Ayah 38:1(1) ص ٓ ۔ قسم ہے اس قرآن کریم کی جو نصیحت سے لبریز اور پر ہے۔ ص کے معنی تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ یہ حروف مقطعات میں سے ہے قرآن نصیحت والے کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ جو قرآن نصیحت کی باتوں سے لبریز ہے اس کی قسم کھا کر کہا جاتا ہے کہ یہ کلام معجز ہے اور مقابلہ کرنے والوں کو عاجز کردینے والا ہے کہ وہ اس کا جواب نہیں لاسکتے یا قسم کا جواب یہ ہے۔ ماالام کما قال کفار مکۃ من تعدد الا لہ۔
یعنی قسم ہے قرآن کریم نصیحت والے کی واقعہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ کفار مکہ کہتے ہیں کہ بہت سے اور متعدد و معبود ہیں یعنی تعداد الہ کا قول باطل ہے ٹھیک نہیں ہے یا یہ کفار جو محمد ﷺ کی نسبت کہہ رہے ہیں وہ صحیح نہیں ہے جواب قسم کے سلسلے میں کئی قول تھے جو ہم نے ترجمہ اور تیسر میں جمع کردیئے ہیں۔
Ayah 38:2(2) بلکہ یہ کفار اپنے گھمنڈ تعصب اور دین حق کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ عزت کے معنی ہیں تکبر کے اور شقاق کے معنی ہیں خلاف کے مطلب یہ ہے کہ اپنی طاقت گھمنڈ اور تکبر میں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت میں مبتلا ہیں بعض قرات میں غرۃ بھی پڑھ گیا ہے جس کے معنی غفلت کے ہیں۔
Ayah 38:3(3) ان سے پہلے ہم بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں پس انہوں نے ہلاکت کے وقت بہت فریاد کی اور بہت شورمچاتے اور پکارتے رہے اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا۔ یعنی جب ہلاکت آفریں عذاب آجائے تو پھر خلاصی اور کہیں بھاگنے کا موقعہ نہیں۔
مناص عرب کا ایک خاص لفظ تھا جو عام طور سے جنگ سے بھاگتے وقت بولا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو کہا کرتے تھے شاید بدر میں بھی یہ لفظ کہا تھا حضرت حقنی فرمایا ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں اور امتوں کو ایسے حالات پیش آئے مگر وہ وقت کہیں بھاگ کر چھٹکارا پانے کا نہ تھا مگر یہ لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 38:4(4) اور ان دین حق کے منکروں نے اس بات پراچنبھا اور تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور اس پر یہ کافرکہنے لگے کہ یہ شخص ایک جادوگر ہے جھوٹا۔ یعنی نبوت اور بشریت میں منافات سمجھ کر تعجب کرنے لگے کہ ہم ہی جیسا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم کو ڈرانے والا نبی بن کر آگیا۔ لہٰذا کہنے لگے کہ یہ شخص معجزات اور خوارق نہیں دکھاتا یہ تو جادوگر ہے اور دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے حالانکہ علاوہ اور معجزات کے قرآن شریف خود ایک مستقل معجزہ تھا بہرحال ! خوارق کو جادو بتایا اور آپ کی نبوت کی تکذیب کی۔
Ayah 38:5(5) کیا اس شخص نے اتنے سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود کردیا اور اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی کی بندگی کردی۔ بلا شبہ یہ معبودوں کی کاٹ چھانٹ بڑی عجیب بات ہے۔ حضرت نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا جب چچا نے کہا مکہ والے تمہاری بڑی شکایت کرتے ہیں، اے چچا میں تو صرف ایک کلمہ کہتا ہوں ابوطالب نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا محمد ﷺ تو صرف ایک کلمہ کہتا ہے چناچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا وہ کلمہ کیا ہے آپ نے فرمایا ۔ لاالہ الا اللہ اس پر تمام منکر بگڑ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا ایک معبود اس کی گنجائش رکھتا ہے کہ تمام خلائق کا کام چلا سکے۔ ہم تین سو ساٹھ معبود رکھتے ہیں اور وہ سب مل کر ایک مکہ کا انتظام نہیں کرسکتے تو ایک معبود کو کہتا ہے بھلا وہ تمام دنیا کا کام کیسے چلا سکتے ہے۔
Ayah 38:6(6) اور کفار قریش کیا شراف اور سردار یہ کہتے ہوئے مجلس سے چل کھڑے ہوئے کہ چلو جی چلو اور اپنے اپنے معبودوں کی عبادت پر قائم رہو۔ بیشک اس بات یعنی دعوت الی التوحید میں اس کی کوئی غرض ہے۔ یعنی مجلس سے یہ کہہ کر قریش کے سردار عوام کو لے کر اٹھ گئے کہ پس اب مضبوطی سے اپنے ٹھاکروں اور دیوتائوں کی عبادت میں لگے رہو۔ محمد ﷺ کی اس بات میں کوئی غرض ہے یعنی دل میں اس کی اور خیال ہے اس خیال کی بنا پر یہ تحریک جاری کی گئی ہے یا یہ مطلب کہ یہ دین ایک فتنہ ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے یا یہ کہ توحید ارادہ کی گئی یعنی اللہ تعالیٰ اس کے جاری کرنے کا حکم کریگا اب اس کا مقابلہ سوائے صبر کے نہیں ہوسکتا یا یہ کہ یہ بات حوادث زمانہ سے ہے جس سے چھٹکارا مشکل ہے۔
Ayah 38:7(7) ہم نے تو ایک معبود والی بات اپنے پچھلے دین میں کبھی نہیں سنی۔ یہ محض افترا اور گھڑی ہوئی بات ہے۔ پچھلا دین یا نصاریٰ کے دین کو کہا کہ اس میں بھی توحید نہ تھی بلکہ وہاں بھی تین خدائوں کا ذکر ہے۔ یا پچھلا دین کہا اپنے باپ دادوں کے دین کو کہ ہم نے ان سے بھی کبھی ایک معبود کی بات نہیں سنی اس لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ اس شخص کی من گھڑت ہے۔
