Ayah 34:34(34) اور ہم نے کسی بستی میں کوئی رسول ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس بستی کے مرفہ الحال اور خوش عیش لوگوں نے ان پیغمبروں سے یہی کہا کہ جو پیغام تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس پیغام کے منکر اور نامعتقد ہیں۔ یعنی یہ کفروانکار کا طریقہ صرف آپ ہی کو پیش نہیں آ رہا ہے بلکہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جب کوئی پیغمبر کسی بستی میں آتا ہے تو وہاں کے خوشحال لوگ اس کی تبلیغ اور اس کے لائے ہوئے احکام کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 34:35(35) اور یہ خوش حال لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم مال اور اولاد میں تم سے زیادہ ہیں اور ہم کبھی عذاب دیئے جانیوالے نہیں۔ یعنی ہم مال میں بھی تم سے زیادہ اور اولاد میں بھی تم سے زیادہ اور ہم کو کبھی عذاب نہ ہوگا۔ یہ الفاظ شاید مسلمانوں سے کہا کرتے ہوں گے اور ہوسکتا ہے کہ پیغمبروں سے کہتے ہوں۔
Ayah 34:36(36) آپ فرما دیجئے میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے اور نپی تلی روزی دیتا ہے لیکن اکثر لوگ اس تقسیم کی مصلحت کو نہیں جانتے۔ یعنی روزی کا کم و بیش ہونا کچھ بزرگی اور مرتبے کی یا حق پر ہونے کی بات نہیں کہ اس سے خوش حال لوگ اپنی صداقت پر دلیل پکڑیں بلکہ روزی کی تقسیم اور اس میں کمی و بیشی اللہ تعالیٰ کی دوسری مصلحتوں اور دوسری حکمتوں پر مبنی ہے کبھی نافرمان غنی ہوتا ہے اور فرماں بردار فقیر اور اس کا عکس لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ نحن اکثرا موالا و اولادا اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا بھی باطل ہے کہ کثرت مال و اولاد عذاب الٰہی سے بچا لے گی۔
Ayah 34:37(37) اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو درجے اور مرتبے میں تم کو ہم سے قریب کردیں اور تم کو ہمارا مقرب بنادیں مگر ہاں جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے تو یہ ایمان اور عمل صالح بیشک ہم سے قریب ہونے اور ہمارے مقرب ہونے کا ذریعہ اور سبب ہیں سو ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کا دوگنا یعنی عمل سے زیادہ صلہ ملے گا اور وہ جنت کے بالاخانوں میں بےخوف بیٹھے ہوں گے۔ یعنی جو لوگ کثرت اموال و اولاد پر نازاں ہو کہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اموال و اولاد ہم کو خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب بنادیں گے ان کی غلطی اور جہالت کا اظہار فرمایا اور بتایا کہ اصل چیزیں تو ایمان اور عمل صالح ہیں جو ہم سے قریب کرتے اور ایک انسان کو ہمارا پسندیدہ بناتے ہیں۔
دگنے کا یہ مطلب ہے کہ عمل سے زیادہ بدلا پائیں گے خواہ وہ دوگنا ہو یا دوگنے سے زیادہ ہو۔ اگر دل میں ایمان نہیں اور نہ نیک اعمال کا جذبہ تو مال اور اولاد بیکار ہیں اور ان کا کوئی نفع نہیں البتہ ایمان ہو اور نیک عمل ہو پھر مال نیک کاموں میں خرچ کیا جائے اور اولاد کو اچھی تربیت دی جائے اور وہ ماں باپ کی مغفرت کیلئے دعا کریں تو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ غرفات میں پرامن ہوں گے۔
حدیث میں آتا ہے۔ ان فی الجنۃ غرفاً یری ظاھرھا من باطنھا و باطنھا من ظاہرھا یعنی جنت میں کچھ بالاخانے ہیں جو اپنی صفائی کے اعتبار سے اتنے شفاف ہیں جن کے اندر سے باہر کی تمام چیزیں نظر آتی ہیں اور باہر سے اندر کی تمام چیزیں دکھائی دیتی ہیں یہ بالاخانے ان مسلمانوں کیلئے ہیں جو نرم کلام کرتے ہیں اور فقراء کو کھانا کھلاتے ہیں اور پے در پے روزے رکھتے ہیں اور رات میں جب لوگ سوتے ہیں تو وہ نماز پڑھتے ہیں یعنی تہجد کی نماز پڑھا کرتے ہیں۔
