Ayah 35:41(41) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اس بات سے تھام رکھا ہے کہ وہ اپنے مرکز سے کہیں ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ بالفرض اپنے مرکز سے ٹل جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان آسمان و زمین کو نہ کوئی تھام سکتا ہے اور نہ کوئی ان کو روک سکتا ہے بیشک وہ اللہ تعالیٰ بڑا بردبار علیم اور بڑی مغفرت و بخشش کرنیوالا ہے۔ یعنی یہ نظام عالم جو حضرت حق تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے اس کو درہم برہم کرنے سے اسی نے روک رکھا ہے اگر خدانخواستہ درہم برہم ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے بعد اس نظام عالم کو کوئی روک ہی نہیں سکتا۔ تمام مخلوق فنا ہوجائے گی جس طرح قیامت کے دن ہوگا۔ لیکن چونکہ وہ حلیم ہے اس لئے مہلت دیئے جاتا ہے اور اس مہلت اور امہال سے کوئی فائدہ اٹھا کر گناہوں سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہوجائے تو وہ بخش بھی دیتا ہے۔ چونکہ وہ غفور ہے۔
حدیث میں آتا ہے جو سو کر اٹھا اور اس نے یہ کلمات کہے الحمدللہ الذی ردانی نفسی بعد موتھا ولم یم تھا فی منا مھا الحمد للہ الذی یمسک السماء والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا ویمسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ ان اللہ بالناس لرئوف رحیم۔
یہ شخص اگر بچھونے پر سے گر کر مرجائے گا تو شہید ہوگا اور اگر اٹھ کر نماز پڑھے گا تو نماز پڑھے گا۔ (درمنشور)
Ayah 35:42(42) اور یہ کفار قریش نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی سخت ترین قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے گا تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ راہ پانے والے اور راہ یافتہ ہوں گے۔ پھر جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو اس کے آنے سے بس ان میں نفرت کے جذبات کو ہی ترقی ہوئی۔
Ayah 35:43(43) وہ یہ کہ ملک میں مزید غرور اور سرکشی اور بری بری تدبیریں کرنے لگے حالانکہ بری تدبیر اور بری چال پلٹ کر اس چال چلنے والی کو گھیر لیا کرتی ہے۔ سو کیا یہ کافر اسی طریقے اور دستور کے منتظر ہیں اور اسی آئین عقوبت کی راہ دیکھ رہے ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ وہی برتائو ان کفار قریش کے ساتھ بھی ہوگا کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے اس دستور کو کبھی بدلتا نہیں پائیں گے اور آپ اس کے آئین میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں پائیں گے اور آپ ہرگز اللہ تعالیٰ کے دستور کو پھرتا اور منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ کفار جب اہل کتاب کی بےراہ روی دیکھتے اور ان کے مظالم اور بیجا ہٹ دھرمیوں کے قصے سنا کرتے تو اس بات کی خواہش کیا کرتے کہ ہمارے پاس کوئی نبی آئے تو ہم اس کی خوب اطاعت و فرماں برداری کر کے دکھائیں اور تمام امتوں سے ہم زیادہ راہ یافتہ اور سب سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے پھر اس دعویٰ پر بڑی پختہ اور سخت مضبوط قسمیں بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی کھایا کرتے تھے کہ ہم ضرور اس کی پوری پوری اتباع کریں گے اور ہر ایک امت سے زیادہ راہ پانے والے ہوں گے۔ لیکن جب ان کے پاس پیغمبر اور ڈرانے والا آپہنچا اور اس نے ان کو دعوت دی تو ان میں سوائے نفرت کے اور کچھ نہ بڑھا یعنی اس نذیر کی تعلیم سے ان میں نفرت ہی بڑھی دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے غرور کی راہ اختیار کی اور پیغمبر کے خلاف بری بری تدبیریں کرنے لگے اور سوئے تدبیر سے کام لینے لگے حالانکہ اس قسم کے مکروفریب اور بری حیلہ سازی خود ایسا کرنے والوں پر ہی پلٹ جاتی ہے اور اس قسم کی تدبیریں خود برائی کرنے والوں کو گھیر لیا کرتی ہیں۔
ان لوگوں کی یہ حرکات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ اس آئین عقوبت کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلوں کے ساتھ ہوچکا ہے جس طرح ان سے پہلے لوگ نافرمانی کے باعث تباہ اور ہلاک ہوئے وہی ان کے ساتھ برتائو کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ میں نہ تبدیلی پائی جاتی ہے نہ تحویل۔ چناچہ یہی برتائو ان کے ساتھ بھی ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عرب کے لوگ جو سنتے یہود کی بےحکمیاں اپنے نبی سے تو کہتے کبھی ہم میں ایک نبی آوے تو ہم اس سے بہتر رفاقت کریں۔ سو منکروں نے اور عداوت کی۔
Ayah 35:44(44) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں چلیں پھریں تو دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کار کیونکر ہوا اور کیسا ہوا یعنی تکذیب کی وجہ سے ان کا آخری انجام کیا ہوا حالانکہ وہ گزشتہ لوگ قوت اور زور میں ان کفار مکہ سے زیادہ تھے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ اس کو آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی عاجز اور بےبس کرسکے اور تھکا سکے۔ بلاشبہ وہ کمال علم اور کمال قدرت کا مالک ہے۔
یعنی ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ گزشتہ قوموں کا اس تکذیب اور پیغمبروں کی نافرمانی کے باعث کیا انجام ہوا حالانکہ وہ قوت و طاقت میں ان کفار مکہ سے بہت زیادہ زور آور تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے بچ بھی کس طرح سکتے تھے اور بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کیسے کرسکتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ اس کو آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی اس کو نہ تھکا سکتی نہ بھاگ کر ہرا سکتی ہے کیونکہ اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کہ کوئی اس سے چھپ جائے اور وہ قدرت والا ہے سب کچھ کرسکتا ہے اس سے کوئی بھاگ کر کہاں جاسکتا ہے اور کتنا ہی کوئی زور آور ہو اس کا مقابلہ کس طرح کرسکتا ہے۔
Ayah 35:45(45) اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کسب اور ان کے اعمال کی وجہ سے گرفت اور مواخذہ کرنے لگے تو روئے زمین پر کسی حرکت کرنے والے اور کسی متنفس کو بھی نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ تک لوگوں کو مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ وقت مقررہ اور میعاد معینہ آجائے گی تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں۔ یعنی اگر بندوں کو ان کی شامت اعمال کے سبب گرفتار کرنا شروع کر دے تو ایک بھی متنفس باقی نہ رہے اور روئے زمین پر کوئی چلنے والا نہ دکھائی دے اور جب انسان ہی نہ رہیں تو حیوانات جو انتفاع خلق کے لئے ہیں وہ بھی بیکار ہوجائیں۔ لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے بندوں کو مہلت دے رکھی ہے اور توبہ کر کے باز آجانے کا موقع دیا ہے جب وہ وقت آجائے گا۔ خواہ کسی خاص قوم کے ختم کرنے کا وقت ہو یا قیامت کا وقت ہو تو اس وقت گرفت کی جائے گی کیونکہ وہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے اور سب اچھے برے اس کی نگاہ میں ہیں۔ اس وقت ہر شخص کے ساتھ سزا اور جزا کا معاملہ کیا جائے گا۔
الحمدللہ والمنتہ
کہ سورة فاطر کی تیسیر ختم ہوئی
وللہ الحمد علی ذلک