42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 42:1
(1) حٰم ٓ
Ayah 42:2
(2) عٓسٓقٓ
Ayah 42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

جس طرح اے پیغمبر آپ پر یہ سورت نازل کی جارہی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جو کمال قوت و کمال حکمت کا مالک ہے آپ پر اور آپ سے پہلے اور رسولوں پر وحی بھیجتا رہا ہے۔

(3) جس طرح اے پیغمبر یہ سورت یا یہ کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے آپ پر اور ان رسولوں پر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں وحی بھیجتا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں پر اپنے احکام بذریعہ وحی بھیجا کرتا ہے جس طرح یہ سورت آپ پر نازل کی گئی اسی طرح آپ پر اور آپ سے پہلے لوگوں پر بھی اللہ تعالیٰ جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے اپنی وحی بھیجتا رہا ہے یعنی عزیز ہے اس لئے کوئی اس کو احکام بھیجنے سے روک نہیں سکتا اور چونکہ حکیم بھی ہے اس لئے اس کے نازل کردہ احکام میں اس کی مخلوق کے لئے بڑی حکمتیں پنہاں ہیں۔
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ بھی آسمانوں میں اور امین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہی سب سے بدتر اور عظیم المرتبت ہے۔

(4) جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہی سب سے بلند اور برتر اور عظیم الشان ہے۔ یعنی سب زمین و آسمان میں اسی کی بادشاہت اور تصرف ہے وہی سب سے بلند وبالا اور سب سے بزرگ ہے۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر کی جانب سے پھٹ پڑں اور فرشتے اپنے رب کی حمدوثناء کے ساتھ پاکی بیان کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں خوب سن لو کہ اللہ ہی گناہوں کا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

(5) قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو زمین میں ہیں بخشش طلب کرتے ہیں خوب سن لو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آسمان پھٹ پڑیں رب کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کی کثرت ذکر کی تاثیر ہو اور پھٹ پڑیں حضرت نے فرمایا آسمان میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ آسمان کا پھٹ پڑنا یا تو عظمت الٰہی کی وجہ سے یا کثرت ملائکہ کے ذکر کی تاثیر سے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ آسمان چڑ چڑ بولتا ہے اور اس کو لائق ہے کہ وہ چڑ چڑ بولے آسمان میں کہیں چار انگل بھی ایسی جگہ نہیں جہاں فرشتے رکوع اور سجدے میں نہ ہوں یا آسمان اس وجہ سے پھٹ پڑے کہ رحمان کی طرف لوگ اولاد کی نسبت کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورة مریم میں مذکور ہوا بوجھ پڑنے سے عام طور سے نیچے کا حصہ پھٹتا ہے لیکن من فوقھن بطور مبالغہ فرمایا کہ نیچے سے تو کیا آسمان اوپر سے پھٹ پڑے۔ بخشش مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو ملن فی الارض سے مومن مراد ہوں جیسا کہ سورة مومن میں گزر چکا ہے اور اگر عام ہو تو پھر معافی طلب کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ عذاب استیصال سے بچنے کے لئے معافی طلب کرتے ہیں بہرحال ! کفار کے لئے معافی اگر مراد ہو تو ایک وقت خاص اور محدود وقت مراد ہوگا مرنے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافروں کے لئے ایمان کی توفیق کے لئے دعا کرتے ہوں۔ آگے اعلان فرمایا کہ یادرکھو کہ گناہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا وہی ہے کوئی دوسرا یہ کام نہیں کرسکتا۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں کو کارساز نا رکھا ہے اللہ تعالیٰان کو دیکھ رہا ہے اور آپ ان پر مختار کار نہیں ہیں۔

(6) اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کارساز اور رفیق بنارکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر نگہبان ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ اے پیغمبر ان پر مختار کار نہیں ہیں اور آپ ان کوئی ذمہ نہیں ہے۔ یعنی جو ایسا کررہے ہیں ان کی دیکھ بھال ہم پر ہے اور ہم ہی ان کو وقت پر سزا دیں گے آپ سے ان کے جرائم کی کوئی باز پرس نہ ہوگی۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور جس طرح ہر پیغمبر پر اس کی قومی زبان میں ہم نے وحی بھیجی ہے اسی طرح آپ پر ہم نے قرآن عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ کو اور مکہ کے چاروں طرف رہنے والوں کو خبردار کردیں اور اسی دن سے ڈرادیں جو سب کے جمع ہونے کا دن ہے جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے اس دن ایک فریق جنت میں داخل ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔

(7) اور ہم نے اسی طرح اس قرآن عربی کو آپ پر نازل کیا ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اور یہ قرآن عربی زبان میں اس لئے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ کو اور مکہ کے چاروں طرف رہنے والوں کو خبردار کردیں اور اس دن سے ڈرادیں جو سب کے جمع ہونے کا دن ہے اس دن کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے اس دن ایک فریق جنت میں داخل ہوگا اور ایک فریق جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ وکذلک کی تشبیہ کا دو طرح ترجمہ کیا گیا ہے ہم تم دونوں کو ترجمہ اور تیسیر میں ظاہر کردیا ہے یعنی مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر پیغمبر کو اس کی قومی زبان میں وحی بھیجی گئی ہے اس طرح آپ کو عربی زبان کا قرآن دیا گیا ہے یا یہ کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہم نے اس قرآن عربی کو آپ کی طرف اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ جو چھوٹے چھوٹے گائوں اور قصبات کی اصل ہے اور بڑا شہر ہے اس کے بسنے والوں کو ڈرا دیں اور خبر دار کردیں اور اس کے چاروں طرف کے رہنے والوں کو ڈرادیں اور جمع ہونے کے دن سے یعنی قیامت سے ڈرادیں جس کے آنے اور واقع ہونے میں کوئی گنجائش شک کرنے کی نہیں کیونکہ دلائل عقلی اور نقلی سے قیامت کا وقوع ثابت ہوچکا ہے۔ اس دن کا خلاصہ یہ ہے کہ اس دن ایک فریق یعنی مومن کنت میں ہوں گے اور ایک فریق یعنی منکر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔ ومن حولھا چونکہ مکہ دنیا کے وسط میں واقع ہے اس لئے ومن حولھا کا مطلب یہ ہے کہ تمام عالم کے لئے آپ ڈرانے والے ہیں اور اگر ومن حولھا سے عموم مراد نہ لیا جائے بلکہ مکہ معظمہ کے اس پاس کی بستیاں مراد لی جائیں تو پھر یہ مطلب ہوگا کہ ابتداء میں اول ان لوگوں کو ڈرایا جائے اوپر فرمایا تھا کہ ان پر وکیل اور مختار کار نہیں ہیں اب اس کو اور واضح فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ گائوں فرمایا مکہ کو سارے عرب کا مجمع وہی ہوتا ہے اور ساری دنیا میں گھر اللہ کا وہیں آس پاس اول عرب بعد اس کے ساری دنیا۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب لوگوں کو ایک ہی فرقہ کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو نافرمان ہے ان کا نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار ۔

