38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجئے جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور تکلیف پہنچا رکھی ہے۔

(41) اور اے پیغمبر آپ ہمارے بندے ایوب ﷺ کو یاد کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو شیطان نے درد اور تکلیف پہنچا رکھی ہے - یوں تو حضرت ایوب ﷺ عرصہ سے بیمار تھے لیکن شیطان نے ان کی بیوی کو پریشان دیکھ کر کہا کہ ایک طبیب بہت اچھا ہے وہ اس کے ہمراہ چلی گئیں وہ ایک طبیب کے پاس لے گیا انہوں نے اس سے اپنی خاوند کی بیماری کا ذکر کیا۔ اس طبیب نے کہا اگر تو ایوب کو تھوڑی سی شرات پلادے تو اس کو آرام ہوجائے گا اور جب آرام ہوجائے تو یوں کہیو فلاں طبیب نے شفا دی ہے یہ نہ کہیو خدا نے شفادی ہے۔ یہ سن کر یہ بیوی جن کا نام رحمت تھا واپس گھر آئیں اور انہوں نے حضرت ایوب ﷺ کو اس طبیب کا تمام قصہ سنایا وہ یہ قصہ سن کر بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ اگر میں اچھا ہوگیا تو تیرے ایک سو قمچیاں ماروں گا۔ وہ شیطان تھا تو اس کے پاس کیوں گئی۔ بعض نے کہا کہ اس طبیب نے کہا مجھ کو سجدہ کرے تو تیرا خاوند اچھا ہوجائے گا بعض نے کہا بیوی کے تاخیر سے پہنچنے پر قسم کھائی۔ بہر تقدیر انہوں نے حضرت حق تعالیٰ سے عرض کی۔ ربہ انی مسنی الشیطان بنصب و عذاب۔ پہلے بھی دعا کرتے رہتے تھے جیسا کہ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے جب وہ امتحان اور آزمائش کا دور ختم ہوا تو حضرت حق نے حکم فرمایا۔
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

حکم ہوا زمین پر اپنا پائو مار یہ غل کرنے اور پینے کے لئے ٹھنڈا پانی ہے۔

(42) زمین پر اپنا پائوں مار یہ غسل کرنے اور پینے کے لئے ٹھنڈا پانی ہے۔ حضرت ایوب کی دعا قبول ہوئی حضرت جبرئیل آئے اور کہا ابو تم اپنا پائوں زمین پر مارو پائوں مارنے سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ جبرئیل نے کہا اس چشمے کے پانی سے نہائو اور اسی کا پانی پیتے رہو۔ بعض حضرات کہتے ہیں دو چشمے جاری ہوئے ایک گرم اس سے نہانے کا حکم دیا۔ اور دوسرا ٹھنڈا اس سے پینے کا حکم دیا چناچہ ان کا دکھ اور بیماری دور ہوگئی۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے اہل و عیال اور ان اہل و عیال کے ہمرا ہ اتنے ہی اور اہل و عیال اس کو عطا کئے یہ عطا ہم نے اپنی خاص رحمت کے سبب کی اور نیز اس مقصد سے کی کہ عقل کے لئے ایک یادگار ہے۔

(43) اور ہم نے اس کے اہل و عیال اور اس اہل و عیال کے ہمراہ اتنے ہی اور عیال اس کو عطا کئے یہ عطا ہم نے اپنی رحمت خاص کے سبب سے کی اور اس سب سے اور مقصد سے کہ اہل عقل و دانش کے لئے ایک یادگار ہے - یعنی اہل عقل غور کریں کہ صبر کرنے والوں کو اس طرح بدلا دیا جاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے چاہا کہ ان کو چنگا کرے ایک چشمہ نکالا ان کے لات مارنے سے اسی سے نہایا کرتے اور پیتے رہے ان کو شفا ہوئی اور ان کے بیٹے بیٹیاں چھت کے نیچے دب مرے تھے ان کو چلایا اور اتنی اولاد اور دی۔ خلاصہ : یہ کہ ان کی اولاد فوت ہوچکی تھی بیوی ہر وقت خاوند کی خدمت میں رہتی مکان ا اور بچوں کا کوئی نگراں نہ تھا گائوں والوں نے ان کے مرض کی وجہ سے ان کو گائوں کے باہر ڈال دیا تھا اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد دوچند کرکے دی۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اے ایوب تو سینکو کا ایک مٹھا لے لے اور ا س سے اپنی بیوی کو مارلے اور اپنی قسم نہ توڑ بیشک ہم نے ایوب کو بہت صبر کرنے والا پایا وہ ایوب بہت اچھا بندہ تھا وہ خدا کی جناب میں بہت رجوع رہنے والا تھا۔

