45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 45:1
(1) حٰم ٓ
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔

(2) اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی یہ کتاب اللہ تعالیٰ جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے اس کی جانب سے اتاری گئی ہے۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک اہل ایمان کے لئے آسمانوں میں اور زمین مبں بڑے دلائل موجود ہیں۔

(3) بے شک اہل ایمان کے لئے آسمانوں میں اور زمین میں بڑے دلائل موجود ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت کے لئے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں جو حق کی متلاشی ہیں اور حق کے متلاشی اہل ایمان کے علاوہ اور ہیں بھی کہاں۔
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور خود تمہارے پیدا کرنے میں اور نیزان حیوانات میں جن کو خدا نے پھیلا رکھا ہے ان لوگوں لے بڑے دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔

(4) اور خود تمہارے پیدا کرنے میں اور نیز ان حیوانات اور جانوروں میں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں پھیلا رکھا اور بکھیررکھا ہے ان لوگوں کے لئے قدرت خداوندی اور اس کی توحید کے بڑے دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کی آگے پیچھے آنے جانے میں اور اس رزق یعنی بارش میں جس کو اللہ تعالیٰ آسمان کی جانب نازل کرتا ہے اور اس سے زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے زندہ کردیتا ہے اور ہوائوں کے بدلنے میں ان لوگوں کیلئے بڑے دلائل ہیں جو عقل سے بہرہ مند ہیں۔

(5) اور رات دن کے اختلاف یعنی آگے پیچھے آنے جانے میں اور اس رزق یعنی بارش میں جس کو اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے آسمان کی جانب سے پھر اس بارش سے زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے زندہ کردیتا ہے اور ہوائوں کے بدلنے میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل اور بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے بہرہ مند اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ رزق فرمایا بارش کو اس لئے کہ سبب ہے رزق کا یہ تبدیلیاں جو عالم میں ہوتی ہیں اور موسم کی الٹ پلٹ ہوائوں کی تبدیلیاں انسان اور جانوروں کی پیدائش آسمان و زمین کی بناوٹ غرض کوئی چیز بھی اس عالم کی ایسی نہیں ہے جو حضرت حق تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت پر دلالت نہ کرتی ہو۔ ہوائوں کی تبدیلی یہی کبھی پروا کبھی پچھوا وغیرہ۔ غرض اہل ایمان اہل ایقان اور اہل عقل کے لئے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد اب یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔

(6) اے پیغمبر یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم صحیح صحیح طور پر آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں پھر اب یہ دین حق کے منکر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں کو نہیں مانتے تو ان کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں سے بڑھ کر اور کون سی بات ہوگی جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہراس جھوٹے گناہ گار کے لئے بڑی تباہی ہوگی۔

(7) ہر اس جھوٹے دروغ کو گنہگار کے لئے بڑی خرابی اور تباہی ہے۔
Ayah 45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جو اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جب وہ آیتیں اس کے روبرو پڑھی جاتی ہیں پھر جب وہ ازراہ تکبر اس طرح کفر پر اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو آپ ایک دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔

(8) جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو سنتا ہے جب وہ آیتیں اس کے روبرو پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ تکبر اور غرور کی راہ سے اس طرح کفر پر اڑا رہتا ہے اور کفر کو لازم پکڑتا ہے کہ گویا اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں پس ایسے شخص کو آپ ایک دردناک عذاب کی خبردے دیجئے۔ شاید یہ آیت نصربن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ سورة لقمان میں تفصیل گزر چکی ہے یہ شخص بڑا سخت کافر تھا قرآن کو پہلے لوگوں کی قصہ کہانیاں کہا کرتا تھا اور گانے والی عورتوں کی تجارت کیا کرتا تھا اس کے حق میں یہ وعید فرمائی۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے ۔

(9) اور جب وہ ہماری آیات میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے اور اس کو ٹھٹا ٹھہراتے ہے اور اس کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی آیت کے نزول کا لوگوں سے اس کو علم ہوجاتا ہے مثلاً کوئی اس سے کہہ دیتا ہے کہ آج محمد ﷺ پر فلاں آیت اتری ہے تو اس کو سن کر ہنسی اڑاتا ہے۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا نہ تو وہ کمائی ان کو کچھ نفع دے گی اور نہ وہ معبود ان کے کچھ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا اپنا کارساز بنارکھا ہے اور ان لوگوں کو بڑا عذاب ہوگا ۔

