37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے ان صف باندھنے والوں کی جو صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔

(1) قسم ہے ان فرشتوں کو جو صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی حکم الٰہی کو سننے کے وقت خوب صف باندھتے اور صف بستہ کھڑے ہتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے خوب صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یعنی قطار باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان ڈانٹنے والوں کی قسم جو جھڑک کر ڈانتے ہیں ۔

(2) پھر ان ڈانٹنے اور جھڑکنے والوں کی قسم جو جھڑک کر ڈانٹتے اور روکتے ہیں اور بندش لگاتے ہیں۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو شیاطین کو ملاء اعلیٰ کی خبریں سننے سے روکتے ہیں اور ہانکتے ہیں اور جھڑک کر اور ڈانٹ کر روکتے ہیں۔
Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان کی قسم جو ذکرالٰہی کی تلاوت کرنے والے ہیں۔

(3) پھران فرشتوں کی قسم جو ذکر الٰہی اور اس کی تسبیح و تقدیس کی تلاوت کرتے ہیں - یعنی یہ کام بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی پاکی اور اس کی تقدیس بھی کرتے ہیں یہی اوصاف ملائکہ کے اس سورت میں آجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتے کھڑے ہوتے ہیں قطار سننے کو حکم اللہ کا پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جالگتے ہیں پھر جب اترچکا اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو بتانے کو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس طرح صف نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کے حضور میں صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کس طرح صف باندھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پہلی صف کو پورا کرتے ہیں اور سب بہت مل کر اور گتھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ مفسرین نے عام طور سے تفسیر ملائکہ سے کی ہے خواہ وہ حکم سننے کو صفیں باندھتے ہوں یا احکام الٰہی کو بجا لانے کے لئے صف بستہ رہتے ہوں لیکن بعض علماء نے فرمایا کہ یہ صفیں غازیوں کی ہوں میدان جنگ میں یا نمازیوں کی ہوں مساجد میں اور زواجرات سے مراد یا تو وہ فرشتے ہیں جو شیاطین کو ہانکتے ہوں یا قرآن کریم کی وہ آیتیں مراد ہوں جو گناہ سے ڈرانے والی ہیں یا علماء ہوں جو لوگوں کو بری باتوں سے روکتے ہیں یا غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹتے ہیں یا وہ فرشتے جو بادلوں کو ہانکتے ہیں یا وہ فرشتے جو انسانوں کو گناہوں سے روکتے ہیں اور ان کے قلب میں گناہوں کی برائی الہام کرتے ہیں۔ ایسا ہی تالیات سے فرشتے مراد ہیں جوہر وقت ذکر میں مشغول رہتے ہیں یا غازیوں کی جماعتیں مراد ہیں جو جنگ میں ذکر الٰہی کرتی رہتی ہیں (واللہ اعلم) غرض ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

کہ بیشک تم سب کا معبود برحق ایک ہے۔

(4) کہ بیشک تم سب معبود برحق ایک ہی ہے۔ یعنی وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں آگے توحید کے دلائل مذکور ہیں۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کا اور وہ رب ہے تمام مشرقوں کا۔

(5) وہ پروردگار ہے یعنی مالک و متصرف ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کا مالک و متصرف ہے اور تمام مشرقوں کا مالک اور متصرف ہے - یہاں صرف مشارق کا ذکر فرمایا دوسری جگہ مغارب کا بھی ذکر آیا ہے اور کہیں دو مشرقوں اور مغربوں کے ذکر ہے مشارق سے مراد یا تو آفتاب کے طلوع ہونے کے نقاط ہیں یا تمام ستاروں کے طلوع ہونے کے مقامات میں تمام ستارے مراد لئے جائیں تب تو ظاہر ہے کہ ستارے کے طلوع کی ایک مشرق جداگانہ اور دوسری مشرق سے ممتاز ہے اور اگر صرف آفتاب کے لئے جمع فرمایا تو پھر حضرت شاہ صاحب (رح) اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں شمال سے جنوب تک مشرقیں ہیں سورج کو جدا اور دوسری طرف اتنی ہی مغربیں ہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ آفتاب ہر روز ایک نئی جگہ اور نئے نقطہ سے طلوع ہوتا ہے اور نئی جگہ اور نئے نقطہ پر غروب ہوتا ہے جہاں سے آج نکلا ہے کل وہاں سے نہیں نکلے گا اور جہاں آج غروب ہوا ہے کل وہاں غروب نہیں ہوگا۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے آسمان دنیا کو ایک عجیب آرائش کے ساتھ کہ وہ تارے ہیں آراستہ کیا ہے۔