(44) اور اے ایوب تو سینکوں کا ایک مٹھا لے لے اور اس سے اپنی بیوی کو مارلے اور اپنی قسم نہ توڑ بیشک ہم نے ایوب کو بڑا صبر کرنے والا پایا وہ ایوب اچھا بندہ تھا وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت رجوع ہونے والا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مرض میں خفا ہوکر قسم ککھائی تھی کہ اپنی عورت کو سو لکڑیاں ماریں اگر چنگے ہوں وہ بی بی اس حال کی رفیق تھی اور بےتقصیر اللہ تعالیٰ نے قسم اس طرح سچ کروائی۔ مطلب یہ ہے کہ سو سینکوں کا مٹھ ہو یا ایک کھجور کی ٹہنی ہو کہ اس میں سو شاخیں ہوں وہ ماردو بہرحال قسم پوری ہوگئی اور نیک بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچی۔ یہ ایک حیلہ تھا جو ایوب (علیہ السلام) کو بتایا یہ ایوب (علیہ السلام) کی خصومیت تھی اس امت میں بھی کوڑے مارنے کے سلسلے میں ایک ناقص الخلقت شخص کو جس پر زنا کرنے کا جرم تھا ایک لونڈی سے بجائے سو دروں کے ایک ٹہنی جس میں سو ٹہنیاں تھیں وہ ایک دفعہ مارنے کا حکم دیا تھا ہر جگہ حیلے کا استعمال نہیں کرنا چاہیے البتہ اگر شرعی طریقے سے کسی حیلے کی گنجائش ہو اور علماء حق اجازت دیں تو حیلہ کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو یاد کیجئے جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔

(45) اور اے پیغمبر ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہاتھوں سے بندگی کرتے اور آنکھوں سے قدرتیں دیکھ کر یقین زیادہ کرتے۔ یعنی قوت عملیہ اور علمیہ میں کمال رکھتے تھے اور علم وعمل میں کامل تھے آگے اور ان کی خوبیاں فرمائیں۔
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک خاص وصف کے ساتھ مخصوص کیا تھا کہ وہ دار آخرت کا یاد کرنا تھا۔

(46) اور ہم نے ان کو ایک خاص وصف کے ساتھ امتیاز دیا کہ وہ دارآخرت کا یاد کرنا تھا۔ مجاہد نے کہا کہ ہم نے ان کو اید آخرت کے لئے خاص کیا تھا کہ ان کو سوائے آخرت کے نہ کوئی ذکر تھا اور نہ کوئی فکر۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کے ذکر جمیل کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو پچھلے لوگ بہترین طریقے سے یاد کرتے ہیں حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم نے دنیا کی محبت ان کے دلوں سے کھینچ لی تھی اور ان کے دلوں کو آخرت کی محبت اور اس کے ذکر سے خاص کیا تھا۔
Ayah 38:47

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور یقینا وہ ہمارے ہاں برگزیدہ اور بہتر لوگوں میں سے ہیں۔

(47) اور یقینا وہ یعنی ابراہیم اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) ہمارے ہاں چیدہ ، برگزیدہ اور بہتر لوگوں میں سے ہیں یعنی منتخب لوگوں میں سے ہیں اور منتخب میں بھی سب سے بڑھ کر۔
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور آپ اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب بھی بہترین لوگوں میں سے تھے۔

(48) اور اے پیغمبر آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب بھی اچھے اور بہترین لوگوں میں سے تھے - حضرت الیسع (علیہ السلام) حضرت الیاس (علیہ السلام) کے خلیفہ اور نائب ہیں پھر بعد کو نبی ہوئے اور حضرت الیسع کے چچا زاد بھائی ذوالکفل ہیں ان کی نبوت میں اہل علم کو اختلاف ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مشہور اور اولوالعزم نبی ہیں ان سب کو اس لئے یاد دلایا کہ یہ سب بڑے صابر اور ضابط تھے اور اصبر علی مایقولون کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا، یا دوسری مصلحتوں کی بنا پر ان کا ذکر فرمایا ہو کہ اس قدر بڑے مرتبے والے بھی دارآخرت کی یاد میں منہمک تھے تو عرب کے منکر اس سے کیوں غفلت برت رہے ہیں۔
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ انبیاء کا تذکرہ ایک نصیحت کا مضمون تھا جو ہوچکا اور پرہیزگاروں کے لئے بیشک اچھا ٹھکانا ہے