(10) ان کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا نہ تو وہ کمائی ان کو کچھ نفع دے گی اور نہ وہ معبود اور رفیق ان کے کچھ کام آئیں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود اور رفیق اور کارساز بنارکھا تھا اور ان لوگوں کو بڑا عذاب ہوگا۔ یعنی نضر بن حارث اور اس کے ہم مشربوں کا یہ حال ہوگا کہ آگے ان کے دوزخ ہے پھر وہاں نہ تو ان کے اعمال ان کے کچھ کام آئیں گے اور نہ وہ ان کے معبود اور کارساز ہی کچھ ان کے کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنا کار ساز اور معبود بنارکھا تھا اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہیں مانتے ان کو بری بلا کا دردناک عذاب ہونے والا ہے۔

(11) یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور نہیں مانتے ان کو بری بلا کا درد ناک عذاب ہونے والا ہے۔ یعنی جو اس ہدایات کے منکر ہیں ان کے لئے سخت دردناک عذاب ہے۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے دریا کو مسخر کردیا تاکہ اس کے حکم سے دریا میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم لوگ اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اس کا شکربجا لائو۔

(12) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دریا کو تمہارے لئے تمسخر کردیا اور دریا کو تمہارے بس میں کردیا تاکہ اللہ کے حکم سے دریا میں کشتیاں اور جہاز چلیں اور تاکہ تم لوگ اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور طلب معیشت کرو۔ اور تاکہ تم اس کا شکر بجالائو۔ یہاں سے توحید کا بیان فرمایا دریائوں کی تسخیر اور دریائی سفر سے بیشمار منافع کا حصول ظاہر ہے اور ان انعامات پر شکر بجا لانا انسانیت کا بڑا وظیفہ ہے بلکہ انسانیت کی دلیل ہے۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس سب کو اس لئے اپنی جانب یعنی اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے بیشک ان امور مذکورہ میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔

(13) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس سب کو اپنی جانب یعنی اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے بیشک ان امورمذکورہ میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے اور دھیان کرتے ہیں۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی کوئی ایسی چیز نہیں جو دنیا کے انسانوں کے کام نہ آتی ہو ہر چیز انسانی نشو و نما اور انسانی آرام و آسائش کے کاموں میں لگی ہوئی ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے انسان کے کام میں لگا رکھا ہے یہ سب کچھ اسی کی طرف اور اسی حکم سے ہے اسی کو تسخیر فرمایا اور اسی کو اہل فکر کے لئے توحید کی دلیل فرمایا۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ آپ ایمان والوں سے فرمادیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو ایام خداوندی یعنی معاملات الٰہی کا یقین نہیں رکھتے تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ان اعمال کا بدلا دے جو وہ کرتے ہیں ۔

(14) اے پیغمبر آپ ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں فرمادیجئے کہ وہ ان لوگوں سے فی الحال درگزر کریں جو ایام خداوندی یعنی معاملات الٰہی کا یقین نہیں رکھتے تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ان اعمال کا بدلادے جو وہ کماتے تھے۔ ایام اللہ سے وہ وقائع اور حوادثات مراد ہیں جو کبھی کبھی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں تو ان کا وقوع یقینی ہے مسلمانوں کو صبر کی تلقین فرمائی کہ دشمنوں کی زیادتی پر فی الحال کوئی بدلا نہ لو بلکہ انتظار کرو شاید اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں ہی سرکشوں اور ظالموں کو خوار ورسوا کردے یا قیامت میں دشمنوں سے بدلا لے۔ کفار کی تعریف یہاں لا یرجون ایام اللہ کے الفاظ سے فرمائی یعنی نہ تو یہ لوگ وقائع اور حوادثات کے متوقع ہیں اور نہ ہی آخرت پر ان کا ایمان ہے۔ لیجزی کا ایک مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کو ان کے کسب اور ان کی کمائی کا بدلا دے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے صبر کا صلہ عطا فرمائے۔ بہرحال آیت کا ترجمہ کئی طرح کیا گیا ہے ہم نے تمام اقوال کا ایک خلاصہ کردیا ہے۔ کہتے ہیں حضرت عمر ؓ کو کسی مشرک نے جو قبیلہ غفار کا تھا اس نے برا اور سخت وسست کہا۔ حضرت عمر نے اس سے انتقام لینا چاہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی بعض نے کہا مسلمان مکہ معظمہ میں کفار کے ہاتھوں سخت ایزا برداشت کرتے تھے اس کا شکوہ پیغمبر خدا ﷺ سے کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں سے فرما دیجئے کہ وہ ان لوگوں کی زیادتیوں سے درگزر کریں جو ایام خداوندی اور اس کی سزاوجزا کے قائل نہیں ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صبر کا صلہ اور ایذارسانوں کو ان کی ایذا کا بدلہ خود ہی عطا فرمائے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معاف کریں یعنی بدلے کی فکر نہ کریں اللہ چھوڑ دیں۔ آگے اسی کی تفصیل ہے۔
Ayah 45:15

