Ayah 39:41(41) اے پیغمبر یہ کتاب لوگوں کے نفع اور فائدے کے لئے آپ پر ہم نے نازل فرمائی ہے جو دین حق کی تعلیم پر مشتمل ہے پس اب جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے اور صبح راہ پر چلتا ہے تو اپنے ہی بھلے کو چلتا اور اختیار کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو سوائے اس کے نہیں کہ وہ اپنے برے کو اختیا کرتا ہے اور اس گمراہی کا وبال اسی پر پڑنے والا ہے اور آپ ان پر مختار کار مقرر نہیں ہوئے ہیں۔ یعنی ان کی گمراہی کی آپ سے باز پرس نہیں کیونکہ آپ ان پر وکیل اور ان کے سردار نہیں ہیں۔
Ayah 39:42(42) اللہ تعالیٰ جانوں کو ان کے مرنے کے وقت کھینچ لیتا ہے اور قبض کرلیتا ہے جب وقت ہو ان کے مرنے کا یعنی مرتے وقت جانوں کو قبض کرلیتا ہے اور جن کے مرنے کا وقت نہیں آیا ان کو بھی سوتے وقت قبض کرلیتا ہے اور کھینچ لیتا ہے پھر ان جانوں کو جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے روک لیتا ہے یعنی ان کو تصرف فی الابدان سے روک لیتا ہے اور ان کو واپس نہیں کرتا اور دوسری جانوں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے واپس کردیتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے ، بلا شبہ اس تصرف خداوندی میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نیند میں ہر روز جان کھینچتا ہے یہی نشان ہے آخرت کا معلوم ہوا نیند بھی جان کھینچتی ہے جیسے موت میں اگر نیند میں کھینچ کر رہ گئی وہی موت ہے مگر یہ جان وہ ہے جس کو ہوش کہتے ہیں اور ایک جان جس سے دم چلتا ہے اور نبضیں اچھلتی ہیں اور کھانا ہضم ہوجاتا ہے وہ دوسری ہے وہ موت سے پہلے نہیں کھینچتی۔
خلاصہ : یہ کہ حضرت عبداللہ ؓ بن عباس ؓ کا قول یہی ہے وہ فرماتے ہیں ابن آدم میں نفس ہے اور روح ہے ان دونوں کے درمیان ایسا ہی تعلق ہے جیسا آفتاب کا تعلق شعاع سے پس نفس تو وہ ہے کہ بسبب اس کے عقل وتمیز ہے اور روح وہ ہے کہ بسبب اس کے سانس لیتا ہے اور حرکت کرتا ہے پس جب سو جاتا ہے بندہ تو قبض کرتا ہے اللہ تعالیٰ نفس اس کا اور نہیں قبض کرتا روح اس کی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ ؓ فرماتے ہیں نکل جاتی ہے روح اور باقی رہتی شعاع اس کی بدن میں پس ساتھ اس کے خواب دیکھتا ہے پس جب جاگنے لگتا ہے نیند سے پھر آتی ہے روح اس کے بدن کی طرف جلد تر پلک مارنے سے بہرحال یہ تو ظاہر ہے کہ نیند موت کی بہن ہے نیند میں بھی کوئی چیز قبض ضرور ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا ھوالذی یتوفکم بالیل۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آدمی رات کو سویا اور سویا کا سویا رہ گیا جیسا کہ پچھلے دنوں انگلستان کا بادشاہ سویا کا سویا رہ گیا تھا اور لاکھوں مخلوق رات کو سو کر صبح اٹھ بیٹھتی ہے۔ اگر من کل الوجوہ موت نہیں آتی تو من بعض الوجوہ حیات رہتی ہے اور اسی حیات کو شعاع سے صحابہ ؓ نے تعبیر کیا ہے سونے میں جو تصرف ہوتا رہتا ہے وہ شعاعوں کا اثر ہوتا ہے اور من کل الوجوہ موت وہ ہے جس میں حیات کا کوئی اثر نہ رہے۔
نبی کریم ﷺ سوتے وقت فرمایا کرتے تھے باسمک ربی وضعت جنبی وباسمک ارفعہ ان امسکت نفسی فار حمھا وان ارسل تھا فاحفظھا مما تحفظ بہ الصالحین۔
یعنی تیرے ہی نام کے ساتھ اے پروردگار اپنا پہلو رکھتا ہوں اور تیرے ہی نام کے ساتھ اس کو اٹھاتا ہوں اگر آپ میرے نفس کو روک لیں تو اس پر رحم فرمائیں اور اگر اس کو تو چھوڑ دے تو پھر نفس کی ان باتوں سے حفاظت کر جن باتوں سے نیک بندوں کی حفاظت کیا کرتا ہے۔
Ayah 39:43(43) تو کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ سفارش کرنے والے جو تجویز کر رکھے ہیں آپ فرمادیجئے اگرچہ یہ مفروضہ سفارشی نہ کسی چیز کا اختیار رکھتے ہہوں اور نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں تب بھی یہ سفارش کریں گے اور سفارش کے اہل ہوں گے۔ یعنی ان مشرکوں نے کچھ چیزوں کو اللہ کے علاوہ یہ سمجھ کر معبود بنارکھا ہے کہ وہ ان کی اللہ تعالیٰ کے روبروسفارش کریں گے اور ان کو عذاب سے بچالیں گے جیسا کہ سورة یونس میں گزر چکا ہے۔