(49) یہ ایک نصیحت کا مضون تھا جو ہوچکا اور یقینا متقیوں اور پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھرجانے کا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن کریم ایک نصیحت ہے یا یہ کہ انبیاء کا تذکرہ ایک نصیحت کا مضمون تھا جو ختم ہوا بلا شبہ جو لوگ متقی اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے ایک اچھی بازگشت ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔
Ayah 38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

وہ اچھا ٹھکانا دائمی باغ ہیں جن کے دروازے ان لوگوں کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔

(50) وہ اچھا ٹھکانا دائمی باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی ان یاغات کے دروازے پہلے ہی سے کھلے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ حتیٰ اذا جائوھا وفتحت ابوابھا یا گھروں کے دورازے کھلے ملیں گے۔
Ayah 38:51

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ ان باغوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہونگے وہ وہاں بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے۔

(51) ان باغات میں یہ متقی تکیے لگائے ہوئے ہوں گے وہ وہاں بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں منگواتے ہوں گے۔
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔

(52) اور ان متقیوں کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر عورتیں ہونگی۔ یعنی ہر قسم کی نعمتیں طلب کر رہے ہوں گے اور وہ نعمتیں وہاں ان کو میسر ہوں گی۔ نیچی نگاہ والی عورتیں یعنی شرمیلی اور باعفت ہم عمر کو مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ حوریں سب کی سب آپس میں ہم عمر ہوں گی یا مطلب یہ ہے کہ وہ حوریں اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی۔
Ayah 38:53

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا تم سے یوم حساب کے لئے وعدہ کیا تھا۔

(53) یہ ہے وہ انعام جس کا تم سے یوم حساب کے لئے وعدہ کیا گیا تھا۔ یعنی یوم حساب کے سلسلے میں جن نعمتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا یہ وہ نعمتیں یہ ہیں۔
Ayah 38:54

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہماری عطا کردہ روزی ہے جو کبھی ختم ہی ہونے والی نہیں۔

(54) یہ ہماری عطا کردہ روزی ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
Ayah 38:55

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ پرہیزگاروں کی بات تو ہوچکی اور رہے سرکش تو سرکشوں کا یقینا براٹھکانا ہے۔

(55) یہ پرہیزگاروں کی بات تو ہوچکی اور رہے شریر اور سرکش اور سرکشوں کا برا ٹھکانا اور بری بازگشت ہے۔
Ayah 38:56

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

وہ برا ٹھکانا دوزخ ہے کہ اس میں وہ داخل ہوں گے سو وہ دوزخ بہت ہی بری آرام گاہ ہے۔

(56) وہ برا ٹھکانا دوزخ ہے کہ جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے سو وہ جہنم بہت بری آرام گاہ اور بہت برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 38:57

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ ہے سو اب یہ سرکش لوگ اس کا مزہ چکھیں۔

(57) یہ سخت کھولتا ہوا پانی اور کچلہو یعنی پیپ پس اب یہ سرکش اس کا مزہ چکھیں۔
Ayah 38:58

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اور بھی اسی قسم کے عذاب کی مختلف چیزیں ہیں۔

(58) اور بھی اسی قسم کے عذاب کی مختلف چیزیں ہیں اور عذاب ہیں مانند اس کے طرح طرح کے۔ یعنی یہ گرم کھولتے ہوئے پانی اور کچلہہ کے علاوہ اور بھی اسی قسم کے مختلف عذاب ہیں اور طرح بطرح کے عذاب ہوں گے شاید یہ پہلے جو لوگ داخل ہوں گے یہ سردار اور متبوع ہوں گے ان کے بعد جب فوج درفوج بنا کر تابع جہنم کے کنارے پر پہنچیں گے تو دوزخ کے اندر سے ان کو دیکھ کر وہ متبوع کہیں گے۔
Ayah 38:59

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک اور جماعت تمہارے ساتھ عذاب میں شریک ہونے کو اوپر تلے گھسی چلی آتی ہے ان کا برا ہو یہ بھی جہنم ہی میں آرہے ہیں۔

