Ayah 30:4141۔ خشکی اور تری میں ان لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہلاکت و تباہی پھیل گئی تا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھا دے تا کہ وہ باز آجائیں اور اعمال بد کے ارتکاب سے لوٹ جائیں ۔ برو بحر سے مرادعام آبادیاں ہیں خواہ وہ دریا سے قریب ہوں یا دریا سے دور ہوں ۔ فساد سے ہر قسم کے مصائب اور بلائیں مراد ہیں خواہ وہ قحط ہو یا سیلاب ہو ۔ وبائیں ہوں قتل و غارت گری ہو یہ سب باتیں ان گناہوں کی وجہ سے ہیں جو لوگ کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ کچھ اعمال کی سزا کا مزہ لوگوں کو دنیا میں چکھا دے ورنہ اگر تمام اعمال کا مواخذہ شروع ہوجائے تو روئے زمین پر ایک متنفس بھی باقی نہ رہے۔ بعض اعمال پر سزا اس لئے تا کہ لوگ گناہوں سے جن میں سب سے بڑھ کر گناہ شرک و کفر سے باز آجائیں۔ عام مفسرین اگرچہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل کا زمانہ مراد لیتے ہیں کیونکہ تاریخ میں وہ زمانہ سخت تاریکی کا دور تھا یورپ کے مؤرخوں نے اس کا نقشہ بہت بھیانک بتایا ہے اسی لئے مفسرین نے بر سے مراد قحط لیا ہے۔
قحط سے انسانوں میں اور حیوانوں میں سخت تباہی جاتی ہے۔ بارش نہ ہونے سے صد ہا بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں اور بحر سے مراد طوفان اور سیلاب بتاتے ہیں ۔ دریائوں کے سیلاب سے جو طوفان آتے ہیں اور انسان اور حیوانات جس طرح تباہ ہوتے ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ بیشک بعثت محمدی ﷺ سے قبل دنیا کی یہی حالت تھی لیکن آج بھی یہ تباہی جبکہ تمام دنیا ایک علاقہ بن گئی ہے سابقہ دور سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہ زمانہ بھی فساد بحر و بر کا ہے۔ بد امنی ، بےاطمینانی ، بےگناہوں کا قتل آج بھی زمانہ جاہلیت سے کچھ کم نہیں ہے۔ نوعیت میں اگرچہ فرق ہے لیکن جو کچھ ہوچکا ہے اور جس پر ہم نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ سب کچھ آج کل کی دنیا میں بھی ہو رہا ہے ۔ العیاذ باللہ کل کی دنیا اپنی بد اعمالی کی سزا بھگت چکی ہے اور آج کی دنیا اپنے اعمال کی پاداش بھگت رہی ہے اور آج کی دنیا اپنے اعمال کی پاداش بھگت رہی ہے بدکرداری موجب تباہی کل کی دنیا کے لئے بھی تھی اور آج کی دنیا کے لئے بھی ہے۔ آگے کفارم کہ سے کہا گیا ہے کہ چل پھر کردیکھو کہ نافرمانوں اور گناہ گاروں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
Ayah 30:4242۔ اے پیغمبر آپ ان منکرین دین حق سے فرمایئے کہ تم لوگ زمین میں چلو پھر وپھر دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا آخر اور ان کا انجام کیسا ہوا ان گزشتہ لوگوں میں اکثر اور بہت سے مشرک ہی تھے۔ یعنی یہ مشرک اس بات کے قائل نہیں ہوتے کہ گناہوں کی پاداش کبھی دنیا میں بھی ملتی ہے تو ان سے کہو کہ دنیا میں چل پھر کر دیکھو کہ پہلی قومیں کس طرح تباہ کی گئیں او تم ان کو دیکھ کر ان جرائم سے باز آئو جو وہ کیا کرتے تھے ، یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ حوادثات کی علت اگر گناہ ہوں تو بعض دفعہ حوادثات تو نیک بندوں کو بھی پیش آتے ہیں کیونکہ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مطلق حوادث کی علت معاصی اور گناہوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ جو حوادثات بطور سزا کے پیش آتے ہیں ان کی علت یقینا معاصی ہی ہوتے ہیں اور رفع درجات وغیرہ کے لئے جو حوادثات پیش آئیں ان کی علت معاصی اور گناہ نہیں ہوتے۔
واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر اور ظلم پھیل پڑا ہے زمین میں اور جہازوں میں لوٹ مار ہر طرف اس کا وبال پڑا ، چاہے سارا تو آخرت میں ہے پر کچھ یہاں بھی شاید ڈر کر راہ پر آویں ۔ 12
Ayah 30:4343۔ سو اے مخاطب تو اپنے رخ کو اس سیدھے اور راست دین کی طرف قائم رکھ اور اپنے منہ کو اس صحیح دن کی جانب سیدھا رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آئے اور وہ دن آپہنچے جس دن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹنا اور پھرنا نہیں اس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔
بعض لوگوں نے من اللہ کو ان یاتی کے متعلق کیا ہے اور بعض نے لا مرد کے متعلق کیا ہے ، ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں ترکیبوں کی رعایت رکھی ہے۔ اسی طرح فاقم میں بعض نے عام خطاب مراد لیا ہے اور بعض نے نبی کریم ﷺ کو خطاب مراد لیا ہے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے ۔ یعنی وہ دن قیامت کا ہے کہ آئے پیچھے ٹلے گا نہیں دنیا کے عذاب میں کبھی مہلت مل جاتی ہے لیکن عذاب اخروی میں مہلت ملنے والی نہیں ، جدا جدا ہوں گے یعنی ابرار الگ ہوں گے اور فجار الگ ہوں گے ، مستحق عذاب ایک طرف اور مستحق نجات ایک طرف۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دین کا غلبہ ہو اور سزا پانے والے الگ ہوں اور مقبول اللہ کے الگ ۔ 12
حضرت شاہ صاحب (رح) نے شاید آپ کو دنیا کے عذاب پر حمل فرمایا ہے۔
Ayah 30:4444۔ جو شخص کفر و انکار کا خوگر ہو اور کفر کا شیوہ اختیار کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑنے والا ہے اور جو کوئی نیک عمل کر رہا ہے اور نیک عمل کا پابند ہے تو ایسے ہی لوگ اپنی آرام گاہ سنوار رہے ہیں اپنے نفع کا سامان کر رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں پر کفر کا وبال ہوگا اور اہل ایمان اور اعمال صالحہ کے پابند اپنی جنت کو سنوارتے اور آراستہ کرتے ہیں۔
Ayah 30:4545۔ جس کا نتیجہ اور ماحصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان لوگوں کو صلہ اور جزا عطا فرمائے گا جو ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے ۔ واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور دوست نہیں رکھتا۔ من فضلہ کی قید سے معلوم ہوا کہ اعمال خواہ کتنے ہی ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کی بہر حال احتیاج ہے رحمت بلا علت محض فضل سے ہوتی ہے اور سزا بلا علت نہیں ہوتی جس چیز کو اللہ تعالیٰ پسند نہ فرمائے اس کے مرتکب کا کہاں ٹھکانا ہوسکتا ہے ۔ نعوذ باللہ من الکفر۔
