Ayah 33:11۔ اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کا کہنانہ مانیے بلا شبہ اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے مرتبہ کی بلندی کی رعایت رکھتے ہوئے آپ کا نام لیکر خطاب نہیں فرمایا یہ حضور ﷺ کی غایت عظمت اور غایت شرافت کی دلیل ہے کہ آپ کو یا احمد یا محمد نہیں کیا گیا بلکہ یا یھا النبی اور یا ایھا الرسول پر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ڈرتے تو ہیں اس وصف پر ہمیشہ قائم رہے یہی مطلب آگے جو امر کے صیغے آ رہے ہیں ان کا سمجھنا چاہئے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ خدا سے ڈرتے نہ تھے اس لئے ڈرنے کا حکم دیا گیا ، نیز مخالفین کو سنانا ہے کہ ہمارے پیغمبر تو ان اوصاف پر قائم رہیں گے اور تم احکا خداوندی کی تعمیل سے خائب و خاسررہو گے کافروں اور منافقوں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مکہ کے بعض کافر مدینہ کے بعض منافقوں کے مکان میں آ کر مقیم ہوئے آپ ؐ سے انم طلب کیا آپ نے امن دیدیا ۔ اس کے بعد باہمی مشورے سے طے کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ ہمارے بتوں کے متعلق یہ تسلیم کرلیں کہ وہ قیامت میں شفاعت کریں گے اور نفع دیں گے اور آپ ان کا ذکر چھوڑ دیں تو ہم آپ سے کوئی تعارض نہ کریں گے ۔ آپ اپنے پروردگار کی آزادنہ عبادت کرتے رہیں آپ ﷺ یہ سن کر ملول ہوئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ مکہ کے کافروں اور مدینہ کے منافقوں کا کہنا نہ مانیئے اور ان کی اطاعت نہ کیجئے اور اس عدم اطاعت پر قائم رہیے۔
Ayah 33:22۔ اور آپ کے پروردگار کی جانب سے جو حکم آپ کی طرف بھیجا گیا ہے اور جو وحی آپ کی جانب کی گئی ہے آپ اس کی اتباع اور پیروی کیجئے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان تمام کاموں سے با خبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے ، یعنی آپ تو صرف اس کا اتباع کیجئے جو وحی آپ کی جانب کی جاتی ہے۔
Ayah 33:33۔ اور آپ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھیے اور اسی پر توکل کیجئے اور اللہ تعالیٰ با اعتبار کار ساز ہونے کے کافی ہے اور اللہ تعالیٰ بس ہے کام بنانے والا ۔ یعنی آپ اللہ پر توکل رکھیئے جیسا کہ آپ کیا کرتے ہیں ہمیشہ ایسا ہی توکل اور بھروسہ رکھا کیجئے اللہ تعالیٰ کار ساز اور کام بنانے کو کافی اور بس ہے۔
Ayah 33:44۔ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو سچ مچ تمہاری مائیں نہیں بنادیا ہے اور اس نے تمہارے لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں کردیا ہے یہ صرف تمہارے اپنے منہ کی کہی بات ہے اور اللہ تعالیٰ حق اور سچ بات کہتا ہے اور وہی سیدھا راستہ اور سیدھی راہ دکھاتا اور بتایا ہے۔
یہاں سے زمانہ جاہلیت کے چند اقوال باطلہ کا رد فرمایا اور کافرانہ روش اور کافرانہ رسوم کا رد کیا مثلاً کوئی آدمی ذہین اور طباع اور سمجھ دار ہوتا تو زمانہ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے اس مرد کے اندر دو دل ہیں اور یہ دو دل والا آدمی ہے ۔ اسی طرح ایک رسم ظہار کی تھی وہ یہ کہ کسی شخص نے اپنی منکوحہ بیوی کو ماں کہہ دیا یا اس کے پیٹ یا پیٹھ کو اپنی ماں کے پیٹ یا پیٹھ سے تشبیہ دیدی تو زمانہ جاہلیت میں اس بیوی کو واقعی ماں کی طرح حرام سمجھتے تھے اور اس کو بجائے خادم کے مخدوم سمجھنے لگے تھے اسی طرح متنبی اور لے پالک کو حقیقی بیٹا سمجھتے تھے کسی نے کسی ک بیٹا بنا لیا تو اب وہ حقیقی بیٹا ہوگیا اور وہ ورثہ کا بھی حق دارہو گیا اس کی منکوحہ اس فرضی باپ پر حرام سمجھتے تھے۔
اسی بنا پر نبی کریم ﷺ پر حضرت زینب ؓ کے نکاح کا اعتراض کرتے تھے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو اپنا متنبی فرمایا تھا۔ زید بن حارثہ قبیلہ کلب کے رہنے والے تھے بچپنے میں قید کر لئے گئے تھے حکیم بن خرام نے انکو اپنی پھوپھی خدیجہ کیلئے خرید لیا تھا جب حضرت خدیجہ ؓ نکاح میں آئیں نبی کریم ﷺ کے تو انہوں نے زید کو حضور کے لئے ہبر کردیا۔
ایک دفعہ کسی سفر میں زید بن حارثہ کو ان کے ورثاء نے پہچان لیا اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا حضور ﷺ نے زید ؓ کو اختیار دیدیا کہ اگر وہ جاناچا ہیں تو چلے جائیں مگر انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی غلامی اور شرف صحبت کو ترک کرنا گوارہ نہ کیا آپ نے ان کو بیٹا اور متنبی کرلیا اور ان کو آزاد کردیا اور وہ زید بن محمد کہے جانے لگے۔
چونکہ قریش اپنی لڑکی کی شادی ایسے شخص کے ساتھ کرنے میں عیب سمجھتے تھے جس کا باپ دلوا یا وہ خود غلام رہا ہو ، چناچہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کا نکاح زید بن محمد سے کر کے کفر کی اس پرانی رسم کو توڑا جس کی وجہ سے قریش میں شادی کرنا کسی آزاد شادہ غلام سے ممنوع تھی اور جب زید بن محمد ﷺ نے ایک عرصہ کے بعد ان کو طلاق دیدی تو حضور ﷺ نے حضرت زینب ؓ کی تالیف قلوب کے لئے خود ان سے شادی کرلی اس پر بھی کفار نے اعتراض کیا اس کی تفصیل تین رکوع کے بعد آئے گی ۔
بہر حال زمانہ جاہلیت کی مختلف رسوم کا رد فرما دیا ، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ منکر نبی کریم ﷺ کو کہا کرتے تھے کہ اس شخص کی دو دل ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کفر کے وقت کوئی جو رو کو ماں کہتا تو ساری عمر وہ اس سے جدا ہوتی اور کسی کو بیٹا کر بولتا تو سچا بیٹا ہوجاتا اللہ تعالیٰ نے دونوں حکم بدل دیئے جو رو کو ماں کہنا سورة قد سمع اللہ میں آوے گا اور لے پالک کا حکم آگے بیان ہے۔ ان دو کے ساتھ تیسری بات بھی سنادی کہ ایسی باتیں کہنے کی بہتری ہیں ان پر عمل نہیں ہوسکتا جیسے مستقل مرد کو کہتے ہیں اس کے دو دل ہیں چھاتی چیر کر دیکھو تو کسی کے دو دل نہیں ۔ 12
غرض ! یہ تمہاری اپنے منہ کی بنائی باتیں ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں نہ کسی مرد کے سینے میں دو دل ہوتے ہیں اور نہ بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دینے سے بیوی ماں ہوجاتی ہے اور نہ کسی کو متنبی کرنے سے وہ حقیقی بیٹا بن جاتا ہے ، آگے حکم بیان کرتے ہیں کے لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کیا کرو۔
