39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت کمال حکمت کا مالک ہے۔

(1) جس طرح سورة صٓ میں توحید و رسالت اور قیامت کا ذکر تھا اسی طرح اس سورت میں بھی عقائد اسلامیہ کے اہم مسائل مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید نبی کریم ﷺ کی رسالت قرآن کی صداقت قیامت کا وقوع نفحہ صور اور حساب کتاب کے بعد اہل جنت کا جنت میں جانا اور اہل دوزخ کا عذاب میں گرفتار ہونا مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی قوت کی بنا پر منکروں کے لئے سزا کا اعلان کرتا ہے اور مصالح کی بنا پر مہلت دیتا ہے یعنی اظہار قوت بھی اور اظہار حکمت بھی دونوں کا اس عالم میں ظہور ہوتا رہتا ہے۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

اے پیغمبر اس کتاب کو جو کہ حقائق واقعیہ پر مشتمل ہے آپ کی جانب ہم نے نازل کیا ہے سو آپ خالص اللہ کی اطاعت کے اعتقاد سے اس کی عبادت کرتے رہیے

(2) اے پیغمبر ہم نے حق کے ساتھ اس کتاب کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے اس کتاب کو جو حقائق واقعیہ پر مشتمل ہے آپ کی جانب ہم نے اتارا ہے سو آپ خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعتقاد سے اس کی عبادت کرتے رہیے۔ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس کلام معجز نظام کو ہم نے ہی آپ کی جانب اتارا ہے تو آپ اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کیجئے اور یہ بندگی بھی خالص کرکے کیجئے۔ خالصا للہ بندگی اور عبادت کا یہ مطلب ہے کہ وہ عبادت شرک اور ریا سے پاک ہو۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ عبادت جو خالص ہو وہ اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور جن لوگوں نے خدا کے سوا اور دوسرے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا کا خاص مقرب بنادیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا جن میں یہ اختلاف کررہے ہیں یقینا فیصلہ فرمادے گا بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہنمائی نہیں فرماتا جو جھوٹا اور سخت ناسپاس ہو۔

(3) آگاہ ہو کہ عبادت اور بندگی جو خالص ہو شرک سے وہ اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے حمایتی اور دوسرے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ تعالیٰ کا خاص مقرب بنادیں اور ان کو مراتب قرب سے نزدیک کردیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا جن میں یہ اختلاف کررہے ہیں یقینا فیصلہ فرمادے گا بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہنمائی فرماتا جو جھوٹا اور سخت ناسپاس اور ناشکرہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت خالصہ اور اختاص واجب ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور اس شرک فی العبادت کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ چونکہ مقرب خداوندی ہیں اس لئے ان کی وجہ سے ہماری احتیاج اور ہماری عبادت اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہے اور ان کی توجہ سے ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلیں گے اس کے لئے فرمایا کہ یہ اختلاف جو مشرکوں کے اور اہل ایمان کے درمیان واقع ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمادے گا خواہ یہ فیصلہ قیامت میں ہو جس کو عملی فیصلہ کہتے ہیں یا اسلام کے غالب ہونے کے بعد ہی میں ہوجائے اور حق و باطل کا اختیار نمایاں ہوجائے۔ بہرحال ! اللہ تعالیٰ کسی جھوٹے اور ناسپاس کو اس کے عناد کی وجہ سے توفیق ہدایت نہیں عطا کرتا جو بتوں کو وسیلہ قرب سمجھتے ہیں ان کا روفرما کر آگیا ن لوگوں کا رد فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور ملائکہ کو اس کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد د بنانے کا ارادہ کرتاتو وہ ضرور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا لیکن وہ تو ہر عیب سے پاک ہے وہ ایسا اللہ ہے جو یکتا اور سب پر غالب ہے۔

(4) اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا اور اولاد بناناچاہتا تھا تو وہ ضرور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا وہ تو ہر عیب سے پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو یکتا اور سب پر غالب ہے۔ یعنی یہ لازم باطل ہے چونکہ وہ جملہ عیوب سے پاک ہے اور اپنی مخلوق یعنی غیر جنس سے کسی کو بیٹا بنانا اس کے لئے عیب ہے پس اس قسم کا انتخاب محال ہے اور اتخاذولد کا ارادہ بھی محال ہوا۔ نیز یہ کہ اولاد کی خواہش خود احتیاج کو مستلزم ہے کاروبار سنبھالنے میں دشواری کی وجہ سے اولاد کی خواہش ہوتی ہے یامرنے کے بعد کسی جانشین کی خواہش ہوتی ہے یا بڑھاپے کی کمزوری کے باعث کسی سہارے کے لئے اولاد کی خواہش ہوتی ہے یا کسی حملہ آور کی وجہ سے مددگار کے لئے اس قسم کی خواہش ہوتی ہے۔ ان تمام مجبوریوں اور معذوریوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات بلندو بالاتر ہے وہ ہر قسم کی احتیاج سے پاک ہے اسی لئے فرمایا سبحنہ ھواللہ الواحد القھار حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بیٹیاں کیوں لیتا چنی چیز لیتا بیٹا
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت و مصلحت کے ماتحت پیدا کیا ہے وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا آگاہ رہو وہ خدا بڑا زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے۔

(5) اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت اور کمال مصلحت کے ساتھ وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چان کو کام میں لگارکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا آگاہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کمال قوت اور طاقت کا مالک بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ تکویر کے معنی ہیں لپیٹنے کے کہیں اس کو ایلاج سے تعبیر کیا ہے کہیں غشیان سے تعبیر کیا ہے مطلب سب کا یہ ہے کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتے جاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دن کی روشنی پر رات چھا گئی اور رات کی تاریکی پر دن چھا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسم سرما اور موسم گرما میں رات دن کی کمی بیشی کی جانب اشارہ ہو سورج اور چاند کے تسخیر اور ان کا کام لگے رہنا ظاہر ہی ہے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ عالم بالا کے یہ کرے کسی کے تابع فرمان ہیں جو بلا کم وکاست کا پہلا نفحہ ہے اس پہلے صور پر تمام کارخانہ درہم برہم ہوجائے گا کمال قوت کا مالک یعنی سب پر حکمراں ہے قوموں کا پست وبالا کرنا اس کے اختیار میں ہے غفار ہے یعنی باوجود طاقت کے کسی کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور بہت سے گنہگاروں کو معاف کرتا رہتا ہے۔ ؎ ولیکن خداوند بالائو پست بعصیان در رزق برکس نہ بست حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک پر دوسرا چلا آتا ہے توڑا نہیں پڑتا۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم لوگوں کو ایک نفس واحدہ یعنی آدم سے پیدا کیا اور اسی نے اس نفس واحدہ سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ نر اور مادہ پیدا کئے وہی تم کو تمہاری مائوں کے پیٹ میں بتدریج ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر تین تاریکیوں میں بناتا ہے وہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت ہے بجز اس کے کوئی اور دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تو پھر اب تم پھرے کہاں چلے جارہے ہو۔

