31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 31:1
1۔ الم
Ayah 31:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت سے لبریز ہے

2۔ یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو محکم اور حکمت سے لبریز ہے یعنی اپنے احکام میں محکم اور پکی کتاب ہے یا یہ کہ با حکمت اور پر حکمت ہے اور حکمت کی باتوں سے لبریز ہے۔ تیسیر میں دونوں قولوں کو جمع کردیا یہ کہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سورت میں جو مذکور ہے یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی ۔
Ayah 31:3

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

یہ آیتیں نیک لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہیں

3۔ یہ آیتیں یا یہ قرآن کریم نیک لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہیں ۔ یعنی مؤمنین و محسنین کیلئے ہدایت اور رحمت کا سبب ہے یعنی اس کتاب سے وہ لوگ صحیح رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوتے ہیں اگرچہ قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کے لئے موجب ہدایت و رحمت ہے لیکن چونکہ اس سے صحیح فائدہ مؤمنین اور محسنین ہی اٹھاتے ہیں اس لئے محسنین کا ذکر فرمایا آگے محسنین کی صفات بیان فرمائیں۔
Ayah 31:4

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

وہ نیک لوگ وہ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں

4۔ محسنین وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ محسنین کے اوصاف میں تین چیزوں کا ذکر فرمایا ۔ نماز ، زکوٰۃ اور آخرت کا کامل یقین ، لفظ محسن کی تفصیل کئی جگہ گزر چکی ہے اور احسان کی بحث بھی ہوئی ہے اور شاید اسی سورت کے تیسرے رکوع میں پھر تذکرہ آجائے اور زکوٰۃ کی فرضیت اگرچہ مدینہ منورہ میں ہوئی ہے لیکن اس کی مشروعیت ہوسکتا ہے کہ مکہ میں بھی ہو۔ یہ حال ! قرآن شریف کا موجب ہدایت اور سبب رحمت ہونا ان مسلمانوں کے لئے نمایاں ہے جو مخلص مسلمان ہیں عمل کے اعتبار سے بھی اور اعتقاد کے اعتبار سے بھی اسی کو آگے بیان فرمایا۔
Ayah 31:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

وہی لوگ اپنے رب کی سیدھی راہ پر ہیں اور وہی لوگ فلاح کو پہنچنے والے ہیں

5۔ یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی ہیں فلاح پانے والے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ، یعنی اس قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے اور اعتقاد رکھنے کی برکت سے وہ فلاح پانے والے ہیں ۔ قرآن کریم کی ہدایت اور اس کی رحمت کا یہاثر ہوا کہ پروردگار کی سیدھی راہ پر بھی رہے اور فلاح بھی حاصل ہوئی ۔ اب آگے بعض شرارت پسندوں کا ذکر فرمایا تا کہ نیکوں اور شریروں کا فرق معلوم ہو۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور آدمیوں میں سے بعض آدمی ایسا ہے جو ان باتوں کو خریدتا پھرتا ہے جو غافل کرنے والی ہیں تا کہ بےسوچے سمجھے اللہ کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے اور اس راہ حق کا مذاق اڑائے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے

6۔ اور لوگوں میں سے بعض آدمی وہ بھی ہے جو ان باتوں کو خریدتا پھرتا ہے جو کھیل کی باتیں اور غافل کرنیوالی باتیں ہیں تا کہ بےجانے بوجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کرے اور اس راہ حق کا مذاق اڑائے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلت اور اہانت آمیز عذاب ہے۔ نضر بن حارث کافروں میں سے ایک شخص تھا جو پیغمبر اسلام کا سخت مخالف اور بد ترین دشمن تھا وہ چاہتا تھا کہ قرآن کی طرف لو گ متوجہ نہ ہوں وہ تجارت کی غرض سے فارس جاتا اور وہاں سے رستم اور اسفند یار کے قصے خرید لاتا اور مکہ میں لوگوں کو جمع کر کے سناتا تا کہ قرآن سننے اور اسلام قبول کرنے سے باز رہیں لوگوں سے کہتا کہ یہ پیغمبر تم کو عاد اوثمود کے قصے سناتا ہے میں تم کو ایران کی مشہور لڑائیوں اور مشہورپہلوانوں کے قصے سناتا ہوں تم ہی بتائو دونوں قسم کے قصوں میں دلچسپی کون سے قصوں میں سے ایک دفعہ ایک گانے والی لونڈی خرید لایا جس کو دیکھتا کہ اسلام کی طرف مائل ہے اس کو گھر لا کر کھانا کھلاتا اور گانا سنوا کر قرآن کریم سے مقابلہ کرتا کہ بتائو تفریح اور دل لگی کس میں ہے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ لوگ لغو مشغلوں میں الجھ جائیں اور قرآنی ہدایت سے متنفر ہوجائیں یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لہو الحدیث انہی باتوں کو فرمایا جو لوگوں کو مشغول کر دے اور صحیح چیز سے غافل کردے۔ علماء فرماتے ہیں کل ما شغل عن عبادۃ اللہ وذکر ہ من السمروالاضاحیک و الخرفات والغناء و نخوھا فھو لھو یعنی جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد سے غافل کرے خواہ وہ کہانیاں ہوں یا اور ہنسنے ہنسانے کی باتیں اور خرافات ہوں گانا اور راگ ہو سب لہو ہے یہ ضرور ہے کہ لہو کے مختلف درجات ہیں جو لہو گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا سبب بنے وہ کفر ہے اور کوئی لہو معصیت کا سبب ہو وہ معصیت ہے اور جو لہو کسی امر شرعی کا فوت کرنیوالا نہ ہو اور اس میں کوئی شرعی غرض اور مصلحت بھی نہ ہو وہ اگرچہ مباح ہے لیکن خلاف اولیٰ ضرور ہے۔ البتہ گھوڑے پرچڑھنا اور گھوڑے کو دوڑانا ، تیر اندازی کرنا اور اس میں مسابقت اور اپنی اہل سے ملا عبت یہ لہو باطل سے مستثنیٰ ہیں ۔ بعض حضرات نے غنا کو بھی اس آیت سے لہو میں داخل کیا ہے۔ ( واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک کافر تھا جس کو دیکھتا کہ نرم دل ہوا مسلمانی طرف جھکا اپنے گھر لے جاتا شراب پلاتا اور راگ اور ناچ دکھاتا اس رندی کی مجلس سے ایمان کا اثر ہٹ جاتا اس کو یہ فرمایا ۔ 12 آیت میں اسی لہو کو ظاہر فرمایا ہے جو ضلال اور اضلال کا سبب ہو اور ظاہر ہے کہ ایسا لہو یقینا کفر ہے۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس مذکورہ شخص کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہے تو وہ متکبرانہ انداز سے اس طرح منہ پھیر کر چل دیتا ہے کہ گویا اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے دونوں کانوں میں ثقل ہے سو آپ اس شخص کو ایک درد ناک عذاب کی بشارت دیدیجئے

