Ayah 36:2(2) قسم ہے اس قرآن حکمت والے کی۔ بعض نے قرآن باحکمت کیا ہے اور بعض نے پختہ اور مضبوط کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے احکام حکمت سے لبریز ہیں یا یہ کہ اس کے دلائل نہایت محکم اور مضبوط ہیں جواب قسم آگے مذکور ہے۔
Ayah 36:3(3) بیشک آپ ﷺ پیغمبروں میں سے ہیں۔
Ayah 36:4(4) آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ یعنی آپ لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور جب آپ ہمارے فرستادوں میں سے ہیں تو یقینا آپ سیدھی راہ پر ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جواب ہے قسم کا اور یہ رد ہے کفار پر جس وقت کہ کہا انہوں نے کہ نہیں ہے تو رسول۔
Ayah 36:5(5) یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا جو نہایت زبردست نہایت رحم والا ہے۔ کمال قوت کا مالک ہے اس لئے جو احکام چاہے نازل کرسکتا ہے کوئی روکنے والا نہیں اور نہایت مہربان ہے اس ل ئے بندوں کو وہی حکم دیتا ہے اور بندوں کیلئے وہی احکام نازل فرماتا ہے جو بندوں کے دین اور دنیا کے لئے موجب فلاح اور موجب بہبود ہوتے ہیں۔
Ayah 36:6(6) آپ کو پیغمبر اس لئے بنایا اور یہ قرآن حکیم آپ پر اس لئے نازل کیا تاکہ آپ اس قوم کو اور ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا عرصہ سے نہیں ڈرائے گئے سو اسی وجہ سے وہ غافل اور بیخبر ہیں۔ یعنی عرب میں عرصہ سے کوئی مستقل نبی نہیں آیا اگرچہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) کے زمانے کے احکام تشریعی موجود تھے لیکن مردرزمانہ کی وجہ ان میں تحریف و تغیر ہوچکی تھی اور چونکہ آپ کی بعثت عام تھی اس لئے فرمایا لتنذرقوما ما انذر ابائوھم
Ayah 36:7(7) بلاشبہ ان میں سے اکثر پر تو عذاب کی بات ثابت ہوچکی سو وہ تو ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی ایمان نہ لانے والوں پر آپ افسوس نہ کریں دل تنگ نہ ہوں کیونکہ ان میں سے اکثر پر وہ ازلی اور تقدیری کلمۂ عذاب ثابت ہوچکا ہے اس لئے وہ تو ایمان لائیں گے نہیں شاید وہ بات دہ ہو جو فرمایا۔
لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین اور فرمایا سورة حج میں وکثیر حق علیہ العذاب آگے ان میں ایمان نہ لانیوالوں کی مثال بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 36:8(8) ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور وہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے کے اٹھے رہ گئے ہیں۔ یعنی ان کے کفروعناد اور ان کی شقاوت و بدبختی کی مثال ایسی ہے جیسے ہم نے ان کے گلے میں بھاری اور موٹے موٹے طوق ڈال دیئے جن کی وجہ سے ان کے سر نیچے نہیں ہوسکتے کہ یہ سیدھی راہ اختیار کرسکیں کسی جانب التفات ہی نہیں کرسکتے۔ غرض ان کی بداعمالیاں ان کے گلے کا ہار بن گئی ہیں جو ان کو راہ حق کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔ ہم سورة بقر میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ ایک برائی سے دوسری برائی پیدا ہوتی ہے اور آخر نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ حق کو ناحق اور ناحق کو حق سمجھنے لگتا ہے۔
العیاذ باللہ آگے دوسری مثال ان کی گمراہی کی بیان فرمائی۔