(6) اسی نے تم کو پیدا کیا ایک نفس واحدہ سے اور اسی نے اس نفس واحدہ سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے یعنی نرمادہ پیدا کئے وہی تم کو تمہارے مائوں کے پیٹ میں بتدریج ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت کے بعد تیسری کیفیت پر تین تاریکیوں میں بناتا ہے وہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت اور اسی کا راج ہے اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہے تو پھر اب تم کہاں پھرے چلے جارہے ہو۔ یعنی نفس واحدہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان سے ان کا جوڑا یعنی حضرت حوا کو بنایا اور ان دونوں سے اولاد آدم کا سلسلہ شروع ہوا۔ چوپایوں کا ذکر آٹھویں پارے میں مفصلاً گزر چکا ہے مرادان سے بیل اونٹ بکری اور بھیڑیں ہیں چونکہ انسانی زندگی میں یہ چوپائے بہت ضروری ہیں اس لئے فرمایا۔ انزل لکم چونکہ ہرچیز کی پیدائش کے اسباب آسمان سے ہی ہوتے ہیں اس لئے شاید انزل فرمایا۔ ہم نے ترجمے میں پیدا کئے کیا ہے پھر عام انسانی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ اس نے تمہاری مائوں کے پیٹ میں مختلف کیفیات کے ساتھ پیدا کیا یعنی پہلے نطفہ پھر خون پھر لوتھڑا وغیرہ۔ وقد خلقکم اطوارا۔ تین تاریکیوں سے مراد ماں کا پیٹ رحم اور شیمہ یعنی جھلی جو بجے کے ساتھ نکلتی ہے۔ پیدائش کا یہ سلسلہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جو پروردگار ان صفات عامہ سے متصف ہے وہی تو تمہارا پروردگار اور رب ہے اسی کی ہر جگہ حکومت ہے اس کے سوا کوئی دوسرا لائق عبادت نہیں پھر تم راہ حق معلوم کرلینے کے بعد کہاں پھرے جاتے ہو اور منہ پھیر کر بھاگ جاتے ہو۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو گے تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم سے مستغنی اور بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر بجالائو گے تو وہ تمہارے لئے اس شکر کو پسند کریگا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا سو جو اعمال تم دنیا میں کرتے رہے ہو ان سب کی حقیقت سے وہ تم کو آگاہ کردے گا یقینا وہ لوگوں کے سینوں کی باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔

(7) اگر تم کفر اختیار کرو گے اور کافرانہ روش پرچلو گے تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم سے مستغنی ہے اور وہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں ہے اور وہ بندوں کے لئے کفر و ناسپاسی کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر بجا لائو گے یعنی اسلام قبول کرلوگے وہ تمہارے لئے اس شکر کو پسند کریگا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کی بازگشت اپنے پروردگار کی طرف ہوگی اور تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا پس جو اعمال تم دنیا میں کرتے رہے ہو وہ ان سب کی حقیقت سے تم کو آگاہ کردے گا اور تم کو بتلادے گا یقینا وہ لوگوں کے سینوں تک کی باتوں سے بخوبی واقف ہے اور ان کو جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کفر کرو گے تو اس کو کوئی پروا نہیں اور نہ اس کا کچھ ضرر ہے اور نہ وہ کسی کی عبادت کا محتاج ہے اس کو اپنے بندوں کا کفر کرنا جس میں شرک بھی آگیا پسند نہیں اور اگر تم شکربجالائو اور اسلام قبول کرلو اور اطاعت بجا لائو تو وہ شکر کو پسند کرتا ہے اور شکر سے راضی ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا بلکہ جو جیسا کریگاویسا بھریگا اور تم سب کو اسی کے حضور میں حاضر ہونا ہے پھر وہ تم کو تمہارے ان اعمال کی حقیقت بتادے گا جو تم دنیا میں کرتے رہے ہو کیونکہ وہ تو سینوں تک کی خفیہ اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ عبادہ میں مفسرین کے دو قول ہیں لیکن راجح یہی ہے کہ کفر کافر کا ناپسند ہے اللہ تعالیٰ کو اور اللہ تعالیٰ راضی نہیں اس کفر سے۔ قتادہ اور دوسرے سلف کا قول یہی ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ کفر سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے اور چونکہ تمہارے لئے ضرررساں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ بھی اس کو تمہارے لئے پسند نہیں کرتا اور شکر چونکہ بندوں کے لئے نافع ہے اس لئے وہ بھی تمہارے لئے شکر کو پسند کرتا ہے اور یہ خیال نہ کیا جائے کہ کفر اور نافرمانی کا بار کسی دوسرے پر پڑجائے گا بلکہ ہر شخص کو اپنے اپنے اعمال کا بار اور بوجھ اٹھانا ہوگا اور حدیث شریف میں جو آتا ہے من سن سنۃ سئیۃ فلہ وزرھا دوزرمن عمل بھا۔ اس کو ہم سورة عنکبوت میں عرض کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور انسان کو جب کوئی سختی پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف پوری طرح رجوع ہوکر اس کو پکارنے لگتا ہے پھر جس خدا تعالیٰ اس انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وہ جس سختی کو دور کرنے کے لئے وہ خدا کو اس نعمت سے پہلے پکاررہا تھا اسے بھول جاتا ہے اور دوسروں کو خدا کا ہمسر اور شریک بنانے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بےراہ کرتا ہے اے پیغمبر آپ ایسے شخص سے کہہ دیجئے کہ تو اپنے کفر سے اور تھوڑے دنوں فائدہ اٹھالے یقینا تو اہل جہنم میں سے ہے۔

(8) اور انسان کو جب کوئی سختی اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی جانب پوری طرح رجوع ہو کر اس کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیتا ہے تو جس سختی کو دور کرنے کے لئے وہ اس نعمت سے پہلے اللہ تعالیٰ کو پکاررہا تھا وہ اس کو بھول جاتا ہے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور شریک ٹھہرانے اور بنانے لگتا ہے جس کا انجام اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی کے علاوہ دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے بےراہ اور گمراہ کرتا ہے۔ اے پیغمبر آپ ایسے شخص سے کہہ دیجئے کہ تو اپنے کفر اور ناسپاسی مراد ہے کہ جب کوئی بلا اور سختی آتی ہے تو مشرک اپنے معبودوں باطلہ سے توجہ ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اسی کی طرف رجوع ہوکر اس کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ سختی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کردیتا ہے خواہ وہ مرض ہو یا سمندر کا طوفان ہو یا کاروبار کی پریشانی ہو وغیرہ وغیرہ تو وہ اس سختی کو یا اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے یعنی نہ وہ بلا یاد رہتی ہے نہ خدا یاد آتا ہے اور یہی نہیں بلکہ پھر وہ مشرک اپنے شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے یعنی خود تو گمراہ ہوتا ہی ہے، بلکہ دوسروں پر بھی اسی کی گمراہی کا اثر پڑتا ہے آگے بطور تہدید فرمایا کہ اے محمد ﷺ ایسے نالائق احسان فراموش سے کہہ دو کہ اچھا تو اپنے کفر کا کچھ اور دن فائدہ اٹھالے آخر کار تو تو جہنمی ہے۔ یہ مشرک کی مذمت فرمائی کہ مطلب نکل جانے کے بعد پھر بتوں کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ مضمون اور بھی کئی جگہ گزر چکا ہے آگے اہل توحید کی مدح وثنا ہے۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

