42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو اپنے پر ظلم کئے جانے کے بعد مناسب بدلا لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔

(41) اور جو اپنے ظلم کئے جانے کے بعد مناسب بدلا لے لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ یعنی جب برابر سرابر بدلہ لینے کی اجازت ہے تو بدلا لینے والوں پر کوئی الزام نہیں۔ یعنی جب برابرسرابربدلہ لینے کی اجازت ہے تو بدلا لینے والوں پر کوئی الزام نہیں بشرطیکہ مثل سے زیادہ نہ ہو اور بہرحال معاف کردینے سے ثواب کا وعدہ ہے۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو بس صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق شرارت کرتے پھرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔

(42) الزام تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق شرارت کرتے پھرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی تکبر اور فساد برپا کرنے کے درپے رہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ ظلم کرتے ہیں یعنی ابتدانہ ظلم کرتے ہیں یا انتقام میں مثلیت کو چھوڑ کر حد سے بڑھ جاتے ہیں اور جن کا قصد ہی فتنہ و فساد کو پھیلانا اور تکبر کرنا اور دھوم مچانا ہے تو ان کے لئے دردناک سزا اور درد ناک عذاب کی وعید ہے آگے پھر عزیمت کا مرتبہ بیان فرماتے ہیں یہاں تک کہ قانون کا اعتدال اور توسط نہ کور تھا آگے عالی حوصلگی اور مراتب کی بلندگی مذکور ہے۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور بیشک جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو یقین جانو کہ یہ کام بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔

(43) اور بلاشبہ جو شخص صبر کرے اور معاف کردے اور سخش دے تو یقین جانو یہ کام بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔ یعنی باوجود اس کے کہ قانون میں انتقام بالمثل کی اجازت ہے پھر بھی کوئی ظلم پر صبر کرلے اور ظالم کو معاف کردے تو یہ بڑی ہمت والوں کا کام ہے …یعنی بدلے کی رخصت ہے اور صبر اور بخشش عزیمت ہے۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو اس کے بعد اس شخص کا کوئی چارہ ساز نہیں اور اے پیغمبر آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جس وقت وہ عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو یوں کہیں گے کیا یہاں سے واپس ہوجانے کی کوئی صورت ہے۔

(44) اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ راہ نہ دے اور گمراہ رکھے تو اللہ تعالیٰ کے بعد اس شخص کا کوئی چارہ ساز اور کار ساز نہیں اور کام بنانے والا نہیں چناچہ اے پیغمبر آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جس وقت وہ عذاب کا معائنہ کریں گے اور جس وقت عذاب کو دیکھیں گے تو یوں کہیں گے کیا یہاں سے واپس ہوجانے پر لوٹ جانے کی بھی کوئی راہ اور کوئی سبیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی جس کی رہنمائی نہ فرمائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں اور جس وقت یہ دین کے منکر عذاب کو دیکھیں گے تو آپ ان مشرکوں کو دیکھیں گے کہ یوں کہیں گے کہ یہاں سے واپس لوٹ جانے کا بھی کوئی طریق ہے۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آگ کے روبرو اس حال سے لائے جائیں گے کہ مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے اور وہ خفیہ خفیہ گوشہ چشم سے آگ کو دیکھتے ہوں گے اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہی لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے متعلقین کو نقصان میں ڈال بیٹھے آگاہ رہو کہ ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