Ayah 36:9(9) اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے اور اوپر سے ان کو ڈھانک دیا ہے لہٰذا وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے۔ یہ بھی ان کے کفروعناد اور مخالفانہ جدوجہد کی تصویر و تمثیل ہے۔ یہی منکروں کی وہ باتیں ہیں جو دین حق کو قبول کرنے سے آڑ بن گئی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ بن کر ان کو حق کے دیکھنے سے اندھا بنادیا ہے اور ان کو کچھ سوجھتا نہیں۔ یہ تمام ان کی ناشائستہ حرکات کی مثال ہے۔ کوئی حرکت گلے کا طوق بن گئی ہے اور ان کی بعض حرکات ان کی محرومی کیلئے آڑ اور دیوار اور پردہ بن گئی ہیں۔ اسی لئے ان کی شقاوت و بدبختی کا آگے کی آیت میں اظہار فرمایا۔
Ayah 36:10(10) اور اے پیغمبر ان کے حق میں آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی یہ لوگ جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں ان کے حق میں ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ کو تبلیغ کا اجروثواب ملے گا لیکن ان کے ایمان لانے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ تفصیل کیلئے سورة بقر کی تسہیل ملاحظہ کرنے کی ضرورت ہے۔
Ayah 36:11(11) بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمان سے غائبانہ اور بےدیکھے ڈرے پس ایسے شخص کو آپ بڑی بخشش اور باعزت اجروثواب کی خوشخبری دے دیجئے۔ یعنی آپ کا ڈرانا اور آپ کے ڈرانے کا صحیح نفع تو اس شخص پر مرتب ہوتا ہے جو قرآن کی پیروی کرے اور رحمان جس کو دیکھا نہیں بن دیکھے اس کے ڈر سے خوف کھاتے رہیں۔ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو مغفرت اور باعزت اجروصلے کی بشارت دے دیجئے۔
Ayah 36:12(12) بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے ان تمام اعمال کو لکھتے رہتے ہیں جو وہ آگے بھیج جاتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کے اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک کھلی کتاب میں گھیر رکھا ہے اور محفوظ کر رکھا ہے یعنی لوح محفوظ میں۔
مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ کرتا ہے وہ عمل مرتے وقت ختم ہوجاتے ہیں لیکن بعض اعمال کا اثر مرنے کے بعد بھی رہتا ہے کوئی مدرسہ بنوا دیا یا اچھا طریقہ جاری کردیا۔ یا کوئی بری رسم قائم کر گیا۔ بہرحال خواہ پہلی قسم ہو اعمال کی یا دوسری اعمال اچھے ہوں یا برے ہوں سب ضبط تحریر میں آتے رہتے ہیں اور ہم تو ہر چیز کو اس کے وقوع سے پہلے ہی ایک واضح کتاب یعنی لوح محفوظ میں محفوظ اور ضبط کرچکے ہیں اور چونکہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں اس لئے زندہ ہونے کے بعد تمام اعمال کی جواب دہی ہوگی۔ سورة قیامۃ میں انشاء اللہ آجائے گا۔
ینبتوء الانسان یومئذ بما قدم واخر قدم سے مراد جو آگے کر گیا۔
اخر سے مراد جو پیچھے کے لئے چھوڑ گیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگے بھیج چکے اپنے اعمال اور پیچھے رہے نشانی اولاد اور عمارت اور رسم ڈالی نیک یا بد۔
Ayah 36:13(13) اور اے پیغمبر آپ ان کی عبرت کے لئے ان کے سامنے گائوں والوں کا قصہ عجیبہ اس وقت کا بیان کیجئے جب اس گائوں میں کئی رسول آگے پیچھے آئے۔ یعنی پہلے دو صاحب تشریف لائے پھر ان کے بعد ان دو کی تقویت اور تعزز کیلئے ایک صاحب اور بھیجے گئے۔ چونکہ اس قصے سے رسالت کا اثبات بھی ہے اور منکرین رسالت کی تہدید بھی ہے اس لئے اس واقعہ میں عبرت بھی ہے کیونکہ یہ لوگ رسولوں کی مخالفت کے باعث تباہ و ہلاک ہوئے آگے قصہ کی تفصیل مذکور ہے۔
اذجاء ھا اصحاب قریہ سے بدل اشتمال ہے۔
