Ayah 44:41(41) جس دن کوئی اپنا کسی اپنے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور کوئی رفیق کے ذرا کام نہ آئے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
Ayah 44:42(42) مگر ہاں جس پر اللہ تعالیٰ مہربانی فرمائے بیشک وہ بڑا زبردست بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی یوم الفصل جو حقیقی فیصلے کا دن ہے وہ ان سب کی سزا اور جزا عذاب اور ثواب کا دن ہے اس دن کوئی دوست رفیق اور اپنا کسی دوست رفیق اور اپنے کے بالکل کام نہ آئے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی مدد پہنچے گی۔
البتہ اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی مہر ہوجائے اور ا س کے لئے شفاعت کی اجازت مل جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو مدد پہنچ جائے وہ بڑا زبردست اور کمال قوت کا مالک ہے کافر اس کے انتقام سے بچ نہیں سکتے وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور اس کی مہربانی سے قیامت کے دن مسلمان خاص طور پر مستفید ہوں گے۔
Ayah 44:43(43) بلا شبہ زقوم یعنی سنیڈیا تھو ور یا ناگ پھنی کا درخت۔
Ayah 44:44(44) خوراک ہے بڑے گناہگار کی۔
Ayah 44:45(45) وہ زقوم ایسا ہوگاجی سے سیاہ تیل کی تلچھٹ وہ پیٹوں میں اس طرح جوش مارے گا۔
Ayah 44:46(46) جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔
Ayah 44:47(47) حکم دیا جائے گا اس گناہگار کو پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے درمیانی حصے تک لے جائو یعنی دوزخ کے بیچوں بیچ۔
Ayah 44:48(48) پھر اس کے سر پر عذاب کا سخت کھولتا ہوا پانی ڈالو۔
Ayah 44:49(49) نے اس عذاب کا مزہ چکھ تو بڑا ذی عزت اور ذی مرتبت ہے۔
Ayah 44:50(50) یہی وہ چیز ہے جس میں تم لوگ شک اور شبہ کیا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ زقوم کا درخت جس کی تفصیل سورة الصافات میں گزر چکی یہ اہل جہنم کی خوراک ہوگی۔ ہندوستان میں اس کے تین نام لئے گئے ہیں۔ کہتے ہیں مکہ معظمہ کے کسی جانب میں پیدا ہوتا ہے اس کا مزہ سخت کڑوا ہوتا ہے جہنم میں زقوم کی کیا شکل ہوگی وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
قرآن کریم میں سیاہ تیل کی تلچھٹ سے تشبیہ دی گئی ہے پھر پیٹ میں جاکر اس کا کھولنا بیان کیا گیا ہے جس طرح گرم پانی کھولتا اور جوش مارتا ہے پھر زبانیہ جو دوزخ پر متعین فرشتے ہیں ان کو حکم ہوگا کہ اس کو گھسیٹے ہوئے وسط جہنم تک لے جائو پھر اس پر عذاب اور تکلیف کا گرم کھولتا ہوا پانی ڈالو اسی کے ساتھ یہ بھی کہا جائے گا اس عذاب کا مزہ چکھ تو بڑا آبرو دار اور بڑے مرتبے والا ہے۔
غرض ان آیتوں میں انواع عذاب اور دوزخ میں طرح طرح کی تکالیف کا ذکر فرمایا ہے۔
العیاذ باللہ اللھم انا نعوذبک من عذاب جھنم۔ کہتے ہیں ان آیتوں کا تعلق ابوجہل اور اس کے ہم نشینوں کے ساتھ ہے وہ کھجوریں اور مکھن لاکر دوستوں کے سامنے رکھتا اور کہتا تزقموا یعنی کھائو یہ وہ زقوم ہے جس کا محمد ﷺ تم سے وعدہ کرتا ہے اور بطور فخر اور تکبر کہا کرتا تھا انا اعزاہل الوادی واکرمھم ، یعنی میں تمام وادی مکہ میں سب سے زیادہ عزت دار اور بزرگ تر ہوں عذاب کے وقت یہی کہا جائے گا۔
ذق انک انت العزیز الکریم۔
آخر میں عام طور پر اہل جہنم کو خطاب ہے کہ بلاشبہ یہی تو وہ عذاب ہے جس میں تم شکوک و شبہات پیدا کیا کرتے تھے۔ کلام میں جو زور ہے اور جس غصے کے ساتھ عذاب کا نقشہ اور مجرم کی کیفیت بیان کی گئی ہے اس کو ہندوستان کی زبان میں ادا کرنا مشکل ہے اس کا خط وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو عربی ادب سے واقف ہیں۔
نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا۔ اللھم اجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ آگے اہل تقویٰ اور پرہیزگاروں کے ساتھ جو سلوک ہوگا اس کا ذکر فرمایا۔
Ayah 44:51(51) بلا شبہ جو لوگ متقی اور خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ پرامن اور باامن مقام میں ہوں گے۔ وہاں ایسی جگہ میں ہوں گے جہاں کسی قسم کی بےچینی اور خطرہ نہ ہوگا آگے اس پرامن مقام کا بیان ہے۔