ھولآء شفعآ ئونا عنداللہ۔ اس نے فرمایا کہ شفاعت کے لئے قدرت و طاقت کی تو کم از کم ضرورت ہے یہ تمہارے خود خود ساختہ معبود اور مفروضہ سفارشی نہ کسی قسم کا علم رکھتے ہوں نہ ان کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو تو کیا ایسی حالت میں بھی یہ سفارشی قرار پائیں گے اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ یہ تماثیل اور اصنام بےاختیار اور بےعقل ہوں لیکن جو بزرگ اور بڑوں کی یہ تماثیل ہیں وہ تو بااختیار اور اہل علم ہوں گے اس کا جواب آگے فرمایا۔
Ayah 39:44(44) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ شفاعت اور سفارش تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تمام آسمانوں اور زمین کی حکومت کا وہی مالک و متصرف ہے پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے ؟ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی شفاعت کا وہی مالک ہے صاحب کشاف نے کہا ہے کہ شفاعت وہ باتوں پر موقوف ہے اول شفیع کو اجازت ہو دوسرے یہ کہ مشفوع لہ سے اللہ تعالیٰ راضی ہو اور وہ قابل مغفرت ہو یہاں دونوں باتیں مفقود ہیں شفیع اگر شیاطین اور ارواح خبیثہ ہوں تو اجازت مفقود اور اگر ملائکہ اور ارواح طیبہ ہوں تو مشفوع لہ کا قابل مغفرت ہونا مفقود اور چونکہ شفاعت ہی کی توقع پر ان کو معبود بنایا تھا اور ان کی عبادت اسی بنیاد پر کرتے تھے جب شفاعت مفقود تو ان کا معبود ہونا بھی باطل اور اللہ تعالیٰ کا وحدہ لا شریک ہونا ثابت اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے باوجود ان دلائل قطعیہ کے ان مشرکین کا یہ حال ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کے روبرو سفارش ہے پر اللہ کے حکم سے نہ تمہارے کہے سے۔
Ayah 39:45(45) اور جب تنہا صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اس اکیلے اور یگانہ معبود کا نام لیا جائے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے سخت کبیدہ متنفر اور منقبض ہوتے ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا گیا تو اسی وقت یہ لوگ خوش ہوجاتے اور خوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ یعنی جب کے قلوب کو آخرت کا یقین نہیں ہے ان بدنصیبوں کی حالت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کہا جائے تو ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی ذکر کیا جائے یا فقط دوسروں ہی کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہونے لگتے ہیں۔
اگرچہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے ابوجہل ولید بن عقبہ صفوان اور ابی بن خلف مراد ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہر کافر اور مشرک کا یہی حال ہے کہ صرف اللہ کا نام ان کو کھٹکتا ہے ہاں اگر ان کے فرضی معبودوں کا ذکر کیا جائے تو بہت خوش ہوتے ہیں بلکہ فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ بعض اہل بدعت بھی اتباع سنت اور اتباع شریعت کی باتوں سے دل تنگ ہوتے ہیں اور اولیا اللہ کی فرضی کہانیوں سے خوش ہوتے ہیں۔
Ayah 39:46(46) اے پیغمبر آپ یوں دعا کیجئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپے اور کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی آپ ان بدکرداروں کی مخالفت اور سرکشی کی فکر نہ کیجئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کیجئے کیونکہ حقیقی اور عملی فیصلہ ان سب باتوں کا اسی کے سامنے ہوگا۔
Ayah 39:47(47) اور اگر جو لوگ ظلم یعنی کفروشرک کے خوگر ہیں ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور بھی یعنی روئے زمین کی سب چیزوں کی دگنا تو یہ لوگ مال دولت قیامت کے بدترین اور سخت عذاب سے بچنے کے لئے اپنے فدیہ میں دے ڈالیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سامنے وہ چیز ظاہر ہوگی جس کا وہ گمان بھی نہ رکھتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آج اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرکے ظلم کررہے ہیں اور ظالم بنے ہوئے ہیں ان کی یہ حالت ہوگی کہ روئے زمین کی تمام دولت کا دگنا بھی اگر کسی کے پاس ہو تو وہ بھی قیامت کے دن اس کو اپنے فدیہ میں دے کر اس بری طرح کی سزا اور عذاب سے اپنے کو چھڑا لیں جو قیامت میں ان کو بھگتنا پڑے گا اگرچہ وہ قبول نہ ہوگا اور قیامت کے دن کی سزا بھگتنی ہی پڑے گی اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے کچھ ایسے واقعات و حالات ظاہر ہوں گے جن حالات و واقعات کے پیش آنے کا ان کو وہم و گمان تک نہ تھا۔