Ayah 30:4646۔ آگے پھر دلائل توحید کا بیان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی ہے کہ وہ ہوائیں اس لئے چلاتا ہے اور ہوائوں کو اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری دینے والی ہوں اور تا کہ وہ تم اپنی رحمت سے لذت اندوز کرے اور اپنی رحمت کا تم کو مزہ چکھائے اور تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں جاری ہوں اور تا کہ تم اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تا کہ تم اسکا شکر بجا لائو ۔ یعنی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بارش سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلتی ہیں جن سے بارش کے ہونے کا پتہ چلتا ہے پھر بارش ہوتی ہے اس بارش کے مزے سے تم کو لطف اندوز فرماتا ہے اور یہ ہوائیں دریا میں چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کو مدد دیتی ہیں خواہ دخانی ہوں خواہ غیر دخانی ہوائوں سے جہازوں اور کشتیوں کی روانی تیز ہوجاتی ہے ان کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے ایک ملک کا مال دوسرے ملک میں لے جا کر فروخت کرو اوخوب نفع کمائو ایک ہوا سے کتنے کام نکلتے ہیں یہ منافع مالی اور جسمانی اس کے مقتضی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکربجا لائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی باد کے چلنے سے اتنے فائدے ہیں مینہ کی خبر آتی ہے اور جہاز چلتے ہیں ۔ 12
Ayah 30:4747۔ اور اے پیغمبر ہم نے بلا شبہ آپ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا تھا سو وہ ان کے پاس صاف اور کھلے کھلے دلائل لے کر آئے پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو جرائم کے مرتکب ہوئے تھے اور جنہوں نے جرائم کئے تھے اور مسلمانوں کی مدد کرنا اور اہل ایمان کی مدد کرنا حب وعدہ ہمارے ذمہ لازم تھا۔
آیت میں نبی کریم ﷺ کی تسلی فرمائی کہ اگر آپ کی مخالفت کرتے ہیں تو آپ غمگین نہ ہوں کیوں آپ سے پیشتر بھی انبیاء کی قوموں نے ایسا ہی کیا ہے اور باوجود دلائل واضحہ کے جرائم کفریہ کا ارتکاب کرتے رہے ہیں آخرکار ہم نے مجرموں سے انتقام لیا اور مسلمانوں کی امداد کرنا ہمارا شیوہ رہا ہے اور حسب وعدہ ہم پر ایک حق ہے جس کو ہم پورا کرتے رہے ہیں ، آپ کے ساتھ بھی ہم حسب عادت سلوک کریں گے تمہارے دشمن خائب و خاسر ہوں گے اور تم کو ان پر غلبہ حاصل ہوگا اور جس طرح گرمی کے غبار اور خاک کے بعد بارش آتی ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت ، فتح اور غلبہ حاصل ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بیچ میں باد کا مذکور اس واسطے کہ جیسے مینہ کی خبر لاتی ہیں بادیں اس طرح دین کے غلبے کی نشانیاں روشن ہوتی جاتیاں ہیں ۔ 12
Ayah 30:4848۔ اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی اور ابھار لاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ جس چاہتا ہے اس بادل کو آسمان میں پھیلادیتا ہے اور کبھی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے سو اے مخاطب تو بارش کو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں کے درمیان سے نکلتی ہے پھر جب وہ اس بارش کو اپنے بندوں میں سے جن بندوں کو چاہے پہنچا دیتا ہے تو بس وہ شادماں ہوجاتے ہیں۔
