Ayah 30:22۔ اہل روم مغلوم ہوگئے ، یعنی رومی فارس سے کمزور پڑگئے اور دب گئے اور ان کو شکست ہوگئی۔
Ayah 30:33۔ اس ملک میں جو مجاز کے متصل ہے اور ملک عرب سے ملا ہوا ہے اور قریب ہے اور وہ اہل روم اپنے اس مغلوب اور مفتوح ہوجانے کے بعد عنقریب پھر غلبہ حاصل کریں گے اور غالب آجائیں گے۔
Ayah 30:44۔ یہ غلبہ چند برسوں میں حاصل کریں گے یعنی تین سال سے لیکرنو سال کے اندر اندر اللہ تعالیٰ ہی کو پہلے بھی اختیار ہے اور بعد اسی کے ہاتھ اختیار ہے اور اس دن مسلمان اس پیشین گوئی کے پورا ہونے سے بہت خوش ہوں گے۔
Ayah 30:55۔ غلبہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوتا ہے وہ جس کی چاہتا ہے مد د کرتا ہے اور وہی ہے بڑا زبردست نہایت رحم والا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ دو بڑی حکومتیں تھیں ایک فارم اور ایک روم یہاں کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا اور روم کے بادشاہ کا قیصر۔
قیصر کی حکومت اہل کتاب کے قبضے میں تھی اور کسریٰ یعنی فارس کی حکومت زردشتی حکومت کہلاتی تھی جو پہلے تو شاید کسی پیغمبر کو مانتی تھی پھر بگڑ کر آتش پرست ہوگئی تھی اور مجوس کی حکومت کہلاتی تھی ان دونوں حکومتوں میں باہمی جنگ بھی ہوجایا کرتی تھی اور پرانے زمانے سے دونوں حکومتوں میں عداوت چلی آتی تھی اور اس عداوت کا مظاہر ہ بھی ہوتا رہتا تھا۔
جب ملک عرب میں نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی اور اسلام کا ظہور ہوا تو شاید آپ کی بعثت کو پانچواں یا نواں سال تھا علی اختلاف الروایات تو ان دونوں حکومتوں میں پھر باہمی چپقلش ہوگئی اب چوں کہ عرب میں لوگ اسلام قبو ل کرچکے تھے اور قدرتی طور پر مسلمانوں کی ہمدردی اہل کتاب کے ساتھ اور کفارعرب کی ہمدردی آتش پرستوں کے ساتھ قائم ہوگئی۔
جب یہ چپقلش ہوئی تو شاہ فارس نے شہر یارکو اور فرخان کو جو پرویزے بڑے معتمد تھے ان دونوں کو ایک جرار لشکر دیکر بھیجا اور رومیوں پر حملہ کردیا یہ حملہ شرق اردن پر یا فلسطین پر ہوا یا اذرعات اور بصری کے مابین ہوا۔
بہر حال ! ان علاقوں پر کیا جو قیصر کے قبضے میں تھے رومی شاید تیار نہ تھے ادھر شہر یار اور فرخان کا حملہ بہت سخت تھا رومی بھاگ نکلے اور روم کا بہت سا علاقہ اہل فارس کے قبضے میں آگیا ۔ یہ خبر جب مکہ میں پہنچی تو منکرین مکہ نے اس خبر پر مسلمانوں کو طعنہ دینا شروع کیا کہ جس طرح رومیوں کو پرویز کی فوجوں نے شکست دی ہے اسی طرح ہم تم پر ایک دن غلبہ حاصل کریں گے اور مسلمان اس خبر سے فطرتا ًغمگین ہوئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور پیشین گوئی کی گئی کہ اس وقت رومی مغلوب ہوگئے لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد پھر اہل روم فارس پر غلبہ حاصل کریں گے ، حالانکہ جس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ رومی پنپ جائیں گے اور پرویز کو ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور جس طرح آج مشرک بغلیں بجا رہے ہیں اسی طرح اس دن مسلمان خوش ہو رہے ہوں گے۔
ادنی الارض سے مراد علاقہ ہائے جنگ کا ملک عرب سے قریب ہونا ہے۔
للہ الامر کا مطلب یہ ہے کہ رومیوں کے مغلوب ہونے کے وقت بھی اختیار اللہ ہی کے پاس تھا اور مغلوب ہونے کے بعد بھی اختیار اللہ ہی کے ہاتھ ہے ۔ یعنی ہر حال میں اختیار اللہ ہی کو ہے خواہ کسریٰ کے غلبہ سے پہلے یا غلبہ کے وقت یا غلبہ کے بعد۔
فی بضع سنین کا مطلب یہ ہے کہ تین سال سے لیکر نو سال کے اندر اندر یہ غلبہ حاصل ہوجائے گا ۔ اس پر صدیق اکبر ؓ نے مشرکین سے کہا کہ پرویز کا یہ غلبہ عارضی ہے تین سال کے اندر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ ابی بن خلف حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اس بات پر بہت بگڑا اور کہنے لگا غالب ہونے والا مغلوب ہرگز نہیں ہوگا اس پر شرط کرنے کو تیارہوں ۔ حضرت صدیق ؓ بھی تیار ہوگئے اور دس دس اونٹوں پر شرط ہوگئی اگر تین سال میں رومی غالب نہ آئے تو صدیق دس اونٹ ابی بن خلف کردیں گے اور اگر غالب آگئے تو ابی بن خلف دس اونٹ حضرت صدیق ؓ کو دے گا ۔ جب حضرت صدیق ؓ نے یہ واقع نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدیق تم نے تین سال کی شرط کیوں لگائی۔
بضع کا لفظ تو تین سے لیکر نو تک استعمال ہوتا ہے تم شرط کی مدت بدلو اور اونٹوں کی تعداد بڑھادو چناچہ حضرت صدیق ؓ ابی بن خلف کے پاس تشریف لائے اور شرط کی مدت بڑھا دی اور بجائے دس اونٹوں کے سو اونٹوں کی شرط مقرر کی گئی اس وقت شاید ایسی شرط جائز ہوگی۔ اس شرط کے بعد حسن اتفاق سے جس سال بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ان ہی دنوں میں رومیوں کو کسریٰ پر غلبہ حاصل ہوا اور رومیوں نے پوری تیاری سے حملہ کیا ۔ حضرت صدیق ؓ کو سو اونٹ ابی بن خلف نے شرط کے دیئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ کے فرمانے سے خیرات کردیئے اور سو کے سو اونٹ غرباء پر تقسیم کردیئے ، شاید اسی پر فرمایا ۔ ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ ۔