Ayah 39:48(48) اور جو کام کرتے رہتے تھے ان کاموں کی برائیاں ان کے سامنے ظاہرہوجائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی عذاب ان کو گھیرلے گا۔ یعنی کفر کی حالت میں یہ لوگ جو اعمال کرتے رہے ہیں ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کا استہزاء کیا کرتے تھے وہ عذاب ان کو گھیرلے گا۔
Ayah 39:49(49) جس وقت انسان کو کوئی تکلیف اور سختی پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا فرماتے ہیں تو کہنے لگتا ہے سوائے اس کے نہیں کہ یہ تو مجھ کو میرے علم کی بنا پر ملی ہے یہ بات نہیں بلکہ وہ ایک آزمائش ہے مگر ان کے اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ یعنی ایک طرف تو یہ حالت کہ اللہ تعالیٰ کے نام سے نفرت کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے جب کسی کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اس وقت ہم کو پکارتا ہے اور ہم جب کوئی احسان کردیتے ہیں تو کہتا ہے مجھے اس کا پہلے ہی سے علم تھا کہ مجھ کو یہ نعمت ملنے والی ہے یا یہ کہ اللہ مجھ کو اور میرے استحقاق کو جانتا تھا اسی کی بنا پر یہ نعمت مجھ کو دی گئی ہے یا یہ کہ مجھ میں جو مختلف ہنر اور کسب ہیں یہ اس کی بنا پر دی گئی ہے اور جو کچھ مجھ کو ملا وہ میری تدبیر اور میرے ہنر اور میرے کسب سے ملا ہے - یعنی اپنے ہی کمال کو ذریعہ سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا۔
حضرت حق تعالیٰ فرماتے ہیں یہ ایک امتحان ہے جس کو ان کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے یعنی جس طرح مصیبت اس کا ایک امتحان ہے کہ صبر کرتا ہے یا نہیں اس طرح نعمت بھی اس کی ایک آزمائش ہے کہ دیکھیں شکر بجا لاتا ہے یا نہیں سورة انبیاء میں گزرچکا ہے ونبلو کم بالشر والخیر فتنۃ اسی قسم کا یہ مضمون ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگے سے معلوم تھی یعنی قیاس بھی چاہتا تھا کہ یوں ہو۔ اللہ کی قدرت کا قائل نہ ہو یہ جانچ ہے کہ عقل اس کی دوڑنے لگی ہے وہ اپنی عقل پر بہکے وہی عقل رہتی ہے اور آفت آپہنچتی ہے۔
Ayah 39:50(50) یہ بات وہ لوگ بھی کہہ چکے ہیں جوان سے پہلے گزرے ہیں پھر جو کچھ وہ کرتے رہے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ یعنی قارون اور فرعون وغیرہ دوسرے کافر بھی یہی کہا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت نہ کرتے تھے جب آفت آئی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔
Ayah 39:51(51) پھران پہلوں پر ان بداعمالیوں اور بری کمائیوں کا اثر اور وبال آپڑا اور ان موجودہ لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں ان کی کمائیوں کی برائی اور ان کی بداعمالی کا اثر اور وبال ان پر پڑنے والا ہے اور ان کو پہنچے گا اور بہت جلد ان کو پہنچ کر رہے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کو تھکانے اور عاجز کرے والے نہیں ہیں۔ یعنی یہ کفار مکہ بھی عنقریب اپنے برے اعمال اور بری کمائیوں کا پھل پانے والے ہیں جیسا کہ قحط میں اور بدر کے دن قتل میں مبتلا کئے گئے اور اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کرسکے آگے پھر قدرت کا اظہار فرمایا۔
Ayah 39:52(52) کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو فراغ کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے بلا شبہ اس بسط وقدر میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو اہل ایمان ہیں اور مانتے ہیں۔ یعنی یہ باتیں روز مرہ دیکھنے میں آتی ہیں کہ دو آدمیوں کے پاس ایک سا سرمایہ یہ ہے دونوں ایک ہی کام کرتے ہیں ایک بڑھتا چلا جاتا ہے اور ایک کمی میں چلا جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ تھوڑے سرمائے والا آگے نکل جاتا ہے اور بڑے سرمائے والا رہ جاتا ہے روزی کا معاملہ ایسا ہے کہ کسی کو کنٹرول اور قابو میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت جس کو چاہتی ہے اس کی روزی فراخ کردیتی ہے اور جس کو چاہتی ہے اس کی روزی تنگ اور بقدر ضرورت ماپ کردیتی ہے اس طریقہ کار میں ان لوگوں کے لئے قدرت خداوندی کے بڑے دلائل ہیں جو اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی روزی کا فراخ کرنے والا ہے اور نہ کوئی گھٹانے اور تنگ کرنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عقل دوڑاتے ہیں تدبیر کرنے میں کوئی تنگی نہیں کرتا پھر ایک کو روزی کشادہ ہے ایک کو تنگ جان لو کہ یہ عقل کا کام نہیں۔
