Ayah 34:1(1) تمام تعریفیں اسی اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہی اور اسی کے لائق ہیں جو ایسا ہے اور جس کی شان یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور آخرت میں بھی تمام تعریفیں اسی کو سزا وار اور لائق ہیں اور وہی کمال حکمت کا مالک اور جملہ امور سے باخبر ہے۔ یعنی تمام حمدوثناء اور مدح و شکر اسی کو سزاوار اور لائق ہے جو ہر اس چیز کا مالک ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے یعنی تمام ارضیہ و سماویہ اشیاء اسی کی ملک اور مملوک ہیں اور جس طرح اس عالم میں وہی حمدوثناء کا مستحق اور سزاوار ہے۔
اسی طرح آخرت میں بھی وہی لائق حمدوثناء ہے جیسا کہ اہل آخرت کو حمد قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہے۔ واخر دعوھم ان الحمد للہ رب العلمین۔
سورۂ یونس میں اس آیت کی تفسیر گزر چکی ہے وہی کمال حکمت کا مالک ہے ہر چیز کے پیدا کرنے کی حکمت اور مصلحت کو وہ حکیم مطلق ہی جانتا ہے اور وہ تمام مخلوق کے حال سے باخبر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں ظاہر اور کسی کی تعریف بھی ہوتی ہے کہ وہ پردہ ہے اللہ کے فعل کا آخرت میں پردہ نہیں جو ہے اسی کی طرف۔
خلاصہ : یہ کہ دنیا میں مجازاً اوروں کی بھی مدح وثناء کی جاتی ہے وہ بھی حقیقتاً اسی کی تعریف ہے لیکن آخرت میں تو یہ حقیقت و مجاز کا پردہ نہیں حقیقت ہی حقیقت ہے آگے مزید اس کی صفت خبیر کی توضیح اور اس کے علم محیط کا اظہار ہے۔
Ayah 34:2(2) اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس زمین سے نکلتی ہے اور ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز آسمان میں چڑھتی ہے اور وہ نہایت مہربانی اور بڑی مغفرت و بخشش کرنے والا ہے۔ زمین میں داخل ہونا پانی، بیج، مردے دفینے اور جو نکلتا ہے نباتات، معدنیات، حشر میں مردے وغیرہ مثلاً اترنا آسمان سے بارش کا پانی، برکتیں، ملائکہ، کتابیں وغیرہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آسمان میں چڑھنا، ملائکہ اعمال عباد، بندوں کی دُعائیں، مرنے والوں کی ارواح وغیرہ مثلاً وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے کہ بندے جس چیز کے محتاج ہیں وہ نازل کرتا اور اتارتا ہے اور بڑی مغفرت کرنے والا ہے یعنی صغیرہ تقصیرات کو حسنات اور نیکیوں سے بخش دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کو توبہ سے اور ایمان لانے سے بخش دیتا ہے۔ بشرطیکہ کفر اور شرک تک کبیرہ نہ پہنچ جائے اور کبھی صغیرہ اور کبیرہ کو محض اپنے فضل سے بخش دیتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں زمین میں بیٹھے ہے جانور، کیڑا اور میہنہ نکلتا ہے۔ سبزہ، کھیتی، آسمان سے اترتا ہے۔ قرآن کریم، تقدیر چڑھتا ہے۔ عمل اور دعا اور روح مردے کی اور سب بستی اس کی رحمت سے ہے یہاں تک توحید کا ذکر تھا آگے قیامت کا ذکر فرماتا ہے۔
Ayah 34:3(3) اور دین حق کے منکر یوں کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئی گی آپ ان سے کہہ دیجئے کیوں نہیں آئے گی۔ قسم ہے میرے پروردگار کی وہ قیامت تم پر ضرور آئے گی۔ وہ میرا پروردگار عالم الغیب ہے یعنی وہ عالم بالعلم المحیط ہے ذرہ برابر بھی کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ وہ زمین میں ہو اور نہ ذرے کی مقدار سے کوئی چیز چھوٹی ہے اور نہ اس سے بڑی ہے لیکن وہ سب کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی موجود ہے۔
قیامت کے متعلق منکر جو شکوک و شبہات کیا کرتے تھے ان شبہات کا تفصیلی جواب قرآن کریم میں مختلف جگہ آتا رہتا ہے۔ یہاں لا تاتینا الساعۃ کا جواب دیا گیا ہے اور چونکہ منکر پوری قوت اور یقین کے ساتھ انکار کرتے تھے۔ اس لئے جواب بھی موکد بالقسم دیا گیا اور چونکہ اس کے وقوع کا وقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس لئے اس کے علم محیط کو تفصیل فرمائی کہ ذرہ بھر بھی کوئی چیز اس پر آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ نہیں ہے۔
یہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں اور ذرے پر کیا منحصر ہے بلکہ ذرے سے خواہ کوئی چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز وہ سب لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔ آگے قیامت کے وقوع کی وجہ بیان فرمائی شاید ذرے کی بحث اس وجہ سے آئی ہو کہ کفار کہا کرتے تھے جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے اور ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی پھر ان کو کس طرح جمع کیا جائے گا۔
Ayah 34:4(4) یہ قیامت کا وقوع اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے ان کو جزا اور صلہ عطا فرمائے یہی دین حق پر ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کے پابند رہنے والے وہ لوگ ہیں جن کے لئے بڑی مغفرت اور باعزت روزی ہے۔
Ayah 34:5(5) اور جو لوگ ہم کو عاجز کرنے اور ہمارے ہرانے کو ہماری آیتوں کیخلاف دوڑے دوڑے پھرے تو یہ لوگ وہ ہیں جن کو سخت قسم کا دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ یعنی قیامت قائم ہوگی تاکہ دین حق پر ایمان لانے اور نیک اعمال کی پابندی کرنیوالوں کو اور ان کی کارکردگی کا صلہ عطا کیا جائے اور جو لوگ ہماری آیات کا رد اور ابطال کرنے کی کوشش اور دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو کہیں بھاگ کر عاجز کردیں گے اور ہم کو ہرا دیں گے تو ان کو ان کے کئے کی پاداش میں بری قسم کا دردناک عذاب کیا جائے۔
کسی نے کہا ہماری آیتوں کے ابطال کیلئے کوشش کی پیغمبر کے ہرانے کو ہم نے صاحب مدراک کے قول کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا رد کرنے میں اس لئے کوشش کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو زچ اور اس کو عاجز کردیں گے۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت اس واسطے آنی ضروری ہے۔
Ayah 34:6(6) اور وہ لوگ جن کو کتب سماویہ کا صحیح علم دیا گیا ہے وہ تو اس کتاب کو جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ یہی جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے اور وہ اس اللہ تعالیٰ کا راستہ بتاتی ہے اس کے رستے کی رہنمائی کرتی ہے جو بڑا زبردست اور جملہ صفات محمودہ سے متصف ہے۔ یعنی جو لوگ اہل علم ہیں ان کو یقین ہے کہ یہ قرآن کریم حق ہے اور چونکہ اس قرآن کریم میں قیامت کا ذکر ہے اس لئے قیامت یقینی ہے۔