(8) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو ان سب کو ایک فرقہ ایک ہی جماعت اور ایک ہی طریقہ کا بنادیتا لیکن وہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو ظالم اور نافرمان ہیں ان کا نہ کوئی یارہوگا نہ مددگار۔ یعنی یہ کفرو اسلام مشیت الٰہی پر موقوف ہے وہ چاہتا تو سب کو ایک طریقہ کا بناکر ایک ہی فرقہ کردیتا لیکن وہ جس کو چاہے اپنی رحمت و ہدایت کے سائے میں داخل فرمالیتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں اور جن کا شیوہ ہی کفر ہے ان کا نہ کوئی دلی جو ان کی شفاعت کرے اور نہ کوئی مددگار جو عذاب کو دفع کرے۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان مشرکوں نے خدا کے سوا دوسروں کو اپنا کار ساز بنارکھا ہے تو اللہ تعالیٰ جو ہے وہی کارساز ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

(9) کیا ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور دوسروں کو کار ساز بنارکھا تھا اور اگر کسی کو کارساز بنارکھا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے اور وہی کام بنانے والا ہے اور روہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی کار ساز اللہ تعالیٰ کے علاوہ یہ مشرک دوسروں کو بناتے ہیں حالانکہ حقیقی کار ساز اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور وہی مستحق ہے کہ اس کو کار ساز بنایا جائے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے یہ شاید اس لئے فرمایا کہ مردوں کو زندہ عطا کرنا کسی کے قبضے میں نہیں اور خاص کر ایسے وقت جبکہ برائے نام کام آنے کا بھی سلسلہ منقطع ہوجائے ایک مردوں کا زندہ کرنا کیا وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جو آپ سے اختلاف کرتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے اللہ میرا رب ہے میں نے اسی پر بھروسہ کررکھا ہے۔

(10) اور جو آپ سے اختلاف کرتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد اور اسی کے حوالے ہے اور اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اور اسی پر میں نے توکل اور بھروسہ کررکھا ہے اور میں ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی تم جو توحیدورسالت اور قیام قیامت وغیرہ میں باوجود دلائل اور براہین قاطعہ کے پھر بھی مجھ سے اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہی پروردگار ہے اور تمہارے اختلاف کی وجہ سے جو نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے ان نتائج کے لئے میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کررکھا ہے اور میں دین ودنیا کے تمام کاموں میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

اور میں ہر بات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ وہی آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے بنائے اور اسی نے چوپایوں کے جوڑے یعنی نرومادہ بنائے وہ تم کو اس میں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے کوئی چیز اس جیسی نہیں اور وہی سب کی سننے والا سب کو دیکھنے الا ہے۔

(11) وہی اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اسی نے تمہارے لئے تمہاری جنس میں سے جوڑے بنائے اور اسی نے چوپایوں میں سے جوڑے بنائے وہ تم کو اس تدبیر سے روئے زمین پر پھیلاتا اور بڑھاتا ہے کوئی چیز اس جیسی نہیں اس کی طرح کا سا کوئی اور نہیں اور وہی سب کی سننے والا سب کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی تم میں اور دیگرحیوانات میں نرومادہ کے جوڑے پیدا کئے اور اس طریقہ سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا اور بڑھاتا رہتا ہے کوئی چیز بھی اس جیسی نہیں یعنی اس اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی دوسرا نہیں وہی سب کی سننے والا اور سب کو جاننے والا ہے۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں سب اسی کے اختیار میں ہیں جس کی روزی چاہتا ہے فراغ کردیتا ہے اور جسی کی روزی چاہتا ہے کم کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے۔

(12) آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں سب اسی کے اختیار میں ہیں جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس روزی کو چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور نپی تلی کردیتا ہے اور اس کی روزی تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے اور ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کا تصرف ہے جس کی روزی چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے کم کردیتا ہے اور اس کو تنگدست بنادیتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر شخص کو مصلحت سے خوب واقف ہے جس کو جس لائق سمجھتا ہے اپنی حکمت کے موافق اسی قدر روزی سے نوازتا ہے۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

خدا نے تم لوگوں کے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس دین کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جو ہم نے آپ کے پاس بھی وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ تم سب اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ان مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلاتے ہیں بہت گراں گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا اپنی جانب اس کی رہنمائی فرماتا ہے۔

(13) اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے وہی دین مقرر کیا ہے اور دین میں تمہارے لئے وہی راہ ڈال دی ہے جس دین کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس بھی وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس دین کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی دیا تھا اور ان کی امتوں کو یہ کہا تھا کہ تم سب اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا اور متفرق نہ ہونا ان مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلاتے اور دعوت دیتے ہیں بہت گراں اور بھاری گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی جانب رہنمائی کرتا اور اپنی طرف راہ دکھاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی ہے اس کو قائم کرنے کے طریق ہر وقت اللہ نے جدا ٹھہرائے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ دین کی اصولی باتیں ہر زمانے میں ایک رہی ہیں یعنی توحید رسالت اور مرنے کے بعد جی اٹھنا اور قیامت وغیرہ یہ سب باتیں ہر پیغمبر کے دین میں یکساں ہیں ان میں کوئی فرق نہیں اس لئے اصولی اعتبار سے سب پیغمبروں کا دین ایک ہی ہے البتہ ضروریات زمانہ کے اعتبار سے اعمال کے طریقے مختلف ہیں کسی میں کم کسی میں زیادہ تاآنکہ آخری دور میں اس کی تکمیل ہوگئی۔ دین عطا کرکے رسولوں کی اتباع کرنے والوں سے فرمایا کہ آپس میں ٹکڑے نہ ہوجانا اور پھوٹ نہ ڈالنا۔ کبرعلی المشرکین کا یہ مطلب کہ انہی عقائد اور اسی دین کی طرف جو سابقہ انبیاء کا رہا ہے جب ان مشرکوں کو دعوت دیتے ہیں تو ان کو ناگوار اور ان پر گراں ہوتا ہے اور جب صحیح بات کو قبول کرنے میں ناگواری ہو تو ان کی ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے کیونکہ ہدایت کے دو طریقے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بلا اسباب کے اپنی طرف کھینچ لے اور توفیق ایمان کی عطا فرمادے۔ دوسرے یہ کہ کوئی بندہ اسکی جانب سے رجوع کرے اور ہدایت کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی اپنے تک رہنمائی فرمادیتا ہے اور اس کی حضرت حق تعالیٰ تک رسائی ہوجاتی ہے۔ انہی دو طریقوں کو حضرات صوفیائے کرام جذب اور سلوک سے تعبیر کرتے ہیں بہرحال ان کو ہدایت کے یہ دو طریقے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ توفیق کے بعد اگر کوئی انابت اور رجوع الی اللہ کرتا ہے تو اس کو مراتب قرب اور درجات عالیہ سے نوازا جاتا ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور وہلوگ یعنی اہل کتاب بعداس کے کہ ان کو صحیح علم پہنچ چکا تھا محض آپس کی ضد بحث سے الگ الگ ہوگئے اور اے پیغمبر آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت معین تک کی بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے مابین کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور وہ لوگ جو ان کے بعد کتاب الٰہی کے وارث کئے گئے وہ اس کتاب کی طرف سے ایک سخت تردد انگیز شک میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