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو شخص نیک کام کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کو کرتا ہے اور جو شخص برا کرتا ہے تو اس برائی کا وبال اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے ہی رب کی طرف لوٹائے جائو گے۔

(15) جو شخص نیک عمل کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کو کرتا ہے اور جو شخص برا کرتا ہے تو اس برائی کا وبال اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ اور تمہاری بازگشت تمہارے پروردگار ہی کی جانب ہوگی وہاں ظالموں کو ان کے ظلم کا بدلا دیا جائے گا اور صبر کرنے والے اور درگزر کرنے والے مظلوم اپنا صلہ پائیں گے آگے نبوت کا مسئلہ مذکور ہے۔
Ayah 45:16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی تھی اور ہم نے ان کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دی تھیں اور ہم نے ان کو اقوام عالم پر فضیلت دی تھی۔

(16) اور بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور دانش مندی اور نبوت عطا فرمائی تھی اور ہم نے ان کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دی تھیں اور ہم نے ان کو اقوام عالم پر برتری اور فضیلت عطا فرمائی تھی۔ حکم کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں حکمت فقر اور صحیح سمجھ فیصلہ خصومات۔ حکومت ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں سب کی رعایت رکھی ہے فیصلہ خصومات میں بادشاہت بھی آجاتی ہے۔ چھٹے پارے میں فرمایا اذجعل فیکمانبیاء وجعلکم ملوکا۔ انبیا کا سلسلہ بھی ان میں بکثرت رہا اور بادشاہ بھی بہت ہوئے عمدہ اور نفیس روزی سے شاید من اور سلویٰ کی طرف اشارہ ہو یا ملک شام کے میوے اور وہاں کی برکات ہوں۔ اقوام عالم سے مراد اسی زمانے کی اقوام ہوسکتی ہے بہرحال نبوت کوئی تعجب کی چیز نہیں اب اگر محمد کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو اس پر کیوں تعجب کرتے ہو۔
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں دلائل عطا فرمائے تھے پھر انہوں نے صحیح علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد بحث میں باہم ایک دوسرے سے اختلاف کیا بیشک آپ کا رب قیامت کے دن ان کے مابین ان امور کا فیصلہ کردے گا جن میں یہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔

(17) اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں واضح دلائل اور کھلی باتیں عطا فرمائیں پھر انہوں نے صحیح علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد بحث میں باہم ایک دوسرے سے اختلاف کیا اور پھوٹ ڈال لی۔ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے مابین ان امور کا فیصلہ کردے گا جن میں یہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ واضح دلائل اور کھلی باتوں سے مراد شاید حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دیگر معجزات ہوں مثلاً دریا کا پھٹ جانا اور لکڑی مار کر پتھر سے پانی نکالنا وغیرہ پھر یہ آپس میں مختلف نہیں ہوتے مگر صحیح علم آجانے کے بعد اور وہ اختلاف بھی محض آپ کے حسد اور ضد بحث کی بنا پر اختلاف ڈالا اور ٹولیاں ٹولیاں بن گئے صحیح علم یعنی علم شریعت اور علم توریت حاصل ہونے کے بعد صرف اپنی ضد اور اپنے حسد کی بنا پر آپس میں پھوٹ ڈال لی۔ بہرحال اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے مابین کردے گا۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر اے پیغمبر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص راستے پر قائم کردیا سو آپ اسی راستے پر چلے جائیے اور ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلئے جو صحیح علم سے بہتر ہیں۔