(59) یہ ایک اور جماعت تمارے ساتھ عذاب میں شریک ہونے کے اوپر تلے گھسی چلیآتی ہے ان کا برا ہو یہ بھی جہنم ہی میں آرہے ہیں۔ یعنی جب اس گروہ کو آتا دیکھیں گے تو کہیں گے یہ ایک گروہ ہے جو تم میں گھسا چلا آتا ہے ان کو خدا کی مار اور ان کا برا ہو یہ بھی سب جہنم میں ہی آرہے ہیں یعنی ان کے آنے سے کوئی خوشی نہیں بلکہ یہ تو ہماری طرح عذاب میں ہی داخل ہونے کو آرہے ہیں یہ سن کر وہ آنے والے یعنی تابع کہیں گے۔
Ayah 38:60

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے نہیں بلکہ تمہارا ہی برا ہو۔ تم ہی تو ہی تو یہ عذاب ہمارے آگے لائے ہو سو وہ عذاب بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

(60) وہ جواب دیں گے نہیں بلکہ تمہارا ہی برا ہو تم ہی تو یہ عذاب ہمارے آگے لائے ہو سو وہ عذاب برا ٹھکانا اور بری جگہ ہے ٹھہرائو کی یعنی یہ بھی لا مرحبا کا جواب لا مرحبا سے دیں گے۔ نہیں تم پر خدا کی مار ہو تمہاری بدولت تو ہم کو یہ عذاب پیش آیا ہے نہ تم ہم کو بہکاتے اور ن تم یہ بری رسمیں چھوڑ کرجاتے اور نہ تم مبتلا ہوتے ہم کو اس مصیبت میں تمہاری وجہ سے مبتلا ہونا پڑا سو یہ عذاب بہت ہی بری قرار گاہ ہے جس میں ہم تمہاری وجہ سے آرہے ہیں یہ آپس کی تو تو میں میں کے ساتھ یہ تابع اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کریں گے۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پھر دعا کریں گے اے ہمارے رب جو اس مصیبت کو ہمارے آگے لایا ہے اس کا عذاب جہنم میں دگنا بڑھا دے۔

(61) کہیں گے اے ہمارے پروردگار جو اس عذاب کی مصیبت کو ہمارے آگے لایا اس کا عذاب جہنم میں دگنا بڑھا دی اور وہ چند کردے۔ یعنی تجھ کو تو معلوم ہے جس کی وجہ سے اور جس کے بہکانے سے یہ مصیبت ہمارے سامنے آئی اس کا عذاب بڑھا کردو چند کردے۔
Ayah 38:62

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور اہل جہنم آپس میں کہیں گے ہم کو کیا ہوگیا کہ ہم یہاں ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے۔

(62) اور اہل جہنم آپس میں کہیں گے یا ووہ تابع ہی کہیں گے ہم کو کیا ہوگیا کہ ہم یہاں ان مردوں کو نہیں دیکھتے جن کو ہم برے اور بدلوگوں میں شمار کیا کرتے تھے۔ یعنی ایک دم فقراء مسلمین کا خیال آئے گا تو سب مل کر کہیں گے یا صرف تابع کہیں گے کہ اس عذاب میں ہم ان کو نہیں دیکھتے جن کو ہم شرارت پسندوں میں سے گنا کرتے تھے اور بروں میں شمار کرتے تھے وہ مسلمان کدھر گئے اور کہاں گئے یہ خیال کرکے کہیں گے۔
Ayah 38:63

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کا مذاق بنارکھا تھا۔ یا اس وقت ان کے دیکھنے سے آنکھیں عطا کررہی ہیں۔

(63) کیا ہم نے بلاوجہ ان کا مذاق بنارکھا تھا اور ان سے ٹھٹھا کرتے تھے یا اس وقت ان کو دیکھنے سے ہماری آنکھیں خطا کررہی ہیں اور آنکھیں دیکھنے سے چوک گئیں اور چکراگئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جوان کا مذاق ہم اڑاتے تھے وہ بلا وجہ کا مذاق تھا یا وہ بھی اس عذاب میں موجود ہیں مگر نگاہ نہیں پڑ رہی ان پر جیسا کہ کثرت اژدھا میں ایسا ہوتا ہے شاید ان اشرار سے مراد ان کی عمار، بلال صہیب اور خباب وغیرہ ؓ فقرائے مہاجرین ہوں گے کیونکہ منکر ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچانیں گے لیکن کوئی مسلمان ان کا جاننے والا نظر نہیں آئے گا تب ان کو تعجب ہوگا۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یقینا یہ دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے۔