Ayah 38:8(8) کیا ہم سب میں سے اس شخص پر یہ کلام اور قرآن کریم نازل کیا گیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ منکر میرے قرآن کریم کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میررے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی ان کو ہم پر کیا فوقیت تھی کہ ہم سب میں سے اس کو نزول قرآن کا مستحق سمجھایا گیا رئوسائے قریش میں سے کسی رئیس پر یہ قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا اس پر کیوں نازل کیا گیا۔
یہ محض حسد کی وجہ سے کہتے ہیں ورنہ واقعہ یہ ہے کہ میرے کلام کے بارے میں یہ شک اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ ان کو ابھی عذاب کا مزہ چکھنے کا موقعہ نہیں ملا جس دن عذاب دیکھیں گے اس دن محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پچھلا دین کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو یعنی آگے تو سنتے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے تھے پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔
Ayah 38:9(9) کیا اے پیغمبر آپ کا پروردگا جو کمال قوت اور کمال عطا کا مالک ہے اس کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ جو کہتے تھے کہ ہم پر کیوں نے اترا۔
خلاصہ : یہ ہے کہ اس وہاب اور عزیز کی رحمت کے خزانے کیا ان کے پاس ہیں کہ یہ جس چاہیں نبوت دیں رحمت جس میں نبوت داخل ہے اس کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ جس کو چاہے عطا کرے وہ خزانے ان کے اختیار میں ہوتے تو ان سے پوچھ کر تقسیم کئے جاتے۔ رحمت کا لفظ قرآن میں عام طور سے روحانی ترقی اور برتری کے لئے استعمال ہوتا ہے جس طرح فضل کا لفظ دنیاوی ترقی اور مال کے اضافہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی لئے ہم نے عرض کیا کہ رحمت میں نبوت داخل ہے جو روحانی ترقی کی انتہائی چیز ہے اگرچہ کہیں کہیں اس کا عکس بھی ہوتا ہے لیکن عام طور سے رحمت کا استعمال روحانیات میں اور فضل کا استعمال بہتایت مال میں ہوتا ہے (کما قال انشاہ ولی اللہ الدہلوی) ۔
Ayah 38:10(10) کیا آسمان و زمین اور زمین کا اور جو چیزیں ان دونوں کے مابین ہیں ان سب کا اختیار ان سب کو حکومت و سلطنت ان کو حاصل ہے تو یہ لوگ رسیاں تان کر اور سیڑھیاں لگا کر آسمانوں میں چڑھ جائیں۔ یعنی کیا ان کو آمان و زمین اور ان دونوں کے مابین جو کچھ ہے اس سب کی بادشاہی اور حکومت حاصل ہے تو یہ آسمان پر کسی ذریعہ سے خواہ وہ رسیاں ہوں یا سیڑھیاں ہوں چڑھ جائیں اور نبوت کی تقسیم اور قضائو قدر کے معاملات پر قبضہ کرلیں اور اس میں مداخلت کریں اور ظاہر ہے کہ جب ان کو آسمان پرچڑھنا بھی ناممکن ہے تو آسمانی تصرفات میں دخل دینے کا کیا حق ہے اور اگر ان کی حکومت ہے تو یہ آسمان پر چڑھ کر خود تمام کام سنبھال لیں اور جس کو نبوت دینا چاہیں دیں۔ تدبیر خلائق اور رحمت کی تقسیم جس طرح چاہیں کریں اور جس پر چاہیں وحی اتاریں سورة زخرف میں انشاء آجائے گا اھم یقسمون رحمت ربک یعنی آپ کے پروردگار کی رحمت کو یہ بانٹیں گے یعنی رحمت تو کیا تقسیم کر گے دنیوی زندگی کا رزق بھی ہم ہی ان میں تقسیم کیا کرتے ہیں آگے نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے ارشاد ہے۔
Ayah 38:11(11) منجملہ دیگر مخالفین انبیاء کی جماعتوں کے ان کفار کا بھی ایک معمولی سا لشکر اور بھیڑ ہے جو شکست دے دیا جائے گا۔ یعنی جس طرح دیگر مخالفین انبیاء کے گروہ تھے کہ جب انہوں نے انبیاء کے ساتھ جنگ کی تو ان کی شکست ہوئی انہی گروہوں میں سے ایک چھوٹا سا گروہ اور غول یہاں مکہ میں بھی ہے جو لڑائی کے موقعہ پر شکست دے دیا جائے گا۔ اے پیغمبر تسلی رکھو گھبرانے کی بات نہیں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ خبر دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو جب کہ وہ مکہ میں تھے کہ لشکر مشرکوں کا شکست پائے گا چناچہ بدر میں ایس ہی ہوا سورة القمر میں ارشاد ہے۔
سیھزم الجمع ویولون الدبر ۔ عنقریب گروہ شکست پائے گا اور پیٹھ پھیرلے گا۔
Ayah 38:12(12) ان سے پہلے بھی نوح کی قوم اور عاد نے یعنی حضرت ہود کی قوم نے اور میخوں والے فرعون نے۔
Ayah 38:13(13) اور ثمود یعنی حضرت صالح کی قوم نے اور لوط کی قوم نے اور بن کے رہنے والوں نے یعنی حضرت شعیب کی قوم نے ان سب نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور پیغمبروں کو جھٹلایا ہے یہی لوگ مخالفین انبیاء کی وہ مذکورہ جماعتیں اور گروہ ہیں ۔ یعنی اوپر کی ایٓت میں من الاحزاب فرمایا تھا وہ برباد شدہ گروہ یہی لوگ ہیں بن والے لوگ کہا شعیب کی قوم کو فرعون کو میخوں والاکہا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ ظالم آدمی کو جو میخا کر کر مارتا تھا اس کا یہ نام پڑگیا ہے۔ بعضے کہتے ہیں لشکر کے گھوڑوں کی میخیں رکھتا تھا سونے کی اور روپے کی۔ یعنی چاندی سونے کی میخیں رکھتا تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگلی قومیں برباد ہوئیں اگر چڑھ جاویں تو ان میں ایک یہ بھی برباد ہوں۔ یعنی جس طرح ان گروہوں نے رسولوں کا مقابلہ کیا اور وہ برباد ہوئے اسی طرح یہ بھی جنگ کے میدان میں آئیں گے تو برباد ہوں گے۔