(18) پھر اے پیغمبر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص راستے پر قائم کردیا اور آپ کو دین کے ایک راستے پر رکھا سو آپ اس راستے پر چلے جائیے اور ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلئے جو صحیح علم سے بےبہرہ اور جاہل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی نبوت کے دور کے بعد آپ کو نبی بنایا اور آپ کو دین کے ایک خاص طریقے اور خاص راستے پر رکھا یعنی شریعت دے کر بھیجا کہ آپ خود اس راستے پر چلیں اور دوسروں کو بھی اس شریعت کی تبلیغ کریں تو آپ اس شریعت پر قائم رہیے اور اس کی تبلیغ کرتے رہیے اور جاہلوں اور ان پڑھ لوگوں کا کہا نہ مانیے جو صحیح علم سے بےبہرہ اور کورے ہیں۔
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

کیونکہ یہ جہلا خدا کے مقابلے میں آپ کے کچھ کام نہ آسکیں گے اور جو ظالم ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کا رفیق و مددگار ہے۔

(19) کیونکہ یہ جہلا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے ذرا کام نہیں آسکتے اور بلا شبہ ظالم اور بےانصاف لوگ آپس میں ایک دوسری کے دوست ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ متقیوں اور پرہیزگاروں کا دوست اور رفیق ہے۔ یعنی یہ ظالم لوگ ناانصافی ان کا شیوہ ہے یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں یہ آپ کے دوست نہیں ہوسکتے کیونکہ آپ متقیوں کے سردار ہیں اور یہ جاہل اور ظالم اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کچھ کام نہیں آسکیں گے اور اللہ تعالیٰ چونکہ اہل تقویٰ کا رفیق اور کارساز ہے لہٰذا آپ اسی کی رفاقت پر اعتماد رکھیئے اور جو طریقہ آپ کو بتادیا ہے اس پر خود بھی چلئے اور دوسروں کو بھی اسی راستے چلنے کی ترغیب دیجئے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن عام لوگوں کے لئے ایک بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لئے جو اہل یقین ہیں یہ قرآن بہت بڑی رحمت ہے

(20) یہ قرآن عام لوگوں کے لئے ایک بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں یہ قرآن بڑی رحمت ہے۔ یعنی یہ قرآن دلائل واضحہ اور روشن دلیلوں سے لبریز ہے اور عام لوگوں کے لئے سوجھ بوجھ کی باتیں ہیں اور گمراہی کے مقابلے میں ہدایت اور راہ دکھانے والی ہے اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے بڑی مہر اور اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں یہ سمجھتے کہ ہم ان کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اس طرح برابر کردیں گے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے وہ بہت ہی برا حکم ہے جو یہ لگاتے ہیں۔

(21) کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں یہ سمجھتے ہیں اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ ہم ان کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اسی طرح برابر کردیں گے کہ ان کا اور ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے وہ بہت ہی برا حکم ہے جو یہ لگاتے ہیں۔ یعنی ایسا خیال کرنا ان کی حماقت ہے اور یہ فیصلہ بہت برا ہے دونوں کا مرنا جینا یکساں ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ گار جس طرح دنیا میں عیش کرتا رہا اسی طرح آخرت میں مرنے کے بعد بھی عیش کرے اور مسلمان جس طرح یہاں تکلیف اور تنگی اٹھاتا رہا اسی طرح آخرت میں بھی وہ تنگی اٹھائے یا یہ کہ مرتے وقت مسلمان کو جو بشارت دی جاتی ہے وہ بشارت برائی کرنے والوں کو بھی دی جائے یہ جو فرشتے کافروں کا مرتے وقت استقبال کرتے ہیں وہ معاذ اللہ مومنوں کی بھی جان قبض کرتے وقت آئیں یہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ اس آیت کا تعلق دوبارہ زندہ ہونے سے ہے یعنی ظالموں گناہگاروں اور معصیت پیشہ لوگوں نے یہ لوگوں نے یہ مسجھ رککھا ہے کہ اہل ایمان اور عمل صالح کے پابند اور ظالم وگناہگار سب کو ہم برابر کردیں گے زندگی میں بھی کوئی مواخذہ نہیں اور مرنے کے بعد بھی کوئی سزا اور جزا نہ ہوگی۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے بلکہ ایک دن ایسا ہونا چاہیے جس دن نیکوں کا صلہ دیا جائے گا اور بروں کو سزا دیجائے اور اسی دن کو قیامت کہتے ہیں اور اس کا آنا ضروری ہے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ یہ کافروں کا اس قول کا جواب ہے جو وہ کہا کرتے تھے کہ اگر قیامت آئی بھی تو ہم کو وہاں بھی فائدہ ہوگا اور ہم کو عیش ملے گا۔ یہ اس خیال کا رد فرمایا کہ ایسا نہیں ہوگا کہ بدکردار اور نکوکار یکساں کردیئے جائیں اور ان کی موت اور دوسری زندگی میں کوئی فرق نہ ہو ایسا فیصلہ اور ایسا دعویٰ کرنا بہت برا ہے۔ مفسرین نے اور بھی کئی طرح اس آیت کے معنی کئے ہیں ہم نے آسان اور عام فہم تفسیر اختیار کی ہے۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور اس لئے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلا دیا جائے اور لوگوں پر کسی قسم کا نہیں کیا جائے گا۔

