43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 43:41

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

سو اگر ہم آپ کو اٹھا بھی لیں تب بھی ہمیں ان کافروں سے ضرور بدلا لینا ہے۔

(41) پھر اگر ہم آپ کو اٹھا بھی لیں تب بھی ہمیں ان کافروں سے ضرور بدلا لینا ہے۔
Ayah 43:42

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا ان کافروں سے جو ہم نے عذاب کا وعدہ کررکھا ہے وہ آپ کو دکھلا دیں بہرحال ہم ان پر ہر طرح سے قدرت رکھتے ہیں۔

(42) یا ان کافروں سے جو ہم نے عذاب کا وعدہ کررکھا ہے وہ آپ کی زندگی میں آپ کو دکھلا دیں بہرحال ہم ان پر ہر طرح قابو اور قدرت رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا گیا ہے وہ ضرور ہوگا خواہ وہ آپ کی زندگی میں ہو یا آپ کی وفات کے بعد کیونکہ یہ پوری طرح ہمارے بس میں ہیں چناچہ دونوں ہی باتیں ہوئیں آپ ﷺ کی حیات میں بھی کفار کو ذلیل ورسوا کیا گیا اور آپ کی وفات کے بعد بھی۔
Ayah 43:43

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

سو آپ اس قرآن پر جو آپ کی جانب بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے مضبوطی کے ساتھ قائم رہیے بیشک آپ سیدھی راہ ہیں۔

(43) سو آپ اے پیغمبر اس قرآن پر جو آپ کی جانب بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے مضبوطی کے ساتھ قائم رہیے بیشک آپ سیدھی راہ پر ہیں۔ یعنی آپ جس دین پر ہیں اس میں کجی نہیں اور وہی راہ سیدھی ہے لہٰذا جو کچھ آپ کو وحی کی جاتی ہے اس پر آپ خود بھی قائم رہئے اور دوسروں کو بھی تبلیغ کرتے رہیے۔
Ayah 43:44

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے بڑے شرف کی چیز ہے اور عنقریب تم سب پوچھے جائو گے۔

(44) اور قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سب سوال کئے جائو گے۔ اس آیت میں ذکر کا ترجمہ دو طرح کیا گیا ہے ایک نصیحت ایک شرف ہم نے دونوں ذکر کردیئے ہیں نصیحت کی بات تو ظاہر ہی ہے حضور ﷺ کے لئے بھی نصیحت ہے اور قوم کے لئے بھی۔ البتہ شرف کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا ہے تو چونکہ بلاواسطہ آپ مخاطب ہیں یہ آپ کے لئے بڑے شرف کی بات ہے اور آپ کی قوم سے بالواسطہ خطاب ہے اس لئے دونوں ہی کے لئے موجب شرف اور موجب عزت ہے ۔ حضرت حق تعالیٰ جس کو کلام کی عزت سے نوازیں اس کے اعزاز اور شرافت کا کیا ٹھکانا۔ سوال کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس قرآن اور اس شرف کا کیا حق ادا کیا اور کیسی تعظیم کی یہ پوچھا جائے گا قوم سے مراد بعض نے قریش اور بعض نے عرب اور بعض نے تمام امت لی ہے۔ بہرحال ! یہ قرآن جس پر اترا وہ بھی قابل احترام اور جس قوم کے لئے اترا وہ بھی دنیا کی قوموں میں بلند پا یہ قوم ہے۔ و صلی اللہ علیٰ رسولہ والہ و اصحابہ اجمعین
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور آپ ان پیغمبروں یعنی ان کی کتابوں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ دیکھئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا اور دوسرے معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے۔

(45) اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ دیکھئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمان کے علاوہ اور دوسرے معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے اور ان کو پوجا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کی تحقیق کی جائے کہ کیا سابقہ پیغمبروں کے زمانہ میں بھی کبھی کسی پیغمبر کے وقت میں ہم نے سوائے رحمان کے کسی دوسرے معبود کو مقرر کرنے اور پوجنے کا حکم دیا ہے یعنی اگرچہ رسول اس وقت نہیں ہیں ان کی کتابوں کو دیکھ کر بتائو کہ کسی نبی نے آج تک شرک کی تعلیم دی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کسی دین میں شرک روا نہیں رکھا اور پوچھ دیکھ یعنی جس وقت ان کی ارواح سے ملاقات ہو یا ان کے احوال کی کتابوں سے تحقیق کر۔ ان سے پوچھا مجاز ہے ان کتابوں کی تحقیق کرنے میں۔
Ayah 43:46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