بہرحال ان اہل علم سے مراد یا تو صحابہ کرام ہیں اور ان کے تابعین ہیں اور یا اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے۔
جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور کعب بن احبار ؓ وغیرہ۔ ایسا ہی ایک مضمون سورة شعراء کے آخر میں بھی گزرا ہے اور یہ بھی ایک طریقۂ استدلال ہے کہ نہ جاننے والے جاننے والوں سے معلوم کرلیں۔ چناچہ اہل عرب اگر تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنے ملک کے اہل کتاب یہودونصاریٰ سے دریافت کرلیں کہ ان کی کتابوں میں اس نبی کا اور اس قرآن کریم کا اور خاص طور پر قیامت کا ذکر ہے یا نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس جملے کو بھی لیجزی الذین امنوا کے ساتھ ملا کر ترجمہ کیا ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں یعنی اس واسطے قیامت آی ہے کہ جن کو یقین تھا وہ آنکھوں سے دیکھ لیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کا لیجزی الذین امنوا پر عطف کیا ہے یعنی وایری الذین اوتوا العلم ورنہ تو بات صاف ہے کہ اس آیت کا تعلق قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت سے ہے اور اہل کتاب میں سے جو علماء حق ہیں وہ بھی اس قرآن کریم کی صداقت کے قائل ہیں۔ صراط العزیز الحمید سے مراد دین حق کا راستہ ہے۔ آگے پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی بحث ہے جو اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔
جیسا کہ ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ دنیا کے کفار و مشرکین ایک جانب ہیں اور تمام کتب سماویہ ایک جانب ہیں۔
Ayah 34:7(7) اور یہ دین حق کے منکر آپس میں ایک دوسرے سے یوں کہتے ہیں کیا ہم تم کو ایک ایسا شخص بتائیں جو تم کو یہ انوکھی خبر دیتا ہے کہ جب تم مر کر بالکل ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو تم کو ازسرنو پیدا ہونا ہے اور نئے سرے سے جنم لینا ہوگا۔ یعنی ایک دوسرے کو نبی کریم ﷺ کا تعارف ان الفاظ سے کراتا ہے کہ آئو ہم تمہیں ایک ایسا آدمی بتائیں جو عجیب و غریب باتیں کرتا ہے وہ عجیب بات یہ ہے ہے کہ وہ کہتا ہے کہ جب تم مر کر زمین میں مل جائو گے اور ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو تم پھر دوبارہ پیدا ہو گے اور ازسرنو جنم لو گے۔
Ayah 34:8(8) معلوم نہیں اس شخص نے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کچھ جنون ہوگیا ہے۔ یہ کوئی بات نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ خطرناک عذاب اور پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی یا تو یہ شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اختراء کرتا ہے یا کچھ جنون اور دیوانگی میں مبتلا ہے کیونکہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا تو محال ہے یا یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا دیوانگی کی وجہ سے بلاقصد جھوٹ کا مرتکب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ ہمارا پیغمبر نہ تو مفتری ہے نہ مجنوں ہے بلکہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہی لوگ عذاب اور دوردراز کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ کلام ہمیشہ صدق اور کذب میں دائر ہوتا ہے لیکن ان بدبختوں نے صدق کو تو چھوڑ ہی دیا۔ کذب کا مقابلہ جنون سے کردیا یعنی جھوٹا تو یہ شخص ہے ہی فرق یہ ہے کہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ بولتا ہے یا جنون کی وجہ سے بلا جانے بوجھے جھوٹ بولتا ہے۔ گویا جھوٹ کو تقسیم کردیا قصد اور بلاقصد میں پرلے درجے کی گمراہی کا مطلب یہ ہے کہ یہ گمراہی منہاج مستقیم سے بہت دور ہے۔
Ayah 34:9(9) بھلا کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے بھی اور پیچھے بھی موجود ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیں۔ اس دلیل مذکور میں بڑی واضح اور سبق آموز دلیل ہے اس بندے کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنیوالا ہے۔ یعنی آسمان و زمین جو ان کو دکھائی دیتے ہیں اور جہاں جائیں یہ ان کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ ان زمین و آسمان پر نظر نہیں کرتے اور غور و فکر سے کام نہیں لیتے کہ زمین و آسمان کے گھیرے میں گھرے ہوئے انسانوں کی کیا بساط جب اللہ تعالیٰ چاہے زمین میں قارون کی طرح دھنسا دے اور چاہے تو ایکہ والوں کی طرح جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی آسمان سے کوئی عذاب نازل کر دے وہ بھی کہا کرتے تھے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دے تو ان پر بادل آیا اور آگ برسی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں وعید بھی ہو اور دوبارہ مردوں کے زندہ ہونے کی دلیل بھی ہو کہ جس اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا آسمان اور زمین پیدا کیا اس کو دوبارہ انسان کے پیدا کرنے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔
رجوع کرنیوالا بندہ وہ ہے جو ہر اس شئے سے جو اللہ سے غافل کرنیوالی ہو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔ حضرت ابراہیم بن ادھم ؓ نے فرمایا جو اپنی توبہ میں سچا ثابت ہو وہ منیب ہے۔
بہرحال ! آگے بعض ایسے حضرات کا ذکر ہے جو انابت میں کامل تھے۔
Ayah 34:10(10) اور یقینا ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپنی جانب سے ایک خاص قسم کی برتری اور بزرگی دی تھی۔ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ اے پہاڑو ! دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح میں موافقت کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کیلئے لوہے کو نرم کردیا۔