Ayah 39:53(53) اے پیغمبر آپ میری طرف سے کہہ دیجئے اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اور حد سے تجاوز کیا ہے تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دے گا واقعی وہ بڑی بخشش کرنے والا نہایت رحم کرنے والا۔ چونکہ اوپر کی آیتوں میں شرک کی مذمت کا بیان تھا ہوسکتا ہے کہ بعض مشرکوں کو یہ خیال ہوا ہو کہ ہم ایسے گناہ کرنے کے بعد اب کس طرح مسلمان ہوسکتے ہیں اور ایمان لانے سے ہم کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور توبہ کرنے کے بعد تمام گناہوں کو بخش دے گا اور سب کی مغفرت فرمادے گا۔
آیت کا شان نزول خواہ قاتل حمزہ کے بارے میں ہو جس کا نام وحشی تھا اور اس نے حضرت حمزہ ؓ کو شہید کیا تھا یا یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ اور ولید بن ولید اور ان کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ یہ لوگ اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور پھر اپنے گناہوں پر نظر کرتے ہوئے واپس اسلام میں آنے سے جھجکتے تھے یا بقول ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہ جب آیت یا ایھا الذین امنوا اطیعو اللہ واطیعوالرسول ولا تبطلوا اعمالکم نازل ہوئی تو صحابہ ؓ ہر ایک گناہ گار اور خوف کھانے لگے جب کسی کو فواحش میں مبتلا دیکھتے تو کہتے کہ بس یہ ہلاک ہوا اور اس کے عمل باطل ہوئے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی تو ہم کو اطمینان ہوا۔
بہرحال آیت کا تعلق تمام گناہ گاروں سے ہے جو لوگ اپنی جانوں پر حد سے تجاوز کرچکے ہوں تو ان کو بھی ناامید نہ ہوناچاہیے کیونکہ اسلام لانے سے تمام گناہ زائل ہوجاتے ہیں اور اسلام کے بعد تمام گناہ توبہ اور استغفار سے بخش دیئے جاتے ہیں۔
ایک دفعہ صحابہ کرام ؓ میں گفتگو ہوئی کہ قرآن کریم میں کون سی آیت وسیع تر ہے تو صحابہ ؓ نے مختلف آیتیں پیش کیں لیکن حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وسیع تر رحمت کے بارے میں یہ آیت ہے جب حضرت حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت اور مغفرت کی جانب سے اطمینان دلایا اب آگے اسلام کی دعوت مذکور ہے۔
Ayah 39:54(54) اور تم توبہ کرنے کی غرض سے اپنے پروردگار کی جانب رجوع ہو اور اس کے فرمانبردار اور اطاعت گزار بن جائو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب واقع ہو پھر تم کہیں سے مدد بھی نہ کئے جاسکو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اسلام غالب کیا جو کافر دشمنی میں لگے تھے سمجھے کہ برحق اس طرح اللہ ہے اور پچھتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب ہماری مسلمانی کیا قبول ہوگی دشمنی کی لڑائی لڑے جانیں ماریں تب اللہ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ نہیں جس کی توبہ اللہ قبول نہ کرے ناامید مت ہو توبہ کرو اور رجوع ہوئو بخشے جائو گے مگر جب سر پر عذاب آیا یا موت نظر آنے لگی تب کی توبہ قبول نہیں۔
خلاصہ : یہ کہ قبل نزول عذاب اور قبل نزول موت توبہ کرلو اور توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو جائو اور اسلام کے اطاعت گزار اور فرمانبردار بن جائو ورنہ عذابآجانے کے وقت نہ توبہ قبول نہ کہیں سے مدد کی امید ۔
Ayah 39:55(55) اور تمہارے رب کی طرف سے جو اچھے اچھے احکام تمہارے نازل کئے گئے ہیں ان پرچلو اور ان کی پیروی کرو قبل اس کے اور اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب اس طرح آ واقع ہو کہ تم کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔ احکام الٰہی تمام کے تمام اچھے ہیں جیسا کہ ہم فیبتحون احسنہ کی رشح میں ابھی عرض کرچکے ہیں۔
اس عذاب سے مراد بظاہر آخرت کا عذاب ہے جو نفخہ اولیٰ سے شروع ہوگا اور سب کے فنا ہوجانے کے بعد نفخہ ثانیہ پر اس عذاب کا ادراک اور انکشاف ہوگا۔
Ayah 39:56(56) پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص یوں کہنے لگے اے حسرت و افسوس میری اس کوتاہی اور کمی پر جو میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اور اس کے احکام بجا لانے میں کی اور میں ہنسنے والوں اور مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے میں بھی ان میں شامل رہا کرتا تھا ہائے افسوس میں نے بڑی کوتاہی کی یعنی اپنے کئے پر عذاب کو دیکھ کر پچھتانے لگے۔