(46) اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو موسیٰ نے کہا کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ یعنی عصا اور یدبیضا لے کر آئے اور اس کے دربار میں اپنے رسول ہونے کا اعلان کیا مگر اس نے نہیں مانا اور ان کے فرستادہ خدا ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔
Ayah 43:47

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آیا تو وہ دفعتہ ان نشانیوں کی ہنسی اڑانے لگے۔

(47) پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس ہماری اور نشانیاں لے کر آیا تو وہ ان نشانیوں کی ہنسی اڑانے لگے اور ان نشانیوں سے مذاق کرنے لگے یہ غالباً وہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر نویں پارے میں گزرچکا ہے۔ یعنی طوفان قحط امراض وغیرہ۔ حالانکہ یہ معجزات برنگ عقوبت اور عذاب دکھائے گئے تھے پھر بھی ان کو معمولی حوداثات پر محمول کرنے لگے اور ان نشانیوں کا مذاق اڑانے لگے اور ان نشانیوں کی حالت یہ تھی۔
Ayah 43:48

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم ان مکو جو نشانی دکھاتے تھے وہ نشانی پہلی نشانی سے بڑھ چھڑ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان کو مختلف قسم کی سزائوں میں گرفتا کیا تاکہ وہ باز آجائیں۔

(48) اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ نشانی پہلی نشانی اور اپنی قرین نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان کو مختلف قسم کی سزائوں اور تکالیف میں گرفتار کیا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلی نشانی کچھ چھوٹی ہوتی تھی اور دوسری بڑی ہوتی تھی بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عذاب آلود ہر نشانی بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایسا محاورہو ہے جیسے کوئی کہے ھما اخوان کل واحدمنھا اکرم علی الاخر۔ بہرحال ! فرعونیوں پر ان مصائب کا سلسلہ جاری رہا۔
Ayah 43:49

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے جادوگر تو اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تجھ سے کررکھا ہے ہمارے لئے دعا کردے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم ضرور راہ پر آجائیں گے۔

(49) اور ان فرعونیوں نے ہر موقعہ پر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے جادو گر تو اپنے پروردگار سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تجھ سے کررکھا ہے ہمارے لئے دعا کردے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم ضرور راہ پر آجائیں گے۔
Ayah 43:50

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان سے وہ سزا جس میں وہ مبتلا کئے گئے تھے دور کردی تو انہوں نے اسی وقت اپنے وعدے کو توڑ دیا۔

(50) پھرجب ہم نے ان سے وہ سزا جس میں وہ مبتلا کئے گئے تھے دور کردی اور ہٹالی تب ہی انہوں نے اپنے وعدے کو توڑ دیا۔ یعنی حسب عادت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر آواز دیتے اور یہ کہتے کہ اس عہد کی بنا پر جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اور وہ عہد شاید یہی کہ اگر یہ باز آجائیں گے تو ہم عذاب اٹھالیں گے اسی عہد کی بنا پر وعدہ کرتے اور دعا کی درخواست کرتے مگر منہ سے یہی کہتے کہ اپنے رب سے دعا کر۔ منہ سے یہ نہ نکلتا کہ ہمارے پروردگار سے دعا کردے۔ اس شقاوت لفظی کے بعد بھی موسیٰ حضرت حق تعالیٰ کی جانب میں دعا کرتے ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ہٹ جاتا ہوگا اور یہ بدبخت اپنے عہد اور وعدے کو عذاب کے دور ہوتے ہی توڑ دیتے ہوں گے۔ اسی کو ان آیتوں میں بیان فرمایا۔
Ayah 43:51

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکارا اور کہا اے میرے قوم کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اور میرے نیچے یہ نہریں جاری ہیں کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔

(51) اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور ان کو پکارا اور کہا اے میری قوم کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اور میرے نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔ یعنی فرعون نے خیال کیا کہیں یہ عذاب کا سلسلہ اور یہ معجزات دیکھ کر میری قوم ڈگمگا نہ جائے اس خوف سے اپنی عظمت قائم رکھنے کو پکارا۔ یا تو لوگوں کو جمع کرکے کوئی خطاب کیا ہوگا یا منادی کے ذریعے لئے اعلان کرایا ہوگا کہ سلطنت مصر تمام کی تمام میری ہے اور میرے محل کے پائیں اور باغات میں نہریں بہہ رہی ہیں میری بارہ دری کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اب تم غور کرو کہ مجھ میں اور موسیٰ میں کون بہتر ہے جو بہتر ہو اس کے ساتھ دو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس گردوپیش کے ملکوں میں مصر کا حاکم بڑا ہوتا تھا اور نہریں اس نے بنائی تھیں دریائے نیل کا پانی اپنے باغ میں لایا تھا کاٹ کر۔
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جس کی کوئی عزت نہیں اور نہ وہ صاف طور سے بول ہی سکتا ہے۔

(52) بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جس کی کوئی عزت نہیں اور نہ وہ صاف طور سے بول ہی سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بےقدر کہا اور ان کی زبان کی لکنت پر طعن کیا اور اس طرح اپنی برتری جتائی۔
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

پھر اگر یہ خدا کا فرستادہ ہے تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے یا اس کے ساتھ فرشتے ہی جمع ہوکر آتے۔

(53) پھر اگر یہ خدا کا فرستادہ ہے تو اس کے ہاتھوں میں سونے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے یا اس کے ساتھ فرشتے ہی جمع ہوکر اور پر اباندھ کر آتے۔ یعنی یہ خدا کا فرستادہ نہیں ورنہ تو عام بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ اپنے خاص امراء اور عہد یداروں کو سونے کے کنگن پہناتے ہیں ان کے جلو میں فوج چلتی ہے۔ یہ کیسا خدا کا خاص آدمی ہے نہ اس کے ہاتھوں میں کنگن نہ اس کے جلو میں فرشتوں کی فوج یہ کیسا خدا تعالیٰ کا فرستادہ ہے دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض فرعون نے اپنی قوم کو متاثر و مغلوب کرلیا اور انہوں نے اسی کا کہا مانا بیشک وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔

(54) غرض ان باتوں سے فرعون نے اپنی قوم کو مغلوب اور متاثر کرلیا اور ان کی عقل کھودی پھر انہوں نے اسی کا کہا مانا اور اس کی اطاعت کی بیشک وہ پہلے ہی سے شرارت پسند لوگ تھے۔ یعنی فرعون نے اپنی باتوں سے قوم کو متاثر کرلیا اورر وہ اس کے ہاں میں ہاں ملانے لگے کیونکہ وہ حد سے نکل جانے والے اور شرارت پسند تو پہلے ہی سے تھے۔
Ayah 43:55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہم کو غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلا لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔

(55) پھرجب انہوں نے اپنے عناد اور سرکشی سے ہم کو سخت غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلا لیا اور ان سب کو ڈبو دیا۔ یعنی ان کی سرکشی کا انجام یہ ہوا کہ ہمارے تحمل کی انتہا ہوگئی اور ان کی ان حرکات نے ہم کو غصہ دلایا اور ہم نے ان سے بدلا لیا اور ان سے غرق کردیا۔
Ayah 43:56

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

اور ہم نے پیچھے آنے والوں کے لئے ان لوگوں کو ایک گزری ہوئی قوم اور فسانہ عبرت بنادیا۔

(56) اور ہم نے پیچھے آنے والوں کے لئے ان لوگوں کو ایک گزری ہوئی قوم اور فسانہ عبرت بنادیا۔
Ayah 43:57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب ابن مریم (علیہ السلام) کے متعلق ایک عجیب بات کہی گئی تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ اس بات سے خوشی کے مارے شور مچانے لگے۔