(22) اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور جیسا بنانا چاہیے تھا ویسا بنایا اور اس لئے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلا دیاجائے گا اور لوگوں پر کسی قسم کا ظلم اور زیادتی نہیں کی جائے گی یعنی آسمان و زمین کا پیدا کرنا حکمت اور کمال تدبیر پر مبنی ہے تاکہ اس کی قدرت اور اس کی توحید پر استدلال کیا جاسکے اور قدرت علی البعث پر استدلال ہوسکے اور تاکہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلا دیا جاسکے اور چونکہ دنیا میں پورا بدلہ ملنے کی صورت نہیں اس لئے بعث یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونا ضروری ہے اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پھل ملنا ضروری ہے۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا مخلوق کی معیشت کے لئے تھا اس لئے ان کو کمال حکمت کے ساتھ بنایا پھر جب مخلوق یہاں زندگی گزارے گی تو ان میں اچھے بھی ہوں اور برے بھی ان کے لئے کوئی مقرر ہونا چاہیے ۔ لہٰذا یہی آسمان و زمین اس پر دلالت کرتے ہیں کہ بدلے کا دن کوئی اور ہوگا اور اس دن آسمان و زمین کی یہ شکل نہ ہوگی آخر میں اس دن کے لئے ظلم کی نفی فرمائی۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

اے پیغمبر بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا بنارکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم صحیح کی بنا گر گمراہ کررکھا ہے اور اس کے کان پر اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے پھر اب خدا کے بعد اس گم کردہ راہ کی کون رہنمائی کرسکتا ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے۔

(23) اے پیغمبر بھلا آپ نے اس شخص کی حالت کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا اور اپنا معبود بنارکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم صحیح کی بنا پر بےراہ اور گمراہ بنا رکھا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر کردی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے پھر اب اللہ تعالیٰ کے بعد اس گم کردہ راہ کی کون رہنمائی کرسکتا ہے تو کیا پھر بھی تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے۔ یعنی باوجود ان دلائل واضحہ کے جو ہم نے توحید پر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر بیان کئے ہیں آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جسنی اپنی خواہش نفسانی کو معبود بنا رکھا ہے مطلب یہ ہے کہ نفسانی خواہش کا ایسا فرمانبردار ہے جس طرح معبود کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جاتی ہے اس معاند اور منکر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم صحیح کی بنا پر گمراہ کردیا ہے اور اس کے کان پر اور اس کے دل پر مہرلگادی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی استعداد کی خربی کا حال جانتے ہوئے اس کو بےراہ کردیا اور اس کو گمراہ رکھا۔ مہر کا اور پردے کا مطلب یہ ہے کہ کانوں سے سماع حق دل سے قبول اور آنکھوں سے حق کو دیکھنے کی صلاحیت ہی سلب کرلی سنتا ہے دیکھتا ہے سمجھتا ہے مگر قبول کرنے کی توفیق نہیں ہوتی یعنی کفر کے مرض نے اتنا گھیر لیا کہ اب مریض پر کوئی دوا ہی اثر نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اپنے علم ازلی سے اس کی شقاوت اور سوء مزاج کو جانتا تھا اور اس کو معلوم تھا کہ یہ نیکی کی طاقت کو پامال کرکے بدی اختیار کرے گا۔ بعض لوگوں نے علی علم کو مفعول کا حال بنایا ہے یعنی باجود سمجھ بوجھ کے اس کو بےراہ رکھا۔ یعنی منکر اور معاند سمجھتے بوجھتے پھر غلط راستے پر پڑگیا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو کھو بیٹھا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس کو بےراہی اور گمراہی پر چھوڑ دیا۔ ہم نے سورة بقرہ کی تسہیل میں اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے۔ اگر کسی نالائق بندے کی سرپرستی اور ہدایت سے اللہ تعالیٰ ہی ہاتھ اٹھالے تو اس کو ہدایت کہاں سے نصیب ہوسکتی ہے کیا تم یہ باتیں سن کر نصیحت قبول نہیں کرتے اور سمجھتے نہیں یعنی ایسا سمجھناجو تمہارے لئے نفع بخش ہو۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور یہ قیامت کے منکر یوں کہتے ہیں کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں ہے ہم یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو کوئی نہیں مارتا مگر زمانہ اور ان منکروں کے پاس اپنے اس کہنے پر کوئی دلیل نہیں ہے یہ لوگ محض خیالی باتیں کیا کرتے ہیں۔

