43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 43:1
(1) حٰم ٓ
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس واضح کتاب کی۔

(2) قسم ہے اس واضح اور صاف کتاب کی۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے اسی کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

(3) ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ یعنی یہ کتاب اپنے معنی اور مطالب میں واضح اور کھلی ہوئی ہے جس نے حق و باطل کی راہیں واضح اور جدا جدا کردی ہیں اور ہدایت و گمراہی کی راہوں کو الگ الگ کردیا ہے یا یہ کہ اس کتاب نے ان تمام چیزوں کو واضح کردیا ہے اور کھول کر بیان کردیا ہے جن چیزوں کی دین کے بارے میں امت کو احتیاج اور ضرورت ہے اور ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ عربی زبان کا قرآن ہے یا یہ کہ اس کا نام رکھا قرآن عربی زبان کا تاکہ اے اہل عرب تم سمجھ سکو اور سمجھ کر دوسروں کو سمجھا سکو کیونکہ اول خطاب اہل عرب کو ہے۔ یہاں جعل بمعنی خلق نہیں ہے بلکہ بمعنی تیصیر ہے جیسا کہ عبداللہ ابن عباس ؓ نے ایک اعرابی کے ساتھ گفتگو میں تصریح فرمائی جس کو شبہ ہوگیا تھا کہ جعلی بمعنی خلق ہے (نقلہ ابن مردویہ مطلولا)
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یقینا وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑی بلند مرتبہ اور پر انہ حکمت کتاب ہے۔

(4) اور وہ یقینا ہمارے پاس ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں بڑی بلند قدر اور حکمت سے لبریز کتاب ہے۔ دو باتیں فرمائیں اول اس کی حفاظت کا یہ حال ہے کہ وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے جیسا کہ تمام کتب سماویہ لوح محفوظ میں ثبت ہیں بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ گویا ہماری خاص نگرانی میں ہے اور ہماری زیر حفاظت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اپنے اعجاز اور کلام الٰہی ہونے کے اعتبار سے بڑی عظیم المرتبت اپنے منافع اور اپنے مصالح کے اعتبار سے پراز حکمت ہے اور یہ جو فرمایا ہمارے پاس یہ باعتبار شرف اور باعتبار اختصاص فرمایا یعنی قرب مکافی نہیں بلکہ قرب مرتبہ کے اعتبار سے لدینا ارشاد فرمایا گیا ہے۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا کیا اس وجہ سے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو ہم اس نصیحت یعنی قرآن کا رخ تم سے پھیردیں گے۔

(5) پھر بھلا کیا اس وجہ سے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو ہم اس قرآن کا رخ تم سے پھیر دیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی سبب سے کہ تم نہیں مانتے کیا بھیجنا موقوف رکھیں گے حکم کا۔ خلاصہ : یہ کہ تم لوگ چونکہ اطاعت اور فرمانبرداری کی حدود سے نکل جانے والے ہو ہم قرآن کے نزول کو بند کردیں گے اور ایک حق بات کو کہنا چھوڑ دیں گے اگر ایک خاص طبقہ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث نہ مانے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ دوسرے بھی عام فیض سے محروم رکھے جائیں تمہاری مخالفت سے قرآن کا نزول بند نہیں ہوگا چونکہ اس میں تمام مخلوق کے لئے رشد و ہدایت ہے اس لئے یہ نازل ہوکر رہے گا اور چند سر پھروں کی وجہ سے ہم عام مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی سے دست کش نہیں ہوں گے۔
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیج چکے ہیں۔

(6) اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیج چکے ہیں یعنی باوجود لوگوں کی مخالفت اور تکذیب کے ہم نے نبیوں کا سلسلہ منقطع نہیں کیا اسی طرح ان لوگوں کی مخالفت کے باوجود قرآن جو ایک نصیحت اور ذکر کی کتاب ہے اس کے نزول کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔
Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کبھی کوئی نبی ان لوگوں کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا۔

(7) اور کبھی کوئی نبی ان کے پاس نہیں مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ ہنسی کرتے تھے اور اس کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ یعنی اے پیغمبر جو سلوک یہ لوگ آپ کے ساتھ کررہے ہیں سابقہ کفار کا بھی یہی دستور رہا ہے کہ کوئی نبی ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء اور مذاق نہ کیا ہو۔
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر آخر کار ہم نے ان اگلے لوگوں کو جو موجودہ کفار قریش سے زیادہ زور آور تھے تباہ و برباد کر ڈالا اور پہلوں کی یہ حالت گزر چکی ہے