بعض حضرات نے جنگ بدر کی خوشی سے تفسیر کی اور بعض دونوں خوشیاں بتاتے ہیں ۔ بہر حال ! اللہ تعالیٰ کی مدد ہر صورت میں شامل حال تھی ان کی مدد کے بغیر نہ رومیوں کو فتح حاصل ہوسکتی تھی نہ مسلمانوں کو بدر میں فتح نصیب ہوسکتی تھی ، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے اور وہ بڑا زبردست اور بڑی مہربان کرنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں روم اور فارس کے بادشاہ ملک کی سرحد پر لڑتے تھے عرب سے لگتی زمین پر یعنی عراق پر کافر مکہ میں چاہتے کہ فارس جیتے اور مسلمان چاہتے کہ روم اہل کتاب کے واسطے خبریں جھوٹی اڑاتی تھیں حق تعالیٰ نے نازل فرمایا کہ اب تو روم دب گئے پر کئی برس میں دے غالب ہوں گے دس برس سے کم میں اسی طرح واقع ہوا ۔ 12
پھر فرماتے ہیں کئی برس پیچھے پھر دونوں میں مقابلہ ہوا تو روم والے غالب ہوئے اور یہ خبرعرب میں پہنچی جس دن مسلمانوں کی جنگ بدر فتح ہوئی اور اس کی خوشی تھی ۔ 12
Ayah 30:66۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ۔ یعنی وعدۂ الٰہی کے صدق کا یقین نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بغیر ظاہر اسباب خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے۔ 12
Ayah 30:77۔ یہ لوگ دنیوی زندگی کی ظاہری سطح اور حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے یہ لوگ بالکل ہی بیخبر ہیں ۔ یعنی دنیوی زندگی کے کاروبار تجارت اور کھیتی باڑی کو جانتے ہیں اور آخرت کی ان کی کچھ خبر نہیں ۔ لا یعلمون اور یعلمون میں منافات نہیں کیونکہ علم کی نفی ہے امور دین میں اور اثبات علم ہے امور دنیا میں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ظاہر دنیا میں جس کا غلبہ دیکھیں اللہ اسی سے خوش ہے۔ 12
Ayah 30:88۔ آگے ان کے غور و فکر نہ کرنے پر تنبیہ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے کیا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں کبھی یہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو نہیں پیدا کیا مگر کسی خاص حکمت اور مصلحت سیایک وقت مقررہ تک کے ہی پیدا کیا ہے اور بلا شبہ بہت سے آدمی تو اپنے پروردگار کی پیشی میں حاضرہونے کو مانت ہی نہیں اور پروردگار کے روبرو حاضر ہونیکے منکر ہیں ۔ یعنی بات اتنی مشکل نہیں یہی عالم اس عالم کے لئے دلیل راہ ہوسکتا ہے لیکن اپنے جی میں غور ہی نہیں کرتے اور چونکہ غور نہیں کرتے اس لئے عالم آخرت کے یقین سے محروم ہیں حالانکہ عالم آخرت پر عقلی اور نقلی دلائل و شواہد موجود ہیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر چیز کی ایک ابتداء اور ایک انتہاء ہے انسان حیوان درخت کی تو نظر آتی ہے آسمان میں ہر گردش کی ایک مدت ہے مہینے یا برس یا بارہ برس پر ختم ہوتی ہے جو ہر چیز میں صنعت ہے سو سارے جہان میں ہے اپنے وقت پر اس کو فنا ہے پھر یہ ابتداء انتہاء کھیل نہیں جو کچھ اس سے منظو رہے وہی آخرت میں نظر آئے گا ۔ 12
Ayah 30:99۔ کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں چلتے پھرتے تو دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا حال یہ تھا کہ وہ ان سے قوت میں بھی زیادہ تھے اور انہوں نے ان سے زیادہ زمین کو بویا جوتا بھی تھا اور جس قدر ان لوگوں نے سامان اور تعمیرات سے زمین کو آباد کر رکھا ہے انہوں نے ان سے کہیں زیادہ آباد کر رکھا تھا اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبرکھلی اور صاف نشانیاں لیکر آئے تھے پس اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان لوگوں پر ظلم اور زیادتی کرتا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔ یعنی تم سے پہلے ے منکرین بڑے قدر آور اور زورآور تھے کھیتی باڑی بھی خوب کرتے تھے درخت لگاتے تھے نہریں نکالتے تھے زمین کو انہوں نے مکانات بنا بنا کر خوب آباد کر رکھا تھا بڑا سامان رکھتے تھے۔ غرض ہر بات طاقت و قوت محنت اور کاشت اور شہروں کی آبادی وغیرہ میں تم سے بڑھے ہوئے تھے اور ان کے پا س ان کے رسول بڑے بڑے صاف دلائل اور معجزات لیکر آئے تھے لیکن انہوں نے رسولوں کی مخالفت کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا حضرت حق تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان پر ظلم و زیادتی کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بن رسول بھیجے اللہ نہ پکڑتا ۔ 12
Ayah 30:1010۔ آخر کار ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برا کیا تھا برا ہی ہوا اس سبب سے کہ ان لوگوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور وہ ان آیات کے ساتھ ٹھٹا کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں یعنی دلائل و احکام کا مذاق اڑایا کرتا تھے۔ یعنی برا کرنے والوں کا برا ہوا ان کی آخرت تباہ ہوئی ۔ اور عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک قوم کو جن باتوں پر سزا ملی سب کو وہی ملتی ہے سب کی فنا بھی ایک کی فنا سے سمجھو اور سب کی سزا بھی ایک کی سزا سے بوجھو۔ 12
