29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 29:1
1۔ الم
Ayah 29:2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے گئے اور وہ کسی آزمائش میں نہ ڈالے جائیں گے

2۔ کیا ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا اور یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا اور وہ کسی آزمائش میں مبتلا نہ کئے جائیں گے۔ یعنی یہ خیال صحیح نہیں ہے ، اوپر کی سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل پر فرعونی مظالم اور اس کی زیادتیوں کا ذکر تھا۔ اس سورت میں کفار مکہ کے ان مظالم کا ذکر ہے جو وہ مسلمانوں پر کیا کرتے تھے ان مظالم کے متعلق مسلمانوں کو سمجھادیا گیا ہے اور ان کو تسلی دی گئی ہے اور ان کو بتایا کہ دعوت ایمانی کو قبول کر نیوالے ابتلا اور امتحان و آزمائش کیلئے آمادہ رہیں اور یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ایمانی دعوت کو قبول کر لیناہر قسم کی آزمائشوں اور فتنوں سے سبکدوش ہوجانا ہے نہیں کافرانہ اتدار کے دور میں یہ کہنا کہ ہم دین حق پر ایمان لے آئے اور ہم نے حق کو قبول کرلیا یہ کہنا ہی بہت سے امتحانات کو دعوت دینا ہے۔ آگے اطمینان دلایا کہ یہ کوئی نئی آزمائش نہیں ہے بلکہ پہلی امتوں کو بھی یہ حوادثات پیش آچکے ہیں ان فتنوں سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ ان کا صبر و استقلال اور جواں مردی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

حالانکہ ہم ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو یقینا اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر کے رہے گا جو سچے ہیں اور ان کو بھی ظاہر کر کے رہے گا جو جھوٹے ہیں

3۔ اور بلا شبہ ہم ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں اور مختلف حوادثات و مصائب میں مبتلا کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ظاہرکر رہے گا جو جھوٹے اور کاذب ہیں ۔ یعنی تم سے پہلے جو مسلمان تھے اور کافرانہ اقتدار کے دور میں اپنے مانے کے نبی پر ایمان لائے تھے ان کے ساتھ جو مظالم ہوئے کوئی کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا اور کسی کو لوہے کی کنگھیوں سے کھرچ کھرچ کر اس کی ہڈیوں کے ڈھانچے کو نمایاں کیا گیا ۔ کما جاء فی الحدیث یہ سب سلوک ہوچکے ہیں تو ہم ان مسلمانوں سے پہلے کے مسلمانوں کو بھی اس قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرچکے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو ظاہر کر دے اور یہ بات معلوم ہوجائے کہ صحیح اعتقاد سے مسلمان ہونیوالے کون ہیں اور جھوٹے لانے والے کون ہیں ۔ آگے ان ظالموں کو بھی تنبیہ فرمائی جو محض اس بنا پر لوگوں کو ستاتے اور ان پر ظلم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا جو لوگ برے کام کرتے رہتے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے کہیں بھاگ کر آگے بڑھ جائیں گے وہ فیصلہ بہت برا ہے جو یہ کرتے ہیں

4۔ کیا وہ لوگ جو برے کام کررہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہم سے کہیں بھاگ کر آگے بڑھ جائیں گے اور آگے نکلجائیں گے وہ فیصلہ اور وہ تجویز بہت ہی بری ہے جو یہ کرتے ہیں ۔ یعنی اس قسم کا خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت سے نکل بھاگیں گے یہ خیامل بہت ہی برا اور لغو و بیہودہ ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلی دو آیتیں کہیں مسلمانوں کو جو گرفتار تھے کافروں کی ایذا میں اور یہ سب کافروں کو جو ستاتے تھے مسلمانوں کو ۔ 12
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص اللہ سے ملنے کی آس لگائے ہوتے ہے اسکو چاہئے کہ تیاری کرتا رہے کیونکہ اللہ کی ملاقات کا مقررہ وقت یقینا آنے والا ہی ہے اور وہی ہے سب سننے والا جاننے والا

5۔ آگے پھر مسلمانوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس سے ملنے کی امید رکھتا ہے اور آس لگائے ہوئے ہے اس کو چاہئے کہ وہ مصائب سے گھبرائے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کا مقررہ وقت یقینا آنے والا ہی ہے اور وہی سب کچھ سننخے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ یعنی جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملنے کا متوقع ہے تو اس کو اس قسم کے مصائب اور حوادثات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ اس کی ملاقات کا مقررہ اور متعین وقت یقینا ضرورآنے والا ہے اس وقت وہ ان تمام ایذا رسانیوں کا صلہ عطا فرمائے گا اور اس کو تو جو کچھ یہاں ظالم مسلمانوں کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں سب کا علم ہے اور جو باتیں طعن آمیز یہ کر رہے ہیں ان سب کو سن رہا ہے وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کے لئے کرتا ہے اللہ تعالیٰ تو یقینااہل عالم سے مستغنی اور بےنیا زہے

6۔ اور جو شخص کوشش اور محنت کرتا ہے تو وہ اپنے بھلے اور فائدے کو کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو یقینا اہل عالم اور اقوام عالم سے مستغنی اور بےنیاز ہے اور اس کو تمام جہان والوں میں سے کسی کی حاجت اور پروا نہیں ۔ مدعا صاف ہے کہ جو جس قدر مشقت سے اور محنت کرے گا اور مصائب و تحمل کریگا اس کا اجر اور صلہ اس کو ہی ملے گا ۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ہم ضرور ان کے گناہ ان سے زائل کردیں گے اور ہم ان کے ان کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے بہترین بدلا عطا فرمائیں گے

7۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے پابند رہے تو ہم ان کے گناہ یقینا ان سے دور کردیں گے اور ان سے زائل کردیں گے اور ہم ان کے ان کاموں کو جو وہ کیا کرتے تھے بہترین بدلا عنایت کریں گے۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کے پابند رہے تو ان کے گناہ ان سے دور کردیئے جائیں گے اور ان کے ایمانو اعمال صالحہ کا اجر ان کو ان کے حق سے بھی بہتر اور زیادہ دیا جائیگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے یعنی ایمان کی برکت سے نیکیاں ملیں گی اور برائیاں معاف ہوں گی ۔ 12
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک بنا جسکے معبود ہو نیکی کوئی دلیل تیرے پاس نہیں ہے تو تو ان دونوں کا کہنا نہ مان تم سب کو میری ہی طرف واپس آنا ہے پھر میں تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردوں گا جو تم کیا کرتے تھے

8۔ اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں ماں باپ تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ کسی ایسی چیز کو میرا شرک بنا اور شریک ٹھہراجس کے معبود ہو نیکی کوئی صحیح دلیل تیرے پاس نہیں ہے تو تو ان دونوں کا کہنا نہ مان اور شرک کرنے میں ان کی اطاعت نہ کر تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اور تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے پھر میں تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا اور بتلا دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔ حمنہ بنت ابی سفیان کے صاحبزادے سعد بن ابی وقاص کا واقعہ ہے کہ ان کے مسلمانہونے پر ان کی والدہ نے دھوپ میں بیٹھنا اختیار کیا اور کھانا پینا چھوڑ دیا اور سعد سے کہا جب تک تو اسلام کو ترک نہ کریگا تو میں اسی طرح رہوں گی یہاں تک کہ مرجائوں سعد نے کہا اے ماں اگر تیری سو جائیں ہوں اور یکے بعد دیگرے نکلتی رہے تو میں اسلام چھوڑنے والا نہیں خواہ تو کھائے پئے یا بھوک کی مرجائے ، ماں نے جب دیکھا کہ باز نہیں آئے گا تو انہوں نے کھانا پینا شروع کردیا اور دھوپ میں اٹھ کر سائے میں چلی گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کی خدمت کرو لیکن وہ اگر کوشش کریں اور تم پر زور ڈالیں کہ اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی پر یا کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شریک کرنے پر آمادہ کریں جس کا تم کو صحیح علم نہیں اور تمہارے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے اور ہر چیز ایسی ہی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریکہونے پر کوئی دلیل نہیں بلکہ شرک کیخلاف دلیلیں قائم ہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے شرک پر اور اس کی نافرمانی پر زور دیں تو ان کا کہنا نہ مانو آحر میں فرمایا کہ تم سب کو میرے ہی پاس آنا ہے پھر جو جو عمل تم نے کئے ہیں ان سب کی حقیقت سے تم کو با خبر کر دوں گا اور تم پر اپنے کاموں کی حقیقت ظاہرہو جائے گی۔ آیت کی شان نزول شاید سعد بن ابی وقاص ؓ اور حمنہ بنت ابی سفیان کے بارے میں ہے لیکن حکم عام ہے خالق کی نافرمانی میں مخلوق اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کرتے رہے ہوں گے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کردیں گے

9۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک اعمال کے پابند رہے ہوں گے ان لوگوں کو ہم نیک اور شائستہ حضرات کے درجے میں داخل کردیں گے۔ صالحین کا درجہ بہشت ہے چناچہ یہ لوگ بہشت میں داخل کردیئے جائیں گے نیک اعمال میں کافروں کی ایذا رسائی پر صبر کرنا اور ان کی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا بھی داخل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے اور کفار کی ایذا رسانی سے خواہ وہ قولا ً ہو یا فعلا ً ہو اس ایذا رسانی سے گھبرائے نہیں تو ہم ایسے لوگوں کو ضرور بہشت میں داخل کریں گے اور بہشت والوں میں شامل کرلیں گے ۔ آگے ان منافقین کا ذکر ہے جن کا ایمان پختہ نہیں چناچہ آگے ارشاد ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں ماں باپ سے زیادہ کسی کا حق نہیں پر اللہ کا حق ان سے زیادہ ہے ان کی خاطر دین نہ چھوڑئے۔ 12
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے لیکن جب ان کو اللہ کی راہ میں کوئی اذیت دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی اس ایذا رسانی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر آپ کے رب کی جانب سے کوئی مدد آپہنچتی ہے تو یہی لوگ یوں کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے کیا یہ واقعہ نہیں کہ جو باتیں اہل عالم کے سینوں میں مخفی ہیں ان سے خدا خوب واقف ہے

10۔ اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں ان کو کافروں کی طرف سے کوئی اذیت اور تکلیف دی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی اس ایذا رسانی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اگر کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے آجائے تو یہی لوگ یوں کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو دین میں تمہارے تھے کیا یہ بات نہیں ہے کہ اہل علم کے سینوں میں جو باتیں مخفی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو خوب جانتا ہے۔ یعنی کچھ ضعیف الایمان لوگ ایسے ہیں جو زبان سے تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کافروں کی ایذا رسانی کو ایسی اہمیت دیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا عذاب یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر ک انسان کفر سے تائب ہوتا ہے اور کفر کو چھوڑ کر ایمان لاتا ہے اسی طرح یہ لوگوں کی تکالیف سے ڈر کر ایمان سے دست بردار ہوجاتے ہیں ہاں اگر آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ کو کوئی مدد پہنچ جائے تو یو کہنے لگتے ہیں کہ ہم دین و ملت اور عقیدے میں یقینا تمہارے ساتھ تھے اور ہم نے دفع ایذا کی وجہ سے کافروں کے ساتھ دے دیا تھا اس دوزخی پالیسی کا حضرت حق جل مجدہٗ نے جواب دیا کہ کیا اقوام عالم اور دنیا جہان والوں کے سینے میں جو باتیں پنہاں اور مخفی ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں ہے یقینا ہے پھر غلط باتوں کا کیوں اظہار کرتے ہو اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اخلاص کو بھی جانتا ہے اور نفاق کو بھی آگے امتحانات کی وجہ مذکور ہے۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو نمایاں کر کے رہے گا جو صحیح ایمان لائے اور منافقوں کو بھی ظاہر کر کے رہے گا

11۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ظاہر اور معلوم کر کے رہے گا جو صحیح ایمان لائے اور منافقوں کو بھی معلوم اور ظاہرکرکے رہے گا ۔ یعنی اگر اس قسم کے امتحانات میں ان کو مبتلا نہ کیا جائے تو برے اور بھلے اور کچے اور پکے نمایاں نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ مومن اور منافق نمایاں ہوجائیں ۔
Ayah 29:12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریق پر چلو اور تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے حالانکہ یہ کافر ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں یقینا یہ کافر بالکل جھوٹ بول رہے ہیں

12۔ اور کافر و منکر ایمان والوں سے یوں کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریق پر چلو اور ہمارے راستے کی پیروی کرو اور تمہارے گناہ ہم اٹھائیں گے حالانکہ یہ کافروں کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں یقینا یہ کافر بالکل جھوٹ بول رہے ہیں ۔ یعنی روسائے قریش مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اول تو یہ باتیں تمہارے دین کی عقل اور سمجھ سے باہر ہیں کہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے اور حساب و کتاب ہوگا اس لئے ہم تم سے کہتے ہیں کہ تم اپنے آبائی دین پر قائم رہو اور جس دین پر تمہارے بزرگ تھے اسی میں واپس آ جائو اور اگر بالفرض یہ باتیں پیش بھی آئیں تو ہم تم کو یقین دلاتے ہیں کہ تمہارے تمام گناہ اٹھا لیں گے ۔ یہ بات ابو سفیان نے اور امیہ بن خلف نے حضرت عمر اور حضرت خباب ؓ سے کہی تھی حضرت حق تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ کسی کے گناہوں میں سے کچھ اٹھانے والے نہیں کوئی کسی گناہ گار کے گناہ اس طرح اپنے ذمے لیلے اور گناہ گار کو سبکدوش کر دے یہ ہونے والا نہیں جو لوگ گناہ اٹھانے اور اپنے ذمے پر لینے کو کہہ رہے ہیں ۔ یہ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں ان کو اپنے ہی گناہوں کے بوجھ سے فرصت کہاں ہوگی جو یہ مرتد ہونیوالوں کا بوجھ اٹھائیں اس لئے یہ جھوٹے ہیں۔
Ayah 29:13

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور ہاں یہ ضرور ہوگا کہ یہ کافر اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جو جو افترا پر دازیاں یہ لوگ کرتے رہے ہیں ان سب کی قیامت میں ان سے باز پرس کی جائے گی

13۔ اور ہاں یہ ضرور ہوگا کہ یہ دین حق کے منکر اپنے بوجھ کو اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے یہ لوگ جو افترا پردازیاں کرتے رہتے ہیں ان سب کی قیامت کے دن ان سے باز پرس کی جائیگی ۔ یعنی اپنی گمراہی اور کفر کا بوجھ اور دوسروں کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا بوجم ان پر لدا ہوا ہوگا اور جو ان کے کہنے سے گمراہ ہوئے ان کا بوجھ ہلکا نہ ہوگا یعنی وہ تو سبکدوش نہ ہوئے اور ان پر ان کے گناہوں کے ساتھ ساتھ گمراہ کرنے کا بوجھ اور لاد دیا گیا یہ منکر جو افترا پردازیاں کیا کرتے ہیں ان سب کی قیامت میں ان سے باز پرس ہوگی اور ان سب سے سوال کیا جائیگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کوئی چاہے کہ رفاقت کر کے کسی کے گناہ اپنے اوپر لے لے یہ ہوتا نہیں مگر جس کو گمراہ کیا اور اس کے بہکانے سے اس نے گناہ کیا وہ گناہ اس پر بھی اور اس پر بھی ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) کی تقریر کے بعد تعارض کا کوئی شبہ باقی نہ رہا ۔ واللہ ورہ ٗ
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا سو وہ ان لوگوں میں پچاس برس کم ایک ہزار سال سال رہا پھر ان لوگوں کو طوفان نے آپکڑا اور وہ بڑے ہی نافرمان تھے

14۔ اب منکرین کی ایذا رسانی کے سلسلہ میں چند انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے منکرین کے مظالم اور ان کی مسلمان امتوں کو جن فتنوں سے دو چار ہونا پڑا ان کے واقعات سامنے آجائیں اور مسلمانوں کو تسلی ہو، چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا پھر وہ ان لوگوں میں پچاس برس کم ایک ہزار سال رہا پھر جب وہ لوگ ایمان نہ لائے تو ان کو طوفان نے آپکڑا اور وہ بڑے ہی نافرمان تھے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظلم اور شرارت کیا ہوگی کہ ساڑھے نو سو برس میں بھی مان کر نہ دیا اور ایمان کی نعمت سے محروم رہے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور جہاز والوں کو بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ عذاب کو اہل عالم کے لئے ایک عبرت آموز نشانی بنایا