بادلوں کے اٹھنے اور گھٹائوں کے آنے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں یہاں صرف دو صورتیں بیان فرمائیں کچھ سورة نور میں گزرچکی کبھی تو ہوا کے دوش پر ایک لمبی گھٹا کر اٹھا لاتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں اس کو برسا دیتے ہیں کبھی بجائے طویل گھٹا کے ٹکڑے ایک جگہ جمع کردیتے ہیں اور ان سے بارش ہوجاتی ہے ، پھر اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں بارش سے نواز دیتے ہیں جن لوگوں پر بارش ہوتی ہے وہ شادماں ہوتے اور خوشیاں مناتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھیلاتا ہے جس طرح چاہے یعنی پہلے کسی طرف پہنچے کسی طرف اسی طرح دین بھی پھیلا ۔ 12 جس طرح بارش سے بڑے بڑے فوائد وابستہ ہیں اسی طرح دین بھی روحانی بارش ہے جس سے انسانی زندگی سنورتی ہے اور عاقبت درست ہوتی ہے۔
Ayah 30:4949۔ باوجود یکہ وہ لوگ قتل اس خوش ہونے سے پہلے ان پر برسے بالکل ہی ناامید ہورہے تھے۔ من قبلہ میں کئی قول تھے ہم نے دونوں ترکیبوں کے خیال سے ترجمے اور تیسیر میں رعایت کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بارش برسنے سے جو خوشی حاصل ہوئی اس خوش سے پہلے کہ ان پر بارش برسے اور یہ خوش ہوں یہ لوگ بارش سے بالکل مایوس تھے بارش کے ہوتے ہی نا امیدی خوشی سے بدل گئی اور بارش کے آنے سے ذرا پہلے تک بھی مایوس تھے لیکن بارش آتے ہی خوش ہوگئے۔
بہر حال ! انسانی حالت کی بےثباتی کا اظہار ہے تھوڑی دیر میں مایوس اور تھوڑی دیر میں خوش۔
Ayah 30:5050۔ سوائے مخاطب ! اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نشانات کو دیکھ کہ وہ زمین کو اس کے خشک ہوئے اور مرے پیچھے کس طرح زندہ اور تر و تازہ کردیتا ہے بلا شبہ یقینا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی بارش سے مردہ زمین کے زندہ ہوجانے پر غور و فکر کر کے اس نتیجہ پر پہنچو کہ انسان جو زمین سے پیدا ہوا ہے اسی طرح مرنے کے بعد زندہ ہوجائیگا ۔
Ayah 30:5151۔ اور اگر ہم اور قسم کی خشک ہوا چلا دیں جس سے یہ کھیتی کو زرد پڑی ہوئی دیکھیں تو یہ اس کے بعد نا شکری کرنے لگیں ۔ غرض پوری ہوجائے تو خوشی سے پھولے نہ سمائیں اور غرض پوری نہ ہو تو کھل کر نافرمانی پر آمادہ ہوجائیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غرض کے ساتھ ہے شکر اور نا شکری یہاں اس پر فرمایا کہ مراد پا کر بندہ نڈر نہ ہوجائے اللہ کی قدرت رنگا رنگ ہے۔ 12
Ayah 30:5252۔ یقینااے پیغمبر آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ، اور نہ آپ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں خصوصاً جبکہ وہ بہرے پیٹھ پھیر کر پھرجائیں۔ یعنی ان کے دل مرچکے ہیں آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ان بہروں کو سنا سکتے ہیں جو بہرے بھی ہوں اور پیٹھ پھیر کر جا بھی رہے ہوں یعنی یا تو یہ مردوں کی مثل ہیں اور یا ایسے بہرے ہیں جن کے کانوں میں ثقل ہے اور وہ پیٹھ پھیر کر جا بھی رہے ہیں ۔
Ayah 30:5353۔ اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ لگا سکتے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کی تصدیق کرتے ہیں سو وہی فرماں بردار ہوتے ہیں ۔ یعنی ظاہری اسباب سننے دیکھنے کے مفقود ہیں ایسوں کی ہدایت مشکل ہے بہر حال ! آپ اپنی تبلیغ کا حق ادا کرتے رہئے ایسے لوگ یقینا آپ کی تذکیر سے مستفید ہوں گے جو ہماری آیتوں کو مانتے ہیں اور فرمانبرداری کرتے ہیں اور انھے بہروں کو نہ سنتے نہ ماننے سے غم نہ کیجئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس آیت سے مردے کے نہ سننے پر استدلال کیا ہے اور یہی اکثر مشائخ حنیفہ کا مسلک ہے۔ ( واللہ اعلم)
