32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 32:1
1۔ الم
Ayah 32:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس قرآن کا نازل کرنا رب العالمین کی جانب سے ہے اس میں ذرا شبہ نہیں

2۔ یہ کتاب یعنی قرآن کریم نازل کیا گیا ہے اور اتارا گیا ہے اس میں کچھ شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ کتاب پروردگار عالم کی طرف سے ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل شدہ ہے اور اس کا نزول منجانب اللہ ہے جیسا کہ اس کے اعجاز سے ظاہر ہے اور اس کتاب میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ یعنی شبہ کرنے والوں کا شبہ محض عناد اور دشمنی پر مبنی ہے ترجمہ میں گنجائش کا لفظ اسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو پیغمبر نے گھڑلیا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ کتاب سچی ہے اور آپ کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے تا کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرنے والا نہیں آیا تا کہ وہ لوگ راہ پر آجائیں

3۔ کیا یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو پیغمبر نے گھڑ لیا ہے اور اپنے دل سے بنا لیا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ کتاب حق اور سچ ہے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے تا کہ آپ لوگوں کو ڈرا دیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تا کہ وہ لوگ صحیح راہ پر آجائیں ۔ یعنی اس قرآن کریم کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ یہ ان کا بنایا ہوا ہے یہ گھڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام کہہ کر سناتے ہیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ اور غلط ہے بلکہ یہ قرآن کریم تو ایک سچی کتاب ہے اور پروردگار کی طرف سے آئی ہے اور اس لئے آئی ہے تا کہ آپ ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا دیں جن کو عرصے سے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور ڈرانے اور ڈر سنانے سے فائدہ یہ ہے تا کہ یہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ کی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم و جلوہ گر ہوا بجز اس کے نہ تمہارا کوئی کار ساز ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سوچتے

4۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم و جلوہ گر ہوا سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی کار ساز ہے اور نہ کوئی سفارش کرنیوالا سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سوچتے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جس نے تمام آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے مابین جو کچھ ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں بنایا اور پیدا کیا اور یہ مقدار بھی شاید یہ بات ظاہر کرنے کے لئے رکھی کہ کاموں میں تاخیر بہتر ہے تعجیل سے ورنہ وہاں تو ایک کن میں بلکہ صرف ارادہ اور اس کے تعلق سے ہی پیدا ہوسکتے تھے۔ مابین سے بعض لوگوں نے ابر اور ہوا اور خلا مراد لیا ہے پھر اپنی شان کے موافق عرش پر مستولی اور جلوہ گر ہوا، اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رضا جوئی نہ رو گے تو یاد رکھو نہ تمہارا کوئی حمایتی ہوگی نہ کوئی شفاعت کرنے والا تم کو میسر آئے گا ۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لیکر زمین تک ہر ایک کام کی تدبیر کرتا ہے پھر ہر کام ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ہزار سال ہوئی ہے اسی کی حضور میں پہنچ جانا ہے

5۔ تم اتنی بات بھی نہیں سوچتے کہ اس بزرگ و برتر اور قادر مطلق رب العالمین کی نافرمانی کا انجام کیا ہوگا ۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی اللہ تعالیٰ ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا کمال قوت کا مالک نہایت مہربانی کرنے والا ہے،