15۔ پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور جہاز والوں کو بچا لیا اور ہمنی اس واقعہ طوفان کو اقوام عالم کیلئے ایک عبرت امور نشانی بنایا ۔ یعنی جب تک طوفان نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ باقی رہے لوگوں کو عبرت حاصل ہوتی رہے۔ اصحاب سفنہ وہی لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ اس جہاز میں سوار تھے وہ سب بچ گئے اور آئندہ نسل انہی سے چلی یہ جہاز پانی اترنے کے بعد جو دی پر ٹھہر گیا اور وہیں مدتوں رکھا رہا، جیسا کہ سورة ہود میں تفصیل گزر چکی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں طوفان سے پہلے اتنا رہے اور پیچھے بھی ایک مدت رہے ساری عمر چودہ برس ۔ 12 حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر میں چند قول ہیں صاحب روح نے فرمایا ایک ہزار پچاس سال کی عمر ہوئی بعض حضرات نے اس سے بھی زیادہ بتائی ہے۔ واللہ اعلم ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت یہ سورت اتری ہے حضرت کے یار بہت سے کافروں کی ایذا سے جہاز پر بیٹھ کر حبشہ کے ملک گئے تھے جب حضرت مدینہ کو ہجرت کر آئے تب دے بھی سلامتی سے آئے اور جہاز نشانی رکھا لوگوں کو یعنی دنیا میں نائو سے بڑے کام چلتے ہیں اور قدرتیں اللہ کی نظر آتی ہیں ۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ حسن اتفاق سے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کشتی میں بیٹھ کر نجات پائی کفار سے اسی طرح امت محمدیہ کے بھی بعض مخلصین اہل مکہ کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر حبشہ چلے گئے کشتی میں بیٹھ کر پھر جب حضور مدینے پہنچ گئے تب حبشہ سے وہ مہاجرین واپس مدینہ منورہ جا کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سورة عنکبوت نازل ہوچکی تھی ۔ میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کا کشتی میں بیٹھ کر نجات پانا مذکور ہے اس لئے شاہ صاحب (رح) نے دونوں امتوں کی مناسب ذکر فرمائی پھر سورة عنکبوت کا حس سال نزول ہوا اسی سال حبشہ کی ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہاتم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہ عبادت اور تقویٰ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو تمہارے لئے بہتر ہے

16۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو یہ اللہ تعالیٰ کی پرستش اور اس سے ڈرتے رہنا اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو تمہارے لئے اس طریقہ کار سے بہتر ہے جو تم نے طریقہ اختیار کررکھا ہے۔ یعنی تم نے جو طریقہ اختیار کر رکھا ہے وہ شرک اور بت پرستی کا ہے اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی پوجا اور اس سے ڈرنا بدرجہا بہتر ہے اگر تم جانتے ہو اور سمجھتے ہو۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر محض بتوں کی پرستش کرتے ہو اور تم جھوٹی باتیں گھڑا کرتے ہو یہ واقعہ ہے کہ خدا کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کر رہے ہو وہ تم کو روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے سو تم لوگ اپنی روزی خدا ہی سے طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لائو تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

17۔ تم لوگ تو بس اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے ہو اور تم جھوٹی جھوٹی باتیں گھڑا کرتے ہو اور جھوٹی باتیں بناتے رہتے ہو بلا شبہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر تم جن کی پرستش کر رہے ہو وہ تم کو روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے سو تم لوگ اپنی روزی اور اپنا رزق اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کیا کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لائو تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تم سب اس کی طرف لوٹائے جائوگے۔ یعنی بت پرستی کرتے ہو اس توقع پر کہ یہ معبودان باطلہ تم کو کچھ فائدہ پہنچائیں گے حالانکہ ان کے اختیار میں کوئی نفع پہنچانا نہیں ہے حتیٰ کہ روزی جو روزمرہ کی ضرورت اور زندگی قائم رکھنے کی چیز ہے وہ بھی ان کے اختیار میں نہیں ہر قسم کی نفع رسانی تو خدا کے اختیار میں ہے اس لئے تم روزی اسی کے پاس تلاش کیا کرو اور اسی سے طلب کیا کرو اور اسی کی پرستش امور بندگی کیا کرو اور اسی کا شکر بجا لایا کرو، کیونکہ تم سب کو اسی کی طرف واپس جانا ہے اور اسی کے روبرو اعمال کا جواب دینا ہے۔ خلاصہ۔ یہ کہ نفع کا مالک بھی وہی ہے اور ضرر کا مالک بھی وہی ہے روزی کا مالک بھی وہی ہے اسی کی پیشی میں حاضر ہونا ہے وہی اب تک تم کو روزی دیتا ہے لہٰذا ہر قسم کی عبادت اور ہر قسم کے شکر کی بجا آوری کا وہی مستحق ہے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ تکذیب کرو گے تو تم سے پہلے بھی مختلف قومیں اپنے پیغمبروں کو جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر تو میں اس سے زیادہ کوئی ذمہ داری نہیں کہ بس صاف طور پر پہنچا دینا

18۔ اور اگر تم لوگ میری تکذیب کرو گے تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں اور بہت سی قومیں اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرچکی ہیں اور رسول پر تو سوائے صاف طور پر پیغام الٰہی کو پہنچا دینے کے اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یعنی اگر تم میری تکذیب کرو گے تو میرا کوئی نقصان نہیں آخر تم سے پہلے بھی لوگ اپنے اپنے رسول کی تکذیب کرچکے ہیں ۔ رسول کی ذمہ داری تو پیغام الٰہی کو صاف اور واضح طور پر پہنچادینا ہے اس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری رسول پر نہیں ماننے یا نہ ماننے کے تم خود ذمہ دار ہو ۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رزق جو فرمایا اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے سو جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے روزی کوئی نہیں دیتا وہی دیتا ہے اپنی خوشی کے موافق ۔ 12
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا ، بیشک یہ بات اللہ پر بہت ہی آسان ہے