(8) پھر آخر کار ہم نے ان اگلے لوگوں کو جو ان کفار قریش سے زیادہ زور آور اور قوی تر تھے ہلاک کرڈالا اور تباہ و برباد کردیا اور پہلوں کی یہ حالت گزر چکی ہے۔ یعنی ہم نے ان کو باوجود زور آور ہونے کے تباہ کردیا اور کفار عرب تو اتنے زور آور ہیں بھی نہیں پھر ان کی ہلاکت اور ان کو تباہ کرنا کیا دشوار ہے اور پہلے لوگوں کی یہ حقیقت ہوتی چلی آئی ہے کہ حد سے گزر جانے پر ان کو ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔ ان آیتوں میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور کفار کے لئے ترہیب ہے کہ وہ قرآن کی مخالفت سے باز آجائیں آگے توحید کے دلائل مذکور ہیں۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یقینا یہی جواب دیں گے کہ ان کو اس زبردست اور جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔

(9) اور اے پیغمبر اگر آپ ان منکرین سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یقینا یہی جواب دیں گے کہ ان کو اس کمال قوت اور کمال علم کے مالک نے پیدا کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی خالقیت کے منفرد ہونے کے یہ بھی قائل ہیں مگر اپنی ضد میں اتنی بات نہیں سمجھتے کہ انفرادفی الخالقیت مستلزم ہے انفرادنی الدلوہیت کو یہ لوگ اس کو خالقیت میں تو یکتا مانتے ہیں لیکن پھر اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا اور کس نے پیدا کیا تو یہ ضرور جواب دیں گے ک ان کو اس نے پیدا کیا جو اپنی قوت و طاقت اور اپنے غلبہ میں بڑا زبردست ہے اور اسی طرح اپنے علم میں پورا کمال رکھتا ہے کیونکہ یہ نظام شمسی بغیر طاقت اور بغیر علم کے چل ہی نہیں سکتا تو ان بھی لامحالہ یہی جواب دینا پڑے گا تو اس جواب کے بعد قاعدے سے ان پر حجت قائم ہے اور ان کے شرک کے جواز کی کوئی صورت نہیں۔ آگے حق تعالیٰ دوسرے افعال اپنی قدرت کے بیان فرماتا ہے۔
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس نے زمین میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔

(10) وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور بچھونا بنایا اور اس نے زمین میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ زمین کو پھیلانا اور بچھانا پھر اس میں راستے اور بٹیا میں قائم کرنا یہ اس کا کام ہے تاکہ تم راہ پائو اور منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ یہ ہر مسافر جانتا ہے کہ سفر طے کرنے اور منزل پر پہنچنے کے لئے شاہراہ سڑک اور بٹیا کس قدر ضروری ہے۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی برسایا پھر ہم نے اس پانی سے مردہ زمین کو زندہ کردیا اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جائو گے۔

(11) اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی اتارا پھر ہم نے اسی پانی سے ایک مرے ہوئے شہر اور مردہ دیس کو زندہ کردیا یعنی آبادی کی زرعی زمین جو خشک پڑ ی تھی اس کو زندہ کردیا اور اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جائو گے۔ آسمان سے پانی برساتا ہے ایک خاص اندازے کے ساتھ یعنی حسب ضرورت تاکہ لوگ کھیتی باڑی کرسکیں اور پانی پینے کے لئے بھی کام میں لائیں۔ مری ہوئی زمین سے مراد خشک زمین جو بارش کے بعد کھیتی باڑی کے قابل ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اسی طرح تم بھی نکالے جائو گے۔ یعنی جس طرح مری ہوئی زمین زندہ ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی نباتات اس سے پیدا ہونے لگتی ہے اسی طرح تم بھی مرنے کے بعد اپنی قبروں سے نکل آئو گے اور قیامت کے دن زمین میں سے اٹھ کھڑے ہوگے۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام چیزوں کی مختلف قسمیں بنائیں اور تمہارے لئے وہ کشتیاں اور وہ چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔

(12) اور جس نے تمام چیزوں کی مختلف قسمیں بنائیں اور ہر چیز کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ یعنی حیوانات میں اور نباتات میں جوڑے یعنی اصناف اور ایک دوسرے کا جواب اور کشتی اور بڑے چوپائے جو سواری کے کام آتے ہیں۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کشتیوں اور چوپایوں کی پیٹھ پر خوب جم کر بیٹھو پھر اطمینان سے ان پر بیٹھ جائو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور یوں کہو کہ اس کی ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کردیا ورنہ ہم تو ایسے طاقتور نہ تھے کہ ان چیزوں کو اپنے بس میں کرسکتے

