40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگوآخر یہ بات کیا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخ کی آگ کی طرف بلاتے ہو۔

(41) اور اے میری قوم کے لوگو ! آخر یہ کیا بات ہے اور مجھ کو کیا ہوا کہ میں تم کو نجات اور بچائو کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو جہنم کی طرف بلاتے ہو۔ یعنی میں تم کو جہنم سے بچانا چاہتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخ میں دھکیلنا چاہتے ہو کیونکہ
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھ کو اس لئے بلاتے ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفرکروں اور اس کے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائوں جس کے شریک ہونے کی میرے پاس کوئی بھی دلیل نہیں اور میں تم کو اس خدا کی طرف بلاتا ہوں کو کمال قوت اور کمال مغفرت کا مالک ہے۔

(42) تم مجھ کو بلاتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائوں اور ساجھی بنائوں جس کے شریک اور ساجھی بھی ہو نیکی میرے پاس کوئی دلیل نہیں اور میں تم کو اس کی طرف بلاتا ہوں جو کمال قوت اور کمال مغفرت اور بخشش کا مالک ہے۔ یعنی تمہاری دعوت اور تمہارا بلانا تو یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کردوں اور اس کے ساتھ ایسے معبودان باطلہ کو شریک ٹھہرائوں کہ جن کی مجھے خبر نہیں اور ان کی شرکت کی کوئی دلیل نہیں اور میں تم کو اس خدا کی دعوت دیتا ہوں جو زبردست ہے اور خطائوں کا بہت زیادہ بخشنے والا ہے بلکہشرک کے خلاف بکثرت دلائل موجود ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پہنچ کر اس شخص نے کھلم کھلا اپنے ایمان کا اعلان کردیا اب جبکہ دونوں دعوتوں میں فرق ہوگیا تو
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھ کو اس کی طرف بلاتے ہو جو خود اپنی طرف دعوت دیتے اور بلانے کی صلاحیت نہ دنیا میں رکھتا ہے اور نہ آخرت میں اور کچھ شک نہیں کہ ہم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے اور کچھ شک نہیں کہ جو لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں وہی اہل جہنم ہیں۔

(43) یہ یقینی بات ہے کہ تم مجھ کو اس کی طرف بلاتے ہو جو اپنی طرف بلانے اور دعوت دینے کی صلاحیت نہ دنیا میں رکھتا ہے اور نہ آخرت میں یعنی اس کا بلاوا کہیں نہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ ہم سب کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے اور کچھ شک نہیں کہ جو حد سے تجاوز کرنے والے اور زیادتی کرنے والے ہیں وہی اہل جہنم ہیں۔ لیس لہ دعوۃ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ نہ دنیا میں کسی ضرورت کے وقت پکارے جانے کے قابل ہیں اور نہ آخرت میں پکارے جانے کے لائق ہیں اور جب ہم سب کی بازگشت یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے تو ہم کو صرف ایسے معبود کی ضرورت ہے جو دنیا میں تو کام آتا ہی ہے وہ آخرت میں بھی کام آئے نہ دو کہ نہ یہاں کسی کی سنے اور نہ آخرت میں کسی کے سنے اور کسی پکارکر قبول کو قبول کرنے کے قابل ہی نہ ہو۔ غرض جب یہ بات صاف ہوگئی کہ جو لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں یعنی توحید کی حد سے گزر کر شرک کی حد میں داخل ہوجانے والے ہی لوگ اہل جنم میں سے ہیں۔ اب آگے اس نے پھر تہدید کے طور پر انجام سے ڈرایا۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سو میں تم سے جو کچھ کہہرہا ہوں تم لوگ میری اس بات کو آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا معاملہ خدا کے سپرد کرتا ہوں بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب بندوں کا نگراں ہے۔

(44) پس میں تم سے جو کچھ کہہ رہا ہوں تم میری اس بات کو آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا کام اور اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب بندوں کانگراں ہے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں سب بندے۔ یعنی جب عذاب آجائے گا اس وقت میری باتوں کو یاد کرو گے اگرچہ اس وقت یاد کر مفید نہ ہوگا رہا یہ کہ مجھ کو جو فرعون کی گرفت سے ڈرا رہے ہیں تو میں تو اپنا معاملہ اور تمام مقدمہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں تمام بندے اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہیں وہ سب کا نگراں ہے یہ مقام تفویض ہے جو اللہ تعالیٰ کے اچھے وفا شعار اور اطاعت گزاربندوں کو میسر ہوتا ہے حزقیل کی تقریر بالعباد تک ختم ہوچکی آگے پھر فرعون کا ذکر ہے۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کو ان لوگوں کی شرارت آمیز چالوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو بدترین عذاب نے آگھیرا۔