(24) اور یہ منکرین قیامت یوں کہتے ہیں کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں ہم یہیں ایک مرنا مرتے ہیں اور ایک جینا جیتے ہیں اور ہم کو نہیں مارتا اور نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ اور ان منکروں کے پاس اپنے اس کہنے پر کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض خیال اور اٹکل کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دوسری زندگی کے قائل نہیں ہیں اس لئے دعویٰ کرتے ہیں کہ بس یہی دنیا کی زندگی سے پیدا ہوئے جئے اور مرگئے اس سے زیادہ کچھ نہیں اور ہمارا مرنا بھی کیا مرور زمان کی وجہ قوی مضمحل ہوئے اور مرگئے تو گردش زمانہ ہم کو ماردیتی ہے۔ یہ قول ان کا قائم مقام دلیل کے تھا گویا اپنے جینے اور مرنے پر یہ جملہ بطور دلیل پیش کیا کہ یہاں کا مرنا گردش زمانہ سے ہے۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں محض اٹکل کی باتیں کرتے ہیں اور امور طبعیہ پر موت وحیات کا محول کرتے ہیں چونکہ حیات ثانیہ کے اسباب ان کی سمجھ میں نہیں آتے اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی زمانہ نام ہے دہر کا وہ کچھ کام کرنے والا نہیں مگر کسی اور چیز کو کہتے ہیں جو معلوم نہیں ہوتی اور دنیا میں تصرف اس کا چلتا ہے پھر اللہ ہی کو کیوں نہیں کہیں اس معنی پر حدیث میں آیا کہ دہر اللہ ہے اس کو برا نہ کہیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے خوب بات فرمائی کہ زمانہ خود متصرف نہیں بلکہ متصرف تو کوئی اور پوشیدہ طاقت ہے لوگ زمانے کو کبھی اچھا کبھی برا کہتے ہیں۔ حدیث میں زمانے کو برا کہنے کی ممانعت فرمائی اور فرمایا جس کو تم زمانے کا اثر سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا اثر ہے اس لئے وہی زمانہ ہے۔ بہرحال بعض حضرات نے یہاں بہت سے بحثیں کی ہیں، تناسخ کے مسئلے کو بھی چھیڑا ہے صور نوعیہ کا فاعل ہونا اور ہیولی کا قابل ہونا اس قسم کی بہت سی بحثیں کی ہیں لیکن ہم نے صرف آیت کا عام فہم مطلب عرض کردیا ہے اصل بحث دوسرے زندگی کی ہے منکروں کی طرف سے اس کا انکار ہے اللہ تعالیٰ ان کے خیالات کو ظن فرماتا ہے اور صحیح علم اور صحیح سند اور صحیح دلیل سے ان کو عاری فرماتا ہے اور ان سے دلیل کی نفی بیان کرتا ہے۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے روبرو ہماری کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے پاس سوائے کٹ حجتی کے اور کوئی جواب نہیں ہوتا کہ یوں کہتے ہیں اچھا اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے لے آئو۔

(25) اور جب ان کے روبرو ہماری کھلی کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے پاس سوائے اس کٹ حجتی کے اور کوئی جواب نہیں ہوتا اور ان کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں ہوتا کہ یوں کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے لے آئو۔ وہی بات جو سو رہ دخان میں گزر چکی ہے ہمارے بڑوں کو زندہ کر لائو۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے اللہ ہی تمکو زندگی بخشتا ہے پھر وہی تم کو موت دے گا پھر وہی تم سب کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذراشک نہیں ہے جمع کرے گا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