6۔ وہ اللہ تعالیٰ آسمان سے لیکر زمین تک جتنے امور ہیں ہر کام اور ہر امر کی تدبیر کرتا ہے پھر ہر امر اور ہر ایک کام ایک ایسے دن میں اسی کی حضور اور اسی کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے جس دن کی مقدار تمہارے شمار سے ہزار سال ہوتی ہے۔ یعنی ہر ایک اہم کام اور اس کے انتظامات کے متعلق اوپر سے حکم اترتا ہے اور جملہ اسباب خواہ وہ حسی ہوں یا معنوی ظاہری ہوں یا باطنی اس کے انصرام اور اتمام میں لگ جاتے ہیں آخر وہ کام اور وہ انتظام ایک مدت تک جاری رہتا ہے پھر زمانہ دراز کے بعد وہ انتظام اٹھ جاتا ہے اور دوسرا رنگ اترتا ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک دن یعنی ہزار سال کے کام فرشتوں کو القاء کردیتا ہے اور جب وہ تمام امور سر انجام ہوجاتے ہیں تو آئندہ دن یعنی ہزار سال کے کام الہام فرما دیتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آسمان سے زمین پر آتا ہے اور یہاں اس حکم کے متعلق جو کام ہوتے ہیں اس کا اندراج دفتر اعمال میں درج ہونے کی غرض سے فرشتے لے جاتے ہیں چونکہ دین سے آسمان اول پر پہنچنے کی مسافت عام رفتار سے ایک ہزار برس ہے۔ اس لئے فرمایا ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ بعض حضرات نے اس دن کو قیامت کا دن فرمایا ہے اور مشہور قول یہی ہے اور جو لوگ اس دن کو قیامت کا دن فرماتے ہیں انہوں نے سورة معارج کی آیت خمسین الف سنۃ کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ دن لوگوں پر مختلف حالات کے ماتحت گزرے گا ، جیسا کہ احادیث میں آتا ہے کہ بعض مؤمنین و مخلصین پر قیامت ایسی گزرے گی جیسے عصر اور مغرب کے مابین کا وقت اور بعض نافرمانوں کو ہزاروں برس کا دن معلومہو گا اس لئے ایک ہزار اور پچاس ہزار میں کوئی منافات نہیں ۔ ( واللہ اعلم) بہر حال ! فی یوم کو کسی صاحب نے یعرج کے متعلق کیا ہے اور کسی مفسر نے یدبر کے متعلق کیا ہے اسی بناء پر کئی معنی ہوگئے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بڑے بڑے کام کا حکم عرش سے مقرر ہو کر نیچے اترتا ہے سب اسباب اس کے آسمان و زمین سے جمع ہورکر بن جاتا ہے پھر ایک مدت جاری رہتا ہے پھر اٹھ جاتا ہے اللہ کی طرف دوسرا رنگ اترتا ہے جیسے بڑے بڑے پیغمبر جن کا اثر قرنوں تک رہا یا بڑی قوم میں سرداری جو عمروں چلی وہ ہزار برس اللہ کے ہاں ایک دن ہے۔ 12 شاہ صاحب (رح) نے غالبا ً حضرت مجاہد ؓ کا قول اختیار کیا ہے۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے خوب بنائی جو چیز بنائی اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی

7۔ جس نے خوبی بنائی جو چیز بنائی اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی ۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو ایک نچوڑے ہوئے بےقدر پانی سے بنایا یعنی نطفہ سے

8۔ پھر آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور اس کی نسل کو خلاصے نچوڑے ہوئے بےقدر اور حقیر پانی سے بنایا۔ یعنی چھپی اور کھلی چیزیں اس کے نزدیک سب برابر ہیں جن چیزوں کو کوئی نہیں جانتا وہ ان کو بھی جانتا ہے اور جو چیزیں مخلوق کے سامنے ہیں اور مخلوق کے علم میں ہیں وہ ان سے بھی واقف ہے اس کی نگاہ علم میں نہاں اور عیاں دونوں یکساں ہیں اس نے جو چیز پیدا کی اور بنائی وہ خوب ہی بنائی یعنی جس مصلحت سے بنائی اس کے لئے موزوں اور مناسب بنائی وہ عزیز بھی ہے یعنی ہر قسم کی طاقت و قوت کا مالک ہوتے ہوئے رحیم اور مہربان بھی ہے۔ انسان یعنی آدم کی پیدائش مٹی سے کی پھر اخلاط کے خلاصے یعنی ہضم رابع کے بعد جب غذا اخلاط میں منتقل ہوجاتی ہے اس کا نچوڑ اور ست اور جو ہر یعنی منی سے آدم کی نسل چلائی اور بنائی ۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی کو مٹی سے بنایا پھر اس کی غذا بھی وہی رکھی جو مٹی سے بنتی ہے پھر آگے کو جو سلسلہ چلام وہ نطفے سے جو ایک حقیر پانی ہے اور وہ مٹی کا ست اور جوہر ہے اور اسی غذا کا نچوڑ ہے جو زمین سے نکلی ہے صورتیں بدلتی رہیں اور مختلف انواع و اقسام بنتے رہے ورنہ سب مٹی ہی کا کرشمہ ہے اور حضرت حق جل مجدہٗ کی کمال خالقیت کا ظہور ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کے اعضاء کو درست کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے نفع کیلئے تم کو کا ن اور آنکھیں اور دل دیئے تم لوگ خدا کا بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو

9۔ پھر اس کو برابر کیا اور اس کے اعضا کو درست کیا اور درست اندام کیا اور اس میں اپنی روح کو پھونکا اور داخل کیا اور تمہارے نفع کیلئے تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو ۔ یعنی اعضاء میں تناسب رکھا اور درست اندام بنایا روح چونکہ اس کی طرف سے ہے اس لئے اس کی شرافت اور عزت کیلئے اپنی روح فرمایا۔ پھر آنکھیں اور کان اور دل دیئے تاکہ دیکھو اور آیات تنزیلیہ سنو اور دل سے سمجھ کر ایمان لائو اور اس کی توحید کا اقرار کرو مگر تم لوگ بہت ہی کم شکرادا کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی جان میں سے جو مخلوق ہے اسی کا مال ہے مگر جسکو عزت دی اس کو اپناکہا۔ جیسے ان عبادی سو انسان کی جان غیب سے آئی ہے مٹی پانی سے نہیں بنی اس کو اپنی کہا اور یہ نہ سمجھے کہ اللہ کی جان جان ہو تو بدن بھی ہو بدن ہو تو ترکیب بھی ہو ذات پاک کہاں رہی۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ یہاں روح کا تصوریہ نہ کرنا کہ جیسے انسان کی جان کہ اس کے لئے بدن کا ہونا ضروری ہے بلکہ حق تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنی طرف محض اس کی شرافت کی وجہ سے فرمائی ہے۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ قیامت کے منکر یوں کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں رل مل کر فنا ہوگئے تو کیا ہم از سر نو پیدا ہوں گے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو پیش ہونے ہی کے منکر ہیں

10۔ اور یہ منکرین قیامت یوں کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں رل مل گئے اور نیست و نابود ہوگئے تو کیا ہم ازسر نو پیدا ہوں گے اور کیا ہم کو نیا بننا اور کیا ہم نئے جنم میں آویں گے کوئی نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے اور اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں ۔ یہ ابی بن خلف کا قول ہے اور چونکہ دوسرے کافر بھی اس قول میں اس کے موافق تھے اس لئے سب کی طرف قول کی نسبت فرمائی۔ ضل الماء فی البن کے محاورے سے ضللنا فی الارض کہا کہ جس طرح پانی دودھ میں مل کر گم ہوجاتا ہے یہی حالت ہماری ہوجائے گی کہ ہم خاک میں مل کر نیست و نابود ہوجائیں گے پھر ہم دوبارہ کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ۔ حضرت حق نے فرمایا اصل بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی پیشی اور اس کے روبرو ہونے ہی کے منکر ہیں آگے تحقیقی جواب ہے۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تمہاری جانوں کا وہ فرشتہ جو تم پر متعین ہے قبض کرلیتا ہے پھر تم سب کی بازگشت اپنے رب ہی کی طرف ہوگی ۔

11۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ تمہاری جانوں کو موت کا وہ فرشتہ جو تم پر متعین ہے قبض کرلیتا ہے پھر تم سب کی بازگشت اور تم سب کو لوٹنا اپنے پروردگار ہی کی طرف ہوگا ۔ یعنی کیا تم جسم کے خاک میں مل جانے سے سمجھتے ہو کہ تم ختم ہوگئے تم کو فرشتہ لے جاتا ہے اور تم سب کی باز گشت اللہ ہی کی طرف ہوگی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور خوب فرماتے ہیں یعنی تم آپ کو دھڑ سمجھتے ہو کہ زمین میں رل گئے تو جان ہو وہ فرتہ لے جاتا ہے فنا نہیں ہوجاتے۔ 12 سبحان اللہ کیا خوب فرمایا ہے جسم اگر خاک میں مل گیا تو جان تو فنا نہیں ہوگئی جان تو جان آفریں کے پاس موجود ہے جسم کا کیا ہے جب چاہے سمیٹ کر بنا لو۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر آپ گناہ گاروں کو اس وقت ملاحظہ کریں تو عجب حاصل دیکھیں جس وقت پہ اپنے رب کے روبرو سرجھکائے کہتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار بس اب ہماری آنکھیں اور ہمارے کان کھل گئے سو آپ ہم کو پھر واپس بھیج دیئے آئندہ ہم نیک کام کریں گے ہم کو اب پورایقین آگیا

