Ayah 41:2(2) یہ کلا م اس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کیا جاتا ہے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے۔
یہ سورت بھی حروف مقطعات سے شروک ہوئی جن کے معنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور اس میں مثل سورة مومن اور سورة زمر کے ابتداء قرآن کی صداقت اور اس کی حقانیت سے ہوئی ہے۔
Ayah 41:3(3) یہ کلام ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں جدا جدا اور صاف و واضح ہیں یعنی ایسا قرآن کریم جو عربی زبان میں ہے ان لوگوں کے نفع کے واسطے جو دانشمند اور سمجھدار ہیں۔
Ayah 41:4(4) اس قرآن کریم کی شان یہ ہے کہ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے پھر بھی ان کے اکثر لوگوں نے اس قرآن کریم سے روگردانی کی سو وہ سنتے ہی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کلام کی آیتیں مفصل ہیں یعنی جدا جدا ایک آیت سے دوسری آیت علیحدہ اور اپنے مضامین اور معانی میں نہایت صاف اور واضح مراد لیتا ہوں میں قرآن عربی زبان کا یعنی اس کتاب سے مراد قرآن ہے جو عربی میں ہے تاکہ جن لوگوں میں یہ نازل ہوا ہے وہ اس کو آسانی سے سمجھ سکیں اور دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں اور دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں ان لوگوں کے نفع کے لئے یہ قرآن کریم نازل کیا گیا ہے جو سمجھدار ہیں یعنی اگرچہ مکلف سب ہیں لیکن حقیقتہً منتفع وہی لوگ ہوتے ہیں جو اہل دانش ہیں۔
اس قرآن کریم کا حال اور اس کی شان یہ ہے کہ جو اس کو مانتے ہیں ان کو بشارت اور خوشخبری دیتا ہے اور جو نہیں مانتے ان کو ڈراتا ہے پھر بھی عرب کے اکثر لوگوں نے اس کتاب سے اعراض کیا اور منہ پھیرا پھر وہ اس کو سنتے ہی نہیں یعنی اس کتاب کا سننا بھی گوارہ نہیں کرتے اور سننے سے اعراض کرتے ہیں پھر اسی پر اکتفا نہیں بلکہ بطور عناد اور سرکشی کے ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔
Ayah 41:5(5) اور ان دین حق کے منکروں نے یوں کہا کہ جس بات کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اس بات کے سمجھنے سے ہمارے دل اور قلوب پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ثقل اور بوجھ ہے اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک خاص مانع یعنی پردہ حائل ہے سو تو اپنا کام کئے جا اور ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ یعنی آپ جو ہم کو دعوت دیتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں اس سے ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے دل پردوں میں ہیں کانوں میں ثقل یعنی ٹٹیاں اڑی ہوئی ہیں اور آپ کے اور ہمارے درمیان پردہ حائل ہے یہ تمام موانع ہیں اب تیرا جو کام ہے وہ کرتارہ اور ہمارا جو کام ہے وہ ہم کررہے ہیں کفار کی یہ باتیں بطور استہزا اور بطور تمسخر تھیں اور عناد کی راہ سے کہتے تھے بنی اسرائیل میں حضرت حق تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ ہم نے ان کے اور آپ کے مابین پردہ حائل کردیا ہے اور ان کے کانوں میں ثقل ہے تو وہ ان کے اسی عناد اور بےہودہ گوئی کی سزا کے طور پر فرمایا ہے اور یہ ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ جب شرارت پسندوں کی شرارتیں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں تو حضرت حق تعالیٰ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے یعنی جب مریض بدپرہیزی سے باز نہیں آتا تو مرض لاعلاج ہوجاتا ہے۔
اہل علم نے یوں جواب دیا ہے کہ کفار کے اس قول کا منشا یہ تھا کہ ہم میں قبول استعداد کا فقدان ہے اور یہ فقدان بھی مطلقاً ہے یعنی استعداد قبول مفقود ہے اس لئے ان کا یہ قول کاذب ہے اور حضرت حق تعالیٰ کے اثبات پردہ اور ثقل کا منشا یہ ہے کہ فقدان استعداد قریب من الفعل ہوتا ہے۔
بہرحال ! حٰم ٓ سجدہ کی آیت اور بنی اسرائیل کی آیت میں منافات نہیں ہے چناچہ دوسرے دن کچھ لوگوں نے حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا اور جب آپ نے دریافت کیا کہ تم تو کل یہ کہتے تھے اور آج اسلام قبول کررہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ وہ باتیں ہم مذاق میں کہہ رہے تھے۔
Ayah 41:6(6) اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو بس تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میری طرف یہ وحی بھیجی جاتی ہے اور مجھ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ بس تمہارا حاکم اور تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے سو تم اسی کی طرف سیدھا باندھے چلے جائو اور سیدھے رہو اور اسی کی طرف سیدھے متوجہ رہو اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی اور بخشش طلب کرتے رہو اور ان مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو زکوٰۃ نہیں ادا کرتے یعنی کار خیر میں روپیہ خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں۔
