے نیک اعمال ہم قبول کرلیں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے ان لوگوں کا شعار اہل جنت میں سے ہوگا ان سے یہ سلوک اس سچے وعدہ کی بنا پر ہوگا جو ان سے کیا جاتا تھا۔

(16) یہ لوگ وہ ہیں کہ ان کے نیک اور بہتر سے بہتر اعمال جو انہوں نے کئے ہیں ہم قبول کرلیں گے اور ان کی برائیوں سے ہم درگزر کردیں گے درآنحالیکہ یہ لوگ بہشت میں ہوں گے اور ان کا شمار اہل جنت میں سے ہوگا ان سے یہ سلوک اس سچے وعدہ کی بنا پر ہوگا جوان سے کہا جاتا تھا۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کے متعلق فرمایا ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے بعض نے فرمایا سعد بن ابی وقاص سے مراد ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سعادت مند لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ بہرحال ہوسکتا ہے شان نزول کسی مقتدر صحابی کے متعلق ہو حضرت صدیق ؓ صحابہ میں بہت ممتاز درجہ رکھتے تھے ان کے بارے میں نازل ہوئی ہو یا کسی اور صحابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ہر سعادت مند اور ماں باپ کی خدمت گزار اولاد اس سے مراد لی جاسکتی ہے بڑے خوش قسمت ہیں وہ ماں باپ جن کی اولاد ایسی ہو اور بڑی خوش نصیب ہے وہ اولاد جو اس آیت کی مصداق ہو آگے اس کے مقابلہ میں کافر کا ذکر فرمایا۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور وہ شجص جس نے اپنے ماں باپ کو کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ خبر دیتے ہو کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں اور ماں باپ کا یہ حال ہے کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں اور لڑکے سے کہتے ہیں اسے تیرا برا ہو تو ایمان لے آ یقین جان اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر وہ جواب دیتا ہے کچھ نہیں یہ محض اگلے لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں۔

(17) اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھ کو یہ وعدہ اور یہ خبر دیتے ہو کہ قبر سے نکالا جائوں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں اور طبقے اور امتیں گزر چکی ہیں اور ماں باپ کا یہ حال ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں اور لڑکے سے کہتے ہیں ارے تیرابراہو تو ایمان لے اور یقین جان کر اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے مگر وہ جواب دیتا ہے کچھ نہیں یہ محض اگلے لوگوں کی بےسروپاکہانیاں ہیں۔ یعنی ماں باپ کو مسلمان ہونے کی بنا پر ڈانٹتا ہے کفر اور عقوق یعنی ماں باپ کی نافرمانی دونوں ککا ارتکاب کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ آیت کسی شقی اور بدبخت کے حق میں نازل ہوئی ہو جیسا کہ حسن بصری (رح) وغیرہ سے منقول ہے یا ہر وہ شخص مراد ہے جو اس مذموم صفت سے متصف ہو۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی ان امتوں کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی بات پوری ہوکر رہی جو امتیں جنات اور انسان کی ان سے پہلے ہو گزری ہیں کیونکہ یہ سب زیاں کار تھے۔

(18) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے حق میں بھی ان امتوں کے ساتھ جوان سے پہلے جنات اور انسانوں کی ہوگزری ہیں اللہ تعالیٰ کی وہ بات پوری ہوکررہی کیونکہ یہ سب زیاں کار تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے جو امتیں جنات اور انسانوں کی گزری ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی بات یعنی وعدہ عذاب پورا ہوکر رہا اسی طرح ان کے ساتھ ان پر بھی وہ وعدہ عذاب پورا ہوگا۔ حق علیھم القول سے وہی کلمہ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ مراد ہے بہرحال جو امتیں کافروں کی ان سے پہلے گزری ہیں خواہ وہ جنات کی ہوں یا انسان کی جو انجام ان کا ہو وہی حال ایسی اولاد کا ہونے والا ہے جو ماں کی نافرمان اور کافر ہو۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے مختلف درجے ملیں گے اور یہ اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلا دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