12۔ اور اے پیغمبر اگر آپ ان گناہ گاروں کو اس وقت دیکھیں اور ملاحظہ فرمائیں تو عجب حال دیکھیں جس وقت یہ اپنے پروردگار کی پیشی میں سر جھکائے ہوئے کہتے ہوں گے ، اے ہمارے پروردگار ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا اور ہمارے کان اور ہماری آنکھیں کھل گئیں سب آپ ہم کو پھر لوٹا دیجئے اور ہم کو دنیا میں واپس بھیج دیئے آئندہ ہم نیک اور شائستہ عمل کیا کریں گے اب ہم پورا یقین کرنیوالے ہیں اور ہم کو پوری طرح یقین آگیا ۔ یعنی جب ان کی واپسی ہوگی اور پروردگار کے سامنے حاضری ہوگی تو اس وقت کی حالت کو آگ ان کی دیکھیں تو عجیب ہولناک منظر دیکھیں کہ یہ منکرین بعث سب سر جھکائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے اب ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن اے پروردگار اب تو ہم کو واپس بھیج دے تو ہم آئندہ خوب نیک اعمال کریں گے ہم کو تو اب پوری طرح یقین ہوگیا ۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو اس کو صحیح راہ عنایت کردیتے لیکن میری وہ کہی بات بالکل سچ ہو کر رہی کہ میں جنات اور انسان دونوں سے جہنم کو ضرور بھروں گا

13۔ اور اگر ہم چاہے تو ہر شخص کو اس کی صحیح راہ عنایت کردیتے لیکن میرا و ہ وعدہ اور میری وہ کہی بات محقق اور پوری ہو کر رہی کہ میں جنات اور انسان دونوں سے جہنم کو بھردوں گا ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم کسی کو مجبور اور مضطر کر کے اگر ہدایت دینا چاہتے تو سب کو راہ راست پر لگا دیتے لیکن ہماری مصلحت اور حکمت مقتضی نہ تھی کہ سب کو بجبر واکراہ اس ہدایت پر زبردستی قائم کیا جائے جس کو موصول الی المطلوب کہتے ہیں اور جس طرح اس ہدایت سے نوازا جس کو ارادۃ الطریق کہتے ہیں اسی طرح ان کو ہدایت بمعنی ایصال الی المطلوب سے با لجبر نواز سکتے تھے مگر ایسا اکراہ ہم نے پسند نہیں کیا اور وہ قول اور وعدہ پورا اور محقق ہو کر رہا کہ میں نافرمانوں کو خواہ وہ جنات یعنی شیاطین ہوں یا ان کے متبعین انسان ہوں سب سے جہنم کو پر کردوں گا اور بھردوں گا ۔ ہم سورة انعام میں عرض کرچکے ہیں کہ ان کی واپسی مفید نہ ہوگی ۔ ولور دوالعادو المانھوا عنہ اس لئے واپسی نہیں ہوسکتی اور واپسی کا کوئی یامکان نہیں۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو جس طرح تم اپنے اس دن کے آنے کے بھولے رہے آج اس بھولنے کا مزہ چکھو ، ہم نے بھی تمہیں بھلادیا اور اپنے ان اعمال کی بدولت جو تم کیا کرتے تھے دائمی عذاب کا مزہ چکھو

14۔ سو جس طرح تم اپنے اس دن کے آنے کو بھولے رہے آج اس بھولنے کا مزہ چکھو ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے ان اعمال کی بدولت جو تم کیا کرتے تھے ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ یعنی تم نے اس دن کی ملاقات اور قیامت کے دن کی پیشی کو بالکل فراموش کر رکھا تھا لہٰذا اب تم اس بھلانے کا مزہ چکھو ہم نے تم کو اپنی رحمت سے دورکر دیا اور ہم تم سے ایسا برتائوں کرینگے جسے کوئی بھولے ہوئے شخص کے ساتھ کرتا ہے۔ انا نسینکم بطور مجاز فرمایا ورنہ ظاہر ہے کہ حضرت حق نسیاں سے پاک ہیں اور جو اعمال اور بدکرداریاں کرتے رہے ہو اس کے سبب سے عذاب دائم اور ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ آگے مومنین کا ذکر اور ان کے نیک انجام کا ذکر فرمایا۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ تکبر نہیں کرتے