Ayah 30:1111۔ آگے آخرت اور وہاں کی سزا جزا کا بیان ہے ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہی اعادہ فرمائے گا تمام خلق کا پھر تم سب کی بازگشت اسی کے حضور میں ہوگی ۔
Ayah 30:1212۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو اس دن مجرم لوگ مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔ ابلاس کے معنی ہیں مایوسی ، رسوائی ، حیرت ، مطلب یہ ہے کہ قیامت جب قائم ہوجائے گی تو آس توڑ دیں گے پہلے سے منکر تھے اب وہ چیز سامنے آجائے گی تو سوائے رسوائی اور مایوسی کے اور کیا ہوگا ۔
Ayah 30:1313۔ اور ان کے خود ساختہ اور بنائے ہوئے شرکاء میں سے کوئی بھی ان کی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور یہ لوگ اپنے ان خود ساختہ شرکاء سے خود ہی منکر ہوجائیں گے اور انکار کردیں گے ۔ یعنی جن کو اپنے زعم باطل میں اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے رکھا تھا ان میں سے کوئی ان کی سفارش کو نہ آئے گا تو یہ ان کی شرکت ہی سے انکار کردیں گے چناچہ یہ ان کی شریک فی الاولہیت کا قول کرتے تھے اس لئے اس دن قسمیں کھاکھاکر انکار کریں گے۔ واللہ ربنا ما کنا مشرکین ۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جن کو اللہ کا شریک بتاتے تھے۔ 12
Ayah 30:1414۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن سب لوگ متفرق اور جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ابرار اور فجازیا اہل جنت اور اہل جہنم الگ الگ ہوجائیں گے آگے اسی کی تفصیل ہے۔
Ayah 30:1515۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے تو وہ بہشت میں مسرور اور خوشحال ہو گے۔ یعنی ان کی خوب آئو بھگت ہوگی اور خاطر تواضع ہو رہی ہوگی ۔
Ayah 30:1616۔ اور جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کر رکھی تھی اور کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کی اور آخرت کے پیش آنے کی تکذیب کی تھی تو یہ لوگ عذاب میں گرفتارہوں گے اور عذاب میں حاضر کئے جائیں گے یعنی کفر کے خوگر رہے اور آیات الٰہی اور قیامت کے ملنے اور پیش آنے کے جھٹلاتے رہے تو یہ لوگ عذاب میں مجرموں کی طرح گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے۔
Ayah 30:1717۔ سو تم لوگ جب شام کرو اور جب صبح کرو تو اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور پاک اللہ کو یاد کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو یعنی ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی پاکی بیان کیا کرو اور سب سے بہتر اس کی یاد اور پاکی نماز میں ادا ہوتی ہے تو مطلب یہ ہے کہ صبح ، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کرو۔
Ayah 30:1818۔ اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی تعریف اور حمد وثناء ہوتی ہے اور تم سہ پہر اور دوپہر کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور اسی کی خوبی ہے آسمان اور زمین میں اور پچھلے وقت اور جب دوپہر ہو یعنی آسمان و زمین میں اسی کی حمد وثناء اور اسی کی تعریف کا چرچا ہے خواہ زبان حال سے ہو یا زبان قال سے ہو اور تم لوگ پچھلے پہر اور دوپہر یعنی ظہر اور عصر کی نماز پڑھا کرو ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے ان آیات سے نماز اوقات بتائے ہیں اور فرمایا ہے ان آیات سے پانچ وقت کی نماز ثابت ہوتی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پاک اللہ کو یاد کرو اور اس کیخوبی آسمان و زمین میں ہو رہی ہے ان چار وقتوں پر یاد کرو صبح کی نماز اور شام کی اس میں مغرب اور عشاء آچکیں اور پچھلے وقت عصر اور دوپہر ظہر۔ 12
Ayah 30:1919۔ وہ جاندارکو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے اور وہی زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم لوگ بھی مرنے کے بعد زمین سے نکالے جائو گے۔ یعنی انسان کے نطفے سے اور نطفے کو انسان سے جانور سے انڈے اور انڈے سے جانور کو مومن سے کافر کو کافر سے مومن کو اور جب زمین خشک ہوتی ہے تو پھر اس کو برسات میں زندہ کردیتا ہے اور زمین میں روئیدگی ہوجاتی ہے اور اسی طرح تم کو بھی مرنے کے بعد قبروں سے نکال کھڑا کرے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مٹی مردے سے جیتے جان دار۔ 12
Ayah 30:2020۔ اور اس کی حکمت وقدرت کی نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم یکا یک تھوڑے ہی دنوں میں انسان ہو جو طرف پھیلے ہوئے ہو ۔ یعنی مٹی سے مطلب یہ ہے کہ ایسے عناصر سے بنایا جن میں مٹی کے اجزا سب سے زیادہ ہیں آخر جو غذا کھائی جاتی ہے جس سے خون اور مادہ منویہ کی تولید ہوتی ہے وہ مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔
اور اس کی قدرت و حکمت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں اور جوڑے بنائے تا کہ تم ان سے آرام و اطمینان حاصل کرو اور تم کو ان سے آرام ملے اور اس نے تم میاں بیویوں کے مابین محبت اور ہمدردی پیدا کی اس بات میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے نشان ہائے قدرت کا ایک بڑا نشان ہے کہ اس نے نسل انسانی کی پیدائش اور افزائش کے لئے انسانی جنس سے جوڑا بنایا اور مرد کے لئے عورت کو پیدا کیا انسانیت کی بنا پر دونوں میں انس اور محبت ہوتی ہے اور مرد کو عورت سے راحت اور سکون میسر ہوتا ہے اس کی جانب سے مہربانی اور شفقت کا سلوک ہوتا ہے اور عورت کی طرف سے محبت ہوتی ہے جو فکر کرنیوالے اور سوچنے والے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی اس طریقہ تعلق میں اور دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت و شفقت میں بڑی نشانیاں نظر آتی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے درخت کی نسل ایک سے چلائی اور جانور کی دو سے پھر بعض جانور کا جوڑا مقرر نہیں اور بعضوں کا مقرر ہے انسان کو جوڑا مقرر ٹھہرایا اس میں نسل کے سوائے انسیت اور چین ہے اور پیار اور محبت تا جہاں کی بستی ہو جو کوئی جوڑا مقرر نہ کرے یعنی زنا کرے نکاح نہ کرے وہ انسان سے حیوان ہوا ۔ 12
Ayah 30:2121۔ اور اس کے نشان ہائے قدرت و حکمت سے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری بولیوں کا اور تمہاری رنگتوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بھی ہے بلا شبہ اس بات میں اور ان چیزوں میں جاننے والوں اور اہل دانش کے لئے بڑی نشانیاں اور بڑے پتے ہیں ۔ یعنی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا تمہاری بولیوں کا الگ الگ ہونا کہ ہندوستانی کو اہل عرب نہ سمجھیں اور عرب کی بولی یورپ میں نہ سمجھی جائے جاپان کی بولی انگلستان میں نہ سمجھی جائے۔ ایسا ہی رنگوں کا اختلاف کوئی کالا کوئی گورا ، کوئی سانوالا، ہر ایک کی رنگت خدا سے ایک کا ناک نقشہ الگ۔
یہ سب باتیں ایسی ہیں جن میں اہل علم اور اہل دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں اور ان امور میں بڑے پتے کی باتیں ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب انسان ایک ماں باپ سے بنائے ملا کر بسائے پھر جدا بولیاں کردیں ، ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک میں جیسے جانور۔ 12
Ayah 30:2222۔ اور اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے تمہارا رب اور دن میں سونا اور نیند سے راحت حاصل کرنا ہے اور تمہارا اللہ تعالیٰ فضل یعنی روزی کا تلاش کرنا ہے بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ رات میں زیادہ سوتے ہو دن کو کم قیولہ وغیرہ کرلیتے ہو اور رات دن کے اس سونے سے راحت حاصل کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی روزی تلاش کرتے ہو یعنی دن کو زیادہ عام طور سے اور رات کو کم ۔
بہر حا ل ! سونے کا بھی اختیار اور کمانے کا بھی اختیار چاہے رات میں سوئو دن میں کمائو یا دن میں سوئو رات میں کمائو ۔ غرض ! دن کا بھی شغل اور رات کا بھی شغل ، آرام کا بھی سامان ، یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کے دلائل ہیں اور ان دلائل سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو دلیل کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دو حالتیں بدلتی ہیں سو یا تو پھر کی طرح اور تلاش میں لگا تو ایسا ہوشیار کوئی نہیں ، اصل تورات ہے سونے کو اور دن تلاش کو پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں ۔ 12
فائدہ۔ نشانیاں ہیں سننے والوں کو اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں ۔ 12
Ayah 30:2323۔ اور اس کے نشان ہائے قدرت میں سے یہ بات ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید دلانے کو بجلی کی چمک دکھاتا ہے اور وہ آسمان کی جانب سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک ہوجانے کے بعد زندہ اور ترو تازہ کردیتا ہے ۔ بیشک اس امر مذکور میں ان لوگوں کیلئے قدرت خداوندی کی بڑی نشانیاں ہیں جو صحیح عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے بجلی کے گرنے کا خوف بھی ہوتا ہے اور بارش کے ہونے کی امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے اور پانی سے زمین کو اس کے مرجانے اور خشک ہوجانے کے بعد از سر نو زندگی عطا فرماتا ہے اور زندہ کردیتا ہے یعنی ترو تازہ ہوتی ہے اور نمو کی قوت پید ا ہوجاتی ہے ، ان باتوں میں دلائل میں اہل عقل کیلئے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب زمین مرنے کے بعد زندہ ہوتی ہے تو زمین سے بنا ہوا انسان بھی مرنے کے بعد زندہ ہوجائے گا ۔