(6) ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو ایک عجیب آرائش کے ساتھ کہ وہ تارے میں آراستہ کیا ہے اور تاروں کی رونق کے ساتھ اس طرف کے آسمان کو رونق دی۔
Ayah 37:7

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہم نے ہر سرکش شیطان سے اس آسمان کی حفاظت بھی کی۔

(7) اور انہی ستاروں کے ساتھ آسمان کی ہر سرکش شیطان سے حفاظت کی۔ یعنی آسمان دنیا کو تاروں سے رونق بخشی اور زینت بخشی اور انہی تاروں کے ذریعہ شیاطین کو آسمان پر جانے سے روکا اور آسمان کی حفاظت کی کہ شیطان آسمان پر نہیں جاسکتے خواہ وہ تاروں کی کوئی خاص نوح ہو یا عام تارے ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوتا ہے تارے والے آسمان میں ہیں اگرچہ پھیراہر ایک اوپر ہو یا نیچے ہو اور ان ہی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے جیسے سورج سے آتشی شیشے سے۔ خلاصہ : یہ کہ جس طرح آتشی شیشے کو آفتاب کے سامنے کرنے سے آگ پیدا ہوتی ہے اسی طرح تاروں میں بھی کوئی خاص اثر ہوگا جس سے شیاطین ڈرتے ہیں اور اوپر جانے کی ہمت نہیں کرتے یہ مضمون سورة حجر چودہویں پارہ میں ذرا تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 37:8

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ شیاطین عالم بالا کے لوگوں کے باتیں سننے کو کان بھی نہیں لگا سکتے اور وہ ہر طرف سے پھینکے جاتے ہیں۔

(8) وہ شیاطین عالم بالا کے لوگوں کی باتیں سننے کو کان بھی نہیں لگا سکتے اور وہ ہر طرف سے پھینکے اور دھکے دیئے جاتے ہیں۔
Ayah 37:9

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

ان کے ہنکانے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔

(9) ہنکانے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔ یعنی اول تو شیاطین کی یہ ہمت نہیں کہ وہ ملاء اعلیٰ یعنی فرشتوں کی باتیں سننے کو اوپر جاسکیں اور اگر جاتے ہیں تو ان کو ہنکانے کی غرض سے مار کر دھکے دیئے جاتے ہیں اور ان پر شعلے پھینکے جاتے ہیں یہ سلوک تو ان کے ساتھ اس عالم میں کیا جاتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے دائمی عذاب مقرر ہے۔ غرض ! ان کو یہ موقع حاصل نہیں کہ کچھ خبریں آسمانی فرشتوں کو حاصل کرسکیں اور کاہنوں کو بتاسکیں جو لوگ شیاطین کی بندگی کرتے ہیں ان کے لئے شیاطین کی یہ بےبسی اور بےچارگی موجب عبرت اور موجب غیرت ہے ۔ غرض ! یہ ہے کہ جب یہ اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتے ان کو دھکے دے کر ہنکادیتے ہیں یا تاروں کی روشنی اور گرمی سے مردود ومطرود کردیاجاتا ہے۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر ہاں جو شیطان کوئی خبراچک کرلے بھاگے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے ہولیتا ہے۔

(10) مگر ہاں جو شیطان کوئی خبر اچک کرلے بھاگے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے ہولیتا ہے۔ یعنی اگر کلمات ملائکہ میں سے کوئی کلمہ سن کر بھاگ نکلے تو اس کے پیچھے ایک دہکتا ہوا شعلہ لگ لیتا ہے یہ شیاطین نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل ایسا کرتے تھے کہ آسمانوں کی خبریں اڑا لاتے تھے پھر اس میں کچھ باتیں اپنی طرف سے ملا دیا کرتے تھے اور کاہنوں کو بتادیا کرتے تھے۔ وہ کاہن اپنے معتقدوں اپنے فہم کا قصور سمجھتے تھے۔ بہرحال یہ سلسلہ جاری تھا انشاء اللہ تفصیل بشرط زندگی سورة جن میں آجائے گی یہ شعلہ اس شیطان کو بالکل خاکستر کردیتا ہے یا صرف مجروع کردیتا ہے اس میں دو قول ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول یہی ہے کہ یہ شعلہ ہلاک نہیں کرتا بلکہ شیطان کو شدید مجروح کردیتا ہے (واللہ اعلم) اب آگے قیامت اور بعثت کا ذکر فرمایا :
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اب آپ ان کافروں سے دریافت کیجئے کہ ازروئے پیدائش ان لوگوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا ان مذکورہ چیزوں کا جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ہم نے ان لوگوں کو ایک چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے

(11) اے پیغمبراب آپ ان کافروں سے دریافت کیجئے کہ ازروائے پیدائش ان لوگوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا ان مذکورہ چیزوں کا جن کو ہم نے پیدا کیا ہے بلاشبہ ہم نے ان کو ایک چپکتے گارے سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کا اور تاروں کا اور سورج اور ملا اعلیٰ کے فرشتوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت یا بنی نوع انسان کا پیدا کرنا کچھ سخت کام ہے جن کو ہم نے ایک چپکتی ہوئی مٹی اور گارے سے پیدا کیا ہے جن میں کوئی صلابت نہیں حالانکہ دوسری مخلوق زیادہ صلابت ہے جس ہم نے ان کو بنایا اور پیدا کیا ہے تو ان کا بنا لینا ہم کو کیا دشوار ہے جو ذات اقدس ایک بڑی سے بڑی مخلوق پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے اس کو ایک ضعیف الخلقت مٹی کے کھلونے کو دوبارا بنا لینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ آپ تو تعجب کرتے ہیں اور وہ مذاق اڑاتے ہیں۔

(12) بلکہ آپ تو تعجب کرتے ہیں اور وہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تجھ کو ان سے تعجب آتا ہے کہ ایمان کیوں نہیں لاتے اور ان کو تجھ سے ٹھٹا۔
Ayah 37:13

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو نصیحت کی جائے تو نصیحت قبول نہیں کرتے۔

(13) اور جب ان کو نصیحت کی جائے تو یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے۔ یعنی جب نصیحت کی باتیں سنائی جاتی ہیں اور دلائل عقلیہ سمجھائے جاتے ہیں تو یہ سنتے اور سمجھتے نہیں۔
Ayah 37:14

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اور زیادہہنسی اڑاتے ہیں۔

(14) اور جب کوئی نشان اور معجزہ دیکھتے ہیں تو اور زیادہ ہنسی اڑاتے ہیں۔ یعنی ثبوت نبوت کی غرض سے کوئی ایسا معجزہ ان کو دکھایا جاتا ہے جس سے دوبارہ بعثت پر دلیل قائم کی جاسکے تو مزید ہنسی اڑاتے اور دل لگی کرتے ہیں۔
Ayah 37:15

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کچھ نہیں یہ تو کھلا جادو ہے ۔

(15) اورکہتے ہیں کچھ نہیں یہ تو کھلا جادو ہے۔ یعنی یہ نشانی اور معجزہ نہیں بلکہ صریح جادو ہے۔
Ayah 37:16

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہ اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم پھر اٹھاجائیں گے۔

(16) بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 37:17

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی۔

(17) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے۔ یعنی مرگئے اور خاک اور ہڈیاں ہوگئے تو پھر ہم اور ہمارے گزشتہ باپ دادا کیا پھر اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ہاں تم سب اٹھائے جائو گے اور تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم ذلیل ہوگے۔

(18) آپ فرمادیجئے ہاں تم سب اٹھائے جائو گے اور تم ذلیل ہوگے۔ یعنی اٹھائے جائو گے اور چونکہ بعثت کے منکر تھے اس لئے بعثت کو دیکھ کر سخت ذلیل و خوار ہوگے۔
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

وہ بعثت تو بس ایک سخت للکار ہوگی کہ اس للکار کے ہوتے ہی سب دیکھنے بھالنے لگیں گے۔

(19) وہ بعثت اور وہ اٹھنا تو بس نفحہ صور کی ایک تند آواز اور للکار ہوگی کہ اس آواز اور للکار کے ہوتے ہی یہ سب دیکھنے بھالنے لگیں گے۔ یعنی بعثت صرف یہ ہے کہ صور میں نفحہ ثانیہ ہوگا اور نفحہ ثانیہ کے بعد فوراً ہی زندہ ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے بھالنے لگیں گے۔
Ayah 37:20

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور یہ سنکر کہیں گے ہائے خرابی ہماری یہ تو وہی جزا کا دن ہے۔

(20) اور منکرین بعث کہیں کے ہائے ہماری خرابی یہ تو وہی جزاء کا دن ہے۔
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

کہاجائے گا یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔

(21) کہا جائے گا یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ شاید فرشتے جواب دیں گے جب وہ تعجب کے ساتھ کہیں گے ہائے یہ تو وہی جزا کا دن ہے تو فرشتے کہیں گے ہاں یہی وہ یوم الفصل ہے جس کو تم جھوٹا کہا کرتے تھے۔
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