(57) اور جب ابن مریم (علیہ السلام) کے متعلق بعض معترضین نے ایک مضمون بیان کیا تب ہی آپ کی قوم کے لوگ اس مضمون پر خوشی کے مارے شور مچانے لگے۔ چونکہ قرآن میں اکثر بتوں کی برائی اور غیر اللہ کی پرستش کے مضامین بیان ہوتے تھے اس لئے دین حق کے منکر اس فکر میں رہتے تھے کہ کوئی ایسی بات نکال کر لائو جو ہمارے بتوں کا الزام اور ان کی برائی ہلکی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے کسی موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجا جائے اس میں خیر نہیں یا ایک موقعہ پر سورة انبیاء کی آیت انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم یعنی جن چیزوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔ اسی قسم کے اور مضامین جن میں عمومی طور پر معبودان غیر اللہ کی مذمت ہوئی تھی اس پر عبداللہ بن زبعری یا کسی دوسرے شخص نے یہ بات کہی کہ جب آپ معبود ان غیر اللہ میں خیر نہیں پاتے اور ان کو دوزخ کا ایندھن کہتے ہیں تو اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور بہت سے فرشتے بھی سب خیر سے خالی ہوئے اور اگر ان میں خیر ہے تو پھر ہمارے اصنام ہی کا کیا قصور ہے کہ ان میں خیر نہ ہو یہ اعتراض جب کیا گیا تو دین حق کے منکر اس پر خوشی کے مارے شور مچانے لگے اور قہق ہے لگانے لگے۔ عبداللہ بن زبعری نے جو اعتراض کیا یا جو معاوضہ کیا اس کا منشا صرف یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کے ابطال شرک کا جواب دیا جائے اور توحید تو غلط بتایا جائے اور شرک کی صحت کو ثابت کیا جائے کہ جب عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو بھی لوگ پوجتے ہیں تو بس شرک کرنا اللہ کے ساتھ صحیح ہے۔ بہرحال ! آگے کی آیتوں میں عبداللہ بن زبعری کے انہی شبہات کا جواب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن میں ان کا ذکر آوے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی خلق پوجتے ہیں۔ انہیں کیوں خوبی سے یاد کرتے ہو اور ہمارے پوجوں کو برا کہتے ہو۔ خلاصہ : یہ کہ معبود بغیر اللہ سب ہی برے ہونے چاہئیں ہمارے بتوں کو برا کہتے ہو اور مسیح (علیہ السلام) کی تعریف کرتے ہو ابن مریم کو برا کیوں نہیں کہتے۔
Ayah 43:58

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) یہ بات انہوں نے آپ سے محض جھگڑے کی غرض سے بیان کی ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ سخت جھگڑالو واقع ہوئے ہیں۔

(58) اور کہنے لگے ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی ابن مریم (علیہ السلام) یہ بات اور یہ مضمون اور یہ کہاوت انہوں نے آپ سے محض جھگڑا کرنے کی غرض سے بیان کی ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جھگڑالو واقع ہوئے ہیں۔ یعنی یہ اعتراض عبداللہ بن زبعری کا محض جھگڑا کرنے کی بنا پر ہے اور یہ لوگ جھگڑالو واقع ہوئے ہیں اور جھگڑالوہی ہیں۔
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) محض ایک بندہ ہے جس پر ہم نے اپنا فضل کیا تھا اور بنی اسرائیل کے لئے اس کو ایک نمونہ قدرت بنایا تھا۔

(59) وہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) محض ایک ایسا بندہ ہے جس پر ہم نے اپنا انعام اور فضل کیا تھا اور بنی اسرائیل کے لئے اس کو ایک نمونہ قدرت بنایا تھا۔ اورر جو بندہ ہمارا منعم علیہ ہو ظاہر ہے کہ وہ خیر ہونے سے خالی نہ ہوگا۔ بخلاف اصنام اور شیاطین کے کہ ان میں یہ خیرت نہیں اور خاص طور پر شیاطین میں تو ایک اور بھی مانع خیرت موجود ہے اور وہ ان کا کفر ہے پس ابن مریم (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے منعم علیہ ہیں اس لئے ان کے خیر ہونے پر ان کا معبود من غیر اللہ ہونا موثر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابن مریم (علیہ السلام) میں اور دوسرے اصنام اور شیاطین میں فرق ہے اور آپ کی قوم کا خوش ہوکر غل مچانا اور یہ سمجھنا کہ ہم نے محمد کو لاجواب کردیا محض جہالت اور ناسمجھی ہے اور یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابن مریم یا حضرت عزیر یا جلیل القدر فرشتے ان سب میں خیر ہے اور دوسرے اصنام اور شیاطین وغیرہ میں خیر نہیں۔ باقی انکم وماتعدون۔ پر جو اعتراض تھا اس کا جواب سورة انبیاء میں گزر چکا ہے۔ ہماری اس مختصر تفصیل کے بعد ہم کو امید ہے کہ عبداللہ ابن زبعری اور اس کے ساتھیوں کے اعتراض اور اس کا جواب سمجھ میں آگیا ہوگا بنی اسرائیل کے نمونہ قدرت کا مطلب یہ ہے کہ ابتداء بنی اسرائیل کے لئے اور بعد میں تمام امتوں کے لئے ان کی ذات گرامی ایک نمونہ قدرت تھی اور ہم تو اگر چاہیں تو اس سے بھی زیادہ اپنی قدرت کے کرشموں کا اظہار کرسکتے ہیں وہ یہ کہ۔
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے قائم مقام ہوں۔