یہ بھلا وہ شخص جو رات کی گھڑیاں سجدے اور قیام کی حالت میں عبادت کرتے ہوئے گزارتا ہو نیز آخرت سے ڈررہا ہو اور اپنے رب کے فضل و مہربانی کی امید رکھتا ہو ت کیا ایسا نیک شخص اس مشرک مذکور کے برابر ہوسکتا ہے آپ فرمائیے کیا وہ لوگ جو حقیقت آشنا ہیں اور وہ جو حقیقت سے ناواقف ہیں کہیں برابرہوسکتے ہیں پس ان دلائل سے وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو اہل عقل وخرد ہیں۔

(9) بھلا وہ شخص جو رات کی گھڑیاں مسجد اور قیام کی حالت میں عبادت کرتیہوئیگزارتا ہو نیز آخرت سے ڈررہا ہو اور اپنے پروردگار کے فضل و مہربانی کی امید رکھتا ہو کیا ایسا عبادت گزارشخص اس مشرک مذکور کے برابر ہوسکتا ہے جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا۔ آپ اے پیغمبر فرمائیے کیا وہ لوگ جو اہل علم اور حقیقت آشنا ہیں اور وہ جو جاہل اور حقیقت سے نا آشنا ہیں کہیں برابر ہوسکتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ ان دلائل سے وہی لوگ نصیحت پکڑتے اور نصیحت مانتے ہیں جو اہل وعقل خرد ہیں۔ اس آیت سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ ہیں ابن عمرنے کہا مراد حضرت عثمان ہیں کلبی نے کہا حضرت عمار اور سلمان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ قانت سے مراد طویل قیام کرنے والا اور یہ جو فرمایا کہ باوجود کثرت عباد ت کے آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب سے رحمت کی امید رکھتا ہے۔ یہ علامت ہے خالص مومن کی یعنی نہ مایوس نہ بالکل بےخوف اہل علم سے مراد علماء باعمل ہیں جو عامل نہیں وہ باوجود علم کے جاہل ہیں بہرحال بھلے اور برے میں مساوات نہیں۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ میرے مسلمان بندوں سے یہ فرمادیجئے کہ اے میرے ایمان والے بندو اپنے رب سے ڈرتے رہو جو لوگ اس دنیا میں بھلے کام کیا کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں بھی بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے جو لوگ مصائب وآلام پر ثابت قدم رہنے والے ہیں بس ان کو ان کے صبر کا صلہ بیشمار ہی دیا جائیگا یعنی بھرپور۔

(10) اے پیغمبر آپ میرے امان والے بندوں سے فرمادیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ اس دنیا میں بھلے اور اچھے کام کیا کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں بھی بھلائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع اور فراخ ہے جو لوگ مصائب وآلام پر سہار کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے اور صبر کرنے والے ہیں تو سوائے اس کے نہیں کہ ان کے صبر کا صلہ ان کو بیشمار اور ان گنت دیاجائے گا۔ یعنی اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ طاعت اور فرمانبرداری اور خشیت الٰہی اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہا کریں اور بھلائیوں پر مدادست رکھیں کیونکہ جو لوگ اس دنیا میں بھلائی اور نیک کاموں کے خوگرہوتے ہیں ان کو بھلائی یعنی جنت ہے بعض لوگوں نے فی الدنیا کو حسنۃ کے متعلق کہا ہے او یوں معنی کئے ہیں کہ جو بھلے کام کرتے ہیں ان کو دنیا میں بھی بھلائی ہے یعنی صحت و عافیت عطا ہوئی ہے بہرحال دنیا میں صحت و عافیت اور آخرت میں بہشت عطا ہوتی ہے۔ اس طرح مفسرین کے دونوں قول جمع ہوسکتے ہیں پھر اگر وطن میں کوئی نیک کاموں سے مانع ہو اور تم میں دفاع کی طاقت اور قوت نہ ہو تو وطن سے ہجرت کرکے کوئی ایسی جگہ اختیار کرلو جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوئی مزاحم نہ ہو کیونکہ میری زمین وسیع ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد نے آیت کی تفسیر ہجرت سے کی ہے اور مکہ والوں کو ہجرت کی ترغیب کے لئے اس آیت کا شان نزول فرمایا پھر ہجرت کرنے یا نہ کرنے پر جو مصائب وآلام آئیں ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے والوں کو بغیر حساب اجر کا وعدہ فرمایا ہے یعنی بہت اجر دیاجائے گا اور بھر پور ملے گا اجر صبر کرنے والوں کو۔
Ayah 39:11

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے مجھ کو تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں خالص خدا ہی کی اطاعت کے اعتقاد سے اللہ کی عبادت کروں

(11) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے مجھ کو تویہی حکم دیا گیا ہے کہ میں خالص خدا کی ہی کے اعتقاد سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں
Ayah 39:12

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور نیز مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوں سب سے پہلے حکم بردار۔

(12) اورنیز اس میں حکم دیا گیا ہوں کہ سب مسلمانوں سے پہلے مسلمان ہوں۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانوں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

(13) آپ کہہ دیجئے اگر میں اپنے پروردگار کا حکمنہ مانوں تو میں ایک سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ پہلے اخلاص کا حکم دیا گیا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت پر اعتقاد رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو یعنی نری اسی کی بندگی ہو اس کی عبادت میں کوئی دوسراشریک نہ ہو نہ تو عبادت میں ریا ہو اور نہ غیر اللہ کی عبادت ہو دوسرے یہ کہ اس امت میں سب مسلمانوں میں سے پہلے میں اسلام کے حق ہونے کو مانوں اور اسلام کے حق ہونے گا اظہار کروں اور اگر بفرض محال مجھ سے اپنے پروردگار کی کوئی نافرمانی ہوجائے تو میں قیامت کے دن کے عذاب اور اس بڑے دن کی پکڑ سے ڈرتا ہوں بڑا دن فرمایا قیامت کو۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے میں تو اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو خالص اسی کے لئے رکھتا ہوں۔

(14) آپ کہہ دیجئے میں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو خالص اور صرف اس کے لئے رکھتا ہوں۔ یعنی اس کی عبادت ہوائے اس کے کسی کو نہیں کرتانہ اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہوں بلکہ بری اور خالص اسی کی عبادت کا اعتقاد رکھ کر اس کی بندگی کرتا ہوں۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

اب رہے تم تو تم خدا کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے پھرو۔ آپ ان سے فرمادیجئے حقیقی نقصان میں وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں کو اپنے متعلقین کو نقصان میں ڈال بیٹھے آگاہ رہو یہ قیامت کے دن کا گھاٹا ہی تو صریح گھاٹا ہے۔