Ayah 41:7(7) اور وہ آخرت کا انکار ہی کئے چلے جاتے ہیں۔
Ayah 41:8(8) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں۔ زکوٰۃ کا جو ترجمہ ہم نے کیا ہے اس کے بعد ان شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے کہ کفار صرف ایمان کے مخاطب ہیں یا فرائض اور شرائع کے بھی مخاطب ہیں یا یہ شبہ کہ زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی ہے اور یہ سورت مکیہ ہے ، یہاں زکوٰۃ سے کافروں کے صرف جبلی بخل کی مذمت مقصود ہے۔
Ayah 41:9(9) آپ ان سے کہئے کیا تم اس خدا کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین کو پیدا کردیا تم دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو یہی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں اور تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ یعنی جس زمین پر تم آباد ہو اس کے باوجود وسعت کے صرف اتنے وقت میں پیدا کردیا جو دو دن کی مقدار ہے اور بلا کسی کی شرکت کے پیدا کردیا پھر بھی اس کی توحید کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو یہ اللہ تعالیٰ جس کے وصف بیان کئے گئے ہیں یہی تو رب العالمین ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
Ayah 41:10(10) اور اس نے زمین میں اس زمین کے اوپر بھاری بھاری پہاڑ قائم کردیئے اور اسی نے اس زمین میں برکت رکھی اور زمین پر رہنے والوں کی غذائیں اور روزی بھی اسی زمین میں مقرر کردیں یہ سب کچھ کامل چار دن میں ہوا دریافت کرنے والوں کے لئے یہ واضح بیان اور پورا جواب ہے۔ شاید یہود نے دریافت کیا تاکہ آپ کے جواب کو تورات سے ملا کر دیکھیں۔ اس کا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو ہی دن کے وقت کی مقدار میں یہ کام کیا کہ زمین پر پہاڑوں کو جمایا اور بھاری بھاری پہاڑ رکھے زمین میں برکت رکھی کہ برابر ہر چیز پیدا کرتی ہے اور برسہا برس سے زمین کی برکتوں سے مخلوق اس کی پیداوار سے مالا مال ہورہی ہے اسی کو فرمایا وقد فیھا اقوا تھا یعنی زمین کو روزیوں کا خزانہ بنایا جس مقام پر جس مذاق کی مخلوق بستی ہے وہاں اسی کے ذوق کے موافق رزق موجود ہے یہ سب کام یعنی زمین کو پیدا کرنا اور اس میں ہر قسم کی ضرورت کا رکھنا اور اس پر پہاڑ قائم کرنا اس کام کو چار دن میں کیا یعنی تدریجی طور سے اس کام میں چار دن کے برابر اور چار دن کی مقدار کے موافق وقت خرچ ہوا ورنہ یہ کام فوری بھی ہوسکتا تھا مگر مخلوق کی تعلیم کے لئے تاخیر سے کیا گیا تاکہ کام کرنے والے غور کریں اور کسی کام میں تعجیل کرنے کی بجائے سوچ سمجھ کر کام کیا کریں ان دنوں سے مراد دنیوی دن ہیں یا آخرت کے دن اس میں مفسرین کے دونوں قول ہیں۔
بہرحال ! آخر میں فرمایا کہ سوال کرنے والوں اور پوچھنے والوں کے لئے یہ پورا جواب ہے۔
Ayah 41:11(11) پھر آسمان کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی اور وہ اس وقت ایک دھواں سا تھا سو اس سے اور زمین سے ارشاد فرمایا تم دونوں حاضر ہوجائو خوشی سے یا ناخوشی سے انہوں نے عرض کیا ہم دونوں خوشی سے حاضر ہیں اور آپ کا حکم بجا لانے کو موجود ہیں۔ یعنی آسمان کا مادہ جو زمین کے صورت سے پہلے تخلیق ہوچکا تھا اس کی جانب توجہ فرمائی تاکہ اس کو سات حصوں میں تقسیم فرمائیں اور آسمان کی تعداد سات مقرر فرمائی۔
اس وقت زمین و آسمان کو ارشاد ہوا کہ تم کو ہمارے احکام کی تعمیل تو کرنی ہی ہوگی تم میں جو ہم نے شعور رکھا ہے اس کی بنا پر حکم کیا جاتا ہے کہ ہمارے جو احکام تکوینیہ تم میں جاری ہوتے رہیں گے ان کی تعمیل خوش سے کرو گے یا ناخوشی سے کروگے۔
انہوں نے اسی شعور کی بنا پر جواب دیا کہ ہم خوشی سے احکام کی تعمیل کے لئے حاضر ہیں ہوسکتا ہے کہ ان احکام سے وہ خدمت مراد ہو جو آسمان و زمین کے سیل سے ہم دیکھ رہے ہیں ایک طرف سے حرارت اور بارش کا ظہور ہے اور دوسری طرف سے نمو اور مختلف اقسام کے اگانے اور پیدا کرنے کا ظہور ہے۔
شاید اسی خدمت کی انجام دہی کے لئے ارشاد ہوا جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے آسمان و زمین کا جواب یہ ہے کہ جو ارشاد ہوگا اس کے لئے ہم حاضر ہیں اب اگے آسمانوں کی ترتیب کا ذکر فرمایا۔
Ayah 41:12(12) پھر ان کو دو دن میں سات آسمان بنادیا اور ہر ایک آسمان میں اس کے مناسب حال حکم بھیج دیا اور ہم نے آسمان دنیا اور دوسرے آسمانوں کو چراغوں سے رونق دی اور آراستہ کیا اور نیز اس آسمان دنیا کی حفاظت کی یہ اس اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ نظام ہے جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے یعنی آسمان سات بنائے اوپر تلے اور ہر آسمان کے فرشتوں کو اس آسمان کے موافق حکم دے دیا اور آسمان دنیا کو چراغوں یعنی ستاروں سے رونق بخشی اور شیاطین کے جانے اور فرشتوں کی خبریں اڑا لانے سے آسمان دنیا کی حفاظت کی یہ تجویز کردہ نظام اس کی جانب سے ہے جو عزیز بھی ہے اور علیم بھی ہے۔