(60) اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے قائم مقام ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عیسیٰ میں آثار فرشتے کے سے تھے اس سے معبود نہیں ہوگیا اگر چاہیں تمہاری نسل سے ایسے لوگ پیدا کریں۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمہارے ہاں فرشتے پیدا کرتے پھر جس طرح تم رہتے ہو اور مرتے ہو اسی طرح وہ بھی پیدا ہوتے اور مرتے اور فرشتوں کا آدمیوں سے پیدا ہونا یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونے سے زیادہ عجیب ہوتا یا یہ مطلب ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ تمہاری بجائے تمہارے بدلے زمین میں فرشتے پیدا کرتے۔ بہرحال ! ابن مریم (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اور اس منعم علیہ ہونا اور اس کا دنیا کے لئے نمونہ قدرت ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں ہماری قدرت اس سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہے۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور بیشک وہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک علامت ہے سو تم لوگ اس قیامت کے وقوع شک نہ کرو اور تم میری پیروی کرو یہی سیدھی راہ ہے۔

(61) اور بیشک وہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی ایک علامت ہے سو تم لوگ اس قیامت کے وقوع میں شک نہ کرو اور میراکہا مانو یہی سیدھی راہ ہے - یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش خود اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت اور بعث کا وقوع ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ سب کو فنا کرنے کے بعد سب کو دوبارہ پیدا کردے میری پیروی کرو یعنی میں نے جو احکام بھیجے ہیں ان پر چلو یا میرے رسول کی پیروی کرو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دوبارہ آسمان سے آنا قیامت کے وقوع کی بہت بڑی دلیل ہے سو تم قیامت میں شبہ نہ کرو اور میری شریعت کی پیروی کرو۔ یہ معنی ظاہر ہیں اور حضرت ابن مریم (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور نزول من اسماء قیامت کی علامتوں میں سے بڑی علامت ہے۔ حضر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آنا نشان قیامت کا ہے۔
Ayah 43:62

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور شیطان تم کو روک نہ دے کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

(62) اور شیطان کو اس سیدھی راہ سے روک نہ دے کیونکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ یعنی جو باتیں توحید کی بیان ہوئیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا منعم علیہ ہونا مذکور ہوا اس سے شیطان تم کو روک نہ دے آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ قوم سے فرمایا اور بنی اسرائیل کو جو تلقین فرمائی اس کا ذکر ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 43:63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ دلائل واضحہ لے کر آیا تو اس نے کہا لوگو میں تمہارے پاس سمجھ کی باتیں لے کر آیا ہوں اور نیز اس لئے آیا ہوں کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو ان کو حقیقت سے تمہیں آگاہ کردوں سو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

(63) اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) دلائل واضحہ لے کر آیا تو اس نے کہا میں تمہارے پاس حکمت اور سمجھ کی باتیں لے کر آیا ہوں اور نیز اس لئے آیا ہوں کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو ان کی حقیقت سے میں تم کو آگاہ کردوں اور تم سے بیان کردوں پس تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہامانو۔
Ayah 43:64

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک وہ اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

(64) بلا شبہ اللہ تعالیٰ جو ہے وہی میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے سو تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ ہے اس میں کہیں ان کے معبود ہونے کا ذکر نہیں ، بنیات سے مراد معجزات مختلف فیہ سے مراد وہ بعض دینی مسائل جس میں بعض لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا تھا۔
Ayah 43:65

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر بنی اسرائیل کے بہت سے گروہوں نے آپس میں اختلاف ڈال دیا سو ایسے ظالموں کے لئے ایک درد ناک دن کے عذاب سے بڑی تباہی ہے۔