Ayah 33:55۔ تم لوگ ان لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو یہی بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک راستی اور انصاف کی بات ہے پھر اگر تم ان لے پالکوں کے حقیقی باپوں کو نہ جانتے ہو اور ان سے واقف نہ ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی اور رفیق ہیں اور اس میں تم سے جو بھول چوک ہوجائے تو اس بھول چوک میں تم پر کوئی گناہ نہیں مگر ہاں جو دل سے قصد کر کے کرو تو مواخذہ ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
چوک کا مطلب یہ ہے کہ حکم کے نزول سے پیشتر جو ہوتا رہا یہ کہ بھول سے کسی وقت زبان سے نکل گیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چوک کا گناہ تو کسی چیز میں نہیں اور ارادے کا ہے اس میں بھی اللہ چاہے تو بخشے ، چوک یہ کہ منہ سے نکل گیا فلانے کا بیٹا فلانا ۔ 12
دین کے بھائی اور دوست فرمایا اگر تم کو ان کے واقعی اور حقیقی باپوں کا نام نہ معلوم ہو تو بھائی کہو یا مولیٰ کہہ کر پکارو۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں زید بن حارثہ کو لوگ زیدا بن محمد کہا کرتے تھے ، اس آیت کے بعد ان کو پھر زید بن حارثہ کہا جانے لگا اور زید کو حضور کی طرف منسوب کرنا چھوڑ دیا ۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسری شخص کو اپنا باپ بتائے اور اپنے کو غیر باپ کی طرف منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔
Ayah 33:66۔ نبی مسلمانوں کے ساتھ خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگائو رکھتا ہے اور نبی امور مسلمین میں تصرف کرنے کے بارے میں خود ان مسلمانوں کے نفسوں اور ان کی جانوں سے لائق تر ہے اور پیغمبر کی بیویاں ان مسلمانوں کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ اور حکم شرعی کی رو سے رشتے دار آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں با اعتبار دوسرے مؤمنین اور مہاجرین کے الا یہ کہ تم اپنے دوستوں میں سے کسی کے ساتھ کوئی سلوک اور بھلائی کرنا چاہو تو کرسکتے ہو یہ حکم لوح محفوظ ہیں لکھا جاچکا تھا۔
اولیٰ کا ترجمہ احری ، اجدر ، الیق سے کیا ہے یعنی سزا وار تر ، مسلمانوں کو بتایا کہ تمہارے نفوس کے مقابلے میں پیغمبر واجب الاطاعت اور واجب التعظیم ہے نفس تو انسان کو کبھی ہلاکت اور تباہی کی طرف لے جاتا ہے لیکن پیغمبر کی ہر بات انسان کی فوز و نجات کے لئے ہوتی ہے اس لئے پیغمبر کی اطاعت مطلقاً اور آپ کی تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے نفس کی دعوت کے مقابلے میں پیغمبر کی دعوت کا قبول کرنا مقدم اور فرض ہے۔
حدیث میں ہے ما من مومن الاوانا اولی بہ فی الدنیا والاخرۃ من انفسھم ومن ابائھم یعنی کوئی مومن نہیں مگر یہ کہ اس کے لئے میں اس کی جان سے اور اس کے باپ سے ا س پر زیادہ شفقت کرنے والا ہوں ۔ کمال ایمان آپ کی محبت پر موقوف ہے جب تک کسی مومن کو آپ سے اپنی اولاد اور ماں باپ سے بلکہ سب لوگوں سے زیادہ محبت نہ ہو تب تک اس کے ایمان کے کامل ہونے کی شکل نہیں ۔
جیساکہ لا یومن احدکم روایت سے ظاہر ہے چونکہ آپ کو ابوۃ معنوی حاصل ہے اس لئے فرمایا کہ پیغمبر کی ازواج مسلمانوں کی مائیں ہیں اور یہ ابوۃ معنوی تمام انبیاء کو اپنی امم پر حال ہے۔ کما قال مجاھد مصحف ابی اور قرأۃ ابن مسعود میں یہ الفاظ وارد ہیں ۔ وھو اب لھم وازواجھ اماتھم۔ بہر حال ! بحث کو مختصر کرتے ہوئے گزارش ہے کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہرا عتبار سے الویۃ حاصل ہے اور اس کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں اور ان سے ان کی تعظیم کی بنا پر کوئی مسلمان حضور ﷺ کی وفات یا طلاق کے بعد بھی نکاح نہیں کرسکتا ہے جیسا کہ اسی سورت میں اس کی تصریح موجود ہے اور چونکہ ان ازواج مطہرات کا مائیں ہونا ان کی تعظیم اور جلالت شان کے اعتبار سے ہے اس لئے نکاح میں تحریم فرمائی۔
باقی امور میں امویت ثابت نہیں ہے مثلاً ورثہ اور حجا ب وغیرہ تو اب ان کی بیٹیوں کو مسلمانوں کی بہنیں اور ازواج مطہرات کے بھائی بہنوں کو مسلمانوں کے ماموں یا خالائیں نہیں کہناہو گا ۔ بعض حضرات کا اس میں اختلاف ہے کہ ازواج مطہرات صرف مردوں کی مائیں ہیں یا مسلمان عورتوں کی بھی مائیں ہیں اس میں صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ جب مائیں کہنے سے اصل تحریم نکاح ہے اور دوسرے امور میں امومیت نہیں ہے اور عورتوں میں نکاح کی صلاحیت نہیں تو یہ امومیت صرف مردوں کے لئے ہے۔
جیساکہ حضرت عائشہ ؓ سے ایک قول بھی مروی ہے وہ فرماتی ہیں ، امام رجالکم لا ام نسائکم یعنی میں تمہارے مردوں کی ماں ہوں تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں ۔ بعض علماء مسلمان عورتوں اور مسلمان مردوں دونوں کی امومیت کے قائل ہیں ۔ ( واللہ اعلم)
آپ کے آخری حصے میں مہاجرین اور انصار کے بھائی چارے اور مواخات کے سلسلے میں جو ورثہ جاری فرمایا تھا اس کو بتایا کہ وہ عرضی چیز تھی اور لوح محفوظ میں ایک وقت خاص اس کا مقرر تھا وہ وقت پورا ہوگیا۔ لہٰذا مرنے والے کے ورثے کے حق دار میت کے اہل قرابت ہیں اور آئندہ سے صرف مرنے والے کے اہل قرابت ہی کو ورثہ ملے گا اور جو حصوں کی مقدار سورة نساء میں گزر چکی ہے ۔ اس کے موافق حصہ رسدی ہر اہل قرابت کو دیاجائے گا ۔
