Ayah 44:2(2) قسم ہے اس واضح اور صاف بیان کرنے والی کتاب کی - اپنے معنی اور مفہوم میں واضح ہے یا حق و باطل کو الگ لگ کرنے والی ہے یا حلال و حرام کو صاف صاف اور واضح طور پر بیان کرنے والی ہے۔
Ayah 44:3(3) ہم نے اس کتاب کو ایک بڑی برکت والی رات میں نازل فرمایا کیونکہ ہم لوگوں کو کہہ سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تھے۔ یعنی ہم نے اس کتاب کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا اور وہاں سے وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نبی کریم ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔
برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے اور لیلۃ القدر کو برکت والی رات فرمایا چونکہ اس رات کو دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ امت محمدیہ ﷺ پر خاص توجہ فرماتا ہے فرشتوں کا نزول ہے آخر میں نزول قرآن کی علت فرمائی کہ ہماری شفقت و مہربانی کا تقاضا یہ تھا کہ ہم اپنے بندوں کو خیر اور شر سے آگاہ کردیں تاکہ وہ نقصان کی چیزوں سے بچیں اور نفع کی چیزوں پر عمل کریں۔ بعض حضرات نے برکت والی رات سے لیلۃ البرات مراد لی ہے یعنی شعبان کی پندرھویں شب کیونکہ اس رات میں سال بھر کے ہونے والے تمام امور طے کیے جاتے ہیں لیکن جمہور کا قول وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ دستور رہا ہے رات برکت کی شب قدر ہے جیسے انا انزلنا میں فرمایا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعات تو شب قدر میں لکھے جاتے ہیں لیکن شب برات میں دیئے جاتے ہیں اس طرح شاید دونوں قول جمع ہوسکتے ہیں کما قال ابن عباس ؓ بلا سند۔
Ayah 44:4(4) اس برکت والی رات میں ہر مبنی برحکمت کام طے کردیا جاتا ہے۔ یعنی ہر معاملہ میں جو حکمت کا مقتضی ہے اور مبنی برحکمت ہے اس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے امر کے ساتھ جو حکیم کی قید لگائی وہ واقعی ہے یعنی ہر کام حکمت والا ہے آگے طے ہونے اور فیصلہ ہونے کی شکل بیان فرمائی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جدا ہوتا ہے یعنی لوح محفوظ میں سے جدا کرکے اس کام والوں کو لکھ دیتے ہیں۔
Ayah 44:5(5) فیصلہ کیا جاتا ہے اس حکم کے مطابق جو حکم ہماری جناب سے صادر ہوتا ہے بیشک ہم ہی پیغمبروں کو یا فرشتوں کو بھیجنے والے ہیں۔ یعنی یہ ککام جو جدا کئے جاتے ہیں اور ان کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ ہمارے اس روزی اچھی بری شہرت موت اور بیماری حج کو جانا، باغ لگانا، مکان بنانا وغیرہ کا اجمالی فیصلہ ملائکہ کے سپرد کردیاجاتا ہے اور وہ فرشتے اپنے اپنے مفوضہ کاموں کو حسب ہدایت انجام دیتے رہتے ہیں اور ان فیصلوں کا اجمالی علم ملائکہ کو حاصل رہتا ہے ہم بھیجنے والے ہیں یعنی رسولوں کو یا فرشتوں کو یا احکام کو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فرشتوں کو ہر کام پر۔ آگے قرآن کے نازل کرنے اور آپ کو پیغمبر بناکر بھیجنے کیوجہ مذکور ہے۔
Ayah 44:6(6) بوجہ آپ کے پروردگار کی رحمت کے بیشک وہ بڑا سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی یہ قرآن کا نازل فرمانا اور خیر و شر سے مطلع کرنا اور آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجنا یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کے سبب ہے کہ اس کی رحمت کا یہ مقتضا ہے کہ بندوں کو ہر بات سے آگاہ کردیا جائے اور پیغمبر کو بھیج کر ان کو ان کا انجام سمجھا دیا جائے اور ان کو عمل کرنے کے لئے احکام کی ایک مکمل کتاب دی جائے تاکہ وہ تاریکی میں نہ رہیں اور قیامت میں یہ نہ کہیں لو لا ارسلت الینا رسولا یہ حضرت حق تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے ابتداء آفرینش سے یہ سلسلہ جاری کیا اور خاتم البنیین ﷺ تک اس سلسلہ کو پہنچایا بیشک وہ اپنی تمام مخلوق کی باتوں کو سنتا اور ان کے تمام احوال کو جانتا ہے۔
