Ayah 40:2(2) اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔ یعنی زبردست ہے خبردار دانا۔
Ayah 40:3(3) گناہ کا بخشنے والا توبہ کا قبول کرنے والا سخت سزا دینے والا اور بڑی قدرت وفضل کا مالک اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف پھرجانا ہے۔ ینی صاحب مغفرت بھی اور توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنے والا بھی یعنی توبہ قبول کرکے گناہ گار کو ایسا کردیتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا سزا میں سخت ہے یعنی اس کا عذاب بہت سخت ہے اور اس کی گرفت شدید ہے طورل فضل ماغنیی قدرت والا۔ صاحب فضل اور غیر محتاج و بےنیاز سب معنی طول کے ہوسکتے ہیں۔
حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا توبہ کرنے والے کے گناہ بخشنے والا اور توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول فرمانے والا ثابت بنائی حضرت مصعب بن عمیر کے ساتھ کوفہ کے نواحی میں گشت کررہے تھے تو ثابت ایک باغ میں دو رکعتیں پڑھنے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے نماز میں سورة مومن کی ابتدائی آیتیں پڑھنی شروع کیں تو انہوں نے ایک شخص کو سفید خچر پر سفید چادر اوڑھے ہوئے دیکھا کہ ا ن کے پاس آیا اور اس نے کہا اے شخص جب تو کہے غافرالذنب تو کہہ یا غافرالذنب اغفرذنبی اور جب تو کہے قابل التوب تو یوں کہہ یا قبل التوب اقبل توبتی اور جب کہے شدید العقاب تو یوں کہہ یا شدید العقاب لاتعاقبنی اور جب تو کہے ذی الطول تو کہہ یا ذالطول طل علی بخیر۔
ثابت کہتے ہیں میں نے اسی طرح کہا بعد میں نے اس شخص کو تلاش کیا تو نہیں پایا تو آس پاس کے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس شخص کے دیکھنے سے انکار کیا یا آیت میں اللہ تعالیٰ کی خوبیاں فرما کر پھر اس کی توحید و قیامت کا اعلان کیا آگے اہل باطل کا رد ہے۔
Ayah 40:4(4) اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں صرف وہی لوگ جھگڑے نکالا کرتے ہیں جو دین حق کے منکر ہیں اور جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے سوائے پیغمبران منکروں کا شہر در شہر پھرتے پھرنا آپ کو کسی غلطی اور فریب میں مبتلا نہ کردے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کافر اور دین حق کے منکر ہیں یہی قرآن میں ناحق کے جھگڑے نکالتے اور کج بحثی کرتے ہیں اور اپنے حق پر ہونے کے لئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ دیکھ لو ہم کس طرح اطمینان کے ساتھ شہر بہ شہر پھرتے ہیں اور خوب تجارت کرکے نفع کماتے ہیں اگر ہم حق پر نہ ہوتے اور غلط راستے پر ہوتے تو ہم پر عذاب آجاتا اور ہم ہلاک ہوجاتے گویا تباہی میں تعجیل کا نہ ہونا ہماری حقانیت کے ثبوت ہے۔
اس کو فرمایا کہ ان کو جو وسعت تجارت کی مہلت ملی ہوئی ہے اس سے آپ کسی غلطی میں مبتلا نہ ہوجائیں یہ تو استدراجا ہے اور چند روزہ بہا رہے جیسا کہ ہم تفصیل کے ساتھ آل عمران کی تسہیل میں عرض کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آشنائیاں رکھتے ہیں سرداروں سے اس کا اندیشہ نہ کر۔
Ayah 40:5(5) ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اور مختلف گروہ اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں اور ہر امت نے اپنے رسولوں کے ساتھ یہی ارادہ کیا کہ اس رسول کو گرفتار کرلیں اور قیدی بنالیں اور بےاصل باتوں اور بیہودہ شبہات کا سہارا لے کر جھگڑا کرنے لگے تاکہ اس ناحق کے جھگڑے کی وجہ سے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں آخرکار میں نے ان لوگوں کو جو باطل سے حق کو مٹانا چاہتے تھے پکڑ لیا اور ان کی گرفت کی پھر دیکھا کہ میرا عذاب کیسا ہوا۔ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور ان کے بعد اور بھی بہت سی جماعتوں نے جیسے عادوثمود وغیرہ نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ان رسولوں کو جھٹلایا اور ہر ایک گروہ اور جماعت نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو قید کرلیں اور کو قتل کردیں اور ناحق کے جھگڑنے نکالنے لگے تاکہ باطل اور ناحق سے حق کو زائل کردیں اور دین حق کو مٹادیں۔ جب ان امتوں کی یہ حرکات حد سے بڑھیں تو آخر کا میں نے ان کو پکڑا پھر دیکھا کہ میری پکڑ اور میرا عذاب کیسا ہوا۔
Ayah 40:6(6) اور جس طرح ان کافروں کی پکڑ ہوئی اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے پروردگار کی یہ بات ثابت ہوگئی اور ٹھیک ہوچکی کہ وہ اہل دوزخ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح امم سابقہ کی دنیا میں بھی گرفت ہوئی اور آخرت میں بھی سزا ہوگی اسی طرح ان کفار مکہ کے حق میں بھی ایسا ہی ہوگا کہ دنیا میں بھی ان کی گرفت ہوگی اور آخرت میں بھی وہ اہل جہنم میں سے ہوں گے یا یہ کہ تمام کافروں کے حق میں یہ بات ثابت اور ٹھیک ہوچکی کہ وہ اہل جہنم ہوں گے یعنی اہل کفر کا اصحاب نار ہونا یہ ازلی بات ہے اور آپ کے پروردگار کا قول ہے۔ رہی یہ بات کہ دنیا میں بھی منکر قوم پر عذاب کا نازل ہونا یا کسی قوم پر عذاب کا نازل نہ ہونا یہ دوسری بات ہے لیکن سب کا اہل جہنم سے ہونا ضروری ہے۔