(15) پس اب تم اللہ تعالیٰ کی سوا جس کی چاہو پوجا کرتے پھرو آپ ان سے فرما دیجئے حقیقی نقصان، ٹوٹے اور ہار میں وہی رہے جو قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے متعلقین کو نقصان میں گنوا بیٹھے آگاہ ہو یہ قیامت کے دن کا گھاٹا ہی تو صریح گھاٹا ہے۔ اپنی عبادت کے خالص ہونے کا اعلان کرنے کے بعد بطور تو بیخ اور تہدید کے فرمایا میں نے تو اپنا عقیدہ ظاہر کردیا اب تمہارا جو جی چاہے کرتے پھرو۔ البتہ یہ یاد رکھو کہ اصلی نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن سب کچھ ہار بیٹھے اور اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں دے بیٹھے اور گنوا بیٹھے یہی نقصان تو صریح نقصان اور گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان گھاٹے والوں کے اوپر بھی آگ کے سائبان ہوں گے وہ عذاب یہی ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو۔

(16) ان صریح نقصان اٹھانے والوں کے لئے اوپر بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے وہ عذاب یہی ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے سو اے بندو میرے مجھ سے ڈرتے رہو۔ یا تو مطلب یہ ہے کہ اوپر بھی اور نیچے بھی سب طرف جہنم کی آگ اور اس کے شعلے محیط ہوں گے یا مطلب یہ ہے کہ آگ میں گرتے چلے جائیں گے نیچے کی آگ سائبان بنتی چلی جائے گی ابھی اوپر تھے نیچے آگ کی زمین تھی جب اس زمین کے نیچے اتر گئے تو وہ سائبان ہوگئی جس طرح اوپر سے گرنے والا دھنستا چلا جائے تو ہر منزل اس کی چھت بنتی رہے گی یا اوپر کا دھواں اور نیچے آگ کا بچھونا۔ اعاذنا للہ منھا نستغفرک ونتوب الیک۔ یہ عذاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے کہ کفر وشرک اور معاصی سے باز آجائو ورنہ وہاں کا عذاب ایسا ہے آخر میں فرمایا میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو یعنی خوف علی الدوام ہو تاکہ نفس پر قابو قائم رہے۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے بتوں کے پوجنے سے اجتناب کیا اور وہ ہمہ تن خدا ہی کی طرف متوجہ رہے تو ان کے لئے خوشخبری ہے سوائے پیغمبر آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے

(17) اور جن لوگوں نے بتوں سے یا شیاطین کی عبادت سے اجتناب کیا اور وہ پوری طرح اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع اور متوجہ رہے ایسے لوگوں کے لئے بشارت اور خوشخبری ہے اور وہ خوشخبری سنانے کے مستحق ہیں اے پیغمبر میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو اس کا کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پرچلتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے رہنمائی فرمائی اور یہی لوگ ہیں جو اہل عقل و خرد ہیں۔

(18) جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان پرچلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور ہدایت دی اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبان عقل وخرد ہیں۔ طاغوت کی تفسیر کئی جگہ گزرچکی ہے اس سے مراد یا تو بت اور اصنام ہیں یا شیطان ہیں جو لوگ اس قسم کی سرکش طاقتوں سے مجتنب رہے اور ان کی عبادت سے بچے رہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع رہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی غیر اللہ کو شریک نہیں کیا اور صرف اللہ کی عبادت کرتے رہے ان کے لئے دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ جیسا کہ ہم گیارہویں پارے میں لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ۔ کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں اور جب یہ لوگ مستحق بشارت ہیں تو اے پیغمبر میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجئے جو باوجود اجتناب طاغوت اور انابت الی اللہ کے اس صفت کے ساتھ بھی متصف ہیں جو کلام الٰہی کو کان لگا کر سنتے ہیں اور پھر اس کلام کے تمام احکام کی خواہ وہ اوامرہوں یا نواہی ان کی پیروی کرتے ہیں اور چونکہ وہ تمام ہی احکام اچھے ہیں اس لئے فرمایا فیتحون احسنہ یہ مطلب نہیں کہ اچھی باتوں پر چلتے ہیں اور بری باتیں چھوڑ دیتے ہیں۔ تمام کلام اچھا ہے تو سب پر عمل کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی ہے اور یہی لوگ صاحب خرد ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چلتے ہیں اس کے نیک پر یعنی حکم پرچلنا کہ اس کو کرتے ہیں منع پر چلنا کر اس کو نہیں کرتے اس کا کرنا نیک ہے اس کا نہ کرنا نیک ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جملہ اوامرونواہی کا اتباع نیک ہی نیک ہے۔ بعض مفسرین کی اور بھی اقوال ہیں مثلاً واجب اور مستحب اوامر پیش آئیں تو واجب کو اختیار کریں اور مباح اور مستحب پیش آئیں تو مستحب کو اختیار کرتے ہیں عزیمت ورخصت کے امور پیش آئیں تو عزیمت کو اختیار کرتے ہیں قصاص لینے اور معاف کرنے کا معاملہ ہو تو معاف کرنے کا اختیار کرتے ہیں غرض جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل ہوتا ہو اس کا اختیار کرتے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمانہ جاہلیت میں بھی توحید کے قائل تھے مثلاً سعید بن زید، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی وغیرہم بہرحال ہم نے ترجمے اور تیسیر میں مشہور اور راجح قول کو اختیار کرلیا ہے اور فیستمعون القول سے مراد قرآن لیا ہے۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہو تو کیا آپ ایسے شخص کو چھڑا سکتے ہیں جو دوزخ میں پڑا ہوا ہے۔

(19) بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہے تو کیا آپ ایسے شخص کو چھڑا سکتے ہیں جو آگ میں پڑا ہوا ہو۔ یعنی جس شخص کے لئے کلمہ عذاب سبقت کرچکا ہو اور علم ازلی میں یہ بات مستحقق ہوچکی ہے کہ وہ جہنم میں جانے والا ہے تو بھلا آپ ایسے شخص کو جہنم کی آگ سے کس طرح بچاسکتے ہیں اور نجات دلا سکتے ہیں یعنی جو شخص اپنی سوائے استعداد کے باعث جہنمی ٹھہر چکا اس کو بچانا کس کے بس کی بات ہے۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

مگر ہاں وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے تو ان کے رہنے کے لئے ایسے بالاخانے ہیں جن کیا وپر اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں ان بالا خانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا۔