(45) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن مرد کو یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان لوگوں کی بدی اور شرارت آمیز جالوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے اور بدترین عذاب نے آگھیرا۔ یعنی یا تو حزقیل کو یا موسیٰ (علیہ السلام) کو کیونکہ کلمۃ الحق کے اعلان کے بعد فرعون حزقیل کا بھی دشمن ہوگیا ہوگا اسی لئے بعض نے حزقیل مراد لیا اور بعض نے موسیٰ کو مراد لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے برے دائوں اور برے چالوں سے اس کو بچا لیا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے گھیر لیا غرض وہ دریامیں ڈبودیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا مرنے کے بعد فرعون والوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اس کو آگے بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

صبح اور شام یہلوگ آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن ارشاد ہوگا کہ فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔

(46) یہ لوگ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی ارشادہوگا فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یہ عالم قہر کا حال ہے کافر کو اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے اور قیامت کو اس میں بیٹھے گا اور مومن کو بہشت۔ عالم برزخ کی مختلف کیفیات کا ذکر ہے۔ کافر کی روح صبح وشام دوزخ پر حاضر کی جاتی ہے جب تک کہ دنیا قائم ہے یعنی دائما یہ سلسلہ جاری ہے حضرت قتادہ مقاتل کلبی اور رسدی کا یہی قول ہے ۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کفار جہنم میں باہم جھگڑتے ہوں گے پھر کمزور لوگ جو تابع تھے اپنے رئوسا متکبریں سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے کہنے پرچلا کرتے تھے تو کیا تم آج ہم پر سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو۔

(47) اور وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب کفار جہنم میں باہم جھگڑتے ہوں گے پھر ضعفاء اور کمزور لوگ جو تابع تھے روسائے متکبرین یعنی وہ لوگ جو متبوع تھے ان سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے اور تمہارے کہنے پر چلا کرتے تھے تو کیا آج تم ہم پر سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو۔ یعنی جب دنیا میں ہم تمہاری اتباع کرتے تھے تو آج تم ہماری اتنی مدد تو کرو کہ عذاب کا کچھ حصہ ہم سے ہٹادو اور کم کردو یعنی پورے عذاب کو دفع نہیں کر اسکتے تو کچھ دفع کرادو یا خود اٹھالو۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

رئوسا متکبرین جواب دیں گے کہ ہم سب ہی اس آگ میں پڑے ہیں اللہ تعالیٰ کو بندوں کے درمیان جو فیصلہ کرنا تھا وہ کرچککا ۔

(48) متکبرین سردار جواب دیں گے کہ ہم تم سب ہی اس آگ میں پڑے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان ایک قطعی فیصلہ کرچکا۔ یعنی اس بات کا موقعہ کہاں تم ہم سب آگ میں پڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جو فیصلہ کرنا تھا وہ کرچکا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اب جگہ نہ رہی کہ کوئی کسی کے کام آئے۔
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور اہل جہنم جہنم کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے سے عذاب میں کسی دن تو کچھ تخفیف کردے۔

(49) اور اہل جہنم جہنم کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے عذاب میں سے کسی دن تو کچھ تخفیف کردے۔ یعنی دنیا کے دنوں کی مقدار سے ایک دن کی مقدار عذاب میں تخفیف فرمادے۔
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ فرشتے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارا رسول واضح معجزات لے کر نہیں آئے تھے اہل جہنم کہیں گے کہ ہاں رسول تو آتے رہتے تھے اس پر فرشتے کہیں گے تو بس اب تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا کچھ نہیں مگر محض بےسود و نتیجہ۔

(50) وہ فرشتے جوا ب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول واضح دلائل اور معجزات لے کر نہیں آئے تھے اہل جہنم کہیں گے ہاں رسول تو آتے رہتے تھے اس پر دوزخ کے موکل فرشتے کہیں گے تو بس اب تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا کچھ نہیں مگر بےسود و بےنتیجہ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوزخ کے فرشتے کہیں گے۔ سفارش کرنی ہمارا کام نہیں ہم تو عذاب پر مقرر ہیں سفارش کام ہے رسولوں کا سو رسولوں سے تو بر خلاف ہی تھے۔ یعنی سب ہی اہل جہنم فرشتوں سے درخواست کریں گے تم ہی اپنے پروردگار سے درخواست کرو کہ وہ ہمیشہ کے لئے عذاب نہ ہٹائے تو کم از کم ایک دن کے لئے تو کچھ کمی کر دے وہ کہیں گے معاملہ کیا ہے تم کو دوزخ میں آنے کی نوبت ہی کیوں آئی کیا تمہارے پاس پیغمبر کھلے دلائل اور معجزات لے کر نہیں آئے تھے وہ کہیں گے آئے تو تھے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی اور ان کو جھوٹا بتایا تب فرشتے کہیں گے ایسی حالت میں تم خود ہی دعا کرو اور تمہاری دعا کا بھی کوئی نتیجہ نہ ہوگا کیونکہ کافروں کی دعا آخرت میں بےسود ہوتی ہے۔
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دینے کھڑے ہوں گے۔