البتہ اگر کوئی اہل قرابت کے علاوہ کسی دوسرے رفیق اور کسی دوست یا مہاجر کسی انصار کے ساتھ یا انصار کسی مہاجر کے ساتھ سلوک کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی زندگی میں دے سکتا ہے یا وصیت کرسکتا ہے اور وصیت کے ذریعہ دے سکتا ہے اور وصیت زیادہ سے زیادہ متروکہ مال کا تیسرا حصہ ہونا چاہئے پہلے لفظ کتاب کا ترجمہ ہم نے کتاب اللہ اور تیسیر میں احکام شرعیہ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب قرابت دار اولیٰ ہیں تو آئندہ مہاجرین اور انصار کی مواخات کی بناء پر ترکہ تقسیم نہیں ہوگا بلکہ قرآن کی رو سے قرابت داروں میں تقسیم ہوگا اور کان ذلک فی الکتاب میں لوح محفوظ ترجمہ کیا ہے تا کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ لوح محفوظ میں ہر حکم کا وقت مقرر ہے جب وہ وقت پورا ہوجاتا ہے وہ حکم ختم ہوجاتا ہے یہی مطلب ہے ناسخ منسوخ کا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نبی نائب ہے اللہ کا اپنے جان مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی کا اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی حکم کرے تو فرض ہے اور اس کی عورتیں سب کی مائیں حرمت میں پردے میں نہیں اور حضرت کے ساتھ جنہوں نے وطن چھوڑا بھائی بندوں سے ٹوٹے ان کو حضرت نے آپ میں بھائی کردیا تھا دودو کو پیچھے ان کے ناتے والے مسلمان ہوئے فرمایا کہ اس بھائی چارے سے ناتا مقدم ہے میراث ناتے ہی پر ہے اور سب حکم مگر احسان اور سلوک اس کا بھی کئے جائو یہ کتاب میں لکھا ہے یعنی قرآن کریم میں ہمیشہ کو یہ حکم جاری رہا تو ریت میں بھی یہی حکم ہوگا ۔ 12
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اولویت کی جو تقریر فرمائی ہے اس پر مجھے حضرت سہیل (رح) کا قول یاد آگیا وہ فرماتے ہیں ۔ من لم یر نفسہ فی ملک الرسول ولم یرولا یتہ علیہ فی جمیع اموالہ لم یذق حلاوۃ سنتہ۔
یعنی جس نے اپنی جان کو رسول اللہ ﷺ کی ملک نہیں سمجھا اور تمام احوال میں آپ ﷺ کی ولایت اولویت اور برتری کو نہیں سمجھا اس نے رسول کی سنت کا مزہ اور سنن پیغمبر کی حلاوت کا مزہ نہیں چکھا یعنی سنت پر عمل کرنے کا مزہ ہی جب آتا ہے جب پیغمبر ﷺ کی رفعت شان اور علومرتبت سے واقف ہو ۔ ( اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد)
Ayah 33:77۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا عہد اور اقرار لیا اور ان نبیوں میں آپ ؐ سے اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی عہد لیا اور عہد بھی خوب پختہ عہد لیا ۔
Ayah 33:88۔ تا کہ اللہ تعالیٰ ان سچوں سے ان کے سچ کو دریا فت کرے اور ان کے سچ کی تحقیقات فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے منکروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوم میثاق میں جس طرح عام انسانوں سے الست بربکم کا عہد لیا۔ اسی طرح عام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے تبلیغ توحید اسلام اور دعوت رسالت کا عہد لیا اور باہمی تناصر اور تعاون کا عہد لیا ، اگرچہ نبی تین میں سب میں سب ہی پیغمبر داخل ہیں لیکن ان میں سے اولوالعزم پیغمبروں کا خصوصیت سے نام لیا اور ان میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو مقدم فرمایا تا کہ آپ کی اولیت اور آپ کے مراتب علیا کا اظہار ہو کیونکہ حضور ﷺ اپنی خلق کے اعتبار سے اول ہیں اگرچہ آپ کو اس عالم میں جملہ عمل کی تکمیل کے لئے آخر میں بھیجا گیا اور تاکید کے طور پر فرمایا کہ عہد خوب پختہ لیا اور یہ عہد اور اس کی پختگی اس لئے ہوئی تاکہ قیامت میں ان سچوں سے ان کے سچ کی تحقیقات کرے اور عہد کی وفا میں جو سچے ہیں ان کا سچ ظاہر رنے کے لئے ان سچوں سے ان کے سچ کی تحقیقات کرے اور عہد کی وفا میں جو سچے ہیں ان کا سچ ظاہر کرنے کے لئے دریافت کیا جائے اس کو سوال تشریف کہتے ہیں اس سوال سے جس طرح صادقین کی بزرگی اور ادائے تبلیغ کا اظہار ہوگا اسی طرح منکرین و مخالفین کے لئے یہ سوال باعث ندامت ہے جس طرح اس آیت سے صاحب وحی پر اتباع وحی اور اس کی تبلیغ کا وجوب ثابت ہے۔
اسی طرح سننے والوں پر صاحب وحی کی اتباع کرنے کا وجوب ثابت ہے گویا صاحب وحی کو اپنی وحی پر عمل کرنا واجب اور غیر صاحب وحی کو صاحب وحی کی اتباع واجب اس لئے نافرمانی کرنیوالوں کے لئے وعیدکا ذکر کیا گیا کہ جو لوگ صاحب وحی کی اتباع کرنے سے انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کی تبلیغ توحید کی مخالفت کرتے ہیں ان کیلئے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ذکر فرمایا اور خاص طور پر غزوۂ احزاب میں جو غیبی امداد فرمائی اس کو یاد دلایا۔
Ayah 33:99۔ اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت فرمایا جبکہ تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے پھر ہم نے تمہاری ان مخالف فوجوں پر ایک تیز و تند آندھی بھیجی اور ایسا لشکر بھیجا جس کو تم نے نہیں دیکھا اور جو اعمال تم کر رہے تھے اللہ تعالیٰ ان سب اعمال کو دیکھ رہا تھا۔ ان آیات میں غزوۂ احزاب جس کو غزوۂ خندق بھی کہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اس احسان کا ذکر فرمایا اور غزوۂ احزاب کی بھی تھوڑی سی تفصیل بیان فرمائی اور منافقوں نے جو سوقیانہ حرکت اس جنگ میں انجام دیں اور پارٹ ادا کیا اس کو طشت ازبام کیا گیا ہے نبی کریم ﷺ نے 4ھ میں یہود بنی نضیر کو ان کی نا شائستہ حرکات پرجلاوطن کردیا تھا اور مدینہ سے نکال دیا تھا ان جلا وطن لوگوں نے کفار عرب میں حضور کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کیں اور حییی (علیہ السلام) ابن اخطب یہودی سردارنے اس میں نمایاں حصہ لیا اور ہر قوم میں پھر ا یہاں تک کہ قریش فزارہ، غطفان اور بنی قریضہ کو مدینہ منورہ پر حملے کیلئے آمادہ کرلیا اور تقریباً بارہ ہزار کفار کا لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کی غرض سے روانہ ہوا ۔ نبی کریم ﷺ کو جب اس ہجوم کی اطلاع ملی تو آپ اپنے ہمراہی جن کی تعداد تقریباً تین ہزار تھی مدینہ سے باہر مسلح پہاڑ کے دامن میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے مشورہ دیا کہ مدینہ کی حفاظت کیلئے مدینہ کے چاروں طرف خندوق کھودی جائے ہم اہل فارس جنگ کے موقع پر ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ چناچہ ان کی رائے پسند کی گئی اور نبی کریم ﷺ نے تمام مجاہدین کو زمین کھودنے کا حکم دیا اور زمین کے حصے مختلف لوگوں میں تقسیم کردیئے۔
مجاہدین نے خندق کھودنی شرو ع کردی نبی کریم ﷺ بھی مٹی کی ٹوکریاں نکال رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔ اللھم لا عیش الاعیش الاخر ۃ فاغفر الانصار والمھاجر۔ اے اللہ عیش اور زندگی تو آخرت ہی کی زندگی اور آخرت ہی کا عیش ہے پس آپ مہاجر اور انصار کو بخش دیجئے آخر کار کفار کا یہ لشکر جس کی تعداد دس ہزار تھی مدینہ پہنچ گیا اور عینیہ جو غطفانی فوج کا سردار تھا اپنی فوج لیکر جانب شرق کی وادی میں ٹھہرا اور ابو سفیان نے اپنے لشکر کو جانب غرب کی وادی میں ٹھہرا یا۔