فرشتوں کو حکم دیاجائے گا کہ ظلم کرنے والوں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پوجا کرتے تھے۔

(22) فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ ظلم کرنے والوں کو اور ان کے ہم مشرب ساتھیوں کو اور ان کو جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے سب کو جمع اور اکٹھا کرلو۔
Ayah 37:23

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

سب کو جمع کرلو پھر ان سب کو دوزخ کی راہ بتائو۔

(23) پھر ان سب کو دوزخ کی راہ بتائو۔ یعنی ان سب کو جمع کرکے ان کو دوزخ کا راستہ بتائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حکم ہوا فرشتوں کو ان کے جوڑے کہا یا تو جو روئوں کو کہا یا ایک ایک قسم کے گنہگار جو اکٹھے ہیں ان کو کہا۔ خلاصہ : یہ کہ ازواج کے جمع کرنے کو کہا اس ازواج سے یا تو منکروں کی بیویاں مراد ہیں جو ان کی شریک حال رہتی تھیں اور ان کے ساتھ خود بھی شر میں مبتلا تھیں یا وہ لوگ مراد ہوں گے جو ان کے ہم مشرب تھے اور وہ بھی ظالموں جیسے اور ان کے ساتھی تھے۔ بہرحال ! ظالموں کو اور ان کے ہم مشرب ساتھیوں کو جمع کرنے کا حکم دیاجائے گا اور یہ بھی ارشاد ہوگا کہ ان کو دوزخ کی راہ دکھائو۔
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو کھڑا رکھو کیونکہان سے کچھ پوچھا جائے گا۔

(24) اور ان کو روکے رہو کیونکہ ان سے کچھ پوچھا جائے گا - یعنی جہنم میں جانے سے ذرا روکو تاکہ ان سے کچھ پوچھ گچھ کی جائے۔
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہوگیا تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے۔

(25) ارشا ہوگا تم کو کیا ہوگیا تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ وہ سب اس دن سرجھکاے کھڑے ہوں گے۔

(26) بلکہ وہ سب سرجھکائے کھڑے ہوں گے - یعنی بجائے ان دعوئوں کے جو دنیا میں کیا کرتے تھے کہ نحن جمیع منتصر یعنی ہم سب ایک دوسرے کے مددگار ہیں بجائے مدد کے آج وہ سب ذلیل وسرفگندہ کھڑے ہوں گے آگے ان کی آپس میں جو تو تو میں میں ہوگی اور ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کہیں گے اس کا ذکر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حکم کے بعد ٹھہرا کر لڑوا دیں گے آپس میں۔
Ayahs 37:27–28

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال جواب کرنے لگیں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

ماتحت لوگ سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہی تو ہو جو ہم پر پوری قوت سے چڑھ چڑھ آتے تھے۔

(27) اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال و جواب کرنے لگیں گے۔ یعنی بجائے ایک دوسرے کی مدد کے باہم اختلاف اور تو تو میں میں کرنے لگیں گے۔ تابع متبوع سے کہیں گے تم ہی تو ہ جو ہمارے پاس داہنی جانب سے آتے تھے یعنی پوری قوت اور زور سے چڑھ چڑھ کر آتے تھے - یعنی ہمارے گمراہ کرنے کو پورا زور ہم پر ڈالتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم پر چڑھے آتے تھے بہکانے کو زور سے اور رعب سے داہنا ہاتھ زور کا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ تم ہر طرف سے دبائو ڈالتے تھے دائیں سے اور بائیں سے یا یہ مطلب کہ تم قسم کھا کر ہم سے کہتے تھے کہ ہمارا ہی دین سچا ہے یا یہ کہ دین کا نام لے کر ہم کو گمراہ کرتے تھے۔
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ سردار کہیں گے نہیں یہ نہیں بلکہ تم خود ہی ایمان نہیں لاتے تھے۔

(29) وہ متبوع یعنی سردار اور بڑے لوگ کہیں گے نہیں یہ نہیں بلکہ تمخود ہی ایمان نہیں لائے تھے۔
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ زور تو تھا ہی نہیں بلکہ تم خود ہی تھے حد سے نکل جانے والے۔