Ayah 34:38(38) اور جو لوگ ہمارے ہرانے اور عاجز کرنے کو ہماری آیتوں کے خلاف کوشش کرتے اور دوڑے دوڑے پھرتے ہیں تو وہ لوگ گرفتار کرکے عذاب میں لائے جائیں گے۔ یعنی ہماری آیتوں کیخلاف ان آیات کو باطل ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم کو یا ہمارے پیغمبر کو عاجز کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ وعید فرمائی۔ آگے پھر رزق کی کشادگی اور تنگی کا ذکر فرماتے ہیں شاید اس میں مسلمانوں کو سمجھانا ہے جیسا کہ وماانفقتم سے سمجھ میں آتا ہے اور اس توجیہ سے تکرار کا شبہ بھی مندفع ہوجاتا ہے۔
Ayah 34:39(39) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو فراخ اور کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور نپی تلی روزی دیتا ہے اور تم جو چیز بھی خیرات کرو گے اللہ تعالیٰ تم کو اس کا عوض اور بدلا عنایت فرمائے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ یعنی روزی کی فراخی اور تنگی حضرت حق تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔ روزی کی تنگی اور فراخی کا تعلق حق و باطل سے نہیں ہے بلکہ اس کی حکمت اور مصلحت دوسری ہے جو مسلمان ایسے مواقع میں خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا حضرت حق کو پسندیدہ ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس مال کا صلہ عطا فرماتا ہے یعنی دنیا میں یا آخرت میں وہ سب روزی دینے والوں سے بہتر روزی دینے والا ہے یعنی اگر یہاں کوئی مجازی طور پر کسی کو کچھ دیتا بھی ہے تو وہ بھی حق تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے دیتا ہے۔ اس لئے وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
Ayah 34:40(40) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو میدان قیامت میں جمع فرمائے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اور تم کو پوجتے تھے۔ یعنی کیا تمہاری رضامندی اور تمہاری اجازت سے تم کو پوجتے تھے کیونکہ اکثر مشرکین فرشتوں کو روحانی قوت سمجھ کر پوجتے تھے بعض کواکب پرست فرشتوں کو ستاروں کی روح سمجھ کر پوجتے تھے۔ حق تعالیٰ کے اس سوال پر فرشتے عرض کریں گے۔
Ayah 34:41(41) وہ فرشتے جواب دیں گے اے خدا تو تمام عیوب سے پاک ہے ہمارا کارساز تو تو ہی ہے اور ہمارا تعلق تو محض آپ ہی سے ہے نہ کہ ان لوگوں سے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ شیاطین کی پرستش کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی شیاطین پر اعتقاد رکھتے تھے۔ یعنی آپ تمام عیوب سے جس میں شرک کا عیب بھی داخل ہے پاک اور منزہ ہیں۔ ہمارا تو ہی کارساز ہے۔ ان سے ہمارا کوئی تعلق اور اسطہ نہ تھا نہ ہم ان کے فعل سے راضی تھے نہ یہ ہمارے مطیع تھے ہم تو خود ہی آپ کے مطیع اور فرمانبردار تھے بلکہ یہ لوگ شیاطین کی پوجا کیا کرتے تھے کیونکہ وہی ان کو شرک کی ترغیب دیا کرتے تھے اور ان کے مشرکانہ افعال سے شیاطین راضی تھے اس لئے وہی ان کے معبود تھے اور یہ لوگ قصداً بھی انہی شیاطین کے معتقد تھے جیسا کہ انشاء اللہ سورة جن میں آجائے گا۔
وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن۔
بہرحال مشرکوں نے جو امیدیں فرشتوں سے قائم کر رکھی تھیں وہ فرشتوں کا جواب سن کر مایوس ہوجائیں گے۔ آگے ان جھوٹے عابدین اور باطل معبودین کی بےبسی کا اظہار فرمایا۔