Ayah 44:7(7) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کا مالک ہے اور اگر تم یقین رکھتے ہو۔ یعنی وہ پروردگار ہے تمام مخلوقات کا اگر تم کو اس کا یقین ہے جیسا کہ تم اے اہل مکہ اس کو جانتے ہو تو تم اس امر کا بھی یقین کرو کہ محمد ﷺ اسی کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔
Ayah 44:8(8) سوائے اس کے کوئی دوسرا لائق عبادت نہیں وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے وہی تمہارا پروردگار ہے اور وہی تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے۔ یعنی اس کے سوا کوئی مستحق عبادت بھی نہیں اور اس کے سوا کوئی مالک حقیقی اور پروردگار بھی نہیں۔
Ayah 44:9(9) اصل بات یہ ہے کہ یہ دین کے منکر شک میں مبتلا ہیں کھیل میں مشغول ہیں۔ یعنی یہ کسی بات کے قائل نہیں جو کچھ کہتے ہیں استہزاء کہتے ہیں خود شک میں مبتلا ہیں اور آپ سے مذاق کرتے ہیں۔
Ayah 44:10(10) سواے پیغمبر آپ ان کے لئے ایک ایسے دن کا انتظار کیجئے جس دن آسمان ایک صاف اور ظاہر دھواں لے آئے۔
Ayah 44:11(11) جو ان سب لوگوں کو گھیر لے گا اور ان سب کے لئے عام ہوگا یہ دھواں ایک دردناک عذاب ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب کفار قریش نے دل آزاری اور کفر نوازی اور اسلام دشمنی کے مختلف طریقے اختیار کئے تو نبی (علیہ السلام) نے ان پر قحط کی بددعا کی اور فرمایا جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قحط ہوا تھا ایسا ہی ان پر قحط بھیج۔
چنانچہ خشک سالی شروع ہوئی ادھر ثماثہ جو یمامہ کے رئیس تھے جب وہ مسلمان ہوئے تو کفار قریش نے ان پر ملامت کی اور انہوں نے یمامہ کا غلہ روک لیا چناچہ قریش سخت قحط میں مبتلا ہوگئے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ مردوں کی قبر سے ہڈیاں نکال کر اور ان کو پیس کر کھانے لگے چونکہ بھک کی حالت میں آنکھوں کے آگے ایک غبار اور دھواں سا ہوجاتا ہے اس حالت کی طرف اشارہ فرمایا۔
جب یہ لوگ زیادہ پریشان ہوئے تو نبی کریم ﷺ سے التجاء کی اور دعا کی درخواست کی اور یہ وعدہ کیا کہ ہماری یہ مصیبت اگر ٹل جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے ابوسفیان نے بھی اور دوسرے رئوسا قریش نے بھی آپ ﷺ کو لکھا کہ بارش کے لئے دعا کریں اور ثمامہ کو بھی لکھیں کہ وہ یمامہ سے غلہ مکہ میں آنے دے۔
ان آیتوں میں اسی غبار اور دھوئیں کا ذکر ہے جو قحط کی وجہ سے ان پر ظاہر ہوا۔ یہ تمام مضمون بطور پیش گوئی کے ارشاد فرمایا ہے صاحب روح نے اس کو راجح فرمایا ہے عبداللہ ابن مسعودفرمایا کرتے تھے جتنی باتیں نبی کریم ﷺ نے فرمائی تھیں وہ سب باتیں ہم نے دیکھ لیں سوائے چار چیزوں کے آفتاب کا مشرق سے طلوع ہونا……دجال کا نکلنا اور دابتہ الارض اور یاجوج ماجوج اور جس دھویں کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ قحط کے دنوں میں دیکھ لیا کہ ہر کافر کی آنکھوں کے آگے بھوک کے مارے دھواں نظر آتا تھا اور بطشت یعنی پکڑ دہکڑ بھی بدر کی لڑائی میں ہوچکی انہی آیتوں کے متعلق دوسرا قول حضرت علی ؓ کا ہے کہ یہ دھواں قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا کافروں کے کانوں میں یہ دھواں گھسے گا۔ اور مومنوں کو صرف اس سے زکام ہوگا اور کافروں کا دماغ اس دھوئیں سے خشک ہوجائے گا اور زمین ایک جھلسے ہوئے مکان کی طرح ہوجائے گی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ اس دھوئیں کو علامات قیامت میں سے شمار کرتے تھے بہرحال ان دونوں صحابہ ؓ کے اقوال کی روشنی میں ان آیات کی تفسیر کو سمجھنا چاہیے چناچہ اس دھوئیں کے وقت لوگوں کی یہ حالت ہوگی کہ یوں کہیں گے۔