(30) اور ہمارا تم پر کچھ زور اور غلبہ تو تھا ہی بلکہ تم خودہی حد سے نکل جانے والے تھے۔ یعنی گمراہ کرنا تو جب ہوتا کہ تم مومن ہوتے تو تو اہل ایمان ہی نہ تھے تو ہم پر گمراہ کرنے کا الزام ہی غلط ہے پھر کوئی حکومت بھی ہماری تم پر نہ تھی کہ ہم تم پر دبائو ڈالتے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم خود ہی سرکش اور حد سے نکل جانے والے لوگ تھے۔
Ayah 37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو اب ہم سب پر ہمارے رب کا وہقول ثابت ہو کررہا جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب کو مزہ چکھنا ہے

(31) سو اب ہم سب پر ہمارے پروردگار کا وہو قول اور وہ کلمہ ثابت ہو کر رہا جس کا خلاصہ اور جس کا ما حاصل یہ سب عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں - یعنی وہی ازلی بات کہ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یعنی اس نے اپنے علم ازلی کی بنا پر جو فرمایا تھا کہ میں جہنم کو شیاطین اور انسانوں سے بھردوں گا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم سب خواہ تابع ہوں یا متبوع سب ہی عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں اور اس کے اسباب یوں ہوئے۔
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم نے تم کو بھی گمراہی میں مبتلا کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔

(32) کہ ہم نے تم کو بہکایا اور ہم خود بھی گم کردہ راہ تھے۔ یعنی جو بات ہونے والی تھی اس کے اسباب یہ ہوئے کہ ہم نے تم کو بہکایا اور تم بالجبرواکراہ اپنے ارادے سے گمراہ ہوئے اور ہم خود بھی اپنے اختیار اور ارادے سے گمراہ ہوئے تھے آگے حضرت حق جل مجدہ کا ارشاد ہے۔
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

سو وہ سب کے سب اس دن عذاب میں مشترک ہوں گے۔

(33) پس وہ سب کے سب اس دن عذاب میں مشترک ہوں گے۔
Ayah 37:34

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلو ک کیا کرتے ہیں۔

(34) ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔
Ayah 37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی اور حقیقی معبود نہیں ہے تو یہ تکبرکا اظہار کیا کرتے تھے۔

(35) یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں تو یہ تکبر کا اظہار کیا کرتے تھے۔
Ayah 37:36

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور یوں کہاں کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر اور دیوانے کے کہنے سے چھوڑ دینے والے ہیں ۔

(36) اورکہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے چھوڑ دینے والے ہیں۔ یعنی چونکہ کفر میں اشتراک تھا تابع اور متبوع کا لہٰذا عذاب میں بھی دونوں شریک ہوں گے نافرمانوں اور مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں ان کی سرکشی کا یہ حال تھا ان کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دی جاتی تھی تو یہ اس کے مقابلے میں تکبر کرتے تھے اور تکبر سے اس دعوت کو ٹھکرا دیا کرتے تھے اور توہین آمیز لہجے میں کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر اور مجنوں کے کہنے سے چھوڑ دیں گے اور ان کی پوجا اور بندگی سے انکار کردیں گے۔ آگے جواب مذکور ہے۔
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

وہ نہ شاع رہے نہ دیوانہ بلکہ وہ سچا دین لے کر آیا ہے اور وہ سب پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے۔

(37) وہ نہ شاعر ہے نہ دیوانہ بلکہ وہ سچا دین لے کر آیا ہے اور وہ سب پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے۔ یعنی وہ دین حق لے کر آیا ہے اور گزشتہ پیغمبروں کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہے اس سے ان سب کی سچائی ظاہر ہوتی ہے یعنی سابقہ پیشین گوئیوں کے موافق آیا ہے اس کے آنے سے سب کی تصدیق ہوتی ہے یاد وہ سب انبیاء کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادے اور اس کے پیغمبر تھے۔
Ayah 37:38

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم سب کو درد ناک عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔

(38) بلا شبہ تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو۔
Ayah 37:39

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو بدلا نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔

(39) اور تم کو بدلا نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی تابع اور متبوع سب عذاب درد ناک کا مزہ چکھنے والے ہیں اور تم کو صرف انہی اعمال کفریہ اور شرکیہ کا بدلہ ملنا ہے جن کا تم ارتکاب کیا کرتے تھے۔
Ayah 37:40

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

لیکن ہاں اللہ کے وہ بندے جو مخصوص ہیں۔

(40) لیکن ہاں اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو مخصوص اور چیدہ ہیں۔ مخلص بندے وہی ہیں جو شرک و معاصی سے خالص ہوں ان کا کوئی تعلق ان لوگوں سے نہیں ہوگا بلکہ ان کے ساتھ معاملہ دوسری قسم کا ہوگا جو آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے کیوں کا بدلا نہیں معاف ہوں گے۔