(14) اور وہ امم سابقہ یعنی اہل کتاب بعد اس کے کہ ان کو صحیح علم پہنچ چکا تھا آپس کی ضد بحث اور حسد سے الگ الگ ہوگئے اور اے پیغمبر اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت معین کی بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور وہ لوگ جو ان کے بعد کتاب دی گئی وہ تو اس کتاب کی طرف سے ایک سخت تردد انگیز شک میں مبتلا ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ باوجود ان اقیم والدین ولا تتفرقوافیہ کا صاف حکم دینے اور ان کے پاس صحیح علم پہنچ جانے کے بعد وہ لوگ تفرقہ اندازی کے مرتکب ہوئے اور یہ تفرقہ بھی محض ضد اور حسد کی وجہ سے ڈالا اور کتب سماویہ میں تحریف اور تغیر بالمعنی کرکے فرقے فرقے ہوگئے اور اس تفرقہ انگیز حرکت کے باعث ان کا فیصلہ دنیا ہی میں کردیا جاتا مگر چونکہ ازل میں مہلت اور وقت معین تک عدم گرفت کا قول ہوچکا ہے اور اجل مسمی والی بات نکل چکی ہے اس لئے وہ مانع ہوئی اور جو لوگ پیچھے آئے اور کتاب ان کے ہاتھ لگی تواب وہ سخت تردد اور خلجان میں پڑگئے کہ کس کی بات مانیں اور کون سے معنی اختیار کریں اور کون سے نہ کریں۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پہلے لوگ تو ضد سے اپنی بات ثابت کرنے کو معنی بدل گئے اور پیچھے والے مختلف باتیں دیکھتے ہیں حیران ہوتے ہیں کہ معنی اس طرح یا اس طرح یہ اختلاف برا ہے جن معنوں میں خلاف نکلتا ہو اور کسی طرح معنی کئے ہیں جس میں خلاف نہیں نکلتا اس کا منع نہیں۔ بعض حضرات نے وان الذین او ثوا الکتاب سے عہد نبوی ﷺ کے مشرکین مراد لئے ہیں کہ امم سابقہ کے بعد جب اس امت کو کتاب دی گئی تو یہ اس کی جانب سے شک اور تردد میں پڑگئے۔ بہرحال یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں ہم نے حضرت شاہ صاحب (رح) کے معنی کو تیسیر میں پیش نظر رکھا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

سو آپ لوگوں کو اسی دین کی طرف دعوت دیتے رہیے اور خود بھی جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر قائم رہیے اور منکرین کی خواہشات پر نہ چلئے اور ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائیں ہیں میں ان سب پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے مابین انصاف کروں اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمہارا رب ہے ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارا کیا تمہارے لئے ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا اور بحث نہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کی بازشت ہے۔

(15) پس اے پیغمبر آپ لوگوں کو اسی دین کی دعوت اور بلاوا دیتے رہیے اور آپ خود بھی جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اسی پر قائم رہیے اور آپ ان منکروں کو خواہشات فاسدہ پر نہ چلئے اور ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میں ان سب پر یقین اور ایمان رکھتا ہوں اور نیز مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان نصاف کروں اللہ تعالیٰ ہی ہمارا پروردگار ہے اور وہی تمہارا پروردگار ہے ہمارے عمل ہم کو ملنے ہیں اور ہمارے عمل ہمارے لئے ہیں اور تمہارا کیا تم کو ملنا ہے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا اور بحث نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے اور اس کی طرف سب کو جانا ہے۔ پیغمبر کو ارشادہوتا ہے کہ جب اس دین اور قرآن کی حقانیت ثابت ہے تو آپ اسی کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیے اور دعوت اور بلانے پر قائم رہیے یا خود بھی اس دین پر مستقیم رہیے اور ان دین حق کے منکروں کی خواہشات نفسانی پر نہ چلئے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے اور اپنے مکلف ہونے کا اعلان کردیجئے کہ جن باتوں کی طرف تم کو بلاتا ہوں میں بھی ان کا پابند ہوں۔ چانچہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں کو مانتا ہوں اور اسی کا حکم دیتا ہوں اور مجھے یہ بھی حکم ملا ہے کہ اگر تمہاری باہمی کوئی جھگڑا میرے پاس آئے تو اس میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کروں یا یہ کہ اپنے اور تمہارے درمیان انصاف کروں جو تم کو بتائوں وہ میں خود بھی کروں جو تم پر واجب یا فرض کروں وہ اپنے پر واجب اور فرض کروں ہمارا تمہارا اللہ تعالیٰ ہی پروردگار اور مالک ہے تمہارے اعمال تمہارے لئے تمہارے اعمال ہمارے لئے ہمارے تمہارے درمیان کچھ کج بحثی نہیں کوئی جھگڑا نہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو پھرجانا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے کتاب والوں سے اسی کلام کرنا چاہیے۔ یعنی اہل کتاب سے انداز گفتگو نرم ہوناچاہیے۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کے دین میں بعد اس کے کہ وہ دین لوگوں میں مقبول ہوچکا پھر بھی جھگڑے نکالتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کٹ حجتی خدا کے نزدیک باطل ہے اور ان پر خدا کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