(45) اور آپ ان کو دیکھیں گے وہ آگ کے سامنے اس حال میں لائے جائیں گے اور جہنم کے روبرو پیش کیے جائیں گے تو ان کی حالت یہ ہوگی کہ آپ ان کو دیکھیں گے مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے اور خفیہ خفیہ گوشہ چشم نیم کشادہ سے آگ کو دیکھتے ہوں گے اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں اور نقصان میں ڈال بیٹھے آگاہ رہو بلا شبہ ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب فرماتے ہوئے گمراہ لوگوں کے اس منظر پر توجہ دلائی ہے جو قیامت میں پیش آنے والا ہے اوپر کی آیتوں میں ہدایت یافتہ حضرات کے اجروثواب کا ذکر تھا من یضالاللہ سے دین حق کے منکروں کا ذکر شروع ہوا پہلے تو عذاب کو دیکھ کر واپس آنے اور دنیا میں دوبارہ آنے کی راہ تلاش کریں گے پھر جب جہنم کے روبرو لائے جائیں گے تو ان کی حالت یہ ہوگی کہ ذلت و رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے عاجزی کررہے ہوں گے اور آگ کو کنکہیوں سے دیکھتے ہوں گے جیسے خوف کے وقت آدمی خوف کی چیز کو دیکھتا ہو اس وقت اہل ایمان اپنی نجات اور بچنے پر یہ الفاظ کہیں گے کہ آج قیامت کے دن حقیقی زیاں کار اور نقصان میں وہی لوگ ہیں جو اپنی جان کو نقصان میں ڈال بیٹھے اور نہ صرف اپنی جان کو بلکہ اپنے ساتھ اپنے متعلقین یعنی بیوی بچوں کو بھی اور اپنے قرابت داروں کو نقصان میں ڈال دیا۔ کیونکہ ان کا ظلم اور ان کا کفر دوسروں کے لئے بھی ایمان لانے اور ہدایت قبول کرنے سے مانع ہوا آخر میں حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا کہ سن لو یہ مشرک ظالم دین حق کے منکر دائمی طور پر عذاب میں رہیں گے اور جہنم سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور وہاں ان کے کوئی حمایتی نہ ہوں گے جو خدا کے سوا ان کی مدد کرسکیں اور جس کی خدا تعالیٰ رہنمائی نہ فرمائیے اس کے لئے کہیں کوئی راہ نہیں۔

(46) اور ان ظالموں کے لئے وہاں کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی مدد کرسکیں اور جس بدنصیب کی اللہ تعالیٰ رہنمائی نہ فرمائے اس کی نجات کے لئے کوئی راستہ نہیں۔ یعنی وہاں ان مشرکوں کے حمایتی بھی نہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ سے الگ اور جدا ہوکر ان کی مدد کرسکیں اور جس بدنصیب کی حضرت حق جل مجدہ کی جانب سے رہنمائی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو راہ نہ دے تو اس کو کہیں راہ نہیں یعنی دنیا میں راہ حق نہ ملے اور آخرت میں نجات یا جنت کا راستہ نہ ملے عذاب کی وعید سنانے کے بعد عام دعوت کا اعلان فرمایا۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

تو لوگ اپنے رب کا حکم مان لو قبل اس کے کہ تم پر خدا کی طرف سے وہ دن آجائے جو واپس جو واپس ہونے والا نہیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ گاہ ہوئی اور نہ تمہارے لئے کوئی انکار کی گنجائش ہوگی۔

(47) تم لوگ اپنے پروردگار کا حکم مان لو اور اس کا حکم قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس ہونا اور پھرنا نہیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ گاہ اور بچائو کی جگہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کو مان لو اور قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے یعنی قیامت کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے آئے پیچھے واپسی نہیں وہ دن ایسا ہے کہ جس دن نہ کہیں بھاگ کر پناہ لے سکو گے نہ اپنے برے اعمال سے انکار ہی کرسکو گے یا نکیر کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی انکار کرنے والا بھی نہ ہوگا جو یہ پوچھ سکے کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ من اللہ کو بعض لوگوں نے یاتی کے ساتھ اور بعض نے لامردلہ کے ساتھ متعلق کیا ہے ہم نے ایک قول تیسیر میں اور دوسرا قول ترجمے میں اختیار کرلیا ہے آگے اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہیں۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی رو گردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا ہے بس آپ کے ذمہ تو صرف پہنچادینا ہے اور ہم جب انسان کو کچھ اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے اور اگر لوگوں کو اپنے ان اعمال کے باعث جو وہ اپنے ہاتھوں پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو انسان ناشکری کرنے لگتا ہے بیشک انسان بڑا ہی ناسپاس ہے۔