(20) مگرہاں وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں تو ان کے رہنے کے لئے ایسے بالاخانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان بالاخانوں کے نیچے نہریں بہہرہی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔ یہ متقی لوگ شاید وہی ہیں جن کا ذکر اوپر گزرچکا ہے مطلب یہ ہے کہ کئی کئی منزل کے مکان ہوں گے بالا خانوں میں کھڑکیاں اور جھرو کے ہوں گے بالاخانے پر بالا خانے نیچے نہریں جاری ہیں آخر میں تاکید کے لئے فرمایا متقیوں کے لئے یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتے یعنی تفریح کے تمام سامان مکمل ہوں گے۔ اوپر کی آیتوں میں تقوے والوں کی تعریف تھی پھر بیچ میں ازلی اہل شقاوت کا ذکر فرمایا اب آگے دنیا کی بےثباتی اور زوال کا ذکر فرمایا۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تونے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر اس پانی کو زمین کے ان مقامات میں داخل کردیا جو پانی بہنے اور نکلنے کے مقامات میں پھر وہ اس پانی سے گوناگوں قسم کی کھیتی اگاتا ہے پھر وہ کھیتی بالکل خشک ہوجاتی ہے۔ پھر تو اس کو دیکھتا ہے کہ وہ زرد پڑگئی پھر خدا اس کو چورا چورا کر ڈالتا ہے۔ بیشک کھیتی کی اس مذکورہ حالت میں اپنی عقل وخرد کے لئے بڑی عبرت ہے۔

(21) کیا اے مخاطب تونے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل فرمایا پھر اس پانی کو زمین کے ان مقامات میں داخل کردیا جو پانی بہنے اور نکلنے کے مقامات ہیں یعنی ان سوتوں میں پانی کو پہنچا دیتا ہے جن سوتوں سے وہ پانی کنویں یاچشموں سے بآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے پھر اس پانی سے مختلف اور گوناگوں رنگوں کی کھیتیاں پیدا کرتا اور نکالتا ہے پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے پس اے مخاطب تو اس کو زرد رنگ دیکھتا ہے پھر وہ اس کھیتی کو چورا کر ڈالتا ہے بیشک کھیتی کی اس مذکورہ حالت میں اہل عقل وخرد کے نصیحت و عبرت ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ دنیا کی بےثباتی اور اس کی فنا کی دلیل ہے یا یہ انسانی زندگی کی مثال ہے۔ بہرحال ایک چیز کو بنانا اور ایک وقت تک اس کو قائم رکھنا پھر اس کو فنا کردینا یہ ہر ایسی چیز کی مثال ہے انسانی زندگی بھی ایسی ہی ہے کہ بڑھے پلے جوانی آئی بڑھاپے کی سفیدی آئی اور موت نے ٹھکانے لگایا۔ مختلفا الوانہ کی تفسیر بعض حضرات نے کھیتی کے مختلف اقسام کے ساتھ کی ہے اقسام سے مراد جیسے چنے جو گیہوں وغیرہ سورة کہف میں گزر چکا ہے۔ فاصبح ھشیما تذروہ الریاح وکان اللہ علیٰ کل شیء مقتدرا۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

کیا بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے رب کی جانب سے ایک عطا کردہ روشنی پر ہو تو کہیں یہ کس سخت دل کے برابر ہوسکتا ہے سو ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جن کے دل خدا کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں یہی لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔

(22) بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کی جانب سے عطا کردہ روشنی پر ہو تو کہیں ایسا شخص اہل قساوت کے برابرہوسکتا ہے سو ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں اور یہی لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اہل حق اور اہل باطل دونوں فرقوں کا ذکر فرمایا ایک تو وہ لوگ ہیں جن کے قلوب اللہ تعالیٰ نے حق کی قبولیت کے لئے کھول دیئے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے عطا کردہ نور ہدایت پر قائم ہیں اور ہدایت کے متقضا پر چل رہے ہیں یعنی اعتقاد اور عمل صحیح کو اختیار کرچکے ہیں اور دوسرے جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں یہ دونوں فریق کہیں برابر ہوسکتے ہیں یعنی ایک مومن کامل اسلامی احکامات کا پابند دوسرا اللہ کی یاد سے بھاگنے والا اور سنگدل دنوں برابر نہیں ہوسکتے۔ پھران لوگوں کے انجام کی خرابی بیان کی جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے سخت ہیں یعنی سنتے ہی نہیں اور ذکر الٰہی سے اور قرآن مضامین سے متاثر نہیں ہوتے یا یہ کہ ان پر ذکرکا الٹا اثر ہوتا ہے کہ ان کے دل قرآن سن کر اور سخت ہوجاتے ہیں تو ان کے لئے آخرت میں خرابی اور دنیا میں گمراہی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے شرح صدر کی علامت دریافت کی گئی تو حضور ﷺ نے فرمایا فرالا نابتہ الی دارالخلود والتجافی عن دارالغرور والتاھب للموت قبل نزول الموت۔ یعنی آخرت کے ساتھ رجوع ہونا اور دارآخرت سے وابستہ رہنا اور دار غرور یعنی دنیا سے الگ رہنا اور بےتوجہی برتنا اور موت کے آنے سے پہلے موت کے لئے سامان جمع کرنا یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح شرح صدر ہدایت اور فیض الٰہی کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے اس طرح گمراہی اور شقاوت کے درجات میں سے قساوت قلب یھی ایک درجہ ہے جیسے غلف غشادہ اور ختم اور طبع وغیرہ ہیں۔ اسی طرح قساوت بھی ایک قسمتی کا درجہ ہے اس قساوت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ قرآن سن کر دل کی سختی اور قساوت زیادہ ہوتی ہے سورة توبہ میں ہے۔ فزاتھم رجسا الی رجسھم۔ اللھم اھدنا الی مرضاتک وجنبنا عن موجبات سخطک آمین آگے اس نور اور ذکر کا بیان ہے۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل کیا ہے وہ کلام ایک ایسی کتاب ہے جس کے مضامین باہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں اس کتاب سے ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہ کتاب مذکورہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اس کے ذریعہ سے جس کو چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے اور جس گم کردہراہ کی خدا رہنمائی نہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