بہر حال ! کفار کا یہ لشکر تقریباً ایک ماہ پڑا رہا کوئی خاص مقابلہ نہیں ہوا البتہ کبھی کبھی آپس میں کچھ جھڑپیں ہوجاتی تھیں کبھی پتھرائو ہوجاتا تھا کبھی کبھی تیر چلتے تھے۔ بہرحال ! کوئی بڑا معرکہ نہیں ہوا مسلمان اگرچہ ثابت قدم رہے لیکن کفار کی زیادتی اور ان کے جنگ جو یا نہ رویہ سے خائف ضرور تھے ایک موقع پر مسلمانوں کا خیال ہوا کہ باہم صلح سے یہ خطرہ ٹلادیاجائے لیکن سعد بن معاذ ؓ اور سعد بن عبادہ ؓ نے اتفاق نہیں کیا اور صلح کا خیال ترک کردیا۔ حسن اتفاق سے اسی حالت میں نعیم بن مسعود غطفانی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اسلام کا اظہار کیا اور یہ بھی عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے اسلام قبول کرنے کی کسی کو اطلاع نہیں ہے اگر آپ اس حالت میں کوئی خدمت مجھ سے لینا چاہیں تو میں حاضر ہوں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا نعیم اس وقت بڑا کام یہ ہے کہ دشمنوں میں باہم تفریق ہوجائے اور ان کے پائوں اکھڑ جائیں اور مدینہ طیبہ کا محاصرہ ختم ہوجائے کیونکہ لڑائی تو دائوں کا نام ہے اگر تم ایسا کوئی دائوں کرسکو تو یہ وقت کا بڑا کام ہے چناچہ نعیم بن مسعود ؓ تشریف لے گئے اور انہوں نے وعدہ کیا کہ میں تدبیر کرتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے کامیاب فرمایا تو انشاء اللہ میری تدبیر کامیاب ہوگی ۔
چنانچہ نعیم بن قریظہ کے یہود کے پاس آیا اور ان سے باتیں کرتے ہوئے اس نے کہا تم جانتے ہو میں تمہارا آدمی ہوں ایک بات کہتا ہوں یہ قریش اور غطفانی جو تمہارے ہمراہ لڑنے کے لئے ہیں ان کے اموال اور ان کی اولاد یہاں سے بہت دور ہیں اگر جنگ میں شکست ہوگئی تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا اور ان کی اولاد اور ان کے اموال محفوظ رہیں گے بخلاف تمہارے کہ تم مدینہ کے قریب رہتے ہو تم کس طرح محفوظ رہ سکتے ہو اگر شکست ہوئی یا قریش نے اور غطفان نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا تو تمہارے پاس ان کی طرسے کیا ضمانت ہے۔
اس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک ان کے ساتھی ہو کر نہ لڑو جس وقت تک ان کے اشراف اور سرداروں میں کسی ایک کو اپنے پاس ضمانت کے طورپر رہن نہ رکھ لو ۔ بنی قریظہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور انہوں نے اس کو قبول کرلیا اور نعیم کی خیرخواہی کا اعتراف بھی کیا ، پھر نعیم قریش کے پاس گیا اور ان سے اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ دیکھو میں تمہارا خیر خواہ ہوں ایک بات تم سے کہتا ہوں بشرطیکہ تم اس کو پوشیدہ رکھو ۔
قریش نے وعدہ کیا اس پر نعیم نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنی قریظہ نے اپنی عہد شکنی پر ندامت کا اظہار کیا ہے اور محمد ؐ سے کہلا بھیجا ہے کہ اے محمد ؐ اگر تم کہو تو ہم تم کو قریش اور غطفان کے ایک ایک دودو اشراف اور سردار بھیج دیں انکو قتل کر ڈالو اور ہماری عہد شکنی کو در گزر کرو تو ہم تمہارے ساتھ ہو کر جنگ کریں اور محمد ؐ نے اس کو قبول کرلیا ہے سو اگر تم سے بنی قریظہ والے ضمانت کا نام لیکر کچھ آدمی طب کریں تو تم ان کو نہ دینا اور انکار کردینا ۔
پھر نعیم غطفان کے پاس آیا اور ان سے بھی وہی کہا چناچہ نعیم کی یہ تدبیر کارگر ہوئی ، چناچہ جب قریش اور غطفان نے یہود سے حملہ کرنے اور جنگ کرنے کا تقاضا کیا تو انہوں نے بطورضمانت اشراف کو طلب کیا ، قریش اور غطفان نے انکار کیا اور آپس میں بات بڑھ گئی ۔ آخر ہفتہ کی رات کو ان پروا ہوا کا عذاب آیا اور ٹھنڈی ہوا نے ان کو آلیا تمام خیمے الٹ گئے حتیٰ کہ چولہوں پر جو ہانڈیاں چڑھی تھیں وہ بھی الٹ گئیں گھوڑوں کی میخیں اور کھونٹے اکھڑ گئے ۔ غرض ! کہ کفار کے تمام لشکر میں افراتفری پڑگئی ۔ اس حالت پر ملائکہ اللہ نے تکبیر بلند کی ، ابو سفیان نے چیخ کر کہا اے قریش اب اگر تم ٹھہرے تو صبح تک ہلاک ہو جائو گے یہ ہوا تم کو چھوڑے گی نہیں اور میں جاتا ہوں ، چناچہ ابو سفیان اونٹ پر چڑھ کر بھاگا اور تمام کفار تتر بتر ہوگئے۔ ولحمد للہ علی ذالک ۔
حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہجرت سے چوتھے برس یہود بنی نضیر جو مدینہ سے نکالے گئے تھے سورة حشر میں آوے گا ہر قوم میں پھرے اور قریش کو اور فزارہ کو اور غطفان کو اور بنی قریظہ کو جو مدینہ کے پاس تھے جمع کر کے حضرت ؐ پر چڑھا لائے بارہ ہزار آدمی مسلمان کم تھے تین ہزار مدینہ سے باہرلشکر پڑا خندق کھودلی ۔ جب فوجیں آئیں دوردور سے لڑتے رہے قریب ایک مہینے تک پھر اللہ نے ایک پروا باد بھیجی تند کافروں کی آگئیں بجھ گئیں بھوکے رہے اور خیمے گرپڑے گھوڑے چھوٹ گئے سب لشکر برباد ہوا لاچار اٹھ کر چلے گئے یہ جنگ احزاب کہلاتی ہے اور جنگ خندوق بھی جاڑے کے موسم میں اناج کی تنگی لڑائی لڑتے خندوق کھودتے اور گرد سب مخالف اس میں منافق دل کی باتیں بولنے لگے اور مؤمن ثابت قدم رہے۔
اس جنگ میں حضرت ﷺ نے فرمایا اب سے ہم جاویں گے کفار پردے ہم پر نہ آویں گے وہی ہوا ۔ 12 صحابہ کرام ؓ نے خندق چھ روز میں کھودی تھی ۔
بہر حال ! یہ مختصر ساخا کہ تھا جنگ احزاب کا جو ہم نے عرض کردیا ۔ وجنود الم تردھا سے مراد ملائکہ ہیں جو عام طور پر نظر نہ آتے تھے اگرچہ بعض صحابہ ؓ نے ان کو بہ شکل انسانی بھی دیکھا تھا ان فرشتوں نے جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیا البتہ ان کے آنے کا یہ فائدہ ہوا کہ کفار کے قلوب مرعوب ہوگئے اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو دیکھ رہا تھا۔ یعنی اتنے بڑے ہجوم کے مقابلے میں باوجود اقلیت کے تمہارا استقلال خندوق کی صرف چھ روز میں تکمیل وغیرہ۔