(65) پھربنی اسرائیل کے بہت سے گرو آپس میں پھٹ گئے اور آپس میں اختلاف ڈال لیا۔ سوای سے ظالموں کے لئے ایک درد ناک دن کے عذاب سے بڑی تباہی اور بڑی خرابی ہے۔ یعنی یہود ان کے منکر ہوئے نصاریٰ ان کے قائل ہوئے پھر نصاریٰ میں بھی فرقے فرقے ہوگئے کوئی اقانیم ثلثہ کا قائل ہوا کسی نے ان کو اللہ کہا کسی نے خدا کا بیٹا کہا ایسے لوگوں کے لئے وعید فرمائی کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جنہوں نے اختلاف ڈال کر ابن مریم کی صحیح تعلیم کو برباد کردیا آگے منکروں کے لئے تہدید بیان فرمائی۔
Ayah 43:66

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

اب یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک قیامت آپہنچے اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔

(66) یہ دین حق کے منکر نہیں انتظار کر رے ہیں مگر قیامت کا کہ وہ ان پر اچانک آپہنچنے اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔ یعنی جب دلائل واضحہ اور براہین ساطعہ کے بعد کفر کو ترک نہیں کرتے اور اسلام کے قائل نہیں ہوتے تو بس یہ لوگ قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر بیخبر ی میں اچانک آپہنچے اس وقت یہ ایمان لائیں حالانکہ اس وقت ایمان لانا ان کو نفع نہ دے گا آگے اس دن کی مختصر سی تفصیل ہے۔
Ayah 43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

اس دن بجز تقوی کے تمام دوست آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔

(67) اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر اہل تقویٰ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دن دوست سے دوست بھاگے گا کہ اس کے سبب سے میں نہ پکڑا جائوں۔ یعنی اہل ایمان کی دوستیاں باقی رہیں گی دنیا کے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے دوستیاں اور دوستانے اہل دنیا کے دشمنیوں سے بدل جائیں گے کیونکہ اس دن باطل کی دوستی کا ضرر اور حق کی دوستی کا نفع ظاہر ہوجائے گا۔
Ayah 43:68

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

اے میرے بندو آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم کسی طرح غمگین ہو گے۔

(68) اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔ یہ خطاب اہل ایمان کو حق تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔
Ayah 43:69

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

یہ بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار رہے۔

(69) یہ بندہ وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرماں بردار رہے۔
Ayah 43:70

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

جائو تم اور تمہاری بیویاں جنت میں خوشی خوشی چلے جائو۔

(70) جائو تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائو خوش مسرور۔ حبرکہتی میں جس کے چہرے پر آثار خوشی نمایاں ہوں۔
Ayah 43:71

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان اہل جنت کے روبرو سونے کی رکابیاں اور جام پیش کئے جارہے ہوں گے اور وہاں ہر وہ چیز جس کی دل خواہش کریں اور جس سے آنکھیں لذت محسوس کرتی ہوں موجود ہوں گے اور تم اس جنت میں ہمیشہ رہو گے۔

(71) ان اہل جنت کے روبرو سونے کی رکابیاں اور سونے کے جام اور آپ خورے لئے پھرتے ہوں گے اور ان کے روبرو پیش کئے جارہے ہہوں گے اور وہاں جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دل خواہش کریں اور جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں اور تم اس جنت میں ہمیشہ رہوں گے۔ یعنی ہر قسم کی ماکولات سے بھری ہوئی قابیں اور رکابیاں اور ہر قسم کی مشروبات سے لبریز گلا اور آب خورے دل کی ہر خواہش اور آنکھیں جس سے لذت محسوس کریں وہ ہر چیزوہاں موجود ہوگی اور اہل جنت کو ارشاد ہوگا کہ تم اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔
Ayah 43:72

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے اعمال کے عوض وارث یعنی مالک بنادیئے گئے ہو۔

(72) اور وہ جنت یہی ہے جس کے تم اپنے اعمال کے عوض جو کچھ کیا کرتے تھے وارث یعنی مالک بنادیئے گئے ہو۔ یعنی تم جو نیک کا عمال دنیا میں کیا کرتے تھے تم سے ان نیک اعمال کے عوض جس جنت کا وعدہ کیا جاتا تھا یہ وحی جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو۔
Ayah 43:73

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

یہاں تمہارے لئے بکثرت میوے ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔

(73) اس جنت میں تمہارے لئے بکثرت میوے ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔ آگے اہل جہنم کا ذکر فرمایا حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چن چن کر۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جو میوے پسندیدہ ہوں وہ کھاتے رہو گے ۔
Ayah 43:74

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

جو لوگ گنہگار ہیں وہ یقینا ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔

(74) بلا شبہ جو لوگ مجرم اور گناہ گار ہیں وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں۔
Ayah 43:75

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

ان پر سے کسی وقت بھی وہ عذاب ہلکا نہیں کیا جائیگا۔ اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے

(75) ان پر سے کسی وقت بھی وہ عذاب ہلکا اور سست نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی عذاب میں مایوس اور ناامید پڑے رہیں گے۔
Ayah 43:76

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے۔

(76) اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی بلکہ وہ خود ہی ظلم اور ناانصافی کرنے والے تھے۔
Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور وہ دوزخ کے داروغہ کو پکار کر کہیں گے اے مالک کسی طرح تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے یعنی موت دے دے وہ مالک جو اب دیگا تم کو ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے۔

(77) اور وہ اہل عذاب دوزخ کے داروغہ کو پکار کر کہیں گے اے مالک تیرا پروردگار ہمارا کام ہی پورا کردے اور ہمارا فیصلہ ہی کردے وہ مالک جواب دے گا تم کو ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے۔ لیقض علینا ربک یعنی ہم کو موت دیدے اگر عذاب سے نکالتا نہیں تو مار کر ہم کو ختم کردے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مالک نام ہے فرشتے کا جو دوزخ کا داروغہ ہے کہتے ہیں ہزار برس تک چلا دیں گے تب وہ جواب دے گا ناامیدی کام فیصل کرچکے یعنی مار ڈالے عذاب کر کر۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

بلا شبہ ہم تمہارے پاس دین حق لائے ہیں لیکن تم میں اکثر حق بات سے نفرت رکھتے ہیں۔

(78) بلاشبہ ہم نے تمہارے پاس سچا دین پہنچایا لیکن تم میں سے اکثر دین حق سے نفرت کرتے اور برا مانتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ یہ بھی مالک کا قول ہو۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے کوئی کاروائی طے کرلی ہے تو ہم نے بھی اپنی بات طے کررکھی ہے

(79) کیا انہوں نے کوئی کاروائی اور کوئی بات طے کی ہے تو ہم نے بھی اپنی بات طے کررکھی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافروں نے بل کر مشورہ کیا کہ تمہارے تغافل سے اس نبی کی بات بڑھی اب سے جو اس دین میں آوے اسی کے ناطے والے اس کو مار کر لٹا پھیریں اور جو شہر میں اوپری آوے اس کو پہلے سنا دو کہ اس شخص کے پاس نہ بیٹھے سو اللہ نے ٹھہرایا ان کا خراب کرنا۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے خلاف کوئی سازش کی ہوگی اس کید اور سازش کی خلاف یہ فرمایا کہ تم نے اگر کوئی ایسی سازش کی ہے تو ہم نے بھی اس سازش کا توڑطے کررکھا ہے چناچہ ان کی سازش ناکام کردی جائے گی۔
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں کو اور ان کے باہمی مشوروں کو نہیں سنتے ہاں ہم ضرور سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے جو ان کے پاس موجود ہیں وہ سب لکھتے رہتے ہیں۔

(80) کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو خفیہ باتوں کو اور ان کے باہمی مشوروں کو نہیں سنتے بیشک ہم ضرور سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے جوان کے پاس موجود ہیں وہ لکھتے رہتے ہیں۔ یعنی ہم خود بھی سب کچھ جانتے ہیں اور کراماً کاتبین متعین ہیں جو ہر بات لکھتے رہتے ہیں اور مقدمہ کے وقت وہ تحریر پیش کی جائیگی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ فرشتے رہتے ہیں ہر کام اس کا لکھتے ہیں۔ سر کہتے ہیں دل کے بھید کو اور نجوی کہتے ہیں جو چند آدمی بیٹھ کر خفیہ مشورہ کریں بعض نے کہا دو آدمیوں کی خفیہ بات چیت کو سر کہتے ہیں اور دو سے زائد آدمیوں کی بات چیت نجوی کہتے ہیں۔ بہرحال ! ہر بھید اور خفیہ سے خفیہ بات کو وہ سنتا اور جانتا ہے۔