15۔ ہماری آیتوں پر تو بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان آیات کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے اور ان کو یہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ لوگ ایمان لانے اور سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔ اوپر سورة لقمان میں کافروں کا حا ل بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ولی مستکبرا ً یعنی وہ آیات الٰہی کو سن کر ان آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور تکبر کے ساتھ پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے لیکن مومنین کا یہ حال نہیں ہے وہ آیات کو سن کر ان پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو وہ آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور سجدے میں گرپڑتے ہیں اور وہ لوگ آیات الٰہی سے اور ایمان سے اور سجدہ کرنے سے تکبر آمیز برتائو نہیں کرتے ۔ حمد کے ساتھ ملا کر تسبیح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سبحان اللہ و بحمد ہ کہتے ہیں آگے ان کے مزید اعمال کا ذکر ہے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے اس طور پر علیحدہ رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کو ڈر سے اور امید سے پکارتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خیرات کیا کرتے ہیں

16۔ ان کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے اس طور پر علیحدہ رہتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار کو عذاب کے ڈر سے اور رحمت کی امید سے پکارتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خیرات کیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ مخلص مومن رات کے حصے میں اپنے بچھونوں اور خواب گاہوں کو چھوڑ کر عبادت میں مصروف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خوف یعنی اس کے عذاب کے خوف سے اور اس کی رحمت اور ثواب کی امید اور لالچ سے اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اس سے مراد عشاء اور صبح کی نماز ہے یا تہجد کی نماز ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے انفاق فی سبیل اللہ کیا کرتے ہیں ۔ سونے کی جگہ کو مضجع کہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ نرم بچھونوں کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کو چھوڑ کر کھڑاہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگ جاتا ہے اور اس کو کبھی خوف سے اور اس کے عذاب کے ڈر سے پکارتا ہے اور کبھی اس کی رحمت اور ثواب کی امید سے پکارتا ہے۔ ابن رواحہ کے قصیدے میں ہے جو اس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں لکھا ہے۔ ؎ یبیت یجا فی جنبہ عن فراشہ اذا استثقلت بالکفافرین المضاجع یعنی جب رات کو کافر اپنے بچھونوں پر بھاری اور بوجھل بنے ہوئے پڑے رہتے ہیں تو یہ پیغمبر اس طرح رات گزارتا ہے اور اس کا پہلو اپنے بچھونے کو خالی کردیتا ہے گویا آپ شب بھر عبادت الٰہی میں گزارتے ہیں اور کافر پر سے سویا کرتے ہیں۔ ؎ بہ نیم شب کہ ہمہ مست خواب خوش باشند من و خیال نود نالہائے درد آلود حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک پکارنے والا ایسی آواز سے پکارے گا جس کو تمام خلائق سنے گی وہ کہے گا وہ لوگ کھڑے ہوجائیں جن کے پہلو اپنے بچھونوں سے علیحدہ رہتے تھے یعنی شب میں نماز پڑھنے والے وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے وہ تھوڑے ہوں گے، پھر آواز دے گا وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جو مصیبت اور درد میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کیا کرتے تھے اس پر کچھ اور تھوڑے لوگ کھڑے ہوجائیں گے ان دونوں گروہوں کو اکٹھا کر کے جنت میں بھیج دیا جائے گا اس کے بعد لوگوں کا حساب شروع ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ سے لالچ بری نہیں نہ اس سے ڈر اور اس واسطے بندگی کرتے تو قبول ہے لالچ اور ڈر دنیا کا ہو یا آخرت کا اور اگر کسی اور کے خوف ورجا سے بندگی کرلے تو ریا ہے کچھ قبول نہیں ۔ 12
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان خزانہ غیب میں موجود ہے اس کی کسی شخص کو بھی خبر نہیں یہ ان کو ان اعمال کا صلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے

17۔ سو ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان پوشیدہ دھرا ہوا ہے اور خزانہ غیب میں اس کو کوئی شخص نہیں جانتا یہ ان کو ان کے ان اعمال نیک کا صلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے ۔ یعنی ایسے عبادت گزار لوگوں کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان چھپا دھرا ہے اس سامان کا کسی علم نہیں اور کوئی اس کو نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اس آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان کو نہ کوئی بشر جانتا ہے نہ اس کی خبر کسی ملک مقرب کو اور نہ اس کا علم کسی اولو العزم پیغمبر کو ہے ۔ یہاں نکرہ تحت النفی واقع ہے جو عموم افراد کو مستلزم ہے اب جبکہ مومنین اور منکرین کا انجام بیان ہوچکا تواب دونوں میں عد م تساوی او عدم مساوات کا ذکر فرمایا ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

کیا بھلا وہ شخص جو ایماندار ہے اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو نافرمان ہے دونوں فریق نہیں برابر ہوسکتے