(64) بلا شبہ یہ دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات اور ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے۔ یعنی اہل نار کے اس جھگڑے کا ہونا واجب الوقوع ہے اور یہ جھگڑا ضرور ہونے والا ہے۔
Ayah 38:65

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجئے بس میں تو تو صرف ایک ڈرانے والاہوں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یکانہ اور سب پر غالب ہے اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

(65) اے پیغمبر آپ ان منکرین توحید و رسالت سے کہہ دیجئے کہ میں تو بس صرف ڈرانے والا ہوں اور سنا نے والا ہوں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یکتا ویگانہ سب پر غالب ہے اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ یعنی میں تو صرف ایک پیغمبر ہوں جو نافرمانوں اور سرکشوں کو ڈراتا ہوں یہ تو رسالت کی بات ہے اور توحید الٰہی ایک امر حق ہے اس کے متعلق یہ بات ہے کہ سوائے اس اللہ تعالیٰ کے جو واحد اور سب پر غالب اور کوئی معبود نہیں نہ کوئی لائق پرستش ہے۔
Ayah 38:66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہی آسمانوں کا اور زمین کا اور کچھ ان دونوں کے مابین ہے ان کا سب کا رب ہے وہ کمال قوت اور بڑی بخشش کا مالک ہے ۔

(66) وہی آسمانوں کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے مابین ہیں سب کا پروردگار اور کمال قوت کا مالک اور بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ یعنی سب کا مالک ہے زبردست ہے اور بہت بخشش کرنے والا ہے۔
Ayah 38:67

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

آپ کہیئے یہ خبر ایک بہت بڑے واقعہ کی خبر ہے۔

(67) آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ یہ خبر ایک بڑے واقعہ کی خبر ہے۔
Ayah 38:68

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس خبر سے تم بےپروائی برت رہے ہو۔

(68) جس خبر سے تم بےپروائی برت رہے ہو۔ یہ مضمون جو میں نے اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان کیا یہ بہت اہم مضمون ہے مگر افسوس کہ تم اس مضمون سے غفلت برتتے اور اس سے تم اعراض کرتے ہو، ہوسکتا ہے کہ ا س خبر سے مراد قیامت کی خبرہو، جیسا کہ بعض علما نے کا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت کے احوال یا اس دین کا نازل ہونا۔
Ayah 38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے تو عالم بالا کے رہنے والے فرشتوں کی جب وہ آپس میں بحث کررہے تھے کچھ بھی خبرنہ تھی۔

(69) مجھے تو عالم بالا کے رہنے والے فرشتوں کی جب وہ آپس میں بحث کررہے تھے اور گفتگو کررہے تھے کچھ بھی خبر نہ تھی۔
Ayah 38:70

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری جانب تو وحی صرف اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ میں خدا کی جانب سے صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

(70) میری جانب جو وحی کی جاتی ہے وہ محض اس سبب سے کی جاتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں اگر پیغمبر نہ ہوتا تو مجھے کیا خبر ہوتی کہ ملا اعلیٰ کے فرشتوں نے تخلیق آدم کے وقت کیا کہا اور اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا اور وہ آپس میں کیا بحث و تکرار کررہے تھے یا بعض دوسرے مسائل ہیں ان میں کیا بحث ہوتی ہے اور کیا تکرار ہوتی ہے مجھے ان معاملات کی کیا خبر ہوتی لیکن وحی کے ذریعہ سے وہ باتیں مجھے معلوم ہوتی ہیں اور مجھ پر جو وحی آتی ہے وہ محض اس سبب سے آتی ہے کہ میں کھلا اور آشکارا ڈرانے والا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اعلیٰ فرشتے جوت دبیریں کرتے ہیں مجھ کو کیا خبر تھی کہ تم پاس بیان کرتا اللہ کی وحی سے کہتا ہوں اس مجلس میں جھگڑا نہیں مگر ہر کوئی اپنے کام کا تکرار کرتا ہے۔ خلاصہ : یہ کہ عالم بالا کے رہنے والے فرشتے امر کو نیہ کے متعلق جو تدبیریں کرتے ہیں وہ احکام تکونیہ کی تعمیل میں جو باہمی مذاکرات اور بحث و تکرار کیا کرتے ہیں اور میں تم کو وقتاً فوقتاً ان کی خبر بھی دیتا رہتا ہوں یہ سوائے وحی الٰہی کے کس طرح خبر دے سکتا ہوں۔ یہ آپس کی بحث اور گفتگو کو ۔ مختصمون فرمایا ورنہ کوئی جھگڑا جیسا کہ اہل نار میں ہوگا وہ جھگڑامراد نہیں۔ شاید اسی بنا پر آگے تخلیق آدم کا ذکر فرمایا کیونکہ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور ملائکہ کا جواب منقول ہے ترمذی شریف کی ایک طویل حدیث میں بھی فبم یختصم الملاء الاعلیٰ مذکور ہے اور نبی کریم ﷺ کا فیصلہ کن بیان دینا بھی مذکور ہے۔
Ayah 38:71