Ayah 36:14(14) جبکہ ہم نے پہلے ان گائوں والوں کی طرف دو پیغمبروں کو بھیجا تو ان گائوں والوں نے ان دونوں پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کو جھٹلا دیا پھر ہم نے تیسرے پیغمبر سے ان دونوں کو تقویت دی اور ان دونوں کی تائید کی پھر ان تینوں پیغمبروں نے ان گائوں والوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک یہ دونوں پیغمبر صادق اور صدوق تھے اور یہ دونوں حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) کے وصی تھے جن کو انطاکیہ والوں کے پاس بھیجا تھا چونکہ یہ انطاکیہ والے بت پرست تھے۔ اس لئے ان کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا۔ پھر جب ان دونوں صادق و صدوق کی گائوں والوں نے تکذیب کی تو پھر تیسرے صاحب جن کا نام شمعون بتایا جاتا ہے ان کو ان دونوں کی تائید کے لئے روانہ کیا لیکن بعض مفسرین کے نزدیک یہ گائوں انطاکیہ نہیں ہے بلکہ کوئی مبہم قریہ ہے اور یہ بھی صحیح نہیں کہ دونوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وصی تھے بلکہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ سے قبل یہ لوگ گئے ہوں اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین انبیاء میں سے ہوں۔
بہرحال یہ لوگ ان گائوں والوں کی اصلاح اور توحید کا پیغام لے کر پہنچے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ کے دو یار وہاں پہنچے شہر والوں نے ٹال دیئے پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے یار بڑے تھے۔
Ayah 36:15(15) گائوں کے اصحاب نے جواب دیا تم نہیں ہو مگر ہم ہی جیسے آدمی ہو اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم نہیں ہو مگر محض دروغ گو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تینوں پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہا تم تو محض ہماری طرح معمولی آدمی ہو تم میں کوئی امتیاز نہیں ہے اور تمہاری خصوصیت کیا ہے خدائے رحمان نے تو کبھی کوئی چیز یعنی کتاب اور احکام وغیرہ نازل ہی نہیں کئے تم نہیں ہو مگر دروغ گو یعنی جھوٹ بولتے ہو۔ تم خدا تعالیٰ کے فرستادہ نہیں ہو بلکہ نرے جھوٹے ہو۔
Ayah 36:16(16) ان فرستادوں نے فرمایا ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ بلاشبہ یقینا ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اور اسی کے فرستادے ہیں۔
Ayah 36:17(17) اور ہمارے ذمے تو صرف اللہ تعالیٰ کے پیغام کا صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
یعنی ان تینوں پیغامبروں نے توحید کے دلائل ان کو سنائے اور بتائے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ بہت سے بیماروں کو ان کی دعا سے شفاء بھی ہوئی تمام دلائل وبراہین دیکھنے کے بعد ان گائوں والوں نے ان کا رد کرنا شروع کردیا اور عام لوگوں کی طرح وہی بشریت کا اعتراض اٹھایا اور جملہ کتب سماویہ کا انکار کیا جیسا کہ ماانزل الرحمن من شئی سے ظاہر ہے جب پیغمبروں کی تکذیب میں گائوں والوں نے تاکید سے کام لیا تو انہوں نے مجبوراً اپنے کلام کو موکدبالقسم کرتے ہوئے فرمایا ربنا یعلم پیغمبروں کی اس سیدھی بات پر گائوں والوں نے جو اعتراض کیا وہ آگے مذکور ہے۔
Ayah 36:18(18) گائوں کے لوگوں نے کہا ہم نے تو تم کو منحوس پایا اور ہم نے تم سے شگون بد لیا اور ہم نے تم کو نامبارک دیکھا اگر تم اپنے دعویٰ سے باز نہ آئو گے اور اپنی اس دعوت توحید کو بند نہ کرو گے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے عبرتناک سزا ملے گی اور تم کو ہمارے ہاتھوں سخت تکلیف پہنچے گی۔
کہتے ہیں کہ اس زمانے میں قحط کے آثار نمایاں تھے اس بنا پر گائوں والوں نے ان کو منحوس کہا یا اس بنا پر کہا کہ تمہاری وجہ سے ہم میں اختلاف پیدا ہوگیا یہ تمہاری نحوست ہے۔