(19) اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال مختلفہ کیوجہ سے مختلف درجے ملیں گے اور یہ اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلا دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ مختلف اعمال یعنی مومن کا عمل کافر کے عمل سے مختلف ہے اس لئے مومن کو جنت اور کافر کو جہنم مومن کا پورا بدلہ وہ ہے اور کافر کا پورا بدلا یہ ہے یا یہ مطلب کہ مومن کوئی برے عمل کرنے والا کوئی کم عمل کرنے والا کافر بھی کوئی اسلام کا سخت دشمن اور کٹر کوئی نرم قسم کا کافر جہنم میں ان کے طبقات مختلف اور جنت میں ان کے درجات عالیہ مختلف کوئی اہل یمین کوئی مقرب بارگاہ اللھم اجعلنا من المربین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن کفار آگ کے روبرو حاضر کئے جائیں گے کہا جائے گا کہ تم اپنی دنبی زندگی میں اپنے حصہ کی نعمتیں حاصل کرچکے اور ان سے خوب فائدہ اٹھا چکے سو آج تم کو اس تکبر کے باعث جو تم ناحق دنیا میں کیا کرتے تھے اور ان نافرمانیوں کے باعث جو تم کرتے رہتے تھے ذلیل کرنے والے عذاب کی سزا دی جائے گی۔

(20) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے آگ کے روبروحاضر کئے جائیں گے کا جائے گا کہ تم اپنی دنیوی زندگی میں اپنے حصے کی نعمتیں حاصل کرچکے اور ان سے خوب فائدہ اٹھا چکے پس آج تم کو اس تکبر کے باعث جو تم ناحق زمین میں کیا کرتے تھے اور ان نافرمانیوں کے سبب جو تم کرتے رہتے تھے ذلیل و خوار کرنے والے عذاب کی سزا اور بدلا دیا جائے گا۔ یعنی جس دن اہل نار آگ کے روبرو لائے جائیں گے تو ان سے منجملہ اور باتوں کے یہ بھی کہا جائے گا کہ تم لذت کی چیزیں اور اپنے حصے کی نعمتیں دنیا میں حاصل کرچکے اور ان سے خوب فائدہ اٹھا چکے اور خوب برت چکے تو آج تم کو ذلیل کرنے والا عذاب کا بدلا اور سزا دی جائے گی اور اس کی وجہ اور سبب یہ ہے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اسلام کے مقابلے میں جو تکبر کیا جائے وہ ناحق ہی ہے اور پھر زمین پر رہ کر جو تکبر کیا جائے اس کے غیر حق ہونے میں شک ہی کیا ہوسکتا ہے۔ اور دوسری وجہ ذلت کے عذاب کی یہ فرمائی کہ تم نافرمانیوں کے مرتکب ہوتے تھے جس میں ہر قسم کا کفر اور فسق شامل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جن لوگوں نے آخرت نہ چاہی فقط دنیا ہی چاہی ان کو نیکیوں کا بدلا اسی دنیا میں مل چکا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ بعض بھلائیاں دنیا میں کافر بھی کرتا ہے چونکہ اس کا مقصود آخرت نہیں ہوتا کیونکہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس لئے اس کی بھلائیوں کا بدلا دنیا میں مل جاتا ہے۔ بعض صحابہ ؓ سے منقول ہے کہ وہ لذت دنیوی سے بہت بچتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت میں یہ کہا جائے اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا۔ حضرت عمر ؓ کا قول صاحب مدراک نے نقل کیا ہے۔ لوشئت اطیبکم طعاما واحسنکم لباساً ولکنی استبقی طیباتی۔ یعنی اگر میں چاہوں تو تم سے اچھا کھا سکتا ہوں اور تم سے اچھا پہن سکتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ میری نعمتیں آخر ت کے لئے باقی رہیں یہاں تک عام منکروں کا ذکر تھا آگے قوم عاد کا ذکر ہے۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ قوم عاد کے بھائی یعنی ہود کا ذکر کیجئے جبکہ اس نے اپنی قوم کو جو کہ ایک ریگستانی علاقہ میں آباد تھی ڈرایا اور یقینا ہود (علیہ السلام) سے پہلے بھی اور اس کے پیچھے بھی بہت سے ڈرانے والے گزر چکے ہیں ہود (علیہ السلام) نے کہا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو میں تم پر ایک بڑے سخت دن کا عذاب سے ڈرتا ہوں۔