(51) بلا شبہ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان والے ہیں دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے اور ان کا انتقام لیتے ہیں اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن لواہی دینے والے گواہی دینے کھڑے ہوں گے اور موجود ہوں گے۔ یہاں سے نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی اور تشفی کا ذکر فرمایا اور آپ ساتھ آپ کے متبعین کو بھی اطمینان دلایا کہ ہماری امداد ان کو بھی شامل ہے دنیا اور آخرت میں۔ بعض اکابر مفسرین نے لنتصر کی تفسیر لننتقم سے کی ہے ہم نے تیسیر میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا، بہرحال مظلوم کی امداد کا وعدہ تو احادیث میں آتا ہی ہے ہر مظلوم کی امداد کی جاتی ہے اور اس کا بدلا لیا جاتا ہے خواہ کچھ تاخیر سے ہو لیکن اہل حق کی مدد دنیا میں بھی ہوتی ہے اور آخرت میں بھی آگے اس دن کی وضاحت ہے جس دن گواہی دینے والے گواہی کو کھڑے ہوں گے۔
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

وہ دن وہ ہے جس دن کافروں کو ان کا کوئی عذر نفع نہ دے اور ان کے لئے خدا کی لعنت ہوگی اور ان کے رہنے کو برا گھر ہوگا۔

(52) جس دن کافروں کو ان کا کوئی عذر نفع نہ دے گا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت و پھٹکار ہوگی اور ان کے رہنے کو برا گھر ہوگا۔ گواہ کھڑے ہوں گے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ فرشتے جو اعمال لکھتے رہتے یا فرشتے اور انبیاء اور امت محمدیہ بھی گواہی دے گی اور خود مجرموں کے ہاتھ پائوں بھی شاہد ہوں گے۔ عذر قبول نہ کیا جائے گا۔ یعنی تمام دلائل اور حجتیں دنیا میں ختم ہوچکیں اب عذر ہی کیا ہوگا اور اگر کوئی نامعقول عذر پیش بھی کیا تو وہ مسموع نہ ہوگا۔ برا گھر فرمایا جہنم کو اور جہنم سے زیادہ بر گھرکون سا ہوسکتا ہے حدیث شریف میں آتا ہے مسلمانوں میں برا گھر وہ ہے کہ جس گھر میں کوئی یتیم ہو اور اس یتیم کو ایذادی جاتی ہو آگے اسی تسلی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ کا ذکر فرمایا۔
Ayah 40:53

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت یعنی کتاب عطا فرمائی اور ہم نے بنی اسرائیل کو ایک ایسی کتاب کا وارث بنایا۔

(53) اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت عنی راہ کی سوجھ عنایت کی اور بنی اسرائیل کو ایک ایسی کتاب کا وارث بنایا۔
Ayah 40:54

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جو اہل عق وخرد کے لئے موجب ہدایت و نصیحت تھی۔

(54) جو اہل عقل وخرد کے لئے موجب ہدایت و نصیحت تھی۔ اس میں تسلی ہے حضور ﷺ کو کہ جس طرح آپ کو قرآن عنایت کیا ہے حضرت موسیٰ کو توریت عطا فرمائی تھی پھر جس طرح انہوں نے فرعون کے مظالم کا صبر اور خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اسی طرح آپ بھی کفار کے مقابلہ کیا اسی طرح آپ بھی کفار کے مقابلہ کا تحمل اور صبر سے مقابلہ کیجئے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو اے پیغمبر آپ صبر سے کام لیجئے بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کی معاف طلب کیجئے اور شام اور صبح حمدوثناء کے ساتھ اپنے رب کی پاکی بیان کیا کیجئے۔

(55) تو اے پیغمبر آپ صبر کرتے رہیے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اور اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجئے اور اپنے پروردگار کی حمدوثناء کے ساتھ صبح اور شام پاکی بیان کیا کیجئے۔ یعنی کفار کے مظالم پر صبر کرتے رہیے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین رکھیے کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے اور اگر صبر کرنے میں کچھ کوتاہی ہوجائے تو وہ آپ کی شان ومرتبے کے اعتبار سے آپ کے حق میں گناہ ہے۔ اس لئے اس کوتاہی پر معاف طلب کیا کیجئے اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کیجئے یعنی دائمی طور پر۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت رسول اللہ ﷺ دن میں سو سو بار استغفار کرتے گناہ سے پر بندے سے قصور ہے اس کے موافق ہر کسی کی ضرور ہے استغفار۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بغیر کسی سند کے جوان کو پہنچی ہو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں تو اور کچھ نہیں ان لوگوں کے دلوں میں صرف بڑا بننے کی ایک ایسی خواہش ہے کہ جس خواہش تک یہ کبھی پہنچنے والے نہیں سو اے پیغمبر آپ ان کے شر سے خدا کی پناہ مانگتے رہیے بلا شبہ وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔

(56) بلا شبہ وہ لوگ جو بغیر کسی سند اور دلیل کے جو ان کو پہنچی جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں ان لوگوں کے دلوں میں کچھ نہیں مگر بڑا بننے کی ایک ایسی خواہش ہے کہ جس خواہش کے پورا ہونے تک یہ کبھی پہنچنے والے نہیں۔ اے پیغمبر آپ ان کے شر سے پناہ مانگتے رہیے بلا شبہ وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں ہے وہ سرداری اور حکومت چاہتے تھے بعض نے کہا کفار مکہ مراد ہیں کیونکہ ہی روز روز جھگڑے نکالا کرتے تھے۔ بہرحال ! بغیر سند اور بغیر دلیل عقل نقلی کے جھگڑا کرتے ہیں اور آیات الٰہی میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو ان لوگوں کے دلوں میں صرف غرور اور بڑا بننے کی خواہش ہے حالانکہ یہ خواہش ان کی پوری ہونے والی نہیں چونکہ ان کی خواہشات کا مبنی غلط ہے تو ان کی شرارتیں بھی ناقابل اعتبار ہیں آپ اللہ سے پناہ مانگا کیجئے وہ نہایت سننیے ووالا دیکھنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں غرور یہ کہ اس پیغمبر سے ہم اوپر رہیں یہ ہونا نہیں۔ خلاصہ : یہ کہ جھگڑا اس لئے پیدا کرتے ہیں کہ ہم کس طرح اس پیغمبر کی بات کو نیچا کردیں اور ہم سر بلند ہوجائیں یہ ہونا نہیں یعنی اس خواہش کے پورا ہونے تک پہنچنے والی نہیں پس آپ ان کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کیجئے وہی تمہارے اقوال کو سنتا اور تمہارے افعال کو دیکھتا ہے۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

بالیقین آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے مگر اکثر لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔

(57) البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے قدرت کا مگر اکثر لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ، اوپر کی آیت میں رسالت پر اعتراض کرنے والوں ککا رد اور ان کا جواب تھا اس آیت میں منکرین توحید اور منکرین بعث کا رد ہے یعنی آسمان و زمین کا پہلی مرتبہ پیدا کرنا انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں بہت بڑی قدرت کا اظہار ہے یعنی انسانوں کے دوبارہ پیدا کردینے کا انکار کرتے ہو اور آسمان و زمین کے ابتدا نہ پیدا کرنے کا اقرار کرتے ہو حالانکہ اتنی بات نہیں سمجھتے کہ جو آسمان و زمین کا موجد ہی اس کو انسان کا دوبارہ پیدا کرنا اور انسانوں کا اعادہ کرلینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا اور دیکھنے والا دونوں برابر نہیں ہوتے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے وہ بدکار دونوں برابر نہیں ہوتے تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو۔

(58) اور اندھا اور دیکھتا دونوں برابر نہیں ہوتے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ اور بدکار دونوں برابر نہیں ہوسکتے تم لوگ بہت کم غور کرتے ہو۔ چونکہ دو نظریوں پر بحث ہورہی ہے بعض لوگ غور کرتے ہیں سوچتے ہیں اور حق بات کو مان لیتے ہیں اور بعض نہ غور کرتے ہیں نہ سوچنے کی عادی ہیں اور نہ مانتے ہیں اس لئے دو فرقے بن گئے ہیں دونوں کے عدم مساوات کا اعلان ہے غور کرنے سوچنے اور ایمان لانے والے کو آنکھوں والا اور سوجھا کا فرمایا ہے اور عدم تدبر والوں کو اندھا فرمایا۔ دوسری بات میں صراحتاً فرمایا کہ اہل ایمان جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند بھی رہے اور دوسرے بدکردار یعنی کفرو شرک میں مبتلا اور دین حق کے مخالف یہ دونوں برابر نہیں، آخر میں کم غور کرنے اور کم سوچ بچار کو تو بیخاًفرمایا کہ تم بہت کم غور کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دوسری بار پیدا ہونا محال جانتے ہو۔
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

یقین رکھو قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کسی طرح کا بھی شک نہیں مگر اکثر لوگ اس کی تصدیق نہیں کرتے۔

(59) یقین جانو قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کسی طرح کا شک نہیں لیکن اکثر نہیں مانتے اور قیامت آنے کی تصدیق نہیں کرتے۔ آگے پھر اپنی عبادت کا ذکر فرمایا کہ میری عبادت کے مقابلے میں تکبر سے اجتناب کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک دن چاہیے کہ ان کا فرق کھلے۔ خلاصہ : یہ ہے آنکھوں والے ایمان دار اور بد کردار کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے لئے ایک دن تو ہونا چاہیے جوان کا فرق ظاہر ہو اور دنیا کی مخلوق جان لے کہ ایمان داروں اور سوجھا کوں کے ساتھ کیا ہوا اور بدکرداروں اور راہ حق کے اندھوں کے ساتھ کیسا معاملہ ہوا۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا یقین مانو جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔

(60) اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے مجھ سے دعا مانگو مجھ کو پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور تمہاری پکار کو پہنچوں گا بلا شبہ جو لوگ میری عبادت سے سرتابی اور غور و فکر وتکبر کا برتائو کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوں گے وہ بہت جلد مرنے کے بعد جہنم میں داخل ہوں گے درآنحالیکہ وہ ذلیل ہوں گے - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا نہ مانگنا غرور ہے اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے اور اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پکار کو پہنچتا ہے سو برحق بات یہ ہے مگر یہ نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کرے اپنی مرضی کے موافق مالک ہے اپنی خوشی کرتا ہے۔ عبادت میں دعا بھی شامل ہے اس لئے دعا کو فرمایا اور آخر میں عبادت کے استکبار کو جہنم میں داخل ہونے کا سبب بتایا، مدعا یہ ہے کہ دعا سوائے اس کے کسی سے نہیں مانگنی چاہیے جس طرح عبادت غیر اللہ کی حرام ہے اسی طرح دعا بھی ہے اللہ تعالیٰ استجابت فرماتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ استجابت کے مختلف طریقے ہیں جیسا کہ ہم سوروہ بقر کی تسہیل میں تفصیلاً عرض کرچکے ہیں اور سورة انعام میں اشارہ کرچکے ہیں فکشف ماتدعون الیہ ان شآء مشیت الٰہی پر دعا کی قبولیت موقوف ہے بعض دفعہ مانگنے والے کے حق میں بھی وہ قبولیت مضر ہوتی ہے بعض دعا کے اثر کو آخرت کے لئے ذخیرہ بنادیا جاتا ہے اس لئے قبولیت کا اظہار مشیت پر موقوف رکھا ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ادعونی وحدونی واعبدونی جو عبادت کا منحرف ہے وہ دعا کا بھی منحرف ہے اور دعا سے پھرنے والا عبادت سے پھرنے والا دعاکو دعا کے طریقے سے مانگاجائے تو قبولیت ضروری ہے ہم نے اپنی کا ب مشکل کشا میں شاید اس پر بحث کی ہے کسی نے خوب کہا ہے ؎ برآستان ارادت کہ سرنہاد شبے کہ لطف دوست بردیش دریچہ نکشود عارف شیرازی فرماتے ہیں : ؎ عاشق کہ شد کی یار بحالش نظر نہ کرو اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور اس نے دن کو روشن اور دکھانے والا بنایا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر نہیں بجا لاتے۔

(61) اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاک کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور اس نے دن کی روشن اور دکھانے والا بنایا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر نہیں بجا لاتے اور اس کا احسان نہیں مانتے۔ یعنی رات آرام کو اور دن روزی کمانے کو بنایا اللہ تعالیٰ نے بندوں پر کس قدر احسان فرمایا اور بندوں کی مصلحت کی کتنی رعایت فرمائی لیکن بندوں کی یہ حالت کہ وہ حق ماننے کی بجائے ناسپاسی کرتے ہیں۔
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہ ہے اللہ پروردگار تمہارا وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں تو پھر اب تم پھرے کہاں چلے جارہے ہو ۔

(62) یہ ہے اللہ پروردگار تمہارا وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں سو تم پر کہاں لوٹے جارہے ہو - یعنی جب سب کچھ وہی پیدا کرنے والا پالنے والا اس کے علاوہ کوئی لائق عبادت بھی نہیں پھر اب تم شرک کرنے کی غرض سے کہاں پھرے جارہے ہو۔
Ayah 40:63

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

جس طرح یہ لوگ الٹے پھرے جارہے ہیں اسی طرح وہ لوگ پھیر دیئے جاتے ہیں جو خدا کی آیتوں کا انکار کیا کرتے ہیں۔

(63) جس طرح یہ لوگ پھرے جارہے ہیں اسی طرح وہ لوگ پھیر دیئے جاتے ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح یہ کفار عرب راہ حق سے پھرے جارہے ہیں اسی طرح سب معاندین کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے خواہ وہ لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہوں یا ان کے بعد ہوں جو شخص ازراہ عناد اور سرکشی اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے دل راہ حق سے پھر دیئے جاتے ہیں کیونکہ دستور اللہ تعالیٰ کا یہی ہے بعض حضرات نے صرف قبل کے لوگ مراد لئے ہیں لیکن بعض حضرات نے پہلے اور پچھلے سب کے لئے آیت کو عامرکھا ہے یعنی وہ کسی زمانے کے لوگ ہوں جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کیا تو ان کو راہ حق سے پھیر دیا گیا۔
Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے قرارگاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور اسی نے تمہاری شکل و صورت بنائی سو اس نے تمہاری صورتیں بہترین بنائیں اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ یعنی لذیذ چیزیں عطا فرمائیں یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار سو اللہ تعالیٰ نے بہت عالیشان ہے جو تمام عالموں ککا پروردگار ہے۔