(23) اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل کیا ہے وہ کلام ایک ایسی کتاب ہے جس کے مضامین باہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں اس کتاب کے سننے سے ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کی جلد اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہ کتاب مذکور اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے وہ اس کے ذریعہ سے جس کی چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس گم کردہ راہ کی وہ رہنمائی نہ فرمائے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کلامنازل فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام ہوتا ہے یہ قرآن شریف بہترین کلام ہے یعنی ایک کتاب ہے جو باعتبار نظم اور معافی کے آپس میں ملتی جلتی ہے کوئی آیت اپنی خوبی اور اپنے نظم اور معانی کی صحت اور اعجاز کے درجے سے گری ہوئی نہیں ہے اور فصاحت و بلاغت میں ملتی جلتی ہے۔ یہاں متشابہ اس معنی میں نہیں ہیں جو محکم کی مقابل ہے جس کی شرح ہم آل عمران کے شروع میں کر آئے ہیں بلکہ یہاں متشابہ اس معنی میں ہے جو پانچویں پارے میں گزر کر تمام کلام ایک سانچے میں ڈھیلا ہوا ہے۔ ولوکان من عند غیر اللہ لوجد وافیہ اختلافا کثیرا۔ یعنی یہ کلا ایسی ذات کی طرف جو ہر قسم کے خارجی اثرات سے پاک ہے ورنہ ہر متکلم کے کلام میں خارجی اثر پایا جاتا ہے جیسے جوانی اور بڑھاپے کے کلام کا فرق یا غضب اور حلم کا فرق یا غم اور خوشی کا فرق ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کوئی ایسا فرق نہیں بلکہ فصاحت و بلاغت کی خوبی میں سب یکساں ہے۔ اسی طرح بعض مضامین ضرور یہ کو قرآن کریم میں کئی کئی بار بھی بیان کیا گیا تاکہ سامعین کو سمجھنے میں آسانی ہو اور ہر عنوان ایسا جازب کہ ایک چیزکا کئی بار سننا سامع کو گراں نہ ہو اور اس کے سننے کا اثر پروردگار سے ڈرنے والوں پر یہ ہوتا ہے کہ ان کا تمام جسم متاثر ہوجاتا ہے رونگٹے ککھڑے ہوجاتے ہیں ان کی کھالیں یعنی تمام جسم اور ان کے دل نرم ہوجاتے ہیں اور نرم ہوکر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں یعنی احکام الٰہی کی تعمیل کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور اعمال جوارح اور اعمالی قلوب جذبہ انقیاد و اطاعت سے بجا لاتے ہیں یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس کو چاہتا ہے اس کی وجہ سے ہدایت دیتا ہے جیسا کہ مسلمان اور خائفین کا حال معلوم ہو اور جس بدبخت سے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی دست کش ہوجائے اور اس کی سوئے استعداد کی وجہ سے اس کو گمراہی میں رہنے دے تو اس کی کوئی ہدایت دینے والا نہیں چونکہ خوف اور جادودونوں کا ذکر کیا ہے اس لئے اس کے دونوں اثرات کی جانب ارشاد فرمایا ہے۔ خوف کی آیتوں سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے اور رحمت کے ذکر سے قلب میں نرمی اور لین کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آپس میں ملتی یعنی خوبی میں کوئی آیت کم نہیں دہرائی ہوئی یعنی ایک مدعا کئی کئی طرح سے تقریر کیا۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا بھلا وہ شخص جو قامت کے دن بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکتا ہو کہیں وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جو عذاب سے مامون ہو اور ظالموں سے کہا جائیگا کہ جو کمائی تم دنیامیں کرتے رہے ہو اس کے وبال کا مزہ چکھو۔

(24) کیا بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن برے اور بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکتا ہو اور اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کے لئے سپر بنا دے تو کیا یہ معذب اس کے برابر ہوسکتا ہے جو عذاب سے مامون ہو اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کمائی تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کے وبال کا مزہ چکھو۔ یعنی جب آگ میں ڈالا جائے گا تو پہلے جس چیز کو آگ لگ گئی وہ منہ ہوگا سورة فصلت میں انشاء اللہ آجائیگا۔ افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ یا یہ مطلب ہو کہ تمام بدن طوق وسلاسل میں جکڑا ہوا ہوگا مگر منہ کھلا ہوا ہوگا ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے اس لئے فرمایا۔ افمن یتقی بوجھہ مقصد آگ میں جانا ہے آگے منکرین قیامت اور منکرین عذاب کو تنبیہ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 39:25

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان لوگوں سے پہلے جو لوگ ہوگزرے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا تھا پھر ان پر عذاب ایسی جہت سے آیا جس کی ان کو خبر بھی نہ تھی۔

(25) ان لوگوں سے پہلے جو لوگ ہوگزرے ہیں انہوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا اور دین حق کی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا تھا پھر ان پر عذاب ایسے طور پر آیا اور ایسی جگہ سے آیا جہاں سے عذاب آنے کی ان کو خبر بھی نہ تھی۔ یعنی وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں انہوں نے بھی رسولوں کو اور ان کی باتوں کو جھوٹا بتایا تھا آخر کاران پر عذاب ایسی جہت سے آیا جس کی ان کو خبر بھی نہ تھی اور گمان بھی نہ تھا۔
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو یقینا اس سے کہیں بڑا ہے کاش یہ لوگ اس بات کو سمجھتے۔

(26) سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو یقینا اس سے کہیں بڑا ہے کاش یہ لوگ اس بات کو سمجھتے - یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی کا مزا چکھنا پڑا اور آخرت کا عذاب یقینا بہت بڑا اور بڑا سخت ہے یعنی دنیا کی رسوائی کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔ اللھم اجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ۔ کاش یہ بھی ان بتوں کو سمجھ جاتے اگر سمجھ جاتے تو تکذیب اور جھٹلانے کا طریقہ نہ اختیار کرتے۔
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔

(27) اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں اور عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ یہ لوگ سوچیں اور نصیحت قبول کریں۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

اس قرآن کی حالت یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں ہے اس میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں تاکہ یہ لوگ اس کی تکذیب سے بچیں ۔

(28) اس قرآن کریم کی کیفیت یہ ہے کہ یہ عربی زبان کا قرآن ہے اس میں کسی قسم کی پیچیدگی اور کجی نہیں تاکہ یہ لوگ اس کی تکذیب سے بچیں۔ یعنی عمدہ مضامین اور مثالیں تاکہ ان کو سوچنے اور سمجھنے کا موقعہ ملے اور یہ نصیحت پکڑیں پھر یہ قرآن کریم عربی زبان میں ہے چونکہ اہل عرب مخاطب اول ہیں اس لئے عربی میں نازل فرمایا تاکہ ان کو خود سمجھ کر دوسری کو سمجھانے میں آسانی ہو کتاب میں کوئی کجی اور ہیر پھیر نہیں بالکل سیدھی کتاب ہے جیسا کہ سورة کہف کی ابتدائی آیتوں میں بیان ہوچکا ہے۔ بہرحال ہدایت کے لئے جیسی کتاب کی ضرورت تھی وہ سب باتیں اس میں علی وجہ الکمال مذکور ہیں مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ کفر سے بچیں اور دوسروں کو بچائیں بعض حضرات نے غیر ذی عوج کی تفسیر مرفوع حدیث سے غیر مخلوق بھی کی ہے اس حدیت کے راوی حضرت انس ہیں آگے مشرک اور موحد کے مابین تو تفاوت ہے اس کی مثال بیان فرمائی۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک مرد یعنی غلام ہے اس غلام میں چند آدمی شریک ہیں اور یہ شرکاء بھی آپس میں ایک دوسرے کے سخت مخالف اور بدخو ہیں اور ایک اور غلام ہے جو سالم ایک ہی شخص کا غلام ہے کیا ان دونوں غلاموں کی حالت یکساں ہوسکتی ہے سب تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں مگر ن کافروں میں سے اکثر نہیں سمجھتے،