(21) اور اے پیغمبر آپ قوم عاد کے بھائی یعنی ہود (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جیسا کہ اس نے اپنی قوم کو جو ایک ریگستانی علاقہ میں آباد تھی ڈرایا اور یقینا ہود سے پہلے بھی اور اس کے پیچھے بھی بہت سے ڈرانے والے گزر چکے ہیں ہود (علیہ السلام) نے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو میں تم پر ایک بڑے سخت دن کا آفت اور عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہود (علیہ السلام) جو قوم عاد کے بھائی برادر تھے ان کو عاد کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا جیسا کہ قرآن میں کئی جگہ ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہ لوگ یمن کے علاقے میں یا عمان اور مہرہ کے درمیان ریگستان میں جہاں بڑے بڑے مستطیل ریت کے ٹیلے تھے وہاں آباد تھے ۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کی عبادت نہ کیا کرو مجھے تم پر ایک بڑے سخت دن کی آفت کا اندیشہ ہے۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن یا دنیوی عذاب کا دن ہے بیچ میں فرمایا اس سے پہلے اور اس سے پیچھے اور بہت سے ڈرانے والے گزر چکے ہیں یہ اس لئے فرمایا تاکہ ہود (علیہ السلام) کی بات کی تائید ہو کہ اور پیغمبر بھی توحید کی تبلیغ کرتے رہے ہیں انہوں نے ایک متفق علیہ بات اپنی قوم کے روبرو پیش کی تھی۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

قوم کے لوگوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دے اچھا اگر تو سچا ہے تو جس عذاب کا ہم سے وعدہ کرتا ہے اسے ہم پر لے آ۔

(22) قوم کے لوگوں نے جواب دیا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمارے ٹھاکروں اور ہمارے معبودوں سے پھیر دے اور لوٹادے تو ہم تو ایسا کرنے والے ہیں نہیں پس تو اگر سچا ہے تو جس عذاب کی ہم کو دھمکی اور عدہ دیتا ہے اس عذاب کو ہم پر لے آ۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

ہود (علیہ السلام) نے کہا اس کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے اور میں تو تم کو وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو مجھ کو دے کر بھیجا گیا ہے مگر میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت ونادانی کی باتیں کررہے ہو۔

(23) ہود (علیہ السلام) نے کہا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو تم کو وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو پیغام میں دے کر بھیجا گیا ہوں مگر میں تم کو دیکھتا کہ تم جہالت اور نادانی کی باتیں کررہے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہود (علیہ السلام) نے عاد کو ڈرایا احقاف ایک ضلع ہے یمن میں اس کے معنی ریت کے نقل۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ میں تم کو توحید کی دعوت دیتا ہوں تم عذاب مانگتے ہو میرا کام تو یہی ہے کہ جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ تم کو پہنچا دوں باقی عذاب کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ ہاں ! اتناکہہ سکتا ہوں کہ عذاب کو بلا سوچے سمجھے طلب کرنا یہ جاہلوں اور نادانوں کی باتیں ہیں جو تم کررہے ہو۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس عذاب موعود کو ایک بادل کی شکل میں اپنے میدانوں کی جانب آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا یہ بات نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے یہ سخت آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔

(24) پھر جب انہوں نے اس عذاب موعودکو ایک سیاہ بادل کی شکل میں اپنے میدانوں کی طرف آتا ہوا دیکھا اور اپنی وادیوں کی طرف متوجہ دیکھا تو کہنے لگے یہ ابر ہے جو ہم پر برسے گا۔ ارشاد ہوا بات نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے یہ ایک تیز ہوا اور آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

یہ آندھی ہر ایک چیز کو اپنے رب کے حکم سے درہم برہم کر ڈالے گی چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا اور کچھ نظرنہ آتا تھا ہم مجرموں کو اسی طرح سزادیا کرتے ہیں۔