Ayah 44:12(12) اے ہمارے پروردگار ہم سے اس آفت کو دور کردے اور اس قحط کو ہٹالے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ یعنی اس بھوک اور قحط کے دور ہوتے ہی ہم ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 44:13(13) ان کو نصیحت کہاں ملے اور بھلا ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے حالانکہ ان کے پاس ایک رسول آچکا جس کی شان رسالت نمایاں ہے ایسارسول جو صاف صاف بیان کرنے والا ہے۔ یعنی ان کو نصیحت کہاں میسرہوسکتی ہے جن کی حالت یہ ہے کہ ان کے پاس ایک ایسا رسول آیا جو واضح البیان اور اپنی شان میں نمایاں اور ظاہر ہے۔
Ayah 44:14(14) پھر انہوں نے اس رسول سے روگردانی کی اور سرتابی کرتے رہے اور کہنے لگے یہ کسی بشر کا سکھایا ہوا ہے اور دیوانہ ہے۔ یعنی ایسے واضح الشان رسول سے سرتابی کرتے رہے اور اس وہ الزام لگائے ایک تو یہ کسی بشر نے اس کو سکھا دیا ہے اور دوسرا الزام یہ کہ یہ دیوانہ اور پاگل ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دھوئیں کا مذکور ہے کہ اس وقت سمجھنا کام نہیں آتا قیامت میں دھواں گھیرلے گا نیک آدمیوں کو زکام سا ہوگا اور بد کو سر میں چڑھے گا بےہوش ہوکر گرپڑے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا مبنی غالباً حضرت علی کرم الہ وجہہ کا قول ہے۔
Ayah 44:15(15) ہم چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے مگر تم پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ جائو گے۔ یعنی ہم اس عذاب کو تھوڑے دنوں کے لئے دور کردیں گے مگر تم پھر کفر کی طرف لوٹ جائو گے یا یہ مطلب کہ پھر عذاب کی طرف لوٹ جائو گے اور پھر عذاب میں مبتلا کردیئے جائو گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت سے اور ثمامہ کو لکھنے سے یمامہ کا غلہ کھل گیا کئی دن تک بارش کا سلسلہ جاری رہا قحط دور ہوا، اس کے بعد ان کے کفروعناد اور استکبار میں اور ترقی ہوگئی اور پیغمبر کی دشمنی اور بڑھ گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عادات یوں ہی ہے۔
خلاصہ : یہ کہ منکروں کی عادت یہی ہے کہ عذاب کو دیکھ کر چیخ و پکار کرتے ہیں۔ عذاب ہٹ جاتا ہے تو پھر کفر کا مظاہرہ کرتی ہیں جیسا کہ کشتی میں بیٹھ کر اس کا بارہا تجربہ ہوچکا ہے کہ طوفان کے وقت موحد اور طوفان سے نجات پانے کے بعد مشرک۔
Ayah 44:16(16) جس روز ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو اس روز ہم پورا بدلہ لیں گے۔ یہ پیشین گوئی بدر میں پوری ہوئی اور کافروں سے پورا انتقام لیا گیا ہوسکتا ہے کہ یہ وعید قیامت کے دن کے لئے ہو کہ اس دن پوری طرح بدلہ لے لیا جائے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آٓخرت کا عذاب نہیں ٹلتا۔
خلاصہ : یہ کہ بڑی پکڑ پکڑنا اگر دنیوی عذاب کی طرف اشارہ ہے تو بدر میں منکرین مکہ کی کافی ذلت و رسوائی ہوئی اور خوب انتقام لیا گیا اور اگر یہ پکڑ آخرت کی ہے تو ظاہر ہے کہ نہ وہ عذاب ٹلنے والا ہے اور دنیا کے عذاب سے بہت زیادہ رسوا کن ہے۔ اللھم اجرنا منہ۔
Ayah 44:17(17) اور بلاشبہ ہم نے ان لوگوں سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز اور گرامی قدر رسول پیغام لے کر آیا تھا۔
Ayah 44:18(18) کہ تم ان اللہ تعالیٰ کے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے اور میرے سپرد کردو میں تمہاری طرف اللہ کا فرستادہ ہوں اور معتبر اور امانت دار ہوں۔