7۔ اور جب اس شخص مذکور پر اور اسکے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے اور متکبرانہ اندازے سے پیٹھ پھر کر چل دیتا ہے کہ گویا اس نے ان آیات کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے دونوں کانوں میں ثقل ہے ۔ سو اے پیغمبر آپ اس شخص کو ایک درد ناک سزا ور عذاب کی بشارت اور خوشخبری دے دیجئے۔ یعنی ایک طرف اس کے اضلال کی یہ حالت کہ مغنیہ عورت اور لہو کی باتیں جمع کرتا پھرتا ہے ۔ دوسری طرف جب خود اس کے سامنے آیات الٰہی پڑھی جائیں تو تکبر کے ساتھ ان آیات الٰہی کو ناقابل التفات سمجھ کر پیٹھ پھیر کر چلاجائے اور ایسا بن جائے جیسے اس نے سنا ہی نہیں اور جیسے اس کے دونوں کان بہرے ہیں تو ایسے شریر کو آپ درد ناک عذاب کی خبر دیجئے ۔ اب آگے نیک اور اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے۔
Ayah 31:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

التہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

8۔ بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے نعمت کے باغ اور عیش کی جنتیں ہیں۔
Ayah 31:9

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے ، یہ اللہ نے سچا وعدہ فرمایا ہے اور وہی کمال قوت کمال حکمت کا مالک ہے

9۔ وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہ وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ سچا اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی اہل ایمان جو نیک اعمال کیا کرتے ہیں ان کے لئے گونا گوں نعمتوں کے باغ ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ان کو وہاں سے نکالا نہ جائے گا یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے اور اس کا وعدہ پورا ہی ہو کر رہتا ہے کیونکہ وہ کمال قوت و حکمت کا مالک ہے۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں کو بغیرستونوں کے بنایا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو اور اسی نے زمین میں پہاڑ ڈال دیئے تا کہ کہیں زمین تم کو لے کر ہلنے نہ لگے اور اسی نے زمین میں ہر قسم کے حیوانات پھیلائے اور ہم نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر ہم نے زمین میں ہر قسم کی اچھی اچھی چیزیں اگائیں

10۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا چناچہ تم ان کو دیکھتے ہو اور اسی نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور رکھ دیئے تا کہ کہیں تم کو زمین لیکر ہلنے نہ لگے اور ڈانو ڈول نہ ہونے لگے اور اسی نے زمین میں ہر قسم کے حیوانات پھیلائے اور ہم نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا ۔ پھر ہم نے زمین میں ہر قسم کی عمدہ اقسام کی نباتات اگائیں ۔ یعنی بلا کسی ٹیک کے آسمان بنائے زمین پر پہاڑ رکھے ہر قسم کے جاندار حیوانات پھیلانے آسمان سے پانی برسا کر بھانت بھانت کی نباتات اگائیں ہر قسم کی اچھی اچھی اور عمدہ عمدہ نباتات پیدا کیں نبابات میں بھی جوڑے ہوتے ہیں یہی نباتات کی قسمیں ہیں ان موالید ثلاثہ ( حیوانات ، نباتات ، جمادات ) کے جوڑے سب اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا فرمائے ہیں ۔ آگے معبود ان باطلہ کے پرستاروں سے مطالبہ ہے کہ تم بتائو تمہارے معبودوں نے کیا پیدا کیا ہے۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ سب چیزیں تو اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں اب تم لوگ ذرا مجھے یہ تو دکھائو کہ خدا کے سوا اوروں نے کیا کیا پیدا کیا ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ مشرک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں

11۔ یہ سب چیزیں تو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اب تم لوگ ذرا مجھ کو یہ تو دکھائو اور بتائو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں نے کیا کیا بنایا اور پیدا کیا ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ مشرک کھلی اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یعنی ان چیزوں کو جب سے یہ موجود ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ نے موجود فرمائی ہیں اور بنائی ہیں اور ان کا موجد ہی مستحق الوہیت ہے جس کے تم قائل نہیں تو اب بتائو کہ اس مستحق الوہیت کے علاوہ اوروں نے کیا بنایا ہے تا کہ شرک فی الالوہیت ثابت ہو۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس دلیل کے بعد شرک سے باز آجائے اور اپنی ہارمان لیتے لیکن اپنی ضد اور اصرار پر قائم ہیں اور یہ ظالم اور ناانصاف لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں کہ بغیر کسی دلیل کے شریک پر اڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی اور حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو نا سپاسی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سزا وار حمد وثناء ہے