Ayah 41:13(13) پھر اگر یہ کفار مکہ اس پر بھی روگردانی کریں اور منہ پھیریں اور ٹلائیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسے کڑاکے سے اور ایسے عذاب سے اور ایسی آفت سے ڈراتا ہوں کڑاکا عاد اور ثمود پر آچکا ہے۔ یعنی باوجود ان دلائل کے بھی اگر یہ توحید قبول نہ کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایک ایسے ہولناک عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا ہولناک عذاب عادو ثمود پر نازل ہوا تھا۔
Ayah 41:14(14) جبکہ ان کے پاس رسول ان کے منہ کے سامنے سے اور ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آئے اور ان کو سمجھایا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی عبادت نہ کرو مگر انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے پروردگار کو رسولوں ککا بھیجنا منظور ہوتا تو وہ فرشتوں کو اتارتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا تو ہم اس چیز کے ماننے سے انکار کرتے ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ آگے سے اور پیچھے سے آنے کا یہ مطلب کہ بار بار سمجھایا کبھی سامنے سے آکر سمجھایا اور کبھی پیچھے سے غرض ہر طرح اور ہر جہت سے سمجھایا مگر وہ مانتے تو کیا کہا تو یہ کہا اگر ہمارا پروردگار چاہتا اور ہم کو تبلیغ کرنا اس کو منظور ہوتا تو وہ فرشتے نازل کرتا اور جبکہ ایسا نہیں اور فرشتے نہیں آئے تو ہم اس توحید سے انکار کرتے ہیں جو تم دے کر بھیجے گئے ہو یعنی تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم توحید کی دعوت دے کر بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 41:15(15) پس وہ جو عاد تھے وہ دنیا میں ناحق تکبر اور غرور کرنے لگے اور جب ان کو ڈرایا گیا تو کہنے لگے وہ کون ہے جو قوت میں ہم سے زیادہ ہے کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ تعالیٰ نے ان کو بنایا اور پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے غرض ! وہ ہماری نشانیوں کا انکار ہی کرتے رہے۔
یہ عاد وثمود کے بعض حالات کی تفصیل ہے کہ عاد کے لوگ بڑے قدآور اور بڑے مضبوط تھے انہوں نے تکبر اور غرور اختیار کررکھا تھا اپنی طاقت اور زور کے آگے کسی کو سنتے ہی نہ تھے جب ان کو اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرایا گیا تو انجان بن کر پوچھنے لگے وہ ہے کون جو ہم سے قوت اور زور میں زیادہ ہے تو ہم کو عذاب دے گا۔
حضرت حق تعالیٰ نے جواب دیا کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں اور انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ تعالیٰ نے ان کو بنایا ہے وہ ان سے زور اور طاقت میں کہیں زیادہ ہے اور یہ لوگ ہماری آیتوں کے ساتھ انکار کرنے کے خوگر ہوچکے تھے اب آگے عذاب کی تفصیل ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رسول آئے آگے سے اور پیچھے سے یعنی ہر طرف سے شاید رسول بہت آئے ہوں گے مشہور یہی ہے دو رسول ہیں حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) اور فرماتے ہیں ان کے جسم بڑے بڑے ہوتے تھے بدن کی قوت پر غرور کا دم مارنا اللہ کے ہاں وبال لاتا ہے۔
Ayah 41:16(16) پھر ہم نے ان پر ان دنوں میں جو ان کے حق میں منحوس تھے سخت تندوتیز ہوا بھیجی تاکہ ہم ان کو اسی دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں اور آخرت کا عذاب یقینا بہت رسوا کرنے والا ہے اور آخرت کی مار میں تو پوری رسوائی ہے اور ان کو کہیں سے مدد بھی نہیں جائے گی۔ صرصر اس ہوا کو کہتے ہیں جو نہایت تیز ہوا اور اس میں آواز بھی ہو یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی جیسا کہ سورة الحاقۃ میں انشاء اللہ آجائے گا۔
کہتے ہیں یہ ہوا شوال کے آخری ہفتہ سے شروع ہوئی اور بدھ کے دن تک چلتی رہی ایام نحسات فرمایا اس لئے کہ یہ دن ان کے نزدیک منحوس تھے یا اس عذاب کی وجہ سے یہ دن ان پر منحوس ہوئے نحس سعد کی ضد ہے۔
ظاہر ہے کہ زمانے میں سعد یا نحس کی تفریق نہیں البتہ اعمال و افعال کی بنا پر نحس اور مبارک کہا جاتا ہے کہتے ہیں یہ دلو کا مہینہ تھا ہوا پچھوا تھی اور ٹھنڈی تھی یاپروا تھی جیسا کہ بعض نے کہا بہرحال اتنی تیز تھی جیسا کہ بعض نے کہا بہرحال اتنی تیز تھی کہ ان لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پھینکتی رہی اور پٹخنے دیتی رہی یہاں تک کہ وہ مرگئے اور چونکہ لمبے تڑنگے تھے اس لئے ان کو کھجور کے کھوکھلے تنوں کے ساتھ قرآن نے تشبیہ دی کا نحم اعجاز نخل خاویہ دنیا کی رسوائی اور ذلت کے عذاب کا مزا چکھا اور قیامت کے دن کا عذاب یقینا دنیا کے عذاب سے زیادہ رسواکن ہے اور شاید یہ خیال ہو کہ ہمارے معبود ان باطلبہ اس دن ہماری مدد کریں گے تو وھم لا ینصرون کہہ کر اس کی بھی نفی فرمادی اب آگے ثمود کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 41:17(17) اور بہرحال وہ جو ثمود تھے ہم نے ان کو سیدھی راہ بتادی تھی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے رہنے کو پسند کیا لہٰذا ان کو ان کی اس کمائی کے بدلے میں جو وہ کمایا کرتے تھے ایک سخت ذلیل کن عذاب کے کر ا کے نے آپکڑا۔ یعنی پیغمبر کی بھیج کر ثمود کو ہدایت کی راہ بتائی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں گمراہی کے اندھے پن کو پسند کیا اور گمراہ ہی رہے۔