(13) تاکہ تم کشتیوں اور چوپایوں کی پیٹھ پر خوب جم کر بیٹھو پھر جب اطمینان سے ان پر بیٹھ جائو تو اپنے پروردگار کا احسان یاد کرو اور یوں کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کردیا اور ان چیزوں کو ہمارے بس میں دیدیا ورنہ ہم ایسے طاقتور نہ تھے کہ ان چیزوں کو اپنے بس میں لاسکتے۔
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(14) اور بیشک ہم اپنے پروردگار و کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ نے دلائل توحید کے سلسلے میں ان احسانات کا تذکرہ فرمایا…ظاہر ہے کہ بحری اور بری میں سفروں کی سہولت اور آسانی کے لئے یہ چیزیں پیدا فرمائیں پھر ان چیزوں پر انسان کو قابو یافتہ فرمایا۔ وہ کشتیاں ہوں یا چوپائے ہوں انسان سب پر حکمرانی کرت ہے آخر میں آداب تعلیم فرمائے کہ جب کسی سواری پر بیٹھو تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اپنے دل میں اعتراف کیا کرو اور قلب میں اس کی نعمت ہائے بےکراں کو محسوس کیا کرو……اور زبان سے بھی اس کا اظہار کیا کرو سواری پر سوار ہوتے وقت مختلف دعائیں حدیث کی کتابوں میں منقول ہیں قرآن میں یہ الفاظ ہیں۔ سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ یہ واقعہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو پیدا نہ فرماتا تو کوئی اور پیدا کرنے والا نہ تھا اور گر وہ پیدا کرنے کے بعد ان کو انسان کے لئے مسخر نہ فرماتا تو ان کے قابو میں میں کرنا اور ان حیوانات کو اپنا قرین بنانا انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ دعا میں اپنی عاجزی، بےبسی اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اعتراف ہے اور ساتھ ہی سفر آخرت کا بھی اقرا رہے جو آخری اور حقیقی سفر ہے آگے بندوں کی نافرمانی اور حضرت حق کی شان میں غلط الزامات اور ان کے جوابات مذکور ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سفر سے آخرت کا سفر یاد کرو حضرت سوار ہوتے تو یہی تسبیح کہتے۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے دا کے بندوں میں سے بعض بندوں کو اس کا ایک جز یعنی اولاد بنارکھا ہے واقعی انسان کھلا ناسپاس ہے۔

(15) اور دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض بندوں کو اس جزو اور حصہ اور ٹکڑا بنارکھا ہے واقعی انسان کھلا ہوا ناسپاس اور ناشکرگزار ہے۔ یعنی ایک طرف بندوں پر اس کے یہ احسانات اور دوسری طرف بندوں کی یہ جرات اور دلیری کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض بندوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد اور بیٹیاں کہتے ہیں حالانکہ اولاد تو باپ کا حصہ اور جز ہوتی ہے یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے یہ اس کا تجزیہ کررہے ہیں اور اس کو بانٹ رہے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا خدا نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لئے بیٹیاں تجویز کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا۔

(16) کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کردہ مخلوقات میں سے اپنے لئے بیٹیاں تجویز کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا۔ یعنی کیا تم یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لئے بیٹیاں تجویز کیں اور تم کو بیٹوں کے لئے چن لیا اور مخصوص کردیا یہ بہت ہی لغو بات ہے جو تم مہتے ہو اول تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا قول بہت ہی نامناسب ہے کیونکہ اولاد جنسیت کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں پھر اولاد میں سے بھی وہ ثابت کرتے ہو جو طبعاً ناقص ہے یعنی بیٹی اور خود اپنے لئے بیٹے چاہتے ہو خود تمہاری حالت ہے۔
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جس چیز کی مثال یہ رحمان کے لئے بیان کرتے ہیں جب اس بیٹی کے ہونے کی ان میں سے کسی کو خبر دیجاتی ہے تو اس کا چہرہ کالا پڑجاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔

(17) حالانکہ جس کی مثال یہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیان کرتے ہیں اور رحمان کے لئے جس چیز کا نام دھرتے ہیں جب اس بیٹی کے ہونے کی ان میں سے کسی کو خوشخبری دی جاتی ہے تو تمام دن اس کا منہ سیاہ اوراداس رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ یعنی جو چیز یہ رحمان کی طرف سے منسوب کرتے ہیں جب وہی بیٹی کبھی ان کے ہاں پیدا ہوجاتی ہے تو ان کی حالت بیٹی کی خبر سن کر یہ ہوتی ہے کہ ان کا چہرہ کالا ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ آگے اور لڑکیوں کی کمزوری اور ضعف کا حال بیان فرمایا۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور کی زیبائش میں نشو و نما پائے اور جھگڑے کے وقت صاف طور اظہار مدعا نہ کرسکے۔

(18) کیا وہ جو زیور کی زیبائش اور آرائش میں پرورش پائی اور پروان چڑھے اور وہ جو جھگڑے اور مباحثے میں صاف طور سے اظہار مدعانہ کرسکے یہ لوگ اس کو رحمان کی اولاد ٹھہراتے ہیں۔ یعنی حادثاً لڑکی کی پرورش آرائش اور زیبائش میں ہوتی ہے ماں باپ زیور پہناتے ہیں اس کا بنائو سنگھار کیا جاتا ہے پھر ضعف رائے اور قوت فکر یہ کی کمزوری کا یہ عالم کہ بحث مباحثے اور جھگڑے کے وقت اپنے مدعا کو صاف طورپر بیان بھی نہ کرسکے تم ایسی کمزور چیزکو خدا کی اولاد وقرار دیتے ہو۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور ان کافروں نے ان فرشتوں کو جو رحمان کے بندے ہیں عورتیں تجویز کررکھا ہے کیا یہ ان فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے ان کی یہ شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے اس کی باز پرس کی جائے گی اور ان سے اس کی بار پرس کی جائے گی۔