(16) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں بعد اس کے کہ وہ دین لوگوں میں مقبول ہوچکا اور خلق میں مان لیا گیا مسلمانوں سے جھگڑے نکالتے ہیں اور کٹ حجتی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کج بحثی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب واقع ہونے والا ہے اور آخرت میں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ یعنی لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا دین مقبول ہوچکا پھر اس کے بعدجو لوگ مسلمانوں سے خواہ مخواہ کی کج بحثی کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کج بحثی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطل ہے ایسے لوگوں پر دنیا میں اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے والا ہے اور آخرت میں یہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ان کتاب والوں کو کہا جو سمجھے کے لوگوں کو بہکاتے ہیں شبہ ڈال کر۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دین حق پر مشتمل کتاب اور ترازو یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو ۔

(17) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دین حق پر مشتمل کتاب نازل فرمائی اور نیز ترازو نازل فرمائی یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو۔ یعنی قرآن جو سچے دین کو شامل ہے اور جس میں سچے دین کی تعلیم موجود ہے اور ترازو یعنی عدل و انصاف کا حکم نازل فرمایا ہوسکتا ہے کہ عین ترازو نازل کی گئی ہو۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ترازو نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں نازل کی گئی ترازو یا میزان ایک آلہ ہے انصاف اور تسویہ کا بہرحال معاملات میں عدل و انصاف چونکہ بہت ضروری ہے اس لئے تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شرائع میں اس کی تاکید ہے اور چونکہ قیامت کے دن بھی اعمال وزن کئے جائیں گے اس مناسبت سے قیامت کا ذکر بھی فرمایا کہ آپ کو کیا معلوم کہ وقوع قیامت قریب ہی ہو کیونکہ جس چیز کے وقوع کا وقت معلوم نہ ہو تو کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ کب آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ترازو فرمایا دین حق کو جس میں بات پوری ہے نہ کم نہ زیادہ۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

قیامت کو وہی لوگ جلدی چاہتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جو لوگ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اس قیاتم کا وقوع ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے آگاہ رہوجو لوگ قیامت کے وقوع میں جھگڑا کرتے ہیں وہ پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

(18) قیامت کو وہی لوگ جلدی چاہتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اس قیامت کا وقوع ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے آگاہ رہو جو لوگ قیامت کے بارے میں اور قیامت کے وقوع میں جھگڑا کرتے ہیں وہ یقینا پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں یعنی قیامت کے آنے کی وہی لوگ تعجیل کرتے ہیں اور جلدی مچاتے ہیں جن کو قیامت پر ایمان نہیں اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ ڈرتے اور کانپتے رہتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ قیامت کا وقوع ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے وہ یقینی طور پر آنے والی ہے۔ پھر تاکیداً فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے آنے میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے جس کو جس قدر چاہتا ہے روزی دیتا ہے اور وہی بڑی قیوت والا بڑے غلبہ والا ہے۔

(19) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربانی اور نرمی کرنے والا ہے جس کو جس قدر چاہے روزی دیتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑے غلبے والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا دنیا میں عام طور سے سب کے ساتھ نرم برتائو ہے وہ جس کو جس قدر چاہے روزی دیتا ہے اور چونکہ وہ کمال قوت اور کمال غلبہ کا مالک ہے اس نے اس کے معاملات میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا۔ لطیف کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں مثلاً مناقب پھیلانے والا عیبوں کو چھپانے والا گناہوں کو معاف کرنے والا ضرورت سے زیادہ روزی دینے والاطاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے والا مہربانی کرنے والا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس کو چاہے جتنی چاہے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواہش مند ہو ہم اس کے لئے اس کی کھیتی کو بڑھادیتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو تو ہم اسی میں سے اس کو کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس شخص کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

(20) جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواہش مند ہو اور آخرت کی کھیتی چاہتا ہو ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھا دیتے ہیں اور ترقی کردیتے ہیں اور جو شخص دنیا کا خواستگار ہو اور دنیا کی کھیتی چاہتا ہو تو ہم اسی میں سے اس کو کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس شخص کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اعمال پر جو اثر مرتب ہوتا ہے اس کو کھیتی سے تعبیر کیا جس طرح بیج ڈالنے سے کھیتی پیدا ہوتی ہے اسی طرح اعمال سے جزا ملتی ہے اس لئے فرمایا جو شخص عمل آخرت کے نفع کے لئے کرتا ہے اور اس عالم کا فائدہ چاہتا ہے تو ہم اس کو کھیتی کو ترقی دیتے ہیں یعنی اعمال خیر کو مزید توفیق ملتی ہے یا ثواب دو چندوسہ چند اور اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے یا یہ کہ دنیا اور آخرت دونوں عطا فرمادیں اور جس شخص کا عمل اور اس کی جدوجہد صرف دنیا کے لئے ہو تو اس کو دنیا میں ہی جس قدر چاہیں گے دے دیں گے اور وہ آخرت میں محروم ہوگا۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہم عرض کرچکے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کا کوئی عمل آخرت کے غرض سے نہیں ہوتا وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔ پھر دنیا دینے میں بھی یہ وعدہ نہیں کہ ان کی تمنا اور ان کی منشا کے موافق دیدیں گے بلکہ جس قدرہم چاہیں گی اس قدر دیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ حدیث میں آتا ہے جس نے صرف ایک آخرت کا فکر اپنے ذمے لے لیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام افکار کے لئے کافی ہوگا اور جو شخص دنیاوی ہموم اور احوال کے تفکرات اپنے ذمے لے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پروا نہیں کہ وہ کونسی وادی میں ہلاک ہوگیا یعنی جس کو آخرت کا غم ہے اس کی کفالت فرمائی جاتی ہے اور جو دنیاوی ہموم لئے پھرتا ہے اور دنیا حاصل کرنے کا اس کو غم لگا ہوا ہے تو اس سے بےپروائی کا اظہار ہے۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کافروں کے کچھ ایسے خود ساختہ شریک ہیں جنہوں نے ان کیلئے کوئی ایسا دین مقرر کردیا ہے کہ جس دین کی خدا نے اجازت نہیں دی اور اگر وہ فیصلے والی بات طے شدہ نہ ہوئی تو ان کافروں کے مابین کبھی کا فیصلہ ہوگیا ہوتا اور بلاشبہ ان ظالموں کو دردناک عذاب ہونے والا ہے۔