Ayahs 30:24–2524۔ اور اس کے نشانات قدرت میں سے یہ بھی بات ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم اور ارادے سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو پکار کر زمین سے بلائے گا تو تم سب پکارتے ہی نکل پڑو گے۔ یعنی زمین و آسمان اسی کے ارادے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے اٹھانا چاہے گا تو تم کو آواز دے گا اور تم زمین سے نکل آئو گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کھڑا ہے اس میں تارے چلتے ہیں جس کی اور جگہ فرمایا پھرتے ہیں ۔ 12
Ayah 30:2626۔ اور جتنے انسان اور فرشتے آسمان و زمین میں موجود ہیں سب اس کے مملوک ہیں اور سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں ۔ یعنی جو ذی عقل مخلوق آسمان و زمین میں ہے سب اسی کی مملوک ہے مراد اس سے فرشتے اور ارواح طیبہ اور زمین میں انسان سب اللہ تعالیٰ کی مملوک ہیں اور سب اسی کے حکم کے تابع ہیں کوئی اختیاری اور کوئی اضطراری۔
Ayah 30:2727۔ اور وہی ہے جو ابتداء مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس پر بہت آسان ہے اور آسمان و زمین میں اس کی شان سب سے بلند اور بالا تر ہے اور وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی اول بار پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے جو سب کو تسلیم ہے اور دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا ۔
جیسا کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہے اور یہ بات یعنی ایک چیز کو ایک مرتبہ بنا کر اس کو دوبارہ بنا لینا مخاطبین کے اعتبار سے آسان اور سہل بھی ہے پھر دوسری زندگی سے کیوں انکار کرتے ہو اس کی کہاوت اور اس کی صفات اور اس کی شان سب سے بلند وبالا تر ہے اور وہ عزیز ہے حکیم ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آسمان کے لوگ نہ کھاویں نہ پیویں نہ حاجت بشری رکھیں سوائے بندگی کے کچھ کام نہیں اور زمین کے لوگ سب چیزیں آلو وہ اللہ کی صفت نہ ان سے ملے نہ ان سے اور وہ پاک ذات ہے۔ 12
Ayah 30:2828۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تم ہی میں سے اور تمہارے ہی احوال و حالات میں سے ایک عجیب مضمون اور عجیب کہاوت اور مثال بیان فرماتا ہے وہ یہ کہ کیا اس مال و متاع میں جو ہم نے تم کو دیا ہے اور عطا فرمایا ہے تمہارے وہ مملوک یعنی لونڈی اور غلام جن کے تم مالک ہو شریک ہیں کہ تم اور وہ مملوک اس مال و متاع کی شرکت میں دونوں برابر ہوں اور اختیارات میں دونوں مساوی ہوں اور تم ان سے اسی طرح اندیشہ کرتے ہو اور ڈرتے ہو جس طرح تم اپنوں سے ڈرتے ہو ہم اسی طرح اپنی توحید کے دلائل تفصیل کے ساتھ ان لوگوں کے لئے بیان کیا کرتے ہیں جو سمجھ سے کام لیتے ہیں اور صحیح عقل رکھتے ہیں ۔ یعنی شرک کی مذمت اور اثبات توحید کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تمہارے ہی حالات میں سے ایک عجیب مثال بیان کرتا ہے تا کہ تم اس کو سمجھو اور چونکہ یہ مضمون تمہاری حالت ہی پر چسپاں ہوتا ہے اس لئے اس کے سمجھنے میں آسانی ہوگی اس لئے اس پر غور کرو کہ ہم نے جو مال و اسباب تم کو دیا ہے خواہ وہ نقد ہو یا سامان تجارت وغیرہ ہو کیا تم کو یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ممالیک خواہ وہ غلام ہوں یا تمہاری باندیاں ہوں وہ تمہارے مال میں جو ہمارا ہی دیا ہوا ہے شریک ہوں اور مالکانہ حق ان کو بھی حاصل ہو ، جس طرح تم اپنے شریک اور سہیم سے ڈرتے ہو کہ اگر میں نے بیجا خرچ کیا تو میرا شریک مجھ سے حساب طلب کرے گا اور میرے بیچا خرچ پر اعتراض کرے گا اور رقم پوری کرنے کا مطالبہ کرے گا ۔ اسی طرح تم ان ممالیک سے بھی اندیشہ کرو ۔ انفسکم سے مراد شریک ہیں خواہ وہ اپنے عزیز ہوں یا کوئی دوسرا آزاد ہو ۔ بہرحال ! جب کوئی شریک فی المال ہوتا ہے تو ایک کو دوسرے کا لحاظ رکھنا ہی ہوتا ہے ، یہی حق تمہارے غلاموں کو بھی حاصل ہو ۔
ظاہر ہے کہ اس کے لئے کون آمادہ ہوسکتا ہے آج کل جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کی ہر وقت مذمت کی جاتی ہے اور کمیونزم کی تعریف کے پل باندھے جاتے ہیں آج بھی کوئی اس کیلئے تیار نہیں ہے حتیٰ کہ کمیونسٹ جو اس معاملہ میں کسی قدر آزاد ہیں وہ بھی دوسرے کو تصرف فی الاختیار کی براری پر آمادہ نہیں ہیں ضروریات زندگی کی تقسیم دوسری چیز ہے وہ بھی اس طرح کہ ہاتھ اٹھا کر سب کو دے دیں اور اپنے ماتحتوں میں مساوات قائم کردیں یہ اور بات ہے اور اپنی دولت اور حکومت میں دوسرے کا تصرف اور اختیار تسلیم کرلیں یہ اور بات ہے اس کے لئے تو آج کی دنیا بھی تیار نہیں ہے چہ جائے کہ اب سے چودہ سو صدی کے پہلے کی دنیا کو تو اسکا تصور بھی نہ تھا کہ اپنی دولت اور مال و اسباب میں کوئی دوسرا ہمارا شریک و سبہیم بھی ہوسکتا ہے اور ہمارے لونڈی غلام جو ہمارے مملوک ہیں وہ ہمارے مال میں تصرف کے اختیارات حاصل کر کے ہمارے مساوی ہوجائیں اور ہم کو ان کو جواب دہی کا ڈر اور خوف ہو اس شرکت کے لئے کون تیار ہوسکتا تھا پھر اپنے مال میں جو خدا کا دیا ہوا مال ہے اپنے ہی جیسے انسان کو کہ جس میں ایک اضافی فرق ہے ورنہ وہ بھی تم ہی جیسا آدمی ہے تم آقا ہو وہ غلام ہے تو اپنے جیسے انسان کو شریک