Ayah 34:11(11) اور ہم نے فرمایا کہ اے دائود (علیہ السلام) تو لوہے کی کشادہ اور پوری زرہیں بنا اور جال بننے میں کڑیوں کا صحیح اندازہ رکھ اور تم سب یعنی دائود (علیہ السلام) اور اس کے متعلقین نیک اعمال کے پابند رہو بلاشبہ تم جو کام کرتے ہو میں وہ سب دیکھتا ہوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت دائود (علیہ السلام) چوتھے دن جنگل میں نکلتے اپنے گناہ پر روتے اور زبور پڑھتے خوش آوازی سے اس کے اثر سے پہاڑ بھی ساتھ پڑھتے اور روتے اور اڑتے جانور پاس بیٹھ کر اسی طرح آواز کرتے اس مجلس میں لوگوں کے بہت جنازے نکلتے اور کڑیوں کی زرہ پہلے انہی سے نکلی کہ کشادہ رہے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نویں یا تیرھویں پشت میں ہوئے ہیں۔ ان کے باپ کا نام ایشا ہے یہ ایشا کے چھوٹے لڑکے تھے ان کے علاوہ ایشا کے بارہ لڑکے اور تھے یہ بڑے بااقبال تھے ان کی تفصیل تو سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ یہ علاوہ بکریاں چرانے کے گوپیے سے نشانہ بہت اچھا لگاتے تھے۔
حضرت اشمویل (علیہ السلام) کے مشورے سے حضرت اشمویل کی فوج میں شریک ہو کر جالوت کو قتل کیا اور حضرت اشمویل کے حکم سے جالوت کی سلطنت سنبھالی۔
وآتہ اللہ الملک والحکمۃ وعلمہ مما یشآء
پارہ دوم کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہرحال سلطنت کے بھی مالک ہوئے نبوت بھی ملی آپ کی خوش الحانی اور ترنم ضرب المثل ہے ان کی تسبیح میں خاص اثر تھا پہاڑ اور طیور کو اللہ تعالیٰ نے ان کا مسخر کردیا تھا پہاڑ بھی ان کے ساتھ اور طیور بھی ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ ان کو حکم دے رکھا تھا۔ ادبی معہ والطیر ادب کے معنی عام طور پر مفسرین نے دائود (علیہ السلام) کی تسبیح کے ساتھ موافقت کرنے اور آواز سے آواز ملانے کے معنی کئے ہیں۔ سورة ص میں انشاء اللہ آئے گا۔ یسبحن بالعشی والاشراق والطیر محشورۃ بعض لوگوں نے کہا ہے پہاڑ ان کے ساتھ چلتے تھے۔
بہرحال ! پہاڑوں کی تسبیح یا ان کا ہمراہ چلنا حضرت دائود (علیہ السلام) کے معجزات میں سے تھا۔ پہاڑوں اور پرندوں کی یہ تسبیح ان کی آواز کی گونج نہ تھی جیسا کہ بعض ناسمجھ لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ ایک معجزہ تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا ان کا لحن اور ان کا زبور پڑھنا پرندوں اور پہاڑوں پر یہ اثر کرتا تھا جو مذکور ہوا۔
اور انسانوں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ ان کی مجلس میں اللہ تعالیٰ کے شوق میں بعض لوگ مرجاتے تھے۔ جیسا کہ شاہ صاحب (رح) نے فرمایا اسی طرح دائود (علیہ السلام) کو خوش آوازی اور لحن اور خوش گلو کی نعمت کے ساتھ ان کے ہاتھ میں لوہے کو موم بنادیا تھا جس طرح چاہتے لوہے کو موم کی طرح استعمال کرتے ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنا باربیت المال پر نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ نے یہ وصف عطا کردیا زرہ بناتے تھے اور فروخت کر کے اپنی گزر کرتے تھے۔ زرہ پہلے سپاٹ ہوتی تھی انہوں نے کڑیاں مقرر کر کے جال بنانے کی ایجاد کی اس میں سپاہی کو آرام رہتا تھا وہ آسانی کے ساتھ جنگ میں پیترا بدل سکتا تھا۔ حلقوں کی جالی سے مڑنے اور گھومنے میں دشواری نہ ہوتی تھی۔
ان انعامات پر اللہ تعالیٰ گنے ان سے ان کے خاندان سے شکریہ کا مطالبہ کیا کہ تم سب لوگ شائستہ اور نیک اعمال کرتے رہو۔ آخر میں ہر قسم کے کاموں پر نگرانی کا اعلان کیا کہ جو کچھ تم کرتے ہو وہ میں سب دیکھ رہا ہوں۔
Ayah 34:12(12) اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کیلئے ہوا کو تابع کردیا تھا کہ اس ہوا کا صبح کو چلنا مہینہ بھر کی مسافت تھی اور اسی طرح اس ہوا کا شام کو چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور ہم نے سلیمان کیلئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور جنوں میں سے بعض وہ جنات تھے جو سلیمان کے پروردگار کے حکم سے اس کے سامنے اور اس کی نگرانی میں مختلف قسم کے کام کیا کرتے تھے اور ہم نے ان جنات کو یہ حکم دیا تھا کہ جو ہمارے حکم سے کج روی اور سرتابی کرے گا تو ہم اس کو دہکتی… اور بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزہ چکھا دیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کیلئے ہوا کو مسخر فرما دیا تھا۔ ان کے تخت کو جہاں وہ چاہتے وہاں پہنچاتی۔
ہوا جس تیزی سے اپنے دوش پر ان کے تخت کو لے جاتی تھی اس کا اندازہ اس سے ہوتا کہ ایک گھوڑے سوار ایک مہینہ میں جتنی دور جائے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تخت وہاں صبح کے ناشتے کے بعد سے دوپہر تک پہنچا دے اور دوپہر ڈھلے قیلولہ کرنے کے بعد شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کرلیا کرتے۔ شام، یمن، یمن سے شام، شام سے اصطخر اور اصطخر سے کابل۔
غرض ! جہاں ان کو جانا ہوتا تھا ہوا ان کے تخت کو اڑا کرلے جاتی جیسا کہ سورة انبیاء میں گزرا ہے اور سورة ص میں بھی اشارہ آئے گا۔
زمین میں معنی تانبا کو پگھلا دیا گیا تھا۔ جس میں پگھلا ہوا تانبا چشمہ کی طرح بہتا تھا اور اس پگھلے ہوئے تانبے کو سانچے میں ڈال کر برتن وغیرہ تیار کئے جاتے تھے۔ کہتے ہیں یہ چشمہ یمن میں تھا اور اللہ تعالیٰگ نے جنات کو بھی ان کیلئے مسخر کردیا تھا اور ان سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) وہ کام لیتے تھے جو انسانی طاقت سے زیادہ ہوتے تھے۔ جیسا کہ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے۔
جنات کو امر خداوندی سے مسخر کیا گیا تھا اور جنات کو حکم دیا گیا تھا کہ اگر ان میں سے کسی نے سلیمان (علیہ السلام) کی حکم عدولی کی یا کوئی کج روی اختیار کی تو ہم اس کو آتش سوزاں کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تخت تھا جس پر لشکر چلتا بائو اس کو لے چلتی شام سے یمن اور یمن سے شام آدھے دن میں لے پہنچتی اور پگھلے تانبے کا چشمہ اللہ نے نکال دیا یمن کی طرف اس کو سانچوں میں ڈھال کر جن باسن بناتے بہت بڑے لشکر کا کھانا پکتا اور بٹتا۔
Ayah 34:13(13) وہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کیلئے جو چیزیں وہ چاہتا تھا بنایا کرتے تھے۔ بڑی بڑی اونچی عمارتیں اور تصویریں اور بڑے بڑے لگن جیسے حوض اور بڑی بڑی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے چولھوں پر جمی رہتی تھیں۔ اے دائود کے خاندان والو ! تم سب ان نعمتوں کا شکر ادا کیا کرو اور شکریئے میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں بہت کم بندے شکرگزار ہوتے ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) جناب سے جو کام لیا کرتے تھے ان کی کچھ تفصیل سورة انبیاء میں گزر چکی ہے۔ کچھ یہاں بیان فرمائی۔ ان سے قلعے اور مساجد تعمیر کراتے تھے بیت المقدس کی تعمیر میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا اور دوسری بڑی بڑی عمارتیں بھی وہ بناتے تھے۔ محاریب کی تفسیر قلعوں سے اور مساجد سے کی گئی ہے۔ تماثیل سے مراد یا تو مجسمے ہیں یا دوسری تصویریں ہیں جو دیواروں پر بطور آرائش اس زمانہ میں بنائی جاتی ہوں اور ایسا کرنا ان کی شریعت میں اس وقت جائز ہوگا اور آخری شریعت محمدیہ ﷺ کی طرح اس وقت تماثیل کا بنانا حرام نہ ہوگا اور پگھلے ہوئے تانبے کے بڑے بڑے لگن جس میں سینکڑوں آدمی کھانا کھا سکیں اسی طرح بڑی بڑی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ بڑے بڑے چولھوں پر جما دی جاتی تھیں اور ان میں لشکر کا کھانا پکتا تھا۔