(21) کیا ان کافروں کے کچھ ایسے خود ساختہ شریک ہیں جنہوں ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے اور دین کی کوئی ایسی راہ ڈالی ہے کہ جس دین کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کا حکم نہیں دیا اور اگر وہ فیصلے کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان یقینا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور بلاشبہ ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ اوپرشرعلکممن الدین ماوصی بہ گزرا ہے اسی سلسلے میں ارشاد ہے اور استفہام انکاری کے طور پر فرمایا کہ کیا ان کے تجویز کردہ معبودوں نے کوئی اور ایسا دین ان کے لئے تجویز کردیا اور کوئی اور راستہ دین کے نام سے بنادیا ہے جس دین کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ کلمۃ الفصل سے وہی مہلت اور عذاب موعود کا آخرت میں ہونا مراد ہے یعنی اگر وہ بات نہ ہوتی تو حق و باطل کا فیصلہ یہیں ہوجاتا اور ان کا فیصلہ چکادیا جاتا ہے اور یقین کرو کہ ان مشرکوں کے لئے دردناک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف دین میں اختراع کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فیصلے کا وعدہ ہے اپنے وقت پر۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ اس وقت ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ یہ اپنے اعمال کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے حالانکہ وہ وبال ان پر ضرور واقع ہوکر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے ان کو ان کے رب کے ہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے یہ ہر خواہش کا پورا ہونا ہی بڑا فضل و انعام ہے۔

(22) اے پیغمبر آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ یہ اپنے اعمال کے وبال اور اپنی کمائی کے نکال سے ڈر رہے ہوں گے۔ حالانکہ وہ ان کی کمائی کا وبال ان پر پڑنے والا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے ان کو ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز ملے گی اور میسر ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے اور جو چاہیں گے وہ حاصل ہوگا، یہ ہر خواہش کریں گے اور جو چاہیں گے وہ حاصل ہوگا۔ یہ ہر خواہش کا پورا ہونا ہی بڑی بزرگی اور بڑا انعام ہے۔ آج تو یہ مشرک قیامت کی اور اس عذاب کی جلدی کررہے ہیں لیکن اس دن آپ ان کو دیکھیں کے کہ جب ان کی کمائی اور ان کے کسب کا وبال ان کے سامنے آئے گا تو خوف زدہ ہورہے ہوں گے اور سہمے جاتے ہوں گے کہ کہیں وہ وبال اور عذاب ان کو پکڑ نہ لے حالانکہ وہ ان پر ضرور واقع ہوکر رہے گا۔ پھر ان کے مقابلے میں اہل ایمان کا ذکر فرمایا کہ وہ لوگ بہشت کے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے وہاں ہر چیز جو یہ چاہئیں گے ان کو میسر ہوگی یہ بہت بڑا انعام ہے۔ چاہت پر ہر چیز کا ملنا ایسا ہی ہے جیسا آج دنیامیں ہر چیز کا تصور بآسانی کرسکتے ہیں لیکن اس چیز کو وجود خارجی نہیں دے سکتے یعنی انگور اور سیب کا مثلا تصور کرسکتے ہو لیکن خارج میں اس کو نہیں لاسکتے جنت میں یہ قوت عطا ہوگی کہ تصور کے ساتھ ہی وہ شے خارج میں بھی موجودہوجائے گی۔ ھوالفضل الکبیر۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ نعمت ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائی اور نیک عمل کرتے رہے آپ ان سے فرمائیے کہ میں تم سے اس تبلیغ پر بجز رشتہ داری کی محبت کے کوئی صلہ نہیں چاہتا اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس شخص کے لئے اس نیکی میں اور خوبی بڑھا دیں گے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا بڑا قدردان ہے۔

(23) یہی وہ نعمت ہے جس کی بشارت اور خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے آپ ان سے فرمائیے کہ میں اسلامی تبلیغ پر بجز رشتہ داری کی محبت کے کوئی صلہ نہیں مانگتا اور جو کوئی نیکی کرے گا اور بھلائی کمائے گا تو ہم اس شخص کے لئے اس نیکی میں اور خوبی بڑھادیں گے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا بڑا قدردان ہے۔ یعنی یہی وہ احسانات و انعامات ہیں جن کی بشارتوں سے اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندو کو نوازتا اور خوشخبری دیا کرتا ہے میں تم سے صرف رشتہ داری کی محبت کا برتائو کا مطالبہ کرتا ہوں یعنی اسلام کی اور قرآن کی تبلیغ پر کوئی اجرت تو طلب ہی نہیں کرتا جیسا کہ سورة ص کے آخر میں فرمایا۔ لیکن غضب تو یہ ہے کہ تم نے رشتہ داری اور برادری کے تعلقات کا پس بھی نہیں رکھا میرے دعویٰ کا ہنسی مذاق اڑانا میری بات پر غل شور کرنا آخر میرے تمہارے رشتے ناطے کے بھی تو تعلقات ہیں کیا ان کا اقتضا یہی ہے کہ تم میرے ساتھ ایسا سلوک کرو میری بات کو سنو اس پر غور کرو۔ تمہارا طریقہ میرے ساتھ بہت ہی سوقیانہ اور بالکل اجانب کا سا ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کو چھوڑ دو ۔ اور قرابت داروں کا سا برتائو کرو اسلام قبول کرنے نہ کرنے کا معاملہ علیحدہ ہے بہرحال برتائو ایک رشتہ دار کے ساتھ شریفانہ ہو اور نیکی کے ساتھ خوبی کے زیادہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کا ثواب زیادہ کردیں گے یا نیکی کرنے والے کو مزید نیکی کی توفیق عطا کریں گے۔ جس طرح بدی سے نیکی کی برکت جاتی رہتی ہے اسی طرح نیکی سے نیکی زیادہ ہوتی ہے اور نیک کاموں کی توفیق بڑھتی رہتی ہے کوتاہیوں کو معاف فرماتا ہے اور تھوڑے کام پر اجر زیادہ عطا کرتا ہے کیونکہ وہ قدردان اور قدر شناس ہے جو نیک کام کرو گے اس کی بےقدری نہ کی جائے گی بلکہ قدر شناسی کا برتائو ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن پہنچانے پر ایک نہیں چاہتا مگر قرابت کی دوستی یعنی میں تمہارا بھائی ہوں ذات کا مجھ سے بدی نہ کرو۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے سو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگادے اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا ہے اور اپنے احکام سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینوں کی باتوں کو جانتا ہے۔