کرنے اور مساوی بنانے پر تیار نہیں اور اللہ تعالیٰ جو تمام مخلوق کا خالق ہے اور اس میں اپنی مخلوق کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں اس کی مخلوق کو حضرت حق جل مجدہٗ کی عبادت میں شریک کررہے ہو اور معبود برحق کی عبادت میں اس کی مخلوق کو جس میں بعض تمہارے ہی ہاتھ کے بنائے ہوئے بت میں اس معبود اور خالق کی عبادت میں برابر کا شریک سمجھتے ہو تم اپنے غلاموں کی شرکت فی الامور پر آمادہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق جو اس کی مملوک اور غلام ہے اس کی غلاموں کو اس کی عبادت میں شریک کر رہے ہو جس طرح ہم نے یہ دلیل توحید کی بیان کی ہے اسی طرح ہم دوسرے دلائل بھی تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھ سے کام لیں اور شرک سے باز آجائیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم جھوٹے مالک ہو لونڈی غلام کے سب روزی کھاتے ہو اللہ کی پھر بھی ساجھی نہیں ہوسکتے تمہارے جیسے اپنے بھائی بند اور تم کو کچھ پروا نہیں ان کی مرضی لیکر کام کرو تو وہ سچامالک کیا پروا رکھے اپنے غلام کی جس کو اس کا ساجھی گنتے ہو۔ 12
Ayah 30:2929۔ سمجھانے کے باوجود یہ لوگ حق کی پیروی نہیں کرتے بلکہ یہ ظالم اور ناانصاف لوگ بغیر کسی صحیح دلیل کے اپنی نفسانی خواہشات اور خیالات کی پیروی کرتے ہیں سو جس کو اللہ تعالیٰ بےرا ہ رکھے اس کو کون راہ دکھا سکتا ہے اور کون صحیح راہ پر لگا سکتا ہے اور ایسے گمراہوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ۔
یعنی یہ لوگ ان دلائل کا قاطعہ کو نہیں مانتے بلکہ یہ ظالم اپنی نفسانی خواہشات پر بدون کسی صحیح دلیل کے چلتے ہیں بدی پر چونکہ جم چکے ہیں اور ظلم کے اور شرک کے خوگر ہوچکے ہیں ، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کا ہاتھ ان کے سروں پر سے اٹھا لیا ہے۔ اسی کو فرمایا من اضل اللہ اور اللہ تعالیٰ جب کسی نالائق پر سے اپنادست ہدایت اٹھا لے تو پھر اس کو کون راہ پر لگا سکتا ہے اور عذاب کے وقت ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ۔
Ayah 30:3030۔ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وساطت سے ہر ایک مخاطب کو خطاب فرماتے ہیں سوائے مخاطب تو سب طرف سے یکسو ہوکر اپنا رخ اس دین حق کی طرف رکھ اور تم سب لوگ اللہ کی دی ہوئی اس صلاحیت و قابلیت کی پیروی کرو جس قابلیت و صلاحیت پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اس میں تبدیلی نہیں یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔
یعنی جو گمراہی میں مبتلا رہنا چاہتا ہے اس کو نظر انداز کرو اور تم سب طرف سے اور تمام ادیان باطلہ سے منہ موڑ کر اپنا رخ دین حق کی جانب کرلو اور صرف دین حق کے ہو کر رہو اور اسی صلاحیت کی اتباع کرو جس صلاحیت اور جبلت پر اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تراشا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر بچہ کی طبیعت میں ہدایت کا ایک ایسامادہ رکھا ہے کہ اگر اس سے کام لیا جائے تو دین حق کی روشنی میسر آسکتی ہے ، ہر شخص کی فطرت میں ایسی استعداد اور صلاحیت کی روشنی ماند اور مدھم پڑجاتی ہے اسکو احادیث صحیحہ میں فرمایا ہے۔
کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام یعنی ہر پیدا شدہ بچہ فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے اگر عارضی خارجی اثرات سے اس کو محفوظ رکھا جائے تو اس کی طبیعت خود اس کی رہنمائی کرتی ہے اور اس کا میلان طبع اس کو دین حق کی طرف مائل کردیتا ہے لیکن کبھی ماں باپ اس کی گمراہی کا سبب ہوجاتے ہیں اور کبھی شیاطین اس کو اغواکر لیتے ہیں تم اللہ کی ساخت اور اس کے تراشے کو تبدیل نہ کرو بلکہ اسی فطرت سلیمہ کی اتباع کرو۔
یہی وجہ ہے کہ جس ساخت پر اللہ تعالیٰ نے تراشا ہے اگر انسان خارجی اثرات سے خالی الذہن ہوکر غور کرتا ہے تو نہ صراس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچتا ہے بلکہ وہ دین حق کی ہر اچھی بات کو اچھا کہتا ہے یہی وہ فطری استعداد ہے جسکی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے۔
اسی کو فرمایا کہ اس میں تبدیلی نہیں یا اس کو بدلنا نہیں چاہئے اور اسی استعداد کی روشنی میں صحیح راستے کی تلاش کرنا چاہئے ، پس دین حق کا صحیح اور سیدھا راستہ یہی ہے اور امر حق کی تلاش ہی صحیح اور سیدھا دین ہے مگر اکثرلوگ اس بات کو جانتے نہیں اور اس طبعی روشنی سے کام نہیں لیتے اور تدبیر نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ سب کا حاکم مالک سب سے نرالا کوئی اس کے برابر نہیں کسی کا زور اس پر نہیں یہ باتیں جانتے ہیں اس پر چلناچاہئے ، ایسا ہی کسی کی جان و مال کو ستانا نا موس پر عیب لگانا ہر کوئی برا جانتا ہے ایسا ہی اللہ کو یاد کرنا غریب پر ترس کھاناحق پورادینا دغا نہ کرنی ہر کوئی اچھی جانتا ہے۔ اس پر چلنا وہی دین سچا ہے ان چیزوں کا بندوست پیغمبرں کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے سکھا دیا۔ 12