18۔ کیا بھلا وہ شخص جو مومن اور ایمان دار ہے اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو بےحکم اور نافرمان ہے یہ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے۔ یعنی ایک مومن کامل ہے ایک فاسق یعنی کافر ہے دونوں برابر نہیں ہوسکتے کہتے ہیں ولید نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مقابلے میں کہا تھا کہ میری تلوار اور میری زبان اور تیر ی تلوار اور زبان سے زیادہ تیز ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا تو فاسق ہے میں مومن ہوں تیری میری برابر نہیں ہوسکتی اس پر یہ آیت نازل ہوئی مومن سے مراد حضرت علی ؓ ہیں اور فاسق سے مراد ولید ہے اسی قسم کے تمام افراد کو ملا کر لا یستون فرمایا اور جمع کا استعمال کیا آگے عدم تساوی کی تفصیل بیان فرمائی۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ان کا ٹھکانہ جنتیں ہیں یہ جنتیں ان کے ان اعمال کے بدلے میں بطورمہمانی کے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے

19۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کا ٹھکانہ باغ ہیں یہ باغ ان کے ان اعمال نیک کے بدلے میں بطورمہمانی کے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی ایمان والوں کو جو نیک اعمال کے پابند رہے ان کو باغوں میں ٹھکانہ دیا جائے گا وہ باغ بطور مہمانی کے ہوں گے جو ان کو ان اعمال کے بدلے میں عطا ہوں گے جو وہ کیا کرتے تھے ان کی مہمانی ان باغوں میں یعنی جنتوں میں ہوگی۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جو لوگ نافرمان رہے تو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ لوگ جب کبھی بھی اس دوزخ سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اسی میں پھر لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا اس دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس عذاب کی تم تکذیب کیا کرتے تھے

20۔ اور جو لوگ بےحکمی کے خوگر ہیں اور کافرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں ان کا حقیقی ٹھکانہ جہنم ہے وہ لوگ جب کبھی اس جہنم سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اسی جہنم میں لوٹادیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس جہنم کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے اور جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ یعنی جو لوگ فاسق یعنی کافر ہیں ان کا آخری اور حقیقی ٹھکانہ جہنم ہوگا جب بھی یہ اس دوزخ سے نکلنے کی کوشش کریں گے اور نکلنا چاہیں گے خواہ نکل نہ سکیں تو ان کو الٹا ہی دھکیل دیا جائے گا اور جہنم ہی میں ان کو واپس کردیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا اس عذاب جہنم کا مزہ چکھو جس کی تم دنیا میں تکذیب کیا کرتے تھے۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کفارم کہ کو اس بڑے عذاب سے پہلے دنیا کے قریبی عذاب کا بھی ضرور مزہ چکھائیں گے تا کہ شاید یہ باز آجائیں

21۔ اور ہم ان کفار مکہ کو اس بڑے عذاب موعود سے پہلے دنیا کے قریبی عذاب کا بھی ضرور مزا چکھائیں گے تاکہ شاید یہ لوگ کفر سے باز آجائیں ۔ یعنی عذاب اکبر فرمایا آخرت کے عذاب کو اس سے پہلے تھوڑا سا عذاب یعنی دنیوی مصائب و آلام خواہ وہ قحط ہو ، بیماری ہو یا جہاد میں قتل و قید ہو ۔ غرض دنیا میں بھی ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے مختلف مصائب سے ان منکروں کو دو چار کروں گا تا کہ یہ کفر سے باز آجائیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں لوٹ مار بندی دیکھ لیں گے۔ 12
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظاہرہو سکتا ہے جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے یقینا ہم ایسے مجرموں سے بدلا لے کر رہیں گے

22۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے اور اس کو اس کے پروردگار کی آیتیں یاد دلائی جائیں پھر وہ ان سے اعراض کرے اور منہ پھیر لے یقینا ہم ایسے گناہ گاروں سے بدلا لے کر رہیں گے۔ یعنی وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیات یاد دلائی جائیں اور اس کو ان آیات کے واسطے سے نصیحت کی جائے اور وہ ان آیات کی طرف سے منہ پھیر لے اور تحقیر کا برتائو کرے تو ایسے گناہ گار یقینا اس قابل ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی توریت عطا کی تھی سو آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کا شک نہ کیجئے اور ہم نے اس توریت کو بنی اسرائیل کیلئے رہنما بنایا تھا

23۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت عطا فرمائی آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کا شک نہ کیجئے اور ہم نے اس کتاب توریت کو بنی اسرائیل کے لئے موجب ہدایت اور رہنمائی بنایا ۔ شک نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں یہ مطلب نہیں کہ آپ کا معاذ اللہ اس میں کچھ شک یا تردد تھا۔ بعض نے یہ مطلب بتایا ہے کہ جس طرح کتاب توریت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اسی طرح قرآن کریم آپ کو دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ معراج میں جو آپ کی ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چھٹے آسمان پر ہوئی وہ شک کی بات نہیں یا یہ کہ قیامت میں جو موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگی وہ شک کی بات نہیں یا یہ مطلب کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو اپنے پروردگار سے ملاقات ہوگی وہ شک اور دھوکے کی بات نہیں ۔ من لقائہ کی ضمیر میں مفسرین کے چند اقوال ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دھوکہ نہ کر اس کے ملنے میں یعنی کتاب کے یا موسیٰ کے معراج کی رات میں ان سے ملے اور بھی کئی بار۔ 12
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں کی جبکہ انہوں نے مصائب پر صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین کئے رہے دین کا پیشوا بنادیا کہ وہ ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے

24۔ اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں کو امام اور پیشوا بنایا تھا وہ ہمارے حکم سے ہدایت اور رہنمائی کیا کرتے تھے جبکہ وہ لوگ مصائب و تکالیف پر صبر کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں کا یقین کرتے تھے۔ یعنی مصائب پر صبر کرنے اور ہماری آیتوں پر اذغان و یقین کا ان لوگوں کو یہ صلہ ملا کر ان کو ہم نے امت موسوی کا پیشوا بنادیا ایسا ہی امت محمدیہ ﷺ میں بھی ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم بھی ٹھیرے رہو تو تم میں بھی وہی چال ہو ۔ آخر ہوئے۔ 12
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

یہ لوگ جن امور میں اختلاف کرتے رہتے ہیں یقینا قیامت کے دن آپ کا رب ان کے مابین ان سب امورکا فیصلہ کر دے گا

25۔ اے پیغمبر جن امور میں کافر اور مومن یا پیغمبر یا انکی امت اختلاف کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار یقینا قیامت کے روز ان کے مابین ان سب امورکا فیصلہ کردے گا ۔ فیصلہ یہی کہ مومن جنت میں اور کافر جہنم میں بھیج دیئے جائیں گے ۔ انبیاء مقام قرب میں ہوں گے اور ان کی جھگڑا لوامتیں عذاب میں مبتلا ہوں گی۔ ہوسکتا ہے کہ بنی اسرائیل کی مختلف فرقوں کے باہمی اختلاف کے فیصلے کی طرف اشارہ ہو۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کفار مکہ کیلئے یہ امر سبق آموز نہیں ہوا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے برباد شدہ مکانوں کے پاس سے یہ آتے جاتے ہیں اس میں کچھ شک نہیں کہ اس انقلاب میں بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ لوگ سنتے نہیں

26۔ کیا ان کفارم کہ کیلئے یہ امر سبق آموز نہیں ہوا اور ان کے لئے یہ امر موجب رہنمائی نہیں ہوا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے برباد شدہ مکانوں کے پاس سے یہ گزرتے اور آتے جاتے ہیں اس میں کچھ شک نہیں کہ اس انقلاب اور ہلاکت میں بڑی نشانیاں ہیں کیا یہ لوگ سنتے نہیں ۔ یعنی پیغمبروں کی نافرمانی اور ایذا رسانی کی بدولت عاد وثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہلاک و تباہ ہوچکی ہیں تو کیا ان تباہ شدہ بستیوں کی تباہی جن کو ہم ان کی نافرمانی کے باعث تباہ کرچکے ہیں ان کفار مکہ کے لئے موجب رہنمائی نہیں ہیں اور یہ ان کی تباہی سے سبق حاصل نہیں کرتے حالانکہ یہ سفر میں جاتے آتے ان بستیوں کے پاس سے گزرتے بھی ہیں ان بستیوں کی ہلاکت و تباہی میں بلا شبہ بڑی عبرت آموز نشانیاں ہیں کیا یہ ان لوگوں کے واقعات اور گزشتہ امم کے قصے سنتے نہیں اب آگے قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے پر یقین لانے کی بات فرمائی۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ہم ایک خشک زمین تک پانی کو پہنچاتے ہیں پھر ہم اس پانی کے ذریعہ سے کھیتی پیدا کرتے ہیں کہ جس سے ان کے مویشی بھی چرتے ہیں اور وہ خود بھی اس سے کھاتے ہیں تو کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں

27۔ کیا ان دین حق کے منکروں نے اس بات پر غور نہیں کیا اور اس بات کو دیکھا نہیں کہ ہم ایک خشک زمین تک پانی کو پہنچاتے ہیں پھر اس پانی کے ذریعہ کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے مواشی بھی چرتے ہیں اور وہ خود بھی اس میں سے کھاتے ہیں تو کیا اس بات کو یہ لوگ دیکھتے نہیں ۔ یعنی خشک زمین پر پانی کا پہنچانا خواہ و بارش کے ذریعے ہو یا نہر اور رجبہوں سے اور نالیوں سے ہو بہر حال خشک زمین پر پانی پہنچانا پھر اس پانی کے ذریعے خشک زمین میں کھیتی کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں پھر اس کھیتی میں سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور چرتے ہیں جیسے بھوسا اور چری وغیرہ اور تم بھی کھاتے ہو جیسے گیہوں ، جو ، چنا اور جوار و باجرہ وغیرہ تو کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ جس طرح مردہ اور خشک زمین زندہ ہوسکتی ہے اسی طرح مرے ہوئے انسان بھی دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں ۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور یہ کافرکہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتائو کہ یہ آخری فیصلہ کب ہوگا

28۔ اور نہ منکریوں کہتے ہیں کہ یہ فیصلے کا دن کب ہوگا اگر تم سچے ہو تو بتائو ۔ یوم الفتح سے مراد یا تو فتح مکہ کا دن ہے کیونکہ مسلمانوں سے اس پیشین گوئی کا چرچا سنتے رہتے تھے یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے جو آخری فیصلے کا دن ہے جس طرح قیامت قائم ہونے کے وقت ایمان معتبر نہیں اسی طرح تلوار کے خوف سے مضطر اور مجبور ہوکر ایمان لانا خدا کے نزدیک معتبر نہیں اسی کا آگے جواب ہے۔
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اس آخری فیصلے کا دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کوئی نفع نہ دے گا اور نہ وہ مہلت ہی دیئے جائیں گے

29۔ آپ فرما دیجئے کہ اس آخری فیصلے کے دن منکروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ وہ مہلت ہی دیئے جائیں گے یعنی اس دن کے آنے کی جلدی نہ کروجب وہ دن آ جئے گا تو اس دن کسی منکر ایمان کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائیگی چونکہ وہ لوگ عذاب میں تعجیل کرتے تھے اور عذاب کا مذاق اڑاتے تھے اس لئے اس قسم کے سوال کی جو غرض تھی اس کے مطابق جواب دیا گیا چونکہ مفسرین کے تین قول تھے ہم نے ہر ایک کی رعایت سے ترجمہ کیا ہے اور تیسیر میں رعایت رکھی ہے۔ قیامت کا دن ، فتح مکہ کا دن ، بدر کی لڑائی کا دن ، عذاب کو دیکھ کر اور قتل کے وقت ایمان لانا معتبر نہیں ۔ کمانی المدارک ، مطلب یہ ہے کہ تکذیب اور استہزا چھوڑ دو جو گھڑی آنے والی ہے وہ آ کر رہے گی اور اس وقت نہ تو ایمان لانا ہی نافع ہوگا، نہ مہلت ہی دی جائے گی جو کچھ کرنا ہے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے کرلو۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو ان کافروں کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لیجئے اور انتظار کرتے رہیے یہ کافر بھی انتظار کررہے ہیں

30۔ سو آپ ان کافروں اور دین حق کے منکروں سے اپنی توجہ ہٹا لیجئے اور ان کا خیال چھوڑ دیجئے اور ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے اور اس یوم موعود کا انتظار کرتے رہیے یہ کافر بھی انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی آپ اپنی تبلیغ جاری رکھیئے اور ان کی بیہودہ ہفوات کی جانب توجہ نہ کیجئے یوم الفتح کا اعلان ہوچکا ہے آپ بھی اس کا انتظار فرمایئے یہ بھی انتظار کررہے ہیں اس دن حق اور باطل کا خود بخود ہی فیصلہ ہوجائے گا ۔ تم تفسیر سورة السجدۃ فللہ الحمد والنعمۃ والشکر