(24) یہ دین حق کے منکریوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا کیا ہے سو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگادے اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے احکام اور اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بلا شبہ وہ سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے دل کو بند کردے مضمون نہ آنے دے جس کو باندھے اور یوں ہی چاہے تو کفر کو مٹادے بن پیغام بھیجے مگر وہ اپنی باتوں سے دین کو ثابت کرتا ہے اس واسطے نبی پر کلام بھیجتا ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کاذب کی مدد نہیں کیا کرتا اور جھوٹے مدعی نبوت کی بات کو چلنے نہیں دیتا اگر معاذ اللہ یہ نبی مفتری ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ آپ کے قلب پر مہر لگا کر آپ کے دل کو بیکار کردے اور جب دل ہی بند ہوگیا تو پھر آپ کی بات کیسے بڑھ سکتی ہے دماغ میں افترا پردازی کی صلاحیت ہی باقی نہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا اور حق کو ثابت کرتا ہے اپنے کلمات یعنی احکامات اور اپنی باتوں سے بہر حال جب ایسا ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ کسی افتراء پرداز کو اتنا موقعہ دیا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کرتا رہے اور چونکہ یہ افتراپرداز نہیں ہے بلکہ ہم اس پر جو وحی نازل کرتے ہیں وہی یہ بیان کرتا ہے اس لئے اس کو موقعہ دیا جاتا ہے بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے اور چونکہ سینوں کے پوشیدہ احوال کو جانتے ہیں اس لئے جس غرض سے تم افتراپرداز کہتے ہو وہ بھی ہم جانتے ہیں اور اس کی صداقت اور سچائی کو بھی جانتے ہیں۔ ہم نے یمحو اور یحق کی تفسیر میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب (رح) اور مولانا شاہ رفیع الدین صاحب (رح) کے ترجمہ کی رعایت رکھ کر حال سے ترجمہ کیا ہے اگرچہ صاحب کشاف حال اور استقبال دونوں کے قائل ہیں اگر استقبال کے معنی لئے جائیں تو یہ کلام پیشین گوئی ہوگا جو پیشین گوئی پوری ہوئی باطل مٹا دیا گیا اور حق ثابت کردیا گیا۔ والحمد للہ علی ذلک۔
Ayah 42:25

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے۔

(25) اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سب کا جانتا ہے۔ یعنی جو کفر سے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے وہ پہلے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے یعنی جس نیت سے توبہ کرو گے اس کو بھی بخوبی جانتا ہے کہ صدق دلی سے توبہ کرکے اسلام میں داخل ہوئے یا نفاق دل میں رکھ کر توبہ کا اظہار کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نبی پیغام پہنچاتا ہے اور بندوں کو سب معاملت اپنے رب سے ہے۔
Ayah 42:26

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کی دعائیں اور عبادت قبول کرتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ دیتا ہے اور جنہوں نے کفر کی روش اختیار کررکھی ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے۔

(26) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کی سنتا اور ان کی دعائیں اور عبادتیں قبول کرتا اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ ثواب دیتا ہے اور جو منکر ہیں اور جنہوں نے کفر کی روش اختیار کررکھی ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ یعنی جو مسلمان ہوا اور نیک عمل کا پابند ہو اس کے تمام نیک اعمال بھی مقبول اور اس کی دعا بھی مقبول عبادت کی قبولیت کے ساتھ ثواب میں بھی زیادتی کا وعدہ اور کافروں کا کوئی عمل مقبول نہیں کیونکہ عمل کی بنیاد یعنی ایمان نہیں اس لئے وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے روزی فراخ کردیتا تو وہ ضرور دنیا میں شرارت کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے ایک مناسب انداز سے رزق اتارتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے۔

(27) اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے روزی فراغ کردیتا ہے تو وہ ضرور عام طور سے دنیا میں شرارت کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے ایک مناسب انداز سے رزق اتارتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کا دانا بینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کی روزی فراخ ہوجائے گی تو احتیاج باہمی کا نظام ٹوٹ جائے اور ہر شخص دوسرے سے مستغنی ہوجائے تو نظام عالم گڑ بڑ ہوجائے اور ایک دسورے سے بغاوت کردے اور شرارت شروع ہوجائے۔ امن کی بجائے فسادات شروع ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ایک انداز سے روزی نازل فرماتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے یعنی بندوں کی مصالح سے باخبر اور ان کی حالت کو دیکھنے والا ہے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوئے پیچھے مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت عام طور سے پھیلاتا ہے اور وہی کارساز اور سزاوار حمدوثنا ہے۔

(28) اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوئے پیچھے مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت عام طور پر پھیلاتا ہے اور وہی کارساز اور سزاوار حمدوثنا اور سب خوبیوں سراہا ہے۔ یعنی بسا اوقات لوگ بارش سے ناامید ہوجاتے ہیں تو وہ منہ برساتا ہے اور بارش کردیتا ہے اور اپنی رحمت کے نشانات عام طور سے پھیلاتا ہے یعنی نباتات کی بہتات ہوتی ہے پھول اور پھل بکثرت پیدا ہوتے ہیں یہی اس کی رحمت کے آثار اور نشانات ہیں بھی، ولی، کارساز حمید محمود بالصفات الکاملہ سب خوبیوں سے متصف اور سزاوار حمدوثنا ہے۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور منجملہ اس کی نشانیوں کے آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جان داروں کا پیداکرنا جو اس نے زمین و آسمان کے درمیان پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان سب کے جمع کرلینے پر قادر ہے۔

(29) اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانداروں کا پیدا کرنا ہے جو اس نے آسمان اور زمین کے درمیان پھیلا رکھے ہیں وہ جب چاہے ان سب کے جمع کرلینے پر قادر ہے۔ یعنی اس اللہ تعالیٰ کے دلائل توحید اور نشانہائے قدرت میں سے آسمان و زمین کا پیدا کرنا اور ان کے درمیان جانداروں کا پیدا کرنا اور پھیلانا ہے۔ دابۃ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو زمین پر چلے جیسا کہ ہم بارھویں پارے میں عرض کرچکے ہیں۔ حضرت مجاہدہ نے فرمایا یہاں آدمی اور فرشتے مراد ہیں بہرچال جو سب کے پیدا کرنے اور پھیلانے پر قادر ہے وہ سب کو جمع کرنے اور سمیٹ لینے پر بھی قادر ہے یہ اشارہ قیامت اور میدان حشر کی طرف فرمایا یہاں تک توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اب آگے بعض شبہات کا جواب ہے۔
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے سو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے۔