Ayah 40:7(7) وہ فرشتے جو عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور روہ فرشتے جو اس عرش کے گرداگرد ہیں یہ سب اپنے پروردگار کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے بخشش کی دعا کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے آپ کی رحمت اور آپ کے علم میں ہرچیز کی سمائی ہے۔ یعنی باعتبار رحمت اور باعتبار علم کے آپ نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ سو آپ ان لوگوں کو جو توبہ کرچکے ہیں اور آپ کی راہ پرچلتے ہیں بخش دیجئے اور ان کی مغفرت فرمادیجئے نیز ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔
عرش الٰہی کے اٹھانے والے چار فرشتے ہیں اور عرش کے گرد اگر د بیشمار صفیں ہیں یہ فرشتے دوسرے فرشتوں کے مقابلے میں زیادہ معزز اور قابل احترام ہیں جو عرش کے گرد اگر د ہیں وہ عام طور سے عرش الٰہی کا طواف کرتے رہتے ہیں اور لا الہ الا اللہ اکبر کہتے ہیں۔
عرش کے اٹھانے والوں میں سے دو کی تسبیح یہ ہے۔
سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی حلمک بعد علمک ۔
اور دوسرے دو فرشتے کہتے ہیں۔
سبحانک الھم وبحمدک علی عفوک بعد قدرتک۔
ایسے معزز فرشتے علاوہ تسبیح وتہلیل کے اہل ایمان کے لئے دعائے مغفرت بھی کرتے ہیں چونکہ وہ خودبھی مومن ہیں اس لئے بااعتبار اخوت ہمدردی اپنے مومن بھائیوں کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتے ہیں اور یوں دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار جن لوگوں نے کفر وشرک سے تائب ہوکر تیری راہ اختیار کرلی ان کی بخشش فرما دے اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے کیونکہ تیری رحمت سب پرچھائی ہوئی ہے اور تیرا علم سب کو محیط ہے معلوم ہوا کہ مومن سے ہمدردی کرنی چاہیے۔
Ayah 40:8(8) اے ہمارے پروردگار آپ ان کو ان دائمی باغوں میں داخل کردیجئے جن کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے بھی جو لوگ جنت کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل کردیجئے بلاشبہ آپ کمال قوت اور کمال حکمت کے مالک ہیں۔
Ayah 40:9(9) اور آپ ان لوگوں کو ہر قسم کی تکالیف سے بچا لیجئے اور جس کو آپ نے اس دن برائیوں اور تکالیف سے بچا لیا تو بیشک آپ نے اس پر بہت مہربانی فرمائی اور جو کچھ مذکور ہوا یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن دوامی باغوں کے آپ نے ان سے ایمان اور نیک اعمال پر وعدہ فرمایا ہے ان میں ان کو داخل فرمادیجئے اور نہ صرف ان کو بلکہ ان کی ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد کو بھی ان کے ہمراہ داخل کیجئے تاکہ ان کو اطمینان ہو۔
ومن صلح کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے جو اہل ایمان ہوں اگرچہ اعمال میں ان کے برابر نہ ہوں اور آپ چونکہ کمال قوت کے مالک ہیں اس لئے نہ آپ پر کوئی اعتراض کرنے والا اور نہ آپ کی مصلحت میں کوئی دخل دینے والا اور ان کو ہر برائی کی پاداش سے بچا خواہ وہ عذاب کی شکل میں ہو یا ملامت یا میدان حشر کی تکالیف سے غرض ہر برائی کی پاداش سے بچا۔
چونکہ وقھم السیئات کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں باتیں ظاہر کردی ہیں اور جس کو تونے اس دن برائیوں سے بچا لیا تو اس پر بڑا ہی رحم کیا اور یہ برائیوں سے بچ کر جنت عدن میں داخل ہوجنا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ جمع ہوجانا اور اس دن کی پریشانیوں سے بچ کر خدا کی رحمت میں آجانا یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 40:10(10) بلا شبہ جو لوگ منکر ہیں جب وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو ان کو پکار کے کہا جائیگا جس طرح آج تم اپنی جانوں سے بیزار ہو اور ان پر غضب ناک ہو اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تم سے اس وقت بیزار تھا اور تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کرتے تھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم آج اپنے جی کو پھٹکارتے ہو دنیا میں جب تم کفر کرتے تھے اللہ اس سے زیادہ تم کو پھٹکارتا تھا اسی کا بدلا آج پائو گے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ آج تم اپنی جان سے بیزار ہو اور اپنے پر غصہ کررہے ہو اور غصے کے مارے اپنی اپنی انگلیاں چپائے ڈالتے ہو جب تم کفر کیا کرتے تھے دنیا میں اور اللہ تعالیٰ کی ایمانی دعوت کو ٹھکراتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس قوت تم پر تمہارے غصہ سے زیادہ غصے اور غضب ناک ہوتا تھا۔
ہوسکتا ہے کہ یوں ترجمہ کیا جائے کہ تم جس قدر اپنے جی پر غصہ اور غضب کررہے ہو اس سے زیادہ آج اللہ تعالیٰ تم سے خفا اور بیزار ہے اور تم پر غضب ناک ہے۔
آگے ان کا اعتراف مذکور ہے کہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے اور دوبارہ واپس آنے کے لئے درخواست کریں گے۔