Ayah 44:19(19) اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور چڑھے نہ جائو میں تمہارے لئے اور تمہارے روبرو ایک واضح دلیل اور کھلی سند اور حجت ظاہرہ پیش کرتا ہوں۔ یعنی فرعون کی قوم کا بھی امتحان لیا جاچککا ہے اور وہ امتحان یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس تشریف لائے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے سپرد کردو ان پر ظلم نہ کرو اور ان کو قیدی نہ بنائو بلکہ مجھ کو اجازت دو کہ میں ان کو اپنے ہمراہ جہاں چاہوں لے جائوں میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور امانت دار ہوں تم اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور سر نہ اٹھائو میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر ہونے کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی کھلی دلیل لے کر آیا ہوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بنی اسرائیل کو رخصت کرو۔
Ayah 44:20(20) اور میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی اس بات سے پناہ پکڑتا ہوں کہ تم مجھ کو سنگسار کرو۔ تمہارا اور میرا پروردگار یعنی جو حقیقتاً ایک ہی ہے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ موسیٰ کے رب کو اپنا رب نہیں سمجھتے تھے بلکہ فرعون کو رب کہا کرتے تھے۔
رحم اور سنگساری کا مطلب یہ ہے کہ تم مجھ کو قتل کرو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ تم کو مجھ پر قابو حاصل ہوسکے اور پتھروں سے مار کر یا کسی اور طریقے سے قتل کردو جیسا کہ سورة مومن کے تیسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ ذرونی اقتل موسیٰ ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید وہ ڈراتے ہوں گے اس سے۔
Ayah 44:21(21) اور اگر تم میرا یقین نہیں کرتے تم مجھ سے الگ ہی ہوجائو۔ یعنی مجھے ایذانہ پہنچائو اور میرا راستہ نہ روکو اور میرے کام میں دخل نہ دو ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کو لے جائوں تم راہ نہ روکو۔ باوجود اس کہنے کہ فرعون کی قوم اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہ آئی تب حضرت موسیٰ نے جناب باری میں عرض کیا۔
Ayah 44:22(22) آخر کار موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ بڑے ہی گنہگار ہیں۔ یعنی اب ان کا فیصلہ فرمادیجئے۔
Ayah 44:23(23) اس پر ارشاد ہوا موسیٰ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جا بلا شبہ تمہارا تعاقب اور تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
Ayah 44:24(24) اور دریا کو سکون اور ٹھہری ہوئی حالت پر چھوڑ جا کیونکہ ان فرعونیوں کا پورا لشکر غرق ہونے والا اور ڈوبنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ تو راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جا۔ تمہارا تعاقب ہوگا تم کو دریا ساکن ملے گا اور راستے بنے ہوئے ملیں گے تم گزر جانا اور دریاکو اپنی حالت پر چھوڑ جانا یعنی کوئی تشویش اور فکر نہ کرنا کیونکہ فرعونیوں کے تمام لشکر کا ڈبویا جاتا مقصود ہے آگے مختصر سی تفصیل ہے۔
Ayah 44:25(25) وہ لوگ کتنے ہی باغ اور کتنے ہی چشمے۔
Ayah 44:26(26) اور کتنی ہی کھیتیاں اور عمدہ عمدہ مکان۔
Ayah 44:27(27) اورکتنے ہی وہ سامان تنعم اور سامان عیش و آرام جن میں وہ مزے کیا کرتے تھے اور باتیں بنایا کرتے تھے سب چھوڑ گئے۔