Ayah 34:42(42) بہرحال آج تم میں سے نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ کوئی کسی کو نقصان اور ضرر پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور ہم ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم اور ناانصافی کا ارتکاب کیا تھا فرمائیں گے کہ جس آگ کے عذاب کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اس آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔
مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ان معبودان باطلہ کی عبادت پر نازاں تھے اور فرشتوں کی اور شیاطین کی سفارشوں اور شفاعت پر بھروسہ اور گھمنڈ رکھتے تھے اس کی حقیقت فالیوم لا یملک فرما کر آشکارا کردی گئی کہ نہ پوجا کرنیوالوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو ان معبودوں میں سے کوئی نفع یا ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان فرضی معبودوں ہی کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکیں اور ظاہر ہے کہ جب معبودوں کو اختیار نہیں تو پوجا کرنیوالوں کو اختیار کہاں ؟
پھر یہ بھی ارشاد ہوگا کہ جس جہنم کے عذاب کو جھوٹا کہا کرتے تھے اس جہنم کے عذاب کا مزہ چکھو آگے ان منکرین دین حق کی بعض اور سوقیانہ اور احمقانہ باتوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 34:43(43) اور ان منکرین دین حق کے سامنے جب ہماری واضح اور روشن آیات پڑھی جاتی ہیں تو پیغمبر ﷺ کے بارے میں یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں محض ایک آدمی ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں کی پرستش اور ان معبودوں کی پوجا سے روک دے اور باز رکھے جن کو تمہارے بڑے بوڑھے اور تمہارے باپ دادا پوجا کرتے تھے اور قرآن کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ قرآن کچھ نہیں محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا اور یہ منکر اس امر حق کے متعلق جب وہ امر حق ان کے پاس پہچا یوں کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں صرف ایک صریح جادو ہے۔ یعنی نہ پیغمبر خدا ﷺ کو نبی اور خدا کا فرستادہ مانتے ہیں آپ کی نبوت سے انکار کرتے ہیں بلکہ یوں کہتے ہیں یہ ایک آدمی ہے جس کا منشا صرف یہ ہے کہ وہ ہم کو ان معبودوں کی پوجا سے باز رکھے جن کو ہمارے پرانے باپ دادا پوجتے رہے۔ گویا ایک آدمی خودبخود ویسے ہی کھڑا ہوگیا بڑوں کی قائم کردہ رسم کے مٹانے کو۔
اسی طرح قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں مانتے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے خود ہی گھڑا ہے اور خدا کی طرف نسبت جھوٹی کردی ہے۔ اس لئے قرآن کو افل و مفتری کہتے ہیں یعنی جھوٹ گھڑا ہوا اور امر نبوت جو سراسر حق ہے اس میں سے کوئی بات بھی جب ان کے سامنے آتی ہے خواہ کوئی معجزہ ہو یا قرآن کی آیت ہو یا کوئی معقول بات ہو جہاں وہ امر حق ان کے سامنے پیش ہوا تو اس کو یہ جادو کہتے ہیں حالانکہ ان کو تو ایسی حالت میں کہ عرصہ سے انبیاء کی صحبتوں سے محروم ہیں۔ پیغمبر ﷺ کی زیارت اور صحبت کو غنیمت سمجھنا چاہیئے تھا چانانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 34:44(44) اور نہ تو ہم نے ان اہل عرب کو آسمانی کتابیں دی تھیں جن کو یہ پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا ہی آیا تھا۔ یعنی جس طرح بنی اسرائیل میں توریت اور انجیل وغیرہ کتابیں نازل ہوئیں اور مختلف علاقوں میں انبیاء آتے رہے اہل عرب میں یہ دستور نہیں رہا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول بھی نہیں آیا تاآنکہ نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لائے اور ان پر قرآن نازل ہوا۔ تو ایک عرصہ کے بعد ان کو اس نعمت سے نوازا گیا تو ان کو اس کی قدر کرنی چاہیئے تھی لیکن یہ بجائے قدر کے ناشکری پر آمادہ ہوگئے تو اس سے بڑھ کر ان کی اور کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے آگے پیغمبروں کے جھٹلانے والوں کا انجام فرمایا۔