Ayah 30:3131۔ تم سب اللہ کی طرف رجوع ہو کر فطرت الٰہی یعنی خداداد صلاحیت کی پیروی کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور نماز کی پابندی کرو اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر صحیح فطرت کی پیروی کرو اور دین فطرت کی مخالفت کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہو اور دین حق قبول کر کے نماز کی پابندی کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اصل دین پکڑو اس کی طرف رجوع ہو کر اگر صلاح دنیا کے واسطے یہ کام کئے تو دین درست نہ ہو ۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ دین کا کام دین ہی کی غرض سے ہو دین کے کام میں دنیا کی غرض شامل نہ کرو دنیا کو مقدم رکھو گے تو دین مجروح ہوجائے گا اس کا علاج انا بت الی اللہ اور نماز ہے اس لئے ان کی توجہ دلائی ۔
Ayah 30:3232۔ یہ اہل شرک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور خود فرقہ فرقہ ہوگئے ہر فرقہ اس طریقہ پر ناراں ہے جس کا وہ پابند ہے اور جو اس کے پاس ہے اسی پر ریچھ رہا ہے۔ یعنی دین حق تو ایک ہی ہے اور باطل بہت ہی ہیں انہوں نے دین حق کو چھوڑ دیا اور باطل کی مختلف راہیں اختیار کرلیں ہر فرقہ کسی ایک باطل کو اختیار کر بیٹھا۔
اب لطف یہ ہے کہ جو باطل اس کے پاس ہے اور جس کا وہ پابند ہے اسی پر ریچھ رہا ہے اور نازاں ہے اب یہ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اگر دین حق پر رہتے تو تم ایک ہی گروہ رہتے۔
Ayah 30:3333۔ آگے اسی صحیح فطرت کا اثر بتاتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور جب لوگوں کو کوئی سختی اور تکلف پہنچتی ہے تو اپنے حقیقی رب اور پروردگار کی طرف رجوع ہوکر اس کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے کچھ رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھا دیتا ہے تب ہی ان لوگوں میں سے ایک فریق اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ یعنی جب کبھی لوگوں پر کوئی مصیبت آتی ہے خواہ وہ قحط ہو یا مرض ہو یا کوئی بلا اور وبا ہو۔ یا سیلاب اور طوفان ہو تو معبود حقیقی کی طرف رجوع ہو کر اور متوجہ ہوکر اسی کو پکارتے ہیں اور یہی وہ فطرت الٰہی ہے جس پر ہر انسان پیدا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مہر کا مزہ چکھا دیتا ہے یعنی وہ مصیبت دورہو جاتی ہے اور ان کو نجات اور خلاصی مل جاتی ہے تب ہی ایک فریق شرک کی خیانت میں مبتلا ہوجاتا ہے یعنی بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بت پرستی کرنے لگتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسے بھلے کام ہر انسان کی جبلت پہچانتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر ایک کی جبلت جانتی ہے ڈر کے وقت کھل جاتا ہے۔ 12 یعنی یہ تو معلوم ہوا کہ بھلے کام کی طرف رہنمائی کرنیوالی کوئی طاقت طبیعت انسانی میں موجود ہے پھر اسی طاقت سے روشنی کیوں نہیں حاصل کرتے۔
Ayah 30:3434۔ جس کا انجام اور حاصل یہ ہوتا ہے کہ جو احسان ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے اور جو آرام ان کو دیا ہے اس کی نا شکری اور کفران نعمت کریں سو اچھا چند روز اور فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو سب حال معلوم ہوجائے گا ۔ یعنی اس کا ماحصل یہی ہے کہ کفران نعمت ان نعمتوں پر جو ہم نے عطا کی ہیں یعنی مصیبت لے گئے راحت عنایت فرما دی ۔ سو چند دن اس آرام و عیش کا اور فائدہ اٹھالو مرنے کے بعد عذاب کے وقت سب معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 30:3535۔ کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند نازل کی ہے وہ سند خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کو ان سے کہتی ہے۔ یعنی کوئی کتاب ان پر ایسی نازل کی ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا کرو اور کسی کو اس کا شریک ٹھہرائو ، مطلب یہ ہے کہ شرک پر ان کے پاس کوئی دلیل نقلی بھی نہیں اور عقل صحیح تو مانتی ہی نہیں جب ہی تو مصیبت میں خدا ہی پکارتے ہیں جب شرک کے لئے نہ دلیل عقلی نہ نقلی تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک باطل ہوا ۔
Ayah 30:3636۔ اور ہم جب لوگوں کو اپنی نعمت سے لطف اندوزکر دیتے ہیں اور اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر نازاں ہوجاتے ہیں اور ریجھ جاتے ہیں اور اگر ان کے ان اعمال بد کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ پہلے کرچکے ہیں کوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے تو بس وہ لوگ ناامید ہوجاتے ہیں اور آس توڑ بیٹھتے ہیں ۔ یعنی یہ آیت بھی سابقہ مضمون واذا مس الناس کا تتمہ ہے مطلب یہ ہے کہ جب ہم اپنی رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھادیتے ہیں تو لوگ اترا جاتے ہیں اور ہماری نافرمانی پر کمر برستہ ہوجاتے ہیں اور اگر سابقہ بد اعمالی کے بدلے میں جو ان کے ہاتھوں ہوچکی ہے کوئی برائی ان کو پہنچ جاتی ہے تو نا تامید ہوجاتے ہیں اور آس توڑ دیتے ہیں۔