Ayah 38:14(14) یہ جتنے تھے ان سب ہی نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا یعنی ان سب لوگوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور آخرکار ان پر میرا عذاب واقع ہوگیا اسی طرح یہ کفار مکہ آپ کی تکذیب کررہے ہیں تو ان کو بھی مطمئن نہ ہونا چاہیے۔
Ayah 38:15(15) اور یہ دین حق کے منکر نہیں انتظار کرتے اور نہیں راہ دیکھتے مگر ایک ہولناک آواز اور چیخ کی جو شروع ہوئے پیچھے ٹھہرے گی اور بیچ میں دم نہ لے گی۔ یعنی نفخہ صور اور صور کی آواز کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو شروع ہوئے پیچھے تھوڑی سی دیرکو بھی دم نہ لے گی۔ فواقکے زبر یا پیش سے اس وقفہ کو کہتے ہیں جو دودھ والے جانور کو دودھ دوہتے وقت دودھ اترنے کی غرض سے تھوڑی دیرکو چھوڑ دیا کرتے ہیں تاکہ جانور دودھ اتارلے اس تھوڑے وقفہ کی نفی فرمائی کہ اتنی دیر بھی وہ چنگھاڑ شروع ہونے کے بعد بھی دم نہ لے گی یعنی اس آواز کے تسلسل میں توقف نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی صور کی آواز۔
Ayah 38:16(16) اور ان منکروں نے بطور استہزا کہا اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری سر نوشت اور ہمارا حصہ ہم کو حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب وعدہ قیامت کا سنتے تو کہتے ہمارا حصہ ابھی ہم کو دیدے یہ ٹھٹھے تھے ان کے۔
خلاصہ : یہ کہ قیامت کا عذاب سن کر کہتے کہ قیامت تو آنے والی نہیں کافروں کو جو عذاب اس دن ہونے والا ہے اس میں سے ہمارا حصہ ہو وہ ہم کو یہیں مل جائے اور ہماری سر نوشت ہم کو یہیں دیدی جائے تاکہ ہم کو اپنا انجام معلوم ہوجائے تو ہم کو ہماری چھٹی اور پروانہ یا نامہ اعمال اسی دنیا میں دیدیا جائے۔
Ayah 38:17(17) اے پیغمبر یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کیجئے اور سہار سے کام لیجئے اور ہمارے بندے دائود کو یاد کیجئے جو بڑا صاحب قوت تھا بلا شبہ وہ دائود اللہ تعالیٰ کی طرف بڑا رجوع ہونے والا تھا۔ دائود کا ذکر فرمایا شاید ان سے لغزش ہوگئی تھی اور ان پر عتاب ہوا تھا اس لئے اپنے پیغمبر کو فرماایا کہ تم صبر کرنے میں ذرا لغزش نہ کرنا۔
صاحب قوت سے مراد بعض سلف نے عبادت اور ان کی ریاضت لی ہے کہ وہ ایک دن افطار کرتے تھے اور ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے رات کو آدھی رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات عبادت کرتے پھر رات کو چھٹے حصے میں سوتے۔ نبی کریم ﷺ حضرت دائود کو اعبدالبشر فرمایا کرتے تھے یعنی انسانوں میں زیادہ عبادت گزار تھے سعید بن بلال نے کہا جب دائود اٹھتے تو فرماتے۔
اللھم تامت العیون و غارت النجوم وانت الحی القیوم لا تاخذک سنۃ ولا نوم۔
یا اللہ آنکھیں سو رہی ہیں اور تارے پست ہورہے ہیں اور تو زندہ اور سنبھالنے والا ہے نہ تجھ کو اونگھ آتی ہے نہ نیند آتی ہے۔
اس بنا پر ذالاید کا ترجمہ عبادت کی طاقت وہمت کیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت کی طاقت اور لو ہے کو نرم کرنے کی طاقت یا ہاتھ کے بل سے کما کر کھانے کی طاقت مراد ہے اواب رجوع کرنے والا تسبیح کرنے والا یقین کرنے والا مفسرین نے کئی معنی کیے ہیں۔
Ayah 38:18(18) بلا شبہ ہم نے پہاڑوں کو تابع فرمان کردیا تھا وہ پہاڑ صبح وشام دائود کے ہمراہ تسبیح کیا کرتے تھے۔ تابع کردینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہتے تو پہاڑ ان کے ہمراہ چلتے جہاں ان کو لیجانا چاہتے اور ان کے ساتھ تسبیح میں شریک رہتے صبح اور شام یہ وقت دائود (علیہ السلام) کی تسبیح کے تھے۔ یعنی تسبیح کے وقت تسبیح میں شریک رہتے اور اگر وہ کسی پہاڑ کو اپنے ہمرا چلنے کا حکم دیتے تو پہاڑ ان کے ہمراہ بھی چلتا۔
Ayah 38:19(19) اور پرندوں کو بھی تابع کردیا تھا جو اکٹھے ہوتے تھے یہ سب کے سب پہاڑ اور اڑتے جانور اس کے ہوکر تسبیح کرنے میں اس کے تابع تھے۔ پھر فرمایا پہاڑ اور پرندے سب اس کے تابع تھے یا سب اس کی طرف رجوع رہتے تھے۔ حضرات مفسرین کے چند اقوال ہیں بہرحال ! یہ ان کی تسخیر کا بیان تھا اب آگے ان کی حکومت اور نبوت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 38:20(20) اور ہم نے اس کی سلطنت کو اور اس کو حکمت یعنی نبوت اور واضح اور فیصلہ کن تقریر عطا فرمائی تھی۔ یعنی وہ سلطنت جو طالوت سے چھینی تھی اس کو بہت مضبوط کردیا اور ان کی سلطنت کی دھاک بیٹھ گئی اور ان کا اقتدارجمادیا اور ان کو حسن تدبیر یا نبوت عطا فرمائی اور قوۃ فیصلہ اور فیصلہ کردینے والی تقریر کا ملکہ یا علم قضا اور فیصلہ کرنا اور مدعی مدعا علیہ کے درمیان حق و باطل کا سمجھ لینا یا ایسی تقریر جو مخاطب بلا تکلف سمجھ لے۔