12۔ اور بلا شبہ ہم نے لقمان کو حکمت اور دانشمندی عطا کی اور اس کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہ اور جو شکر بجا لاتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کو اور بھلے کو شکر بجا لاتا ہے اور جو شخص نا سپاسی اور کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیاں سراہا ہے۔ حکمت یعنی علم و عمل سے نوازا بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے البتہ ان کو حکمت و دانائی سے نوازا گیا تھا انہوں نے بہت سے انبیاء کی شاگردی کی تھی اور عمر بھی بڑی پائی تھی ۔ وہ سیاہ رنگ تھے ، بعض نے کہا وہ غلام تھے پھر آزاد ہوئے بنی اسرائیل میں مفتی تھے چونکہ ان کے عام نصائح توحید کو مشتمل میں اس لئے ان کا یہاں ذکر فرمایا اور چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی صحبت میں رہے تھے اس لئے ان کی باتوں میں آسمانی دین کی جھلک ہے وہ حکیم تھے مرد صالح تھے بنی اسرائیل کو پندرہ نصائح کیا کرتے تھے ، بعض لوگوں نے لقمان کا ایک قول نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں ۔ میں نے چار ہزار نبیوں کی خدمت کی ہے اور ان کے کلام میں سے میں نے آٹھ باتیں محفوظ کی ہیں۔ 1۔ اگر تو نماز میں ہو تو اپنے دل کی حفاظت کر۔ 2۔ اگر کھانے پر ہو تو اپنے حلق کی حفاظت کر یعنی زیادہ نہ کھا۔ 3۔ اور جب تو کسی غیر کے گھر میں ہو تو اپنی آنکھوں کی حفاظت کر۔ 4۔ اور جب تو لوگوں میں ہو تو اپنی زبان کی حفاظت کر۔ 5۔ 6۔ دو چیزوں کو ہمیشہ یاد رکھو۔ 7۔ 8۔ اور دو چیزوں کو بھلادے۔ یادرکھنے والی دو چیزیں یہ ہیں ایک اللہ تعالیٰ کو دوسرے موت کو ہمیشہ یاد کیا کر ۔ بھول جانے والی دو چیزیں یہ ہیں ایک تو جب کسی اپنے یا کسی غیر کے ساتھ احسان کرے تو اس احسان کو بھول جادوسرے جو تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تو اسکی برائی کو بھلا دے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ حضرت لقمان غلام تھے حبشی حضرت دائود کے وقت میں اللہ نے ان کو حکمت دی یعنی عقل کی راہ سے دے باتیں کھولیں جو موافق ہوئیں پیغمبروں کے حکم کے۔ 12
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیو بلا شبہ شر ک کرنا بڑا ہی ظلم ہے

13۔ او وہ واقہ قابل ذکر ہے جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا دارانحالی کہ وہ اس کو نصیحت کر رہا تھا اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کی جو اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیو بلا شبہ شرک بڑا بھاری ظلم ہے یعنی جس نے شرک کیا اس نے اپنی جان پر بڑا بھاری ظلم کیا ۔ ؎ الحمد للہ لا شریک لہ ومن اباھا فنفسہ ظلما ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کیا ہے ؎ ہر کہ دردریائے وحدت غرقہ باشد جان او جوہر فرد حقیقت یافت از جانان او اب آگے حق تعالیٰ ماں باپ کے حق کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اسکے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے اس کی ماں نے سستی اور ضعیف پر ضعیف برداشت کرتے ہوئے اس کو حمل میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے تاکید یہ ہے کہ اے انسان تو میرا اور اپنے ماں باپ کا حق مانا کر کیونکہ آخر مجھی تک واپس آنا ہے

14۔ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید اور تقیید کی ہے اس کی والدہ نے سستی اور ضعف پر ضعف برداشت کرتے ہوئے اس کو حمل میں رکھا اور پھر دو سال میں اس کادودھ چھوٹتا ہے اے انسان تو میرا اور اپنے ماں باپ کا حق مانا کر اور شکر گزار رہا کر کیونکہ آخر میری ہی طرف واپس آنا ہے ۔ جب عورت کو پیٹ رہتا ہے تو اس کو روز بروز تھکن سستی اور ضعف بڑھتا رہتا ہے اسی وجہ سے اس کی شکر گزاری کو اپنے ساتھ جمع فرمایا کہ میرے شکر کے ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کا بھی شکر ادا کرتا رہ پھر پیدا ہونے کے بعد عام طور پر دو سال تک دودھ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اگرچہ گنجائش ڈھائی سال تک ہے۔ کما فی الفقہ۔ شکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عبادت بجا لائے اور ماں باپ کی خدمت اور ان کی اطاعت کرے۔ انسانی پیدائش اور انسانی تربیت میں حقیقی احسان تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے لیکن مجازی طورپر چونکہ ماں باپ کا بھی دخل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے بعد ان کا حق سب سے مقدم اور فائق ہے اور چونکہ انسان کی بازگشت حضرت حق تعالیٰ ہی کی جناب میں ہے اس لئے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حقوق الٰہی کے ساتھ وہاں حقوق العباد کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی اور ماں باپ کی خدمت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا سوال بھی ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ کلام بیچ میں اللہ صاحب فرماتا ہے۔ لقمان نے بیٹے کو ماں باپ کا حق نہ کہا تھا کہ اپنی غرض معلوم ہوتی اللہ صاحب نے شرک سے پیچھے اور نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق فرمایا کہ بعد اللہ کے ماں باپ کا حق ہے باپ نے اللہ کا حق بتایا اللہ نے باپ کا اور رسول کا اور مرشد کا حق اللہ ہی کی طرف میں ہے کہ اسی کے نائب ہیں ۔ 12
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرام جسکے معبود ہونے کی کوئی دلیل تیرے پاس نہیں ہے تو ان دونوں کا کہنا نہ مان ہاں دنیوی معاملات میں بھلی طرح ان کا رفیق اور ہم صحبت رہ اور اسی شخص کی راہ چل جو میری طرف رجوع ہوا پھر تم سب کو میری طرف واپس آنا ہے سو میں تم کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا جو تم کیا کرتے تھے

15۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا جس کے شریک الوہیت اور شرک فی العبادت ہونے کی تیرے پاس کوئی سند اور دلیل نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان اور ان کی اطاعت نہ کر ہاں دنیوی معاملات میں مثلاً خدمت اور انفاق وغیرہ میں بھلی طرح اور دستور کے موافق ان کا رفیق اور ہم صحبت رہ اور پیروی اسی شخص کی کر اور اسی کی راہ چل جو میری طرف رجوع ہوا پھر تم سب کو میری طرف آنا ہے اور تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے پس میں تم کو امن تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی باوجود ان حقوق کے جو والدین کے تجھ پر ہیں اگر وہ کبھی تجھ کو میرا شریک ٹھہرانے پر آمادہ کریں اور کوشش کریں اور تجھ پر زور ڈالیں تو ان کی اطاعت نہ کیجیو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک کرنے اور اس کی الوہیت میں کسی کو شریک ٹھہرانے پر نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی سند ہے جو تیرے علم میں آتی ، ما لیس لک بہ علم کا یہی مطلب ہے کہ جب شرک پر آج تک کوئی دلیل ہی قائم نہیں ہوسکی تو تیرے پاس دلیل کہاں ہے اور جب دلیل نہیں تو شرک میں ان کا کہنا نہ مان ، البتہ دنیوی معاملات میں جیسے ان کی خدمت اور نا ن و نفقہ وغیرہ کی خبر گیری دستور کے موافق کرتے رہنا اور خوبی اور بھلائی سے ان کے ساتھ صبر کرتے رہنا اس میں کوتاہی نہ ہو ان میں ان کی رفاقت اور ساتھ دینے میں کمی نہ کر ، ہاں دین کے معاملہ میں ان کا کہنا نہ مان بلکہ اس کی راہ چل اور اس شخص کے راستے کی اتباع اور پیروی کر جو میری طرف رجوع ہوا یعنی جو میرے احکام پر عامل ہو اور میرے احکام پر اعتقاد رکھتا ہو اس کے راستے پر چل اور دین کے بارے میں مشرک ماں با پ کا کہنا نہ مان، آگے فرمایا تم سب کو میری ہی طرف آنا ہے اس وقت میں تم کو آگاہ کردوں گا اور تم کو وہ سب اعمال بتلا دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شریک نہ مان جو معلوم نہیں یعنی شبے میں نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیوں مانے 12 اب آگے پھر حضرت لقمان کی نصائح کا ذکر ہے۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے میرے بیٹے کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو پھر خواہ وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان میں ہو یا وہ زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس عمل کو بھی لا حاضر کرے گا ، بیشک اللہ نہایت باریک بین بہت با خبر ہے

16۔ اے میرے بیٹے کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو پھر خواہ وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس عمل کو بھی لا حاضر کریگا بیشک اللہ تعالیٰ نہایت باریک ہیں بہت با خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کے کمال سے بیٹے کو آگاہ فرمایا کہ اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل چاہے رائی کے دانے ہی کے برابر کیوں نہ ہو اور کہیں پوشیدہ ہو کسی پتھر میں ہو یا زمین کے اور آسمان کے کسی حصے میں مخفی ہو یعنی کتنا ہی پوشیدہ ہو اور خواہ کتنا ہی دورہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب کے وقت اس کو بھی لا حاضر کرے گا اس عمل کا چھوٹا ہونا یا پوشیدہ ہونا یا آسمان جیسی دوری پر ہونا اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم اور احاطہ قدرت سے خارج نہیں کرسکتا ، کوئی عمل ہو یا خصلت و عادت ہو وقت پر اس سب کا اظہار ہوجائے گا اور لطیف وخبیر ہر چیز کو لا حاضر کرے گا ۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے میرے بیٹے نماز پڑھا کر اور اچھی باتوں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو مصیبت پر پڑے اس کو برداشت کر ، یقین مان یہ کام بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں

17۔ اے میرے بیٹے نماز پڑھاکر اور نماز کی پابندی کیا کر اور اچھی باتوں کی نصیحت کیا کر اور بری باتوں سے اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو مصیبت تجھ پر پڑے اس کو سہار اور برداشت کر ، بلا شبہ یہ کام بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں ۔ یعنی بیٹا نماز کی پابندی کر اور بھلے کاموں کی نصیحت کیا کر برے کاموں سے لوگوں کو منع کیا کر اور روکا کر اور اس تبلیغ کے سلسلہ میں عام طور سے نصیحت کیا کر برے کاموں سے لوگوں کو منع کیا کر اور روکا کر اور اس تبلیغ کے سلسلہ میں یا عام طور سے جو مصیبت تجھ پر پڑے اور جو مصائب پڑیں ان کو خندہ پیشانی سے برداشت کر اور جھیل اور سہار یہ نیک کام کرنا اور نیک کاموں کی راہ میں جو مصائب آئیں ان کو برداشت کرنا بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نماز کے ساتھ زکوٰۃ نہیں کہی ایسے لوگوں کے پاس مال کہاں رہتا ہے۔ 12 اب آگے اخلاق و عادات کی اصلاح کا ذکر ہے۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے بےرخی کا برتائو نہ کر اور زمین پر متکبرانہ چال سے نہ چلا کر بیشک اللہ کسی تکبر کرنیوالے شیخی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا

18۔ اور لوگوں سے منہ پھلا کر بےرخی کا برتائو نہ کر اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین میں اترا کر اور متکبرانہ چال سے نہ چلا کر بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے شیخی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی اور اخلاق کے ساتھ ملا کر لوگوں کو حقیر سمجھ کر تکبر کا برتائو نہ کیا کر اور منہ پھلا کر بےرخی کے ساتھ بات نہ کیا کر زمین پر اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا کیونکہ یہ متکبروں کی چال ہے ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا اور شیخی خور سے متکبرکوپسند نہیں کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گال نہ پھلا یعنی غرور سے نہ دیکھو۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) تصعر خدک کا ترجمہ گال مت پھلا کیا ہے مطلب وہی ہے جو ہم نے عرض کیا تصعر کا ترجمہ لغت میں روبگروانیدن از کبر کیا ہے۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

ور اپنی چال میں میانہ روی اختیا کر اور اپنی آواز کو نیچا رکھ بلا شبہ آوازوں میں بد ترین آواز گدھوں کی آواز ہے

19۔ اور اپنی رفتار اور چال میں میانہ روی اور اعتدال اختیارکر اور اپنی آواز کو نیچا اور ست رکھ بلا شبہ آوازوں میں بد ترین اور بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔ یعنی رفتار متوسط اختیار کر اور آواز میں نرمی اور پستی پیدا کر۔ حدیث میں آتا ہے جب تم گدھے کی آواز سنو تو اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہا کرو۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ نے ان سب چیزوں کو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور اس نے تم پر اپنی تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کر رکھی ہیں اور لوگوں میں بعض شخص ایسا بھی ہے جو اللہ کے بارے میں بدون کسی واقفیت اور بدون کسی دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے

20۔ کیا تم لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی اور تم نے یہ بات نہیں دیکھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہارے لئے ان سب چیزوں کو مسخر کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنی تمام ظاہری و باطنی نعمتیں پوری کر رکھی ہیں اور لوگوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدوں کسی واقفیت اور بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔ یعنی آسمان میں سورج اور چاند اور سیارے یعنی پورا نظام شمسی جس کی تسخیر پر مخلوق کی زندگی کا دارومدار ہے اور زمین کی چیزیں مویشی اور زمین کی کھیتی باڑی ، دریا ، پہاڑ ، غرض کوئی ایسی چیزجو انسانی منافع اور کسی گوشہ زندگی سے وابستہ نہ ہو۔ ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی ضروریات زندگی کیلئے مسخر کر رکھا ہے ، ظاہری نعمت سے یا تو وہ چیزیں ہیں جو اس سے جانی جائیں اور سمجھی جائیں یا جسمانی اور مادی نعمتیں مراد ہوں اور باطنی نعمتیں وہ جن کو سمجھنا محض عقل سے ہو یا روحانی نعمتیں مراد ہوں جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی وساطت سے حاصل ہوں یہ جھگڑا لو شخص یا تو نضر بن حارض ہے جس کا ذکرسورۂ حج کے شروع میں گزر چکا ہے یا کوئی یہودی ہے جو بغیر کسی بد یہی علم اور بغیر ہدایت یعنی عقلی اور کتاب یعنی دلیل نقلی کے جھگڑا کرتا اور مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں الجھتا رہتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ علم سے مراد دلیل ہو اور ھدی سے مراد رسول کا قول ہو اور کتاب منیر سے مراد کتب سماوی ہو۔ بہر حال نہ استدلال عقلی ، نہ کسی پیغمبر کا قول نہ کسی آسمانی کتاب کی شہادت اور باوجود اس تہی دامنی کے کٹ حجتی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے بارے میں بحث مباحثہ اور جھگڑا کرتا رہتا ہے۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب اس قسم کے جھگڑالو لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے تم اس کی پیروی کرو تو یہ کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو اس طریقہ پر چلیں گے جس طریقہ پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے بھلا کیا شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو تب بھی یہ انہی کی پیروی کریں گے

21۔ اور جب اس قسم کے جھگڑا لوافراد سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اس کی پیروی اور اتباع کرو تو یہ کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں بلکہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے۔ اور اس طریقہ کار کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے بھلا کیا اگر شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کیط رف بلاتا رہا ہو تب بھی یہ انہی کی پیروی کریں گے۔ یعنی جب کبھی ان کو ما انزل اللہ کی دعوت دی جاتی ہے تو انکار کرتے ہیں اور اپنے بڑوں کو کورا نہ تقلید اور ان کے غلط راستوں کی پیروی کرنے پر اصرار کرتے ہیں یعنی دلیل کی طرف نہیں آتے اور بلا دلیل بڑوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے اگر شیطان ان کے بڑوں کو عذاب سعیر کی طرف بلاتا رہا ہو تب بھی وہ انہی کا اتباع کریں گے۔ عذاب سعیر کا سبب ہے گمراہی تو مطلب یہ ہے کہ گمراہی کی طرف شیطان ان کے بڑوں کو بلاتا رہا تب بھی یہ ان شیطان کے ماروں کی پیروی کرتے رہیں گے۔ سعیر دہکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں مراد اس سے جہنم ہے۔
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کردیا اور وہ شخص مخلص بھی ہو تو یقینا اس نے بڑا مضبوط حلقہ پکڑ لیا اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے

22۔ اور جس شخص نے اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرلیا اور اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور وہ شخص مخلص بھی ہے تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ اور مستحکم کڑا پکڑ لیا اور سب کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فرمانبرداری کی غرض سے اس نے اپنا منہ خدا کے سامنے کھ دیا یعنی اسلام قبول کرلیا اور عمل و اعتقاد کو درست کرلیا اور وہ مخلص بھی ہو، یعنی دل سے مسلمان ہو تو گویا اس نے ایک ایسا مضبوط اور پختہ حلقہ کو پکڑ لیا کہ گرنے کا اندیشہ نہ رہا ہر اعتبار سے محفوظ ہوگیا اور اخیر سب کاموں کا اللہ ہی کی طرف ہے وہاں ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا یا صلہ عطا ہوگا ۔ عروۃ الوثقیٰ کی تفصیل سورة بقرہ کی تسہیل میں گزر چکی ہے۔
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو شخص کفر کرتا ہے تو اس کا کفر آپ کو رنجیدہ نہ کرے ان سب کو ہماری طرف واپس ہونا ہے پھر ہم ان کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دینگے جو ہو کرتے رہے ہیں ، بیشک اللہ سینوں کی تمام باتوں سے خوب واقف ہے

23۔ اور جو شخص کفر و انکار کرتا ہے تو اس کا کفر اے پیغمبر آپ کو رنجیدہ نہ کرے ان سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے اور ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہے پھر ہم ان کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کردیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی تمام باتوں سے خوب واقف ہے اور جو شخص باوجود ان دلائل واضحہ اور ثابتہ کے پھر بھی کفر پر قائم ہے اور جما ہوا ہے تو آپ ایسے لوگوں پر غمگین نہ ہوں اور آپ کو ان کا کفر رنجیدہ نہ کرے چونکہ ان سب کو ہماری ہی سرکار میں واپس آنا ہے تو ہم ان کو وہ تمام باتیں بتادیں گے اور جتا دیں گے یہ جو دنیا میں کرتے رہے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں تک کی باتوں سے خوب واقف ہے اور جب کوئی بات حتیٰ کہ دلوں تک کی باتیں اس پر مخفی نہیں ہیں تو کوئی عمل خواہ کیسا ہی پوشیدہ یا ظاہر کیوں نہ ہو سب کا حساب ہوجائیگا اور اس کی سزا دی جائیگی اس لئے آپ کو کسی کا کفر رنجیدہ اور غمگین نہ کرے۔
Ayah 31:24

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان لوگوں کو تھوڑے دنوں سود مند رکھیں گے پھر ہم ان کو نا چار و مجبور کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے

24۔ ہم ان لوگوں کو تھوڑے دنوں سو د مند رکھیں گے پھر ہم ان کو نا چار و مجبور کر کے کشاں کشاں سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے ۔ یعنی دنیا کی زندگی میں ان منکروں کو تھوڑا فائدہ پہنچے گا اور یہ دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے پھر ان کو مضبوط و مجبورکر کے سخت عذاب یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے آگے اللہ تعالیٰ کی خالقیت کا منکروں کی زبان سے اعتراف کا ذکر فرمایا۔
Ayah 31:25

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ان کفار سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے بنایا ہے تو وہ لوگ ضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے آپ کہئے سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اصل بات یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگ اتنا بھی نہیں جانتے

25۔ اور اے پیغمبر اگر آپ ان دین حق کے منکروں سے دریافت فرمائیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے بنایا ہے اور کس نے پیدا کیا تو وہ لوگ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایئے الحمد للہ اصل بات یہ ہے کہ ان میں کہ اکثر لوگ اتنا بھی نہیں جانتے ۔ یعنی ایک بات تو تسلیم کرلی اور اس کا اعتراف کرلیا اس پر آپ الحمد للہ کہئے ۔ دوسری بات جو یہ نہیں مانتے وہ بالکل ہی ظاہر ہے کہ جو مخلوق اور مصنوع ہو وہ مستحق الوہیت نہیں ہوا کرتا یہ وصف خالقت تو اللہ تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی مخلوق کو اور اس کے مصنوع کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کرتے ہیں بلکہ اکثر تو ان میں کے ان باتوں کو جانتے ہی نہیں چونکہ دوسرا مقدمہ بالکل ظاہر تھا اس لئے الحمد للہ فرمایا کہ کفار پر الزام ثابت ہوگیا بعض تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ اس اعتراف سے کس طرح ان پر حجت قائم ہوگئی اور شرک کا بطلان ظاہر ہوگیا ۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے سب اللہ کی ملک ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے سب خوبیوں والا ہے

26۔ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے سب اللہ تعالیٰ کی ملک اور اسی کی مملوک ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تمام خوبیوں والا ہے۔ یہ دوسرے مقدمہ کی تائید اور تقریر ہے کہ مملوک مالک کی الوہیت میں کس طرح حصہ دار ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کا محتاج نہیں اور سب خوبیوں والا ہے آگے خوبیوں کا بیان ہے۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور جتنے درخت روئے زمین پر ہیں اگر ان سب کی قلمیں بن جائیں اور موجود سمندر کی سیاہی ہو اور اس سمندر کے علاوہ اس میں اور سات سمندر شامل ہوجائیں تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی ، بیشک اللہ تعالیٰ کمال قوت حکمت کا مالک ہے