Ayah 30:5454۔ اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جس نے تم کو ابتداء ً کمزور اور ضعیف حالت میں پیدا کیا اور بنایا پھر کمزوری کے بعد طاقت اور توانائی عطا کی پھر طاقت اور قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ بڑا جاننے والا بڑی قدرت والا ہے ، یعنی انسان کی ابتداء ضعف کے ساتھ ہوتی ہے ۔ وخلق الانسان ضعیفا ً ، منی اور نطفہ ، مضغہ ، علقہ پھر روح کا پڑنا ، پیدا ہونا ، پیدا ہوتا ہے تو بھی نا تواں ، نہ گردن ٹھہرتی ہے نہ آنکھ ٹھہرتی ہے غرض کمزوری اور نا توانی بچے کو گھیرے رہتی ہے پھر بتدریج طاقت اور توانائی آتی ہے اور جوانی بھرتی ہے جوانی کے بعد پھرنا توانی اور بڑھاپا شروع ہوتا ہے یہ تمام تصرفات ان کی مشیت سے ہوتے ہیں اس لئے فرمایا جو چاہے بناتا اور پیدا کرتا ہے وہ ہر تصرف کا علم رکھتا اور ہر تصرف پر اس کو قدرت ہے سب جاننے والا قدرت والا ہے۔
Ayah 30:5555۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو یہ مجرم قسمیں کھا کھاکر کہیں گے کہ وہ دنیا اور برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے جس طرح یہ آج غلط اور الٹی بات کہہ رہے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی یہ لوگ حق بات سے پھرے ہوئے تھے اور صحیح بات سے الٹے چلا کرتے تھے۔ یعنی دنیا کا رہنا یا برزخ کا رہنا یا دونوں کی مدت قیامت کی ہولناکی اور شدت عذاب کے مقابلے میں ایک گھڑی معلوم ہوگی اور دنیا میں یہ قسمیں کھا کھا کر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے آج وہاں کی مدت کو قسمیں کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں جو بےڈھنگی اور الٹی چال وہاں چلتے تھے وہی الٹی بات آج کہہ رہے ہیں ۔ پہلی آیت میں قیامت کے امکان کا ذکر تھا اس آیت میں قیامت کے وقوع کا بیان ہے آگے ان کے غلط تخمینے کا رد ہے۔
Ayah 30:5656۔ اور جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا وہ اہل علم اور اہل ایمان کہیں گے تم لوگ تو اللہ تعالیٰ کے لکھے اور نوشتہ خداوندی کے موافق قیامت کے دن تک رہے ہو یعنی دنیا اور قبر کی میعاد اللہ تعالیٰ کے نوشتے کے موافق دوبارہ جی اٹھنے کی میعاد تھی سو اس میعاد میں رہے ہو سو قیامت کا دن یہی تو ہے لیکن تم لوگ یقین نہیں کیا کرتے تھے ۔ یہ جواب مسلمان دیں گے اور مسلمان اور فرشتے دونوں کی طرف سے دیا جائیگا کہ میعاد مقررہ میں کچھ کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ مردوں کے جی اٹھنے کے دن کی جو میعاد تھی وہ اللہ تعالیٰ کے نوشتے کے موافق پوری ہوگئی اور قیامت کا اور مردوں کے جی اٹھنے کا دن یہی تو ہے لیکن تم تو وقوع قیامت کا یقین نہیں کرتے تھے اور مردوں کے جی اٹھنے پر ایمان ہی نہیں لاتے تھے یہی وجہ ہے کہ تم کو میعادکم معلوم ہو رہی ہے اگر ایمان رکھتے ہوتے اور مومن ہوتے تو تم بھی قیامت کی طلب کرتے۔