شعبی فرماتے ہیں کہ خطبہ کے بعد امابعد کہنا یہ انہی سے شروع ہوا۔ بہرحال ہر قسم کے علم و حکمت سے اس کو نوازا اب آگے ان کا ان کے ایک معاملہ میں مبتلا ہوکر ان کی لغزش کا بیان ہے۔
Ayah 38:21(21) اوربھلا اے پیغمبر ان جھگڑنے والوں اور مقدمہ والوں کی بات بھی آپ کو پہنچی ہے جبکہ وہ لوگ عبادت خانے کی دیوار کو پھاند کر۔
Ayah 38:22(22) دائود کے پاس جا پہنچے اور دائود ان کے اس طرح بےموقعہ آنے پر ان سے گھبراگئے وہ اہل مقدمہ کہنے لگے آپ ڈرئیے نہیں ہم ایک جھگڑے کے دو فریق ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے آپ ہمارے درمیان انصاف کیساتھ فیصلہ کردیجئے اور انصاف کی حد سے تجاوز نہ کیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے اور ہم کو سیدھی اور صحیح راہ بتا دیجئے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) ایک دن عبادت کیا کرتے تھے محراب میں اس کسی کو ان کے پاس جانے کا حکم نہ تھا دربان ان کی محراب کی حفاظت کیا کرتے تھے اور ایک دن فصل خصومات اور دربار کا متعین تھا اور ایک دن گھر والوں کے پاس گزارتے تھے چناچہ یہ دو شخص یا چند اشخاص جو دراصل فرشتے تھے خاص اس دن آئے جو ان کی عبادت کا دن تھا جب دربانوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی تو یہ باہر سے پچھیت کی دیوار پر سے کود کر محراب میں داخل ہوگئے ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جو اپنی عادت کے موافق پوری توجہ اور انہماک سے عبادت الٰہی اور ذکر الٰہی میں مشغول تھے ان آنے والوں کو دیکھ کر گھبرائے کہ باوجود نگرانی کے یہ گھسے کیسے اور کس طرح داخل ہوئے پھر خیال کیا کہ اتنی اونچی دیوار کس طرح پھاند لی۔ پھر یہ سوچا کہ دشمن نہ ہوں اور کسی انتقام کی غرض سینہ آئے ہوں کیونکہ ان کا لہجہ بہت بےباکانہ اور گستاخانہ تھا انہوں نے کہا آپ ڈریے نہیں ہم تو دو فریق یا دو شخص ہل معاملہ ہیں اور اہل مقدمہ ہیں۔
دربانوں نے دروازے سے آنے نہ دیا تو ہم دیوار پھاند کر آگئے۔ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیجئے اور دیکھئے انصاف سے تجاوز کرکے ہم میں سے کسی پر زیادتی نہ کجیئے اور ہم کو سیدھا راستہ بتادیجئے آگے جھگڑے کی تفصیل ہے۔
Ayah 38:23(23) جھگڑایہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نینانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ پس یہ کہتا ہے وہ ایک دنبی اپنی بھی میرے سپرد کردے اور میرے حوالے کردے اور زبردستی اور سختی کرتا ہے میرے ساتھ بات کرنے اور گفتگو کرنے میں مجھ کو دبا لیتا ہے۔ یعنی یہ میرا بھائی ہے دین میں یا ملاقاتی بھائی ہے، بہرحال ! اس کے پاس نینانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک دنبی بھی میں اس کے حوالے کردوں اور گفتگو میں اپنی منہ زوری سے مجھ کو دبا لیتا ہے۔ حضرت دائود کی عبادت میں جو خلل واقع ہوا اور توجہ بٹ گئی پھر ان لوگوں کا اس طرح بےموقع آنا اس پریشانی میں مقدمہ کی طرح نہ کرسکے اور پریشانی کی حالت میں ایک فریق مظلوم کی بات سن کر فرمانے لگے۔
Ayah 38:24(24) داود نے کہا یہ شخص جو تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کی مانگ کرتا ہے تو یقینا تجھ پر ظلم کرتا ہے اور بیشک بہت سے شرکاء آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی اور ظلم کرتے ہیں مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اور نیک اعمال کے پابند رہتے ہیں وہ باہم زیادتی نہیں کیا کرتے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور دائود یہ سمجھ گیا کہ ہم نے اس کو آزمایا اور آزمائش میں مبتلا کردیا۔ لہٰذا وہ یہ گمان کرتے ہی اور سمجھتے ہی اپنے پروردگار سے استغفار اور بخشش طلب کرنے لگا اور سجدے میں گڑ پڑا اور خالص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوا۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کی کوئی خاص غلطی تو معلوم ہوئی صرف اس قدر کہا جاسکتا ہے کہ مظلوم کا بیان سننے کے بعد بجائے ظالم سے دریافت کرنے کے صرف مظلوم ہی کے بیان پر فیصلہ سنا دیا اور یہ بات قواعد شرعیہ کے مطابق نامناسب ہوتی اور ان سے اس قدر کوتاہی ہوئی کہ انہوں نے فریقین کو بولنے کا موقعہ نہیں دیا حالانکہ ایک فریق کا بیان پورے اطمینان اور صبر کے ساتھ سنا اگرچہ واقعہ خلاف عادت پیش آیا لیکن حضرت دائود نے انتہائی صبروتحمل سے مقدمہ کاروائی انجام دی مگر اتفاق سے یہ کوتاہی پیش آگئی اور اسی کو فرمایا۔ انما فتنہ
بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت دائود خود بھی عبادت گزار تھے اور انہوں نے گھر والوں کے لئے بھی ایک ایسا نظام بنادیا تھا کہ چوبیس گھنٹے میں کوئی وقت ایسا نہ تھا کہ جب دائود اور آل دائود میں سے کوئی نہ کوئی عبادت میں مشغول نہ ہوتا ہو اس کثرت عبادت پر دائود کو کچھ عجب ہوا یہ بات حضرت حق کو پسند نہ آئی اور ارشاد فرمایا۔ اے دائود یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے اگر ہماری مدد نہ ہو تو اس پر نہ قدرت پاسکتا ہے اور نہ عبادت کی اس کثرت کو نباہ سکتا ہے اور نہ مشغول رہ سکتا ہے اور نہ اپنا انتظام قائم رکھ سکتا ہے۔