Ayah 33:1010۔ یہ امداد و اعانت اس وقت ہوئی جبکہ مخالفین کا لشکر تم پر تمہارے اوپر کی جانب سے اور تمہارے نیچے یعنی نشیب کی جانب سے چڑھ آیا تھا اور یہ لوگ تم تک پہنچ چکے تھے اور جب کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں اور دل حلق میں چلے آ رہے تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے اور تم لوگ اللہ تعالیٰ پر طرح طرح کے گمان کر رہے تھے اور خیالات باندھ رہے تھے یعنی کثرت اعداد کی وجہ سے پریشان سراسمیگی مسلمانوں میں بہت تھی اور طبعی طور پر مختلف خیالات اور وساوس کی قلوب آماجگاہ بنے ہوئے تھے کیونکہ نتائج کا کوئی علم نہ تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر سے اور نیچے سے یعنی مدینہ کی شرقی طرسے جو اونچی ہے اور غربی طرف سے جو نیچی ہے اور آنکھیں ڈگنے لگیں لوگوں کی یعنی تیور بدلنے لگے دوستی جتانے والے لگے آنکھیں چرانے اور دل پہنچنے گلوں تک دھڑک دھڑک کرتے ڈر سے اور کی گئیں اٹکلیں ، مسلمانوں نے سمجھا کہ اب کے اور سخت آزمائش آئی اور کچے ایمان والوں نے سمجھا کہ اب کی بار نہ بچیں گے۔ 12
Ayah 33:1111۔ اس موقع پر ایمان والوں کی آزمائش کی گئی اور وہ نہایت سختی کے ساتھ جھڑ جھڑائے گئے ۔ یعنی سخت ابتلاء میں مبتلا ہوئے اور سخت زلزلے میں ڈالے گئے زلزلہ فرمایا جنگ اور جنگ کی پریشانیوں کو۔
Ayah 33:1212۔ اور یہ وہ وقت تھا جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ اور بیماری ہے یوں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ صرف فریب اور محض دھوکا تھا۔
منافقوں کا ہمیشہ قاعدہ ہے کہ امتحان کے وقت ان کے منہ سے کمزوری اور کفر کی باتوں کا اظہار ہوتا ہے چناچہ ان ہی لوگوں کے منہ سے یہ نکلا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ نہیں کیا مگر فریب اور دھوکہ دیا ۔
منافقین اور والذین فی قلوبھم مرض میں عطف تفسیری ہے منافقین اور وہ لوگ جن کے دل میں نفاق کا مرض ہے بعض نے کہا والذین فی قلوبھم مرض سے وہ کم سمجھ لوگ مراد ہیں جو منافقین کے شبہ ڈالنے سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں جس منافق نے یہ کہا تھا اس کا نام معقب بن قشیر ہے اس نے کہا تھا کہ محمد ؐ کہتا ہے کہ میرا دین روم اور فارس تک پہنچے گا اور یہاں حالت یہ ہے کہ جائے ضرور کو نکلنا مشکل ہے ۔ روم اورفارس کے خزانے تو بہت دور ہیں یہاں تو چند سیر غلہ دینے کی استطاعت بھی نہیں ہے یہ وعدہ سوائے فریب کے اور کچھ نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعض منافق کہنے لگے پیغمبر کہتا ہے کہ میرا دین پہنچے گا مشرق اور مغرب یہاں جائے ضرور کو نہیں نکل سکتے۔ مسلمانوں کو چاہئے اب بھی ناامیدی کے وقت بےایمانی کی باتیں نہ بولیں ۔ 12
Ayah 33:1313۔ اور اس وقت جبکہ ان منافقوں میں سے بعض نے کہا اے اہل یثرب اور اے اہل مدینہ یہاں تمہارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں اور ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، لہٰذا لوٹ چلو اور واپس ہو جائو اور انہی منافقین میں سے کچھ لوگ پیغمبر ﷺ سے اجازت طلب کرنے لگے وہ کہتے تھے ہمارے گھرغیرمحفوظ اور کھلے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ گھرغیر محفوظ اور کھلے ہوئے نہیں پڑے تھے ان کا مقصد سوائے بھاگ جانے کے اور کچھ نہیں ۔ یعنی مدینے والوں کو مخاطب کر کے کہا یہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں ، سرائے خالی نہیں ہے یہ جگہ رہنے کی نہیں ہے لوٹ جائو کا مطلب یہ ہے کہ گھروں کو لوٹ جائو یا کفر کی طرف لوٹ جائو۔
یہ شاید اوس بن قبطی یا عبد اللہ بن ابی منافق نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے لشکر سے علیحدہ ہوکر مدینے چلو ، ایک فریق نے یہ کہا کہ ہم کو اجازت دیجئے ہمارے مکان غیر محفوظ حالت میں ہیں حالانکہ وہ مکان غیر محفوظ نہیں ہیں ۔ ان باتوں سے مقصد صرف یہ ہے کہ کسی طرح میدان جنگ سے بھاگ جائیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یثرب نام تھا مدینے کا یعنی سارے عرب ہمارے دشمن ہوئے تو ہم کو رہنے کا ٹھکانہ کہاں اس لشکر سے جدا ہو جائو اور حضرت لشکر کے ساتھ باہر کھڑے تھے شہر میں محکم حویلیوں کے ناکے بند کر کے زنانے ان میں رکھ دیئے تھے یہ بہانے کرنے لگے کہ ہمارے گھر کھلے ہیں اور وہ جھوٹ بات تھیں ۔ 12
خلاصہ۔ یہ کہ کھروں کو کھلا کہہ کر اجازت مانگتے تھے کہ ہم ان کی نگہبانی کریں گے تا کہ چور اور دشمن نہ گھس آئیں۔
Ayah 33:1414۔ اور اگر مدینہ کے تمام اطراف و جوانب سے یہ لشکر ان کے سروں پر آ چڑھتا پھر ان سے فتنے اور فساد میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا جاتا تو یہ اس فساد کی شرکت کو منظورکر لیتے اور بلا توقف اس فتنے میں شریک ہوجاتے اور نہ ڈھیل کرتے اس کے قبول کرنے میں مگر تھوڑی سی یعنی یہ لوگ جو گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ بنا رہے ہیں ۔ یہ شاید بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے لوگ تھے ان کا جواب فرمایا کہ اگر یہی لشکر یا اس جیسا کوئی دوسرا لشکر مدینے کے اطراف و جوانب سے ان پر آ گھسے یا ان جہات مختلفہ سے ان کے مکانوں میں گھس آئے اور ان سے فتنے میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا جائے یعنی فتنہ یہ کہ مسلمانوں پر حملہ کرو ، یا یہ کہ مرتدہو جائے اور کفر اختیارکروتو بلا توقف یہ لوگ فتنے میں شریک ہوجاتے اور ذرا دیر نہ لگاتے مگر تھوڑی دیر یعنی سوال و جواب میں جتنی دیر لگتی بس اس سے زیادہ ویران کے شریک ہونے میں نہل گتی یا یہ کہ ان مکانوں میں زیادہ دیر نہ ٹھہرتے اور فوراً شریک ہوجاتے اور ہوسکتا ہے کہ اگر یہ ایسا کرتے تو اپنے مکانوں میں زیادہ دن نہ رہتے اور عذاب سے ہلاک کردیئے جاتے ۔ ( واللہ اعلم)
مطلب یہ ہے کہ ان بیوتنا عورۃ کہنے والے ایمان میں اتنے کمزور ہیں کہ اگر کوئی لشکر مدینے میں داخل ہوجائے اور ان سے یہ مطالبہ کرے تو یہ جھٹ قبول کرلیں اور مان لیں ، مفسرین نے کئی طرح معنی بیان کئے ہیں ہم نے تیسیر میں سب کا خلاصہ کردیا ہے بعض حضرات نے یہ خلاصہ بیان کیا ہے کہ جہاد میں توقف کرتے ہیں اور خانہ جنگی اور جنگ نفسانی پیش آجائے تو توقف نہ کریں ۔ ( واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 33:1515۔ اور ان کی حالت یہ ہے کہ بلا شبہ یہ لوگ اس غزوۂ احزاب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرچکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس ہونی ہے۔