(19) اور ان دین حق کے منکروں نے ان فرشتوں کو جو رحمان کے بندے ہیں عورتیں تجویز کررکھا ہے کیا یہ ان فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے ان منکروں کی یہ شہادت لکھی جائے گی اور ان سے اس کی باز پرس کی جائے گی۔ یعنی ان کی یہ بات ان کے نامہ اعمال میں درج کرلی جائے گی اور قیامت کے دن ان سے اس گواہی کی حقیقت پوچھی جائے گی مطلب یہ کہ ان کی اس لغو اور جھوٹی بات پر گرفت ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا بندے رحمان کے ہیں یعنی بیٹیاں نہیں اور معلوم ہوا کہ فرشتے اگرچہ نہ مرد نہ عورت پر بولی مرادنی بولیں۔
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور یہ منکر یوں کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی پوجا نہ کرنے ان لوگوں کو اس بات کا کوئی صحیح علم نہیں ہے یہ صرف اٹکل سے تخمینے کیا کرتے ہیں۔

(20) اور یہ منکر یوں کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی پوجا نہ کرتے ان لوگوں کو اس بات کا کوئی صحیح علم نہیں یہ صرف اٹکل سے تخمینے کیا کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا اسی نے قوت بھی پیدا کیا یعنی اشیائے خوردنی اور زہر بھی زہر کون کھاتا ہے …… خلاصہ : یہ کہ کفارکا یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ جواب دینے سے جب عاجز ہوتے تو مشیت کی آڑ پکڑتے قرآن میں اور بھی کئی جگہ کفار کا یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ جواب دینے سے جب عاجز ہوتے تو مشیت کی آڑ پکڑتے۔ قرآن میں اور بھی کئی جگہ کفار کا یہ قول ذکر فرمایا ہے چناچہ آٹھویں پارے میں قدرے تفصیل سے گزر چکا ہے اور پہلے پارے کی تسہیل میں ہم بہت مفصل عرض کرچکے ہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ قدرت علی الکسب کے ساتھ مشیت کا تعلق اس کو مستلزم نہیں کہ اس کسب اور فعل پر مشیت رضامند بھی ہے ظاہر ہے کہ کفر غیر پسندیدہ ہے لیکن اس کی قوت عطا فرمارکھی ہے قوت اگر سلب کرلیں توجبرہوجائے یہ طریقہ اسلام اور کفر کے بارے میں رائج نہیں اس لئے ہر فعل خواہ وہ نیک ہو یا بد فاعل کو موقعہ دیا جاتا ہے مطلب یہ نہیں کہ جس فعل کے کرنے کا موقعہ دیا جائے وہ پسندیدہ اور قابل قبول بھی ہو۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ان مشرکوں کو اس قرآن سے پہلے کوئی اور کتاب دی ہے کہ یہ اس سے استدلال کرتے ہیں۔

(21) کیا ہم نے ان مشرکوں کو اس قرآن سے پہلے کوئی اور کتاب دی ہے کہ اس کتاب سے یہ استدلال کرتے ہیں۔ یعنی دلیل عقلی تو ان کو لغو اور مہمل ہے اب بتائو کہ ان کو کوئی آسمانی کتاب ملی ہے جس سے یہ نقلی دلیل پیش کرسکتے ہیں ، یہ بات بھی نہیں لہٰذا ان کے اس دعوے پر کہ لو شآء الرحمن ما عبدنھم پر دلیل عقل اور نقلی دونوں منتفی ہیں۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ یہ تویوں کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نشانہائے قدم پر راہ سے لگے ہوئے ہیں۔

(22) بلکہ یہ تو یوں کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم بھی ان کی نشانہائے قدم پر راہ سے لگے ہوئے ہیں اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر راہ پانے والے ہیں۔ یعنی ان کی دلیل عقلی اور نقلی سے کیا بحث یہ تو اپنے بڑوں کی راہ پر چلنے کے پابند ہیں آگے اس طریقے کی قدامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ ان منکروں کی پرانی بات ہے۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوش عیش لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نشانہائے قدم پر ان کی اقتداء کررہے ہیں۔

(23) اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوش عیش لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نشانہائے قدم پر ان کی پیروی اور اقتداء کررہے ہیں۔ یعنی یہ بات جو کفار مکہ کہہ رہے ہیں یہ اوپر سے ہوتی چلی آئی ہے جب آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر ہم نے بھیجا ت وہاں کے مرفہ الحال لوگوں نے پہلے اور ان کو دیکھا دیکھی ان کے ماتحت لوگوں نے یہی کہا کہ ہمارے باپ دادا جو کرتے تھے ہم انہی کے نشانہائے قدم کی پیروی کرتے رہیں گے اس پر ہر آنے والے پیغمبر نے ان کو سمجھایا۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