(25) یہ آندھی ہرچیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے درہم برہم کرڈالے گی اور اکھیڑ پھینکے گی چناچہ وہ ایسے تباہ و برباد ہوئے کہ ان کے گھروں کے سوا وہاں کچھ اور نہ دکھائی دیتا تھا ہم مجرموں اور گناہگاروں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک بادل اٹھتا ہوا نظر آیا جو ان کے میدانوں کی طرف متوجہ تھا یہ سمجھے بارش آئی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا حضرت حق کا ارشاد ہوا یہ بارش نہیں بلکہ وہی عذاب ہے جس کو جلد چاہتے تھے یہ ایک دردناک عذاب سے لبریز ہوا ہے جو ہر چیز کو خدا کے حکم سے اکھیڑ کر پھینک مارے گی۔ چناچہ یہی ہوا کہ سب ہلاک کردیئے گئے نہ کوئی انسان باقی رہا نہ کوئی حیوان سوائے ان کے خالی مکانوں کے اور کوئی چیزان کی بستیوں میں دکھائی نہ دیتی تھی۔ آخر میں فرمایا ہم اسی طرح گناہگاروں کو بدلا دیا کرتے ہیں آگے مکہ والوں کو تنبیہ فرماتے ہیں۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کو ان چیزوں کی قدرت دی تھی کہ جن چیزوں کی قدرت تم کو نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے لیکن وہ لوگ چونکہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے اس لئے نہ ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا۔

(26) اور بلا شبہ ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں کی قدرت اور مقدور دیا تھا جن باتوں کی قدرت اور مقدور تم کو نہیں دیا اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے لیکن وہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کے آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے اس لئے نہ ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا اور وہی چیزان پر الٹ پڑی۔ مطلب یہ ہے کہ جو قوت اور طاقت اور طول قامت اور درازی عمر اور مال کی کثرت ہم نے ان کو دے رکھی تھی وہ تو تم کو دی بھی ہیں جب ان کو عذاب سے یہ سب چیزیں نہ بچاسکیں تو تمہارے پاس تو یہ چیزیں ہیں بھی نہیں پھر تم عذاب الٰہی سے کیوں بےخوف ہو پھر فرمایا ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے یعنی سوجھ بوجھ اور ہوشیاری اور سمجھ داری بھی وہی تھی جیسا کہ سورة عنکبوت میں گزرا ہے۔ وکانوا مستبصرین پھر چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے اس لئے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی اور جن باتوں کا وہ استہزاء اور ٹھٹھا کیا کرتے تھے انہی چیزوں نے ان کو آگھیرا اور اس مذاق اور ہنسی نے عذاب کی صورت اختیار کرلی اور ہلاک کردیئے گئے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے تمہارے آس پاس کی اور بستیوں کو بھی تباہ و برباد کیا ہے اور ہم طرح طرح سے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں تاکہ وہ باز آجائیں۔

(27) اور بلا شبہ ہم نے تمہارے ماحول اور آس پاس کی بستیوں کو بھی تباہ و برباد اور ہلاک کیا ہے اور ہم نے طرح طرح سے ان کے سامنے دلائل عبرت پیش کئے اور اپنی باتیں ان کو مختلف عنوان سنائیں اور بتائیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ آس پاس کی بستیاں یعنی قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ عرب کے ایک جانب یمن اور دوسری جانب شام تھا اہل مکہ عام طور سے ان علاقوں میں تجارت کے لئے سفر کیا کرتے تھے اور ان بستیوں کو اجڑا ہوا دیکھتے تھے اکثر و بیشتر یہ بستیاں شارع عام پر پڑتی تھیں اور آتے جاتے دکھائی دیتی تھیں جیسا کہ ہم سورة سبا میں اور دوسری جگہ بیان کر آئے ہیں مختلف انداز اور مختلف عنوان سے ان کو سمجھاتے رہے لیکن وہ نہ مانے تو بالآخر ہم نے ان کو ہلاک و برباد کردیا۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر خدا کے سوا جن جن چیزوں کو ان لوگوں نے خدا کا تقرب حاصل کرنے کی غرض سے معبود بنارکھا تھا ان معبودوں نے ان مشرکوں کی کوئی مدد کیوں نہیں کی بلکہ وہ سب جھوٹے معبود ان سے غائب ہوگئے اور یہ غیر اللہ کو معبود بنانا ان مشرکوں کا محض بہتان اور افرتا پردازی تھی۔

