35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

تمام تعریفیں اسی خدا کو سزاوار ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنا نکالا اسی نے فرشتوں کو پیغام رساں بنایا جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوق کی پیدائش اور بناوٹ میں جو چیز چاہے بڑھا دیتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

(1) تمام تعریفیں اور تمام حمدوثناء اس اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزاوار ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا اور فرشتوں کو پیغام لانے والا بنایا جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوق کی پیدائش اور بناوٹ میں جو چیز چاہے بڑھا دیتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمام تعریفیں سزاوار ہیں وہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو عدم سے وجود بخشا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا۔ فرشتوں کو پیغامبر بنایا۔ یعنی وحی اور بشارتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے پیغمبروں کے پاس لاتے ہیں۔ فرشتوں کے پر والے بازو ہیں، نہ معلوم ان کی کیفیت کیا ہوگی جس نے فرشتوں کو دیکھا ہو وہی سمجھ سکتا ہے۔ دو دو تین تین چار چار بازوئوں میں انحصار نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بڑھاتا ہے یعنی چار سے زیادہ پر ہیں بعضوں نے کہا جبریل (علیہ السلام) کے چھ سو پر ہیں۔ فاطرالسمٰوٰت والارض کے معنی ہیں آسمان و زمین کا بنانے والا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ میں فاطر کے معنی میں الجھا ہوا تھا پہلی مرتبہ میرے سامنے دو اعرابی جھگڑتے ہوئے آئے جھگڑا ایک کنویں کا تھا دونوں میں سے ایک نے کہا۔ انا فطرتھا یعنی میں نے اس کنویں کو بنایا ہے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ فاطر کے معنی ہیں بنانے والا۔ آگے اس کی قدرت کی وسعت اور اس کے قدیر ہونے کا ذکر ہے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اپنی جو رحمت اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے کھول دے تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور وہ اپنی جو مہربانی روک لے تو اس کا کوئی بھیجنے اور جاری کرنے والا نہیں اور وہی کمال قوت کمال علم کا مالک ہے

(2) جو کچھ کھول دے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے رحمت اور مہر سے تو اس کا کوئی روکنے اور بند کرنے والا نہیں اور وہ جو کچھ روک لے اور بند کرلے تو اس کے بند کئے پیچھے کوئی بھیجنے والا اور جاری کرنے والا نہیں اور وہی ہے کمال قوت کمال علم کا مالک۔ یعنی اس کی قدرت کاملہ کا یہ عالم ہے کہ وہ مہربانی سے اپنے بندوں کو نوازنا چاہے تو اس کی مہربانی کو کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ خود اپنی کسی مصلحت سے کوئی چیز روک لے تو اس کے روکنے کے بعد کوئی جاری کرنے والا نہیں۔ مثلاً اگر وہ بارش اور نباتات کی روئیدگی اور ارزانی کا دروازہ کھول دے تو کوئی ان نعمتوں کو روک نہیں سکتا اور اگر کبھی حضرت حق تعالیٰ ہی اپنی مصلحت اور حکمت کے ماتحت کوئی چیز روک لیں تو ان کے روکنے کے بعد کوئی جاری کرنے والا نہیں وہ غالب بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔ حدیث میں آتا ہے۔ اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد یعنی تو جو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو اس کی دولت تیرے عذاب کے مقابلے میں نفع نہیں دے سکتی۔
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو ! اللہ کے تم پر جو احسانات ہیں ان کو یاد کرو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی پہنچاتا ہو۔ اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر تم کہاں پھرے جا رہے ہو

(3) اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسانات کئے ہیں ان کو یاد کرتے رہا کرو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی خالق اور بنانے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی پہنچاتا ہو اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے جو بیشمار احسانات بنی نوع انسان پر ہیں ان کو یاد کرتے رہو تاکہ شکر کا جذبہ پیدا ہو اور نافرمانی سے بچو اور یہ غور کرو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو آسمان سے پانی برسا کر اور زمین سے نباتات اگا کر تمہارے رزق کا سامان مہیا کرے اور اس طرح آسمان و زمین سے تم کو روزی پہنچائے ۔ سوائے اس معبود حقیقی کے اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ پھر تم توحید کو چھوڑ کر شرک کی طرف کیوں پھرے جا رہے ہو اور اس کی الوہیت میں کیوں کسی دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہو۔ آگے نبی کریم ﷺ کے رسول برحق ہونے کا ذکر اور آپ کے لئے تسلی ہے۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے جا چکے ہیں اور ہر قسم کے تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

(4) اور یہ دین حق کے منکر آپ کی تکذیب کریں اور آپ کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں تو آپ سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب کی جا چکی ہے اور آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں اور سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پھیرے جائیں گے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے ساتھ منکروں کا ہمیشہ سے یہی شیوہ چلا آتا ہے جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بھی اپنے اپنے رسولوں کو جھوٹا بتاتے تھے اسی طرح یہ کفار قریش آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اس سے آپ کو گھبرانا نہیں چاہیئے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کاموں کی بازگشت ہے۔ جہاں رسولوں کو ان کی مظلومیت کا صلہ ملے گا اور ظالموں کو تکذیب کی جزا دی جائے گی۔ آیت کا آخری حصہ وعد اور وعید دونوں کو شامل ہے۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے۔ سو کہیں تم کو دنیوی زندگی دھوکے میں مبتلا نہ کر دے اور تم کو خدا کے بارے میں وہ دھوکے باز شیطان کسی دھوکے میں نہ ڈال دے

(5) اے لوگو ! یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے سو تم کو دنیوی زندگی کہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور تم کو خدا کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدے سزا اور جزا کے کئے ہیں اور بعث اور حشرونشر کے جو وعدے تم سے کئے ہیں وہ سب برحق ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی زندگی تم کو فریب دے دے یا دغاباز شیطان تم کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی جانب سے کسی فریب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی زندگی کا دھوکہ یہی کہ اس زندگی میں منہمک ہو کر آخرت سے غافل ہو جائو اور شیطان کا دھوکہ یہی کہ وہ تم کو سمجھا دے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو جانا نہیں اور وہ تم کو عذاب نہ کرے گا یا نیک کاموں کا صلہ نہ ملے گا۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنے گروہ کو محض اس لئے بلاتا ہے تاکہ وہ لوگ دوزخ والوں میں شامل ہوجائیں

(6) یقین مانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنی جماعت اور اپنے گروہ کو صرف اس لئے بلاتا ہے کہ وہ لوگ دوزخ والوں میں شامل ہوجائیں۔ یعنی شیطان کی عداوت تو ظاہر اور کھلی ہوئی ہے تمہارے باپ کے وقت سے یہ دشمنی چلی آتی ہے۔ لہٰذا تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو اور اس کا کام ذہن میں رکھو وہ تو اپنے قریب کے لوگوں کو اس لئے بلاتا اور پکارتا اور دعوت دیتا رہتا ہے کہ انسانوں کو فریب دے کر جہنم والوں میں شامل کر دے اور اہل جہنم کی تعداد میں اضافہ کر دے اور اس دغاباز کا کام ہی کیا ہے۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے

(7) جو لوگ اس کے فریب میں آ کر دین حق سے منکر ہوگئے اور کافرانہ روش اختیار کرلی تو ان لوگوں کیلئے سخت سزا ہے اور جو لوگ شیطان کی دھوکہ دہی سے بچ کر ایمان لے آئے اور نیک اعمال کے پابند اور خوگر رہے تو ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت و بخشش اور بڑا اجروثواب ہے۔ اس آیت میں منکر اور مومن کے انجام کی خبر دی گئی ہے آگے برے اعمال کا دنیا میں جو اثر ہوتا ہے اس کا اظہار ہے اور نبی کریم ﷺ کی تسلی اور تشفی ہے۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس کی نگاہ میں اس کے عمل کی برائی خوشنما کردی گئی ہو اور وہ اس برے عمل کو اچھا سمجھتا ہو تو کیا یہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو ایسا نہ ہو یقین جانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اور جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے سو اے پیغمبران کافروں پر افسوس کرتے کرتے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ بلاشبہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا کو اس سب کا علم ہے

(8) بھلا کیا وہ شخص جس کا برا عمل اس کے لئے خوش نما اور آراستہ و مزین کردیا گیا ہو پھر وہ اس عمل بد کو اچھا سمجھ رہا ہو تو کیا یہ شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو برے کو برا سمجھتا اور دیکھتا ہو کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ اور گمراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اے پیغمبر ان منکرین دین حق پر حسرت اور افسوس کرتے کرتے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو ان کے کاموں کی جو وہ کرتے ہیں سب خبر ہے۔ یعنی دین حق کے منکروں کو ان کے برے اعمال کفروشرک وغیرہ اچھے دکھائی دیتے ہیں ان برے اعمال کو ان کی نگاہ میں شیطان آراستہ و پیراستہ کر کے اور مزین کر کے دکھاتا ہے۔ شاید یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی یا اہل بدعت اور خوارج کے حق میں نازل ہوئی ہو پھر جو برے عمل کو اچھا اور بدنما کو حسین سمجھے وہ شخص اس حقیقت آشنا کے برابر کیسے ہوسکتا ہے جو توحید اسلامی کو اچھا اور شرک کو برا جان کر اس سے بیزار ہے۔ اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ مومن اور کافر برابر نہیں ہے اس پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص برے فعل کو اچھا کس طرح سمجھ سکتا ہے۔ اس کا جواب ہے کہ حضرت حق تعالیٰ جس بدنصیب سے چاہیں اپنے دامن ہدایت کو سمیٹ لیں اور اپنی رہنمائی سے اس کو محروم کردیں اور جس خوش نصیب کے لیے اپنی رہنمائی کے دامن وسیع کردیں اور اس کی رہنمائی فرما دیں اور ان کی رہنمائی کرنے کا یہ اثر ہے کہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا سمجھتا ہے اور ان کا اپنی رہنمائی کے دامنوں کو سمیٹ لینے کا اثر یہ ہے کہ انسان برے کاموں کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ پس اے پیغمبر ایسے عقل کے دشمنوں اور شیطان کے فریب خوردہ لوگوں پر غم نہ کیجئے اور پچتا پچتا کر اپنی جان نہ کھو بیٹھئے ان کی تمام کارروائیوں سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور واقف حال ہے۔ آگے دلائل توحید اور قیامت کا پھر ذکر ہے۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم اس بادل کو کسی خشک اور مرے ہوئے قطعہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر اس کے ذریعہ سے ہم زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتے ہیں اسی طرح لوگوں کا جی اٹھنا ہے

(9) اور اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادل کو اٹھاتی اور ابھارتی ہیں پھر ہم اس بادل کو کسی خشک اور مرے ہوئے قطعہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر ہم اس بادل یعنی اس کے پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتے ہیں۔ یعنی نباتات اگاتے ہیں اسی طرح لوگوں کا قیامت میں جی اٹھنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مثل زندہ کرنے زمین خشک کے اٹھنا اموات کا ہوگا۔ قبروں سے کہا گیا ہے کہ زندہ کرے گا اللہ خلق کو ساتھ ایک پانی کے کہ بھیجے گا اس کو عرش کے نیچے سے کہ اس میں تاثیر منی کی ہوگی اگا دیگا اس سے اجساد خلق کے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے تو سب قسم کی عزت اللہ ہی کو حاصل ہے پاکیزہ کلام خدا ہی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اس پاکیزہ کلام کو بلند کردیتا ہے اور جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوتا ہے اور ان لوگوں کی یہ سب تدبیریں نابود و برباد ہوجائیں گی

(10) جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے تو ہر قسم کی تمام تر عزت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔ پاکیزہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں چڑھتا ہے اور عمل صالح اور نیک کام اس پاکیزہ کلام کو اٹھاتا اور بلند کرتا ہے اور وہ لوگ جو بری تدبیریں اور برے دائوں کرتے رہتے ہیں ان کیلئے سخت سزا اور سخت عذاب ہے اور ان لوگوں کے یہ دائوں اور بری تدبیریں سب نابود و برباد ہوجائیں گی اور ان کا دائوں نقصان اور خسارہ کا ہے۔ دین حق کے منکروں کو یہ گھمنڈ تھا کہ ہمارے معبود دنیا میں اور خصوصاً آخرت میں ہمارے شفیع ہوں گے۔ اور ہماری عزت اور سربلندی کے یہی معبود ان باطلہ ضامن ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ نے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ عزت مطلقہ اور بالذات اسی اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اگر دوسرے کو کوئی عزت ملتی ہے اور تعزز حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کی عنایت اور فضل سے میسر ہوتا ہے۔ عزت کا اصلی اور بالذات مالک وہی ہے اور دوسروں کو جو تعزز حاصل ہوتا ہے وہ بالواسطہ ہوتا ہے۔ جیسا سورة منافقون میں انشاء اللہ آجائے گا۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ بالعرض محتاج ہوتا ہے بالذات کا تو سب حق تعالیٰ کے حصول عزت میں محتاج ہوئے۔ آگے فرمایا کلام پاکیزہ یعنی ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن اور دعائیں وغیرہ سب اس کی بارگاہ میں چڑھتی ہیں اور وہی ان کو قبول فرماتا ہے۔ گویا اذکار کا ذاتی اقتضا اوپر چڑھنا ہے اس کلام کے ساتھ نیک اعمال بھی ہوں تو اذکار کو سہارا مل جاتا ہے۔ عمل صالح سے مراد تمام نیک کام خواہ ظاہری ہوں یا باطنی بلکہ تصدیق قلبی کو بھی شامل ہیں اگر اذکار الٰہیہ کے ساتھ یہ چیزیں بھی ہوں تو ان کو اور بلندی یعنی قبولیت تامہ حاصل ہوجاتی ہے۔ بعض حضرات نے یرفعہ کی ضمیر سے یہ مطلب لیا ہے کہ عمل صالح اللہ تعالیٰ خود بلند فرماتا۔ بعضوں نے کہا پاکیزہ کلام کو اچھا اور نیک کام بلند کرتا ہے۔ حضرات مفسرین نے کئی طرح معنی کئے ہیں ایک قرأت والعمل کے لام کو فتح کے ساتھ بھی ہے۔ اس تقدیر کے معنی یہ ہیں کہ پاکیزہ کلام نیک عمل کو بلند کرتا ہے اور معراج قبول کو پہنچاتا ہے۔ بہرحال ! پہلے معنی جو ہم نے بیان کئے وہ راجح معلوم ہوتے ہیں اور بات بھی یہی ہے کہ اذکار طیبہ تو اگر کسی فاسق کے منہ سے نکلیں تو وہ بھی اوپر چڑھتے ہیں لیکن عمل صالح بھی اگر ہوں تو قبولیت کی امید زیادہ ہے یہ مقبولیت ایمان خالص کے ساتھ وابستہ ہے اور جو لوگ ہر وقت اسلام اور پیغمبر اسلامی کیخلاف ریشہ دوانیاں کرتے رہتے ہیں تو ان کے مکروفریب اور بری قسم کی ریشہ دوانیاں سب نیست و نابود ہوجائیں گی اور ان کے مکروفریب کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور بہت نقصان پہنچے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عزت اللہ کے ہاتھ ہے تمہارے ذکر اور بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں جب اپنی حد کو پہنچیں گے تب بدی پر غلبہ کریں گے۔ کفر دفع ہوگا اسلام کو عزت ہوگی یعنی ہر ایک کام سہج سہج ہوتا ہے جیسے آدمی کا بننا۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا اور نہ کسی بڑے عمر والے کی عمر دی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔ مگر یہ سب کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہوتا ہے اس میں شک نہیں کہ یہ سب کام اللہ پر آسان ہیں