اس پر ان کے پیغمبر نے فرمایا جس طریقے پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اگرچہ میں اس سے بہتر مقصود تک پہنچانے والا کوئی طریقہ لے کر تمہارے پاس آیا ہوں تب بھی تم انہی کی اقتداء کرو گے وہ کہنے لگے تم جو دین دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو ماننے والے نہیں۔

(24) اس پر ایک پیغمبر نے کا جس طریقے پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اگرچہ میں اس سے بہتر منزل مقصود تک پہنچانے والا کوئی طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں تب بھی تم اپنے بڑوں ہی کی اقتداء کرو گے وہ اس پر عناداً کہنے لگے تم جس دین کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں اور اس کو ماننے والے نہیں۔ یعنی جو طریقہ تمہارے باپ دادا کا ہے اور جس پر تم چلنے کا دعویٰ کرتے ہو اگر اس سے زیادہ بہتر اور راہ دکھانے والی چیز میں تمہارے پاس لایا ہوں یعنی روشن دین جس سے منزل مقصود تک پہنچنا آسان ہوجائے اور تم کو منزل نظر آنے لگے تب بھی تم اپنے باپ دادا کی فرسودہ اور گمراہ کن راہوں پر اڑے رہوگے۔ تو ان بستی والوں نے مختلف اوقات میں مختلف پیغمبروں کو یہی جواب دیا کہ تم جو دین اور روشن راستہ لے کر آئے ہو اور جو دین تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس دین کو ماننے والے نہیں اور تم تو اس دین کے منکر اور کافر ہیں اب آگے ایسے معاندین اور سرکش لوگوں کا انجام بیان فرمایا۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

آخر کار ہم نے ان سے بدلا لیا سو آپ دیکھئے کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔

(25) آخر کار ہم نے ان سے بدلا لیا سو آپ ﷺ دیکھئے کہ تکذیب کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی بات دادا کی رسوم کے مقابلے میں دین حق کو نظر انداز کرنے والوں سے آخر کار بدلا اور انتقام لیا گیا اور سب کو ختم کرکے رکھ دیا گیا۔ ہمارے دور میں اکثرجاہل مسلمان باپ دادوں کی رسوم کو دین پر ترجیح دیتے ہیں۔ (معاذ اللہ)
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

(26) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو اور جن کی پرستش کرتے ہو میں ان سے بیزار ہوں اور ان چیزوں سے الگ ہوں۔
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔

(27) مگر ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے اور مجھ کو ہدایت دیتا ہے - یعنی اوپر کی آیتوں میں باپ دادا کے نقش قدم پر چلنے اور پیغمبروں کی تعلیم سے روگردانی کرنے کی مذمت سے بیان فرمائی تھی اسی سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر فرمایا چونکہ قریش بھی ان کو اپنا جد اعلیٰ مانتے تھے اس لئے ان کا ذکر فرمایا کہ دیکھو تمہارے جد اعلیٰ نے کس طرح اپنے باپ دادا کی رسوم اور طریقوں سے بیزاری کا اعلان کردیا تم بھی آبائی طریقوں سے اپنی علیحدگی کا اعلان کردو۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور اسی توحید کو ابراہیم اپنی اولاد میں ایک قائم رہنے والی بات کر گیا تاکہ لوگ شرک سے باز آتے رہیں۔

(28) اور اسی کلمہ توحید کو ابراہیم اپنے پیچھے ایک قائم رہنے والی بات کر گیا تاکہ منکر رجوع کریں اور کفر سے باز آتے ہیں۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت کی اور وصیت کے ذریعے اس توحید کے کلمہ کو اپنے پیچھے اپنی اولاد میں قائم کر گیا تاکہ لوگ شرک سے با زرہیں یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس کلمے کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا اور توحید کی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ لوگ شرک سے باز آئیں کلمہ باقیہ کے بھی دو معنی بیان کئے گئے ایک کلمہ توحید دوسراننی براء یعنی شرک سے بیزاری لعلھم یرجعون سے مراد یا تو عام مشرک ہیں یا یہ ہم کی ضمیر سے مکہ کے مشرک مراد ہیں۔ بہرحال مفسرین نے کئی طرح معنی کئے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے آبائی طریقہ ترک کیا اور کلمہ توحید اور شرک کی بیزاری کا سلسلہ اس کی اولاد میں بھی قائم رہا۔ چناچہ یہ نبی آخر الزمان ﷺ اسی طریقے کی تبلیغ فرماتے ہیں۔
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ میں نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کے سامان سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ ان کے پاس سچا قرآن اور صاف صاف بیان کرنے والا رسول آگیا۔