یہ تمام انعامات الٰہی تھے جن سے دائود (علیہ السلام) اور ان کے لڑکے سلیمان کو نوازا تھا۔ اسی پر شکر کا مطالبہ فرمایا
شکر نعمتہائے توچنداں کہ نعمتہائے تو
آخر میں فرمایا کہ میرے بندوں میں سے شکر ادا کرنے والے تھوڑے ہی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بہت کم لوگ شکر ادا کرتے ہیں۔
اے منزہ اززن و فرزند و جفت
کے تو انم شکر نعمتہات گفت
Ayah 34:14(14) پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم جاری کردیا تو سلیمان (علیہ السلام) کی موت پر جنات کو کسی نے بھی آگاہ نہ کیا اور کسی نے جنات کو سلیمان (علیہ السلام) کا مرنا نہ جتایا مگر ایک گھن کے کیڑے نے جو سلیمان کے سہارے کی لکڑی کو کھا رہا تھا پھر جب سلیمان (علیہ السلام) گرپڑے۔ تب جنات کو اپنے دعوے غیب دانی کی حقیقت معلوم ہوئی اور یہ بات ظاہر ہوئی کہ اگر وہ جنات غیب کی باتیں جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت آمیز مصیبت اور تکلیف میں مبتلا نہ رہتے۔
یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی کہ بیت المقدس کی تعمیر پوری ہوجائے چناچہ تعمیر پوری ہونے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب آگیا۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قاعدہ تھا کہ محراب میں اپنا عصا ٹیک کر کھڑے رہتے تھے اور عبادت میں مشغول ہوتے تھے چناچہ ایک دن حسب عادت وہ عصا کی ٹیک لگا کر محراب میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کے قبض کا حکم دیا اور جب سلیمان (علیہ السلام) کی جان قبض کرلی گئی تو وہ لکڑی کے سہارے کھڑے رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ایک سال تک ان کو اسی حالت میں رکھا۔ جناب یہ سمجھتے رہے کہ سلیمان (علیہ السلام) محراب عبادت میں کھڑے ہیں۔ سال بھر میں حضرت سلیمان کی لکڑی میں دیمک لگ گئی اور گھن لکڑی کو کھاتا رہا۔ جب لکڑی کا گودا ختم ہوگیا تو چھلکا ٹوٹا لکڑی کو ٹوٹتے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) گرپڑے اس وقت آپ کی وفات کا حال سب کو معلوم ہوا اور جنات جو محنت مشقت میں لگے رہتے تھے اور بیت المقدس کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے وہ منتشر ہوگئے اور یہ بات معلوم ہوتے ہی کہ سلیمان (علیہ السلام) کا انتقال ہوگیا تمام جنات بھاگنے شروع ہوگئے لیکن اس عرصہ میں بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوگئی۔
اسی واقعہ کا آیت مذکورہ میں اظہار فرمایا کہ جب سلیمان (علیہ السلام) کی موت واقع ہوگئی تو جنات کو کسی نے نہیں جتایا اور وہ اپنے کام می لگے رہے یہ بات ظاہر ہوئی بھی تو گھن کے کیڑے سے کھلی کیونکہ گھن لکڑی کو کھا گیا تھا۔ اس پر جنات کی حقیقت بھی ظاہر ہوگئی کہ اگر یہ جنات غیب کو جانتے ہوتے تو کیوں سال بھر تک مصیبت پیٹتے رہتے اور خود جنات کو بھی معلوم ہوگیا کہ اگر وہ اپنے دعوائے غیب میں سچے ہوتے تو تسخیر کے عذاب میں اور تکلیف میں کیوں مبتلا رہتے۔
بہرحال ! اس طرح بیت المقدس کی تعمیر پوری ہوگئی آگے سبا اور اس کے باشندوں کا حال مذکور ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس بنواتے تھے جب معلوم کیا کہ میری موت پہنچی جنوں کو عمارت کا نقشہ بنا کر آپ شیشے کے مکان میں دربند کر کے بندگی میں مشغول ہوئے بعد وفات کے برس دن تک جن بناتے رہے کہ پوری بن چکی جس عصا پر ٹیک کر کھڑے تھے گھن کے کھانے سے گرا تب سب پر وفات معلوم ہوئی اور جن جو آدمیوں کے پاس دعویٰ کرتے تھے علم غیب کا قائل ہوئے۔
Ayah 34:15(15) بلاشبہ اہل سبا کیلئے خود ان کے وطن مآرب میں بڑی بڑی نشانیاں موجود تھیں۔ وہ نشانیاں باغوں کی دورویہ قطاریں تھیں جو دائیں اور بائیں جانب مسلسل چلی گئی تھیں ان سے کہا گیا اپنے پروردگار کی عطا کردہ روزی کھائو اور اس کا شکر بجا لائو تمہارے رہنے کیلئے عمدہ اور پاکیزہ شہر ہے اور تقصیرات کو معاف کرنیوالا پروردگار بخشش والا ہے۔
یشحب ابن یعرب بن قحطان کے ایک لڑکے کا نام سبا تھا اسی کے نام پر صنعاء اور یمن کے مابین یہ آبادی بس گئی تھی۔ یہ آبادی دو پہاڑوں کے مابین تھی جہاں سیلاب کے زمانے میں برسات کا اور کبھی عمان کی جانب سے پانی آ جایا کرتا تھا۔ چناچہ کسی بادشاہ نے یا ملکۂ سبا نے ایک بند بندھوا دیا تھا۔ بند بندھوا دینے سے پانی جمع رہتا تھا اور بند میں پانی لینے کیلئے اوپر نیچے تین راستے رکھے تھے۔
جب پانی کے چڑھائو کا زمانہ ہوتا تو اوپر کا راستہ کھول کر پانی لیا کرتے جب پانی کم ہوجاتا تو درمیانی دروازہ کھول کر پانی حاصل کرلیتے اور جب پانی بہت کم ہوجاتا تو نیچے کا سوراخ یا دروازہ کھول کر پانی لیا کرتے۔
بہرحال ! پانی کی اس باضابطگی سے نشیبی علاقے تو دست وبرد اور تباہی سے محفوظ ہوگئے اور مآرب جو علاقہ سبا کا دارالخلافہ سمجھنا چاہیئے بہت سرسبز اور شاداب ہوگیا۔ دورویہ باغات کی قطار تھی جو میلوں چلی جاتی تھی۔ ہر قسم کے پھول و پھل سے مآرب کے رہنے والے بہت خوشحال تھے۔ ملکۂ سبا کی خوشحالی اور فوج کی قوت کا ذکر سورة نمل میں گزر چکا ہے۔ بہرحال وہاں کے رہنے والوں کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام یا ان کے نائبین کی معرفت یہ پیام پہنچا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کھائو لیکن شکر کا خیال رکھو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لائو۔