Ayah 44:52(52) باغوں میں اور چشموں میں۔ یعنی وہ باغوں میں ہوں گے جن باغوں میں نہریں اور چشمے بہہ رہے ہوں گے ان لوگوں کو کسی قسم کا رنج یا فکر نہ ہوگا نہ بیماری کا خطرہ نہ بڑھاپے کا خوف نہ مرنے کا خیال غرض ہر اعتبار سے بےخوف و بےبلا اور امن وچین میں ہوں گے۔
یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ ہم متقیوں کے درجات متفادتہ کی تفصیل تو سورة بقرہ کی ابتداء میں بیان کرچکے ہیں کم سے کم درجے کا متقی وہ ہے جو شرک سے بچتا اور پرہیز کرتا ہو تقویٰ کا اونچا اور بڑا درجہ بہت بلند ہے اس تمام بحث کو سورة بقرہ میں دیکھنا چاہیے ان مامون حضرات کے لباس کا ذکر فرمایا۔
Ayah 44:53(53) وہ ڈرنے والے باریک اور دبیزریشم کا لباس پہنیں گے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یعنی ایک دوسرے کے مقابل جہاں سے آسانی کے ساتھ آپس میں بات چیت کرتے ہوں گے۔
Ayah 44:54(54) یہ سب اسی طرح ہوگا اور ہم گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان سے بیاہ دیں گے۔ یا حوروں کو ان کا قرین بنادیں گے چونکہ مفسرین کے دو قول ہیں اس لئے ہم نے ایک کو اختیار کرلیا ہے اور دوسرے کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
Ayah 44:55(55) وہ ان باغوں میں اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کرتے ہوں گے۔ یعنی ہر قسم کا اطمینان میسر ہوگا اور درآنحالیکہ وہ امن والے ہوں گے وہاں کے باغوں میں ہر قسم کے میوے خدام سے منگا رہے ہوں گے۔
Ayah 44:56(56) وہ ان باغوں میں بجز اس موت کے جو دنیا میں آچکی تھی اور کسی موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ یعنی دنیاوی موت کے علاوہ کوئی اور موت نہیں اور وہ جب دنیا میں تھے تو اس پہلی موت کا مزہ چکھ چکے اب ان کے لئے اور کسی موت کا خطرہ نہیں اور جہنم کے عذاب سے ان کو بچا لیا گیا۔
غرض ہر قسم کے تفکرات اور خوف وخطر سے پاک اور بیشمار نعمتوں سے لذت اندوز۔
Ayah 44:57(57) یہ سب کچھ ان اہل تقویٰ کو آپ کے پروردگار کے فضل سے ملے گایہی بہت بڑی کامیابی ہے یعنی یہ تمام عطائیں اور انعامات آپ کے رب کے فضل سے میسر ہوں گے اور یہ واقعہ ہے اگر حق تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ان کا فضل ہے اور ہر شخص کو ان کے فضل ہی کا سہارا ہے۔
Ayah 44:58(58) سو اے پیغمبر ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان یعنی عربی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کو سمجھ کر نصیحت قبول کریں اور غور و فکر سے کام لیں۔ آپ کی زبان یعنی عربی میں آسان کیا تاکہ اہل عرب اس کو سمجھیں خود نصیحت قبول کریں اور دوسروں کو سمجھائیں آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی۔
Ayah 44:59(59) غرض فی الحال آپ بھی انجام کا انتظار کیجئے یہ لوگ بھی انتظارکر رہے ہیں - یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ ہے آپ اپنے کام کو جاری رکھیے اور کسی قسم کا فکر نہ کیجئے ان کے معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیجئے یہ آپ کا نقصان اور آپ کے ضرر کا انتظار کررہے ہیں آپ بھی ان کے انجام اور ان پر نزول ضرر کا انتظار کرتے رہیے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس نتیجے کا ظہور ہوتا ہے۔ (والاھرکلہ بیدہ)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جس شخص نے سورة حم الدخان کسی رات میں پڑھی تو اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے سترہزار فرشتے بخشش مانگتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ارشاد فرمایا حضور ﷺ نے جس نے سورة حم الدخان شب جمعہ میں پڑھی تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کے تمام گناہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں۔
حضرت ابوامامہ کی روایت ہے کہ شب جمعہ میں جس نے سورة حم الدخان پڑھی اس کے لئے جنت میں ایک بہت بڑا مکان بناتا ہے اللہ تعالیٰ ۔
(تم سورة حم الدخان)