حضرت دائود نے عرض کیا جس دن مجھ کو امتحان میں مبتلا کرے مجھے اس دن کی خبر کردیجئے حضرت دائود اسی دن فتنے میں مبتلا ہوگئے ۔ حاکم نے مستدرک میں کوئی اثر نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امتحان حضرت دائود کا اس اعجاب اور خود ستائی کی بنا پر تھا پہلی وجہ سے یہ وجہ اقوی ہے چناچہ بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اسی کو اختیار کیا ہے۔
بعض حضرات نے اور یا اس کی بیوی کو حاصل کرنے کی وجہ بیان کی ہے کہ یہ ابتلا اور امتحان اس کی وجہ سے ہوا۔ اس قصے میں بعض ایسے واقعات بھی ذکر کئے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہرگز شایان شان نہیں ہیں اور ان کو پڑھ کر افسوس ہوتا ہے۔
علمائے متقدمین نے ان کی سخت تنقیص کی ہے اور ان روایات پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور ان کو اسرائیلیات سے ماخوذ بنایا ہے ایسا نہ تو حضرت دائود نے کیا اور نہ ایسا خدا کے ایک پیغمبر صاحب زبور سے ممکن تھا۔ نعوذ باللہ من ھذا الخرافات کسی شخص کی بیوی حاصل کرنے کے لئے اس شخص کو فوج میں رکھ کر قتل کرانا معاذ اللہ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی شان اس سے بہت ارفع اور بلند ہے ۔ حضرت خاتم المحدثین حضرت مولانا شاہ محمداسحاق صاحب نے جو توجیہہ فرمائی اور اپنے شاگرد رشید نواب ہے ۔ حضرت خاتم المحدثین حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب نے جو توجیہ فرمائی اور اپنے شاگرد رشید نواب مولانا قطب الدین صاحب کو قلم بند کرائی کہ ایک عورت سے اور یا نے پیغام نکاح دیا اور اسی کو حضرت دائود نے پیغام نکاح دیا اس عورت کے اولیاء کو اور ویا کی طرف سے کچھ خدشہ ہوا اور انہوں نے حضرت دائود سے نکاح کردیا یہی تقریر صاحب زادالمسیر نے کی ہے جیسا کہ مولانا نواب قطب الدین خاں صاحب نے اپنی جامع التفاسیر میں نقل کی ہے۔
یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کے پیغام پر انکار سے پہلے پیغام دے دیا ہو تو حضرت دائود کے لئے یہ نامناسب بات تھی کہ ایک شخص کے پیغام پر پیغام بھیج دیا جو ان کو مناسب نہ تھا۔
بہرحال خطا معمولی تھی لیکن ان کی شان کے موافق ان کی گرفت کی گئی اور یہ گمان بھی حضرت دائود کو یوں ہوا کہ وہ فرشتے جو اہل مقدمہ تھے یہ کہہ کر آسمان کی جانب چلے گئے کہ قضی الرجل علی نفسہ یعنی اس شخص نے اپنے ہی خلاف فیصلہ دے دیا بہرحال ! آزمائش اور امتحان کی وجہ کچھ بھی ہو حضرت دائودعلیہ السلام سجدے میں گرے اور روناشروع کیا یہاں تک کہ نہ کچھ کھاتے اور نہ پیتے بلکہ آٹھوں پہر روتے ہی رہتے اور اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے اور اپنی توبہ کی قبولیت کے لئے درخواست کرتے لوگ ان کو بیمار سمجھ کر ان کی عیادت کو آتے حالانکہ وہ بیمار نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے خوف نے ان کا یہ حال کردیا تھا بنی اسرائیل کے بڑے بڑے راہب بھی ان کے ساتھ رونے میں شریک ہوتے تھے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) اپنی ایک معمولی لغزش پر اس قدر متاثر ہوئے اور حضرت حق کے امتحان کی تاب نہ لاسکے بار بار فرمایا کرتے تھے۔ سبحنک الٰہیاذازکرت خطیئتی ضاقت علی الارض بما رحبت واذاذکرت رحمتک ارتدک علی روحی سبحنک الٰہی اتیت اطباء عبادک لید اولی خطیئتی وکلھم علیک، بذنبی
یعنی تیری ذات پاک ہے اے اللہ جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو میرے اوپر زمین باوجود اپنی کشائش کے تنگ ہوجاتی ہے اور جب تیری رحمت کو یاد کرتا ہوں تو میری روح مجھ میں واپس آجاتی ہے الٰہی میں تیرے طبیب بندوں کے پاس گیا تاکہ وہ میرے مرض کی دوا کریں مگر ان تمام طبیبوں کو میں نے اپنے گناہ کی وجہ سے بیمار پایا بہرحال ایک عرصہ تک حضرت دائود کا یہ رونا جانری رہا آخر حضرت حق کی عنایت نے دستگیری فرمائی۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 38:25(25) پھر ہم نے وہ لغزش اس کو معاف کردی اور بلا شبہ اس کے لئے ہمارے ہاں خاص قرب ہے اور بڑی اچھی باز گشت ہے - یعنی جس خطا کی معافی مانگ رہا تھا وہ خطا م نے معاف کردی اور بیشک ہمارے ہاں اس کو قرب خاص میسر اور جنت میں اس کو اعلیٰ مقام حاصل ہے یعنی درمیان میں جو غلطی اس سے سرزد ہوگئی تھی اور اپنی اور اپنے خاندان کی عبادت پر جو ناز ہوگیا تھا وہ اس کی توبہ اور استغفار اور رونے کیوجہ سے معاف کردیا گیا اور اس کے درجہ قرب اور اچھی بازگشت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حسن مآب کی تفسیر جنت کے ساتھ کی گئی۔