Ayah 39:57(57) یا کوئی کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ میری رہنمائی کرتا اور مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیز گاروں میں سے ہوتا - یعنی اگر اللہ تعالیٰ میری دستگیری فرماتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا اور ساخرین میں شامل نہ ہوتا۔
Ayah 39:58(58) یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کاش مجھے دنیا میں پھرجانے کا موقعہ مل جائے تو میں بھی نیکوکاروں میں سے ہوجائوں - یعنی عذات کا معائنہ کرنے کے بعد یا دوزخ میں داخل ہونے کے بعد یہ تمنا کرنے لگے کہ مجھ کو دوبارہ جانے کا موقعہ مل جائے تو میں نیکوں میں سے ہوجائوں بہرحال یہ باتیں سب ہی کہیں گے یا بعض پہلا اور دوسرا جملہ کہیں گے اور بعض پہلا بعض دوسرا بعض تیسرا۔
غرض تردید علی سبیل مانعتہ الخلو ہے یہ جملے کہے ضرور جائیں گے خواہ سب کہیں یا کوئی کچھ کہے آگے ان کہنے والوں کا رد ہے اگرچہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگے کا قول ان لوگوں کا رد ہے جنہوں نے اپنی گمراہی پر تقدیر کی آڑ پکڑی اور لوان اللہ ھدئنی کہا لیکن بعض علما نے کہا کہ آگے کے قول میں سب کا رد ہے بہرحال ارشا ہوگا۔
Ayah 39:59(59) ہاں یہ واقعہ ہے کہ میرے احکام تجھ تک پہنچے تھے پھر تونے ان کو جھٹلایا اور تونے میری آیتوں کے مقابلے میں تکبر کیا اور تو منکروں میں شامل رہا۔ یعنی تو غلط کہتا ہے کہ تو ہدایت نہیں کیا گیا بلکہ پیغمبروں کا بھیجنا اور آیات کا نزول یہ سب کچھ ہدایت کے اسباب تھے تو خود ہی تکذیب کرتا رہا اور خود ہی تونے تکبر کا اظہار کیا اور خود ہی کافروں میں شامل رہا پھر ہم پر کیوں الزام لگاتا ہے۔
جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جبرفی الہدایت نہیں کیا جاتا یہی جواب پہلے اور تیسرے جملے کا ہوسکتا ہے مگر ذرا تفصیل کے ساتھ جس کی تیسیر گنجائش نہیں چونکہ لوان اللہ ھدئنی کا جواب ظاہر تھا اس لئے ہم نے اس پر کفایت کیا۔
Ayah 39:60(60) اے مخاطب تو قیامت کے دن لوگوں کے چہرے کالے اور سیاہ دیکھے گا جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا تھا کیا ان تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتوں کا اثبات کیا جس کا اس نے انکار کیا اور ان باتوں کا انکار کیا جس کا اس نے حکم دیا تو ایسے لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان متکبروں کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا۔ وتریٰ میں مفسروں کے دو قول ہیں اس لئے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت کی گئی۔
Ayah 39:61(61) اور جو لوگ شرک وکفر سے بچتے تھے اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو کامیابی کے ساتھ جہنم سے بچائیگا نہ ان کو کس طرح کی تکلیف چھوئے گی نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔ تقویٰ کے مختلف درجے ہیں کم از کم یہ کہ شرک سے بچتا رہے تو اس آیت میں عام مسلمانوں کو بڑی بشارت ہے اور جو تقویٰ کے اعلیٰ درجات کو طے کرچکے ہیں تو ان کی تو کامیابی کا اندازہ کیا ہوسکتا ہے۔ بہرحال اہل تقویٰ کو کامیابی کے ساتھ محفوظ رکھا جائے گا ان کو نہ برائی اور تکلیف اور عذاب مس کریں گی اور نہ وہ غم زدہ اور غمگین ہوں گے کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے۔
Ayah 39:62(62) اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کانگہبان ہے۔ یعنی ہر چیز کا موجد اور باقی رکھنے والا حفاظت کرنے والا وہی ہے۔
Ayah 39:63(63) آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں اسی کے اختیار میں ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے منکر ہیں اور ان کو نہیں مانتے تو وہی وہ لوگ ہیں جو سخت نقصان اور گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کنجیاں اس کے اختیار میں ہیں تو وہی متصرف ہے اور چونکہ حضرت حق تعالیٰ کے یہ اوصاف موجد ہونا حافظ و متصرف ہونا آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مختار ہونا مخالفین کو مسلم تھا۔
اس لئے ایسی ذات کو شرک سے بھی منزہ ہوناتسلیم کرنا چاہیے لیکن جو لوگ باوجود ان تمام صفات جمیلہ کے اس کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے ان سے زیادہ خائب و خاسر کون ہوسکتا ہے۔