(29) اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص غلام ہے جس میں بہت سے مالک شریک ہیں یہ شر کا بھی آپس میں ایک دوسرے کے سخت مخالف اور بداخلاق ہیں اور ایک اور شخص غلام ہے جو سالم ایک ہی شخص کا مملوک ہے کیا ان دونوں غلاموں کی حالت یکساں ہوسکتی ہے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہیں مگر ان کافروں کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ کیا عجب مثال ہے فرض کرو ایک غلام کے چند آقا ہیں وہ اپنی خدمت کے لئے طلب کرتا ہے یہ اپنی خدمت کے لئے طلب کرتا ہے نان نفقہ میں ایک دوسرے پر ٹالتا ہے آقائوں میں کھینچا تانی ہے اس کے کام میں دیر ہوجائے تو یہ ناراض اس کے حکم کی تعمیل میں تاخیر ہوجائے تو وہ ناراض غرض یہ غلام ہر وقت پریشان ہے اور ایک غلام صرف ایک ہی آقا کا غلام ہے آقا اس کی تمام ضروریات کا کفیل اور یہ ہمہ تن اس کی خدمت کے لئے وقف کہاں اس کا اطمینان اور کہاں اس کی پریشانی اور تحیر دونوں برابر نہیں یہی فرق ہے ایک مشرک اور مومن میں۔ الحمد اللہ ! یعنی حق ثابت ہوگیا لیکن ان مشرکوں میں سے اکثر سمجھ سے کام نہیں لیتے کیونکہ سمجھنے کا قصد ہی نہیں کرتے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک غلام جو کئی شخص کا ہو کوئی اس کو اپنا نہ سمجھے تو اس کی پوری خبر نہ لے اور ایک غلام جو سارا ایک کا ہو وہ اس کو سمجھے اور پوری خبر لے یہ مثال ہے جو ایک رب کے بندے ہیں اور جو کوی رب کے بندے۔ خلاصہ : یہ کہ ایک چند جھگڑالو بداخلاق آقائوں کا غلام اور ایک صرف حضرت حق تعالیٰ کا غلام، اللہ تعالیٰ اس کا مربی اور پروردگار جو اطمینان اس کو میسر ہوسکتا ہے وہ اطمینان اس مشرک کو کہاں میسر ؟۔
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کچھ شک نہیں کہ آپ کو بھی مرنا ہے اور یقینا ان منکروں کو بھی مرنا ہے۔

(30) اے پیغمبر کچھ شک نہیں کہ آپ کو بھی مرنا ہے اور یقینا ان منکروں کو بھی مرنا ہے…- یعنی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو آپ غم نہ کیجئے یہاں سے آپ کو بھی جانا ہے اور ان کو بھی جانا ہے یعنی ہمیشہ یہاں کوئی بھی رہنے والا نہیں بلکہ قیامت میں سب کو ایک جگہ ہونا ہے۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کے روبرو اپنا اپنا معاملہ پیش کرو گے۔

(31) پھر تو قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس اپنا اپنا معاملہ پیش کرو گے اور اس کے روبرو آپس میں جھگڑو گے۔ یعنی تمام معاملات خواہ وہ مسلمانوں کے ہوں یا پیغمبروں اور ان کی امتوں کے ہوں وہاں پیش ہوں گے اور پھر وہاں عملی فیصلہ ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر منکر ہوں گے ہم کو کسی نے حکم نہیں پہنچایا پھر فرشتوں کی گواہی سے اور آسمان و زمین کی اور ہاتھ پائوں کی گواہی سے ثابت ہو۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

سو اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے اور جب اس کے پاس سچی بات آئے تو اس سچی بات کی تکذیب کردے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا۔

(32) سو اس سے زیادہ کون ظالم اور ناحق پرست ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اور جب اس کے پاس سچی بات آئے تو اس سچی بات کی تکذیب کردے کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ یہ کہ شریک رکھتا ہے یا اولاد رکھتا ہے سچی بات یہ کہ قرآن یا دین اس کے پاس رسول کے ذریعہ پہنچے اور وہ اس قرآن کریم کو جھٹلائے تو اس شخص سیبڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے اور ظالم کے لئے عقوبت ہے اور وہ جہم ہے اور وہ ایسے ظالموں کا ٹھکانا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر نبی نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اس سے برا کون اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنا یہ بھی بہت بڑا ظلم اور رسول کی سچی بات لائی ہوئی کو جھٹلانا خواہ وہ قرآن کریم ہو یا دین حق ہوا اس سے انکار کرنا اور جھوٹا بتانا اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا۔ لہٰذا ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے جس طرح خدا پر بہتان باندھنا اور افتراء کرنا قابل عقوبت ہے اسی طرح حضرت حق جل اللہ وعلا کے پیام کی مخالفت کرنا بھی ایک قابل سزا جرم ہے۔
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو سچی بات لے کر آئے اور وہ جنہوں نے اس سچی بات کی تصدیق کی تو یہی لوگ خدا سے ڈرنے والے ہیں۔

(33) اور وہ لوگ جو سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اس سچی بات کی تصدیق کی تو یہی لوگ ڈرانے والے اور پرہیزگار۔ چونکہ مفسرین کے اس آیت کی تفسیر میں کئی قول ہیں اس لئے ترجمہ اور تیسیر ہیں ان کی رعایت کی گئی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو سچ لایا وہ نبی اور جس نے سچ مانا وہ مومون۔ وہ لوگ جو سچ لائے اس میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جو خدا کی طرف سے دین حق لے کر آئے یارسول کی طرف سے کوئی دین حق کی تبلیغ کے لئے کہیں گیا سب شامل ہیں اور رسول یارسول کے رسول نے خود بھی تصدیق کی اور دین حق کو سچا جانا یعنی خود صادق بھی اور مصدق بھی تو ان لوگوں کو متقی فرمایا۔ بعض حضرات نے فرمایا صادق رسول اور اس کی تصدیق کرنے والے اس کے تابعین حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ دین حق کو لانے والے بنی کریم ﷺ اور تصدیق کرنے والے ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عطا کا قول ہے کہ صدق کی وحدت حضرت ابن عباس ؓ اور سدی سے منقول ہے۔
Ayah 39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ایسے متقیوں کے لئے ان کے رب کے ہاں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ یہ ہر خواہش کی تکمیل صلہ ہے نیکی کرنے والوں کا۔

(34) ان متقیوں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی وہ چاہت اور خواہش کریں گے یہ ہر خواہش کی تکمیل بدلا اور صلہ ہے نکوکاروں کا۔
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

یہ صلہ اس لئے مقرر ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ ان نیک لوگوں سے ان کی برائیوں کو جو انہوں نے کی تھیں دور کردے اور ان کو ان اچھے کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ان کا صلہ عطا فرمائے۔