آخر کار ان کو بھی ذلت و خواری کے عذاب کے ایک کڑاکے نے آپکڑا اور سب ذلت کی موت ہلاک کردیئے گئے کہتے ہیں ثمود ایک فرشتے کی ہولناک چیخ سے ہلاک کئے گئے۔
Ayah 41:18(18) اور جو لوگ ایمان لائے اور بچ کر چلے یعنی تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہے ان کو ہم نے بچا لیا۔ یعنی اہل ایمان اور تقویٰ شعارحضرات اس عذاب ہون سے محفوظ رہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عاد کا غرور توڑنے کی کمزوری مخلوق سے ان کو تباہ کروایا دلو کی مہینے میں آخر کے آٹھ دن تھے جن میں وہ بائو چلی۔ اور ثمود کے لئے فرماتے ہیں زلزلہ آیا ساتھ ایک آواز تند کے اس آواز سے جگر پھٹ گئے۔
Ayah 41:19(19) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ کے دشمن آگ کی طرف جمع کیے جائیں گے پھر ان کو اکٹھا کرنے کے لئے روکاجائیگا۔ یعنی پچھلے آنے والے پہلوں سے آملیں جیسا کہ سورة نمل میں ہم حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکروں کے بارے میں کہہ آئے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا دوزخ کے پاس لاکر اس میں دھکیلے جائیں گے اور بعض نے کہا ہنکائے جائیں گے۔
Ayah 41:20(20) یہاں تک کہ جب وہ سب جمع ہوکر دوزخ کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں اور کھالیں ان کے خلاف ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے - یعنی تمام اعضاء اور انسان کی کھال بھی اس کے خلاف شہادت دے گی جب کافر یہ حالت دیکھیں گے تو گھبرا کر اپنے اعضاء کو برا بھلا کہیں گے۔
Ayah 41:21(21) اور اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی وہ جواب دیں گے جو اللہ تعالیٰ ہر بولنے والی چیز کو گویائی عطا کرتا ہے اسی نے ہم کو بھی یاد کردیا اور اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تمہاری بازگشت سے ہوئی اور تم لوٹائے گئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کے اعمال جب فرشتے لادیں گے لکھے ہوئے وہ منکر ہوں گے کہ یہ ہمارے دشمن ہیں دشمن سے ہم پر جھوٹ لکھ دیا تب آسمان و زمین سے گواہی دلوادے گا کہے گا یہ بھی دشمن ہیں یارب تیرے ہاں ظلم نہیں کوئی ہمارا دوست گواہی دے تو سند ہے تب ان کے پائوں بولیں گے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ جب سبحساب کے موقف میں جمع ہوجائیں گے اور جہنم قریب ہوگی اس وقت حساب ہوگا تو حساب کے وقت اعضاء گواہی دیں گے کیونکہ اور گواہوں کی تکذیب کرے گا اور دشمن بیان کرے گا مگر اعضاء کی گواہی پر چپ ہوجائیگا اپنے اعضا پر خفا ہوگا وہ جواب دیں گے کہ ہم کو اس اللہ تعالیٰ نے گویا کردیا جو ہر بولنے والی چیز کی طاقت گویائی عطا فرماتا ہے جب اس نے پوچھا تو ہماری کیا مجال تھی کہ ہم نہ بولتے۔
آگے کا کلام اگر اعضا کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا قادر مطلق ہے جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا پھر تم اسی کے پاس لوٹائے گئے تو جو بےجان کو جان عطا کردیتا ہے اس کے نزدیک یہ کیا مشکل ہے کہ وہ بےزبان کو زبان عطا فرمادے اور اگر وھو خلقکم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو ظاہر ہے کہ یہ آگے کی تمہید ہے۔
Ayah 41:22(22) اور تم اپنی بداعمالیوں اور فواحش کو کچھ اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ تم پر تمہارے کان گواہی دیں گے نہ اس ڈر سے کہ تمہاری آنکھیں تم پر گواہی دیں گی اور نہ اس خوف سے کہ تمہارے چمڑے تم پر گواہی دیں گے وہ لیکن تم یہ خیال کرتے تھے کہ تم جو کچھ کرتے ہو ان میں سے بہت سی باتوں کو اللہ تعالیٰ کو خبر ہی نہیں ہوتی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غیر سے چھپ کر گناہ کرتے تھے یہ خبر نہ تھی کہ ہاتھ پائوں بتادیں گے اس کی خبر نہ تھی۔ خلاصہ : یہ کہ بعض منکروں کا یہ خیال تھا کہ جو بات پکار کر کہو جو بات علانیہ کرو وہ تو خدا کو معلوم ہوجاتی ہے اور جو خفیہ کردیا چپکے سے کہو خدا کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے دو قریشی اور ایک ثفقی یا دو ثفقی اور ایک قریشی کی ایسی ہی باتیں سنی تھیں آپ کعبہ کے پردے میں چھپے ہوئے تھے آپ نے حضور ﷺ سے عرض کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حدیث میں آتا ہے قیامت میں جب منکر حاضر ہوں گے تو مونہوں پر مہریں لگیہوں گیا عضاء میں سب سے پہلے انسان کی ران بولے گی غرض ! تم جو کچھ چھپ چھپا کر کرتے ہو وہ اس ڈر سے نہیں کہ تمہارے اعضاء تم پر شہادت دیں گے اس کا تو تم کو یقین ہی نہ تھا تم تو قیامت ہی کے منکر تھے وہ چھپا کر اس لئے کرتے تھے کہ تم نے سمجھ رکھا تھا کہ جو کام چھپا کر کیا جائے اس کو اللہ تعالیٰ نہیں جانتا آگے اس کا جواب فرمایا۔