(11) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نسل انسانی اور آدم کی اولاد کو نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا یعنی نر و مادہ کو پیدا کیا اور بغیر علم الٰہی کے نہ کوئی مادہ حمل کو اٹھاتی ہے اور نہ حمل کو جنتی ہے اور نہ کسی بڑے عمر والے کی عمر مقرر کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم مقرر کی جاتی ہے مگر یہ سب کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے بلاشبہ یہ کام اللہ پر آسان ہے۔ یعنی کسی عورت کو حمل ٹھہرنا اور کسی کا وضع حمل ہونا اس سب کی اس کو اطلاع ہوتی ہے بلکہ حمل کے گھٹنے بڑھنے کا بھی اس کو علم ہوتا ہے جیسا کہ سورة رعد میں گزر چکا ہے اور کسی عمر کا زیادہ ہونا یا کسی کی عمر کم ہونا یہ سب بھی لوح محفوظ میں مکتوب ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی بناء پر لوح محفوظ میں ثبت ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ پر آسان ہے کیونکہ اس کا علم ذاتی ہے جس کی نسبت جمیع معلومات کے ساتھ وقوع سے قبل اور وقوع کے بعد یکساں ہے۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریائوں کی کیفیت مساوی نہیں ہے ایک تو میٹھا ہے پیاس بجھاتا جس کا پینا خوشگوار ہے اور ایک کھاری سخت کڑوا ہے اور تم ہر ایک میں سے تازہ گوشت گھاتے ہو اور زینت کا وہ سامان بھی نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو یعنی موتی وغیرہ اور اے مخاطب تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ وہ دونوں میں سے ہر ایک میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم خدا کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم خدا کا احسان مانو

(12) اور دونوں دریا اپنی کیفیت میں برابر نہیں ہیں اور دونوں مساوی نہیں ہیں ایک تو شیریں اور میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ دوسرا کھاری اور سخت کڑوا ہے تم ہر ایک میں تازہ گوشت کھاتے ہو اور زینت کا وہ سامان بھی نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو۔ اور اے مخاطب تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ وہ دونوں میں سے ہر ایک میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں۔ یہ اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا احسان مانو دو دریائوں کا ذکر فرمایا ایک کھاری اور دوسرا میٹھا یا تو ان دونوں کے علیحدہ رہنے کی صورت میں ان کی کیفیت کا بیان ہے یا مل کر بہنے کی حالت کا تذکرہ ہے اور دونوں کے اختلاط کی صورت کا بیان ہے۔ بہرحال ایک دریا یا حصہ دریا میٹھا شریں خوش ذائقہ پیاس کو بجھانے والا ہے اور دوسرا دریا یا دوسرا حصہ سخت کڑوا اور بدمزہ ہوتا ہے۔ لہٰذا مزے میں دونوں دریا کے حصے یا دونوں دریا برابر نہیں ہاں ! مچھلی کا گوشت دونوں میں سے ملتا ہے اور زینت کا سامان بھی یعنی موتی اور مونگا وغیرہ خوبصورت کوڑیاں اور منکے دونوں میں مل جاتے ہیں۔ کھاری پانی میں تو عام طور سے لیکن جب کھاری میٹھے اختلاط کے ساتھ بہتے ہیں تو دونوں حصوں میں یہ چیز دستیاب ہوجاتی ہیں جس کا لوگ زیور بنا کر پہنتے ہیں جیسا کہ ہم سورة نمل میں عرض کرچکے ہیں۔ کشتیاں اور جہاز ہر ایک دریا کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں تاکہ سفر کرو اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا فضل اور روزی کو تلاش کرو یعنی تجارت کر کے مال بڑھائو اور روزی کمائو اور تاکہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات سے فائدہ اٹھا کر اس کا شکر بجا لائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر اور اسلام برابر نہیں خدا کفر کو مغلوب ہی کرے گا اگرچہ تم کو دونوں سے فائدہ ملے گا۔ مسلمانوں سے قوت دین اور کافروں سے جزیہ خراج گوشت میٹھے کھاری دونوں پانیوں سے نکلتا ہے۔ یعنی مچھلی اور گہنا یعنی موتی مونگا اور جواہر اکثر کھاری سے اور کبھی میٹھے سے۔ یہ جو فرمایا گہنا جو پہنتے ہو، معلوم ہوا جواہر نراپہننا مردوں کو حرام نہیں۔ نبی کریم ﷺ جب پانی پیتے تو فرماتے۔ الحمد للہ الذی جعلہ عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجاً بذنوبنا
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔

(13) وہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے اور اس کام میں لگا رکھا ہے ان میں سے ہر ایک سورج اور چاند ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا یہی اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت اور بادشاہی ہے اس کے سوا جن کو تم پوجتے اور پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی رات کے اجزاء دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کے اجزاء رات میں داخل کردیتا ہے۔ دونوں سورج چاند مسخر ہیں اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ ایک وقت مقرر سے مراد قیامت ہے کہ قیامت کے دن تک یہ اسی طرح چلتے رہیں گے۔ یہی اللہ تعالیٰ جس کی یہ عظمت اور شان ہے تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی سلطنت ہے وہی عالم بالا پر حکومت کرتا ہے اور وہی عالم خاکی اور ارضی کا فرماں روا ہے اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اور پکارتے ہو ان کو ایک چھلکے کا بھی اختیار نہیں۔ کہاں ارض و سماء پر حکمرانی اور کہاں ایک چھلکے کا مالک نہ ہونا یہ تمہارے معبود ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے دیر سویر نہیں ہوتی پھر اس میں سے اللہ کی وحدانیت نکلی۔ قطمیر کہتے ہیں باریک چھلکے جو کھجور کی گٹھلی پر ہے۔ دن رات گھٹنا بڑھنا مشاہدات میں سے ہے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہاری پکار کو سن ہی نہیں سکتے اور اگر فرض کرو سن بھی لیں تو تمہاری پکار پر نہ پہنچ سکیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے اس شرک کرنے کی مخالفت اور انکار کریں گے اور اے مخاطب تجھ کو خدائے خبیر کی طرح کوئی دوسرا نہیں بتاسکے گا

(14) اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سن سکتے اور اگر فرض کرو وہ معبودان باطلہ سن بھی لیں تو تمہاری پکار کو قبول نہ کریں گے اور تمہاری پکار پر نہ پہنچیں گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے اور شریک ٹھہرانے کی خود مخالفت کریں گے اور منکر ہوجائیں گے اور اے مخاطب تجھ کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی دوسرا نہ بتاسکے گا۔ یعنی جمادات میں تو سننے کی صلاحیت ہی نہیں اور رہے صاحب ارواح تو ان کا سننا بھی بغیر اذن خداوندی متحقق نہیں اور اگر سن بھی لیں تو وہ کام نہیں آسکتے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا پکارنے کو پسند نہیں کرتے اور اپنے کو پکارنے پر راضی نہیں رہے۔ شیاطین تو ان میں قدرت مستقلہ نہیں۔ پس سن لینے کے باوجود کام نہیں آسکتے۔ پھر مزید برآں وہ سب مدعولہم قیامت کے روز تمہارے ان مشکرکانہ افعال کا انکار کریں گے۔ ماکنتم ایانا تعبدون۔ اور یہ جو فرمایا ولا ینبئک مثل خبیر یہ ایک عربی کی مثل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خبردار یعنی اللہ تعالیٰ کی طرح کوئی آپ کو خبر نہیں دے سکتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ سے زیادہ احوال کون جانے وہی فرماتا ہے یہ شریک غلط ہیں۔ یعنی اس سے زیادہ کوئی واقف حال نہیں اس لئے وہی خبر دے سکتا ہے اور اس کی خبر صحیح ہوسکتی ہے وہی فرماتا ہے کہ یہ شریک غلط ہیں اور شرک کا انجام برا ہے۔ لہٰذا اس کی بات کا یقین کرنا چاہیئے اور شرک کو ترک کردینا چاہیے۔
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ وہی ہے بےنیاز اور سب خوبیوں والا ہے

(15) اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ وہی ہے بےنیاز و بےاحتیاج سب خوبیوں سراہا اور تعریف کیا گیا۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کر کے فرمایا تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو وہ سب سے بےنیاز ہے وہ کسی کا محتاج نہیں اور وہ تمام صفات حمیدہ سے متصف ہے لہٰذا عبادت کرنے اور شرک سے بچنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے کفر کی پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو تمام خوبیوں سے متصف اور تعریف کیا گیا ہے۔ وہ سب خوبیوں کا مالک ہے۔ آگے حضرت حق تعالیٰ کی قوت اور مخلوق کی کمزوری کا ذکر فرمایا۔
Ayah 35:16

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو سب کو معدوم کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق کو لاموجود کرے

(16) اگر وہ چاہے تو تم کو لے جائے اور تم سب کو معدوم کر دے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق کو لے آئے اور لاموجود کرے۔
Ayah 35:17

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ لے جانا اور لے آنا اللہ پر کچھ دشوار نہیں ہے

(17) اور یہ لے جانا اور لے آنا اللہ تعالیٰ پر کچھ دشوار نہیں۔ یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قوموں کی الٹ پلٹ ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں ہم تمہارے کفر کی وجہ سے تم کو فنا کردیں اور تمہاری جگہ عبادت گزار لوگوں کو لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایسا کرنا دشوار نہیں۔ قوموں کی تاریخیں اس قسم کے انقلابات سے لبریز ہیں جس وقت چاہیں ایسا کرسکتے ہیں کہ بروں کو فنا کر کے اچھوں کو لے آئیں لیکن بمقتضائے حکمت برزوں کو مہلت دی جاتی ہے۔ آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی گر انبار کسی کو اپنا بوجھ بٹانے کو پکارے گا تب بھی اس کے بوجھ میں سے کچھ نہ بٹایا جائے گا۔ خواہ اس نے جس کو پکارا تھا وہ اس پکارنے والے کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اے پیغمبر آپ تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہی جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو شخص پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے

(18) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی گر انبار کسی کو اپنا بوجھ بٹانے کو پکارے گا تب بھی اس کے بوجھ میں سے کچھ نہ بٹایا جائے گا۔ خواہ اس پکارنے والے نے جس کو اپنا بوجھ بٹانے کو پکارا تھا وہ اس پکارنے والے کا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اے پیغمبر آپ تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو شخص سنورتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو اور اپنے ہی فائدہ کو سنورتا اور پاک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ یعنی قیامت کا دن ایسی افراتفری کا ہوگا کہ کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہ ہوگا اگر کوئی گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا شخص کسی کو پکارے گا بھی خواہ وہ اس کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور پکار کر کہے گا کہ میرے بوجھ میں سے کچھ کم کر دے اور میرا حصہ بٹا لے تو بھی اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی ہلکا نہ کیا جائے گا اور بوجھ کا کوئی حصہ نہ بٹایا جائے گا۔ پھر پیغمبر کو خطاب کیا کہ آپ کا تو بس انہی لوگوں کو ڈرانا اور خوف دلانا مفید ہوسکتا ہے جو بن دیکھے اور غائبانہ طور پر اپنے پروردگار کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور نماز پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اگر کوئی شخص اپنی اصلاح کرتا ہے اور کفروشرک سے پاک ہوتا ہے تو وہ اپنے ہی مفاد کو اور اپنے ہی نفع کیلئے سنورتا اور پاک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کی بازگشت ہے وہاں جا کر معلوم ہوجائے گا اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پھل ملنا ہے اور پاک لوگوں کو ان کی پاکیزگی کا نفع پہنچنا ہے۔ آپ کسی قسم کا فکر نہ فرمایئے۔ آیت میں نبی کریم ﷺ کو احوال قیامت کے ساتھ تسلی بھی دی گئی ہے۔ آگے پھر دین حق کے منکروں اور مؤمنوں میں فرق بیان فرمایا۔
Ayah 35:19