یعنی یہی بنو حارثہ اور بنو سلمہ غزوۂ احد کے بعد اور غزوۂ خندق سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرچکے تھے کہ ہم جہاد سے نہیں بھاگیں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے لیکن باوجود عہد کے پھر کمزوری دکھا رہے ہیں اور گھروں کا بہانہ بنا کر بھاگنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنگ احد کے بعد یہ اقرار کیا تھا کہ پھر ہم ایسی حرکت نہ کریں گے۔ 12 اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کا توڑنے پر باز پرس کا مطلب یہ ہے کہ عہد شکنی کی سزا ملے گی ۔
Ayah 33:1616۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم موت یا قتل اور مارے جانے کے خوف سے بھاگنا چاہتے ہو تو یہ بھاگنا تم کو ہرگز نفع نہ دے گا اور ایسی حالت میں تم سوائے تھوڑے دنوں کے کوئی خاص فائدہ نہیں پاسکتے۔ یعنی یہ فرار کا ارادہ کرنے والے اگر موت یا قتل کے خوف سے بھاگ بھی جائیں گے تو موت ایک دن ضرور آنی ہے سوائے اس کے کہ جتنے دنوں کی زندگی مقدر ہے اتنے دنوں کوئی فائدہ حاصل کرلو اس سے زیادہ تو کوئی پھل نہیں پاسکتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس کی قیمت میں موت ہے اس کو بچائو نہ ہوگا بھاگے سے اور اگر موت نہیں تو بھاگ کر بچا کے دن ۔ 12 یعنی موت نہیں تو نہ فرار سے کوئی ضرر اور نہ فرار سے کوئی نفع ۔
Ayah 33:1717۔ آپ ان سے فرمایئے اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی برائی پہنچانی چاہے یا وہ تم پر کوئی مہربانی کرنی چاہے تو وہ کون ہے جو اس برائی سے تم کو بچا لے یا اس کی مہربانی کو تم سے روک دے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کو اپنا حمایتی پائیں گے نہ مدد گار ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اگر کوئی چیز نازل کرنی چاہے اور اتارنی چاہے خواہ وہ کوئی برائی اور سختی ہو جیسے قتل وغیرہ کا کوئی عذاب یا نعمت جیسے عمر کی درازی وغیرہ تو اللہ تعالیٰ کو اس کی مشیت اور ارادہ سے کون روک سکتا ہے اور ہٹا سکتا ہے اور تم اس سختی سے کس طرح بچ سکتے ہو یا اس کی مہربانی سے کس طرح محروم رہ سکتے ہو اس کے سوا نہ کوئی تمہارا حمایتی ہے اور نہ مدد گا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عرب کی مخالفت سے ڈرتے ہو اگر اللہ حکم دے تو مسلمان اب تم کو قتل کر ڈالیں۔ 12 مسئلہ قدر کے پیش نظر یہ بات سمجھائی کہ میدان جنگ میں ٹھہرے رہنا زندگی کے منافی نہیں اور معرکہ جنگ سے بھاگ جانا زندگی کے لئے مفید نہیں پھر بھاگنے کی فکر کیوں کرتے ہو آگے پھر منافقوں پر تنقید فرمائی۔
Ayah 33:1818۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان مانعین کو خوب جانتا ہے جو لوگوں کو جہاد کی شرکت سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جائو اور یہ لوگ جنگ میں نہیں آتے مگر بہت ہی کم اور کبھی کبھی یعنی کچھ لوگ تم میں سے وہ بھی ہیں جو دوسروں کو جنگ کی شرکت سے روکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے وہ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ، بھائی فرمایا نسب کے اعتبار سے وطن کے اعتبار سے اور ان کی بزدلی اور بخل کا یہ عالم ہے کہ لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت ہی تھوڑا ، یعنی تھوڑی دیر کیلئے آجاتے ہیں کہ لوگ دیکھ لیں اور ان کو بھی غنیمت کا مستحق سمجھیں اور یہ تھوڑی دیر کو بھی کبھی آ نکلتے ہیں ۔
کہتے ہیں یہود نے منافقین کو کہا تھا کہ تم کیوں ابو سفیان کے ہاتھوں قتل ہونا چاہتے ہو محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے پاس چلے آئو اگر ابوسفیان قابو پا گیا تو اب کے سب کو ختم کردے گا ۔ صاحب زاد المسیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص اہل اسلام کے لشکر میں سے اپنے گھر گیا اس نے دیکھا کہ اس کے بھائی کے آگے شراب رکھی ہے اس نے کہا بھائی پیغمبر ﷺ تو جنگ میں گھرے ہوئے ہیں اور تو شراب و کباب کے شغل میں ہے۔ اس نے کہا بھائی تو بھی میرے پاس آ جا اور محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ دے اس مسلمان کی واپسی سے پہلے یہ آیتیں نازل ہوئیں آگے اس قسم کے بزدلوں اور مریضوں کی تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 33:1919۔ کبھی تمہارے پاس آتے بھی ہیں تو اس حال میں آتے ہیں کہ تمہارے حق میں حرص آمیز بخل کا جذبہ لئے ہوئے تمہاری طرف سے دریغ رکھتے ہوئے پھر جب کوئی ڈر کی بات پیش آجائے اور خوف کی بات ہوجائے تو اے پیغمبر آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف تکنے لگتے ہیں ان کی آنکھیں ڈگر ڈگر کرنے لگتی ہیں اور پتلیاں اس طرح پھرنے لگتی ہیں جس طرح کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہو رہی ہو پھر جب وہ ڈر کی بات اور وہ خوف دور ہوجاتا ہے تو یہ منافق اپنی زبان درازی اور تیز کلامی سے تم کو طعنے دینے لگتے ہیں اس حال میں کہ یہ مال غنیمت پر بڑے حریص ہوتے ہیں یہ لوگ حقیقت میں ایمان نہیں لائے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد اور نیست و نابود کردیئے اور یہ اعمال کا برباد کردینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
یعنی تمہاری مدد کرنے میں بخیل بنے ہوئے ہیں یا مال غنیمت پر حریص بنے ہوئے ہیں جب کوئی خوف آجائے مثلاً دشمن کے حملے کی خبر مشہورہو جائے یا کوئی اور ایسی ہی افواہ اڑ جائے تو ان منافقوں کی یہ کی یہ حالت ہوتی ہے کہ آپ کی طرف متحیرہو کر تکنے لگتے ہیں اور ان کی آنکھیں اور پتلیاں اس طرح دائیں بائیں گھومنے لگتی ہیں جیسے انکادم نکل رہا ہو اور جیسے کسی کو موت کی بےہوشی طاری ہوجائے اور جب وہ ڈر چلا جائے یعنی وہ جملے کا خوف جاتا رہے پھر ان کی زبان درازی قابل دید ہے۔ بات بات پر تیز تیز زبان چلاتے ہیں مسلمانوں کو طعنے دیتے ہیں اور سب سے زیاد ہ مال غنیمت طلب کرتے ہیں مسلمانوں کو بزدل کہتے ہیں اور اپنی مردانگی جتاتے ہیں یہ لوگ پہلے ہی سے ایمان نہیں لائے اور اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال بیکار اور کارت کردیئے ہیں اور انکو قیامت میں کوئی اجر نہیں ملے گا اور کسی غیر مستحق کے اعمال کونا بود کردینا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی برے وقت رفاقت سے جی چراتے ہیں اور ڈر کے مارے جان نکلتی ہے اور فتح کے بعد مردانگی جتاتے ہیں سب سے زیادہ اور غنیمت پر ڈھلکتے ہیں ۔