(29) مگر یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی بات پر نہ چلے بلکہ میں نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کے سازوسامان سے بہرہ مند کیا اور یہ اس میں مشغول ہوکر غافل ہوگئے یہاں تک کہ ان کے پاس دین حق اور صاف صاف بیان کرنے والا رسول آپہنچا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے مکہ والوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا اور مالا مال کیا، یہ نوازش اس لئے تھی کہ یہ ابراہیم کی اولاد ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا احسان مانیں گے اور ابراہیم کے کلمہ باقیہ کا احترام کریں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ یہ لوگ مفرور ہوگئے اور عیس و عشرت میں لگ کر دین حنیف کو فراموش کردیا اور شرک میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ ان کے پاس حق یعنی قرآن یا دین حق اور رسول صاف صاف بتانے والا آپہنچا حق کے دو معنی مفسرین نے کئے ہیں ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ اور جو فرمایا بل متعتھوء لاء واباء ھم مراد اس سے دنیاوی عیش ہے مثلاً عمر کی درازی عزت و آبرو سامان عیش وغیرہ اور بڑی بات یہ کہ مہلت اور ڈھیل لیکن انہوں نے بجائے احسان ماننے کے کفران نعمت کیا یہاں تک کہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ یا سچا قرآن آگیا۔
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن آیا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔

(30) اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن آیا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے ماننے سے انکار کرنے والے ہیں۔ یعنی ہمارے احسانات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور قرآن کو جادو بتا کر اس کو ماننے سے انکار کردیا۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں یعنی مکہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔

(31) اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ یعنی مکہ اور طائف دونوں بڑے شہروں کے کسی بڑے آدمی پر اترتا۔ مطلب یہ کہ کسی مالدار اور بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا بڑے آدمی سے شاید ولید بن مغیرہ اور عروہ بن مسعود ثقفی ہوں کیونکہ پہلا مکہ کا بڑا تھا اور دوسرا طائف کا سردار تھا۔ گویا نبوت بھی ایسی ہے جو ان کے مشورے اور ان کی رائے سے دی جاتی۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا آپ کے پروردگار کی رحمت یعنی نبوت کو یہ لوگ تقسیم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ دنیوی زندگی میں بھی ان کی روزی ان میں ہم ہی نے تقسیم کررکھی ہے اور ہم نے باعتبار مراتب ایک کو دوسرے پر بلندی عطا کررکھی ہے تاکہ ایک دوسرے کو خدمت کے لئے استعمال کرسکے اور آپ کے رب کی رحمت تو اس سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کرتے پھرتے ہیں۔

(32) کیا آپ کے پروردگار کی رحمت یعنی نبوت کو یہ لوگ تقسیم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی دنیوی زندگی میں بھی ان کی روزی ان میں ہم ہی نے تقسیم کر کھی ہے اور ہم نے باعتبار مراتب اور درجات ایک کو دوسرے پر فوقیت اور بلندی عطا کررکھی ہے تاکہ ایک دوسرے کو خدمت کے لئے استعمال کرسکے اور اپنا کمیرا بناسکے اور آپ کے رب کی رحمت اس چیز سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ سمیٹتے اور جمع کرتے پھرتے ہیں۔ قرآن میں عام طور سے روحانی ترقی اور روحانی مرتبے کو رحمت رب سے تعبیر کیا ہے خواہ یہ روحانیت نبوت کی ہو یا ولایت اور امامت کی ہو۔ اسی طرح یہاں بھی رحمت ربک سے مراد نبوت ہے چونکہ نبی کریم ﷺ کو نبوت ملنے پر کفار معترض تھے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ خود نبوت کو تقسیم کرنے کے خواہش مند تھے حضرت حق نے اس کا جواب فرمایا کہ نبوت جو آپ کے پروردگار کی رحمت کا ایک شعبہ ہے یہ کفار مکہ خود اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ نبوت تو بہت بلند اور بڑی اونچی چیز ہے اس کی تقسیم تو ان کے کیا سپرد ہوتی ہم نے تو دنیوی زندگی میں بھی ان کی روزی کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں نہیں دی بلکہ اپنی مصلحت کے موافق ہر شخص کی روزی ہم نے خود ہی تقسیم فرمائی اور بعض کو بعض پر فوقیت عطا کی تاکہ ایک سرمایہ دار غریب کو اجرت پر لے کر اس سے کام لے سکے اور اس طرح نظام عالم قائم رہے یا یہ مطلب کہ ایک دوسرے کا دست نگر رہے سرمایہ دار کو مزدور کی حاجت رہے اور مزدور سرمایہ دار کا محتاج رہے بہرحال نبوت تو بہت بالاتر ہے جس اس سے حقیر اور ادنیٰ درجے کی چیز ان کے ہاتھوں تقسیم نہیں کرائی تو نبوت ان کے ہاتھوں کس طرح تقسیم کرائی جاسکتی ہے۔ آگے دنیا کی تحقیر کے سلسلہ میں مزید تشریح فرمائی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ نے روزی دینا کی تو ان کی تجویز پر نہیں بانٹی پیغمبر کیو نکر دے ان کی تجویز پر۔
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی دین پر ہوجائیں گے تو ہم ان لوگوں کے گھروں کی چھتیں جو رحمان کے منکر ہیں چاندی کی کردیتے اور ان کی وہ سیڑھیاں بھی جن پر یہ چڑھا کرتے چاندی کی کردیتے۔

