Ayah 43:81(81) پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے اگر بفرض محال خدائے رحمن کے کوئی اولاد ہو تو سب عبادت کرنے والوں سے پہلے میں اس کی عبادت کروں۔ یعنی اگر تم ثابت کرو کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے تو میں سب سے پہلے اس کے ماننے اور قبول کرنے کو تیار ہوں کیونکہ خدا کی اولاد بھی خدا ہی ہوگی اور جس طرح خدا عبادت کا مستحق ہے وہ اولاد بھی عبادت کے مستحق ہے لیکن یہ امر چونکہ محض باطل ہے اس لئے میں اس نام سے کسی کی عبادت کرنے کو تیار نہیں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کو معلق فرمایا فرزند اور ولد کے ساتھ اور یہ ظاہر ہے کہ فرزند کا ہونا محال ہے لہٰذا عبادت بھی محال۔
یا یہ کہ واجب الوجود ہونا خواص ہے معبودیت کا اور واجب الوجود کا لڑکا بھی واجب الوجود ہوگا اگر وہ واجب الوجود نہ ہو تو غیر جنس کا ولد اللہ تعالیٰ کے لئے عیب ہوگا اور وہ مستحق عبودیت بھی نہ ہوگا پس فرشتوں کو اس کی اولادکہنا تمارا محض جہل اور ناواقفیت کی بنا پر ہے یا ہ کہ اگر تمہارے گمان میں اللہ کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے والا اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔
غرض لوگوں نے اس آیت کے کئی طرح معنی کئے ہیں ہم نے دو تین قول نقل کردیئے ہیں راجح اور صحیح قول وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے آگے حضرت حق تعالیٰ اس نسبت ولد اور کفار کے بہتان سے اپنی پاکی بیان فرماتا ہے۔
Ayah 43:82(82) یہ مشرک اس کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور وہ عرش بریں کا مالک ہے۔ یعنی وہ ذات جو آسمانوں کی اور زمین کی مالک اور عرش بریں کی مالک ہے وہ ان عیوب سے پاک ہے اور جو سب کا مالک اور تمام عیوب سے پاک ہے و ہ جسم سے بھی پاک ہے اور جو جسم سے پاک ہو اس کے لئے اولادکا ثابت کرنا کس قدر گستاخی اور جرات وبے با کی کی بات ہے اور جب ان کے عناد اور ان کے جمود کی یہ حالت ہے تو۔
Ayah 43:83(83) اب آپ ان کو اسی بےہودہ شغل اور کھیل و تفریح میں چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے ملاقات کرلیں جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے - خوض کے معنی ہیں کسی باطل بات میں گھس جانا اور لغو مہمل امور میں غوروخوض کرنا ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کے مہمل اور لغو مشاغل میں چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ قیامت اور موت کے دن سے ملاقات کرلیں۔
کہتے ہیں کہ ایک دن نضر بن حارث قریش کے سرداروں میں بیٹھا ہوا استہزاً کہہ رہا تھا کہ بیشک محمد ہوکر کچھ کہتا ہے حق کہتا ہے اور میں بھی حق کہتا ہوں وہ کہتا ہے لا الہ الا اللہ میں بھی کہتا ہوں۔
لا الہ الا اللہ میں بلکہ اور زیادہ کہتا ہوں املئکۃ نبات الللہ۔
جب یہ واقعہ حضور ﷺ کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ غمگین ہوئے اس پر یہ اوپر کی آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayah 43:84(84) اور وہی ہے جو آسمانوں میں بھی لائق عبادت ہے اور وہی ہے جو زمین میں بھی معبود اور لائق پرستش ہے اور وہی کمال حکمت اور کمال علم کا مالک ہے۔ یعنی علم و حکمت میں اس کا کوئی شریک نہیں تو الوہیت اور معبودیت میں بھی اس کا کوئی شریک اور ہمسر نہیں۔
Ayah 43:85(85) اور اس کی ذات بڑی برکت والی اور بڑی عالیشان ہے جس کے لئے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کی حکومت ثابت ہے اور قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اور تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی آسمان و زمین اور ان دونوں کے مابین جو کچھ ہے سب پر اسی کی بادشاہی اور اسی کا راج ہے اور اسی کی حکومت ہے اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئیگی پھر اس کی قدرت اتنی وسیع ہے کہ تم سب کی بازگشت بھی اسی کے پاس ہے حکومت علم قدرت سب چیزوں میں کامل ہے وہ ذات بڑی بابرکت اور بڑی عالیشان ہے ۔