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔

(19) اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔
Ayah 35:20

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ تاریکی اور روشنی دونوں برابر ہیں

(20) اور نہ تاریکیاں اور روشنی برابر ہیں۔
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ دونوں برابر ہیں

(21) اور نہ سایہ اور دھوپ دونوں برابر ہیں۔
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں

(22) اور نہ زندے اور مردے دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سب خلق برابر نہیں جن کو ایمان دیا ہے انہی کو ملے گا تو بہتیری آرزو کرے تو کیا ہوتا ہے اور یہ جو فرمایا اندھیرا نہ اجالا یعنی نہ اندھیرا برابر اجالے کے اور نہ اجالا برابر اندھیرے کے اور فرمایا تو نہیں سناتا قبروں میں پڑوں کو۔ حدیث میں آیا ہے کہ مردوں سے سلام علیک کرو وہ سنتے ہیں اور بہت جگہ مردے کو خطاب کیا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ وہ نہیں سن سکتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین اور منکرین کے فہم اور ادراک کا فرق اور دونوں کے انجام اور ثمرات کا فرق بیان فرمایا منکر کو اندھا اور مؤمن کو بصیر فرمانے میں یہ بات ظاہر فرمائی کہ اس نے خداداد فہم سے اسلام کی حقیقت کو سمجھ کر اسے قبول کرلیا اور منکر کا فہم اندھوں کی طرح ٹٹولتا رہا اور اسلام کی حقانیت کو نہ معلوم کرسکا۔ اسی طرح منکر کفر کی تاریکیوں میں مبتلا رہا اور مومن نے اپنی بصارت سے حقیقی نور اور روشنی پا لی۔ پھر دونوں کے انجام اور ثمرات کا فرق بیان فرمایا کہ سایہ اور ٹھنڈک اور بادسموم اور گرم لوئیں برابر نہیں یعنی جنت جو ایمان کا ثمرہ ہے اور جہنم جو انکار کا ثمرہ ہے، دونوں برابر نہیں۔ پھر منکر کو روحانیت سے خالی ہونے کی بنا پر مردہ اور مومن چونکہ اسلام کی روحانی سے مستفید ہے۔ اس کو زندہ فرمایا پھر نبی کریم ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا کہ جن کے دل اور جن کا صحیح فہم مردہ ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ان کو سننے کی توفیق عطا کرسکتا ہے اور سننے کے ساتھ قبول کرنے کی توفیق بھی عطا کرسکتا ہے۔ ورنہ آپ ان لوگوں کو جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں یعنی مردہ ہوچکے ہیں ان کو نہیں سنا سکتے یعنی ان کو مردہ سمجھو جس طرح مردے میں سننے کی صلاحیت نہیں اسی طرح یہ بھی صحیح سماع سے محروم ہیں تو آپ ان کے سننے نہ سننے کی فکر نہ کیجئے۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو صرف خدا کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں

(23) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا صرف آپ کا یہی کام ہے آپ کسی کے قبول کرنے نہ کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لئے آپ کو لوگوں کے ایمان نہ لانے پر افسوس نہ کرنا چاہیے۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

یقینا ہم ہی نے آپ کو دین حق دے کر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو

(24) بلاشبہ اے پیغمبر ہم نے آپ کو دین حق کے ساتھ خوشخبری اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی جماعت اور قوم ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔ یعنی ایمان لانے والوں اور مسلمانوں کو خوشخبری دینے والوں اور دین حق کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آیا ہے خواہ کوئی رسول ہو یا رسول کا رسول ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ڈرانے والا خواہ نبی ہو یا نبی کی راہ پر ہو۔ یعنی کسی نبی پر ایمان رکھنے والا پہنچا۔ بہرحال ! کوئی امت ایسی نہیں جس کو حق نہ پہنچا ہو۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں وہ بھی جھٹلا چکے ہیں حالانکہ ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے

(25) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں اور جھوٹ آپ کی طرف منسوب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ بھی یقینا تکذیب کا ارتکاب کرچکے ہیں اور اپنے زمانے کے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر نشانیاں یعنی معجزے اور صحیفے یعنی چھوٹی کتابیں اور اوراق اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ یعنی پہلوں کا بھی طرز عمل یہی رہا ہے کہ اپنے اپنے زمانے کے نبیوں کو جھوٹا بناتے رہے ہیں حالانکہ انبیاء ہر قسم کے دلائل اور چھوٹی کتابیں اور بڑی بڑی روشن کتابیں لے کر آئے تھے لیکن باوجود اس کے ان امتوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کو جھوٹا ہی بتاتے رہے۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے ان لوگوں کو جو کفر کے مرتکب ہوئے تھے پکڑ لیا سو دیکھ لو میرے انکار کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہوا

(26) پھر آخر کار میں نے ان دین حق کے منکروں کو پکڑ لیا اور ان کی گرفت کی۔ سو دیکھ لو میرے انکار کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہوا اور میرا عذاب کیسا ہوا۔ یعنی آخر ان کی گرفت کی گئی اور سب کو ہلاک کردیا گیا۔ نواں پاک کروں ٭ آئینہ ٭ نیا بدز سنگ آئینہ ان کے دل آئینہ تھے جو صاف ہوسکتے ان کے دل پتھر ہوچکے تھے جس کو آئینہ بنانا ناممکن ہوگیا۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے ہم نے گوناگوں رنگ کے پھل نکالے اور اسی طرح پہاڑوں کے بھی مختلف حصے اور ٹکڑے ہیں بعض سفید اور بعض سرخ پھر یہ سفید و سرخ رنگ بھی آپس میں مختلف اور اترتے چڑھتے رنگ ہیں اور بعض بجائے سفید اور سرخ کے گہرے سیاہ ہیں

(27) اے مخاطب کیا تو نے یہ بات نہیں دیکھی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے ہم نے گوناگوں اور مختلف رنگ کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے بھی مختلف حصے اور ٹکڑے ہیں کچھ سفید اور کچھ سرخ پھر یہ سفید و سرخ رنگ آپس میں مختلف اور اترتے چڑھتے رنگ ہیں اور بعض بجائے سفید و سرخ کے گہرے سیاہ ہیں۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح آدمیوں میں اور جانوروں میں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بس اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی قدرت و عظمت کا علم رکھتے ہیں۔ واقعی اللہ بڑا زبردست بڑی مغفرت کرنے والا ہے۔