19۔ کیا ان لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح شروع کرتا ہے پیدائش کو اور مخلوق کو پہلی مرتبہ کس طرح پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ بھی پیدا کر دے گا بلا شبہ اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے ۔ یعنی اس پر نہ پہلی بار پیدا کرنا کچھ مشکل نہ دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل یہ قیامت کے سلسلہ میں فرمایا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شروع تو دیکھتے ہو دوہرا نا اسی سے سمجھ لو ۔ 12
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

آپ کہئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھر وپھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا کیا ہے پھر وہی اللہ مخلوق کو آخری اٹھان بھی اٹھائے گا یقینا اللہ ہر شی پر پوری طرح قاد رہے

20۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمایئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا کیا ہے پھر وہی اللہ تعالیٰ مخلوق کو پچھلی بار بھی پیدا کرے گا اور آخری اٹھان بھی اٹھائے گا یقینا اللہ تعالیٰ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے۔ چونکہ کفار مکہ بھی ابتدائی خلق کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ اسی لئے اوپر کی آیت میں علم عقلی سے استدلال فرمایا اور دوسری آیت میں علم حسی سے اعادۂ خلق سے استدلال فرمایا کہ جائو ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ پیدائش کا طریقہ کیا ہے پہلی مرتبہ کیونکر مخلوق کی پیدائش ہوئی پھر اسی سے دوبارہ پیدا ہونے کو سمجھ لو ، وہ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم سب اسی کی طرف پلٹ کر جائو گے

21۔ وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور تم سب اسی کی طرف پلٹ کر جائو گے۔ جب اس کو اپنی مخلوق پر پوری قدرت اور پورا اختیار حاصل ہے اور سب کو خوشی یا نا خوشی سے اسی کی طرف واپس ہونا ہے تو کسی پر رحم فرمانا کسی کو تعذیب دینا یہ بھی اسی کی قدرت میں ہے اور اس سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور نہ تم زمین میں کہیں بھاگ کر عاجز کرسکتے ہو اور نہ تم آسمان میں ہرا سکتے ہو اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی حمایتی ہے اور نہ مد د گار

22۔ اور نہ تم زمین میں کہیں بھاگ کر عاجز کرسکتے ہو اور نہ تم آسمان میں کہیں بھاگ کرہرا سکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو سوائے نہ تمہارا کوئی حمایتی ہے اور نہ مدد گار ۔ جب بےبسی کا یہ عالم ہے کہ نہ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں تم اس کو ہرا سکتے ہو نہ تمہارا کوئی سرپرست و حمایتی اور نہ مدد گار تو پھر ایسے مالک و مختار کی نافرمانی کس برتے پر کر رہے ہو۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کے اور اس کے روبرو پیش ہونے کے منکر ہیں تو ہی وہ لوگ ہیں جو میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور یہی ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب ہے

23۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے اور اس کے روبرو پیش ہونے کے منکر ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جو قیامت میں میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے یعنی جب قرآن کریم پر ایمان سے انکار لقاء الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی پیشی سے انکار پھر رحمت خداوندی سے مایوسی نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا ایسے ہی بدنصیب رحمت الٰہی سے محروم رہیں گے رحمت سے مایوسی اور محرومی کے بعد عذاب سے ہی واسطہ ہوگا ۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پس ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے پاس سوائے اس کے کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے یا تو اس کو قتل کر ڈالو یا اسے جلا دو سو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ سے نجات دی بیشک اس واقعہ ابراہیمی (علیہ السلام) میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں بہت سی نشانیاں ہیں

24۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے پاس اس بہترین تقریر کے بعد اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے یا تو اس کو قتل کر ڈالو یا اسے جلا ڈالو ۔ حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اس ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دے دی اور آگ سے بچا لیا بلا شبہ اس واقعہ ابراہیمی میں ان لوگوں کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے اور یقین لاتے ہیں ۔ اس آگ کی تفصیل سورة انبیاء میں گزرچکی ہے۔ آگ روشن کی گئی اللہ کے اولو العزم پیغمبر کو ڈال دیا مگر آگ اثر نہ کرسکی اور وہ زندہ سلامت آگ میں سے نکلے اور نمرود کی حکومت سے ہجرت فرمائی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام چلا تھا اسی کے موافق اللہ تعالیٰ نے بیچ میں کئی باتیں فرمائیں پھر اس قوم کا جو ابذکر کیا نہ چلنے میں پتے یہ کہ معلوم ہوا ہر چیز کی تاثیر اس کے حکم سے ہے جب حکم نہ ہو تو آگ سی چیز نہ جلا سکے۔ 12 خلاصہ۔ یہ کہ بیچ میں توحید و قیامت کے اور دلائل بیان کئے گئے۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ تم نے جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو اختیار کر رکھا ہے تو بس دنیوی زندگی کے باہمی مروت و محبت کے تعلقات کی بنا پر اختیار کر رکھا ہے پھر قیامت کے دن تم میں سے ایک دوسرے کی مخالفت اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مدد گار نہ ہوگا

25۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا رکھا ہے تو بس محض دنیوی زندگی کے باہمی مروت و محبت کے تعلقات کی بنا پر بنا رکھا ہے پھر قیامت کے دن تم میں سے ایک دوسرے کی مخالفت کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانہ اس وقت دوزخ کی آگ ہوگا اور تمہاری کوئی مدد کرنیوالا نہ ہوگا ۔ یعنی تم جو بت پرستی میں مبتلا ہو اور تم نے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اصنام کو اپنا معبود بنا رکھا ہے یہ محض آپس کی دیکھا دیکھی اور آپس کے تعلقات اور باہمی رشتہ دراریوں اور برادری کی مروت کی وجہ سے ہے کہ کوئی رشتہ داری اور باہمی تعلقات کی وجہ سے نکو بننا نہیں چاہتا کہ جو توحید کو قبو ل کرے گا اس پر سب انگلیاں اٹھائیں گے لیکن قیامت میں ایک دوسرے کا مخالف ہوگا اور ایک دوسرے پر لعنت ملامت کرے گا کہ تیری وجہ سے میں بھی کفر میں رہ گیا وہ کہے گا تیری وجہ سے میں توحید کا قائل نہ ہوا باہمی مروت و محبت کی بنا پر کفر اور شرک اختیار کرنا اور خلاف شریعت مراسم کی پابندی کرنا ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے لیکن قیامت کے دن یہ مروتیں دشمنوں سے بدل جائیں گی اور ایک دوسرے کو ہدف ملامت بنا رہا ہوگا اس دن ان سب کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہوگا اور ان بد قسمتوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ۔ العیاذ باللہ ! اورحضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ شیطان جن کے نام کے تھان ہیں اللہ کے روبرو منکر ہوں گے کہ ہم نے نہیں کہا کہ ہم کو پوجو تب یہ پوجنے والے ان کو پھٹکار دیں گے کہ ہماری نذر و نیازلے کر وقت پر پھرگئے۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

اس پر صرف لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم کی تصدیق کی اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں یہاں سے ہجرت کر کے اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ،

26۔ بہر حال ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو تقریر فرمائی تمام قوم میں سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی اور ابراہیم نے کہا میں یہاں سے اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہی کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔ یعنی قوم میں سے صرف آپ کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) نے آپ کی تصدیق کی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کا ارادہ کیا اور چونکہ حضرت حق تعالیٰ نے ان کو جگہ بتائی ملک شام کی ۔ اس لئے ابراہیم نے فرمایا اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے۔ وقال انی مھاجر الی ربی حضرت لوط (علیہ السلام) کا قول ہو ۔ بہر حال ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے خاندان کو لیکر پچھترسال کی عمر میں بابل سے ملک شام چلے گئے۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

بیشک وہی کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب یعنی بیٹا اور پوتا عطا کیا اور ہم نے نبوت اور کتاب کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں جاری رکھا اور ہم نے دنیا میں بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کا صلہ عطا کیا اور بلا شبہ وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوگا

27۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ہم نے نبوت اور کتاب کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کی نسل میں جاری رکھا اور ہم نے دنیا میں بھی ابراہیم کو اس کا صلہ عطا فرمایا اور بلا شبہ وہ آخرت میں بھی نیک اور شائستہ لوگوں میں سے ہوگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں سارہ کے بطن سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اسحاق (علیہ السلام) کے ہاں یعقوب پیدا ہوئے ، جیسا کہ سورة انبیاء میں فرمایا اور ہم نے ان کے خاندان میں نبوت کا اور آسمانی کتب کا سلسلہ جاری رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھی ہم نے اچھا صلہ عطا فرمایا اور آخرت میں بھی وہ صالحین یعنی مقربین میں سے ہوگا اور بڑے بڑے درجے کے نیک لوگوں میں سے ہوگا ، دنیا میں برگزیدگی اور قیامت میں قرب خداوندی ۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا یقینا تم لوگ ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے بھی اس کا ارتکاب نہیں کیا

28۔ اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے قوم سے کہا کہ بلا شبہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو کہ تم سے پہلے اقوام عالم اور دنیا جہان کے لوگوں میں سے کسی نے ایسی بےحیائی کا ارتکاب نہیں کیا ۔ یعنی ایسی بےحیائی تو اقوام عالم میں سے کسی قوم میں نہیں سنی ۔ جس فعل شنیع کے تم مرتکب ہوتے ہو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم میں بہت سی برائیاں اور بہت سے عیوب تھے بالخصوص لواطت کا فعل ان کی قوم میں بہت تھا، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں یعنی لڑکوں سے خواہش پوری کرتے ہو اور راہ زنی کرتے ہو اور اپنی مجلس میں نا شائستہ اعمال کا ارتکاب کرتے ہو اس پر ان کی قوم کا جواب سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ

29۔ کیا تم مردوں یعنی لڑکوں سے خواہش پوری کرتے ہو اور ا مردوں پر دوڑتے ہو اور مردوں سے بدفعلی کرتے ہو، اور تم راہ زنی کرتے ہو اور ڈاکا ڈالتے ہو اور اپنی مجلس میں نامعقول بات اور نا شائستہ اعمال کا ارتکاب کرتے ہو ، اس پر ان کی قوم کا جواب بجز اسکے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ۔ بے حیائی فرمایا لواطت کو کہ تم لوگ اپنی شہوانی قوت کو مردوں پر خرچ کرتے ہو، ڈاکے ڈالتے ہو لوگوں کو لوٹ لیتے ہو ان کو قتل کردیتے ہو ، یا یہ مسافروں کو پکڑ کے ان سے بدفعلی کے مرتکب ہوتے ہو اور رہ مانا یہ بھی کہ صحیح راستے کو چھوڑ کر توالد اور تناسل کے سلسلہ کو منقطع کر رہے ہو ، اور اپنی مجلس میں بیٹھ کر نا معقول کام کرتے ہو ، یعنی فحش اور بیہودہ گوئی یا علی الاعلان لواطت کا ارتکاب ، یا گو زمارنا ، جوا کھیلنا وغیرہ وغیرہ۔ غر ض ! طواطت تو نمایاں ہی ہے، پھر رہزنی بھی اور مجلس میں غیر مہذب اور خلاف تہذیب امور کا ارتکاب ، ان سب امور میں لوط (علیہ السلام) کی امت مبتلا تھی، انہوں نے بہت سمجھایا اور عرصہ تک سمجھایا ۔ سورة ہود میں تفصیل گزرچکی ہے لیکن اس وعظ و نصیحت کا ان پر یہ اثر ہوا کہ جواب دیا تو یہ دیا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ اگر تو سچا ہے۔
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ان شرارت پسند لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما

30۔ لوط (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی کہ اے میرے پروردگار ان شریروں اور شرارت پسند لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما اور مجھ کو ان پر غالب فرما ، آگے اس عذاب کی مختصر تفصیل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ان آیات کے تحت فرماتے ہیں ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھیجتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قوم میں کسی نے نہ مانا ان کے سوائے ان کا وطن شہر بابل تھا پھر نکلے خدا کے توکل پر اللہ نے ملک شام میں پہنچا کر بسایا۔ 12 پھر فرماتے ہیں دنیا میں حق تعالیٰ نے ما ل اور عزت اور ہمیشہ کا نام نیک دیا ۔ اور ملک شام ہمیشہ کو ان کی اولادکو دیا ۔ 12 پھر فرماتے ہیں راہ مارنا بھی ان میں دستور تھا یا اسی بدکاری سے مسافروں کی راہ مارتے تھے کہ اس طرف کو ہو کر نہ نکلیں اور مجلس میں برے کام شاید یہی بدکاری لوگوں میں کرتے ہوں گے اسی بات کی شرم بھی نہ رہی تھی یا کچھ اور ٹھٹھے بازی اور چھیڑ کرتے ہوں گے۔ 12
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لے کر آئے ان فرشتوں نے کہا ہم اس بستی یعنی سدوم کے رہنے والوں کو ہلاک کرنیوالے ہیں کیوں کہ یہاں کے باشندے بڑے ظالم اور شریر ہیں

31۔ اور جب ہمارے فرستادہ یعنی فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے بشارت اور خوش خبری لیکر آئے تو ان فرشتوں نے کہا ہم اس بستی یعنی سدوم کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والے کیونکہ یہاں کے رہنے والے بڑے ظالم اور شریر ہیں ۔ یعنی جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ فرشتے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق کی بشارت دینے آئے تھے بشارت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا اب کیا مہم ہے جیسا کہ پارہ اور پارہ 27 میں مذکور ہے۔ انہوں نے کہا اب یہ سدوم اور اس کی متعلقہ بستیاں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم آباد ہے ان کو ہلاک کریں گے کیونکہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس بستی میں لوط بھی تو ہے فرشتوں نے جواب دیا ہم کو خوب معلوم ہے جو جو شخص اس میں ہے ہم یقینا لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے متعلقین کو بچا لیں گے مگر ہاں اس کی بیوی کو کہ وہ رہے گی نہ رہ جانے والوں میں

32۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس بستی میں لوط (علیہ السلام) بھی تو آباد ہے فرشتوں نے کہا ہم کو خوب معلوم ہے اور جو جو ا س بستی میں رہتے ہیں ان کو ہم خوب جانتے ہیں اور ہم یقینا لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے متعلقین کو بچا لیں گے مگر ہاں اس کی بیوی کو کہ وہ رہے گی رہ جانے والوں میں یعنی ان میں بستیوں میں جو لوگ آباد ہیں ان کی حالت ہم کو خوب معلوم ہے ہم کو بتادیا گیا ہے کہ لوط (علیہ السلام) کے ہمراہی اور ساتھیوں کو ہم عذاب سے پہلے ہی بچا لیں گے البتہ اس کی بیوی عذاب میں رہ جانیوالوں کے ساتھ رہ جائے گی ، چناچہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے اٹھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب کہ ہمارے وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط (علیہ السلام) ان کے آنے سے غم گین اور ان کی وجہ سے تنگ دل ہوا فرشتوں نے کہا آپ ڈریں نہیں اور نہ غمگین ہوں ہم آپ کو اور آپ کے متعلقین کو بچا لیں گے مگر ہاں آپ کی بیوی کو کہ وہ رہے گی رہ جانے والوں میں

33۔ اور جب ہمارے وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط ان کے آنے سے غمگین اور تنگ دل ہوا ان فرشتوں نے کہا آپ ڈریں نہیں غمگین نہ ہوں ہم آپ کو اور آپکے متعلقین کو بچا لیں گے مگر ہاں آپ کی بیو ی کہ وہ رہے گی رہ جانے والوں میں یعنی ان کو خوف ہوا اپنی قوم کی بدکاری اور مسافروں کو لوٹنے سے ، چناچہ جب فرشتوں نے یہ حال دیکھا تو ان کو اطمینان دلادیا کہ ہم آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں ہم آپ کو اور آپکے متعلقین کو بچانکالیں گے باقی آپ کی بیوی یقینا عذاب والوں میں رہ جائے گی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ خفا ہوئے اس سے کہ ان مہمانوں کو کس طرح بچائوں گا اپنی قوم کی بدی سے 12 آگے فرشتوں کا بقیہ قول مذکور ہے۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے باشندوں پر ایک آسمانی عذاب ان کی ان بدکرداریوں کے باعث نازل کرنے والے ہیں جو یہ کیا کرتے ہیں

34۔ ہم اس بستی کے بقیہ باشندوں پر ایک عذاب آسمان سے ان کی بدکرداری کے باعث اتارنے والے ہیں جو بد کرداری اور فسق کیا کرتے ہیں ۔ یعنی آپ حضرات کو بچا لینے کے بعد جو لوگ یہاں رہ جائیں گے جن میں آپ کی بیوی بھی شامل ہوگی ان سب پر ہم ایک آسمانی عذاب نازل کریں گے چناچہ وہ عذاب نازل ہو ان پر پتھروں کا مینہ برسایا گیا اور تباہ و برباد کردیئے گئے۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہری نشان ان لوگوں کے لئے چھوڑ رکھے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