کہتے ہیں بارہ تیرہ نبی یکے بعد دیگرے ان کو سمجھانے آئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر یہی کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو تمہاری بڑی خوش قسمتی ہے کہ تم کو پاکیزہ اور صاف ستھرا شہر رہنے کو دیا اور تمہارا پروردگار بڑا بخشش کرنے والا ہے جو تمہاری معمولی کوتاہیوں کو صرف حسنات سے درگزر فرما دیتا ہے اور بھلائیوں سے برائیوں کو مٹا دیتا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کفران نعمت کیا اور اس کی سزا پائی جیسا کہ آگے آتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بلقیس جو سبا کی بادشاہ تھی ملک یمن میں اپنے دیس کو خوب بسا گئی تھی۔ پانی جھیلوں کا سب سمیٹ کر ایک جگہ روکا اوپر نیچے تین کھڑکیاں رکھیں اونچی نیچی زمینوں کے واسطے سارے برس مینہ کا پانی موجود رہتا جتنا چاہتے خرچ کرتے ملک خوب سرسبز آباد ہوا۔
Ayah 34:16(16) پھر انہوں نے اعراض اور بےپروائی کا شیوہ اختیار کیا اور پھر انہوں گ نے منہ پھیرلیا تو ہم نے ان پر بند توڑ کر زور کا سیلاب اور پانی کی تیز رو کو بھیج دیا اور ہم نے ان کے دورویہ باغوں کے بدلے میں اور دو باغ ان کو دے دیئے جن میں بدمزہ پھل اور جھائو اور کچھ قدرے قلیل بیری کے درخت تھے۔
مطلب یہ ہے کہ پانی کا بند ٹوٹ گیا اور پانی کی رو آگئی اور وہ دورویہ باغ بہہ گئے۔ آبادی تباہ ہوگئی اور تمام زمین ایسی ہوگئی جیسے دریا کے قریب بیلا۔ کچھ جھائو، جوانسا، بدمزہ پھلوں کے درخت کچھ جنگلی بیری کے بیر۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب چاہا اللہ نے عذاب بھیجے گھونس پیدا ہوئی اس پانی کے بند میں اس کی جڑ کرید ڈالی ایک بار پانی نے زور کیا بند کو توڑ دیا وہ پانی عذاب کا تھا سرخ رنگ کا جس زمین پر پھر گیا کام سے جاتی رہی۔ پیچھے وہ قوم ویران ہو کر جدا جدا ہوگئی اور کچھ جو رہی تھی ان باغوں کے بدلے یہ چیزیں پانے لگی۔
خلاصہ : یہ کہ پورا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تباہ ہوگیا اور لوگ مختلف قبیلوں میں بٹ گئے۔
Ayah 34:17(17) ہم نے ان کو یہ سزا ان کی اس ناشکری اور ناسپاسی کے سبب دی جس کے وہ مرتکب ہوتے تھے اور ہم ایسی سزا صرف اسی کو دیا کرتے ہیں جو بڑا ناسپاس ہو۔
ضحاک کہتے ہیں کہ یہ لوگ فترت کے زمانے میں تھے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور جناب سیدالمرسلین ﷺ کے درمیان کا زمانہ، اگر یہ دور ہو تو شاید حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے وصی ان کو سمجھانے آتے ہوں گے۔
بہرحال ! پیام خداوندی ان کو کسی نہ کسی ذریعے سے پہنچا ہوگا اور نافرمانی کے باعث یہ تباہی آئی ہوگی۔ بند ٹوٹنے کا سبب گھونس ہوں یا چوہے ہوں، ظاہری طور پر کوئی سبب ہوا ہو لیکن یہ واقعہ ہے کہ مآرب ویران کیا گیا اور ان کی نافرمانی اور ناسپاسی کے باعث ویران ہوا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیا۔
ذالک جزینھم بما کفروا اور یہ بھی فرما دیا کہ ہم معمولی باتوں پر سزا نہیں دیا کرتے مگر ہاں جب کسی ناسپاس کی ناسپاسی حد سے بڑھ جاتی ہے تب ہماری جانب سے سزا کا حکم جاری ہوتا ہے۔ وھل نجری الا الکفور نعوذ باللہ من الکفر والطغیان
Ayah 34:18(18) اور ہم نے اہل سبا کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی ہے بہت سی بستیاں ایسی آباد کر رکھی تھیں جو راستے میں سے نظر آتی تھیں اور ہم نے سفر کی رعایت سے ان بستیوں کے درمیان ایک خاص اندازے اور مناسبت سے فاصلہ رکھا تھا کہ تم لوگ ان بستیوں میں راتوں کو اور دنوں میں جب چاہے امن کے ساتھ بےخوف و خطر سفر کرو اور چلو۔ حضرت حق تعالیٰ نے ایک اور احسان کی ناسپاسی کی جانب اس آیت میں ذکر فرمایا۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اہل سبا کو ان کے ملک میں ہر طرح آسودگی اور مرفہ الحالی عطا فرمائی تھی اسی طرح ان لوگوں کیلئے سفر اور تجارت کی بڑی سہولتیں عطا کی تھیں۔ یمن سے لے کر شام تک ایک شارع عام اور گزرگاہ تھی جس پر نہ صرف یمن اور جدہ اور بصرہ سے تجارت ہوتی تھی بلکہ عرب لوگ ہندوستان سے لاکھوں روپے کے مال کی تجارت کیا کرتے تھے۔
یہ شارع عام ملک شام تک چلا جاتا تھا اور ہندوستان کا مال شام تک اس راہ سے پہنچتا تھا۔ اس راستے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں آباد تھیں۔ ان بستیوں سے مسافروں کو بڑا آرام ملتا تھا پھر یہ بستیاں ایک ایسے مناسب فاصلے سے آباد تھیں کہ صبح کا مسافر دوپہر کو اور دوپہر کا مسافر شام کو ان میں پہنچ کر آرام کرسکتا تھا۔ ان بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے یہ طویل راستہ محفوظ اور مامون بہت تھا۔ راستے میں لوٹ مار کے واقعات بہت ہی کم ہوتے تھے تو راستہ محفوظ تجارت کی آسانی اور کثیر المنافع کا سفر اور سفر میں قیام اور آرام کی سہولتیں پانی کی فراوانی غرض ! ہر قسم کی سہولتیں ان کو اس عام گزرگاہ سے حاصل تھیں مگر انہوں نے سفر کی ان تمام سہولتوں کو ٹھکرا دیا جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں برکت والی بستیاں یعنی ملک شام ان کے ملک سے شام تک راہ امن کی آباد بستیاں پاس پاس سفر تھا جیسے سیر۔
Ayah 34:19(19) پھر اس سہولت اور سفر کی آسانی پر انہوں نے یوں کہا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں میں درازی اور بعد کر دے اور فاصلہ کر دے اور انہوں گنے اپنی جانوں پر ظلم کیا پھر ہم نے ان کو افسانہ اور قصۂ پارینہ کردیا اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے اور تتر بتر کردیا بیشک اس واقعۂ تمزیق میں ہر صبر کرنے والے اور شکر بجا لانے والے کیلئے بڑی عبرت آموز نشانیاں ہیں۔ اس خواہش کی بنا بھی شاید حسد ہوگی کہ اس سفر میں فقیر اور رئیس یکساں کیوں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر کچھ بستیاں ان بستیوں میں سے اجڑ جائیں اور قیام و طعام کی اور امن وامان کی یہ سہولتیں ختم ہوجائیں تو پھر یہ سفر رؤسا اور امرأ کے ڈھب کا رہ جائے جن کے ساتھ محافظ سپاہی ہوں۔ پانی لانے والے نوکر غلام ہوں۔ پہرہ دینے والے خدام ہوں وہی لوگ سفر کرنے کے مستحق ہوں۔
بہرحال ! نالائقوں کی اس خواہش کا مبنی کچھ بھی ہو۔ مدعا یہ ہے کہ سفر کی یہ سہولتیں پسند نہ آئیں اور سفر میں جو عموماً تکالیف اور ناہمواریاں ہوتی ہیں ان کی خواہش کا اظہار کیا تو یہ اس ہی ناسپاسی کا جذبہ تھا جو ان کے سینوں میں رچ گیا تھا۔ چناچہ اس کا انجام وہی ہوا جو کفران نعمت کا ہوتا ہے کہ مآرب کے تمام لوگوں کو تباہ کردیا گیا جو بچے وہ مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ کوئی قبیلہ شام میں چلا گیا کوئی مکہ کو اور بحرین کو چلا گیا کوئی مدینہ اور تہامہ میں جا بسا۔