حدیث شریف میں آتا ہے مومن کی برزخ میں تمنا ہوتی ہے۔ رب اقم الساعۃ الٰہی قیامت قائم کردے تا کہ دائمی راحت حاصل کروں اور کافر کہتا ہے الٰہی قیامت قائم نہ ہو کیونکہ سمجھتا ہے کہ برزخ میں جب یہ حال ہے تو قیامت اس سے سخت ہی ہوگی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قبر کا رہنا تھوڑا معلوم ہوگا اور ایسے ہی غلط باتیں جانتے تھے دنیا میں 12 اب آگے قیامت کی مختصر تفصیل ہے۔
Ayah 30:5757۔ بہر حال اس دن نہ تو کافروں کو ان کا معذرت کرنا کوئی نفع دے گا اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اللہ تعالیٰ کی خفگی کا تدراک کرنے کی کوئی خواہش کی جائے گی یعنی نہ کوئی جھوٹا سچا عذر نفع دے گا اور نہ کوئی یہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلو۔
Ayah 30:5858۔ اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کے عمدہ عمدہ مضامین بیان کردیئے ہیں اور اگر آپ ان کے پاس ان کی حسب منشا کوئی نشانی بھی لے آئیں اور ان کو کوئی ان کا منہ مانگامعجزہ دکھا بھی دیں تب بھی جو لوگ کافر اور منکر ہیں وہ یوں ہی کہیں گے کہ تم کچھ نہیں مگر یہ کہ تم سب ملکرجھوٹ بناتے ہو اور تم سب لوگ کچھ نہیں ہو مگر بیہودہ گو یعنی قرآن کریم میں لوگوں کے سمجھانے کو ہم نے اعلیٰ مضامین عقلی اور نفلی دلائل اور بہترین مثالیں بیان کی ہیں لیکن ان کے کفر وعناد کی حالت یہ ہے کہ اگر آپ ان کو علاوہ اس قرآن کریم کے جو سراسر اعجاز ہے کوئی معجزہ ان کی خواہش اور ان کی آرزو کے موافق دکھا بھی دیں تب بھی یہ سب مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کو ہمراہ ملاکر کہیں گے۔
ان انتم الا مبطلون یعنی تم سب اہل باطل اور بیہودہ گو ہو اور تم سب جھوٹ بناتے ہو نبی کریم ﷺ کو ساحر بتا کرمبطل کہیں اور مسلمانوں کو سحر پر یقین رکھنے والے بتاکر مبطل کہیں ۔
Ayah 30:5959۔ جو لوگ یقین نہیں لاتے اللہ تعالیٰ پر اسی طرح ان کے دلوں پر مہرکر دیا کرتا ہے۔ یعنی جن کا کفر عناد بڑھتاجاتا ہے قبول حق کی صلاحیت کمزور پڑتی چلی جاتی ہے تا آنکہ قبول حق کی صلاحیت باقی ہی نہیں رہتی اسی کو فرمایا۔ یطبع اللہ یعنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا باقی نہ رہنا ہی مہر اور چھاپ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لگا دی جاتی ہے جس طرح یہ قاعدہ ہے اسی طرح ان لوگوں کے قلوب پر جو دلائل سے قائل نہیں ہوتے اور یقین نہیں لاتے اللہ تعالیٰ ان کے قلوب پر مہر لگا دیتا ہے۔
Ayah 30:6060۔ سو اے پیغمبر آپ ان کے طعن وتشنیع اور ان کی سو قیانہ حرکات کو برداشت کیجئے اور سہا کیجئے بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور حق ہے اور یہ بد یقین اور محروم الیقین لوگ آپ کو آپ کی شان کے خلاف ہلکی اور چھچھوری باتوں پر آمادہ نہ کردیں اور آپ کو بےبرداشت نہ کریں ۔ یعنی معاندین کی گستاخیوں پر صبر کرتے رہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت اور وعدہ غلبہ حق ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بدیقین لوگ آپ کو غصہ دلا کر اکھاڑ نہ دیں اور پھسلا نہ دیں اور یہ بےسمجھ لوگ ایسی اوچھی حرکات پر نہ آمادہ کردیں جو آپ کی شان کے لائق نہ ہوں ۔ ثم تفسیر سورة الروم واللہ الحمد علی الائہ۔