(33) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے اور ایک ہی دین پر ہوجاتے تو ہم ان لوگوں کے گھروں کی چھتیں جو رحمان کے منکر ہیں چاندی کردیتے اور ان کی وہ سیڑھیاں بھی چاندی کی کردیتے جن پر یہ چڑھا کرتے۔
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان منکرین رحمان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں چاندی کردیتے۔

(34) اور ان منکرین رحمان کے گھروں کے دروازے بھی اور وہ تخت بھی جن پر تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں چاندی کے کردیتے۔
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور نہ صرف چاندی کے بلکہ سونے کے بھی کردیتے اور یہ سب مذکورہ مال و دولت کچھ نہیں مگر دنیوی زندگی کی بہرمندی اور کامرانی ہے اور آخرت آپ کے رب کے ہاں انہی کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں۔

(35) اور نہ صرف چاندی کے بلکہ سونے کے بھی کردیتے اور سب مذکور مال و دولت کے کچھ نہیں مگر دنیوی زندگی کی چند روزہ بہرہ مندی اور کامرانی ہے اور آخرت آپ کے پروردگار کے ہاں انہی کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور متقی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافر کو اللہ نے پیدا کیا کہیں تو اس کو آرام دے آخرت میں تو عذاب ہے دنیا ہی میں آرام ملتا مگر ایسا ہو تو سب وہی کفر پکڑلیں۔ مطلب صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کوئی وقعت اور عزت نہیں اگر کافروں کو دنیا زیادہ دی گئی تو دنیا اور کافروں کی یہ عزت نہیں ہے منکروں کے پاس دنیا کی کثرت دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ منکروں پر بڑے مہربان ہیں۔ دنیا کی کثرت حق تعالیٰ کی مہربانی کی دلیل نہیں ہے تو تم اس تھوڑی سی دنیا پر یہ خیال کرتے ہو اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض مسلمانوں کے قدم ڈگمگا جائیں گے تو ہم منکرین رحمان یعنی اپنے منکروں کو چاندی کی چھتیں چاندی کی سیڑھیاں اور چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت عطا کرتے، اور چاندی کے کیا بلکہ سونے کے بھی۔ بعض حضرات نے زخرف کا ترجمہ زینت کیا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ چاندی کے ساتھ ہر قسم کی زینت کا سامان رحمان کے منکروں کو دیاجاتا۔ سونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں چاندی کی بھی دیتے اور سونے کی بھی دیتے لیکن ہر منکر رحمان کو اگر چاندی اور سونے کے مکان دے دیئے جاتے تو کفر حصول مال ومتاع کا سبب یقینی ہوجاتا اور اکثر طبائع میں حرص میں مال ومتاع غالب ہے اس لئے چند مخصوص اور قلیل مسلمانوں کو چھوڑ کر سب لوگ کفر کی طرف مائل ہوجاتے اور اس طرح دنیا میں لوگ منکر رحمان بن جاتے لہٰذا رحمان کے منکروں کو دنیاوی مگر تھوڑی دی۔ یہ مضمون قرآن میں بہت جگہ آچکا ہے لیکن یہاں ایک اچھوتا اور نیا عنوان رکھا ہے بہرحال اگر ایسا ہوتا بھی تو یہ سب سازو سامان دنیا کے جیتے ہوتا اور آخرت کی کامیابی بہرحال متقیوں کے لئے ہے جو کم از کم شرک سے بچتے ہیں یعنی رحمان کے منکر نہیں بلکہ اس کے مومن ہیں۔ حدیث میں آتا ہے فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں اخلاق کو بھی تقسیم کیا جس طرح تمہارے ارزاق کو تمہارے درمیان تقسیم کیا اللہ تعالیٰ نے دنیا ہر شخص کو دیتا ہے خواہ وہ اس کو دوست رکھے یادوست نہ رکھے مگر دین صرف اس کو دیتا ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے یعنی دنیا تو دوست دشمن سب کو ملتی ہے مگر دین سوائے دوست کے کسی کو نہیں ملتا۔ (درمنثور)
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص رحمان کی نصیحت آنکھیں بند کرلے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ شیطان اس کے ساتھ رہتا ہے۔

(36) اور جو رحمن کے ذکر اور اس کی نصیحت سے آنکھیں بند کرلے اور آنکھ چرائے تو ہم اس پر ایک شیطان متعین کردیتے ہیں سو وہ شیطان اس کے ساتھ رہتا ہے۔ سورة فصلت میں تفصیل گزر چکی ہے مطلب وہی ہے کہ رحمان کے ذکر سے جو شخص آنکھیں چرانے کا خوگر ہوجائے تو پھر اس کو کسی ایک شیطان کے سپرد کردیا جاتا ہے اور وہ شیطان خواہ جن ہو یا آدمی کی شکل میں ہو اس پر مسلط رہتا ہے اور ٹھیک بات کی طرف اس کو آنے نہیں دیتا۔
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور وہ ساتھ رہنے والے شیاطین ان مذکورہ کافروں کو صحیح راہ سے روکتے رہتے ہیں اور وہ کافر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہ یافتہ ہیں۔