Ayah 36:19(19) انبیاء نے جواب دیا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اتنی بات پر کہ تم کو نصیحت کی گئی تم یہ سلوک کرنے پر آمادہ ہو نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری نحوست کا سبب تو تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے یعنی وہ کفر اور ناسپاسی ہے اگر اس کو چھوڑ دیتے تو نہ کوئی اختلاف ہوتا نہ قحط کا اندیشہ ہوتا۔ صرف اتنی بات پر کہ تم کو نصیحت اور تمہاری خیرخواہی کی گئی تم الزام تراشی اور دھمکیوں پر آمادہ ہوگئے۔
بات یہ ہے کہ تم لوگ حد شرع اور معقولیت سے نکل جانے والے لوگ ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید کفر کی شامت سے قحط ہوا ہوگا اس کو نامبارکی سمجھے یا آپس میں اختلاف ہو کسی نے مانا کسی نے نہ مانا اس کو کہا ہر طرح شامت ان ہی کی ہے۔
Ayah 36:20(20) اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا آ کے کہنے لگا اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو۔
Ayah 36:21(21) تم ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے تبلیغ پر کچھ اجرت اور معاوضہ طلب نہیں کرتے اور وہ خود بھی ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ یہ شخص کوئی پرانا مسلمان تھا یا ان ہی پیغمبروں کی تعلیم پر ایمان لایا تھا جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ قوم کے آدمی پیغمبروں کی توہین اور قتل کا ارادہ کر رہے ہیں تو یہ گھبرا کر شہر کے آخری حصے میں جہاں یہ رہتا تھا وہاں سے بھاگا ہوا آیا اور قوم کو سمجھانے لگا کہ اے میری قوم تم ان رسولوں کی اتباع اور پیروی کرو کیونکہ یہ بےغرض لوگ ہیں دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتے نہ کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں اور خود بھی راہ راست پر ہیں اور نیک لوگ ہیں پھر ان کے طریقے کو کیوں نہ اختیار کیا جائے اور ان کی پیروی کیوں نہ کرو بلکہ تم سب ان کی پیروی کرو۔
کہتے ہیں کہ اس شخص کا نام حبیب تھا یہ نجار یعنی بڑھئی یا دھوبی تھا۔ آگے اس نے خود اپنے پر رکھ کر توحید کی خوبیاں اور بتوں کی مذمت شروع کردی۔
Ayah 36:22(22) اور میرے لئے کون سا عذر ہے کہ جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور مجھ کو بنایا ہے میں اس کی عبادت اور پرستش نہ کروں اور تم سب اسی کی جانب واپس کئے جائو گے اور تم سب کی بازگشت اسی کی جا ہے۔ یعنی جس کا مجھ پر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس نے مجھ کو عدم سے وجود بخشا میں اس کی عبادت نہ کروں تو مجھ سے زیادہ احسان فراموش کون ہوسکتا ہے۔ یہ بات اپنے پر رکھ کر کہی تاکہ کسی کو ناگوار نہ ہو۔
Ayah 36:23(23) کیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور ایسے معبودوں کو اختیارکر لوں کہ اگر رحمان مجھے کچھ تکلیف اور نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان معبودوں کی سفارش میرے کام آئے اور نہ وہ مجھ کو اس تکلیف اور نقصان سے چھڑا ہی سکیں اور نہ خلاصی دے سکیں۔ یعنی رحمان کے مقابلہ میں نہ ان کی شفاعت نافع اور نہ ان میں بالذات کچھ قدرت۔
Ayah 36:24(24) اگر میں ایسا کروں تب تو میں یقینا صریح گمراہی میں مبتلا ہو جائوں گا۔ یعنی ایسا کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بےدست و پا قسم کے معبود اختیار کرنا صریح گمراہی ہے۔