(28) پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے جن کو معبود بنا رکھا تھا ان معبود ان باطلہ نے ان تباہ ہونے والوں کی مدد کیوں نہیں کی اور ان کو بچایا کیوں نہیں بلکہ وہ سب کے سب جھوٹے معبود ان کی نظر سے غائب ہوگئے اور یہ غیر اللہ کو معبود اور شفیع اور قرب الٰہی کا ذریعہ محض بہتان افترا اور بنائی ہوئی بات تھی۔ غیر اللہ کی عبادت کے سلسلے میں جو وجہ یہ بیان کیا کرتے تھے کہ ہم تو ان کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں لیقربونا الی اللہ زلفی جیسا کہ سورة زھر میں گزرا ہے اور یہ کہتے تھے کہ یہ تو ہمارے شفیع ہیں اللہ کی جناب میں ھئولاء شفحائونا عنداللہ جیسا کہ سورة یونس میں گزرا۔ اسی کو فرمایا کہ یہ سفارشی اور ذریعہ قرب خدا کہہ کر جن کو خدا کے سوا پوجتے تھے انہوں نے عذاب سے بچایا کیوں نہیں اور ان کی مدد کیوں نہیں کی۔ آخرت میں فرمایا کہ یہ سب باتیں کہ وہ ہمارے سفارشی ہیں یا ان کے ذریعے خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے اس لئے ہم ان کی عبادت کرتے ہیں یہ سب ان کی افترا پردازیاں تھیں وہ جھوٹے معبود نہ سفارشی نہ قربت الٰہی کا ذریعہ نہ ان میں معبود بننے کی اہلیت و صلاحیت۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اس واقعہ کو بیان کیجئے کہ جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی جانب متوجہ کردیا اور وہ قرآن سننے لگے غرض جب وہ قرآن کی تلاوت کے پاس آپہنچے تو آپس میں کہنے لگے خاموش ہوجائو پھر جب قرآن کی تلاوت ہوچکی تو وہ جن اپنی قوم کو آگاہ کرنے کی غرض سے قوم کے پاس واپس گئے۔