(30) اور تم کو جو مصیبت اور سختی پہنچتی ہے سو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے اور درگزر فرمادیتا ہے۔ یہ خطاب مکلفین کو ہے کہ جو مصیبت یا آلام تم کو پہنچتے ہیں وہ تمہاری تقصیرات اور خطائوں کی وجہ سے پہنچتے ہیں خواہ وہ نافرمانی کا کوئی گناہ ہو یا طاعات میں کسی کوتاہی کی پاداش ہو ان تکالیف سے ان تقصیرات کا کفارہ ہوجاتا ہے تکالیف میں دنیا قبر اور حشر مراد ہوسکتے ہیں ہم پانچویں پارے میں من یعمل سوء ایجزبہ کی تسہیل میں مفصلاً عرض کرچکے ہیں اگر کسی مومن کو کانٹا چھبتا ہے یا وہ کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہے اور اس چیز کے تلاش کرنے میں پریشانی ہوتی ہے تو یہ باتیں بھی تقصیرات کی معافی کا سبب بن جاتی ہیں۔ عام طور سے ایسا ہوتا ہے اور کبھی رفع درجات کے لئے بھی اس قسم کی تکالیف کا اللہ تعالیٰ کے بندوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی بحث یہاں نہیں ہے۔ بہرحال معمولی سی تکلیف بھی گناہ سیات کا موجب ہوتی ہیں نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی کھر نیچ لگ جائے یا پائوں پھسل جائے یا بخار ہوجائے یہ سب چیزیں کسی گناہ کی پاداش میں ہوتی ہیں۔ حضرت علی کرم علی وجہہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن میں بڑی امید کی آیت ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ جب کسی گناہ کی سزا دیدے گا تو آخر ت میں اس کا مواخذہ نہیں فرمائے گا مومنوں کے لئے اس آیت میں بڑی بشارت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک مگر نبی داخل نہیں اور سختی دنیا کی بھی آگئی اور قبر کی اور آخرت کی۔ خلاصہ : یہ ہے کہ یہ خطاب بالغوں کو ہے نابالغوں کو یہ خطاب شامل نہیں اور اسی طرح نبی بھی اس سے مستثنا ہے دنیا میں خواہ کوئی دیکھ پہنچے یا قبر میں کچھ پریشانی ہو یا میدان حشر کی کوئی پریشانی ہو مومن کے لئے یہ تمام تکلیف اور پریشانیاں کفارہ ہیں اس کے گناہوں سے۔ اب آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کہیں اہل زمین سے مواخذہ شروع ہوجائے تو پھر نجات کی کوئی صورت نہیں اور نہ بھاگ کر ہی بچ نکلنے کی شکل ہے۔
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں کہیں بھاگ کر ہرا نہیں سکتے اور خدا کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار۔

(31) اور تم زمین میں کہیں بھاگ کر ہرا اور تھکا نہیں سکتے اور اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ یعنی تم چاہو کہ کہیں بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردو اور اس کو تھکا دو یا اس کو ہرادو تو یہ ممکن نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عاجز کرنے والے یعنی جو کچھ ہم نے مصیبتیں مقرر کی ہیں چاہے تم ان سے بھاگ سکو اور ہم کو تھکا دو سو ممکن نہیں اور نہ مددگار کو دفع کرے تم سے عذاب جب کہ وہ اترے تم پر۔ آگے پھر دلائل توحید مذکور ہے۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے وہ جہاز ہیں جو ایسے ہیں جیسے پہاڑ۔

(32) اور اسی کے نشانہائے قدرت میں سے چلنے والے ووہ جہاز جو ایسے ہیں جیسے پہاڑ۔
Ayah 42:33

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور وہ جہاز سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرادا کرنے والے کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔

(33) اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور وہ جہاز سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ۔ بلا شبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر بجا لانے والے کے لئے بڑے دلائل ہیں اور بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 42:34

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا اگر چاہے تو اہل جہاز کے اعمال کی وجہ سے ان جہازوں کو تبا ہ کردے اور بہت سے آدمیوں کو معاف فرمادے۔

(34) یا اگر چاہے تو اہل جہاز کے اعمال اور ان کی کمائی کی وجہ سے ان جہازوں کو تباہ کردے اور بہت سے آدمیوں کو معاف بھی کردیتا ہے۔
Ayah 42:35

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ہماری نشانیوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں ان کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ ان کے لئے کہیں بھاگنے کی جگہ نہیں۔

(35) اور وہ لوگ جو ہماری نشانیوں میں جھگڑتے اور خواہ مخواہ کے جھگڑے نکالا کرتے ہیں ان کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ ان کے لئے کہیں بھاگنے اور بچ نکلنے کی جگہ نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بات کہ پانی اور لکڑی کا ایسا جوڑ لگا دیا کہ لکڑی پانی پر تیرتی ہے اور پانی اس کو ڈبوتا نہیں جس کی وجہ سے بڑے بڑے جہاز بنا کر لوگ پانی میں سفر کرتے ہیں اور جہاز بھی ایسے بڑے بڑے بناتے ہیں جیسے پہاڑ۔ جب یہ جہاز پانی میں چلتے ہیں تو ہوائیں چلتی ہیں تاکہ ہوائیں ان جہازوں کو جلدی سے جائیں یا آج کل اسٹیم سے چلتے ہیں جس کو بھاپ کہتے ہیں۔ بہرحال اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے اور اسٹیم کی طاقت کو سلب کرلے اور بھاپ کو بیکار کردے پھر یہ جہاز بجائے چلنے کے سطح سمندر پر کھڑے رہ جائیں اس میں ہر صابر اور ہر شاکر کے لئے نشانیاں ہیں اور توحید الٰہی کے دلائل ہیں صابر اور شاکر سے مومن مراد ہیں کیونکہ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں یا یہ کہ ان جہازوں کو بالکل تباہ کردے اور بیٹھنے والے اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق کردیئے جائیں اور بہتوں کو معاف فرمادے اور اس وقت غرق نہ کرے ان کو پھر کسی اور سفر میں غرق کرے یا آخرت میں عذاب کرے یا خشکی میں کسی اور عذاب سے ہلاک کردے جیسا کہ بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے اور ہماری نشانیوں اور ہماری قدرتوں میں بلاوجہ جھگڑنے والوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کو کہیں بچ کر نکلنے کی شکل نہیں ہے اور کہیں بھاگنے کا موقعہ نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو لوگ ہر چیز کو اپنی تدبیر سمجھتے ہیں اس وقت عاجز ہوجائیں گے۔ خلاصہ : یہ کہ جن لوگوں کو اپنی تدبیر پر ناز ہے وہ عاجز ہوجائیں اور ان کی کوئی تدبیر کار گرنہ ہو جیسا کہ ہم اس ترقی یافتہ دور میں بھی روزمرہ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

سو تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا ہے تو وہ محض دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے کہیں بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