Ayah 36:25(25) میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا ہوں سو تم میری بات سن لو۔ یعنی میں ایمان لا چکا ہوں تم بھی ایمان لے آئو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگے نقل کرتے ہیں کہ قوم نے اس کو شہید کیا اور بعضے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جیتا اٹھا لیا۔
Ayah 36:26(26) اس شخص کیلئے حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے کہا گیا جا بہشت میں داخل ہوجا وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی۔
Ayah 36:27(27) کہ میرے پروردگار نے مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو باعزت اور معزز لوگوں میں شامل کردیا۔ اگر وہ شہید کردیا گیا تھا تو ظاہر ہے کہ دخول جنت سے مراد شہداء کا وہ مقام ہوگا جو جنت سے متصل ہے اور اگر زندہ اٹھا لیا تو جنت ہی مراد ہوگی اور وہ اس وقت تک زندہ رہے گا جب عالم روحانیت کے باشندوں کو موت آئے اور مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہو کر جنت میں داخل کیا جائے۔
بہرحال ! قوم کے اس ناروا اور ظالمانہ سلوک کے باوجود جنت کے دخول کا حکم سن کر اس کو اپنی قوم یاد آئی کہ کاش میری قوم کو میرا حال معلوم ہوجاتا کہ توحید اور اتباع رسول کی وجہ سے میرے پروردگار نے مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو اپنے نیک اور معزز بندوں میں سے کردیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قوم نے اس سے دشمنی کی اس کو بہشت میں بھی قوم کی خیرخواہی رہی کہ اگر معلوم کرلیں میرا حال تو سب ایمان لے آئیں۔ زندہ اٹھائے جانے کا قول حضرت حسن بصری ؓ کی طرف منسوب ہے وہ فرماتے ہیں وہ جنت میں مرنے کے نہیں مگر وقت فنا ہونے زمین و آسمان کے۔ بہرحال ان کے متعلق دو قول ہیں مشہور یہ ہے کہ قوم نے ان کو سنگسار کردیا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 36:28(28) اور اس شہید کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہم کو لشکر بھیجنا ہی تھا۔ یعنی اس کی قوم کو تباہ کرنے کی غرض سے کسی لشکر کے بھیجنے کی ضرورت نہ تھی اور ہماری حکمت کا مقتضی یہ نہ تھا کہ ہم کسی لشکر کو بھیجتے یعنی ان کی ہلاکت کوئی ایسا دشوار امر نہ تھا کہ جس کے لئے کوئی جماعت فرشتوں کی مقرر کی جاتی، بلکہ ان کی ہلاکت کا کام بہت آسان تھا۔
Ayah 36:29(29) ان کی سزا تو صرف ایک ہولناک آواز تھی سو وہ یکایک بجھی ہوئی آگ کی طرح ہو کر رہ گئے۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے یا کسی اور فرشتے نے ایک چیخ ماری اور ایک ہی چیخ میں اس طرح بجھ کر رہ گئے جس طرح آگ جلتی ہوئی بجھ کر رہ جاتی ہے آگے بندوں کے طرز عمل پر افسوس کا اظہار ہے۔
Ayah 36:30(30) اے وائے اور افسوس بندوں کے حال پر کبھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔ یعنی ایسے بندوں پر جن کی عادت ہی تکذیب کی ہے بہت افسوس ہے ان کی حالت یہ ہے کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس پیغمبر کی تکذیب ہی کی یعنی ہر پیغمبر کو جھٹلایا۔
Ayah 36:31(31) کیا ان مکذبین رسالت نے اس امر پر نظر نہیں کی اور انہوں نے نہیں معلوم کیا کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتیں اور کتنے طبقات کو ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ ہلاک شدگان پھر ان کے پاس لوٹ کر نہیں آتے اور ان ہلاک شدگان کو ان کے پاس لوٹ کر آنا نصیب نہیں ہوا۔ یعنی ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم اسی بنا پر تباہ و برباد کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانے کے رسولوں کو جھٹلایا اور جو احکام وہ لے کر آئے ان کو نہیں مانا اور اپنی ضد اور ہٹ پر قائم رہے۔