Ayah 40:11(11) وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تونے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو دفعہ زندہ کیا سو ہم اب گناہوں کا اقرار کرتے ہیں پھر کیا اب یہاں سے کوئی نکلنے کی بھی راہ ہے اور واپس جانے کا بھی کوئی راستہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دفعہ محض جماد اور بےجان ہے جو بالکل مردے کی حالت تھی یعنی پیدا ہونے سے پیشتر پھر تو نے ہم کو زندگی بخشی پھر دنیوی زندگی میں موت آئی اس کے بعد حشر میں پھر زندہ ہوئے تو اب ہم نے آخرت کی زندگی سے جو انکار کیا تھا اس گناہ اور نافرمانی کا اعتراف کرتے ہیں تو اب کوئی صورت ایسی بھی ہے کہ ہم یہاں سے پھر دنیا میں چلے جائیں تاکہ تلافی مافات ہوسکے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے مٹی تھے یا نطفہ تو مردے ہی تھے تو پھر جان پڑی تو جی پایا پھر مرے پھر جئے یہ ہوئیں دو موتیں اور دو حیاتیں۔ سورة بقرہ میں فرمایا
وکنتم اموتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم۔ یعنی تم مردہ تھے پر اللہ تعالیٰ نے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دے گا پھر تم کو زندہ کرے گا۔
بعض حضرات نے فرمایا پہلی زندگی دنیا کی پھر دنیا کی موت پھر عالم برزخ یعنی قبر کی زندگی پھر موت پر عالم حشر کی زندگی یوں دو موتیں اور دو زندگیاں ہوئیں۔
یعنی دنای کی زندگی اور عالم برزخ کی زندگی اور وہاں کی موت اور وہاں کی زندگی بہرحال وہ بھی زندگی ہے اگرچہ اس کی صحیح کیفیت مجہول ہے لیکن پہلا قول راجح ہے اور وہی جمہور کا قول ہے دوبارہ واپسی کی خواہش اس لئے کریں گے کہ اب انبیاء کی باتوں کا ہونا آنکھوں سے دیکھ لیا تو اب ہم بھی ایمان لے آئیں گے لہٰذا دنیا میں یہاں سے نکال کر بھیج دیجئے ھل الی مرد من سبیل سورة شوریٰ میں فرمایا آگے اس درخواست بعد الوقت کا جواب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 40:12(12) یہ سزا تم کو اس لئے دی جارہی ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جانا تھا تو تم مان لیتے تھے اور یقین کرلیا کرتے تھے سو اب یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو سب سے عالیشان اور سب سے بڑا ہے۔ یعنی واپسی کی کوئی شکل نہیں ہمیشہ کے لئے یہیں رہنا ہے تمہاری حالت دنیا میں یہ تھی کہ خدائے وحدہ لا شریک کا ذکر ہوتا تھا تو تم توحید الٰہی کا انکار کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جاتا تھا تو تم یقین کرلیا کرتے۔ پس حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو سب سے بلند اور بڑا ہے اور اس کا ہی فیصلہ ہے کہ واپسی محال اور عذاب دائمی بھگتنا معین ومقرر آگے اللہ تعالیٰ کے بعض قدرتیں مذکور ہیں جن سے اس کی توحید پر استدلال مقصود ہے۔
Ayah 40:13(13) وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے اور ان باتوں سے صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے اور ان پر صرف وہی غور اور سوچ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی خواہش اور ارادہ کرتا ہے یعنی مختلف نشانیاں دکھاتا ہے ۔ فغی کل شبئی لہ ایۃ۔
ہرچیز میں اس کی کوئی نہ کوئی نشانی وجود ہے آسمان سے رزق اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش کرتا جس کی وجہ سے ہر قسم کی نعمت زمین سی نکلتی ہے ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں توفیق میسر ہوجاتی ہے۔
Ayah 40:14(14) پس خاص اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کے اعتقاد سے اس کو پکارو اور اس کی عبادت کرو اگر چو منکر برا مانیں۔ اگر یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے تب تو مطلب صاف ہے اور اگر خطاب کفار کو ہے تو مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کا اعتقاد رکھ کر اس کی عبادت کرو اور اسلام قبول کرلو خواہ تمہارے ساتھی کتنا ہی برامانیں نبی کریم ﷺ ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک
ولہ الحمد وھو علی کل شیئی قدیر ولا الہ
الا اللہ ولا نعبد الاایاہ لہ النعمۃ ولہ الفضل
ولہ الثناء الحسن لا الہ الا اللہ مخلصین لہ
Ayah 40:15(15) وہ مرتبوں کا بلند کرنے والا عرش کا مالک اور صاحب ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے بھید کی بات اور وحی نازل کرتا اور اپنا حکم بھیجتا ہے تاکہ وہ صاحب وحی لوگوں کو ملاقات کے اور اجتماع کے دن سے ڈرادے۔
Ayah 40:16(16) وہ دن وہ ہے جس دن سب لوگ نکل کھڑے ہوں گے اللہ تعالیٰ پر لوگوں کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی کہا جائے گا آج کس کی حکومت ہے جواب دیا جائے گا صرف اللہ تعالیٰ کی حکومت ہے جو یکتا ویگانہ اور سب پر غالب ہے۔ رفیع الدرجات میں دو قول ہیں ایک رافع الدرجات ایک مرتفع الدرجات ہم نے دونوں قولوں کی رعایت سے تو جمے اور تیسیر میں فرق کردیا ہے خود بھی اس کی تمام صفات ہر اعتبار سے بلند ہیں اور بندوں میں سے بھی جس کے چاہتا ہے درجے بلند کرتا ہے اور مراتب علیا سے نوازتا اور اپنی وحی کا محیط بناتا ہے اس کو نبی تاکر اس پر اپنے بھید اتارتا اور حکم ڈالتا ہے تاکہ وہ بندوں کو ملاقات کے دن یعنی قیامت سے ڈرا دے قیامت کو یوم التلالق فرمایا کیونکہ اس دن آسمان و زمین کے رہنے والے ملیں گے اولین آخرین باہم ملیں گے خلق اور خالق ملیں گے یا ظالم ومظلوم ملیں گے یا عابدو معبود ملیں گے یا آدمی اپنے اعمال کے ساتھ ملے گا یا جسم ارواح کے ساتھ ملیں گے۔