Ayah 41:23(23) اور تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے پروردگار کے ساتھ قائم کررکھا تھا تم کو تباہ و برباد کیا لہٰذا تم سخت خسارے میں پڑگئے یعنی اپنی بدگمانیوں کی بدولت اس ڈھاڑے کو پہنچے اور ابدی نقصان میں اور خسارے میں پڑگئے۔
Ayah 41:24(24) پھر اگر اب یہ توگ صبرکریں تب بھی ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر وہ کوئی عذر کریں اور خدا کو راضی کرنا چاہیں تو بھی ان کا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل نہ ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں بعضی بلا صبر سے آسان ہوتی ہے وہاں صبرکریں یا نہ کریں دوزخ گھر ہوچکا اور بعضی بلاٹلتی ہے منت کرنے سے وہاں بہترا چاہیں کہ منت کریں کوئی قبول نہیں کرتا۔
خلاصہ : یہ کہ صبر کرنا یا نہ کرنا نہ تو آگ سے بچا سکتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کو منت اور سماجت سے منانے اور راضی کرنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔
Ayah 41:25(25) اور ہم نے ان کفار کے لئے کچھ ایسے ہم نشین مقرر کردیئے تھے جنہوں نے ان کی نگاہ میں ان کے پہلے اور پچھلے اعمال کو یا دنیا اور آخرت کو خوش نما اور امید افزا اپنا رکھا تھا اور آج ان کافروں کے حق میں بھی اللہ تعالیٰ کا وہ کلمۃ العذاب پورا ہوکر رہا جو ان امتوں کے حق میں ہوا تھا جو امتیں جنات اور انسان کی ان سے پہلے گزر چکی ہیں کیونکہ وہ سب زیاں کار تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا کفر وعناد اور سرکشی بڑھ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و ہدایت کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شیطان کا اثر بڑھ جاتا ہے اور شیطان اس پر قابو پالیتا ہے اور اس کو برے اعمال کو خوبیاں اور بھلائیاں سمجھاتا ہے اور آخر برباد کرکے چھوڑتا ہے آٹھویں پارے ولواننا میں تفصیل گزر چکی ہے۔
یہی معنی ہیں شیطان مقرر کردینے کے حضرت حق تعالیٰ کی توجہات خصوصی کے ہٹ جانے اور بہت کش ہوجانے کا نام ہے شیطانی اثرکاغلبہ اسی کو پانچویں پارے میں فرمایا فولہ ماتولی یعنی جس طرف اور جس راہ جاتا ہے اسے جانے دیتے ہیں۔
بہرحال ! وہ شیطان دوست اور ہم نشین وہم جلیس ہوجاتا ہے پہلے اعمال جو وہ کرچکا اور آئندہ جن کا ارادہ رکھتا ہے ان سب کو آراستہ اور خوش منظر کرکے دکھاتا ہے اور انسان ان میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔
ما بین ایدیھم وماخلفھم۔ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا کی رغبت اور آخرت کی نفرت کو اچھا اور خوشنما کرکے دکھاتا ہے۔ اسی حالت میں یہ کفارم کہ مبتلا ہیں اور جب یہ موجودہ کفار کے خوگر ہوجاتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ بھی وہی برتائو ہوتا ہے جو ان امتوں کے ساتھ ہوا جو ان سے پہلے گزرچکی ہیں خواہ وہ جنات کی ہوں یا انسانوں کی ہوں اور قول وہی لا ملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یعنی وہ بات پوری ہوگی کہ سابقہ امم کافرہ کو اور موجودہ کافروں کو جہنم میں جھونک دیاجائے کیونکہ وہ اور یہ سب زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے تھے آگے کفار کے اور اقوال شنیعہ مذکور ہیں۔
Ayah 41:26(26) اور یہ دین حق کے منکر آپس میں یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور اس کے پڑھتے وقت بیچ میں غل مچایا کرو شاید تم غالب ہوجائو۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جب قرآن پڑھا جائے اور یہ تم کو قرآن پڑھا جائے اور یہ تم کو قرآن سنانے لگیں تو خوب غل وشور کرو اور سنو نہیں شاید تم غلبہ پا جائو اور اس قرآن کا لوگوں پر اڑر نہ ہو۔
آگے تہدید اور تنبیہہ فرمائی ۔
Ayah 41:27(27) پس ہم ان منکروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ہم ان کو ان کے برے اور بدترین کاموں کی سزا اور بدلا دیں گے جو یہ کیا کرتے تھے۔ یعنی اس قسم کا شور وشغب کرنے والوں اور مشورہ کرنے والوں کو سخت سزا کا مزہ چکھایا جائے اور یہ جو برے برے عمل کرتے رہتے ہیں ان کہ ہم جزا دیں گے۔