35۔ اور بیشک ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہری نشان ان لوگوں کے لئے چھوڑ رکھے ہیں جو عقل و خر د سے کام لیتے ہیں ۔ یعنی وہ بستیاں آج بھی الٹی پڑی ہیں جو شارع عام سے نظر آتی ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وے شہر الٹے راہ پر نظر آتے ہیں ۔ 12 بہرحال ! لوط کی نافرمان اور فسق و فجور کا ارتکاب کرنیوالی قوم ختم کردی گئی ، اب آگے مختصرا ً اور چند پیغمبروں کی قوموں کا ذکر ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان کے بھائی شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا سو شعیب نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور یوم آخرت کو ملحوظ خاطر رکھو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو

36۔ اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ، پس شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کیا کرو یعنی شرک سے پرہیز کیا کرو اور آخرت کا ڈر اور خوف ملحوظ خاطر رکھو اور پچھلے دن سے ڈرتے رہو اور زمین میں فساد برپا کرتے نہ پھرو۔ مدین والوں کا ذکر کئی جگہ آچکا ہے یہ قوم مشرک تو تھی ہی اور شرک کے ساتھ اور بھی بہت سی اخلاق خرابیوں میں مبتلا تھی ، آخرت کے منکر معاملات کے کھوٹے۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان میں عادت تھی دغا بازی کی لین دین کی مگر شاید راہ بھی ٹوٹتے تھے۔ 12
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پھر ان لوگوں نے شعیب کی تکذیب کی لہٰذا زلزلے نے ان کو آپکڑا پھر وہ اپنے گھر میں منہ کے بل پرے کے پڑے رہ گئے

37۔ پھر ان اہل مدین نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی لہٰذا زلزلے ان کو آلیا اور بھونچال نے آپکڑا پھر وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے۔ آخر زلزلے کا عذاب آیا اور اس عذاب نے مدین والوں کا خاتمہ کردیا سورة ہود میں تفصیل گزر چکی ہے۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا اور ان کی تباہی ان کے مکانوں سے تم پر ظاہرہو چکی ہے اور شیطان نے ان لوگوں کیلئے ان کے اعمال کو خوش منظر بنادیا تھا اور شیطان نے ان کو سیدھی راہ سے روک رکھا تھا حالانکہ یوں تو وہ لوگ خاصے ہوشیار تھے

38۔ اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا اور ان کی تباہی و ہلاکت ان کے ویران مکانوں سے تم پر ظاہر ہوچکی ہے اور ان کا ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ رہا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے خوش منظر اور مستحسن بنادیا تھا یعنی برے اعمال کو اچھاجانتے اور اسی وجہ سے شیطان نے ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تھا حالانکہ یوں تو وہ لوگ خاصے ہوشیار اور سوجھ بوجھ کے تھے۔ یعنی دنیا کے کاموں میں ہوشیار تھے اور سوجھ بوجھ کے اچھے تھے لیکن دین کے معاملہ میں عقل سے کام نہ لیا اور شیطان کے بہکانے میں آگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کے کام میں ہوشیار تھے اور اپنے نزدیک عقل مند تھے پر شیطان کے بہکانے سے نہ بچ سکے۔ 12
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا اور بلا شبہ ان لوگوں کے پاس موسیٰ صاف صاف دلائل لے کر آیا تھا مگر انہوں نے ملک میں سرکشی کی اور وہ ہم سے بچ کر کہیں بھاگ نہ سکے

39۔ اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا اور بلا شبہ ان لوگوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) صاف صاف دلائل و احکام لیکر آیا تھا مگر انہوں نے ملک میں سرکشی اور تکبر کیا اور وہ ہم سے جیت نہ سکے اور بچ کر کہیں بھاگ نہ سکے۔ یعنی باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کے پاس واضح دلائل اور صاف احکام لیکر آئے لیکن ان کی نخوت تکبر اور غرور اور سرکشی میں کمی نہ آئی اور برابر اونچے ہوتے چلے گئے بالآخر ان کے افعال ناشائستہ ان کو بچا نہ سکے اور وہ باوجود اپنی حکومت و دولت کے ہم کو ہرا نہ سکے اور ہم سے بھاگ کر کہیں جا نہ سکے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سب کو ان کے جرائم کے باعث پکڑ لیا سو ان میں سے بعضوں پر تو ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اور بعض کو ان میں سے ایک ہولناک آواز نے آپکڑا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو ان میں سے ہم نے غرض کردیا اور اللہ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان پر ظلم کرتا بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے

40۔ پھر ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جرائم کی سزا میں پکڑ لیا سو ان میں سے بعضوں پر تو ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اور بعض کو ان میں سے ایک ہولناک آواز اور ایک چنگھاڑنے آپکڑا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعضوں کو ان میں سے ہم نے غرق کردیا اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان پر ظلم کرتا بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے ظلم کیا کرتے تھے۔ یعنی ان نافرمانوں میں سے کسی پر کنکر پتھربرسانے والی آندھی ہم نے بھیجی اور وہ ہلاک ہوگئے ۔ جیسے عاد اور کوئی تھا جس کو چنگھاڑ کی ہولناک آواز نے پکڑا اور ان کو ہلاک کردیا جیسے ثمود اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا جیسے قارون اور بعضوں کو غرق کردیا جیسے فرعون و ہامان وغیرہ۔ اور ان لوگوں پر جو عذاب نازل ہوئے اس میں کچھ ہماری زیادتی نہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان ایسی نہیں کہ وہ کسی پر زیادتی کرے ۔ وہاں چونکہ اپنے ملک میں تصرف کرنا ہے اس لئے ظلم و زیادتی کا سوال ہی نہیں ۔ اگر صورتا ً بھی زیادتی کہا جائے تو وہ بھی نہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی شرارتوں کی وجہ سے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے جن کا نتیجہ برا ہونا تھا ، چناچہ وہی ہوا ، آگے پھر شرک کی کمزوری اور توحید کا اثبات فرماتے ہیں ۔