Ayah 34:45(45) اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا تھا اور ان کی حالت یہ تھی کہ جو سازوسامان ہم نے ان کو دیا تھا اس کے دسویں حصہ کو بھی یہ کفار مکہ نہیں پہنچے غرض ان لوگوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی اور جھٹلایا پھر دیکھ لو میرے انکار کا انجام ان کے حق میں کیسا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلی قومیں ہر اعتیار میں تم سے کہیں زیادہ تھیں۔ قوت، شوکت، سامان عیش و ترفہ حاشیہ نشینوں کی کثرت وغیرہ ان کے مقابلہ میں تمہارے پاس تو دسواں حصہ بھی نہیں ہے مال و متاع کی کمی حمایتیوں کی قوت کم عمریں پہلوں سے کم۔
جب ہم نے ان سابقہ قوموں کو پیغمبروں کی تکذیب کے باعث نہیں چھوڑا اور تباہی کے گھاٹ اتار دیا تو تم کس گنتی اور شمار میں ہو۔ ومابلغوا معشارما اتینھم میں مفسرین کے چار قول ہیں مگر ہم نے مشہور قول اختیار کرلیا ہے اگر تطویل کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم چاروں اقوال پر بحث کرتے۔ ایک قول ان اقوال میں سے یہ ہے کہ جو حجت اور دلیل اور علم بیان اس امت کو دیا گیا ہے اس کا دسواں حصہ بھی ان کو نہیں دیا گیا۔ پھر جب رسول کی مخالفت سے ان کو برباد کیا گیا تو تم تو ان سے زیادہ ذمہ دار ہو اپنی قابلیت کی بناء پر تم سوچو کہ تمہارا انجام کیا ہوگا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 34:46(46) اے پیغمبر آپ ان سے فرمایئے میں تو تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور تم کو ایک ہی بات سمجھتا ہوں وہ بات یہ کہ تم محض اللہ تعالیٰ کے واسطے دو دو مل کر اور تنہا تنہا کھڑے ہو جائو پھر غور کرو کہ تمہارے اس رفیق یعنی رسول اللہ ﷺ کو کچھ جنون نہیں ہے وہ تو تم کو صرف ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے۔ یعنی غور و فکر کا ایک طریقہ تعلیم فرمایا کہ کسی بڑے اجتماع میں صحیح غور و فکر کا موقع میسر نہیں آتا تم نیک نیتی کے ساتھ تعصب اور ہٹ دھرمی سے بلند ہو کر سوچو اور سمجھو دو دو آدمی مل کر اس پر آمادہ ہو جائو اور ایک ایک بھی غور کرو یعنی تنہا تنہا بیٹھ کر سوچو۔
ان تقوموا کا یہ مطلب نہیں کہ کھڑے ہو کر غور کرو بلکہ مطلب یہ کہ تم لوگ یہ طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو جائو اگر تم نے محض اللہ تعالیٰ کیلئے یہ کام کیا اور علیحدہ بیٹھ کر غور و فکر کیا تو حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے تمہاری رہنمائی ہوگی اور صحیح راہ تمہاری سمجھ میں آجائے گی اور تم جان لو گے کہ محمد ﷺ کو جنون اور دیوانگی نہیں ہے اور نہ مجنون کا ایسا کلام ہوتا ہے اور نہ اس کلام کے مماثل کوئی دیوانہ کلام کرسکتا ہے۔
آگے آنے والے عذاب سے مراد قیامت اور اس کا عذاب ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا
بعثت بین یدی الساعۃ یعنی میں قیامت کے آگے بھیجا گیا ہوں۔ اس آیت میں غور و فکر کی تاکید ہے اور نتیجے کے اعتبار سے یہ طریقہ مفید ہے۔