(48) پھر اگر یہ لوگ اس پر بھی روگردانی اور اعراض کریں و ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اس پر اترا جاتا ہے اور اگر لوگوں کو اپنے ان اعمال کے باعث جوان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو ناشکری کرنے لگتا ہے بیشک انسان بڑا ہی ناسپاس ہے۔ یعنی اس وعید کو سن لینے اور جہنم کے واقعات معلوم ہوجانے کے بعد بھی ان کے رویے میں تبدیلی نہ ہو اور یہ اپنی جگہ جمے رہیں اور دین حق سے روگردانی اور قرآن سے اعراض کرتے رہیں تو آپ غمگین اور پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ ان کے اعمال پر نگہبان یا نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے نہ آپ سے کوئی باز پرس ہوگی کہ انہوں نے شرک اور کفر کیوں کیا آپ کے ذمے تو صرف احکام الٰہی کا پہنچا دینا ہے سو آپ نے پہنچا دیا اور انسان سے مراد یہی منکر لوگ ہیں کہ ان کی حالت یہ ہے کہ حق تعالیٰ اگر ان کو اپنی مہربانی سے نوازتے ہیں اور ان کو اپنی مہر کا مزہ چکھاتے ہیں تو یہ لوگ اتراجاتے ہیں اور ریاوبطر تکبروغرور کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کو اپنی خوش تدبیری اور ہنر مندی پر حمل کرتے ہیں اور اگر اس کمائی کے بدلے میں جوان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں ان پر کوئی مصیبت آجائے مثلاً مرض قحط اور تنگدستی وغیرہ تو انسان ناشکری اور ناسپاسی کرنے لگتا ہے جیسا کہ عام طور سے منکروں کو دیکھا جاتا ہے لقمت سے ملے مثلاً خوش حالی صحت عزت حکومت وغیرہ تو شکر نہ کریں اور کوئی دککھ تکلیف آجائے تو صبر نہ کریں۔ اسی لئے آخر میں فرمایا کہ انسان بڑا ہی ناسپاس ہے یہی جملہ اور ان تصبھم کی جزا کا قائم مقام ہے قرآن کریم میں ان تصبھم کی جزا علیحدہ مذکور نہیں ہے مگر ہم نے ترجمہ میں جزا کو ظاہر کردیا ہے اور آخری جملے کا ترجمہ بھی کردیا۔ اسی لئے آخر میں فرمایا کہ انسان بڑا ہی ناسپاس ہے یہی جملہ ان تصبھم کی جزا کا قائم مقام ہے۔ قرآن کریم میں ان تصبھم کی جزا علیحدہ مذکور نہیں ہے مگر ہم نے ترجمہ میں جزا کو ظاہر کردیا ہے اور آخری جملے کا ترجمہ بھی کردیا ہے۔ بڑناشکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حقیر سمجھتا ہے کفران نعمت یا کفر باللہ کرتا ہے آگے پھر توحید کا بیان فرمایا۔
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

آسمانوں میں اور زمین میں اللہ ہی کی سلطنت ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔

(49) آسمانوں میں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت اور اسی کا راج ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہیے بیٹیاں عطا کرتا اور جس کو چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے اور عطا کرتا ہے۔
Ayah 42:50

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا جس کے لئے چاہتا ہے ان بیٹوں اور بیٹیوں کو جمع کردیتا ہے اور وہ جس کو چاہے بےاولاد رکھتا ہے بیشک وہبڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے۔