Ayah 38:26(26) اے دائود ہم نے تجھ کو زمین میں حکمران بنایا ہے پس تو لوگوں کے مابین انصاف کے فیصلے کیا کر اور اپنے نفس کی خواہش اور اپنے جی کی خواہش پر نہ چل کہ وہ خواہش پرچلنا تجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹکادے گا بلاشبہ جو لوگ اللہ کی راہ سے بےراہ ہوجاتے ہیں ان کو اس وجہ سے کہ انہوں نے حساب کے دن کو فراموش کر رکھا تھا سخت عذاب ہوگا۔
حضرت دائود کو خطاب فرمایا کہ اے دائود ہم نے تم کو خلیفہ اور ملک میں حاکم بنایا ہے خلیفہ یعنی پچھلوں کے جانشین ہو۔ بہرحال ! نبوت کے ساتھ حکومت بھی عطا کی ہے لہٰذا ہمیشہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے رہنا اور نفسانی خواہش کو دخل نہ دینا ورنہ یہ جی کی خواہش پرچلنا اور ہوائے نفسانی کی اتباع کرنا تجھ کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بچلا دے گی اور بیشک جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کا برا حشر ہوتا ہے اور اس بنا پر کہ انہوں نے یوم حساب کو بھلا دیا ان کو سخت عذاب کا منہ دیکھنا ہوگا۔
یہ جو فرمایا کہ یوم حساب کو بھول جانے کے سبب اس سے معلوم ہوا یوم حساب کو فراموش کردینا تمام روحانی امراض کی جڑ ہے چونکہ اوپر سے توحید رسالت اور بعثت کا بیان تھا بیچ میں سعی کی تائید میں حضرت دائود کا ذکر کیا گیا تاکہ توحید الٰہی اور رسالت کے درجات کا اظہار ہوجائے۔ اب پھر چند آیتوں میں توحید رسالت اور بعثت کا ذکر ہے۔
Ayah 38:27(27) اور ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو نکما بیکار اور خالی از حکمت نہیں پیدا کیا یہ باطل اور عبث پیدا کرنے کا خیال ان لوگوں کا ہے جو دین حق کے منکر اور کافر ہیں لہٰذا کافروں کے لئے جہنم کی وجہ سے بڑی خرابی ہے۔ یعنی اس عالم کی پیدائش بیشمار حکمتوں پر مبنی ہے خصوصاً حضرت حق تعالیٰ کی توحید کا بہت بڑا ثبوت تخلیق عالم سے ملتا ہے جو شخص تخلیق عالم کو لاحاصل اور نکما کہے وہ توحید باری کامنکر اور کافر ہے تو اس قسم کا گمان کافر ہی کرسکتا ہے لہٰذا کافروں کے لئے بڑی خرابی ہے اور وہ بڑی خرابی آگ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نکما یعنی جس کا اثر کچھ نہ نکلے آگے بلکہ اس دنیا کا اثر ہے آخرت میں۔ آگے قیامت کے منکروں پر رد فرمایا کیوں کہ قیامت کا وقوع تو اس لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا صلہ اور بدلہ دیا جائے یہ……منکرین قیامت یہ چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیامت واقع نہیں ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہے نہ نیکوں کو صلہ اور نہ بدوں کو سزا اس خیال کا رد فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 38:28(28) تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ایسے حضرات کو ان شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں گے جو زمین میں کفر وشرک پھیلا کر فساد برپا کرتے رہتے ہیں یا ہم متقیوں اور پرہیزگاروں کو بدکاروں اور باجروں کے برابر کردیں گے۔ یعنی قیامت کے نہ آنے کو یہ مستلزم ہے کہ برے بھلوں کو اپنی اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے بھلا ایسا کس طرح ہوسکتا ہے کہ نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا صلہ نہ ملے اور بدکاروں اور شریوں کو ان کی بدکاری اور شرارت کی پاداش نہ دی جائے۔ آگے رسالت اور نبی کریم ﷺ کے رسول ہونے کا اظہار ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 38:29(29) یہ قرآن کریم ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل وعقل و دانش اس سے نصیحت حاصل کریں۔ حضرت حسن بصری ؓ سے منقول ہے کہ تدبر آیات قرآنی کا یہ ہے کہ ان کا اتباع کرے تذکرہ اور تدبر کا حاصل یہی ہے آگے پھر بعض انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے قصص کا تذکرہ فرمایا اور یہ توحید و رسالت اور بعثت کا تذکرہ ضمناً آگیا۔
Ayah 38:30(30) اور ہم نے داود کو سلیمان عطا کیا سلیمان اچھا بندہ تھا بلا شبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع ہونے والا تھا۔ یعنی دائود (علیہ السلام) کو سلیمان نامی بیٹا ہم نے عطا کیا وہ سلیمان اچھا بندہ تھا وہ خدا کی طرف بہت رجوع رہا کرتا تھا۔
Ayah 38:31(31) سلیمان کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ اسکے روبرو شام کے وقت ایسے اصیل گھوڑے پیش کئے گئے جو بہت تیزرفتار تھے - کہتے ہیں کہ یہ گھوڑے دریائی گھوڑوں کے سیل سے حاصل کئے گئے تھے یہ تیز اور سبک رفتار ہوتے تھے اور ان پر سوارایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے پانی میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کی گردنیں لانبی ہوتی ہوں۔ بعض نے کہا یہ وہ گھوڑے تھے جو دائود (علیہ السلام) نے جب جالوت کو شکست دی تو قوم عمالقہ سے ہاتھ لگے۔
بہرحال ان کو دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ ان کی عبادت کا وقت جو وہ عصر کے بعد کیا کرتی تھے وہ وقت فوت ہوگیا اگرچہ گھوڑے جہاد کے لئے تھے پھر بھی مقررہ عبادت کے فوت ہوجانے سے بہت افسوس ہوا۔