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

وہ باہمی بحث اس وقت ہوئی تھی جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔

(71) اے پیغمبر وہ واقعہ یاد کیجئے جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والاہوں۔ یعنی اس کی ترکیب اور بناوٹ مٹی سے کروں گا۔
Ayah 38:72

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

سو جب میں اس کو پوری طرح درست کر چکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔

(72) پھرجب میں اس کو پوری پوری درست کردوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک یہ بھی فرشتوں کی تکرار تھی جو بیان فرمایا۔ اور فرمایا ایک اپنی جان یعنی آب وخاک سے نہیں بنی غیب سے آئی۔
Ayah 38:73

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

چناچہ سب کے سب تمام فرشتوں نے آدم کے سامنے سجدہ کیا۔

(73) پھرجب اس کو درست کرلیا اور اپنی روح ڈال دی تو سب کے سب تمام فرشتوں نے آدم کے سامنے سجدہ کیا۔
Ayah 38:74

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے کہ اس نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ کافروں سے ہوگا۔

(74) مگر ابلیس نے کہ اس نے اپنے کو بڑا سمجھا اور غرور کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ کلھم بھی فرمایا اور اجمعون بھی مطلب یہ ہے کہ سب نے مل کر بیک وقت ان کے سامنے سجدہ کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جن تھا وہ اکثر خدا کے حکم سے منکر تھے لیکن رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔
Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز رد کا کیا تونے اپنے کو بڑا سمجھا یا تو واقعی بڑے درجے کے لوگوں میں سے ہے۔

(75) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابلیس جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا اور باز رکھا تو نے اپنے کو بڑا سمجھا اور غرور کیا یا تو واقعی بلند مرتبہ والوں میں سے ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دو ہاتھوں سے یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے اور روح کو غیب کے ہاتھ سے غیب کی چیزیں بناتا ہے ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اس انسان میں دونوں طرح قدرت خرچ کی۔ مطلب تو ہم سورة بقر میں عرض کرچکے ہیں یہاں اتنا سمجھ لیجئے کہ جس مخلوق کو ہم نے صفت جلال اور صفت جمال سے آراستہ کیا اور جس کو متضاد قوتیں عطا کیں تو اس کے سامنے سجدہ کرنے سے کھینچا آخر اس کی وجہ کیا ہے تو نے تکبر کیا اور اپنے کو بڑا سمجھایا واقعی تو بلند قدروں میں سے ہے۔
Ayah 38:76

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

ابلیس نے کہا میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں کہ تونے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔

(76) ابلیس نے جواب دیا میں آدم سے بہتر ہوں تونے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ یعنی کہاں آگ اور کہاں مٹی تیرا یہ حکم مصلحت کے خلاف ہے کہ ایک بلند چیز دوسری پست چیز کے آگے جھکاتا ہے۔
Ayah 38:77

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا نکل یہاں سے یقینا تو مردود ہوگیا۔

(77) ارشاد ہوا جانکل یہاں سے یقینا تو مردود ہوگیا۔
Ayah 38:78

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گی۔

(78) اوربے شک قیامت کے دن تک تجھ پر میری لعنت رہے گی۔ اوقات رحمت میں بھی طعون رہے اور قیامت ہونے کے بعد تو مرحوم ہونے کی کوئی شکل ہی نہیں۔
Ayah 38:79

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

ابلیس نے کہا اے میرے پروردگار مجھے اس دن تک کے لئے مہلت دیدے جس دن مردے قبروں سے اٹھائے جائینگے۔

(79) ابلیس نے کا اے میرے پروردگار مجھے اس دن تک کے لئے مہلت دے جس دن مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 38:80

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلاشبہ تجھ کو مہلت دی گئی۔

(80) اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلا شبہ تجھ کو مہلت دی گئی۔