یعنی عنایت کریں تو یہ غفلت اور فرح میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر شرک کرتے ہیں اور فرمان بن جاتے ہیں اور اگر ان کے سابقہ اعمال بد کی پاداش میں کوئی مصیبت آپڑے تو نا امیدہو جائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں کہ فضل کے موقعہ پر بھی اس کے ہو ک رہیں اور پاداش کے موقع پر بھی اس سے التجا کریں ان کو تعلق مع اللہ حاصل ہی نہیں ظاہریہ ہے کہ الناس سے مراد کافر ہیں ورنہ مسلمان کی یہ شان کہاں ۔
؎ زندہ کنی عطائے تو در بکشی لقائے تو ہر چہ کنی رضائے تو دل شدہ مبتلائے تو
ومن احسن دینا ً ممن اسلم وجھہ اللہ
Ayah 30:3737۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں اور کیا یہ لوگ نہیں دیکھ چکے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو کشادہ اور فراخ کردیتا ہے اور پھیلا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے روزی پنی تلی دیتا ہے اور گھٹا دیتا ہے بیشک اس روزی کی کمی بیشی میں ان لوگوں کے لئے توحید کے بڑے دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں ۔ اس بات کا ان کو بھی اعتراف تھا کہ روزی کا گھٹانا بڑھانا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار ہے ، اسی لئے فرمایا کہ جب روزی اس کے قبضے میں ہے سو استحقاق عبودیت بھی اسی کیلئے ہے اہل ایمان تو اس کو سمجھتے ہی ہیں دوسرے بھی اگر سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس کو چاہے ماپ دے روزی جس کو چاہے پھیلادے۔ 12 یعنی جب چیز قضائے الٰہی کے ماتحت ہے تو امساک اور بخل سے پرہیز کرو بلکہ ۔
Ayah 30:3838۔ اے مخاطب ! قرابت دار کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین اور مسافرکو بھی اس کا حق دیا کرو اور ہر ایک مستحق کا حق ادا کرنا ان لوگوں کے لئے بہت بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے طلب گار ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ یعنی جب ہر شخص کا رزق مقرر ہے تو بخل کرنا نہیں چاہئے بلکہ ہر شخص کو اسکے حق سے بہرہ مند کرنا چاہئے یہ ان لوگوں کے لئے جن کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی رضا ہے بہت بہتر ہے کہ اہل قرابت اور مسکین و مسافر کی خبر گیری کیا کریں اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہی قیامت میں اور دنیا میں فلاح پانے والے ہیں۔
Ayah 30:3939۔ اور جو مال تم بڑھانے کو اس لئے دو گے کہ وہ لوگوں کے مال میں ملکر زیادہ ہوجائے اور بڑھ کر واپس آئے مثلا ً سود اور بیاج کے لئے یا نوتہ اور سلامی وغیرہ تو اس دینے سے یہ مال اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھا کرتا اور جو صدقہ تم محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ارادہ سے دیتے ہو اور مقصد محض اللہ تعالیٰ ذات اور اس کی خوشنودی ہوتی ہے جو لوگ ایسا کرتے ہیں تو وہی اپنا مال اور اپنااجر وثواب بڑھانے والے ہیں ۔ یعنی دنیوی رسوم میں جو لوگ اپنا مال اس توقع پر خرچ کرتے ہیں کہ ہماری رقم بڑھ کر آئے گی خواہ وہ سود کے لئے رقم لگائیں خواہ سلامی وغیرہ میں دیں یا برادریوں میں نوتہ کی رقم ہو اور اسی قسم کے لین دین تو یہ رقم اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتی اور اس میں اضافہ نہیں ہوتا ۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو صدقہ بڑھتا ہے خواہ وہ صدقات وجبہ ہوں یا نافلہ ہوں اور صدقہ میں بھی محض اللہ کی ذات اور اس کی خوشنودی مقصود ہو تو جو لوگ اس پاک ارادے سے صدقہ کرتے ہیں تو ان کے مال میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے اجر کو بھی بڑھاتے ہیں۔
Ayah 30:4040۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو اس نے رزق دیا پھر تم کو وہ موت دیتا ہے پھر تم کو وہ دوبارہ زندہ کرے گا بھلا کیا تمہارے خود ساختہ شرکاء جن کو تم خدا کو شریک سمجھتے ہو ان میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام کرسکے وہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بہت پاک اور بالاتر ہے یعنی وہی تم کو پیدا کرتا ہے پیدا کرنے کے بعد وہی تمہاری روزی کا سامان کرتا ہے اور تم کو روزی دیتا ہے پھر موت بھی اسی کے قبضے میں ہے اسی کے حکم سے مرتے ہو پھر دوبارہ زندگی بھی اسی کے اختیار میں ہے خواہ وہ زندگی عالم برزخ کی ہو یا قیامت کی زندگی ، اچھا اب بتائو یہ تمہارے خود ساختہ شریک جن کو تم نے میری الوہیت میں شریک کر کھا ہے بھلا کیا ان میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان امور مذکورہ میں سے کوئی کچھ کرسکے اور جب نہ ان کے قبضے میں پیدا کرنا نہ روزی دینا نہ مارنا اور نہ دوبارہ زندہ کرنا جب ان کاموں میں سے کوئی کام بھی یہ نہیں کرسکتے تو ان کا شریک ٹھہرانا باطل اور گمراہی ۔
سبحنہ و تعالیٰ عما یشرکون