(64) اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ اور ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور آسان کو مثل چھت کے بنایا اور اس نے تمہاری شکل و صورت بنائی سو تمہاری صورتیں بہترین بنائیں اور تم کو لزیذ اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار سو بڑی برکت ہے اللہ تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ بڑا عالیشان ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ یعنی رہنے کی زمین اور وہ زمین آسمان کے ساتھ مستقف یعنی آسمان کی چھت اس نے ہی تمہاری صورت اور تمہارا نقشہ بھی بہترین بنایا اور تم کو لذیذ ونفیس اور خوش ذائقہ پاکیزہ اور عمدہ چیزوں سے روزی دی اب سمجھ لو کہ جس نے یہ سب کچھ کیا وہی تمہارا پروردگار ہے اور وہ رب العالمین بڑا عالیشان ہے اور اس کی بڑی برکت ہے ہم نے تیسر میں تمام معاف کی رعایت رکھی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ خلاصہ : یہ کہ صورت میں بھی سب سے بہتر اور دیدہ زیب غذا میں بھی دانے اور پھل تمہارے اور پتے اور بھوسا جانوروں کا فتبارک اللہ رب العلمین۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں سو تم خالص اسی کی فرمانبرداری کے اعتقاد سے اس کو پکارا کرو تمام تعریفیں اسی خدا کو سزاوار ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے۔

(65) وہی اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں سو تم خالص اسی کی عبادت اور فرمانبرداری کے اعتقاد سے اس کو پکارا کرو تمام تعریفیں اور خوبیاں اسی اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے ہو میں ان کی عبادت کروں جبکہ میرے رب کی جانب سے میرے پاس واضح دلائل پہنچ چکے اور مجھ کو یہ حکمدیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں۔

(66) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ تم جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا کرتے ہو میں ان کی عبادت کروں جبکہ میرے پاس میرے پروردگار کی جانب سے واضح دلائل آچکے اور پہنچ چکی اور مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کافرماں بردار رہوں۔ یعنی یہ کہہ دیجئے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور جن کو تم پککارا کرتے ہو مجھ کو ان کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ میرے پاس واضح اور صاف دلائل بھی شرک کی مذمت میں پہنچ چکے ہیں اور مجھ کو تو یہی حکم کیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری کے لئے سرخم کردوں اور اپنے کو اس کے حوالے کردوں اور اس کے علاوہ کسی کی طرف عبادت کی غرض سے نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھوں یعنی توحید پر قائم رہوں۔
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہ وہ ذات ہے جس نے تم کو یعنی آدم (علیہ السلام) کو ابتداء میں مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے بنایا پھر تم کو بچہ بنا کر باہر نکالتا ہے پھر تم کو زندہ رکھتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کے کمال کو پہنچ جائو پھر تم کو اور زندہ رکھتا ہے تاکہ تم بوڑھے ہوجائو اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو اس سے پہلے مرجاتے ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو ایک خاص عمر دیتا ہے تاکہ تم سب وقت معین تک پہنچ جائو اور تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

(67) وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو یعنی آدم کی ابتداء مٹی سے بنایا پھر بتدریج نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے بنایا پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتا ہے پھر تم کو باقی رکھتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جائو پھر تم کو باقی رکھتا ہے یہاں تک کہ تم بوڑھے ہوجائو اور بعض تم میں سے وہ ہے جو اس سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم میں سے ہر ایک کو ایک خاص عمر دیتا ہے تاکہ تم سب اپنے معین اور مقررہ وقت تک پہنچو اور تاکہ تم عقل وسمجھ سے کام لو۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری پیدائش اور تمہارے بنانے میں مٹی اور خاک کا بڑا عنصر ہے ابتداء تم کو خاک ہی سے بنایا یعنی آدم کو پھر ان کی نسل کو نطفہ سے جو مٹی کا ایک جو ہریاست ہے اس سے پیدا کیا یہ سلسلہ تدریجی ہے انسان جو کھاتا ہے اس کی غذا مٹی سے نکلتی ہے پھر اس غذا سے خون پیدا ہوتا ہے اس سے نطفہ پھر وہ نفطہ رحم مادر میں جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرتا ہے پھر یہ جما ہوا خون مختلف شکلیں اختیار کرکے بچہ بن جاتا ہے پھر تم کو بچہ کی شکل میں نکالتا اور پیدا کرتا ہے پھر تم کو زندہ رکھتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جائو پھر تم کو زندہ رکھتا ہے تاکہ بڑھاپے کو پہنچو اور بوڑھے ہوجائو اور بعض تم میں سے اس سے پہلے ہی مرجاتا ہے۔ بہرحال ! مقررہ عمر تک پہنچنے میں سب برابر ہیں جو عمر مقرر کردی ہے اس کو سب پورا کرتے ہیں اور اس سلسلہ کو جاری رکھنے کا منشا یہ ہے کہ تم سمجھو کہ جو یہ کام کرتا ہے وہ وحدہ لاشریک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اتنے احوال تم پر گزرے شاید ایک حال اور بھی گزرے وہ مر کر جینا۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ جب کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے۔

(68) وہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور جب وہ کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے۔ یعنی پیدائش کا تدیجی سلسلہ مذکور ہوا اور اگر وہ کسی کام کو دفعہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے۔ ہم پہلے پارے کی تسہیل میں اور سورة یاسین کی تیسیر میں عرض کرچکے ہیں۔
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