Ayah 38:32(32) پس سلیمان نے کہا میں نے اس مال کو پسند کیا اور میں اپنے پروردگار کی یاد اور اس کی عبادت سے اس مال کی محبت میں لگ کر غافل ہوگیا یہاں تک کہ آفتاب پردے میں چھپ گیا۔ خیر فرمایا مال کو جیسا کہ عادیات میں فرمایا : فرانہ لحب الخیر لشدید
حدیث میں آتا ہے الخیل معقود بنواسیھا الخیر الی یوم القیمۃ یعنی گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ قیامت تک کے لئے خیر وابستہ کردی گئی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کسی علاقہ پر جہاد کرنے کی غرض سے گھوڑوں کی دیکھ بھال کررہے تھے لیکن ان گھوڑوں میں اس قدر مشغول ہوئے کہ ان کی مقررہ عبادت کا وقت فوت ہوگیا ہوسکتا ہے کہ یہ عصر کی نماز ہو۔
جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ ان کی ملت میں یا ان پر عصر کی نماز فرض تھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ وہ ایک فریضہ الٰہی یعنی جہاد کی ترتیب میں لگے ہوئے تھے اس لئے دوسرے فرض سے غافل ہوگئے اور یہ ایسی چیز ہے جو واقع ہوجاتی ہے۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی غزوہ خندق میں خندق کھودتے ہوئے کئی نمازیں قضا ہوگئیں لیکن کسی شغل خاص کی وجہ سے اگر ایسا بھی ہوجائے تب بھی بڑے حضرات خصوصاً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو اس کا بڑا ملال ہوتا ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے ہم کو ہماری نمازوں سے مشغول رکھا ملا اللہ قبورھم وبیتھم نارا۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو اور قبروں کو آگ سے بھر دے اس لئے یہاں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کو واپس بلا کر قتل کر ڈالا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آفتاب کو واپس کیا اور فرشتوں سے کہا کہ آفتاب کو واپس لائو تاکہ میں نماز ادا کرلوں۔ بہرحال ! ان مختلف اقوال سے آگے کی آیت کا لوگوں نے مختلف ترجمہ کیا ہے چناچہ فرماتے ہیں۔
Ayah 38:33(33) ان گھوڑوں کو میرے پاس واپس لائو اور واپس مجھ پر لوٹائو چناچہ گھوڑوں کی واپسی پر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔ یعنی گھوڑوں ک وقتل کرنا شروع کردیا اور کہتے ہیں نو سو گھوڑے قتل کردیئے اور ایسا کرنا شاید ان کی شریعت میں جائز ہوگا اور اتنے گھوڑے قتل کردینے سے گھوڑوں میں کچھ کمی نہ پڑتی ہوگی۔
بعض حضرات نے کہا ایک دین کے فرض کی وجہ سے دوسرے فرض میں غفلت کوئی ایسی بڑی خطا نہ تھی جس پر گھوڑوں کو قتل کیا جاتا اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو صاف کرنا شروع کردیا اور گھوڑوں کی تعظیم کی یعنی جو چیز فوت ہوچکی وہ تو ہو ہی چکی اب گھوڑوں کو تو ٹھیک کر لیاجائے تیسری بات کہ فرشتوں سے کہا کہ آفتاب کو واپس لے آئو اور آفتاب واپس آگیا۔ اور انہوں نے اپنا مقررہ وظیفہ یا نماز ادا کرلی تو پھر فطفق مسحا کے دوسرے معنی صاف ہیں کہ وہ گھوڑوں کو صاف کرنے لگے اور ان کو کپڑے سے ملنے لگے۔
خلاصہ : یہ کہ مفسرین کے دو قول مشہور تھے ہم نے تیسیر میں دونوں کا خلاصہ عرض کردیا ہے کہ آفتاب کا غروب ہونے کے بعد واپس ہونا اگر یہ قول صحیح ہو تو اس پر کوئی اشکال نہیں جیسا کہ اس امت میں بھی نبی کریم ﷺ کا ایسا معجزہ موجود ہے جو حضرت علی کر اللہ وجہ کی نماز عصر فوت ہونے پر حضور ﷺ کی دعا سے ظاہر ہوا اور محدثین اس واقعہ کرتے ہیں۔ آگے حضرت سلیمان کے ایک امتحان اور ابتلا کا ذکر ہے۔
Ayah 38:34(34) اور یقینا ہم نے سلیمان کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کیا اور ہم نے اس کے تخت پر ایک ناقص الخلقت دھڑلاڈالا۔ پھر سلیمان نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع کیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ماتحت امراء اور سرداروں سے ان کی بعض کوتاہیوں کے سلسلے میں منغص اور ناراض ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ میں آج کی رات اپنی ستریا سو بیویوں سے ہم بستر ہوں گا اور ہر ایک بیوی سے ایک ایک لڑکا پیدا ہوگا تو ان کو جہاد میں استعمال کیا جائے گا۔
اس موقعہ پر فرشتے نے قلب میں السقا کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے مگر سلیمان کو خیال نہ رہا اور زبان سے انشاء اللہ نہ کہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی کے ہاں کچا بچہ پیدا ہوا اور قابلہ نے اس کچے بچے کو سلیمان کے تخت پر لاکر رکھ دیا۔ چناچہ اس پر حضرت سلیمان نادم ہوئے کہ کسی بیوی کو حمل قرارنہ ہوا اور جس کو ہوا اس کے ہاں بھی ناقص الخلقت اور کچا بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس پر حضرت حق کی جناب میں رجوع کیا اور مغفرت طلب کی نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتا تو اس کی تمام بیویوں کے ہاں لڑکے پیدا ہوتے جو جوان ہوکر گھوڑوں پر چڑھ کر جہاد کرتے۔