27۔ اور جتنے درخت روئے زمین پر ہیں اگر ان سب کی قلمیں بن جائیں اور موجود ہ سمندر کی سیاہی ہو اور اس میں موجود سمندر کے بعد اس میں اور سات سمندر شامل ہوں تب بھی اللہ کی باتیں تمام اور ختم نہ ہوں بلا شبہ اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ کہتے ہیں آیت کا تعلق یہود کے بعض شبہات سے ہے کہ وہ توریت کے بعد یہ خیال کرتے تھے کہ اب کوئی مزید علم نہیں ہے۔ بہر حال ! آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات اور اس کی خوبیاں اس قدر بےحد و حساب ہیں کہ اگر تمام روئے زمین کے درختوں کی اقلام بنا لی جائیں اور موجود ہ سمندر کے ساتھ اور سات سمندر ملا کر ان کی سیاہی بنا لی جائے اور اللہ تعالیٰ کی باتیں اس کی صفات اور اس کے کلمات لکھے جائیں تو سیاہی خشک ہوجائے اور قلمیں گھس جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں اور بات بھی یہی ہے کہ محدود قوتوں سے لا محدود اور غیر متناہی و کمالات کہاں منضبط ہوسکتی ہیں وہ عزیز اور حکیم ہے ۔ من بعدہ کا یہ مطلب بھی ہے کہ بحر محیط کی سیاہی ختم ہوجانے کے بعد اور سات سمندروں کی سیاہی بنائی جائے۔ لا احصی ثناء ً علیک انت کما اثنیت علی نفسک جل جلالہٗ ما اعظم شانہ ٗ
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد پھر جلانا بس ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا اور جلانا یقینا اللہ بڑا سننے والا دیکھنے والا ہے

28۔ تم سب کا ابتدائی پیدا کرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اور زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد جلانا یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ سب کا زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی کو پیدا کرنا اور ایک آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کرلینا نہ سب کو پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے میں کچھ تعب اور نہ ایک کو پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے میں کوئی آسانی اور سہولت ! حضرت حق کے ارادے کا جہاں تعلق ہوا اور چیز موجود ہوئی ہر ایک کی سنتا اور ہر ایک کو دیکھتا ہے۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا اور نیز یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ان تمام کاموں سے با خبر ہے جو تم کرتے ہو

29۔ اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں اور تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے اور مسخرکر رکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا اور نیز یہ بات کہ جو کام تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان تمام کاموں سے با خبر ہے۔ یعنی رات کے اجزاء کو دن بنا دیتا ہے اور دن کے اجزاء کو رات میں داخل کردیتا ہے جس سے سردی اور گرمی ہوتی ہے ، سورج اور چاند دونوں مسخر ہیں اور کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی تسخیر اور ان کا چلنا ایک مقررہ وقت رہے گا یہ دلیل بھی توحید کی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے الی اجل مسمی کی تفسیر بیان کی ۔ بہر حال مطلب ایک ہی ہے کہ جب وہ ٹھہرا وعدہ آجائے گا تو یہ تمام نظام ختم ہوجائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ سب تصرفات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ ہی کی ذات حق ہے اور جن چیزوں کی یہ مشرک عبادت کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہیں اور اللہ ہی سب سے عالی شان اور سب سے بڑا ہے

30۔ عالم علوی کے یہ سب تصرفات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ثابت اور حق ہے اور جن چیزوں کی یہ مشرک عبادت کرتے ہیں اور جن کو پکارتے ہیں وہ سراسر باطل اور لچر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔ یعنی وہی حق اور واجب الوجود ہے اور جن چیزوں کی اس کی الوہیت میں شریک کیا جا رہا ہے وہ سراسر پوچ اور لچر ہیں اور ان تمام تصرفات میں اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی سب سے بلند اور بڑا ہے آگے اور اس کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں مذکور ہیں۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا اے مخاطب تو نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ سمندر میں جہاز اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے چلتے ہیں تا کہ وہ تم کو کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں مشاہدہ کرائے بیشک اس امر مذکور میں ہر صبر کرنیوالے شکر بجانیوالے کیلئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں

31۔ اے مخاطب کیا تو نے توحید کی اس دلیل پر غور نہیں کیا کہ سمندر میں اللہ تعالیٰ ہی کی نعمت اور اس کے فضل ہی سے جہاز چلتے ہیں تا کہ وہ تم کو کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں مشاہدہ کرائے یقینا اس امر مذکور یعنی جہاز رانی اور بحری سفر میں ہر سفر کرنیوالے شکر بجا لانے والے کیلئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ۔ یعنی یہ بات غور کرنے کی ہے کہ مسافروں سے اور مال سے بھرے ہوئے جہاز کس طرح سمندروں کو چیرتے پھاڑتے چلے جاتے ہیں اور تم اللہ کے فضل اور اس کے احسانات سے کس طرح سود مند ہوتے ہو ۔ یہ اس کی قدر ت کی کتنی بڑی نشانی ہے اس نے اس لئے یہ احسان کیا ہے تا کہ تم کو اپنی توحید اور اپنی قدرت کے دلائل سے روشناس کرائے ۔ صبر کرنیوالوں اور شکر بجا لانے والوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کہ جب جہاز کے سفر میں پانی کی طغیانی سے کچھ تکلیف ہوتی ہے تو صبرو تحمل سے کام لیتے ہیں اور جب کنارے پر مع الخیر پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں ۔ آگے کفر ان نعمت کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں پر دریا کی موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وہ لوگ خالص خدا ہی پر اعتقاد رکھ کر خدا کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب خدا ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو بعض ان میں سے راہ راست پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں کا بس وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور نا سپاس ہیں