(35) یہ صلہ اس لئے مقرر ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے ان کی برائیوں کو جو انہوں نے کی تھیں دور فرمادے اور ان کو ان اچھے کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے صلہ عطا فرمائے۔ یعنی ان متقیوں کو ان کے حسب دل خواہ آسائش و آرام میسر ہو ان کی برائیاں حسب مراتب ان سے دور کردی جائیں گی اور ان سے زائل کردی جائیں گی اور ان کے اچھے کاموں کا ان کا اجر اور صلہ دیا جائیگا چونکہ متقیوں میں صادق اور مصدق دونوں شامل ہیں اس لئے ہم نے حسب مراتب کی قید لگادی ہے اور اسوالٓذی میں تفصیل معنی مراد نہیں ہیں معمولی لغزش بھی انبیا کے لئے سوء اور برائی ہے۔ حسنات الابرار سیآت المقربین۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے یعنی محمد ﷺ کے لئے کافی نہیں ہے اور اے پیغمبر یہ کافر آپ کو خدا کے سوا اور دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس گم کردہ راہ کو خدا بےراہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

(36) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے محمد ﷺ کے لئے کافی اور کارساز نہیں ہے اور اے پیغمبر یہ کافر آپ کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس گم کردہ راہ کو اللہ تعالیٰ بےراہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو خدا راہ دکھادے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا اللہ تعالیٰ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے۔

(37) اور اللہ تعالیٰ جس کی رہنمائی فرمائے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا اللہ تعالیٰ کمال قوت کا مالک اور بدلا لینے والا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تجھ کو ڈراتے ہیں یعنی تو بتوں کو نہیں مانتا تو وہ تجھ پر غضب ہوں گے کچھ تیرا کردیں گے سو جس کی مدد پر اللہ ہو ان کا برا کون کرسکے۔ خلاصہ : یہ کہ جس کا کارساز اللہ تعالیٰ ہو اس کو بتوں سے اور مخلوق سے ڈرانا ایک مضحکہ خیز چیز ہے وہ تو رب کے لئے کافی ہے اور بالخصوص آپ سو اس کے پیغمبر ہیں تو کیا آپ کے لئے کافی نہیں ہے۔ بات اصل یہ ہے کہ جو گمراہی کو پسند کرچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ لے ان کو ان کی گمراہی میں چھوڑ دیا ہے تو ان کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جس کی ہدایت پر اللہ تعالیٰ آمادہ ہوجائے اور جس کو وہ ہدایت دیدے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا اللہ تعالیٰ صاحب قوت اور صاحب انتقام نہیں ہے۔ بعض مشرکوں کا قاعدہ ہے کہ وہ اپنے دیوتائوں کی پھٹکار اور گرفت سے ڈرایا کرتے ہیں ایسا ہی کوئی واقعہ پیش آیا ہوگا جس پر یہ آیت نازل فرمائی ہوئی اور چونکہ مشرکین مکہ بھی اللہ تعالیٰ کو خالق السماوات والارض جانتے تھے اس لئے آگے اس کی تصریح فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے کافی ہونے پر حجت قائم کی۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر آپ ان سے سوال کریں کہ بھلا آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ اس کا یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے آپ ان سے کہیے کہ بھلا یہ تو بتائو جس معبودوں کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر خدا مجھے کوئی تکلیف پہنچانی چاہے تو کیا یہ تمہارے معبود اس کی بھیجی ہوئی تکلیف کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں یا خدا تعالیٰ مجھ پر کوئی اپنی مہربانی کرنی چاہے تو کیا تمہارے یہ معبود اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں آپ کہہ دیجئے پس مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے اس پر بھروسہ کیا کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے

(38) اور اگر آپ ان سے اے پیغمبر سوال کریں اور دریافت کریں کہ بھلا آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ اس کا جواب یقینا یہی دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں آپ ان سے فرمائیے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ جن معبودوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف اور دکھ پہنچانا چاہے تو کیا یہ تمہارے معبود اس کے بھیجے ہوئے ضرر اور دکھ کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں اور دکھ کو ہٹا سکتے ہیں یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی مہربانی کرنی چاہے تو کیا تمہارے وہ معبود اس کی مہربانی کو مجھ سے روک سکتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو کافی ہے بھروسہ کرنے والوں کو چاہیے کہ اسی کی ذات پر بھروسہ کیا کریں۔ آسمان و زمین کا حق تعالیٰ کو خالق ماننا مستلزم ہے کمال قدرت کو پس جب انہوں نے ملزوم کو مان لیا تو لازم کے ماننے سے ان کو سفر نہیں جب اس کو خالقیت میں تنہا مان لیا تو وہ کمال قدرت جو اس دعویٰ کو مستلزم تھا وہ بھی لاز آگیا تو اب ان سے یہ دریافت کرو کہ وہ غیر اللہ جن کو تم معبود سمجھتے ہو ان میں سے کوئی اس کا مزاحم ہوسکتا ہے اور مقابل ہوسکتا ہے کہ اس کی مرضی اور حکم کے خلاف کوئی میرا دکھ دور کرسکے یا اس کے فضل کو مجھ سے روک سکے۔ حدیث میں عبداللہ بن بریدہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جو کوئی صبح کی نمازدس کلمے پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ کو نزدیک ان کلموں کے کفایت کرنے والا پائے گا ان دس میں پانچ دنیا کے لئے ہیں اور پانچ آخرت کے لئے وہ دس کلمے یہ ہیں۔ (1) حسبی اللہ لدینی (2) حسبی اللہ لما اھمنی (3) حسبی اللہ لمن بغی علی (4) حسبی اللہ لمن حسدنی (5) حسبی اللہ لمن کا دنی بسوء (1) حسبی اللہ عندالموت (2) حسبی اللہ عندلمسئلۃ فی القبر (3) حسبی اللہ عند المیزان (4) حسبی اللہ عند الصراط (5) حسبی اللہ عند الحوض حسبی اللہ لا الہ الا ھوعلیہ توکلت وھو رب العرش العظیم۔
Ayah 39:39

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اے میری قوم لوگ اپنے حال پر عمل کرتے رہو میں بھی اپنے طور پر عمل کررہا ہوں اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا

(39) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے اے میری قوم تم اپنے حال اور اپنی وضع پر عمل کئے جائو بلا شبہ میں بھی اپنے حال اور اپنی وضع پر عمل کرنے والا ہوں سو عنقریب اب تم جان لو گے اور معلوم کرلو گے۔
Ayah 39:40

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور کس پر دائمی عذاب نازت ہوتا ہے۔

(40) کہ وہ شخص کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم نہیں مانتے اور باوجود قائل ہوجانے کے پھر بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہو تو اچھا اپنے ڈھنگ پر جو کرتے ہو وہ کئے جائو اور میں بھی اپنی حالت پر جو کچھ کررہا ہوں وہ کئے جائوں گے ہاں اتنی بات کہہ دیتا ہوں کہ بہت جلد تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ دنیا میں کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کس پر مرنے کے بعد دائمی عذاب اور سد کا عذاب نازل ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ دنیا میں یہ آخرت میں۔ خلاصہ : کہ مغلوب اور مقتول ہوکر رسوا ہوگے دنیا میں اور جہنم میں داخل ہو کر عذاب دائمی بھگتو گے یہ تہدید کے طور پر ہے اور ناراضگی کا اظہار ہے۔ اعملوا اعلی مکانتکم اجازت نہیں ہے۔