اے پیغمبر کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں یہ لوگ کہاں الٹے پھرے جارہے ہیں۔

(69) اے پیغمبر کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں یہ لوگ کہاں الٹے پھرے جارہے ہیں۔ اس سورت میں تین مرتبہ جھگڑنے کا ذکر فرمایا ان سے مراد یا تو کفار مکہ اور یود اور نصاریٰ ہیں یا تاکیداً فرمایا ان لوگوں کے خلاف جو بلاوجہ کے جھگڑے نکالا کرتے ہیں یہ اس جھگڑے کی وجہ سے گمراہی کی طرف پھرے چلے جارہے ہیں آگے تہدید فرمائی ہے۔
Ayah 40:70

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کتاب یعنی قرآن کی تکذیب کی اور ان چیزوں کی بھی تکذیب کی جو چیزیں ہم نے اپنے رسولوں کو دے کر بھیجا تھا سو ان لوگوں کو عنقریب اپنا انجام معلوم ہواجاتا ہے۔

(70) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتاب یعنی قرآن کی تکذیب کی اور نیز ان چیزوں کی تکذیب کی جو چیزیں ہم نے اپنے رسولوں کودے کر بھیجا تھا سو ان کو عنقریب اپنا انجام معلوم ہوا جاتا ہے اور یہ لوگ بہت جلد معلوم کرلیں گے۔ یعنی قیامت میں ان کو سب معلوم ہوجائے گاجوچیزرسول دے کر بھیجے گئے وہ احکام اور معجزات وغیرہ ہیں کتاب کی تکذیب رسولوں کے لائے ہوئے احکام معجزات سب ہی کو جھٹلایا۔
Ayah 40:71

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجریں ہوں گی اور ان کو گھسیٹتے ہوئے۔

(71) جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی گھسیٹے جارہے ہوں گے۔
Ayah 40:72

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

سخت کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔

(72) سخت گرم کھولتے ہوئے پانی میں پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ یہ حمیم اور جحیم کی بحث پہلے بھی گزر چکی ہے مدعا یہ ہے کہ عذاب کو انواع مختلف ہوں گے کبھی بھی یہ مقدم اور کبھی وہ مقدم مفسرین کے دو قول ہیں ہم نے ابن کثیر کے فیصلے کو اختیار کیا ہے کبھی گرم پانی کا عذاب کبھی نار خالص کا عذاب یطوفون بینھا وبین حمیم ان اللھم اجرنا من نارک انا عائذون بجوارک۔
Ayah 40:73

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ خدا کے سوا جن معبودوں کو تم شریک بتاتے تھے۔

(73) پھر ان لوگوں سے کہا جائے گا جن معبودوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا شریک ٹھہراتے تھے۔
Ayah 40:74

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ اب کہاں ہیں وہ جواب دیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کہیں غائب ہوگئے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم تو اس علم سے پہلے کسی کو بھی نہیں پوجتے تھے اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو غلطی میں مبتلا رکھتا ہے۔

(74) وہ اب کہاں گئے وہ جواب دیں گے وہ تو سب ہم سے کہیں غائب ہوگئے اور ہماری نظر سے چوک گئے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ ہم تو اس عالم سے پہلے کسی چیز کو پوجتے ہی نہ تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو غلطی میں مبتلا رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا شریک ٹھہراتے تھے وہ کہاں ہیں ان کو بلائو تاکہ تمہاری فریاد رسی کریں وہ ان کو کہیں ملیں گے نہیں پھر شرک سے ہی انکار کردیں گے۔ اسی کو فرمایا کہ جس طرح گمراہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسی طرح تمام منکرین و معاندین کو گمراہ رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول منکر ہوچکے تھے کہ ہم نے شریک نہیں پکڑے اب گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا پھر سنبھل کر انکار کریں گے تو وہ انکار اللہ نے بچلا دیا اس حکمت سے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ کبھی کچھ کہیں گے اور کبھی کچھ بہکی باتیں کریں گے اور یہی اللہ تعالیٰ کا بچلانا اور گمراہ رکھنا دنیا میں رہ احق سے گمراہ رہے اور آخرت میں صحیح جواب نہ دے سکے۔
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ عذاب اس کا بدلا ہے جو تم زمین میں ناحق اتراتے پھرتے تھے اور نیز اس کا بدلا ہے جو تم اکڑتے پھرتے تھے

(75) یہ عذاب اس کا بدلا اور اس سبب سے ہے جو تم دنیا میں ناحق اتراتے پھرتے تھے اور نیز اس کا بدلا ہے جو تم اکڑتے پھرتے تھے۔ فرح اپنے پر ناز کرنا اور مرح تکبر سے چلنا۔
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

جائو جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لئے اس کے دروازوں میں داخل ہوجائو سو وہ دوزخ کیا بری قرار گاہ ہے تکبر کرنے والوں کی۔