سب اس دن قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اللہ تعالیٰ پر کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہ ہوگی اس دن کو ایسا فرض کرو کہ وہ آج ہی ہے اور کہا جارہا ہے ۔ ملن الملک الیوم للہ الواحد القھار۔
جیسا کہ سورة تطفیف میں فرمایا فالیوم الذین امنوا شاید ملن الملک الیوم کئی مرتبہ کہا جائے گا جس وقت کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا تو خود ہی فرمائے گا للہ الواحد القھار یا کوئی پکارنے والا پکارے گا اور وہی جواب دے گا یا اہل جہنم کو جہنم میں بند کرنے کے بعد کوئی ندا دینے والا ندا دے گا۔
مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔
اللہ تعالیٰ پر بندوں کے اعمال و احوال مخفی نہیں اللہ تعالیٰ جو واحد ہے اور سب پر غالب ہے اسی کی حکومت ہے شاید سب کے فنا اور بےہوش ہوجانے کے بعد حضرت حق تعالیٰ فرمائیں اور خود جواب فرمائیں۔
Ayah 40:17(17) آج کے دن ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کردینے والا ہے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک ماہ کا سفرکرکے عبداللہ ابن انیس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا ایک حدیث آپ کے پاس قصاص کے بارے میں ہے وہ سننے کے لئے آیا ہوں انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت کے دن غیر ختنہ شدہ اور بےسرو سامان اٹھائے جائیں گے پھر سب کو اللہ تعالیٰ آواز دے کر کہے گا اور اس آوازکو سب سنیں گے وہ قریب ہوں یا دور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں اور میں انصاف کرنے والا ہوں اہل دوزخ اور اہل جنت دونوں ٹھہر جائیں جب تک میں حقوق کا بدلا نہ دلوادوں تب تک کوئی شخص دوزخ اور جنت میں نہ جائے پھر جو حق کسی نے کسی کا دبایا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا اس کا بدلا دلوایا جائے گا۔
میں نے پوچھا وہ کیونکر ہوگا عبداللہ بن انیس ؓ نے فرمایا ظالم کی نیکیاں چھین کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو برائیاں مظلوم کی ظالم پر ڈالی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ حساب میں جلدی کرنے والا ہے یعنی یہ کہ بیک وقت سب سے حساب لے لیگا اس کا حساب لینا ایک سے دوسرے سے حساب لینے کو بیک وقت مانع نہ ہوگا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔
الیوم وتجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں گناہ تین قسم کے ہیں ایک قسم وہ جو بخش دئیے جائیں گے دوسری قسم وہ جو نہیں بخشے جائیں گے تیسری قسم وہ جن میں سے کچھ چھوڑا نہیں جائیگا جن گناہوں کی بخشش ہوجائے گی وہ گناہ وہ ہیں جن کے کرنے والے نے توبہ کرلی ہوگی۔
جو نہیں بخشا جائے گا وہ گناہ شرک ہے اور جو نہیں چھوڑا جائے گا وہ حقوق کا گناہ ہے جو پورا دلوایا جائے گا ظالم سے مظلوم کو غاصب سے مغصوب کو اگر کسی نے ناحق کسی کو طمانچہ مارا ہے تو اس کا بھی بدلا دلوایا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ تاکید فرمایا کرتے تھے کہ جس پر کسی کا کوئی حق ہو تو وہ اس کو اس سے دن پہلے پہلے معاف کرالے جس دن درہم و دینار نہ ہوں گے بلکہ حقوق اعمال سے ادا کرائے جائیں گے۔
Ayah 40:18(18) اوراے پیغمبر آپ ان کو اس قریب آنے والے دن کی مصیبت سے ڈرا دیجئے جس وقت مارے غم اور خوف کے گھٹ گھٹ کر لوگوں کے کلیجے گلوں میں آرہے ہوں گے اس دن ان ظالموں کا نہ کوئی ہمدردی کرنے والا درست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارش ہوگا جس کی بات مان لی جائے۔ کلیجہ منہ کو آنا ایک محاورہ ہے ہماری زبان کا۔
مطلب یہ ہے کہ وہ دن قریب ہی آنے والا ہے کیونکہ ہر روزقریب ہوتا جاتا ہے اس دن کو گھبراہٹ اور خوف اور نفسا نفسی کا قرآن میں بہت جگہ ذکر آچکا ہے یہاں خوف اور گھبراہٹ سے جو گھٹن ہوگی اس کا حال بیان فرمایا ایسے موقعہ پر انسان کا دل اور اس کا کلیجہ اچھلتا ہے اس کو فرمایا کہ دل اچھلتے اچھلتے حلق اور اور گلوں میں پھنس جائیں گے نہ باہر نکل سکیں گے اور نہ اطمینان نصیب ہوگا کہ دل اپنی جگہ اور کلیجہ اپنی جگہ ٹھہر کر سکون پکڑیں پھر اس مصیبت اور تکلیف کے وقت نہ کوئی ہمدردی کرنے والا دوست ہوگا اور نہ کوئی قابل اعتماد سفارشی کہ جس کا کہا مان لیا جائے۔
Ayah 40:19(19) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور چوری کی نگاہ کو جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھی ۔ چوری کینگاہ کنکہیوں سے کسی کو دیکھنا یا کسی پر دل آزاری کی نیت سے آنکھوں کو بچا کر دیکھنا یا اشارہ کرنا نبی کریم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے۔
اللھم طھر قلبی من النفاق وعملی من الریاء
ولسانی من الکذب من الکذب وعینی من الخیانۃ فانک
تعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور
Ayah 40:20(20) اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرتا ہے اور جن کو یہ دین حق کے منکر پکارتے اور پوجتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سب کی سننے والا سب کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی سچ اور انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرسکتا ہے معبود ان باطلہ میں یہ قدرت کہا کہ وہ وہ کسی چیز کا فیصلہ کرسکیں۔ کیونکہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے اور معبود ان باطلہ نہ سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ دیکھنے کی۔
لہٰذا عبادت اور بندگی کے قابل صرف وہی ہوسکتا ہے جو ہر قسم کی صلاحیت اور قابلیت کا مالک ہو۔
Ayah 40:21(21) کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا انجام جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں کیسا ہوا حالانکہ وہ ان موجودہ کفار سے قوۃ وزور کے اعتبار سے ان یادگاروں کے اعتبار سے جو وہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں بہت زیادہ تھے پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑلیا اور نہ ہوا ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی بچانے والا۔ یعنی ان موجودہ کافروں اور دین حق کے منکروں سے پہلے کے کافر قوت و طاقت اور عمارات ، محل و قصور وغیرہ کی تعمیر کرنے میں بہت زیادہ تھے جیسا کہ ان کے قلعے اور ان کے بڑے بڑے مکان وآثار سے ان کی قوت و طاقت اور ان کی صنعت و کاریگری کا پتہ چلتا ہے تو کیا زمین پر چل پھر کر ان منکروں نے ان منکروں کا انجام نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کے وقت کوئی ان کو بچانے والا ہوا۔
Ayah 40:22(22) یہ گرفت اور مواخذہ اس سبب سے ہوا کہ ان کے پیغمبران کے پاس واضح دلائل اور کھلے نشان لے کر آگئے مگر وہ کفر اور انکار ہی کرتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑالیا بلا شبہ وہ بڑی قوت والا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ یعنی ان کے پاس بھی رسول آئے تھے اور دلائل پیش کئے گئے تھے مگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا کیونکہ بڑی قوی اور سخت عذاب کرنے والا ہے اسی مناسبت سے آگے فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 40:23(23) اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور بڑی واضح دلیل دے کر۔
Ayah 40:24(24) فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا سو انہوں نے کہا جادو گر ہے جھوٹا۔ یعنی احکام عطا فرمائے اور معجزے عطا فرمائے یہ سب کچھ ان لوگوں نے دیکھا مگر موسیٰ کو جھوٹا جادوگر کہا۔
Ayah 40:25(25) غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس سے دین حق لے کر ان کے پاس آیا تو ان لوگوں نے کہا کہ جو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کرو اور ان کی عورتوں یعنی بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دو اور کافروں کی یہ تدبیر اور یہ دائوں نہ ہوا مگر بےسود۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے آئے اور فرعون عاجز ہوا تو یہ حکم دے دیا تاکہ بنی اسرائیل کی قوت کمزور ہوجائے اور ان کو بغاوت کرنے کا موقع نہ ملے۔
ایک قتل لڑکوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پیغمبر بن گئے ان کی دفعہ شاید بنی اسرائیل کی قوت کمزور کرنے کی غرض سے یہ تدبیر اختیار کی ہوگی لیکن انقلاب آکررہا اور فرعون کی حکومت ختم کردی گئی وما کید الکفرین الا فی ضلل۔ آگے خود موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی گفتگو کا ذکر ہے۔
Ayah 40:26(26) اور فرعون نے اپنے مشیروں سے کہا کہ مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردوں اور اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پروردگار کو مدد کے لئے پکارلے اور اس سے دعا کرے کیونکہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے ملک میں کوئی فساد برپا کرڈالے۔ اہل دربار موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کو سیاسی مصلحت کے خلاف سمجھتے ہوں گے اس لئے روکتے ہوں گے کہ یاشد موسیٰ (علیہ السلام) کا قتل زوال سلطنت کا سبب ہوجائے اور لوگوں کو خیال پیدا ہو کہ فرعون دلائل سے مقابلہ کرنے میں عاجز ہوگیا اور موسیٰ کو قتل کردیا اس لئے اس نے اہل دریار اور مشیران خاص سے کہا کہ تم مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں اس کو قتل ہی کردوں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تمہارے دین کو بدل دے اور تم کو بد دین بنادے یعنی میری خدائی کی بجائے کسی اور خدا کی عبادت کی طرف مائل کردے یا ملک میں کوئی اور جھگڑا فساد کھڑاکردے اور کوئی بغاوت کرادے۔
Ayah 40:27(27) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں ہر ایسے سرکش اور مغرور سے جو حساب کے دن کا یقین نہ رکھتا ہو اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں اور اس کی پناہ میں آچکا ہوں۔ یعنی موسیٰ کو جب یہ خبر ملی کہ فرعون کا یہ ارادہ ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے اور تمہارے پروردگار یعنی جو سب کا پروردگار ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور اس کی پناہ میں آچکا ہوں۔ ہر اس متکبر اور سرکش کے مقابلے میں جو یوم حساب کا یقین ہی نہیں رکھتا، یعنی جب میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوں تو مجھ کو کوئی اندیشہ نہیں۔