Ayah 39:64(64) اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے اے نادانو ! کیا اب بھی تم مجھ سے یہی کہتے ہو اور مجھ کو یہی حکم دیتے ہو کہ میں غیر اللہ کی پرستش کروں۔ یعنی تمام دلائل توحید جو اوپر بیان ہوئے سب کو سن کر سمجھ کر بھی مجھ کو یہی حکم کرتے ہو اور ترغیب دیتے ہو کہ میں بھی تمہاری طرح غیر اللہ کی عبادت کروں ، اے نادانو اور جاہلو ، کفار مکہ نے ایسا کہا تھا کہ آپ ہمارے ان معبودوں کی عبادت بھی کرکے دیکھئے اس کا جواب دربار رسالت سے دلوایا گیا۔
Ayah 39:65(65) اور بلا شبہ اے پیغمبر آپ کی طرف اور ان سب پیغمبروں کی طرف جو آپ سے پہلے ہوچکے ہیں یہ وحی کی جاچکی ہے اور یہ حکم بھیجا جاچکا ہے کہ اگر لوفرضنا تم نے بھی شرک کیا تو تمہارے اعمال اکارت اور نیست ونابود ہوجائیں گے اور تم یقینا خسارہ اور گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائو گے۔
Ayah 39:66(66) تم شرک نہ کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا اور اسی کے شکر گزار رہنا۔ یعنی سڑک ایسی بری چیز ہے کہ ہم انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جس میں آپ اور آپ سے پہلے انبیاء سب داخل ہیں ان سب کو یہ حکم دے چکے ہیں کہ اگر فرض کرو تم نے بھی یہ شرک کی برائی کی تو تمہارے تمام اعمال ضبط کر لئے جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے میں سے ہوجائو گے تم کبھی شرک نہ کرنا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا اور اسی کے شکرگزار رہنا۔ یہ تنبیہ تو اصل میں پیغمبروں کی امتوں کو ہے لیکن جیسا کہ شاہی قاعدہ ہوتا ہے کہ رعایا میں سب سے بڑے آدمی کو مخاطب بنا کر حکم سناتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ ڈر جائیں کہ جب اس معاملہ میں بڑوں کی یہ حالت ہے تو ہم کسی شمار میں ہیں ورنہ حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے شرک کے صدور کا احتمال ہی نہیں ۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حکم بواسط انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ان کی امتوں کو دیا گیا اور یہ کہا گیا ہے کہ تم اپنی اپنی امتوں میں سے ہر ایک کو یہ قیام پہنچا دو کہ اگر تم میں سے کسی نے بھی شرک کیا تو اس کے اعمال نابود ہوجائیں گے اور ٹوٹا پانے والوں میں سے ہوجائے گا آگے پھر توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا جو اسلام کے اہم مسائل ہیں۔
Ayah 39:67(67) اور ان منکروں نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر نہیں پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا حالانکہ یہ تمام زمین قیامت کے اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان کاغذ کی طرح اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے پاک اور بالاتر ہے۔ قدر کا ترجمہ ہم نے قدر ہی کردیا چونکہ یہ لفظ عام طریقہ سے بولا اور سمجھا جاتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور نہیں سمجھے اللہ کو جتنا کچھ وہ ہے بعض لوگوں نے قدر کو عظمت سے تعبیر کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شان جس عظمت و جلال کی مقتضی تھی اس کے موافق اس کی تعظیم نہیں کی آگے اس کی جلالت شان مذکور ہے کہ تمام زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گے اور تمام آسمان داہنے ہاتھ سے لپٹے ہوئے ہوں گے ہم نے ترجمے میں کاغذ کی طرح کیا چونکہ سورة انبیاء کے آخری رکوع میں کطی السجل للکتب فرمایا تھا بعض مفسرین نے بیمینہ کی تفسیر بقدر تہ سے بھی کی ہے یعنی آسمان کی قدرت سے لپٹ جائیں گے اور لپٹے ہوئے ہوں گے۔
داہنے ہاتھ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک داہنا ہے کیونکہ بائیں کو دائیں سے کمتری ہے اور وہاں کمتری کا تصور بھی ناجائز ہے اس لئے اس کا ہر ہاتھ داہنا ہے مزید برآں یہ ہاتھ اور دونوں ہاتھ متشابہات میں سے ہیں جن کے معنی معلوم اور کیفیت مجہول ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ کیسے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر بندے اس کی عظمت و جلال اور اس کی شان وقدوسیت کو پہچانتے تو اس کے ساتھ شریک تجویزنہ کرتے حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ زمین کو مٹھی میں اور آسمانوں کو ہاتھ پر لپیٹ کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ۔ کہاں ہیں بادشاہ زمین کے ؟