Ayah 44:28(28) ہم نے اسی طرح کیا اور ہم نے ان سب چیزوں کا وارث ایک دوسری قوم کو بنادیا۔ یعنی فرعونی غرق کردیئے گئے اور کتنے ہی باغات اور چشمے اور کھیتیاں اور محلات اور بڑی بڑی کوٹھیاں اور بارہ دریاں اور سامان عیش و عشرت جن میں وہ بیٹھ کر مزے اڑاتے تھے سب چھوڑ گئے اور یہ تمام سامان دوسروں کے قبضے میں آگیا۔ یعنی بنی اسرائیل اس سب کے وارث ہوگئے یہ دوسری بات ہے کہ اسی حادثے کے بعد بنی اسرائیل وارث ہوئے یا کچھ عرصے کے بعد زمین مصر کے وارث ہوئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بنی اسرائیل کو جیسا کہ سورة شعراء میں ہے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے غرق ہوئے پیچھے بنی اسرائیل کا دخل ہوا مصر میں۔ یعنی تصرف کا حق ہوگیا اور تمکین فی التصرف حاصل ہوگیا خواہ واپسی کچھ دنوں کے بعد ہوئی بہرحال مصر کے اندرونی معاملات میں دخل ہوگیا اس مسئلے میں بعض مفسرین میں اختلاف تھا جیسے حضرت حسن اور حضرت قتادہ حمہا اللہ تعالیٰ ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) کے لفظ دخل نے دونوں قولوں کو جمع کردیا۔
Ayah 44:29(29) پھر ان لوگوں پر نہ تو آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو کوئی مہلت دی گئی۔ یعنی فرعونیوں کی تباہی پر نہ آسمان و زمین کو کوئی رنج ہوا اور نہ ان کو کی قسم کی مہلت دی گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حدیث میں فرمایا ہے کہ مسلمان کے مرنے پر روتا ہے درازہ آسمان کا جس سے اس کی روز اترتی تھی اور زمین جہاں وہ نماز پڑھتا تھا۔ یہ چونکہ نہ مسلمان تھے اور نہ نماز پڑھتے تھے اس لئے آسمان و زمین کو بھی ان سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔
Ayah 44:30(30) اور بلا شبہ ہم نے بنی اسرائیل کو اس ذلیل کن عذاب سے نجات دی۔
Ayah 44:31(31) جو فرعون کی جانب سے ہوتا تھا وہ فرعون واقعی بڑا سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔ یعنی متکبر بھی تھا اور ظلم بھی کرتا تھا اور حد عبودیت سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔
Ayah 44:32(32) اور بلا شبہ ہم نے جان بوجھ کر اور اپنے علم و حکمت کی رو سے بنی اسرائیل کو اقوام عالم پر فوقیت و فضیلت عطا فرمائی اخترنھم کے اصل معنی تو پسندیدہ فرمانا اور پسند کرنا ہے۔ مگر ہم نے فوقیت اور فضیلت کردیا ہے حضرت حق کی پسندیدگی اور پسند فرمانا دلیل ہے۔
فوقیت اور فضیلت کی اور یہ معنی وانی فضلتکم علی العالمین کے موافق اور مطابق ہیں اقوام عالم سے مراد اس زمانے کی اقوام ہیں جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں عرض کرچکے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگرچہ ان میں یعنی بنی اسرائیل میں برائیاں بھی معلوم ہوتی تھیں۔
Ayah 44:33(33) اور ہم نے ان بنی اسرائیل کو ایسی نشانیاں عطا فرمائیں جن میں کھلا ہوا انعام یا کھلا ہوا امتحان تھا یعنی بنی اسرائیل کو بڑی بڑی نشانیاں دیں۔ مثلاً فرعون کے مظالم سے نجات اور اسی قسم کی نشانیاں جو حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہیں جو معجزات بھی تھے اور دلائل توحید بھی۔ یہ نشانیاں انعامات اور اللہ تعالیٰ کی مدد تھیں اور ہوسکتا ہے بنی اسرائیل کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ان انعامات پر شکر بجا لاتے ہیں یا کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس لئے بلوء کے دونوں معنی کئے گئے ہیں انعامات اور امتحانات ہم نے سورة بقرہ میں مفصل بحث کی ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے۔
خلاصہ : یہ کہ یہ نشانیاں حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی تھیں۔
Ayah 44:34(34) یہ کفار قریش کہتے ہیں۔
Ayah 44:35(35) کہ ہمارا آخری انجام اور ہماری اخیر حالت بس یہی ہمارا پہلی مرتبہ کا مرنا ہے او ہم پھر دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 44:36(36) اور اگر تم سچے ہو تو ہمارے اگلے باپ دادوں کو زندہ کرکے لے آئو۔ یہاں سے کفار قریش کا ذکر فرمایا کہ آخرت کے زندگی کا انکار کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا اخیر یہی ہونا ہے کہ بس موت آجائے گی اور مرجائیں گے اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اگر مر کر دوبارہ بھی کوئی زندہ ہوسکتا ہے تو ہمارے باپ دادا جو مرچکے ہیں ان کو جلا لائو اور زندہ کرکے لے آئو اگر تم سچے ہو تو اور دوبارہ زندہ کرنے کے قائل ہو تو ایسا کردو یہ جو الاموتنتا الاوالی فرمایا اس پر شبہ نہ کیا جائے کہ پہلی موت پر کوئی اختلاف نہ تھا اختلاف تو مرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس موت کے بعد کچھ نہیں ہے اور یہ وہی قول ہے جس کو دوسری جگہ فرمایا۔