Ayah 34:47(47) اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما دیجئے جو کچھ اس تبلیغ پر میں نے تم سے اجرت اور معاوضہ طلب کیا ہو تو وہ تمہارا اور تمہارے لئے ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ تعالیٰ ہی پر ہے وہ ہر چیز سے خبردار اور ہر چیز پر حاضروناظر ہے۔ یعنی کسی قسم کا معاوضہ خواہ وہ اعیان کی شکل میں ہو یا اعراض کی شکل میں وہ سب تمہارا، جیسے ہمارے ہاں بھی محاورہ ہے کہ میں نے کچھ لیا ہو تو وہ تم لے لو مبالغہ کے طور پر یہ بات کہی جاتی ہے جب کسی قسم کا کوئی ذاتی نفع مقصود ہی نہیں ہے تو لینا دینا کیسا اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ تبلیغ محض خدا کے واسطے تھی اس تبلیغ پر کوئی نقد یا سامان وصول کرنا مقصود ہی نہ تھا۔
اس لئے فرمایا میرا نیگ اور ثواب تو اللہ تعالیٰ پر ہے وہی مجھ کو صلہ دے گا اور وہ ہر چیز پر مطلع اور خبردار ہے اگر کوئی چیز میں لیتا ہوں تو وہ خوب جانتا ہے آگے حق کا غالب ہونا اور دین حق کے غلبے کا ذکر ہے۔
Ayah 34:48(48) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرا پروردگار امر حق کو اور سچی بات کو ڈالتا ہے اور وحی راست کو اتارتا ہے اور وہ تمام چھپی چیزوں کو خوب جاننے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ امر حق کو اور دین حق کو اتارتا ہے اور میں اس کے بندوں تک پہنچاتا ہوں یا یہ مطلب کہ وہی امر حق کو باطل پر غالب کرتا ہے جیسا کہ سورة انبیاء میں ہم عرض کرچکے ہیں۔
قذف کے معنی اگرچہ تیر پھینکنے کے ہیں لیکن قرآن میں عام طور سے القا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب اور ان اقذفیہ فی التابوت ہم نے تیسیر میں دونوں کو واضح کردیا ہے اور وہی غیب کی تمام باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اوپر سے اتارتا ہے۔
Ayah 34:49(49) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے دین حق آپہنچا اور باطل نہ کسی کو ابتدائً پیدا کرے اور نہ دوبارہ پیدا کرے۔ باطل سے مراد یا تو صنم ہے یا شیطان ہے یعنی ابتدائً کسی چیز کو پیدا کرنا اور مرنے کے بعد اس کو قیامت میں دوبارہ پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ غیر اللہ میں سے کسی کا کام نہیں خواہ وہ شیطان ہو یا بت ہو۔ صاحب مدراک نے ایک اور معنی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے یعنی حق آگیا اور باطل گیا گزرا ہوگیا۔
جیسا کہ فرمایا جاء الحق وزھق الباطل مطلب یہ ہے کہ باطل کا بطلان خوب کھل گیا اور ظاہر ہوگیا یہ مطلب نہیں کہ باطل کو کبھی عارضی غلبہ بھی نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ حق کے آنے سے پہلے کبھی کبھی باطل کے صحیح ہونے کا شبہ ہوجاتا تھا اب وہ بات آئی گئی ہوئی اور باطل کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔ واللہ اعلم
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اوپر سے اتارتا ہے۔
Ayah 34:50(50) آپ یہ بھی فرما دیجئے کہ فرض کرلو اگر میں خدانخواستہ راہ راست سے بھٹک جائوں اور گمراہ ہو جائوں تو سوائے اس کے نہیں کہ میں اپنے ہی برے کو اور اپنی ہی جان کے لئے گمراہی اختیار کروں گا اور اگر میں راہ راست پر قائم رہوں تو یہ اس قرآنی وحی کی وجہ سے ہوگی جو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے۔ بلاشبہ وہ خوب سننے والا اور بہت قریب و نزدیک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کلام الٰہی کا حق ہونا ثابت ہوگیا تو لو فرضنا اگر میں راہ حق سے بھٹک جائوں تو اس کا وبال اور اس کا ضرر مجھ پر ہوگا اور میں جیسا کہ راہ راست پر ہوں اسی راہ راست پر قائم رہوں تو اس کا سبب وہ وحی الٰہی ہوگی جس کو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے۔ یعنی کلام الٰہی کی وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے اسی کے سبب میں راہ یافتہ رہوں گا۔ پس ایسی حالت میں تم کسی کی گمراہی اور ہدایت کی فکر نہ کرو بلکہ اپنی فکر کرو اور راہ راست اختیار کرنے میں پیش قدمی کرو وہ سب کی باتیں سننے والا اور بہت ہی نزدیک ہے جو جیسا کرے گا اس کی سزا یا اس کا صلہ پائے گا۔
Ayah 34:51(51) اور اے پیغمبر آپ ان دین حق کے منکروں کی حالت اس وقت دیکھئے کہ جب یہ منکر سخت گھبرا رہے ہوں گے اور کہیں بھاگ کر بچ بھی نہ سکتے ہوں گے اور قریب ہی کے قریب پکڑ لئے جائیں گے۔
Ayah 34:52(52) اور یوں کہتے ہوں گے کہ ہم دین حق پر ایمان لائے اور بھلا اب اتنی دور جگہ سے ان کا ہاتھ ایمان کو کہاں پہنچ سکتا ہے۔ یعنی اے پیغمبر قیامت میں جو ان پر گزرے گی اگر وہ حالت ان کی دیکھ لیں تو آپ کو سخت حیرت ہو کہ یہ میدان حشر کی ہولناکیوں سے گھبرا رہے ہوں گے اور کہیں بھاگ نکلنے کو جگہ نہ ہوگی اور قریب کے قریب ہی گرفتار کر لئے جائیں گے اور یہ منکر یوں کہیں گے کہ ہم دین حق پر ایمان لے آئے حالانکہ یہ بات دنیا میں ہوسکتی تھی۔ اب دارالجزا میں اس کا موقع کہاں، وہ ایمان لانے کی بات دور گئی اور بھلا درالعمل کی بات کا اقرار دارالجزا میں جا کر کرنا تو بھلا اتنی دور کے فاصلے سے ہاتھ ایمان تک کہاں پہنچ سکتا ہے۔
اب ایمان لانے کی بات بہت دور گئی۔ بعض نے کہا مرتے وقت بعض نے کہا قبروں سے اٹھتے وقت۔ بہرحال کئی قول ہیں ہم نے ایک قول اختیار کرلیا ہے آگے ان منکروں کی پہلی حالت بیان فرمائی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لانے کا وقت نہ رہا۔
Ayah 34:53(53) حالانکہ یہ اس سے پیشتر اس دین حق کا انکار کیا کرتے تھے اور دوردراز جگہ سے بن دیکھے نشانے پر تیر پھینکا کرتے تھے۔ یعنی اب دنیا میں واپس جانے اور ایمان لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس سے پیشتر تو انکار کیا کرتے تھے اور بن دیکھے نشانے پر دور سے تیر پھینکا کرتے تھے یعنی بن دیکھی باتوں کو جھوٹ کہتے تھے۔ میدان حشر کا انکار، حساب کتاب کا انکار، جنت دوزخ کی تکذیب یا حضور ﷺ کو ساحر، شاعر، کاہن وغیرہ کہتے تھے۔ یہی اٹکل کے تیر چلانا ہے۔
Ayah 34:54(54) اور ان کے اور ان کی خواہشات کے مابین اسی طرح روک اور آڑ کردی جائے گی جس طرح ان لوگوں کی آرزوئوں کے مابین آڑ کردی جائے گی جو ان کے ہم مذہب اور ہم مشرب ان سے پہلے ہو گزرے ہیں کیونکہ یہ سب لوگ ایک ایسے شک میں مبتلا تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو دوسرے منکروں کے ساتھ سلوک ہوا ہے یعنی جس طرح تمام نعمتوں سے وہ محروم کئے گئے اسی طرح یہ بھی تمام نعمتوں سے محروم کردیئے جائیں گے۔ ان کی خواہشات کے مابین روک کردی جائے گی۔ خواہ وہ خواہش ایمان لانے کی ہو یا دنیا میں واپس جانے کی ہو، یا ٹھنڈے پانی کی آرزو ہو۔
جیسا کہ ابن عمر ؓ نے ٹھنڈا پانی پی کر یہ آیت پڑھی۔
مایشتھون عام ہے جس سے ہر قسم کی خواہش مراد ہوسکتی ہے چونکہ ان سے پہلے بھی اس قماش کے لوگ یہی حرکت کرتے تھے اور یہی حرکت کفار مکہ بھی کر رہے ہیں جو سزا ان کو دی گئی وہی ان کو دی جائے گی کیونکہ وہ لوگ بھی اسی قسم کے لغو شبہات و شکوک میں مبتلا تھے جس قسم کے شک اور قلق میں یہ مبتلا ہیں۔
الحمدللہ تم تفسیر سورة السبا