بالآخر ان کو اس طرح ہلاک کیا کہ ان کو پھر لوٹ کر آنا ہی نصیب نہ ہوا۔ یہ واقعات اول تو مشہور بہت ہیں پھر ان کی تباہ شدہ بستیوں اور آبادیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں ان واقعات گزشتہ پر اگر غور کرتے تو انبیاء کی تکذیب سے باز آجاتے اور رسولوں کو جھٹلانا چھوڑ دیتے لیکن انہوں نے ان واقعات سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی یہ تو ان کے ساتھ دنیا میں سلوک ہوا۔ اب آگے جو ہوگا اس کا اظہار فرماتے ہیں۔
Ayah 36:32(32) اور ان سب میں کوئی ایسا نہیں جو اجتماعی طور پر ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے۔ یعنی تمام خلائق حشر میں ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے اور سب اکٹھے ہو کر پیش کئے جائیں گے۔ اجتماعی طور پر مجرمانہ حیثیت سے گرفتار ہو کر ہمارے روبرو حاضر ہوں گے یعنی گناہگاروں کی کیفیت یہ ہوگی احضار کا مطلب یہی ہے کہ گرفتار ہو کر پیش ہوں۔
شاہ صاحب (رح) نے اسی رعایت سے ترجمہ یوں کیا ہے اور حاضر کئے جائیں گے ہمارے پاس پکڑے۔
Ayah 36:33(33) اور منجملہ آیات قدرت و توحید کے ان لوگوں کے لئے خشک اور مردہ زمین ایک قدرت کی نشانی ہے کہ ہم نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا اور ہم نے اس زمین سے اناج اور مختلف قسم کے غلے نکالے سو اس میں سے یہ کھاتے ہیں۔ یعنی خشک اور بےگیاہ زمین کو ہم زندہ کردیتے ہیں اور اس میں سے ہر قسم کے غلے اور اناج پیدا کرتے ہیں اور اسی اناج اور حبوب کو یہ لوگ کھاتے ہیں اور چونکہ یہ کام وہی کرتا ہے اسی کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے اس لئے وہی قادرمطلق ہے اور غذائی معاملات میں ان کے معبود ان باطلہ کی کوئی شرکت نہیں ہے اس لئے وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔
Ayah 36:34(34) اور پیدا کئے ہم نے زمین میں باغ کھجوروں کے اور باغ انگوروں کے اور نیز اس زمین میں یا ان باغوں میں چشمے جاری کئے۔ فیھا میں دو قول ہیں بعض نے زمین مراد لی ہے بعض نے باغ مراد لئے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے جو چشمے زمین سے نکلتے ہیں ان کا پانی بھی باغوں میں دیا جاتا ہے۔ کھجوروں کا باغ جس میں کھجور کے درخت زیادہ ہوں اسی طرح انگور کا باغ جس میں انگور کے درخت زیادہ ہوں۔
Ayah 36:35(35) تاکہ لوگ باغ کے پھلوں میں سے یا اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو اور اناج کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا ہے پھر یہ کیوں اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتے۔
ثمرہ کی ضمیر میں بھی دو قول ہیں ہم نے دونوں کی طرف تیسیر میں اشارہ کردیا ہے۔ یہ پھل اس لئے پیدا کئے گئے تاکہ لوگ ان پھلوں کو کھائیں حالانکہ پھل کے پیدا کرنے میں ان کے ہاتھوں کا کوئی دخل نہیں۔ پانی دینا اور ہل چلانا یہ کام لوگ کرتے ہیں لیکن غلے اور پھلوں کی صورت نوعیہ اور مزہ وغیرہ عنایت کرنا اس میں کسی کو دخل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے پھر وہلوگ اس کا احسان مان کر شکرکیوں نہیں بجا لاتے۔