(29) اور اے پیغمبر آپ ان سے اس واقعہ کا ذکر کیجئے کہ جب ہم نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی جانب متوجہ کردیا درآنحالیکہ وہ قرآن سننے لگے قرآن کی آواز ان کو پہنچنے لگی اور انہوں نے قریب پہنچنے کی کوشش کی غرض جب وہ قران کی تلاوت کے پاس آپہنچے تو کہنے لگے چپ رہو اور خاموش ہوجائو پھر جب قرآن کی تلاوت پوری ہوگئی اور تلاوت ہوچکی تو وہ جن اپنی قوم کو آگاہ کرنے اور ڈرانے کی غرض سے قوم کے پاس واپس گئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نکلے تھے حج کے دنوں میں شہر مکہ سے باہر نماز صبح پڑھنے کے لئے اپنے یاروں کے ساتھ اس وقت کتنے جن سن گئے اور مسلمان ہوئے اپنی قوم کو جاکر سمجھایا اس بار حضرت (علیہ السلام) سے نہیں ملے پھر بہت لوگ مسلمان ہوکر ایک رات مکہ سے باہر آئے حضرت (علیہ السلام) اکیلے باہر گئے سب نے قرآن سیکھا اور دین قبول کیا سورة جن میں ان کی باتیں مفصل ہیں اور جب سے حضرت کو وحی آئی تب سے جنوں پر خبر آسمان سے بند ہوئی، ان کو سبب معلوم نہ تھا قرآن جب سنا تو جانا اس کا نزول ہوتا ہے اس سے خبر بند کی ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ پہلے جن آسمان پر جاکر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے اور غیبی خبریں اڑلاتے تھے یہاں انہوں نے کاہن لگا رکھے تھے جو خبریں لے کر آتے تھے ان میں کچھ اور اپنی طرف سے ملا کر کاہنوں کو بتادیا کرتے تھے کاہن ان خبروں کو دوسرے لوگوں کو بتادیا کرتے تھے اس طرح لوگ خوب گمراہ ہوتے تھے اور شیاطین کا مقصد خوب پورا ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا اور ان جنات کو مار مار کر بھگایا جانے لگا جنات میں اس کا چرچا تھا اس لئے مختلف ٹولیاں جنات کی اس معاملہ کی تحقیق کے لئے نکلیں شاید ان میں سے کوئی ٹولی جو سات نفر کو شامل تھی مکہ میں بھی آنکلی ہو مکہ سے باہر اس کو نبی کریم ﷺ کے قرآن پڑھنے کی آواز سنائی دی آپ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے یا تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے۔ بہرحال وہ سمٹ کر قرآن کی آواز کے قریب پہنچ گئے یہ جن شاید نصیبین کے تھے یا نینوا کے یہ واقعہ وادی نخلہ میں پیش آیا۔ حضور ﷺ کو ان جنات کے آنی کی خبر نہ ہوئی۔ وہ جنات کی ٹولی قرآن سن کر متاثر ہوئی اور اپنی قوم کو سمجھانے اور ڈرانے کے لئے واپس ہوگئی۔ بعض حضرات نے فرمایا وہ جماعت حضور ﷺ ے ملی اور مشرف باسلام ہوکر اپنی قوم کی طرف واپس ہوئی۔ بعض نے کہا کہ سال بھر کے بعد آکر ایک کافی تعداد جنات کی مسلمان ہوئی۔ بہرحال جنوں کے واقعات احادیث میں کتنی ہی جگہ آئے ہیں اس لئے ان آیات کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ہم نے انہی اقوال کا خلاصہ عرض کیا۔ یعنی مکہ سے باہر وادی نخلہ میں آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے یا جماعت کی نماز پڑھا رہے تھے جنات کی ایک جماعت آئی اس نے قرآن سنا اور قرآن کا اثر لے کر یا حضور ﷺ سے ملاقات کرکے مشرف باسلام ہوکر واپس اپنی قوم کی طرف گئی اور وہاں جاکر اس نے قرآن سننے اور اپنے تاثرات کو بیان کیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

وہاں جاکر انہوں نے کہا اے برادران قوم ہم ایک ایسی کتاب سن کر آرہے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعدنازل کی گئی ہے وہ کتاب اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور وہ کتاب دین حق کی اور صحیح راہ کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔

(30) ان جنوں نے اپنی قوم میں جاکر کہا اے برادران قوم ہم نے بلا شبہ ایک ایسی کتاب سنی ہے اور ہم ایک ایسی کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے وہ کتاب اپنے سے پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور وہ کتاب دین حق کی اور سیدھے راستے کی رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وقت سے توریت ان میں مشہور تھی۔ یعنی جب شان کی توریت تھی اور جس طرح وہ بہت سے احکام اور شرائع کو شامل تھی اس کے بعد سے ایسی کوئی کتاب آج تک سننے میں نہیں آئی، توریت کے بعد ہم نے یہی کتاب سنی ہے جو دین حق کی دعوت دیتی اور اس کی طرف یعنی اسلام کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ بعض مفسرین اس کے قائل ہیں کہ یہ جن یہودی تھے لیکن اس پر کوئی صحیح نقل ہم کو نہیں مل سکی۔
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے برادران قوم تم اللہ کے داعی یعنی محمد ﷺ کی بات مانو اور اس پر ایمان لے آئو اگر ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔

(31) اے برادران قوم تم اللہ کی طرف بلانے والے یعنی محمد ﷺ کی بات مانوں اور بات کا ماننا یہی کہ اس پر ایمان لے آئو اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا اور محفوظ رکھے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے داعی محمد ﷺ کی دعوت مان لو اور ان پر ایمان لے آئو تو تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ بعض حضرات نے من تبعیضیہ مراد لے کر بعض گناہ ترجمہ کیا ہے یعنی حقوق العباد کے علاوہ گناہ معاف ہوجائیں گے بعض نے ن بیانیہ مراد لیا ہے بعض نے من کو زائدہ کہا ہے بہرحال بعض حضرات نے کل ذنوب ترجمہ کیا ہے حاصل یہ ہے کہ اسلام لانے سے سب ہی گناہ معاف ہوجاتے ہیں حقوق العباد کی بحث میں تھوڑی سی تفیصل ہے اگر حقوق العباد ذنوب کی قسم ہیں یعنی قتل تو اسلام لانے سے بالاتفاق معاف وجاتا ہے رہا قرض تو وہ ذنوبکم میں داخل نہیں اور حدیث میں آتا ہے کہ اہل حقوق کو خاص نعمتیں دکھائی جائیں گی وہ عرض کریں گے یا اللہ یہ نعمتیں کس کے لئے ہیں۔ ارشاد ہوگا جو اپنے حقوق معاف کردے گا یہ نعمتیں اس کو ملیں گے چناچہ لوگ اپنے اپنے حقوق معاف کردیں گے۔ اسی احتیاط کی بنا پر ہم نے ترجمے میں اور تیسیر میں بعض اور کل کا لفظ چھوڑ دیا ہے اور اس تقریر کے بعد جو ہم نے کی ہے بعض کا لفظ بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اس آیت سے اتنا بھی معلوم ہوا کہ کفرومعاصی پر جنات کو عذاب ہے لیکن مسلمان اور نیک ہونے پر جنت ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک اس باب میں توقف ہے البتہ ضحاک ، مالک، ابن اب لیلی اور امام محمد اور امام ابویوسف دونوں باتوں کے قائل ہیں یعنی جنت نیک جنوں کے لئے اور دوزخ گمراہ جنات کے لئے بہرحال امام صاحب کا مسلک توقف غایت احتیاط پر مبنی ہے جب تک ان جنات میں جانے کے متعلق کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی طرف بلانیوالے کی بات نہ مانے گا تو وہ زمین میں کہیں بھاگ کر خدا کو ہرا نہیں سکے گا اور نہ اس کا خدا کے سوا کوئی حمایتی ہوگا یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

(32) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو زمین میں کہیں بھاگ کر تھکا نہیں سکے گا اور نہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بھاگ کر زمین میں اوپر سے فرشتے مارتے ہیں تو زمین ہی کو تو بھاگتے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ زمین کے کسی حصے میں بھاگ کر خدا تعالیٰ کو عاجز کردے یہ نہیں ہوسکتا اور جس طرح یہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا اسی طرح اس کا کوئی حمایتی بھی نہیں ہوسکتا ایسے لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی داعی کے برحق ہونے پر دلائل قابم ہوجانے کے بعد پھر داعی کی بات نہ مانے تو اس سے بڑھ کر اور کون گمراہی میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ داعی اللہ سے مراد ہم نے جگہ جگہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس لی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ داعی سے مراد قرآن ہو چونکہ کفار مکہ کے تکبر کا اوپر ذکر تھا اس لئے ان کے مقابلے میں جنات کا ذکر فرمایا کہ طبعاً ان میں تکبر اور بلندی کا مادہ زیادہ ہے لیکن جب وہ بھی قرآن کو سن کر اس کی جانب مائل ہوگئے تو اے کفار قریش تم تو انسان ہو تم کو داعی اللہ کی پکار پر ضروراجابت کرنی چاہیے۔ اب آگے بعثت اور دوبارہ زندہ ہونے پر اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اس سورت کو ختم فرماتے ہیں۔
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا منکرین قیامت نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے میں ذرا بھی نہیں تھکا وہی خدا مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے کیوں نہیں بیشک ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