(26) آپ ان سے فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی تم کو زندگی عطا کرتا ہے تم کو زندہ رکھتا ہے پھر وہوی تم کو موت دیتا ہے پھر وہی تم سب کو قیامت کی دن جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے جمع کرے گا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ یعنی مسلمانوں سے ایسا مطالبہ کرنا مہمل ہے زندگی عطا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جب چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے زندگی دیتا ہے جب تک چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے اور جب چاہتا ہے موت دیتا ہے اور ماردیتا ہے پھر وہ قیامت کے دن جس کا وقوع ہر قسم کے شک سے پاک ہے تم سب کو جمع کرے گا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے یعنی نہ اللہ کی قدرت کے قائل ہوتے ہیں اور نہ دلیل کو سمجھتے ہیں زندگی اور موت کا مالک وہ ہے اسی کے اختیار میں زندگی ہے اسی کے اختیار میں موت ہے اسی کے اختیار میں قیامت کے دن سب کو جمع کرنا ہے اور یہی سچے مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں میں اور زمین میں اللہ کی سلطنت ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن اہل باطل سخت گھاٹے میں رہیں گے۔

(27) اور آسمانوں میں اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت اور اس کا راج ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اور قیامت اٹھے گی اس دن اہل باطل سخت گھاٹے میں رہیں گے۔ اہل باطل یعنی منکر اور جھوٹے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ہر فرقہ کو گھٹنوں پر سر ڈالے ہوئے دیکھیں گے ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا کہا جائے گا کہ آج تم کو ان اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

(28) اور اے پیغمبر آپ ہر فرقے کو گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دیکھیں گے ہر فرقہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا کہا جائے گا کہ آج تم کو ان اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ جاشیہ سرجھکا کردوزنو بیٹھنا یعنی ہر شخص دوزانو سرجھکائے ہوئے ہوگا زانو پر بیٹھنا داد خواہ کی بیٹھک کے بل گرے رہیں گے۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ نامہ اعمال ہماری کتاب ہے جو تمہارے مقابلہ میں حقیقت واقعیہ کو ظاہر کررہی ہے کیونکہ تم جو اعمال کرتے تھے ان کو ہم لکھواتے جاتے تھے۔

(29) یہ نامہ اعمال ہمارا لکھوا ہوا دفتر اور کتاب ہے جو تمہارے مقابلے میں حقیقت واقعیہ کو ظاہر کررہی ہے اور تم پر ٹھیک ٹھیک بولتی ہے اور سچ سچ اظہار حقیقت کرتی ہے کیونکہ تم جو اعمال کیا کرتے تھے ان کو ہم لکھواتے جاتے تھے۔ یعنی ہر شخص کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلاکر یہ فرمائیں گے یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے مقابلے میں صحیح صحیح بات بتائے گی کیونکہ تمہارے تمام اعمال اس میں مکتوب و محفوظ ہیں۔ نستنسخ ہم ثابت رکھتے ہیں ہم لکھواتے تھے ہم محفوظ رکھتے تھے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال کئے تھے ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا یہ رحمت میں داخل کرلینا کھلی ہوئی کامیابی ہے۔

(30) سو جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال بھی کئے تھے ان کو ان کا پروردگار اپنی مہر اور اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہ رحمت میں داخل کرلینا کھلی ہوئی کامیابی ہے۔ یعنی رحمت میں داخل فرمالینا اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوسکتی ہے یہی بڑی مراد تھی جو حاصل ہوگئی۔
Ayah 45:31

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر کرتے رہے ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم نے ان سے تکبر کیا اور تم بڑے ہی گنہگار لوگ تھے۔

(31) اور جو لوگ کفروانکار کرتے رہے ان سے کا جائے گا کیا تم کو میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم نے ان کے قبول کرنے سے غرور اور تکبر کیا اور تم بڑے ہی گناہ گار لوگ تھے۔ یعنی جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا تھا ان سے کہا جائے گا کیا یہ نہیں ہوا کہ میری آیتیں تم کو سنائی گئیں سو تم نے ان کے قبول کرنے سے تکبر کیا اور یہ تمہارابہت بڑا جرم تھا اور اس وجہ سے تم مجرم اور جرائم پیشہ لوگ تھے۔
Ayah 45:32

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے وقوع میں ذرا شک نہیں ہے تو تم کہا کرتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہاں ہم کو صرف یونہی ایک ہلکا ساخیال تو ہوتا ہے مگر ہم کو اس کے ہونے کا یقین نہیں ہے۔