غرض ! اس طرح سب منتشر کردیئے گئے اور آج زبانوں پر صرف ان کے افسانے باقی رہ گئے۔ ہر صبر کرنے والے اور شکر بجا لانے والے کے لئے نشانیاں فرمائیں۔ اس لئے کہ اس قسم کے انقلابات سے وہی لوگ سبق لیتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں جن کو مصائب پر صبر کرنے اور نعمتوں پر شکر بجا لانے کی عادت ہوتی ہے۔
ایمان کے دو حصے ہیں نصف صبر ہے اور نصف شکر ہے حضرت قتادہ نے مطرف کا قول نقل کیا ہے۔ نعم العبد الصبارالشکور الذی اذا اعطی شکر واذا یتلی صبر
یعنی اچھا بندہ وہ صابرو شاکر ہے کہ جب اس کو کچھ دیا جائے تو شکر کرے اور جب اس کو کسی آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آرام میں مستی آئی لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں سفروں میں پانی نہیں ملتا آبادی نہیں ملتی، ویسا ہی ہم کو بھی ہو یہ بڑی ناشکری ہوئی ، چیر کر ٹکڑے کر ڈالا یعنی متفرق ہوگئے کسی کسی ملک میں۔
اب آگے عام طور پر شیطان کی پیروی کرنے والوں پر الزام اور ان کی مذمت اور مؤمنین کی تعریف ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 34:20(20) اور بلاشبہ شیطان نے بنی آدم کے بارے میں جو رائے اور جو گمان قائم کیا تھا صحیح اور سچا پایا کہ ایمان والوں کی ایک تھوڑی سی جماعت اور فریق کے سوا سب شیطان کے پیچھے ہو لئے اور اس کی پیروی کرنے لگے۔ یعنی شیطان نے جس گمان کا اظہار کیا تھا کہ ولا تجداکثرھم شکرین کہ آپ ان انسانوں میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائیں گے تو اس لعین نے جیسا خیال قائم کیا تھا اور جس گمان کا اظہار کیا تھا وہی ہوا کہ سوائے اہل ایمان کی ایک تھوڑی سی جماعت کے سب ہی اس کی اتباع کرنے لگے اور ظاہر ہے کہ اہل ایمان کی تعداد خواہ کتنی ہو دین حق کے منکروں کے مقابلے میں کم ہی ہیں۔ کامل اہل ایمان تو شیطان سے بالکل محفوظ رہے اور فاسق مسلمان بھی عصیان اور نافرمانی میں شیطان کے کہنے پر چلنے لگے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے دن ابلیس نے کہا لا حتنکن ذریۃ الاقلیلا ویسے ہی نکلے۔
خلاصہ : یہ کہ یہ بھی شیطان کا قول تھا کہ میں اس آدم کی تمام اولاد کو بس میں کرلوں گا۔ مگر تھوڑے میرے بس میں نہ آئیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا کہ اس خبیث نے جو اندازہ لگایا تھا وہ صحیح نکلا آگے شیطان کے بہکانے اور اس کے ظاہری تسلط کی حقیقت بیان فرمائی۔
Ayah 34:21(21) اور لوگوں پر شیطان کا قابو سوائے اتنی بات کے اور کسی وجہ سے نہیں ہوا کہ جو شخص آخرت پر ایمان لاتا ہے ہم اس کو اس شخص سے نمایاں اور متمیز کردیں جو آخرت کے متعلق شک اور شبہے میں پڑا ہوا ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگہبان اور نگراں ہے۔ یعنی شیطان کو جو اغوا کے سلسلے میں برائے نام قابو دے دیا ہے اس کا منشا صرف اس قدر ہے کہ برے اور اچھے علیحدہ علیحدہ ہوجائیں اور قیامت کے منکر قیامت پر ایمان رکھنے والوں سے متمیز ہوجائیں۔
حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا خدا کی قسم شیطان نے کسی کو تلوار یا لکڑی اور کوڑے سے نہیں مارا بلکہ اس کا کام فریفتہ کرنا اور دلوں میں آرزوئیں ڈالنا ہے چونکہ لوگ اتنی ہی بات میں اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں اس لئے تسلیط سے تعبیر فرمایا۔
بہرحال ! لوگ اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے موافق اس کے پیرو ہوجاتے ہیں یا اس سے نفرت کرتے ہیں اور عقائد و اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے سے متمیز اور نمایاں ہوجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مؤمن ہے اور یہ کافر ہے۔ یہ شیطان کا پیرو ہے اور یہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا متبع اور پیرو ہے۔ آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگراں ہے اس سے کوئی بات فرمانبرداروں کی یا نافرمانوں کی پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 34:22(22) اے پیغمبر آپ دین حق کے ان منکروں سے فرما دیجئے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا معبود سمجھتے ہوں ان مفروضہ معبودوں کو پکارو وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں ان مزعومہ اور مفروضہ معبودوں کی کوئی شرکت اور ساجھا ہے اور نہ ان معبودان باطلہ میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کا مددگار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن معبودوں کو تم خدا کے سوا اس کی خدائی اور اس کی قدرت میں دخیل سمجھتے ہو اور ان کو معبود بنائے بیٹھے ہو ان کو اپنی حاجت روائی کیلئے پکار دیکھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اختیار کی کیا حقیقت ہے۔ ان معبودان باطلہ کی کیفیت یہ ہے کہ نہ آسمانوں اور نہ زمینوں میں ان کی کچھ چلتی ہے اور نہ ایجاد عالم میں ان کو کوئی دخل ہے اور نہ وہ کسی حیثیت سے حضرت حق تعالیٰ کے مددگار ہیں پھر ان کو پکارنا محض عبث اور بیکار ہی نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی ہے۔
Ayah 34:23(23) اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کیلئے سفارش کام نہیں آتی مگر ہاں اس کے کام آسکتی ہے۔ جس کی نسبت اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دے دے یعنی شفیع کو منظوری مل جائے کہ فلاں جماعت کیلئے سفارش کرسکتے ہو اور اجازت سے پہلے پہلے اہل محشر اور شافع اور مشفوع باہم ایک گھبراہٹ اور پریشانی میں انتظار کرتے ہوں گے یہاں تک کہ جب ان کی گھبراہٹ ان کے قلوب سے دور ہوجائے گی تو آپس میں کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا اور کیا حکم دیا تو کہیں گے اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا یعنی شفاعت کی اجازت دے دی گئی اور وہی سب سے عالیشان اور بڑا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کے یہاں سفارش عوام جانتے ہیں اولیاء سے وہ انبیاء سے وہ فرشتوں سے فرشتوں کا حال یہ ہے جو فرمایا جب اوپر سے اللہ کا حکم اترتا ہے آواز آتی ہے جیسے پتھر پر زنجیر کی اور فرشتے ڈر سے تھرتھراتے ہیں جب تسکین آئی اور کلام اتر چکا ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حکم ہوا اوپر والے بتاتے ہیں نیچے والوں کو جو اللہ کی حکمت کے موافق ہے اور آگے سے قاعدہ معلوم ہے وہی حکم ہوا۔