(37) اور یہ ساتھی شیاطین ان منکروں کو راہ حق اور سیدھی راہ سے روکتے رہتے ہیں اور یہ منکر سمجھتے ہیں کہ وہ راہ ہیں اور راہ یافتہ ہیں۔ یعنی ان شیاطین کے تسلط کا نتیجہ ہوتا ہوے کہ وہ ان کے اعمال بد کی تزیین کرتے رہتے ہیں اور برے کاموں کو اچھا کرکے ان کو دکھاتے رہتے ہیں راہ حق سے ان کو روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ راہ حق یہی ہے کہ جس پر ہم چل رہے ہیں۔ شاید یاد ہوگا ہم نے بتایا ہے کہ شیطان کا تعین اور شیطان کی حوالگی کے الفاظ سے مجرم کی اس حالت کی جانب اشارہ ہے جب کوئی بدنصیب مجرم حد سے آگے نکل جائے اور حضرت حق جل مجدہ اس سے دست کش ہوجائیں اور اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھالیں تو ایسا مجرم آخر کار طاغوتی طاقتوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی حالت کو نقیض لہ شیطاناً سے تعبیر فرمایا ہے بڑا بدقسمت ہے وہ انسان جس سے رحمان ناراض ہوکر اپنی مہربانی اور اپنی ہدایت کے دامن سمیٹ لے اور اس کو طاغوتی طاقتوں پر چھوڑ دے۔ اللھم لا تکنی الی نفسی طرفۃ عین۔
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ یہ نصیحت فراموش جب ہمارے پاس آئے گا تو اس ساتھی سے کہ گا کاش دنیا میں میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کا سا فاصلہ ہوتا کیونکہ تو بہت برا ساتھی تھا۔

(38) یہاں تک کہ جب یہ نصیحت فراموش ہمارے پاس آئے گا تو اس ساتھی اور شیطان قرین سے کہے گا کاش دنیا میں میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کا سا فاصلہ ہوتا کیونکہ تو بہت برا ساتھی تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں شیطان کے مشورے پر چلتا ہے اور وہاں اس کی صحبت سے پچھتاوے گا اس طرح کا ساتھی شیطان کسی کو جن ملتا ہے کسی کو آدمی۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جب اس شیطان کو قیامت میں بھی اپنے ساتھ دیکھے گا تو یہ کہے گا یلیت بینی وبینک کہ کاش دنیا میں میرا قرین نہ ہوتا اور میرے تیرے درمیان اتنی دوری ہوتی جتنی مشرق اور مغرب کے درمیان مسافت بعیدہ ہوتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمنا آخرت کے لئے کرے کہ یہاں مجھ کو تیری صورت نہ دکھائی دیتی اور میرے درمیان مشرق ومغرب کا سا بعد ہوتا۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جبکہ تم ظالم ٹھہرچکے تو آج یہ بات کہ تم سب عذاب میں مشترک ہو تم کو کوئی نفع نہیں دے سکتی۔

(39) اورجبکہ تم کفر کے مرتکب ہوچکے اور ظالم قرار پاچکے تو آج تم کو یہ بات کوئی نفع نہیں دے سکتی کہ تم سب عذاب میں باہم مشترک ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافر کہیں گے خوب ہوا کہ انہوں نے ہم کو عذاب میں ڈلوایا یہ بھی نہ بچے لیکن اس کو کیا فائدہ اگر دوسرا بھی پکڑا گیا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ وہ تمام شیاطین اور وہ تمام انسان جن کو یہ شیاطین بہکاتے اور صحیح راہ سے روکتے تھے سب جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے تو اس کو حضرت حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں بلوائے عام کے موقعہ پر ایک دوسرے کی حالت دیکھ کر اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے تھے کہ جو ہمارا حال وہ تمہارا حال یہاں اس کہنے سے کوئی تسلی اور نفع نہیں ہوگا اور یہ اشتراک فی العذاب کسی نفع کا موجب نہیں ہوگا اور کم سے کم تسلی بھی میسر نہیں ہوگی یا یہ کہ آج کوئی عذروندامت قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ تم سب ہی عذاب میں مشترک ہو۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

سوائے پیغمبر کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا آپ اندھوں کو اور ان کو جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں راہ پر لاسکتے ہیں۔

(40) سو اے پیغمبر کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا آپ اندھوں کو اور ان کو جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں راہ پر لاسکتے ہیں۔ یعنی جو سماع قبول نہیں رکھتے اور جو ہیے کے اندھے ہیں صریح گمراہی سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا گمراہ رہنا مرتے دم تک اللہ کے علم میں ہے۔