Ayah 40:28(28) اور فرعون کے خاندان والوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا اس نے یوں کہا کیا تم محض اس بنا پر ایک شخص کو قتل کرتے ہو جو یوں کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی اور واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے اگر یہ شخص جھوٹا ہی ہو تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو اس عذاب کا کچھ حصہ تو تم کو پہنچ کر ہی رہے گا جس کا وہ تم کو وعدہ دے رہا ہے اور جس کی پیشین گوئی کررہا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہبری اور رہنمائی نہیں کیا کرتا اور اس کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو سحد سے گر جانے والا اور بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ یعنی حسن اتفاق ملاحظہ ہو کہ جب فرعون موسیٰ کے قتل کا مشورہو کررہا تھا تو ان ہی اہل دربار میں سے ایک مرد مسلمان جو پوشیدہ اور خفیہ مسلمان تھا اور حسن اتفاق سے فرعون کا رشتہ دار یعنی چچازاد بھائی تھا قرآن نے اس کا نام نہیں بتایا۔
بعض مفسرین نے کہا یہ وہی شخص ہے جو بھاگ کر آیا تھا اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکل کر مدین روانہ ہوگئے تھے اس کا نام شمعان تھا بعض نے کہا اس کا نام حزقیل تھا بعض کہتے ہیں اس کا نام جبر ہے (واللہ اعلم)
بہرحال اس نے نہایت معقول بات کہی کہ یہ شخص باوجود دلائل اور براہین پیش کرنے کے یا جھوٹا ہے یا سچا ہے اگر جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ مہلت نہیں دے گا کیونکہ جھوٹے کو سرسبز ہونے کا زیادہ موقعہ نہیں ملا کرتا خود تباہ ہوجائے گا اور اگر سچا ہے تو جس عذاب سے ڈرا رہا ہے اس میں سے کچھ بھی تم پر پڑگیا تو پھر تمہاری خیر نہیں۔
آگے ایسا جملہ کہا جو بظاہر موسیٰ کے لئے تھا لیکن اس کی لپیٹ میں فرعون بھی آگیا اور اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا۔ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب کہ جھوٹے اور حد سے بڑھنے والوں کی رہنمائی نہیں ہوا کرتی چند دن کی بات ہے تم اس کے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو ایسا کرنا خطرناک ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر جھوٹا ہے تو جس پر جھوٹ بولتا ہے وہی سزا دے گا اور شاید سچا ہو تو اپنا فکر کرو۔ آگے بھی اس کی تقریر مذکور ہے اور شاید تقریر کرتے کرتے اس مرد مسلمان نے اپنے ایمان کو بھی ظاہر کردیا ہو کیونکہ آگے کی باتیں اور تقریر کا رنگ ایسا ہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ باوجود اس تقریر کے اپنے ایمان کا اعلان نہ کیا ہو۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک دفعہ لوگوں سے دریافت کیا کہ آدمیوں میں بڑا شجاع اور بہادر کون ہے لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا سب سے زیادہ شجاع ابوبکر ؓ ہیں میں نے دیکھا کہ رسول خدا ﷺ کو ایک دفعہ قریش نے پکڑا اور آپ ﷺ کو برا کہنا اور مارنا شروع کیا۔ پس خدا کی قسم ہم میں سے کسی کا حوصلہ نہیں پڑا کہ قریب آتا مگر ابوبکر صدیق ؓ قریش پر جھپٹے کسی کا گلا گھونٹتے کسی کے کندھے پکڑ کر ہلاتے اور فرماتے۔ ویلکم اتقتلون رجلا ان یقول رب اللہ۔
پھر حضرت علی ؓ نے اپنے منہ پر سے چادر اٹھائی اور رونا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی پھر آپ نے فرمایا میں قسم دیتا ہوں تم کو بتائو کیا آل فرعون کا مومن بہتر ہے یا ابوبکر لوگ خاموش رہے پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا تم مجھ کو جواب نہیں دیتے پس قسم ہے خدا کی ایک ساعت ابوبکر کی بہتر ہے قصہ مومن آل فرعون سے کہ اس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا اور ابوبکر ایک ایسا شخص ہے کہ اس نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا آگے پھر اسی مومن آل فرعون کا ذکر ہے۔
Ayah 40:29(29) اے میری قوم کے لوگو ! آج تو تمہاری سلطنت ہے کہ تم اس ملک میں غالب اور حکمراں ہو لیککن اگر خدا کا عذاب ہم پر آپڑا تو پھر کون اللہ تعالیٰ کی اس آفت سے ہماری مدد کرے گا۔ فرعون نے کہا میں تو تم کو وہی رائے دوں جو خود سمجھ رہا ہوں اور میں تو تم کو صرف وہی طریقہ بتاتا ہوں جو طریقہ عین مصلحت ہے اور میں تم کو نہیں راہ دکھاتا مگر وہی راہ جو بھلائی کی راہ ہے۔
یعنی اے میری قوم کے لوگوں تمہاری اس ملک میں آج کے دن حکومت ہے دراں حالیکہ تم غالب ہورہے ہو ملک میں اگر موسیٰ کو قتل کرنا چاہو تو قتل کرسکتے ہو لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے اگر کوئی آفت اور عذاب ہم پر آگیا تو عذاب خداوندی کے مقابلے میں ہماری کون مدد کرے گا فرعون نے بیچ ہی میں جواب دیا میں تو آپ لوگوں کو وہی رائے دیتا ہوں جس کو میں خود صحیح سمجھتا ہوں اور میں تم کو راستہ نہیں بتاتا مگر وہی راستہ بتاتا ہوں جو بھلائی کا راستہ اور مصلحت کے موافق ہوتا ہے۔