خلاصہ یہ ہے کہ عام احکام کے نزول کے وقت جو آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کو سلسلۃ الجرس سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ جیسا کہ عام طور پر احادیث میں آتا ہے۔ اسی کو شاہ صاحب (رح) نے فرمایا جیسے پتھر پر زنجیر کی آواز۔
چونکہ اس آیت کی تفسیر مفسرین نے دو طرح کی ہے اس لئے ہم نے ترجمے اور تفسیر میں فرق کردیا ہے ایک قول تو وہی ہے جس کی طرف اشارہ شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہے کہ جب کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو ملائکہ میں ایک قسم کی گھبراہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور جب آواز بند ہوجاتی ہے تو فرشتے ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں۔ ماذاقال ربکم ملائکہ مقربین جواب دیتے ہیں کہ جو حکم جاری ہوا ہے وہ بالکل صحیح اور ٹھیک ہے۔
دوسرے معنی وہ ہیں جو ہم نے تیسیر میں اختیار کئے ہیں کہ شفاعت کے اذن سے پہلے سب میں گھبراہٹ ہوگی اور شفاعت کے خواہشمند اور جن کو شفاعت کا اذن ملنا ہے وہ سب گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے اور ایک عرصہ تک انتظار میں رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم جاری ہوچکے گا تب ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ پروردگار عالم نے کیا فرمایا آپس میں ہی ایک دوسرے کو جواب دیں گے کہ جو کچھ فرمایا ہے وہ برحق ہے۔
یعنی گناہ گار مؤمنین کیلئے شفاعت کی اجازت مل گئی اور دین حق کے منکروں کیلئے شفاعت کو روک دیا گیا۔ ماللظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع (مومن)
وہ بلند مرتبہ اور بزرگ قدر ہے اس کے حکم کو کوئی رد کرنے والا نہیں۔
Ayah 34:24(24) اے پیغمبر آپ دلائل توحید کے سلسلے میں ان منکرین سے فرما دیجئے کہ تم کو آسمانوں سے اور زمین سے کون روزی دیتا ہے اور کون تمہاری رزق رسانی فرماتا ہے آپ ہی فرمایئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے یقینا ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔ یعنی آسمان سے پانی برسانا اور زمین سے نباتات اگا کر تمہارے لئے روزی مہیا کرنا یہ کس کا کام ہے۔ یہ بات چونکہ ایسی ہے کہ دل سب کے اس کو مانتے ہیں کہ یہ کام سوائے باری تعالیٰ کے اور کون کرسکتا ہے اس لئے رسول کو حکم دیا کہ آپ کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ ہے آگے ایک بات اور غور طلب فرمائی کہ ذرا سوچو کہ ہم تم میں ایک نہ ایک تو حق پر ہے اور ایک نہ ایک ضرور گمراہ ہے ہم باوجود اس کے حق پر ہیں پھر بھی تم کو موقع دیتے ہیں کہ آئو بیٹھ کر غور کرو یہ بھی تبلیغ و تلطیف دعوت کا ایک طریقہ ہے۔
بہرحال ! یہ تو ہو نہیں سکتا کہ توحید باری کے مدعی اور توحید الٰہی کے منکر دونوں حق پر ہوں یا دونوں گمراہ ہوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دونوں فرقے تو سچ نہیں کہتے ایک مقرر سچا ہے ایک مقرر جھوٹا ہے تو لازم ہے کہ سوچو اور سچی بات پکڑو اس میں ان کا جواب ہے جو اس زمانے میں بعضے لوگ کہتے ہیں دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضرور جھگڑنا۔
بعضے جاہل اس قسم کی صلح کن باتیں کیا کرتے ہیں اور حق و باطل کو ایک ترازو میں تولتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) کے زمانے میں بھی ایسے لوگ ہوں گے اور آج کل تو ایسے نادان بہت ہیں بعض مفسرین نے اس آیت میں وکوبمعنی او بھی لیا ہے اور کلام کو بطریق لف و نشر مرتب کے بیان کیا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 34:25(25) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے تم سے ہمارے جرائم کی پرستش نہیں کی جائے گی اور تم جو کرتے ہو اس کی ہم سے بازپرس نہیں کی جائے گی۔
اس کلام میں بھی نہایت نرمی برتی ہے کہ اپنے افعال کو اجرمنا سے تعبیر کیا ہے اور مخالف کے اعمال کو عماتعملون فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے اور ہم میں سے ہر ایک فریق اپنے اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور قیامت کے منکر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ کسی سے بازپرس نہ ہوگی اور پر سسش اعمال کا کوئی دن نہ ہوگا اس لئے آگے فرمایا۔
Ayah 34:26(26) اے پیغمبر آپ یہ بھی فرما دیجئے کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہم سب کے مابین ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہی بڑا خوب فیصلہ کرنے والا ہے۔ سب کا حال جانتا۔ یعنی ایک دن ضرور ایسا آنا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ ہم کو اور تم سب کو جمع کرے گا۔ پھر ہم سب کے درمیان انصاف کے ساتھ صحیح اور حق فیصلہ فرما دے گا وہ بڑا فیصلہ کرنیوالا اور خوب فیصلہ کرنیوالا اور ہر ایک کے حال سے واقف اور جاننے والا ہے آگے پھر شرک کا رد فرمایا۔
Ayah 34:27(27) آپ ان سے فرمایئے جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا رکھا ہے انہیں ذرا مجھے بھی تو دکھلائو ہرگز ایسا نہیں ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے بلکہ وہی اللہ ہے کمال قوت اور حکمت کا مالک۔ یعنی تم کو اللہ تعالیٰ کی قوت اور اس کے احسانات کا علم ہوچکا اور معبود ان باطلہ کا عجز اور ان کی بےچارگی بھی معلوم ہوچکی اور باوجود اس کے ان باطل معبودوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے تو ان کو مجھ کو دکھلائو اور ان کو بتائو تاکہ میں ان کو دیکھوں کہ وہ کس کام کے ہیں تم ان خیالات سے باز آئو اللہ تعالیٰ تو وہی یکتا اور اکیلا معبود ہے اور وہی زبردست اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔
آگے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا اظہار ہے۔