Ayah 41:28(28) اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی سزا یہی آگ ہے اور یہ ہے جزا دشمنان خدا کی آگ ہے ان کو اسی آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا ان کا گھر اسی آگ میں ہے سدا کو یہ بدلا ان کو اس بنا پر دیا کہ یہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 41:29(29) اور یہ دین حق کے منکر یوں کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو جنات میں سے اور انسانوں میں سے جن جن لوگوں نے بہکایا اور گمراہ کیا تھا ان دونوں گروہوں کو ذرا ہم کو دکھادے کہ ہم ان کو اپنے پائوں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں اور نیچے رہنے والوں میں سے ہوجائیں - یعنی قیامت کے دن عذاب کو دیکھ کر اور جہنم میں مبتلائے عذاب ہو کر یہ کفارگمراہ کرنے والوں سے انتقام لینے کی آرزو کریں گے اور ان پر غصہ اتارنا چاہیں گے کہ جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا اور بہکایا خواہ وہ جن ہوں یا آمی ہوں ان دونوں گروہوں کو ہمیں دکھلا دے تاکہ ان کو پائوں تلے ڈال کر ہم خوب مسلیں اور خوب روندیں اور وہ خوب ذلیل ہوں اور ان کو سافلین والوں میں کردیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو نیچے والے ہیں اگرچہ وہ گمراہ کرنے والے بھی جہنم میں ہونگے لیکن شاید نظر نہ پڑیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے۔
اورچونکہ بہکانے والے اور گمراہ کرنے والے یہی دو ہیں یا شیطان یا انسان نما شیطان۔
وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن۔
Ayah 41:30(30) بلا شبہ جن لوگوں نے اس امر کا اقرار کیا اور یوں کہا کہ پروردگار ہمارا اللہ تعالیٰ ہے پھر اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تو ایسے لوگوں پر فرشتے اترتے ہیں کہ آئندہ آنے والی چیزوں سے خوف نہ کرو اور نہ پچھلی چیزوں کا کچھ غم کرو اور چھوڑی ہوئی چیزوں پر غمگین نہ ہو اور تم اس جنت کی بشارت پر خوش ہو جس کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے - یعنی اوپر کی آیتوں میں دین حق کے منکروں کا ذکر تھا اور ان کے افعال شنیعہ کا بیان تھا۔
اس آیت میں مسلمانوں کا ذکر ہے کہ جنہوں نے توحید کا اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرتے رہے تو ایسے لوگوں پر فرشتے اترتے ہیں یعنی مرتے وقت اور قبر میں اور قبروں سے دوبارہ زندہ ہوتے وقت یہ تین وقت فرشتوں کے آنے کا ہے جو یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ جو چیزیں آئندہ تم کو پیش آنے والی ہیں ان کا بالکل خوف نہ کرو اور ہم جو چیزیں دنیا میں چھوڑ کر آئے ہو مثلاً مال اور اولاد وغیرہ ان کا غم نہ کرو اور جس جنت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے حصول پر خوش ہو یعنی وہ حاصل ہونے والی ہی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا تم ثم استقم کے کیا معنی سمجھتے ہو ؟
انہوں نے عرض کیا توحید کا اعلان کرنے کے بعد کوئی گناہ نہ کرے آپ نے فرمایا تم دین کو ایک مشکل بات پر حمل کیا لوگوں نے کہا آپ اس کا مطلب بیان کیجئے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا توحید کا اقرار کرنے کے بعد پھر بت پرستی اور شرک کو اختیار نہ کیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ توحید قبول کرنے کے بعد منافقت اختیار نہ کی۔
Ayah 41:31(31) دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق اور دوست تھے اور آخرت میں بھی ہم تمہارے رفیق اور دوست رہیں گے اور جنت میں تم کو ہر وہ چیز حاصل اور میسر ہوگی جس کے لئے تمہارے دل خواہش کریں اور وہاں تم جو طلب کرو گے وہ تم کو ملے گا۔
Ayah 41:32(32) یہ سب کچھ اس کی طرف سے بطور مہمانی کے ہوگا جو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی دنیا میں بھی نیک بندوں کو ان کی رفاقت میسر ہوتی ہے چناچہ نیکیوں کا الہام اور شدائد و حوادث میں صبر وسکینہ اور غیبی مدد ان ملائکہ ہی کا فیضان ہے ان کی رفاقت اور ہمراہی اور بشارت یہ سب باتیں آخرت میں ہونگی۔ اور جنت کی تعریف بیان کریں گے کہ تم وہاں جو چاہو گے وہ موجود ہوگا اور جو طلب کرو گے وہ ملے گا یعنی جس طرح یہاں دنیا میں ہرچیز کا تصور بلاتکلف کرسکتے ہو لیکن موجود نہیں کرسکتے وہاں یہ طاقت بڑھادی جائے گی جس چیز کا تصور کرو گے وہ تصورکرو گے وہ تصور کرتے ہی موجود ہوجائے گی اور یہ سب چیزیں بطور اکرام اور اعزاز ہوں گی اور مہمانی کے طور پر ہوں گے۔
حدیث میں بھی آتا ہے امنت لاللہ ثم استقم یعنی میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر قائم رہ شارحین حدیث نے اس کی شرح میں فرمایا کہ نیک اعمال کی پابندی کرے اور نواہی سے بچے یہی مطلب آیات کا ہے۔
شیخین سے جو تفسیر م نے نقل کی ہے یہ محض موجود حالات کی رعایت سے اختیار کرلی ہے ورنہ استقامت کے لئے نیک اعمال ضروری ہیں اور نواہی سے احتراز لازم ہے۔
شیخین کی تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ ایمان خالص ہو اور اس میں شرک و نفاس کی آمیزش نہ ہو یہ کم سے کم درجہ استقامت کا ہے حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا مستقیم رہے اللہ تعالیٰ کے امر پر اور اس کی طاقت کرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہے۔