ان ھی الا حیاتنا الدنیا ومانحن بمبعوثین اپنے باپ دادوں کی زندگی کا مطالبہ ایک غیر متعلق مطالبہ ہے ظاہر ہے اس زندگی پر جس کا اسلام علی الاطلاق دعویٰ کرتا ہے اس مقید مطالبے کے عدم وقوع سے کیا اثر پڑسکتا ہے۔
Ayah 44:37(37) بھلا یہ کفار قریش قوت و شوکت میں بہتر اور بڑھ کر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو تبع کی قوم سے پہلے ہوگزرے ہیں بہتر اور بڑھ کر تھے ان سب کو ہم نے ہلاک و برباد کردیا کیونکہ وہ مجرم اور گنہگار تھے۔ یعنی یہ کفار قریش تو اتنے قوی اور پرشوکت ہیں بھی نہیں جتنی تبع یمن کے بادشاہ کی قوم تھی اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے مثلاً عاد اور ثمود جب ہم نے ان گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور سب کو تباہ کردیا تو کفار قریش اگر اسی طرح جرائم پیشہ رہے تو یہ کس طرح بچ سکتے ہیں۔
تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا اس نام سے بہت سے بادشاہ ہوئے ہیں جس تبع کا قرآن نے ذکر کیا ہے وہ تبع حمیری ہے اس کا نام اسعد یا سعد بن ملکا کرب تھا اور اس کی کنیت ابوکرب تھی۔
کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے ایک ہزار برس پہلے اس کا دور گزرا ہے یہ توریت پر ایمان رکھتا تھا مگر اس کی قوم بت پرست تھی۔ وہ توریت میں آپ کے فضائل پڑھ کر آپ کے نبی آخرالزماں ہونے پر ایمان لایا تھا اور اس نے خط بھی نبی کریم ﷺ کے نام لکھا تھا جو بطور وصیت اس کی اولاد اور خاندان میں چلا آتا تھا یہاں تک کہ اس کی اکیسویں پشت میں شامول نامی ایک شخص نے حضرت ایوب انصاری ؓ کی معرفت وہ خط حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا آپ نے یہ الفاظ فرمائے۔ مرحبا بالا خ الصالح
بعض لوگوں نے کہا ہے اس تبع حمیری کا زمانہ ہمارے نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ سے سات سو برس پہلے تھا بہرحال اس کی قوم بھی ہلاک کی گئی تھی حضرت حق تعالیٰ نے کفار قریش کو تنبیہ فرمائی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تبع بادشاہ تھا یمن کا سب قوم اس کی بت پرست تھی اس کو یقین آیا تورات پر اپنی قوم کے سامنے آزمایا کہ سچا دیں کون سا بڑی آگ جلائی عالم یہود کے توریت بغل میں لے کر اس میں گھس گئے نہ جلے وہ بت پرست بت کو بغل میں لے کر چلے جلنے لگے الٹے بھاگے اس کی قوم اس کی دشمن ہوئی آخر خراب ہوئے۔
Ayah 44:38(38) اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم کوئی فعل عبث کرنے والے اور کھیلنے والے تھے۔ یعنی ان چیزوں کو ہم نے عبث اور بیکار نہیں پیدا کیا اور ہم کو کوئی کھیل اور تماشا کرنا مقصود نہ تھا۔
Ayah 44:39(39) اور ہم نے ان دونوں کو نہیں بنایا مگر کمال حکمت کے ساتھ بنایا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ یعنی ان دونوں میں بےانتہا مخلوق کے لئے منافع ہیں قدرت کے استدلالات ہیں الوہیت کے دلائل اور توحید کے براہین ہیں اور ایک ٹھیک اندازے پر ہرچیز کو پیدا کیا ہے یہ سارا نظام اس کی توحید پر دال ہے لیکن اکثر لوگ ان امور کو نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں آگے قیامت کے واقعات کا ذکر ہے۔
Ayah 44:40(40) بلا شبہ وہ فیصلے کا دن ان سب لوگوں کے وعدے کا وقت ہے۔