(33) کیا ان منکرین قیامت نے اس بات کو نہیں دیکھا اور نہیں سمجھا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور ان آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور بنانے میں وہ ذرا بھی نہیں تھکا وہ اللہ تعالیٰ بدرجہ اولیٰ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے کیوں نہیں وہ ضرور قارد ہے۔ بیشک وہ ہر چیزپر قدرت رکھتا اور ہر چیز کرسکتا ہے۔ یعنی یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے اور آسمان و زمین پیدا کرنے میں اس کو تھکاوٹ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے جواب فرمایا بیشک وہ قادر ہے اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا اس کو کیا مشکل ہے وہ ہر چیز کرسکتا ہے۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور وہ دن قابل ذکر ہے کہ جس دن کفار دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا کیا یہ دوزخ ایک غیر مشتبہ حقیقت نہیں ہے وہ جواب دیں گے ہم کو اپنے رب کی قسم بیشک یہ ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ارشاد ہوگا اب اس کفر کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے اس عذاب کا مزہ چکھو۔

(34) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن یہ دین حق کے منکر نار دوزخ کے روبرو لائے جائیں گے اور آگ کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ دوزخ ایک امر واقعی اور غیر مشتبہ حقیقت نہیں ہے وہ کہیں گے ہم کو اپنے پروردگار کی قسم بیشک یہ ایک امر حق اور غیر مشتبہ حقیقت ہے ارشاد ہوگا پس اب اس کفر کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے اس عذاب کا مزہ چکھو۔ دنیا میں جہنم کا انکار کرتے تھے اب دوزخ کے کنارے پر کھڑے ہوکر اور آنکھوں سے دیکھ کر اعتراف کریں گے آگے تسلی ہے نبی کریم ﷺ کے لئے۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

سو اے پیغمبر جس طرح اور ذی ہمت پیغمبروں نے صبر کا شیوہ اختیار کیا تھا آپ بھی صبر کرتے رہیے اور ان کافروں کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو یوں خیال کریں گے کہ گویا وہ دنیا میں پورے دن میں سے صرف کوئی گھڑی بھر رہے ہوں گے یہ قرآن اتمام حجت کی غرض سے پہنچا دینا ہے پس اب وہی تباہ کئے جائیں گے جو نافرمان ہیں۔

(35) پس اے پیغمبر جس طرح اور دوسرے ہمت والے اور اولوالعزم رسولوں نے صبر کا شیوہ اختیار کیا آپ ﷺ بھی صبر کرتے رہیے اور شیوہ صبر پر قائم رہیے اور ان منکروں کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے کیونکہ جس دن یہ لوگ اس چیز یعنی عذاب کو دیکھیں گے جس عذاب کا ان کا وعدہ دیا جارہا ہے اور جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو یوں سمجھیں گے گویا وہ دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر پورے دن میں سے کوئی گھڑی بھر رہے ہوں گے۔ یہ قرآن یا یہ پیام اتمام حجت کی غرض سے پہنچا دینا ہے پس اب وہی لوگ تباہ کئے جائیں گے جو نافرمان اور دین حق کا انکار کرنے والے ہیں۔ یوں تو سب ہی رسول الوالعزم ہیں لیکن ان میں جو مخصوص طور پر صفت صبر کے ساتھ متصف ہیں ان کی طرف اشارہ ہے کہ آپ بھی ان کی طرح صبر اور سہارا کا شیوہ اختیار کیجئے اور عذاب الٰہی کی جلدی نہ کیجئے کیونکہ جب وہ عذاب موعود آئے گا تو یہ بدبخت یہی سمجھیں گے کہ بہت جلد آیا، کیونکہ ان کو دنیا میں یا قبر میں یا دونوں جگہ رہنے کی مدت کا یہ اندازہ ہوگا کہ دن کی ایک گھڑی رہے اور عذاب جلدی آگیا آپ کا کام اس قرآن کو یا ہمارے پیام کو یا دین برحق کو پہنچا دینا ہے سو آپ نے پہنچا دیا اب حق پہنچنے کے بعد وہی لوگ ہلاک وتباہ کئے جائیں گے جو نافرمانی کے خوگر ہیں کیونکہ اتمام حجت ہوچکا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ڈھیل نہ پائی تھی دنیا میں یعنی اب تو دیر سمجھتے ہیں کہ عذاب کیوں نہیں آتا اس دن جائیں گے کہ بہت شتاب آیا دنیا میں رہنا ایک گھڑی یا عالم قبر کا رہنا ایک گھڑی معلوم ہوگا۔ دستور ہے کہ گزری مدت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔ تم تفسیر سورة الاحقاف