Ayah 34:28(28) اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے واسطے بشارت اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ تمام لوگ یعنی عرب و عجم اور ہر احمرواسود موجود یا آئندہ آنیوالے بلکہ ہر مکلف کی جانب آپ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ خواہ وہ انسان ہوں یا جنات اتباع کرنیوالوں کو رضائے الٰہی کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانی کرنیوالوں کو ڈراتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے لیکن اکثر لوگ آپ کی بزرگی اور آپ کے مراتب علیا کی قدرومنزلت کو نہیں سمجھتے حضرت قتادہ نے مرفوعاً فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد کو عرب اور عجم یعنی سب کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تمام لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بزرگ وہ ہے جو ان کی بہت اتباع اور پیروی کرنے والا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں خواہ وہ عرب ہوں یا عجم اور نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میرا رعب مہینہ بھر کی راہ سے دشمن پر پڑتا ہے اور مال غنیمت میری امت کیلئے حلال کردیا گیا اور میرے لئے زمین کو مسجد اور پاک کرنیوالی مقرر کیا گیا اور میں شفاعت دیا گیا جس کو میں نے اپنی امت کے گناہ گاروں کیلئے قیامت تک محفوظ کر رکھا ہے۔ البتہ وہ شفاعت اہل شرک کو نہیں پہنچے گی۔
اللھم ارزقنا محبتہ وشفاعتہ وادخلنا فی زمرۃ اتباھہ واحباتہ امین یارب العالمین آگے قیامت کے متعلق ایک اعتراض کا جواب فرمایا۔
Ayah 34:29(29) اور یہ دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ عذاب وثواب کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو بتائو یعنی قیامت کب آئے گی اور یہ فیصلے کب ہوں گے۔
Ayah 34:30(30) آپ ان سے فرما دیجئے تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن مقرر ہے تم اس دن سے نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ گھڑی بھر آگے بڑھ سکتے ہو۔ یعنی گو اس قیامت کا وقت نہ بتایا جائے مگر وہ آئے گی ضرور جو دن اس کا علم الٰہی میں مقرر ہے اس دن سے نہ تم پیش قدمی کرسکتے ہو نہ اس دن کو مؤخر کرنا تمہارے لئے ممکن ہے اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔
ضحاک ؓ فرماتے ہیں موت کا دن بہرحال موت بھی اگر مراد لی جاتی تو وہ بھی مرنے والے کی قیامت ہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
من مات فقد قامت قیامتہ
یعنی جو شخص مرگیا تو اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔
Ayah 34:31(31) اور دین حق کے منکروں نے یوں کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن کریم پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر ایمان لائیں گے اور کاش اے مخاطب تو ان منکروں کی حالت اس وقت دیکھتا جبکہ یہ ظالم اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے پر بات کو پلٹ رہے ہوں گے تو تجھ کو بڑا عجیب معلوم ہو جو لوگ کمزور اور تابع تھے وہ بڑائی کرنے والوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم یقینا ایماندار ہوتے۔
یعنی کفار قریش یوں کہتے ہیں نہ ہم قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور نہ دوسری کتب سماویہ پر ایمان لائیں گے کیونکہ دیگر کتب سماویہ میں بھی اس آخری کتاب یعنی قرآن کریم کا ذکر ہے اس لئے ہم کسی بھی آسمانی کتاب پر ایمان لائیں گے۔
آگے نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے یا عام مخاطب کو خطاب فرمایا ہے۔ مفسروں کے دونوں قول ہیں اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں قول اختیار کر لئے ہیں جب یہ ظالم اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے آپس میں سوال و جواب اور تو تو میں میں کر رہے ہوں گے ایک دوسرے پر بات کو لوٹاتے ہوں گے۔ چناچہ دنیا میں وہ لوگ جو کمزور اور دبے ہوئے تھے وہ سرکشوں اور سرداروں اور چودھریوں سے کہہ رہے ہوں گے اگر تم نہ ہوتے اور تمہارا دبائو نہ ہوتا تو ہم اسلام قبول کرلیتے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے ہوتے آگے متکبرین کا جواب ہے۔
Ayah 34:32(32) بڑائی کرنیوالے ان کمزوروں کو جواب دیں گے کیوں غلط بات کہہ رہے ہو کیا ہم نے تم کو اس ہدایت کے قبول کرنے سے بعد اس کے کہ وہ ہدایت تم کو پہنچ چکی تھی روکا تھا ؟ نہیں بلکہ تم خود ہی مجرم اور قصوروار تھے۔ یعنی ہم نے تم کو اسلامی ہدایت کے قبول کرنے سے کیا زبردستی روکا تھا ہم پر اپنے اسلام نہ قبول کرنے کا کیوں الزام رکھتے ہو اپنے جرم کا خود کیوں نہیں اعتراف کرتے ہم نے تم پر کوئی زور یا زبردستی نہیں کی۔
Ayah 34:33(33) اس پر وہ کمزور اور ادنیٰ درجے کے لوگ ان بڑائی کرنیوالوں سے کہیں گے اور جواب دیں گے نہیں بلکہ تمہاری ہی رات دن کی پرفریب تدبیروں اور ریشہ دوانیوں نے ہم کو روکا تھا جب تم ہم سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے اور یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور ہم دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہرائیں اور جب یہ لوگ عذاب کا معائنہ کریں گے اور جب یہ تابع اور متبوع عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت اور پشیمانی کو تو چھپانے کی کوشش کریں گے اور دل ہی دل میں پچھتائیں گے اور ہم ان لوگوں کی گردنوں میں جو کفر کرتے رہے طوق ڈال دیں گے۔ ان لوگوں کو انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی سوال و جواب کے سلسلہ میں یہ کمزور اور ناتواں لوگ مستکبرین کو جواب دیں گے کہ زور اور زبردستی نہ بھی کی ہو تمہاری ان ریشہ دوانیوں اور پرفریب تدبیروں نے تو روکا جو تم دن رات کیا کرتے تھے کہ ہم کسی طرح اسلام نہ قبول کرلیں اور خود ہم سے کہا بھی کرتے تھے اور ہم سے فرمائش بھی کیا کرتے تھے کہ ہم کفر پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک اور سہیم قرار دیں اور دوسروں کو اس کا ہمسر بنائیں اور جب یہ دونوں فریق عذاب کو دیکھیں گے تو چپکے چپکے نادم و پشیمان ہوں گے اور ایک دوسرے سے پشیمانی کو چھپائیں گے۔
مستکبرین اپنی حرکات پر نادم ہوں گے کہ ہم نے ان غریب لوگوں کی راہ میں مشکلات پیدا کیں اور مستضعفین یوں شرمندہ ہوں گے کہ ہم نے ان کا کہنا کیوں مانا اور اپنی رائے سے حق قبول کیوں نہ کیا۔
آگے سزا کا ذکر ہے کہ مجرموں کی مشکیں کس کر گلے میں بھاری بھاری طوق ڈال دیئے جائیں گے اور یہ تابع یعنی کمزور اور متبوع یعنی بڑائی کرنیوالے سب ہی عذاب کے مستحق ہوں گے۔
ھل یجزون الا ما کانوا یعملون بدلا نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جن کا ارتکاب کیا کرتے تھے آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