(76) جائو جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لئے اس کے دروازوں میں داخل ہوجائو سو وہ دوزخ کیا بری قرار گاہ ہے تکبر کرنے والوں کی۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو اے پیغمبر آپ صبر سے کام لیجئے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر جو وعدے ہم ان سے کرتے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع ہم آپ کو دکھادیں یا ان کے وقوع ہم آپ کو دکھادیں یا ان کے وقوع سے قبل ہم آپ کی عمر پوری کردیں بہرحال وہ ہماری ہی طرف واپس کئے جائیں گے ۔

(77) سواے پیغمبر آپ صبر سے کام لیجئے اور سہار کیجئے بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچا ہے پھر جو وعدے ہم ان سے کررہے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع آپ کو دکھلا دیں یا ان کے وقوع سے قبل ہم آپ کی عمر پوری کردیں اور آپ کو وفات دیدیں۔ بہرحال وہ ہماری ہی طرف واپس کئے جائیں گے اور ان کی بازگشت ہماری ہی طرف ہوگی۔ یہ آیت سورة یونس میں بھی گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں اور جس عذاب کا خوف ہم ان کو دلاتے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ ہم ان کو آپ کی زندگی میں دکھلادیں یا ہم آپ کو وفات دیدیں اس کے بعد ان پر عذاب آئے یا نہ آئے۔ بہرحال ان کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دنیوی اور اخروی کا جو وعدہ ہم نے کیا ہے وہ ضرور ان پر نازل ہوگا خواہ آپ کی زندگی میں نازل ہوجائے یا آپ کو وفات دیدیں پھر نازل ہو اور اخروی عذاب کا وعدہ تو پورا ہونا ہی ہے اور ہوا بھی ایسا ہی یعنی جنگ بدر اور فتح مکہ وغیرہ تو آپ کی زندگی میں ان کے لئے موجب تعذیب ہوا اور آپ کے بعد بھی ! اور قیامت کی دن بھی وعدہ پورا کیا جائے گا اس بنا پر اپنے پیغمبر کو صبر کا حکم دیا گیا تاکہ آپ کو تسلی ہو۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن سے کچھ تو وہ ہیں کے ان کے حالات ہم نے آپ سے بیان کردیئے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں جن کا بیان ہم نے آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کو یہ مقدور نہ تھا کہ وہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ ظاہر کرسکتے پھر جب وقت اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت اہل باطل سخت خسارے میں رہیں گے۔

(78) اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے کچھ تو وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے بیان کردیئے ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا بیان ہم نے آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کو یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے اور دکھا سکے پھر جس وقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حکم آگے گا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت جھوٹے اور بےہودہ گو سخت خسارے میں رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی تعداد علی اختلاف الروایات خواہ کچھ ہو لیکن آپ سے پہلے بہت سے رسول آچکے پھر ان میں سے کسی کا حال آپ کو بتادیا گیا اور بعض کا نہیں بھی بتایا بہرحال ایک چیز سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ کوئی معجزہ دکھا سکے یا کوئی نشانی ظاہر کرسکے پھر جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ عذاب اور عذاب کا حکم آجائے گا خواہ وہ دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا اس وقت اہل باطل بےہودہ گو اور جھوٹے سخت خسارے اور نقصان میں ہوں گے۔ آگے پھر توحید کی دلیل اور توحید کے انکار پر توبیخ اور عذاب کے آجانے کے بعد ایمان کا غیر مفید ہونا مذکور ہے۔
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لئے مواشی پیدا کئے تاکہ تم ان میں سے بعض کو سواری لو اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔

(79) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لئے مواشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض کی سواری لو اور بع کو تم کھاتے بھی ہو۔ یعنی چوپائے پیدا کئے تاکہ ان کی سواری لو اور ان پر سوار ہو اور بعض تمہاری خوراک بھی ہیں جن کا گوشت کھاتے ہو۔
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان مواشی میں اور بھی بہت سے منافع ہیں اور یہ غرض بھی ہے کہ تم ان پر سوار ہوکر اپنی اس ضرورت تک پہنچ جائو جو تمہارے دلوں میں ہے اور تم ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر چڑھے چڑھے پھرتے ہو ۔

(80) اور تمہارے لئے ان چوپایوں میں اور بھی بہت سے منافع اور فوائد ہیں اور یہ غرض بھی ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی اس حاجت اور ضرورت کو پہنچ جائو جو تمہارے دلوں میں ہے اور تم ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر چڑھے چڑھے پھرتے ہو۔ یعنی ان کا دودھ پیتے ہو ان کی اون کا استعمال کرتے ہو ان کا چمڑا کام میں لاتے ہو اور وہ حاجتیں اور ضرورتیں جو تمہارے جی میں ہوتی ہیں ان حاجتوں کو ان پر سوار ہوکر پورا کرتے ہو اور صرف چوپایوں پر کیا منحصر ہے بلکہ سواریوں پر اور کشتیوں پر چڑھے پھرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خشکی اور تری دونوں قسم کے سفروں کے لئے آسانیاں اور سہولتیں پیدا کردی ہیں اور ایسی چیزیں مہیا کردی ہیں جس سے بحروبر کا سفر کرتے ہو۔