Ayah 40:30(30) اور اس شخص نے جو ایمان لے آیا تھا کہا اے میری قوم میں ڈرتا ہوں کہ تم کو بھی کہیں اور گروہوں اور فرقوں کی طرح روز بدنہ دیکھنا پڑے۔
Ayah 40:31(31) اور تمہارا وہی حال ہو جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد وثمود کا اور ان لوگوں کا ہوا جوان کے بعد ہوئے اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ اس مرد مسلمان نے دیکھا کہ یہ لوگ آشتی اور نرمی کی بات سے متاثر نہیں ہوتے تو اس نے تہدید کا طریقہ اختیار کیا اور اس نے کہا کہ مجھے خوف اور اندیشہ ہے تم پر مثل اس یوم بد کے جو مختلف فرقوں کا دن ہوچکا ہے مانند صورت حال قوم نوح کے اور عادوثمود کے اور ان کے بعد جو لوگ نافرمانی کرتے رہے یعنی تمہاری نسبت بھی مجھ کو اور امتوں کے سے روز بدکا اندیشہ ہے اللہ تعالیٰ تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا لیکن جب تم بھی اسی طرح کی باتیں کرو گے اور نافرمانی کرتے رہو گے تو تمہارے ساتھ بھی وہی ہونے کا اندیشہ ہے جو ان کے ساتھ ہوا ۔
Ayah 40:32(32) اور اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہاری نسبت اس دن سے جو باہمی چیخ و پکار کا دن ہے۔
Ayah 40:33(33) جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اس دن تم کو کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بچانے والا نہ ہوگا اور جس گم کردہ راہ کو اللہ تعالیٰ ہی لے راہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ یوم التناد قیامت کا دن ہے اس دن ایک دوسرے کو پکارے گا یا فرشتے پکاریں گے یا اہل دوزخ اہل جنت کو پکاریں گے حساب وکتاب اور نامہ اعمال کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کریں گے لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔ یا یہ مطلب کہ حساب کی جگہ سے پیٹھ پھیر کر عذاب کی طرف چلو گے اس دن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں جو تم کو میدان حشر کی پریشانیوں سے بچا سکے یا عذاب سے بچا سکے اور جو شخص باوجود دلائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے پھر بھی گمراہی کو نہیں سمجھتا اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی نہیں فرماتا اور اس کی عدم استعداد اور سرکشی کے باعث گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے یوم التناد سے مراد وہ دن مراد لیا ہے جس دن فرعونی دریا میں غرق ہوئے چناچہ فرماتے ہیں ہانک پکارا کا دن ان پر آیا جس دن غرق ہوئے قلزم میں ایک دوسرے کو پکارنے لگا ڈوبنے میں یہ اس کو کشف سے معلوم ہوا یا قیاس سے کہ ہر قوم پر اسی طرح عذاب آتا ہے۔ اب آگے پھر اسی مرد مومن کا کلام ہے۔
Ayah 40:34(34) اور بلا شبہ اس موسیٰ سے پہلے تمہارے پاس یوسف کھلے اور واضح دلائل لے کر آچکا ہے سو تم ان امور میں تو تم کہنے لگے بس اب اللہ تعالیٰ اس یوسف کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا اللہ تعالیٰ اسی طرح ان لوگوں کو گمراہ رکھتا ہے جو حد سے بڑھ جانے والے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والے ہیں۔
اس مرد مومن نے حضرت یوسف بن یعقوب (علیہم السلام) کی حکومت اور نبوت کی طرف اشارہ کیا کہ ان کے زمانے میں بھی تم کو شک وشبہ کی بیماری میں مبتلاپایا اور تم ان کے زمانے میں بھی موشکافیاں کرتے رہے حالانکہ وہ بھی واضح دلائل اپنی نبوت کے لے کر تمہارے پاس آیا تھا جیسا کہ تفسیر سورة یوسف میں گزر چکا ہے یہاں تک کہ جب اس کی وفات ہوگی تو تم نے کہا کہ اب ہرگز اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔
یعنی جب ہم نے رسول کو نہیں مانا تو اب اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج کر کیا کرے گا وہ بھی رسول بھیجنا بند کردے گا۔
حق تعالیٰ فرماتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ حد سے آگے بڑھ جانے والے شک وشبہ کرنے والے کو بےراہ رکھتا ہے ہوسکتا ہے کہ اس مرد مومن نے حضرت یوسف بن ابراہیم بن یوسف بن یعقوب مراد لئے ہوں یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پوتے مراد ہوں کیونکہ وہ بھی بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت یوسف کی زندگی میں قائل نہ ہوئے ان کی موت کے بعد جب مصر کی سلطنت کا انتظام بگڑ گیا تو کہنے لگے یوسف کا قدم اس شہر پر کیا مبارک تھا ایسا کوئی نبی نہ ہوگا یا وہ انکار یا یہ اقرار یہی زیادہ گوئی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا کے ایک نئے معنی بیان فرمائیے للہ ورہ مسفرا مطلب یہ ہے کہ آج موسیٰ کی مخالفت کررہے ہو کل اس کے بعد اس کو یاد کرو گے۔
اب آگے مسرف اور مرتاب کی مزید تفصیل ہے۔
Ayah 40:35(35) مسرف ومرتاب وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی ایسی دلیل کے جوان کو ملی ہو اور ان کے پاس آئی ہو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑا نکالتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور ان لوگوں کے نزدیک جو ایمان لائے ہیں یہ رویہ بڑاناپسندیدہ ہے اور یہ کج بحثی اللہ تعالیٰ کے اور مسلمانوں کے نزدیک بہت مبغوض ہے جس طرح تمہارے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر متکبر اور سرکش کے دل پر مہر کردیا کرتا ہے۔ یعنی یہ مسرف ومرتاب وہی لوگ ہیں جو بغیر کسی دلیل آسمانی کے خواہ وہ دلیل عقلی ہو یا نقلی اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑا نکالا کرتے ہیں اور کج بحثیاں کرتے ہیں اور یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اور ایمان والوں کے نزدیک بہت مبغوض اور بیزاری کا موجب ہے اور یہی وہ باتیں ہیں جو قلب انسانی کے لئے مہلک ہیں۔