(28) اور اسی طرح آدمیوں میں اور رینگنے والے کیڑوں میں اور چوپایوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں اللہ تعالیٰ سے بس اس کے بندوں میں سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی قدرت و عظمت کا علم رکھتے ہیں یعنی علماء بیشک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ سورۂ رعد میں گزر چکا ہے کہ ایک ہی قسم کا پانی برستا ہے پھر اس پانی سے اللہ تعالیٰ رنگہارنگ کے نباتات جمادات اور حیوانات پیدا کرتا ہے۔ یہ اس کی خالقیت کا کمال ہے۔ پھلوں کے انواع میں تو رنگ اختلاف ظاہری ہے سیب کا رنگ اور ہے، بیر کا رنگ اور ہے، خربوزہ کا اور ہے، تربوز کا اور ہے بلکہ اصناف میں دیکھو تو بھی یہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیب ایک صنف ہے لیکن رنگ مختلف خربوزہ ایک صنف لیکن مختلف۔ یہی حالت پتھروں کی ہے کوئی سنگ مر مر ہے کوئی سنگ سرخ ہے اور کوئی سنگ باسی ہے۔ کوئی سنگ ہے یا سرمہ ہے جو گہرا اور بالکل سیاہ ہے۔ جدد جدہ کی جمع ہے جیسے مدد مدہ کی۔ بعض حضرات نے جدد کا ترجمہ گھاٹیاں بھی کیا ہے۔ پہاڑ کی گھاٹیوں میں گھسنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دائیں طرف کا رنگ کچھ اور ہے بائیں طرف کا رنگ کچھ اور ہے پھر اسی طرح لوگوں میں کوئی کالا ہے کوئی گورا ہے۔ حبشی کا رنگ کچھ اور ہے کشمیری کا کچھ اور ہے۔ کیڑے مکوڑے بھی مختلف رنگ رکھتے ہیں۔ بچھو بھی کئی رنگ کے اور سانپ بھی بیشمار رنگ کے، چوپایوں کا بھی یہی حال انواع اگر مراد لو تو گائے کا رنگ بھینس سے جدا، اونٹ کا رنگ ہاتھی سے جدا، اصناف مراد لو تو بکریوں کے مختلف رنگ بھیڑوں کے مختلف رنگ، غرض ! سارا عالم گوناگوں رنگوں سے لبریز ہے۔ پھولوں کا رنگ اور ان کے انواع و اقسام تو بےحساب ہیں ان تمام چیزوں کا بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے خشیت علماء کو میسر ہوتی ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان سے علماء ہی واقف ہیں اس لئے وہی ڈرتے ہیں۔ آگے بطور دلیل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ زبردست قوت و طاقت کا مالک ہے اور بڑا بخشنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سب آدمی ڈرنے والے نہیں ڈرنا اللہ سے سمجھ والوں کی صفت ہے اور اللہ کی معاملت بھی دو طرح ہے۔ زبردست بھی ہے کہ ہر خطا پر پکڑے اور غفور بھی ہے کہ ہر گنہگار کو بخشے۔ یہاں حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا اور سورة بینہ میں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ یعنی جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ انما یخشی اللہ کے مفسرین نے کئی طرح معنی کئے ہیں مگر ہم نے شاہ صاحب کا قول اختیار کیا ہے۔ آیت کے مضمون کا تعلق بظاہر انذار اور خشیت الٰہی سے ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تسلی و تشفی سے ہو اور مطلب یہ ہو کہ جیسے اندھے اور سما کے میں فرق ہے اور اندھیرے اجالے میں اختلاف ہے۔ گرمی اور ٹھنڈک میں اختلاف ہے ایسا اختلاف ہر پتھر اور درخت میں موجود ہے اس لئے اگر کوئی ایمان نہ لائے تو آپ کو افسوس اور رنج و غم کی کیا ضرورت ہے۔ مفسرین کی یہ دونوں توجیہیں مشہور ہیں اوپر جس مجازات و مکافات کی طرف اشارہ فرمایا تھا اسی کی آگے تفصیل فرمائی۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خیرات کیا کرتے ہیں وہ یقینا ایک ایسی تجارت کی امید لگائے ہوئے ہیں جس کو کبھی نقصان پہنچنے والا نہیں۔

(29) جو لوگ کتاب الٰہی یعنی قرآن حکیم کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خیرات کیا کرتے ہیں وہ یقینا ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں اور ایک ایسی تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہیں جس تجارت کو کبھی نقصان پہنچنے والا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس تجارت کی ترقی کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے تجارت میں نقصان اور کساد بازاری اور مندے کا اندیشہ نہیں۔ قرآن کی تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ توجہ کے ساتھ قرآن پڑھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں، نماز کا قائم رکھنا یعنی جماعت اور خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہیں پوشیدہ علانیہ یعنی صدقات فریضہ اور نافلہ جیسا کہ اہل علم نے فرمایا ہے کہ فرض یعنی زکوٰۃ علانیہ دی جائے اور نفلی خیرات چھپا کر ادا کی جائے۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

یہ اس لئے تاکہ خدا تعالیٰ ان کو ان کے صلے پورے پورے عطا فرمائے اور اپنے فضل سے ان کو اور بڑھتی بھی دے۔ بیشک وہ بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔

(30) چونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی اس تجارت کا حامی ہے تو اس میں نفع ہی نفع کی وجہ یہ ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجر اور صلے پورے پورے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی اور فضل سے ان کو اور بڑھتی اور زیادہ بھی دے بیشک وہ بڑا بخشنے والا بڑا قدرداں ہے۔ یعنی ثواب اور ان کے اعمال کی اجرتیں تو حسب وعدہ ان کو دی ہی جائیں گی جس کا بیان آگے آئے گا لیکن مقررہ ثواب کے علاوہ اور زیادہ بھی عطا ہوگی۔ سورۂ یونس میں گزرا ہے۔ للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ یعنی بھلائی کرنے والوں کو بھلی چیز یعنی جنت ملے گی اور جنت کے علاوہ اور زیادہ بھی عطا ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ثواب موعود کے علاوہ ایسی چیزیں دی جائیں گی جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنی وہ بڑی بخشش کا مالک یعنی غفور ہے اور بڑا قدرداں یعنی شکور ہے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہ سراسر حق ہے اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق بھی کرنے والی ہے۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا ان کو دیکھنے والا ہے۔

(31) اور اے پیغمبر جو کتاب ہم نے آپ کی جانب وحی کی ہے وہ سراسر حق ہے اس کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق بھی کرنیوالی ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا اور ان کو خوب دیکھنے والا ہے۔ مصدق کے دو معنی ہیں جن کو ہم نے ہمیشہ بیان کیا ہے ایک تو یہ کہ ان کتابوں کو منزل من اللہ بتاتا ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ چونکہ اس کتاب کی سابقہ کتب سماویہ میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ اس لئے اس کتاب نے آ کر تمام کتب سمادیہ کی پیشین گوئیوں کی تصدیق کردی۔ چونکہ وہ بندوں کی حالت سے خبردار اور ان کی مصالح سے واقف ہے۔ اس لئے آخری دور میں ایک ایسی کامل کتاب نازل فرمائی جس پر عمل کرنے سے آدمی درجات کے کمال کو حاصل کرلیتا ہے۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جن بندوں کو برگزیدہ اور منتخب کیا ان کو اس کتاب کا وارث بنایا یعنی امت محدیہ کو ان برگزیدہ بندوں میں سے بعض اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور بعض ان میں خدا کی توفیق سے بھلے کاموں میں آگے بڑھ جانے والے ہیں۔ یہ کتاب کا عطا فرمانا خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے

(32) پھر ہم نے اپنے بندوں کو برگزیدہ اور منتخب کیا ان چیدہ اور پسندیدہ بندوں کو اس کتاب کا وارث بنایا اور ان کے ہاتھوں تک اس کتاب کو پہنچایا۔ پھر ان میں سے بعض اپنی جانوں پر زیادتی اور ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان بندوں میں سے متوسط اور میانہ رو ہیں اور بعض ان بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی توفیق سے بھلے کاموں میں سبقت کرنیوالے اور آگے بڑھ جانے والے ہیں اور نیکیوں میں ترقی کرنے والے ہیں یہ کتاب کا وارث بنانا اور کتاب کا عطا فرمانا بڑا فضل اور بڑی بزرگی ہے۔ یعنی جو کتاب برحق نبی کریم ﷺ پر وحی کی گئی تھی اس کتاب کا امت محمدیہ کو جو چیدہ اور پسندیدہ امت ہے اور تمام بندوں میں سے جن کو برگزیدہ فرمایا ہے یہ کتاب اس امت کو دی گئی اور اس کتاب کا وارث امت محمدیہ کو بنایا گیا۔ آگے امت محمدیہ کی حالت بیان فرمائی کہ اگرچہ یہ امت محمدیہ اصطفا اور اجتبا میں سب مشترک ہے لیکن اعمال کے اعتبار سے اس امت کی تین قسمیں ہیں ایک وہ جو گناہ کرتے رہتے ہیں اور گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں دوسرے وہ جو درمیانہ روی اختیار کرتے ہیں یعنی گناہ کم اور نیکیاں زیادہ دونوں چیزیں مختلط ہیں۔ پھر نیکیاں بھی طاعات ضروریہ سے متجاوز نہیں۔ یہ متوسط اور درمیانی درجے کے حضرات ہیں۔ تیسری قسم سابق بالخیرات باذن اللہ کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی توفیق سے طاعات و عبادات میں بڑھتے اور ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔ بعض حضرات نے قرآن کی روشنی میں یوں تقسیم کی ہے کہ سابق بالخیرات سے صحابہ تابعین اور تبع تابعین کو مراد لیا ہے۔ جیسا کہ سورة یونس میں گزر چکا ہے متوسطین کو واخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحاً واخرسیئا میں رکھا ہے اور ظالم لنفسہ کو واخرون موجون لا مر اللہ میں شمار کیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ سابقنا سابق و مقتصدنا ناج وظالمنا مغفورلہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا حضور اکرم ﷺ نے ممبر پر یہ آیت پڑھی اور اس کے بعد فرمایا ہمارے آگے بڑھنے والا تو آگے بڑھنے والا ہی ہے اور ہمارا درمیانی بھی نجات پانے والا ہے اور ہمارا ظالم بخشا گیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبر کے بعد کتاب کے کئی ایک اور گنے چنے بندے بتائے یعنی یہ امت ان میں تین درجے بتائے ایک گناہ گار ایک درمیانہ ایک اعلیٰ سب کو گنا چنے بندوں میں امید ہے کہ آخر سب بہشتی ہیں۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا گناہ گار معاف ہے اور میانہ سلامت ہے اور آگے بڑھے سو سب سے آگے بڑھے اللہ کریم ہے اس کے یہاں کمی نہیں۔ بعض نے تینوں فرقوں کی تفصیل اس طرح کی ہے کہ کوئی کبھی گناہ کر کے ظالم بن جاتا ہے۔ مقتصد وہ جو نہ گناہ کرتے ہیں نہ نیکیاں زیادہ کرتے ہیں اور سابق وہ جو ترقی کرتے اور نیکیوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بعض نے کہا ظالم وہ جو ایمان صحیح کے باوجود گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور متوسط وہ نہ گناہوں میں انہماک، نہ ولی کامل اور سابق وہ جو تحصیل کمال میں آگے بڑھے چلے جاتے اور مستحبات کی بھی رعایت کرتے ہیں۔ (واللہ اعلم) حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سابق داخل ہوگا جنت میں بغیر حساب کے اور متوسط سے حساب لیا جائے گا مگر حساب یسیر یعنی آسان حساب اور ظالم لنفسہ کو میدان حشر میں روکا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کو گمان ہوگا کہ میری نجات نہ ہوگی پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت پہنچے گی اور وہ جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت ابودردا ؓ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

اور وہ صلہ اور اجر مذکور دائمی باغ ہیں جن میں یہ لوگ اس شان سے داخل ہوں گے ان کو ان دائمی باغوں میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی

(33) وہ اجوروثواب جن کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا وہ دائمی اور ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ لوگ اس کیفیت سے داخل ہوں گے کہ ان باغوں میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان باغوں میں ان کی عام پوشاک ریشمی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سونا اور ریشم مسلمانوں کو وہاں ہے۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے جو ریشمی پہنے دنیا میں وہاں نہ پہنے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا تعلق تینوں فرقوں کے ساتھ رکھا ہے۔ مگر بعض نے ان الذین یتلون کتاب اللہ سے قائم کیا ہے فقیر کے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔ (واللہ اعلم)
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور ان باغوں میں داخل ہو کر کہیں گے تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہر قسم کا غم ہم سے دور کردیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے

(34) اور ان باغوں میں داخل ہوتے وقت کہیں گے تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار اور لائق ہیں جس نے ہر قسم کا غم ہم سے ہمیشہ کے لئے دور کردیا بلاشبہ ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

کہ جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا جہاں نہ ہم کو کوئی کلفت پہنچے گی اور جہاں نہ ہم کو کسی قسم کی تکان لاحق ہوگی

(35) کہ جس نے اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے گھر میں اور مقام میں لا اتارا جہاں نہ ہم کو کسی قسم کی کلفت اور مشقت پہنچے گی اور جہاں نہ ہم کو کوئی تکان لاحق ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں غم دنیا کا رفع کیا بخشتا ہے گناہ قبول کرتا ہے طاعت۔ پھر فرماتے ہیں رہنے کا گھر اس سے پہلے کوئی نہ تھا ہر جگہ چل چلائو روزی کا غم اور دشمنوں کا ڈر رنج اور مشقت وہاں پہنچ کر سب گئے۔
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان پر موت ہی کا حکم کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان پر سے کسی وقت ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر ناسپاس کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔

(36) اور جو لوگ منکر رہے اور کفروانکار کا شیوہ اختیار کئے رہے ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے، نہ تو ان پر موت ہی کا حکم کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ان پر سے دوزخ کا عذاب ہی کسی وقت ہلکا کیا جائے گا ہم ہرناشکر اور ناسپاس اور منکر کو ایسی ہی جزا اور ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔ یعنی بار بار موت کی درخواست کریں گے لیکن اس عالم میں موت نہیں جو آجائے۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس دوزخ میں پڑے چلاتے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال لے ہم آئندہ نیک کام کیا کریں گے۔ وہ کام نہیں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ جواب ملے گا کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سوچنا سمجھنا ہوتا تو وہ اس عمر میں سوچ سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا سو اب عذاب کا مزہ چکھو کہ ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہے۔

(37) اور یہ لوگ اس دوزخ میں پڑے چلاتے اور فریاد کرتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال دے ہم آئندہ نیک کام کیا کریں گے وہ کام نہیں جو ہم پہلے نیک سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ جواب ملے گا کیا تم کو اتنی عمر نہ دی تھی اور تم کو اس قدر زندگی نہیں دی تھی کہ جس کو سوچنا سمجھنا ہوتا وہ اس عمر اور اس زندگی میں سوچ سمجھ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا۔ پس اب عذاب کا مزہ چکھو، سو ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ ان کی مدد کرے۔ مطلب یہ ہے کہ اے رب ہم کو اس جہنم سے نکال کر پھر دنیا میں بھیج دے تو آئندہ ہم نیک اعمال کریں گے اس پر شبہ تھا کہ تمام کافرانہ اعمال کو بھلا ہی سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ اس شبہ کا دفعیہ کریں گے۔ غیر الذی کنا نعمل یعنی وہ نہیں جو اب تک کرتے رہے بلکہ ان کے خلاف جن اعمال کو پیغمبر اچھا بتاتے تھے وہ کیا کریں گے۔ جواب کا مطلب ظاہر ہی ہے کہ اس قدر عمر اور زندگی دی گئی تھی یعنی بلوغ سے لے کر جہاں تک بھی ہو وہ ایک سوچنے سمجھنے والے کو کافی تھی جس کو سوچنا سمجھنا ہوتا وہ اس زندگی میں سوچ سمجھ سکتا تھا۔ مزیدبرآں یہ کہ پیغمبر بھی بھیجا گیا جس کا کام زیادہ تر نافرمانوں کو اس دن کی وحشت اور عذاب سے ڈرانا ہوتا تھا۔ سوچنے سمجھنے کو عقل ملی ہوش و حواس ملے۔ عقل ابھارنے اور حرکت دینے کو ڈرانے والا پیغمبر آیا۔ اب کام کون سا باقی رہ گیا۔ جس کے لئے پھر واپس بھیجا جائے لہٰذا مزہ چکھتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ نہیں جو کرتے تھے یعنی اس وقت تو اسی کو بھلا سمجھتے تھے پر اب وہ نہ کریں گے۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے بیشک وہ ان باتوں سے بھی خوب واقف ہے جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔

(38) بلاشبہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی تمام پوشیدہ چیزوں کا عالم اور جاننے والا ہے۔ بلاشبہ وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔ یعنی اس کے کمال علمی کا یہ حال ہے کہ مغیبات سماوی و ارضی سب کا عالم اور سینوں کے پوشیدہ بھید جاننے والا ہے آگے کمال قدرت کا بیان ہے۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہ خدا وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پہلوں کا جانشین بنایا پھر جو شخص کافرانہ روش اختیار کرے گا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کا کفر ان کے رب کے ہاں ان کے لئے بیزاری ہی بڑھانے کا موجب ہوتا ہے اور کافروں کا کفر ان کے لئے نقصان ہی بڑھانے کا سبب ہوتا ہے۔

(39) وہ اللہ تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے جس نے تم کو زمین میں پہلوں کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں آباد کیا جو شخص کفروانکار کی روش اختیار کرے گا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے ہاں نہیں بڑھاتا مگر بیزاری اور اشد غضب ہی بڑھاتا ہے اور کافروں کو ان کا کفر نہیں بڑھاتا مگر نقصان اور ٹوٹا ہی بڑھاتا ہے۔ یعنی جانشین کیا پہلوں کا اور تم کو زمین میں آباد کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا احسان مانو اور اس کی نافرمانی اور کفر نہ کرو اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ جو کفر اختیار کرتا ہے تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور کافروں کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک بیزاری اور غضب میں ہی اضافہ کرتا ہے اور کافروں کا کفر اور منکروں کا انکار ان کے لئے نقصان ہی کا موجب ہوتا ہے۔ مقت کا ترجمہ سخت غضب کیا گیا ہے ہم نے شاہ صاحب (رح) کا لفظ بیزاری بھی اور ترجمہ کی تیسیر میں دونوں باتیں رکھی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قائم مقام کیا زمین میں یعنی رسولوں کے پیچھے ریاست دی یا اگلی امتوں کے پیچھے اب اس کا حق ادا کرو۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

آپ ان سے کہیے بھلا تم نے اپنے ان خودساختہ شریکوں کو دیکھا بھی جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے ہو ذرا مجھے بھی تو بتائو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ بنایا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کچھ شرکت ہے یا ہم نے ان مشرکوں کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہیں نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم جو آپس میں ایک دوسرے کو امیدیں دلاتے ہیں وہ نرا دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔

(40) اے پیغمبر آپ ان سے فرمایئے بھلا تم نے اپنے خودساختہ شریکوں کو دیکھا بھی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کو تم پکارا کرتے ہو۔ ذرا مجھ کو بھی تو بتائو اور ذرا مجھ کو بھی تو دکھائو کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ بنایا ہے اور زمین سے انہوں نے کیا بنایا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے یا ہم نے ان مشرکوں کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل اور حجت پر قائم ہیں کچھ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم جو آپس میں ایک دوسرے کو امیدیں دلاتے ہیں وہ صرف دھوکا ہی دھوکا ہے۔ یعنی جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو ان کا حال تو بیان کرو اور زمین کا جو حصہ انہوں نے بنایا ہے وہ مجھ کو بھی دکھلائو یا آسمانوں کے بنانے میں ان کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے تو وہ بھی بتائو اور دکھلائو یا ان کو کوئی کتاب ہم نے دی ہے کہ اس کتاب سے اپنے مفروضہ اوہام پر دلیل پکڑتے ہوں یعنی یا تو عقلی دلیل ہو عقلی نہ ہو تو نقلی حجت ہو ان کے پاس کچھ بھی نہیں بلکہ یہ جو آپس میں ایک دوسرے کو امیدیں دلاتے ہیں اور کہتے ہیں قیامت میں ہم کو یہ معبود سفارش کر کے بچا لیں گے یہ محض دھوکا اور فریب ہے۔ ارٔیتم اور ارونی آپس میں بدل اشتمال ہیں۔ ترجمہ میں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ کا قول اختیار کیا ہے اور بجائے لفظ آیا کے یا استعمال کیا ہے۔ ام لھم شرک اور ام اتینھم کتابا دونوں جگہ آیا کی بجائے یا کیا گیا ہے۔