آگے جن کو یہ دین حق کے منکر پوجتے ہیں ان کی کمزوری اور عاجزی کا اظہار ہے۔
Ayah 43:86(86) اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ منکر پکارتے اور پوجتے ہیں وہ شفارش اور شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے مگر ہاں وہ لوگ جو حق بات کی زبان سے گواہی دیتے ہیں اور دل سے اس حق بات کو جانتے اور اس کا یقین رکھتے ہیں۔ یعنی جو لوگ کلمہ توحید کے قائل اور زبان سے گواہی دینے والے اور دل سے توحید کا یقین کرنے والے ہیں وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی اجازت سے اہل ایمان کی سفارش کرسکیں گے تو ان کی شفاعت سے کفار کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اتنی سفارش کرسکتے ہیں کہ جس نے کلمہ اسلام کہا ان کی خبر میں اس کی گواہی دیتے ہیں بغیر کلمہ اسلام سب کے حق میں کہہ سکتے سو اتنی سفارش بھی نیک کرسکیں گے۔
خلاصہ : یہ کہ یہ منکر جن کو پوجتے ہیں ان کو تو سفارش کا کوئی حق نہ ہوگا البتہ جو بزرگ مسلمان زبردستی معبود بنا لئے گئے جیسے حضرت عیسیٰ یاعزیر ایسے لوگ باذن الٰہی شفاعت کرسکیں گے وہ بھی صرف مسلمانوں کی شفاعت کریں گے مشرکوں کی شفاعت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ آگے کفار کے عناد کی مزید توضیح ہے۔
Ayah 43:87(87) اور اے پیغمبر اگر آپ ان دین حق کے منکروں سے دریافت کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے پھر اب یہ منکر کہاں الٹے پھرے چلے جاتے ہیں۔ یعنی حق دشمنی کا ان کی یہ حال ہے کہ اگر پوچھو تم کو کس نے پیدا کیا ہے تو جواب یہی دیں گے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو توحید کا ایک مقدمہ تو تسلیم کرتے ہیں اور دوسرا مقدمہ کہ وہی ذات قابل پرستش ہوسکتی ہے جو حقیقی طور پر قادر علی الخلق ہو اس کو نہیں مانتے اسی کو فرمایا کہ اب الٹے کہاں پھرے جاتے ہیں۔
یعنی توحید کا ایک مقدمہ تسلیم کرنے کے بعد پھر کہاں جاتے ہو خالق اور قادر علی الخلق مان کو جو مستلزم ہے افتقارالیٰ خالق کے پھر اس کے عبادت میں شرک کا دعویٰ کرنا انتہائی حق دشمنی اور عناد وجمود ہے۔
Ayah 43:88(88) اور قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے میرے پروردگار یہ کفار قریش ایک ایسی قوم ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 43:89(89) لہٰذا اے پیغمبر آپ ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے اور ان سے منہ پھیر لیجئے اور یوں کہئے کہ بس میرا سلام ہے یا یہ کہ تم کو سلام کرتا ہوں یہ لوگ اب تھوڑے دنوں میں اپنا انجام معلوم کرلیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے قوم کی بےرخی اور بےاعتنائی اور معاندانہ مظاہروں سے تنگ آکر فرمایا ۔ یارب ان ھولائقوم لا یومنون۔
یعنی اے میرے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ باوجود میری فہمائش اور میرے سمجھانے کے ایمان نہیں لاتے حضرت حق تعالیٰ نے ان معصومانہ اور افسوس میں ڈوبے ہوئے جملوں کی قسم کھا کر فرمایا اور آپ کی ہ مت افزائی فرمائی کہ پیغمبر کے اس کہنے کی قسم بعض حضرات نے وقیلہ کا عطف علم الساعۃ۔ پر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور پیغمبر کے اس کہنے کا بھی علم ہے کہ یارب ان ہولا ۔ قوم لا یومنون۔
صاحب مدارک نے اس معنی کو اختیار کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ لوگ جو اپنے پیغمبر کو اس طرح تنگ کرتے ہیں وہ سخت عذاب کے مستحق ہوں گے اسی لئے آگے تفریع فرمائی کہ آپ ان سے اعرض کیجئے اپنا منہ پھیر لیجئے اور ان کو سلام وداع کہیے۔ جیسا کہ ترک تعلق کے موقعہ پر ایسا کیا کرتے ہیں کہ اچھا بھائی سلام نہیں مانتے تو جائو ان سے کہیے کہ تم کو سلام کرتا ہوں اب عنقریب ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا یعنی مرنے کے بعد ہی پتہ چل جائے گا اور قیامت میں تو جو کچھ ہونا ہے وہ ہونا ہی ہے تب ان کو اپنی سرکشی اور نافرمانی کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
تم سورة زخرف