Ayah 36:36(36) وہ ذات جملہ عیوب سے منزہ اور پاک ہے جس نے زمین کی نباتات میں سے اور خود انسانوں میں سے اور نیز اس مخلوق میں سے جس کو یہ لوگ نہیں جانتے ہر چیز کو جوڑا جوڑا اور ایک دوسرے کا مقابل بنایا یعنی جو چیززمین اگاتی ہے اور خود ان میں سے یعنی انسانوں میں سے اور وہ چیزیں جن سے لوگ ابھی تک ناآشنا ہیں اور وہ پردہ غیب میں نہاں ہیں ان سب میں اس پاک ذات نے ایک کو دوسرے کا جواب اور مقابل بنایا اور ایک کو دوسرے کا جوڑا بنایا۔ غرض تمام مخلوق میں خواہ وہ جس کو لوگ جانتے ہوں خواہ وہ جس کو لوگ نہ جانتے ہوں سب میں ایک قسم کی مماثلت اور جوڑ موجود ہے۔ جیسے نر اور مادہ اور اجناس و انواع اور اصناف متبادلہ وغیرہ۔
Ayah 36:37(37) اور ان لوگوں کے لئے نشان ہائے قدرت میں سے رات بھی ایک قدرت خداوندی کی نشانی ہے اس رات پر سے ہم دن کو کھینچ کر اتار لیتے ہیں پس یکایک یہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔
Ayah 36:38(38) اور آفتاب بھی قدرت خداوندی کی ایک نشانی ہے جو اپنی ٹھہری راہ اور اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے یہ اس خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ نظام ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
جس طرح کسی جانور کا پوست اور اس کی کھال سے اس کا اندرونی حصہ چھپا رہتا ہے اور کھال اتارنے سے وہ اندرونی حصہ ظاہر ہوجاتا ہے اس طرح رات کی تاریکی پر دن کی روشنی چھائی رہتی ہے جہاں وہ چھائی ہوئی روشنی اتاری گئی اور چھپی ہوئی تاریکی نمایاں ہوئی اور لوگوں پر اندھیرا چھا گیا اورو ہ اندھیرے میں ہوگئے۔ یہ کھال کھچ جانے کی مثال سے شب و روز کے انقلاب کی تصویر سمجھائی اسی طرح آفتاب کو بھی قدرت کی ایک نشانی بتایا کہ اتنا بڑا کرہ کس طرح مقرر کردہ راہ پر چلتا رہتا ہے خواہ وہ راستہ صبح سے شام تک کا ہو اور خواہ وہ نقطہ ہو جہاں سال بھر کی مسافت طے کرکے پہنچتا ہو۔
بہرحال ! مستقرا دونوں کو شامل ہے۔ وہ سالانہ دورہ ہو یا دن رات کا چلنا ہو نظام شمسی کا مقررہ نظام اس نے مقرر کیا ہے جو بڑی قوت والا اور بڑے علم والا ہے۔
Ayah 36:39(39) اور چاند بھی اس کے لئے قدرت خداوندی کی ایک نشانی ہے جس کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ وہ آخر میں ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی۔ یعنی چاند کی چال کے لئے منزلیں مقرر ہیں ہر دن میں ایک مقررہ مسافت کو قطع کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ آخر میں ایسا رہ جاتا ہے جیسے خشک ٹہنی کھجور کی یعنی پتلا اور مڑا ہوا جیسے خم دار ٹہنی کھجور کی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاند اور سورج ملتے ہیں مہینے کے آخر تو چاند چھپ گیا جب آگے بڑھا تو نظر آیا پھر منزل منزل بڑھتا چلا جب تک پھر اسی جگہ جا پہنچا ٹہنی سا نظر آیا پھر ٹہنی سا ہو کر چھپا بیچ میں بڑھ کر پورا ہوا اور گھٹا اور منزلیں ہیں اٹھائیس۔
Ayah 36:40(40) نہ آفتاب کی یہ مجال کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں چکر لگایا کرتے ہیں اور تیرتے رہتے ہیں۔ یعنی نہ آفتاب کو یہ طاقت کہ وہ چاند کو رات میں آپکڑے نہ رات کی یہ مجال کہ وہ قبل از وقت دن سے آگے آجائے۔ ان میں سے ہر ایک یعنی چاند سورج اور سیارے غرض تمام اجرام علویہ اپنے اپنے دائرے پر اس طرح چلتے رہتے ہیں جیسے وہ تیر رہے ہیں۔ شاید فلک کہنے سے افلاک سبعہ کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اجرام علویہ کے دوائر مختلف افلاک میں بتاتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
غرض ! جملہ اجرام علویہ اور اجسام فلکیہ اس کے حکم کے ماتحت اور اس کے تابع ہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
جملہ ذرات زمین وآسمان
مظہر سرحیاتست اے جواں
کے تو اندیا فتن آں راخرد
ہست او سرے خرد کے پے بردۃ