فائدہ ۔ جہاں حبط اعمال کا ذک رہے تو فرمایا یہ اللہ پر آسان ہے یعنی حکمت میں اللہ تعالیٰ کی کسی کی محنت ضائع کرنی تعجب لگتی ہے لیکن جب حبط کرنے پر آوے اس عمل ہی میں ایسا نقصان پکڑے جس سے وہ درست ہی نہیں ہوا جیسے عمل بےایمان کا کہ ایمان شرط ہے ہر عمل کی۔ 12
Ayah 33:2020۔ ان منافقوں کا اب تک یہ خیال ہے کہ فوجیں واپس نہیں گئیں اور اگر کہیں وہ فوجیں پھر آجائیں تب تو یہ منافق یوں تمنا کریں کہ وہ کاش کہ صحرا نشیں ہوتے اور وہ دیہاتیوں میں باہر جا رہیں اور دیہاتیوں میں جا بسیں اور وہیں بیٹھے بیٹھے آنے جانے والوں سے تمہاری خبریں دریافت کرتے رہیں اور اگر یہ بزدل لوگ تم میں رہ بھی جائیں تب بھی یہ قتال اور جہاد نہ کریں مگر یونہی تھوڑا سا برائے نام یعنی فوجوں کی اور لشکر کی واپسی کا یقین ہی نہیں حالانکہ کفار کو شکست ہوئی اور وہ قہر الٰہی کی تاب نہ لاسکے اور بھاگ گئے لیکن ان کو لشکر اعدا کی واپسی کا یقین نہیں اور کہیں خدانخواستہ وہ کفار کا لشکر پھر واپس آجائے تو ان بزدلوں کی تمنا یہ ہوگی کہ یہ شہر چھوڑ کر دیہات میں جا بسیں اور وہیں سے بیٹھ کر تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں اور آتے جاتے مسافروں سے پوچھتے رہیں اور اگر کہیں یہ تم میں ٹھہر بھی جائیں گے تب بھی لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے مگر یوں ہی برائے نام تھوڑی سی شرکت کریں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نامردی کے مارے یقین نہیں آتا کہ فوجیں پھر گئیں اور باتوں میں تمہاری خیر خواہی جتاویں اور لڑائی میں کام نہ کریں ۔ 12 اب آگے لڑائی میں ثابت قدم رہنے کے متعلق نبی کریم ﷺ کی اقتدا اور پیروی کا حکم ہے۔
Ayah 33:2121۔ مسلمانو ! بلا شبہ تم میں سے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا اور قیامت کا خوف رکھتا اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی ذات بہترین قابل تقلید نمونہ تھی۔ خطاب فرمایا عام مسلمانوں کو پھر تخصیص فرمائی ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی بقا اور اس کی رضا کی امید رکھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی پیشی سے ڈرتے ہیں اسی طرح قیامت سے ڈرتے ہیں یا قیامت کے دن ثواب کی امید رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے ہیں ایسے کامل مومن اس بات کے اور بھی زیادہ مستحق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی چال سیکھیں اور آپ کی پیروی ان مسلمانوں کے لئے ایک عمدہ نمونہ تھی اور یہ دیکھنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر کیسی محنت اور مشقت برداشت کرتا ہے اور میدان جنگ میں کس طرح ثابت قدم رہتا ہے۔
ترجمہ اور تیسیر میں ہم نے لمن کان کو لکم کا بدل اور صفت کی رعایت کا لحاظ رکھا ہے لمن کان کو حسنۃ کا صلہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رسول کو دیکھو ان سختیوں میں کیا استقلال رکھتا ہے سب سے زیادہ محنت اور اندیشہ ہے۔ 12
لکم میں تعمیم تھی لمن کان سے اس کی تخصیص فرمائی ہم نے سب مفسرین کے اقوال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترجمہ کیا ہے اور یہاں جو اسوۂ حسنہ کی تفسیر میں آپ کے استقلال اور ثبات فی الجہادکا ذکر کیا ہے یہ موقعہ کے لحاظ سے ہے ورنہ نبی کریم ﷺ کی تمام صفات کاملہ اور آپ کے اخلاق عالیہ موجب اقتدار اور واجب الاتباع ہیں ، اور آپ کی ہر سنت پر عمل کرنا حصول برکت اور رفع درجات کا سبب ہے اور ہر قسم کے عقاب اور عذاب اور ملامت سے نجات کا ضامن ہے اس میں اتمام سنن اور مستحبات وغیرہ داخل ہوگئے۔
Ayah 33:2222۔ اور ان مومنین کاملین نے جب کفار کے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی موقعہ ہے اور وہی منظر ہے جس کا ہم کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا اور جس کی خبر دی تھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اس واقعہ نے ان ایمان والوں کے ایمان اور شیوہ ٔ اطاعت کو اور بڑھا دیا ۔ اللہ کا وعدہ تو شاید وہی جو سورة بقرہ میں گزر چکا ۔
ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم الایۃ۔
رسول اللہ ﷺ کا وہ اشاد جو عبد اللہ عباس ؓ سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ احزاب آنے والے ہیں تمہاری طرف آخر نو راتوں میں یا دس میں غرض یہ کہ منافقوں کی حالت تو وہ تھی جو مذکور ہوئی۔ اور اہل ایمان کی حالت یہ تھی کہ جب انہوں نے لشکروں کو دیکھا تو صاف کہہ دیا کہ یہ معرکہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطلاع کے مطابق ہو رہا ہے اور جو کچھ اللہ اور اسکے رسول نے فرمایا تھا وہ سچ ہی تھا اور وہی ہو کر رہا ۔ اس واقعہ نے ان میں ایمان اور اطاعت گزاری کا جذبہ اور بڑھادیا لشکروں کا دیکھنا ایمان میں پختگی اور فرماں برداری میں اضافہ کا موجب ہوا۔ اوپر کی آیتوں میں منافقوں کی عہد شکنی کا ذکرآیا تھا اب مؤمنین کے ایفاء عہد کا ذکر فرمایا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وعد ہ اللہ کا یہ کہ فرمایا تھا تکلیف پائو گے کافروں کے ہاتھ سے آخر تم کو غلبہ ہے اور یہ ہے کہ رسول نے فرمایا آٹھ دس دن میں تم پر فوجیں آتی ہیں ۔ 12
Ayah 33:2323۔ انہی مومنین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اس عہد کو پورا کردیا اور سچ کر دکھایا پھر بعض ن ان میں سے ایسے ہیں جو اپنے قول وقرار اور اپنی بات اور اپنا ذمہ پورا کرچکے اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عہد میں اور اپنی بات میں ذرا سا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔
Ayah 33:2424۔ یہ واقعہ اس لئے ہوتا کہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ عنایت فرمایئے اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب کرے یاچا ہے تو ان کو توبہ کی توفیق عنایت فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے یعنی کامل مومنوں نے اپنی بات پوری کر دکھائی ۔ جیسے انس بن نضر ؓ اور انکے رفقاء اور جن لوگوں نے عہد نہیں کیا تھا وہ بھی ثابت قدم رہے یہ مطلب نہیں کہ عہد والوں نے تو سچائی دکھائی اور عہد نہ کرنے والوں نے ثابت قدمی نہیں دکھائی اور معاذ اللہ منافوں کی طرح عہد شکنی کے مرتکب ہوئے ، پھر فرمایا ان عہد کرنیوالوں کی دو قسمیں ہیں کچھ تو اپنی منت اور اپنا ذمہ پورا کرچکے ہیں یعنی انہوں نے جنگ بدر اور جنگ احد میں جام شہادت نوش فرمائے اور شہید ہوگئے۔
جیسے حضرت حمزہ اور مصعب اور انس بن نضر ؓ اور انکے رفقاء اور بعض وہ ہیں جو شہادت کی موت کے منتظر ہیں اور اپنی نیت اور اپنے ارادے اور اپنے عہد میں ذرا سی بھی تبدیلی نہ کی اور یہ واقعہ اس لئے ہوا کہ کامل مومنین منافقوں سے ممتیز ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کا سچ کا صلہ عطا فرمائے اور منافقوں کو مہلت دے اور ان کا انجام کے موافق ان کو جزا دے اگر کفر و نفاق پر خاتمہ ہو تو ویسی سزادے اور اگر چاہے تو ان پر توجہ فرمائے اور توجہ کی توفیق دے کر ان کا انجام بخیر کر دے۔
بہر حال ! وہ غفور ہے رحیم ہے اور اس سے بہترہی امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ذمہ پورا کرچکا یعنی جہاد ہی میں جان دے چکا جیسے شہداء بدر اور احد اور راہ دیکھتا یعنی اور اصحاب جو جہاد پر مستعد ہیں موت کی راہ دیکھتے ہیں لیکن رسول ﷺ نے فرمایا کہ طلحہ ؓ ان میں ہے جو شہید ہوچکے ۔ 12 یہ طلحہ کی خصویت ہے چونکہ اپنے ہاتھ کو انہوں نے ڈھال بنایا تھا پیغمبر کیلئے ان کا ہاتھ مثل ہوگیا تھا اس لئے ان کو یہ فضلیت حاصل ہوئی۔
Ayah 33:2525۔ اور اللہ تعالیٰ نے دین حق کے منکروں کو ان کے غصے میں بھرا ہوا اور ان کی غضب آلود حالت میں پھر دیا اور واپس کردیا ان کی یہ حالت ہوئی کہ وہ کوئی بھلائی حاصل نہ کرسکے اور ان کی کچھ مراد بھی پوری نہیں ہوئی اور جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے خود ہی کافی ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی لڑائی آپ ہی اٹھا لی اور اللہ تعالیٰ بڑا قوی بڑی قوت کا مالک اور زبردست ہے۔ یعنی کافروں کو غصے میں بھرا ہوا لوٹا دیا کہ انہوں نے کوئی بھلائی حاصل نہیں کی اور بےنیل مرام واپس ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جنگ اپنے ذمہ اوٹ لی یعنی خود ہی کافی ہوگیا اور بغیر کسی بڑی لڑائی کے کفار کو ہزیمت ہوئی اللہ تعالیٰ قوی بھی ہے غلبے والابھی۔
Ayah 33:2626۔ اور جن اہل کتاب نے ان مشرکوں کی مدد کی تھی اللہ نے ان کے ان کے قلعوں کے نیچے اتارا اور انکے قلوب میں تمہارا ایسا رعب بٹھا دیا کہ ان میں سے تم بعض کو قتل کرنے لگے اور بعض کو تم نے قیدی بنا لیا یہ اشارہ ہے بنو قریظہ کی طرف ، کیونکہ نبی کریم ﷺ جب احزاب سے واپس تشریف لائے تو آپ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ہتھیار کھول ڈالے اور آپ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے آپ ﷺ اس وقت حضرت زینب بنت حجش کے پاس تھے اور وہ آپ کا سردھلا رہی تھیں آپ ؐ نے سن کر فرمایا جبرئیل ملائکہ کس طرف کا قصد رکھتے ہیں ؟
جبرئیل نے عرض کیا قریظہ کا قصد رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اٹھو اور قریظہ کی طرف چلو چناچہ نبی کریم ﷺ نے اعلان کرا دیا اور مسلمانوں کو حضرت علی کرم اللہ وجہٗ کی سرپرستی میں قریظہ کی جانب روانہ کیا بعد میں نبی کریم ﷺ بھی تشریف لے گئے چناچہ قریظہ کے کنویں کے پاس آپ نے پڑائو کیا قریظہ کے یہود نے قلعوں کے دروازے بند کر لئے مسلمانوں کا محاصرہ پورے چوبیس دن جاری رہا جب بنو قریظہ بہت تنگ ہوئے تو ابی البابہ کو پہلے درمیان میں ڈالا اور ابو البابہ کا ذکر سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ انہوں نے مشورہ تو یہود کو اترنے اور پہلے کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کا دیا لیکن ساتھ ہی ساتھ سے اشارہ بھی کردیا کہ تم سب ذبح کئے جائو گے پھر وہ اپنی اس خیانت پر نادم ہوئے اور اپنے کو ستون سے باندھ دیا بالآخر ان کی توبہ نازل ہوئی اور سرکار دو عالم ﷺ نے ان کو جا کرکھولا۔
ابو البابہ کے بعد حضرت سع ابن معاذ ؓ کے حکم پر اترے چونکہ ان لوگوں نے عذر کیا تھا اور عہد شکنی کی تھی اور احزاب میں کفار سے مل کر مدینہ پر فوج کشی کی تھی لہٰذا ان کے نوجوانوں کو سب کو قتل کیا گیا اور ان کی بیوی اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کے اموال مسلمانوں میں خمس نکالنے کے بعد قسم کردیئے گئے ، سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ دیا گیا اور یہ معرکہ اس طرح سر ہوا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ یہود تھے بنی قریظہ نزدیک مدینہ کے رہتے تھے پہلے حضرت سے صلح رکھتے تھے اس ہنگامے میں پھرگئے اس لڑائی سے فارغ ہوئے کہ جبرئیل حکم لائے ان کو جا گھیرا چوبیس دن گھیر کر تھکے راضی ہوئے کہ ہم نکلتے ہیں جو ہمارے حق میں سعد بن معاذ ؓ کہے سو قبول رکھو حضرت نے قبول کیا ۔ سعد ؓ نے یہی حکم دیا جوانوں کے قتل کرنے کا اور عورتوں اور لڑکوں کو بندی لینے کا خدا اور رسول کی مرضی یہی تھی اور ان کی بد عہدی کی سزا ۔ 12
Ayah 33:2727۔ اور تم کو ان کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا مالک بنادیا اور اس زمین کا بھی تم کو مالک بنادیا ۔ جس پر تم نے قدم بھی نہ رکھے تھے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے ، جن چیزوں کا قریظہ میں مالک بنایا اور آئندہ کے لئے بھی خیبرفتح کی کا مژدہ سنایا۔ ہوسکتا ہے کہ فارس اور روم کی فتح کی طرف اشارہ ہو یا قیامت تک جو علاقے بھی مسلمان فتح کریں گے ان کی پیشین گوئی اور بشارت ہو کیونکہ ارضا لم تطوھا کے لفظ میں عموم بہت زیادہ ہے اس لئے عموما ً فتوحات مستقبلہ کی جانب اور خصوصاً خیبر کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ زمین مدینہ کے نزدیک ہاتھ لگی حضرت نے مہاجرین کو بانٹی ان کو گزران کا ٹھکانہ ہوگیا اور دوسری زمین سے مراد ہے زمین خیبر کی دو برس کے پیچھے ان یہود سے وہ ہاتھ لگی اس سے حضرت کے سبب اصحاب آسودہ ہوگئے۔ 12