میں قدوس یعنی پاک ہوں میں سلام ہوں یعنی سلامتی مجھ سے وابستہ ہے میں مومن یعنی امن دینے والا ہوں میں نگہبان ہوں میں عزیز یعنی غالب ہوں میں جبار ہوں یعنی زبردست میں متکبر ہوں یعنی سے سے بزرگ میں نے ہی دنیا کو پیدا کیا جب وہ کچھ نہ تھی اور میں ہی اس کا اعادہ کروں گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کے فرمائے موافق اللہ کا داہنا ہاتھ کہئے اور بانوں نہ کہئے۔
Ayah 39:68(68) اور صور میں پھونک ماری جائیگی تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہوکر گرپڑیں گے مگر جس کو اللہ تعالیٰ چاہے پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونکا جائیگا اور پھونک ماری جائیگی تو یکایک وہ سب کھڑے ہوجائیں گے دیکھتے ہوں گے۔ یعنی پہلا نفخہ فنا کا ہے جس سے لوگ مرجائیں گے اور عالم ارواح کے لوگ بےہوش ہوجائیں گے مگر جس کو خدا چاہے۔
پھر دوسرے نفخہ میں مرنے والے زندہ ہوجائیں گے اور بےہوش یعنی عالم مجردات کے لوگ ہوشیار ہوجائیں گے زندہ ہونے والے حیرت زدہ ہوکرادھر ادھر دیکھتے ہونگے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار نفخ صور ہے عالم کی فنا کا دوسرا ہے زندہ ہونے کا تیسرا یہ ہے بیہوشی کا چوتھا ہے خبردار ہونے کا اس کے بعد اللہ کے سامنے ہوجائیں گے۔
اکثرعلما فرماتے ہیں کہ نفخے تین ہیں پہلا فزع کے لئے دوسرا موت کا تیسرادوبارہ زندہ ہونے کا۔ اور اگر فزع اور موت کا مطلب یہ لیاجائے کہ اول شروع شروع گھبراہٹ ہوگی اور جب آواز تیز ہوگی تومرنے لگیں گے یہاں تک کہ عالم فنا ہوجائے گا تو اس طرح صرف دو نفخے ہوتے ہیں بیہوشی سے جن کا استثنا فرمایا ہے اس میں بھی کئی قول ہیں بعض نے کہا جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل بعض نے کہا حاملین عرش بعض نے فرمایا شہدائ۔ بعض نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، بعض نے کہا دوزخ کا داروغہ اور جنت کا رضوان بہرحال عالم مجردات کے جو فرشتے زندہ رہ جائیں گے ان کو بھی مرنا یا بےہوش ہونا ضروری ہے۔
بہرحال قرآن کریم میں یہاں صرف دو نفخوں کا ذکر ہے اس کے بعد حضرت حق تعالیٰ اپنی شان کے موافق زمین پر تجلی فرمائیں گے اور ہر ایک حساب کتاب شروع ہوجائیگا چناچہ ارشادہوتا ہے۔
Ayah 39:69(69) اورزمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور اعمال کے حساب انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کے نزول و جلال کے ساتھ ہی نامہ اعمال ہر شخص کا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور پیغمبر اور گواہ جیسا کہ سورة نساء میں گزر چکا ہے سب موجود ہوجائیں گے اور سب بندوں کا بلکہ سب مکلفین کا فیصلہ کردیا جائے گا یہ فیصلہ حق اور انصاف کے ساتھ کیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 39:70(70) اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے کئے ہوئے کاموں کا پورا پورا بدلے ملے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے ان کاموں کو خوب جانتا ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں۔ یعنی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی آگے فیصلے کے بعد نتائج مذکور ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گواہ آتے ہیں ان کے الزام کو نہیں تو اللہ پر کیا چھپا ہے۔
Ayah 39:71(71) اور وہ لوگ جو کفرکا شیوہ اختیار کئے رہے نہایت ذلت کے ساتھ جہنم کی طرف گروہ گروہ بنا کر ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس جہنم کے پاس پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور دوزخ کی حفاظت کرنے والے فرشتے ان سے دریافت کریں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے اور تمہارے اس دن کی ملاقات سے تم کو ڈرایا کرتے تھے۔ وہ منکر کہیں گے ہاں آئے تھے لیکن عذاب کا کلمہ اور عذاب کا وعدہ منکروں پر ثابت ہوکر رہا۔ یعنی جن کے خلاف فیصلہ ہوگا ان کو ہنکا کر جہنم کی طرف لیجایا جائے گا جب وہ جہنم پر پہنچیں گے تو ان سے فرشتے یہ باتیں دریافت کریں گے اور وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔
کلمۃ العذاب سے شاید مراد لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔
Ayah 39:72(72) ان کو کہا جائے گا داخل ہوجائو دوزخ کے دروازوں میں ہمیشہ اس میں رہنے کو پس وہ دوزخ بری جگہ اور برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا - یعنی دوزخ کے دروازوں میں ان منکروں کو داخل ہونے کا حکم ہوگا اور ہمیشہ رہنے کا حکم دیا جائیگا آخر میں فرمایا سو کیا برا ٹھکانا ہے دوزخ تکبر کرنے والوں کا یہ بات یا تو فرشتے کہیں گے یا حضرت حق تعالیٰ کا کلام ہے۔
Ayah 39:73(73) اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کو بھی گروہ گروہ بنا کر جنت کی طرف روانہ کیا جائے گا یہاں تک کہ جب یہ لوگ جنت کے پاس پہنچیں گے اور اس کی دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور جنت کے محافظ فرشتے ان سے کہیں گے تم پر سلام پہنچے تم خوش حال رہے اور تم لوگ پاکیزہ ہوئے جائو جنت میں ہمیشہ رہنے کے لئے داخل ہوجائو۔ یہ متقی وہی لوگ ہیں جن کے متعلق ہم عرض کرچکے ہیں کہ ان کے مختلف درجات ہیں ابتدائی درجہ ان کا ایمان ہے۔
بہرحال یہ لوگ بھی تفاوت درجات کے اعتبار سے گروہ گروہ بنا دیئے جائیں گے جس طرح کفار اپنے مختلف درجات کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔
یہاں بھی وسیق فرمایا شاید اہل جنت کی سواریاں مراد ہوں کہ ان کی سواریاں ہنکائی جائیں گی بہرحال اہل جنت کو عزت و احترام کے ساتھ لیجایا جائے گا اور کفار کو مجرموں کی طرح ہنکایا جائے گا سورة مریم میں گزر چکا ہے۔
یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفد اونسوق المجرمین الی جہنم وردا۔ یہ بحیثیت مسلمان کے ہوں گے اور وہ بحیثیت مجرموں کے ہوں گے دونوں کے لیجانے میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے اہل جنت کو تکریم کے طور پر جنت کے دروازے کھلے ملیں گے۔ جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب سورة ص میں گزر چکا ہے۔
سلام علیکم : مطلب یہ ہے کہ استقبال کرنے والے فرشتے السلام علیکم کہیں گے تم پاک ہوئے ہر قسم کے میل کچیل سے یا یہ کہ خوش حال رہو اور مزے کرو اور خوش عیش ہوجائو ہمیشہ کے لئے اس جنت میں داخل ہوجائو، مہمان کے آنے کے وقت دروازے کا کھلا ہونا دنیا میں بھی دستور ہے اور اس میں مہمان کا اکرام ہے۔
Ayah 39:74(74) اوریہ متقی لوگ جنت میں داخل ہوکر کہیں گے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزاوار ہیں جس نے اپنا وعدہ ہمیں سچ کر دکھایا اور ہم کو اس سرزمین کا وارث اور مالک بنادیا کہ ہم اس بہشت میں جہاں چاہیں سکونت اختیار کریں۔ غرض یہ بہشت کیا ہی اچھا صلہ ہے محنت کرنے والوں کا۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کہیں گے الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کیا اور جو کہا تھا وہی کیا سرزمین بہشت کا مالک بنایا جگہ اس قدر وافر کہ جہاں چاہیں سکونت پذیر ہوں اور جہاں چاہیں چلیں پھریں سیر کریں یعنی جو جگہ ہمارے لئے مقرر کی گئی ہے وہ بہت وسیع ہے آخر میں جو کلام ہے وہ یا متقیوں ہی کا ہے یا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا صلہ اور اجر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کو حکم ہے کہ جہاں چاہیں رہیں لیکن ہر کوئی وہی جگہ چاہے گا جو اس کے واسطے رکھی ہے۔
Ayah 39:75(75) اور اے پیغمبر اپنے فرشتوں کو دیکھیں گے کہ عرش کے چاروہ طرف حلقہ باندھے ہوئے اپنے پروردگار کی حمدوثناء کے ساتھ پاکی بیان کررہے ہوں گے اور تم مخلوق کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیاجائے گا اور کہا جائے گا سب تعریفیں اور سب خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہیں جو تمام عالموں کا مالک اور پروردگار ہے۔ شاید نزول اجلال کی کیفیت مذکور ہے کیونکہ اس وقت تمام مخلوق کے مابین فیصلہ ہوگا۔ بعض حضرات نے فرمایا یہ ملا۔ اعلیٰ یعنی فرشتوں کے باہمی بحث ومباحثے کے فیصلے کی طرف اشارہ ہے مخلوق کے فیصلے کے وقت شاید لوگ کہیں گے۔ الحمد اللہ رب العلمین یا ملائکہ کی بات پر کوئی فیصلہ صادر ہوتا ہے تو اس پر کہا جاتا ہے الحمدللہ رب العٰلمین یہاں قیام ینظرون فرمایا اور سورة یسین میں الی ربھم ینسلون فرمایا۔ شاید پہلے حیرت زدہ ہوکر کھڑے رہیں گے اس کے بعد جب معلوم ہوجائے گا کہ یہ میدان حشر ہے تو حساب کے موقف کی جانب چل پڑیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتوں میں فیصلہ یہ کہ ہر ایک اپنے قاعدے پر ایک تدبیر بولتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک کی بات جاری کرتا ہے وہی ہوتی ہے حکمت کے موافق یہ ماجرا اب بھی ہے اور قیامت میں بھی۔
تم سورة زمر