(32) اور جب تم سے کا جاتا تھا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے اور قیامت کے وقوع اور اس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے تو تم کہا کرتے تھے ہم نہیں جانتے اور ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت کیا چیز ہے ہاں ہم کو صرف یوں ہی ایک ہلکا سا خیال تو ہوتا مگر ہمکو اس کے ہونے کا یقین نہیں ہے اور ہم کو اس کا یقین نہیں ہوتا۔ یعنی ہم کو مسلمانوں کے کہنے سننے سے ایک وہم سا ہوتا ہے لیکن ہم کو اس قیامت کا یقین نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کے وعدے کا یقین نہیں پھر قیامت کا یقین نہیں تو گویا دوبارازندہ ہونے اور سزا اور جزا کا یقین نہیں ہے اور یہی کفر صریح ہے۔
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جو اعمال انہوں نے کئے تھے ان سب اعمال کی برائیاں ان کے سامنے ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی عذاب ان کو آگھیرے گا۔

(33) اور جو اعمال انہوں نے کئے تھے ان سب اعمال کی برائیاں ان کے سامنے ظاہر ہوئیں اور کھل گئیں اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور ہنسی کیا کرتے تھے اسی عذاب نے ان کو گھیر لیا۔ یعنی براے اعمال کی سزائیں ظاہر ہوگئیں یا برے اعمال ظاہر ہوگئے اور جس عذاب کا ٹھٹھا کیا کرتے تھے اور مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے آگھیرا اور وہی عذاب ان پر الٹ پڑا۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہ جائے گا کہ جس طرح تم نے اپنے اس دن کے سامنے آنے کو فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج ہم بھی تم کو فراموش کردیں گے اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی بھی مددگار نہیں۔

(34) اور ان دین حق کے منکروں اور جرائم پیشہ لوگوں سے کہا جائیگا کہ جس طرح تم نے اپنے اس دن کی ملاقات اور اس دن کے سامنے آنے کو فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج بھی تم کو فراموش کردیں گے اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی بھی مددگار نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دن کے آنے کو تم نے فراموش کررکھا تھا اسی طرح آج ہم تم سے ایسا معاملہ کریں گے جیسے بھولے ہوئے آدمی سے کہا جاتا ہے۔ حضرت حق تعالیٰ کے فراموش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم کو رحمت سے محروم کردیں گے تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور جب خدا کی رحمت سے محروم کردیئے گئے تو ہر قسم کی مدد اور ہر قسم کے مدد کرنے والوں سے بھی محوم آخری ٹھکانا جہنم قرار پائے گا اور ان کا کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ عذاب اس لئے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑایا تھا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ اس آگ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے یہ خواہش کی جائیگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں۔

(35) یہ سزا تم کو اس لئے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑایا اور اس کی باتوں سے ٹھٹھا کیا اور تم کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا لہٰذا آج یہ کفر پیشہ لوگ نہ تو اس آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے یہ خواہش کی جائیگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں۔ یعنی قیامت میں عذاب تم پر اس لئے کیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے احکام کی ہنسی اڑایا کرتے تھے دنیوی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال دیا تھا تم دنیوی زندگی کی حقیقی اور دائمی زندگی سمجھا کرتے تھے دوسری زندگی کا یقین نہ کرتے تھے بس آج کی دن نہ تو یہ لوگ دوزخ سے کبھی نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کے راضی اور خوش کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا بہرحال اعتقاد اور عمل کے کفر کا یہ انجام ہوا آگے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی بڑائی پر سورت ختم ہوتی ہے۔
Ayah 45:36

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور پروردگار ہے زمین کا اور پروردگار ہے تمام عالموں کا۔

(36) پس تمام خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو پروردگار اور مالک ہے آسمانوں کا اور مالک و پروردگار ہے زمین کا اور پروردگار ہے تمام عالموں کا۔ یعنی تمام آسمانوں و زمین اور گوناگوں عالموں کا وہی پیدا کرنے اور ایجاد کرنے والا ہے اور وہی سب کو باقی رکھنے والا اور سنبھالنے والا ہے۔
Ayah 45:37

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں میں اور زمین میں ہر قسم کی بڑائی اسی کے لئے ہے اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

(37) اور اسی کی بزرگی اور بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی بڑائی اور اسی کی بزرگی کا ظہور ہورہا ہے وہ زبردست قوت والا ہے انتقام لینے میں اور اپنے احکام کی حکمت اور مصالح کو خوب جانتا ہے۔ تم تفسیر سورة الجاثیہ