32۔ اور جب ان لوگوں پر دریا کی موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں اور بادلوں کی طرح ان کو ڈھانک لیتی ہیں تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ ہی پر خالص اعتقاد رکھ کر اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہیں اور اسی کی نری بندگی کا اعتقاد کر کے اس کو پکارتے ہیں ۔ پھر جب وہ اللہ تعالیٰ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو کوئی ان میں سے راہ راست پر قائم رہتا اور بیچ کی چال اختیار کرلیتا ہے اور کوئی عہد شکنی کرتا ہے اور ہماری نشانیوں کا بس وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو عہد شکن قول کے جھوٹے اور نا سپاس ہیں ۔ یعنی سمندر میں جب طوفان آجائے اور موج بدلی کی طرح سائبان بن کر گھیرے ڈالے لو اس وقت اللہ تعالیٰ کی توحید خالص کا اعتقاد کر کے خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں پھر جب ان کو نجات مل جاتی ہے اور خشکی پر آجاتے ہیں تو کوئی کوئی تو اپنے قول وقرار پر قائم رہتے ہوئے اعتدال کی راہ یعنی توحید پر قائم رہتا ہے اور کوئی کوئی قول وقرار سے پھرجاتا ہے اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کیا کرتے مگر غدار عہد شکن قول کے جھوٹے کفران نعمت کے خوگر ایسا کیا کرتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی ہے بیچ کی چال پر یعنی وہ چال جو خوف کے وقت تھی سو وہ تو کسی کو نہیں رہتی مگر نرا بھول بھی نہ جاوے ایسے بھی کم نہیں تو اکثر منکر ہوتے ہیں ، قدرت سے اپنی تدبیر پر رکھتے ہیں یا کسی ارواح کی مدد پر ۔ 12 خلاصہ۔ یہ ہے کہ خوف کی حالت وت باقی نہیں رہتی البتہ کوئی عہد کو یاد رکھ کر توحید پر قائم رہتا ہے اور اکثر عذر کرتے ہیں کشتی میں جو عہد کیا تھا اس کو توڑ دیا یہ مطلب ختار کا اور کنارے پر پہنچ کر شکر بجا لانا تھا اسکی بجائے کفر کیا یہ مطلب ہے کفور کا ۔ یہاں چونکہ مقتصد ختار کے مقابلے میں آیا ہے اس لئے بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ توحید کا کم و بیش پابند رہتا ہے اور کفر کی طرف نہیں لوٹتا ۔ اب آگے کشتی کے خوف سے زیادہ ایک خوف کا دن یاد دلاتا ہے۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا ہی اپنے باپ کے ذرہ برابر کام آسکے گا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے سو تم کو دنیوی زندگی دھوکے میں مبتلا نہ کر دے اور تم کو خدا کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں نہ ڈال دے

33۔ اے افراد نوع انسانی اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا ہی اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچا ہے سو تم کو کہیں دنیوی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور دھوکے میں مبتلا نہ کردے اور تم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس خوفناک دن سے ڈرتے رہو جس دن بیٹے کی طرف سے کوئی مطالبہ اس کا باپ نہ پورا کرسکے اور باپ پر اگر کوئی مطالبہ ہو تو اس کو بیٹا نہ بھگتا سکے بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو۔ لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ اس افراتفری میں کوئی کسی کا نہ ہوگا اور جب قریبی باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آئے تو پوتے پروتے اور دادا پردادا کا تو کہنا ہی کیا ہے پھر یہ بھی یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے یہ دن ضرور آ کر رہے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیوی زندگی تم کو کسی فریب اور دھوکے میں مبتلا کر دے اور تم سمجھ بیٹھو کہ یہ دنیوی آرام و عیش یوں ہی جاری رہیں گے یا جو یہاں مزے میں ہیں وہاں بھی مزے میں ہوں گے اور تم کو وہ دھوکے باز بھی دھوکا نہ دیدے اور فریب میں مبتلا نہ کر دے جو تمہارا پرانا دشمن ہے یعنی شیطان ، یا طویل اور المبی امید ۔ ( واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شیطان دھوکا دے کہ اللہ غفور الرحیم ہے اور دنیا کا جینا بہکا دے کہ جسکو یہاں بھلا ہے اس کو وہاں بھی بھلادے۔ 12 اب آگے حارث یا وارث بن عمر اور ایک محارب کے چند سوالات کا جواب ہے۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک قیامت کی خبر اللہ ہی کو ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور جو کچھ حاملہ کے رحم میں ہے اس کو بھی وہی جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ خود کل کیا کرے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس سر زمین پر مریگا بیشک اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا با خبر ہے

34۔ بلاش بہ قیامت کی خبر اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور جو کچھ رحم میں ہے اس کو بھی وہی جانتا ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ خود کل کیا کرے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس سر زمین پر مرے گا ، بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا با خبر ہے۔ حدیث میں ان آیات کو مفاتیج الغیب فرمایا ہے ان آیات میں علم غیب کے اختصاص کا ذکر ہے ، قیامت کا علم کہ وہ کب آئے گی یا بارش کہاں ہوگی اور کتنی ہوگی اور کس وقت ہوگی ۔ حاملہ عورت کے رحم میں کیا ہے اور ارحام میں کیا ہے خون ہے یا رسولی ہے یا کہلڑی ہے یا بیٹا ہے یا بیٹی ہے اگر اندازا ً کسی کو معلوم ہوجائے یا کی آلے سے پتہ چل جائے تو یہ علم غیب نہیں ہے اسی طرح کل کام باوجود پروگرام بنانے کے بسا اوقات ملتوی اور غلط ہوجاتے ہیں اور کسی سر زمین پر مرنا ہے ان سب امور کا یہی حالت ہے۔ اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مغیبات ان پانچ باتوں میں منحصر ہیں چونکہ بعض محاربین نے یہ باتیں آپ ؐ سے دریافت کی تھیں اور آپ نے انکار کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ پس اکوان غیبہ کے علم کلی کی طرف اشارہ کرنا ہے ۔ حضر مقصود نہیں ہے ، اکوان غیبہ کا علم کلی اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے اور بجز اللہ تعالیٰ کے علم کل کسی کو نہیں ۔ تم تفسیر سورة القمان ۔ وللہ الحمد والفضل والنعمۃ