(36) سو تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا وہ محض دنیوی زندگی کے لئے برتنا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یعنی یہاں جو کچھ عطا ہوا ہے وہ عارضی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ رب العزت کے ہاں جو سامان اہل ایمان اور اہل توکل کو ملنے والا ہے وہ ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے اوپر دنیا کی کھیتی اور آخرت کی کھیتی کا ذکر آیا تھا یہ اسی کا شاید تتمہ ہو دنیوی مال ومتاع کی اور یہاں کے فوائد جس میں مومن اور منکر دونوں برابر ہیں بلکہ منکر کچھ زائد ہیں اس کی تفصیل ظاہر کی کہ یہاں کی نعمتوں کا کوئی اعتبار نہیں آخرت کی نعمتیں بہتر بھی ہیں اور پائیدار بھی۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور وہ کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ قصور وار کو معاف کردیتے ہیں۔

(37) اور وہ کبیرہ گناہوں سے بےحیائی کے کاموں سے بچتے اور اجتناب کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو قصور وار کو معاف کردیتے ہیں۔ کبائر الاثم سے حضرت ابن عباس نے شرک مراد لیا ہے اور جس میں برائی ہو وہ فاحشہ ہے جیسے زنا۔ اور مقاتل نے فرمایا بےحیائی اور فواحش وہ گناہ ہیں جن پر شریعت نے حد مقرر فرمائی ہے اور جب ان کو غصہ آئے تو غضب کی حالت میں معاف کردیا کرتے ہیں یعنی اپنے ذاتی معاملات میں اور دنیوی قصوں میں انتقام کی خواہش نہیں کرتے بلکہ عفو اور درگزر کردیا کرتے ہیں۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کا حکم مانتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے وہ اس میں سے خیرات کرتے ہیں۔

(38) اور وہ اپنے پروردگار کا حکم مانتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اپنے پروردگار کا جو حکم ہوا اس کو قبول کرتے ہیں جیسے مدینے کے انصار اور نماز کے پابند رہتے ہیں اور ہر اہم کام میں آپس میں مشورہ کرنے کے بعد کرتے ہیں اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ حضرت حسن بصری کا مشہور قول ہے کہ جس قوم نے باہم مشورے سے کام کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت علی ؓ مرفوعاً فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ بعض دفعہ ہم کو ایسے امور اور حوادثات پیش آتے ہیں کہ قرآن کریم میں ان کے متعلق کوئی حکم نہیں ہوتا آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی ایساحادثہ پیش آئے تو میری امت میں سے عبادات گزار لوگوں کو جمع کرکے مشورہ کرلینا اور اس مشورے پر عمل کرلینا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مرفوعاً ایسا ہی منقول ہے کہ اہل عقل سے مشورہ کرلیا کرو تم راہ پائو گے اور مشورے سے جو بات طے ہوجائے اس کی مخالفت نہ کرو ورنہ ندامت اٹھائو گے۔ خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں خرچ کرتے ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مشورے سے کام کرنا پسند ہے دین کا ہو یا دنیا کا۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ مناسب بدلا لیتے ہیں۔

(39) اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے اور ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو ہے تو وہ مناسب بدلا لیتے ہیں۔ یعنی دین کے بارے میں اگر کوئی زیادتی کرتا ہے تو مناسب یعنی برابر کا بدلا لیتے ہیں اوپر کی آیت میں درگزر کرنے پر تعریف تھی یہاں انتقام پر ان کی مدح فرمائی یعنی اپنے حق میں درگزر اور عفوکا شیوہ رکھتے ہیں لیکن دین کے بارے میں سخت گیر اور منتقم ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافروں سے جہاد کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اگر کسی کمزور پر کوئی ظلم کرتے تو قبیلے کے بزرگ جمع ہوکر ظالم سے بدلا لیں۔
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کی پاداش اسی برائی کی مثل ہے پھر جو شخص درگزر کرے اور باہم صلح و صفائی کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے بیشک اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

(40) اوربرائی کی پاداش اسی برائی کی مثل ہے پھر جو شخص درگزر کرے اور باہم صلح و صفائی کرلے اور قفیے کو یہاں سے انتقام اور بدلے کا ایک ضابطہ بیان فرمایا کہ برائی کرنے والوں کو اتنی ہی برائی پہنچائو جتنی اس نے برائی کی ہے انتقام میں زیادتی نہ ہونے پائے اور سیئہ کے مقابلے میں انتقامی کاروائی کی گئی اس کو بھی سیئہ فرمایا حالانکہ پہلی سیئہ تو حقیقت میں سیئہ ہے لیکن جواباً جو عمل ہو وہ سیئہ نہیں بلکہ وہ تو آئندہ کی روک تھام کی غرض سے کیا گیا ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہو جیسا کہ علماء نے کہا ہے کہ چونکہ یہ سئیہ کا بدلا ہے اس لئے اس کو سیئہ فرمایا۔ یا اس لئے کہ یہ دوسرا فعل پہلے فعل کے مشابہ اور اس کی مثل ہے اس لئے اس کو سیئہ فرمایا یا اس لئے کہ بہرحال اس سے بددلی ہوتی ہے اگر اس سے پہلے سیئہ نہ ہوچکی ہوتی تو یقینی سیئہ تھی یا شاید اس لئے جوابی کاروائی کو سیئہ فرمایا کہ ہر حال میں معاف کردینا بہتر اور مستحب ہے۔ مقاتل نے کہا مراد اس سے قصاص لینا ہے زخم پہنچانے میں اور خون کرنے میں مجاہد اور رسدی کا قول ہے کہ اس سے مراد قبیح کا جواب قبیح سے دینا ہے یعنی جو تجھ کو برا کہے تو بھی اس کو برا کہہ سکتا ہے۔ ابن عینیہ کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے اس کا مطلب دریافت کیا لیکن میں ان کے جواب سے مطمئن نہ ہوا تو میں نے ہشام بن حجرہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا یہ زخمی کرنے والوں کے حق میں ہے اگر کوئی تجھ کو زخم پہنچائے تو تو بھی اس کو زخم پہنچا سکتا ہے اور یہ مراد نہیں کہ کوئی تجھ کو براک ہے تو تو بھی اس کو براک ہے۔ خلاصہ : یہ کہ اگر وہ فعل فی نفسہ شرعاً حرام ہے تو اس کے جواب میں حرام کرنے کی اجازت ہیں آگے معافی کا ذکر فرمایا کہ باوجود اجازت انتقام کے بھی کوئی شخص معاف کردے اور آپس میں سنوار کرے اور اصلاح کرے تو ایسے شخص کا اجروثواب اللہ تعالیٰ پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ابن زید نے کہا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں ایک وہ جو بالکل معاف کریدتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں دوسرے وہ جو انتقام لیتے ہیں اور برابر سرابر بدلا لیا کرتے ہیں پھر بھی معافی اور باہمی اصلاح کو ترجیح ہے۔