(50) یا جس کے لئے چاہتا ان لڑکوں اور لڑکیوں کو جمع کردیتا ہے یعنی دونوں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد کردیتا ہے بلا شبہ وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے یعنی آسمان و زمین میں ہر قسم کا تصرف اس کو حاصل ہے جو چاہتا ہے سو کرتا ہے انسان کی تخلیق پر اس کو پورا اخیار ہے اولاد کے بارے میں چار صورتیں ہوسکتی ہیں یا فقط بیٹے یا بیٹیاں یا دونوں یعنی بیٹے بھی اور بیٹیاں یا دونوں نہیں۔ ان چاروں پر اپنے اختیار کا اظہار فرمایا۔ چاہتا ہے جس کو لڑکیاں دیتا ہے لڑکیوں کو مقدم فرمایا چونکہ انسان بیٹیوں کو نہیں چاہتا تو بیٹیاں اہم ہیں اور اہم واجب التقدیم ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ بات عورت کی برکت سے ہے کہ وہ پہلے بیٹی جنے یعنی اگر عورت کے ہاں پہلوٹھی کی بیٹی ہو تو عورت کی برکت ہے۔ پھر بیٹوں کو فرمایا کہ چاہے تو بیٹے ہی بیٹے دے اور چاہے تو دونوں عطا فرمائے خواہ جو ڑواں دے خواہ جدا جدا عطا فرمائے ، بہرحال ملواں جلواں ہوں اور چاہے تو کچھ بھی نہ دے عقیم جس طرح عورت پر بولا جاتا ہے اسی طرح بےاولاد مرد کو بھی عقیم کہتے ہیں علیم قدیر سے اپنی مصلحت اور قدرت کی جانب اشارہ فرمایا کہ جو ہماری مصلحت ہوتی ہے ہم اس کے موافق کرتے ہیں آگے نبی کریم ﷺ کی رسالت کی تصدیق و توثیق فرمائی نیز کفار کے بعض اعتراضات کا جواب بھی ہے۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے کام کرے الا یہ کہ یا تو الہام کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ جو پیغام خدا کو منظور ہو وہ فرشتہ خدا کے حکم سے پہنچا دے بیشک وہ بڑا عالیشان اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

(51) اور کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے مگر یہ کہ یا تو الہام اور اشارے کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو منظور ہوتا ہے وہ پیغام پہنچا دیتا ہے بلا شبہ وہ بڑا عالیشان بڑی حکمت والا ہے - بعض کفار کہا کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کہے کہ یہ ہمارے رسول ہیں اور بھی ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے روبرو آنے اور اس سے کلام کرنے اور فرشتوں کے سامنے آنے کی خواہش کیا کرتے تھے جیسا کہ انیسویں پارے میں گزر چکا ہے۔ اسی پر یہ بات فرمائی کہ کسی بشر کی یہ طاقت نہیں کہ اس سے موجودہ حالت میں کلام کرے یعنی دنیا میں بات چیت کرے مگر ہاں اس کے کلام کرنے کے تین طریقے ہیں یا تو اشارے سے کوئی بات فرمادے ۔ اشارے سے مراد ہے الہام یا خواب ، خواب میں کوئی چیز دکھادی جائے یا قلب میں کوئی بات ڈال دی جائے جیسا حدیث میں نفث فی روعی آتا ہے یا حضرت ابراہیم نے فرمایا تھا انی اری فی المنام ایک طریقہ تو یہ ہوا۔ دوسرا طریقہ یہ فرمایا کہ پردے کے پیچھے سے یعنی آواز سنائی دے لیکن کوئی چیز نظر نہ آئے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کلام ہوا۔ تیسرا طریقہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام فرشتہ لے کر آئے اور اس کے حکم سے وہ پیغام پہنچادے موجودہ حالت میں اللہ تعالیٰ کا کسی بشر سے کلام کرنا ان تین طریقوں سے ہی ہوسکتا ہے ان کے علاوہ ممکن نہیں۔ من وراء حجاب کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ پردے میں ہوتا ہے بلکہ خود بات کرنے والا پردے میں ہوتا ہے یعنی بات کرنے والے کے ادراک کا ضعف اس کے لئے پردہ بن جاتا ہے اور حدیث میں جو فاذانا بربی تبارک وتعالیٰ آتا ہے وہاں بھی نورانی حجاب کے ساتھ گفتگو ہے موجودہ جسد عنصری اور قوائے بشریٰ حضرت حق تعالیٰ کا معائنہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پہلا طریقہ جو اشارے اور الہام کا فرمایا وہ ظاہر ہے کہاگرنبی ہو خواہ یقظہ میں خواہ منام میں تو وہ بمزلہ وحی کے ہے اور اگر غیر نبی کو ہو یعنی ولی کو تو وہ ظنی ہے قطعی نہیں یہ منکر چونکہ کفر میں مبتلا ہیں اس لئے ان کے لئے پہلی صورت بھی ہیں ہوسکتی کیونکہ یہ اس کے اہل ہی نہیں۔ بہرحال دنیا میں حضرت حق تعالیٰ کے کلام فرمانے کے یہ تین طریقے ہیں جو آیت میں مذکور ہوئے اور ان لوگوں کو ناامید کردیا گیا جو بڑھ بڑھ کر حضرت حق تعالیٰ کو دیکھنا اور اس سے کلام کرنا چاہتے تھے۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے قرآن کو جو ہمارا حکم ہے آپ کی جانب بھیجا ہے آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب کیا چیز ہے اور نہ آپ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے لیکن ہم نے قرآن کو ایک ایسا نور بنایا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ آپ لوگوں کو سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔

(52) اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے قرآن کو جو ہمارا حکم ہے آپ کی جانب بھیجا ہے نہ تو آپ یہ جانتے تھے کہ کتاب الٰہی کیا چیز ہے اور نہ آپ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا چیز ہے لیکن ہم نے قرآن کو ایک ایسا نور بنایا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں اور بلاشبہ آپ لوگوں کو سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

جو اس خدا کا راستہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے آگاہ رہو تمامکام اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے۔

(53) جو اس اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے آگاہ رہو تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے اور اللہ تک پہنچ ہے کاموں کی۔ یعنی جس طرح ہم نے جس طرح اور رسولوں پر اپنے احکام بذریعہ کتب اور صحف نازل کئے ہیں اسی طرح اس قرآن کو جو ہمارا حکم ہے یا ہمارے کلام سے ہے اس کو ہم نے آپ کی جانب بھیجا ہے آپ کو اس کے نزول سے پہلے معلوم نہ تھا کہ کتاب اللہ کیا ہے اور اسی طرح آپ یہ بھی نہ جانتے کہ منتہائے ایمان کیا ہے گو نفس ایمان تھا جیسا کہ ہر نبی کو نبوت سے پہلے ایمان ہوتا ہے لیکن منتہائے ایمان اور تفصیلی ایمان نبوت کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے آپ ایمان کے انتہائی مراتب کو نہیں جانتے تھے لیکن ہم نے اس قرآن کو ایک ایسا نور بنا کر بھیجا ہے جس سے ہم جس کو چاہتے ہیں اور اپنے بندوں میں سے ہدایت عطا فرماتے ہیں قرآن کو شاید روح اس لئے فرمایا کہ یہ مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے اور قلب میں آثار حیات اس قرآن کی برکت سے پیدا ہوجاتے ہیں آگے آپ کے ہادی برحق ہونے کی توثیق فرمائی کہ بیشک آپ لوگوں کو صراط مستقیم کی رہنمائی فرماتے ہیں اور آپ داعی برحق ہیں صراط مستقیم اور سیدھی راہ کی تفصیل بیان فرمائی کہ یہ راستہ ہی اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کا مالک ہے سب کچھ اسی کا ہے سب اس کے مملوک اور مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو راستہ آپ دکھاتے ہیں وہ راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے جو ہر اس چیز کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمین میں……ہے۔ پھر فرمایا سن لو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام امور کا مرجع ہے ۔ آخری آیت کا آخری ٹکڑا وعد اور وعید دونوں کو شامل ہے یعنی تمام امور کا مرجع ہے جب اسی کی ذات ہے تو وہ سزادے گا اور نیک لوگوں کو صلہ عطا فرمائے گا۔ نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ جس نے سورة حٰم ٓ عسق کر پڑھا تو وہ فرشتے اس کو شاباشیں دیتے ہیں اور اس کیلئے بخشش مانگتے اور رحمت طلب کرتے ہیں۔ تم تفسیر سورة الشوریٰ