Ayah 41:33(33) اور قول کے اعتبار سے اس شخص سے بہتر کس کی بات اور کس کا قول ہوسکتا ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے اور بلائے اور خود بھی نیک عمل کرتا رہے اور یوں کہے کہ بیشک میں مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یعنی توحید کی دعوت دے عمل نیک یعنی خلوص کے ساتھ کام کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر فخر کرتا ہو اور اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔
ظاہر ہے کہ اس سے مراد خود نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے جیسا کہ آگے آیت میں آپ ہی کو خطاب ہے اس میں دعوت الی اللہ کا ذکر ہے آگے تبلیغ میں وہ حالات پیش آتے ہیں ان کا علاج ہے فخر کرنے کا یہ مطلب کہ اسلام سے تکبر یا عارنہ کرتا ہو۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم کو اس میں شک نہیں کہ یہ آیت موذنوں یعنی اذان دینے والوں کے بارے میں اتری ہے اور ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو دین اسلام کا معتقد اور موحد ہو اچھے کام کرنے والا ہو اللہ کی طرف بلانے والا ہو۔
عکرمہ کا قول ہے کہ بلانے والا موذن ہے۔
ابوامامہ باہی کا قول ہے کہ مراد اچھے عمل کرنے سے اذان اور تکبیر کے مابین نماز پڑھنی ہے۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز اور تکبیر کے مابین جو دعا کی جائے وہ رد نہیں کی جاتی اور یہ بھی فرمایا کہ اگر لوگ اذان کا ثواب جان لیتے تو آپس میں اذان دینے کے متعلق جھگڑا کیا کرتے۔
Ayah 41:34(34) اور اے پیغمبر نیکی اور بدی برابر نہیں ہوا کرتی آپ برائی کو ایسے برتائو سے دفع کیا کیجئے جو بہت اچھا ہو اور برائی کو اس خصلت کے ساتھ دفع کیجئے جو بہت بہتر اور اچھی ہو بس اس بہترین برتائو کا یہ اثر ہوگا کہ جس شخص کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے وہ یکایک ایسا ہوجائے گا کہ کوئی ہمدردی کرنے والا دوست ہے۔ یعنی برائی اور بدی کے مکافات اور بدلا برائی اور بدی سے ہوگا تو مخالفت اور دشمنی زیادہ ہوگی اور اگر برائی کا بدلا بھلائی سے ہوگا تو دشمن بھی دوست بن جائے گا گو دل سے دوست نہ ہو مگر برتائو میں ڈھیلا ہوجائیگا بشرطیکہ اس کے مزاج میں کچھ صلاحیت اور سلامت ردی ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں برابر نہیں نیکی برائی کے نہ برائی نیکی کے سخت کلام کرے یا برا معاملہ کرے تو اس کے مقابل کو جو اس سے بہتر ہو کرنے سے دشمن ہوجاتے جیسے دوست اگرچہ دل میں نہ ہو۔
Ayah 41:35(35) اور یہ بات سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے کسی اور کو میسر نہیں ہوتی اور نہ یہ بات سوائے اس کے کسی کو ملتی اور میسر ہوتی ہے جو بڑے نصیبے والا ہو۔ یعنی یہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں اور نہ یہ خصلت ہر ایک کو ملتی ہے مگر ہاں جو لوگ نصیبے والے ہیں اور جنہوں نے صبروسہار کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ان کو اس خصلت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور انہیں کو یہ خصلت تلقین کی جاتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں ورنہ اس وصف سے ہر شخص متصف نہیں ہوا کرتا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حوصلہ کشادہ چاہیے کہ بری بات سہار کر بھلی کہے یہ اقبال مندوں کو ملتا ہے۔
خلاصہ : یہ کہ یہ مرتبہ صرف صبر کرنے والے اور نصیبے والے کا حصہ ہے جو مزاج کا بہت مستقل اور ثواب کے اعتبار سے بڑا نصیبے والا ہو۔
Ayah 41:36(36) اور اگر شیطانی وسوسہ کسی وقت آپ کو ابھارے اور اگر کبھی شیطان کا کچوکنا آپ کو کچو کے تو آپ پنا پکڑئیے اللہ کی اور اللہ سے پناہ طلب کیا کیجئے بلا شبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے۔
نزغ کا لفظی ترجمہ کچوکنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غصہ کا وسوسہ آئے اور غصہ پر ابھارے تو آپ فورات اللہ سے پناہ طلب کرلیا کیجئے کیونکہ وہی سب کے سننے والا جاننے والا ہے۔
Ayah 41:37(37) اور منجملہ اس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانوں میں سے رات دن اور سورج اور چاند بھی اسی کی نشانیاں ہیں تو تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اس اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم کو واقعی اسی کی عبادت کرنی ہے۔ یہاں سے پھر توحید کے دلائل اور رسالت وقرآن کی صداقت اور نبی کریم ﷺ کی تسلی کا ذکر شروع فرمایا۔
چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے بیشمار دلائل اور نشانیاں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند بھی اسی کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جب یہ چیزیں آیات قدرت ہیں تو تم نہ سورج کو بندگی کرو اور نہ چاند کو بلکہ تم اگر واقعی اللہ تعالیٰ کے پجاری اور بندگی کرنے والے ہو تو اسی اللہ کی پوجا کیا کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا ہے۔