یہ ایک طبعی امر تھا کہ جب کوئی بڑا آدمی اپنے ملازموں اور اپنے امراء کی غیر وفادارانہ روش سے ناراض ہوتا ہے تو اس کو اپنی اولاد کا خیال آتا ہے کہ اگر اولاد ہو تو وہ میری خیر خواہ اور حکومت کی وفادار ہو۔ چناچہ اسی ہی خیال کی بنا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ خواہش کی کہ جب گھر کے جہاد کرنے والے ہوں گے تو پھر کسی سردار کی کوتاہی اور غیروفادارانہ روش کا اندیشہ نہ رہے گا۔ لیکن انشاء اللہ تعالیٰ سہوآنہ کہنے کی بنا پر صورت حال بدل گئی اور اللہ تعالیٰ کے روبرو رجوع کرنے لگے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 38:35(35) سلیمان نے کہا اے پروردگار میری تقصیر معاف فرمادیجئے اور مجھ کو ایک ایسی سلطنت عطا کر جو میرے سوا کسی اور کے لئے مناسب نہ ہو بیشک تو بڑا ہی دینے والا ہے - یعنی ایسی سلطنت عطا ہو جو میری نبوت کے لئے خرق عادت اور معجزے کا کام دے اور ایسی ہو کہ مجھ سے چھین کر کسی اور کونہ دے دی جائے اور اس کو میں بطور نبوت کی دلیل کے پیش کرسکوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی سلطنت میرے سوا کسی کو دی ہی نہ جائے۔
بہرحال ! ایسی خواہش بطور حسد نہ تھی اور اگر پہلے معنی ہوں کہ میرے زمانے میں مجھ سے چھین کر کسی اور کونہ دی جائے تو کچھ اشکال نہیں اور اگر دوسرے معنی بھی ہوں تب بھی یہ معنی ہیں کہ جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو بلکہ میرا ہی معجزہ ہو۔ مجھے ایک ایسی بادشاہت عنایت فرما کہ کوئی دوسرا اس کی طلب میں ہوس نہ کرے اور زمانہ کی بلا اور فتنے میں نہ پڑے کیونکہ بغیر قوۃ نبوت کے اس قدر عظیم الشان فتنے میں پڑنے سے کوئی شخص مامون نہیں رہ سکتا۔ بہرحال اس دعا پر حسد کا شبہ لغو اور بےہودہ ہے چونکہ ظالم اور جبابرہ کی حکومتوں کا دور تھا۔ اس لئے ایک ایسی سلطنت مانگی جس پر کوئی غالب نہ آسکے اور میں دین الٰہی کی ترویج اور اشاعت میں اس سلطنت کی وجہ سے کام لے سکوں۔
چضزت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ جب آپ کوئی دعا کرتے ہوں تو اپنی دعا کو ان جملوں سے شروع نہ کرتے ہوں۔
سبحان ربی الاعلی الوھاب۔ یعنی دعا سے پہلے۔ سبحن ربی الاعلی الوھاب۔ ضرور فرماتے۔
Ayah 38:36(36) پس ہم نے ہوا کو سلیمان ﷺ کے تابع کردیا کہ وہ ہوا اس کے حکم سے جہاں وہ جانا چاہتا نرم اور خوشگوار رفتار سے چلتی۔
Ayah 38:37(37) اور اسی طرح جنات کو بھی جو عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے تھے اس کے تابع فرمان کردیا۔
Ayah 38:38(38) اور اسی طرح اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے۔ ہوا کو تابع کیا کہ وہ جہاں جانا چاہتے ان کے تخت کو اڑا کرلے جاتی پھر یہ لیجانا بھی نرم طریقے سے کہ سوار ہونے والوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوتی لوگ کرسیوں پر بیٹھے باتیں کرتے رہتے اور تخت اڑتا رہتا۔
ہر قسم کی عمارت بنانے والے جنات کو بھی جو چاہتے ان سے تعمیر کراتے اور غوطہ لگانے والے جو دریائوں سے موتی وغیرہ نکالتے۔ کچھ سزا یافتہ جنات جو خدمت میں کوتاہی کرتے ان کو سزا قید کردیا کرتے تھے یا وہ جن جو لوگوں کو ستاتے تھے اور ان کو زنجیروں سے باندھ کر دریا میں قید کردیا کرتے تھے اور دریامیں ڈلوادیا کرتے تھے تاکہ ان کو ادب سکھائیں اور فساد سے باز رکھیں۔ بہرحال ان طاقتوں کے حاصل ہوجانے کی وجہ سے سلاطین عالم ان کے سامنے پست اور عاجز ہوگئے۔
Ayah 38:39(39) یہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اے سلیمان یہ ہماری بخشش اور عطیہ ہے اب تو جس پرچا ہے احسان کر یا روک رکھ تجھ سے کوئی حساب نہیں۔
Ayah 38:40(40) اور یقینا ہمارے ہاں سلیمان کے لئے خاص قرب اور بڑی اچھی باز گشت ہے۔ یعنی یہ سب طاقتیں اور زروجواہر دے کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ہمارا عطیہ ہے چاہے کسی کو دو یا نہ دو تم سے کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی داروگیر نہیں۔ یعنی ہر قسم کے تصرف کا تجھ کو اختیار ہے تو محض خازن اور حارس نہیں ہے یا بغیر حساب عطائونا کے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دیا ہے وہ بےحساب ہے نہ کوئی شمار کرسکتا ہے اور نہ گھیر سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جنات کا مسخرا کرنا ہماری بخشش ہے اب تو چاہے جس پر احسان کر اور چھوڑ دے اور جس کو چاہے قیدرکھ اور اس سے کام لے۔
آگے ان کے خصوصی قرب اور اچھی بازگشت کا ذکر فرمایا جیسے اوپر حضرت دائود کے لئے فرمایا تھا حسن مآب سے یہاں جنت مراد ہے ۔ تنبیہ حضرت دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق بعض حضرات نے بہت سے رطب و یا بس قصے نقل کئے ہیں جو صحت سے دور ہیں ہم نے ان سب کو نظر انداز کردیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اور مہربانی کہ اقی دنیاوی اور مختار کردیا حساب معاف کر کر لیکن وہ کھاتے تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے ٹوکری بنا کر۔
آگے پیغمبروں کا ذکر فرمایا چونکہ ابتداء میں بطور تسلی نبی کریم ﷺ کو فرمایا تھا۔ اصبر علی ما یقولون اسی سلسلے میں حضرت ایوب کا ذکر فرمایا۔