ہم کئی مرتبہ عرض کرچکے ہیں یہی وہ اسباب و عوارض ہیں جن سے روحانی بیماری بڑھتی رہتی ہے خواہ ابتداء میں اس کا نام دین یعنی زنگ ہو پھر بڑھتے بڑھتے آخر میں غشا وہ یعنی پردہ اور طبع یعنی مہر اور قساوت یعنی سختی ہو غرض یہ تمام امراض باطنی تکبر اور سرکشی لاپروائی اور عدم تدبر اور بےموقع استہزاء وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی توہین اس مرض کا سب سے بڑا سبب ہے اللہ تعالیٰ چونکہ خالق ہے اس کی جانب بحیثیت خالق ہونے کے نسبت کی جاتی ہے ورنہ یہ سب بندے کے اپنے ہی برے اعمال ہیں اور وہ بدپرہیزیاں ہیں جس سے مرض بڑھتا رہتا ہے تاآنکہ کفر پر موت واقع ہوجاتی ہے۔ وما توادھم کفرون کا مصداق صحیح ہوجاتا ہے۔ بہرحال احزقیل کی اس تقریر کا ممبران حکومت پر جو اثر ہوا ہو مگر معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اپنے خیال سے نہ ہٹا اور اسی تکبر اور سرکشی پر قائم رہا چناچہ آگے اس کے قول سے ظاہر ہوتا ہے۔
Ayah 40:36(36) فرعون نے کہا اے ہامان میرے واسطے ایک محل اور بلند عمارت بناتا کہ میں اس پر چڑھ کر ان ذرائع اور اسباب کو حاصل کروں۔
Ayah 40:37(37) جو ذرائع آسمانوں پر جانے کے ہیں پھر ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کی ٹوہ لگائوں اور دیکھ بھال کرسکوں اور واقعہ یہ ہے کہ میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کے عمل کی برائی اس کے لئے خوش منظر اور دیدہ زیب کردی گئی اور اسے سیدھی راہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی چال اور حیلہ سازی نہ تھی مگر غارت اور تباہ ہونے والی - یعنی برسراقتدار لوگوں کا قاعدہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے اور فریب میں مبتلا کرنے کے لئے ایک نئی بات کیا کرتے ہیں تاکہ لوگ اس میں الجھ جائیں۔
اسی طرح اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ ایک محل بنا یعنی ایک اونچی عمارت بناتا کہ اس پرچڑھ کر ایسے راستے حاصل کرسکوں جو آسمان تک پہنچانے کے راستے ہیں چناچہ ایک بڑا اونچا منار بنایا گیا اور اس کو اتنا بلند کیا کہ تمام عمارتوں سے وہ اونچا تھا۔ چناچہ فرعون اس پرچڑھا مگر دیکھا کہ آسمان اتنا ہی اونچا جتنا نیچے سے نظر آتا تھا اس نے لوگوں کو یہ دھوکہ دیا کہ اونچا ہوکر ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا پتہ چلائوں گا اور اس کی ٹوہ لگائوں گا اور یہ بھی کہا تھا کہ میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں لیکن جاتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ اس کا جھوٹ تم پر آشکارا کردوں۔
اس پر حضرت حق نے فرمایا کہ اس کے عمل کی برائی اس کو دکھائی نہ دیتی تھی بلکہ اعمال کی برائی اس کے لئے دیدہ زیب بنادی گئی اور یہ بھی مرض کی انتہائی خوف نک حالت ہے کہ مریض کو مرض کا احساس ہوجاتا رہے اور وہ باوجود مرض کے اپنے کو تندرست سمجھنے لگے۔
یہی وجہ تھی کہ وہ راہ حق سے روکا گیا اسی ناگفتہ بہ حالت کی وجہ سے فرمایا کہ اس کا ہر دائوں تباہ و برباد ہونے والا ہے جتنی روک تھام اور اپنے اقتدار کا بچائو کرتا تھا اتنا ہی ہلاکت اور تباہی کے قریب ہوتا جاتا تھا اس جملہ معترضہ کے بعد پھر اس مرد مسلمان کی تقری رہے جس نے ارکان حکومت کو دن کردیا تھا۔
Ayah 40:38(38) اور اس مومن مذکور نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم میرے کہنے پر اور میری راہ چلو میں تم کو بھلائی کا راستہ بتاتا ہوں۔ جب اس مرد مومن نے دیکھا کہ فرعون کوئی معقول بات اور معقول دلیل سنتا ہی نہیں تو اس نے پھر قوم سے خطاب کیا یعنی تم اس رستے چلو جو رستہ میں بتاتا ہوں میں تم کو دین اور دنیا کی بھلائی کا راستہ بتاتا ہوں۔ رشد اور رشاد کے معنی ہیں وہ راستہ اختیار کرنا جو دین اور دنیا دونوں کے لئے بھلا ہو رشاد غی اور ضلال کے مقابل ہے۔
Ayah 40:39(39) اے میری قوم یہ دنیوی زندگی محض چند روزہ نفع اور فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور اصلی قرار گاہ تو آخرت ہی ہے۔ یعنی دنیا چند روزہ برتنے کی چیز ہے اور آخرت تو وہی اصلی قرار گاہ اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Ayah 40:40(40) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوگا تو اس کو صرف اس برائی کے برابر بدلا دیاجائیگا اور جو شخص نیک اور بھلا کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت دراں حالیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اس جنت میں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا۔ یعنی بیشمار روزی ملے گی مومن کی قید اس لئے لگائی کہ بغیر ایمان لائے کوئی عمل صالح مقبول نہیں۔