بعض کواکب پرست ایسا کرتے تھے اور بعض مشرکوں کا آج کا کل بھی یہ شیوہ ہے کہ وہ خدا کا نام لیتے ہیں لیکن سورج اور چاند کو پوجتے ہیں قرآن نے ایسے لوگوں کا رد فرمایا کہ یہ چیزیں معبود نہیں ہیں بلکہ معبود حقیقی کی نشانیاں ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس معبود حقیقی کے علاوہ کوئی اور پرستش کے قابل نہیں ہے۔
Ayah 41:38(38) پھر اگر یہ لوگ تکبر کا اظہار کریں اور غرور کریں تو آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے کیونکہ وہ لوگ یعنی فرشتے جو آپ کے پروردگار کے پاس ہیں اور آپ کے پروردگار کے مقرب ہیں وہ رات دن اس اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ عبادت کرتے ہوئے ذرا نہیں تھکتے۔ مطلب یہ ہے کہ توحید کے اعتراف اور اقرار میں اور صرف وحدہ لاشریک کے عبادت کرنے میں انہی کا فائدہ ہے لیکن اگر یہ اپنے ہی فائدے کو ترک کرتے ہیں تو یہ ان کی حماقت اور بےوقوفی ہے اللہ تعالیٰ کو تو عبادت اور اس کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے رہتے ہیں اور باوجود اس قدر محنت شاقہ کے تھکتے ہی نہیں تو پھر جس دربار میں بیشمار عبادت گزار موجود ہوں وہاں اگر یہ دین حق کے منکر اس عالی شان سرکار کی عبادت سے سرتابی کریں تو سوائے اس کے کہ ان منکروں ہی کا نقصان ہو اللہ تعالیٰ کو کیا نقصان ہوسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ کیا چیز ہیں اور ان کا غرور کیا چیز ہے۔
Ayah 41:39(39) اور منجملہ اس کے نشانہائے قدرت اور دلائل توحید کے یہ بات بھی ہے کہ اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ دبی پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تروتازہ ہوتی اور ابھرنے لگتی ہے بیشک جس اللہ تعالیٰ نے اس دبی ہوئی زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرے والا ہے اور بلا شبہ وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر اور قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی گرمی کے موسم میں جب زمین خشک ہوجاتی ہے اس کو فرمایا کہ دبی پڑی ہوتی ہے اور ایسی ہوتی ہے جیسے مردہ کہ اس میں نمو ہی نہیں اور کسی چیز کو اگانے کی صلاحیت ہی نہیں لیکن جہاں بارش کا چھینٹا پڑا اور زمین میں ایک حرکت اور ابھار پیدا ہوا۔
زمین کی فصل کٹ جانے کے بعد اس کی موت اور بارش سے اس میں دوبارآثار حیات پیدا ہونا یہ ہر سال کا مشاہدہ ہے پھر جو خدا اتنی بڑی زمین کو خشک ہونے کے بعد از سرنو زندہ اور تروتازہ کردیتا ہے وہی خدا انسان کو بھی اس کے مرے پیچھے زندہ کرنے والا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی وحادنیت کی بہت بڑی دلیل ہے اور جس طرح توحید کی دلیل ہے اسی طرح اس زمین کا مرنا اور زندہ ہونا قیامت کے قائم ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے کی بھی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہر چیز پر قادر ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کے زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 41:40(40) بلا شبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ لوگ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں بھلا ایک شخص جو آگ میں ڈالا جائے وہ شخص اچھا اور بہت رہے یا وہ اچھا ہے جو قیامت بےخوف ومامون ہو کر آئے تم جو چاہو کرتے رہو بیشک تم جو کچھ کررہے ہو اس سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ توحید الٰہی اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کا انکار اور تکذیب کرتے ہیں اور ہماری آیات میں رکیک اور باطل تاویلات کرتے ہیں اور ہماری آیات میں تحریف کرتے ہیں ان کی یہ حرکات شنیعہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں یعنی ہم ان کی ان حرکات سے بخوبی واقف ہیں۔
آگے تمثیل بیان فرمائی کہ ایک وہ شخص جو آگ میں جھونکا جائے اور جہنم میں ڈالا جائے اور ایک وہ شخص جو قیامت کے دن مطمئن اور رہا امن اور مامون ہوکر آئے ان دونوں میں کون بہتر ہے۔
مراد اس سے کافر اور مومن ہے یا ابوجہل اور عمار بن یاسر ہیں یا ابوجہل اور حضرت سید الشہداء حمزہ ؓ ہیں بہرحال بہت سے اقوال مذکور ہیں ایسا ہی الحاد میں بہت سے اقوال ہیں ہم نے تیسیر میں ان سب کو جمع کردیا ہے اس آیت میں منکرین توحید و رسالت کے لئے سخت وعید ہے۔ اعملواما شئتم بھی بطور تہدید ہے جو ازواباحت کے لئے نہیں بعض حضرات نے اعملواما شئتم کا تعلق اہل بدر سے کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جملہ خاص اہل بدر کے لئے ہے لیکن راجح قول پہلا ہے جیسا کہ انہ بما تعملون بصیر اس پر شاہد ہے کہ یہ تنبیہ اور تہدید ہے۔