Ayah 29:4141۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اورں کو کار ساز تجویز کر رکھا ہے ان لوگوں کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ اس مکڑی نے اپنے خیال میں ایک گھر بنا لیا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور اور بودا گھر مکڑی کا ہوتا ہے کاش وہ اتنی بات کو سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گھر اس واسطے ہے کہ جان و مال کا بچائو ہو نہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے ویسا ہی ہے جو اللہ کے سوائے کسی کو اپنا بچائو سمجھے۔ 12
یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوائے دوسروں پر تکیہ اور سہارا لگائے بیٹھے ہیں وہ بدنصیب ایسے ہی ہیں جیسے مکڑی جالا تن کے بیٹھ جائے جو کسی تیز ہوا کے جھونکے یا کسی کا دامن اور ہاتھ لگ جانے سے ہوا میں اڑاتا پھرے ایسا ہی بےجان غیر اللہ کا سہارا سمجھ لیجئے کہ کس وقت پاش پاش ہوجائے۔ سہارا اور عروۃ ثقی تو اللہ تعالیٰ ہی کا سہارا اور اسی کا بچائو ہے مکڑی کا گھر تو محض ایک مضحکہ خیز گھر ہے جس میں خاک بچائو نہیں یہی حال ان بتوں کی کمزوری کا ہے کہ ان کا سہارا بالکل کمزور اور بےجان سہارا ہے کاش دین حق کے منکر اور مشرک اتنی بات کو سمجھتے اور اللہ کی توحید کو قبول کرلیتے اور ان کمزور سہاروں کو جو کچھ بھی نہیں چھوڑ دیتے۔
Ayah 29:4242۔ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کی حقیقت کو جانتا ہے جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہیں اور جن کی پرستش کرتے ہیں اور وہی کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کبھی سننے والا تعجب کرے کہ سب کو ایک لکڑی ہانک دیا بعض خلق بت پوجتے ہیں بعض آگ پانی کو بعض اولیاء انبیاء کو یا فرشتوں کو سو اللہ نے فرمایا کہ اللہ کو سب معلوم ہیں اگر کوئی کرسکتا تو اللہ سب کو ایک قلم موقوف نہ کرتا اور اللہ کو کسی کی رفاقت نہیں چاہئے زبردست سے اور مشورت نہیں چاہئے حکمتیں اسی کو ہیں ۔ 12
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواخواہ بت ہو ، تھان ہو ، فرشتہ ہو، نبی ہو ، ولی ہو ، چھڑی ہو ، جھنڈاہو، غرض ، کوئی جاندار ہو یا بےجان ہر ایک کی پرستش کا ایک ہی حکم ہے۔
Ayah 29:4343۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کیا کرتے ہیں مگر ان مثالوں کو اہل علم ہی سمجھا کرتے ہیں یعنی مثال خواہ کوئی جھوٹی چیز کی ہو یا بڑی چیز کی مثال کی مطابقت مثل لہٗ کے ساتھ ہے یا نہیں یہ اہل علم کا کام ہے جاہل اس کو نہیں سمجھتے شاید یہ کفار کے اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان کرتا ہے پہلے بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں ۔
Ayah 29:4444۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے ، بلا شبہ ان دونوں کے بنانے میں اہل ایمان کے لئے بڑی دلیل ہے۔ یعنی زمین اور آسمان کو نہایت مناسب انداز میں جیسا بنانا چاہئے تھا ویسا ہی بنایا اور مسلمانوں کے لئے دلیل اس لئے فرمایا کہ وہ ان کی بناوٹ اور ساخت کو دیکھ کر یہ جانتے ہیں کہ چونکہ یہ کا کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس لئے اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کام میں کوئی شامل نہ تھا تو تھوڑے کام میں شریک ہونے کی کیا احتیاج۔ 12
یعنی جب آسمان و زمین جیسی مخلوق بنانے میں کسی کا ساجھا اور کسی کی شرکت نہیں تو جو باتیں زمین و آسمان سے کم ہیں ان میں اس کا شریک کیوں کیا جائے۔
Ayah 29:4545۔ اے پیغمبر جو کتاب آپ کی جانب وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کیجئے اور نماز کی پابندی کیجئے اور نماز کو قائم رکھئے بیشک نماز بےحیائی اور نا معقول و ناشائستہ کاموں سے باز رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو تم کرتے ہو ۔ اوپر کی آیات میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ منکرین کی بد سلوکی اور برے برتائو کا ذکر تھا تا کہ مسلمان ان فتنوں سے نہ گھبرائیں جو دین حق کے منکروں کی طرف سے آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔
اب نبی کریم ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے بعض احکام بیان فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں آپ کی نبوت کے بعض دلائل کا بھی ذکر فرمایا اور قرآن شریف کی صداقت پر بھی بعض دلائل بیان فرمائے چناچہ ارشاد ہوا کہ جو کتاب آپ کی جانب نازل کی گئی ہے اور وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کیجئے اور اس کو پڑھ کر سنایا کیجئے تا کہ لوگوں میں اس کی تبلیغ ہو اور ان کی ہدایت کا ذریعہ ہو اور نماز قائم رکھئے یعنی نماز پڑھ کر ان کو دکھا یئے تا کہ ان کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا طریقہ کیا ہے اور آپ قولی اور فعلی دونوں قسم کی تبلیغ کے فریضے سے ادا ہوں۔
پھر فرمایا نماز بےحیائی اور نا معقول کاموں سے باز رکھتی ہے اور نائستہ امور میں مبتلا ہونے سے ایک نمازی مسلمان جھجھک اور شرمندگی محسوس کرتا ہے اور یہ قاعدے کی بات ہے کہ جو دربار میں حاضر ہونے والے ہیں وہ بادشاہ کی نافرمانی بہت کم کرتے ہیں اور کم از کم یہ تو ظاہر ہی ہے کہ جب تک نماز میں رہتا ہے بےحیائی اور نا شائستہ باتوں سے محفوظ رہتا ہے اور ہم پہلے پارہ میں تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے کہ ہر نیکی اور بدی کا ایک اثر ہوتا ہے ، ہر بدی سے بدی اور ہر نیکی سے نیکی پھوٹتی ہے آپ ایک غلطی کیجئے یقینا آپ کسی دوسری غلطی میں مبتلا ہوجائیں گے ایک نیکی کیجئے یقینا کسی دوسری بھلائی اور نیکی کی توفیق آپ کو میسر ہوجائے گی ۔
یہ ایک تجربے کی بات ہے بلکہ ہمارا تجربہ تو یہ ہے کہ کوئی چھوٹا سا نیک عمل دوامی طور پر اختیار کرلیجئے وہی عمل آپ کی رہنمائی اور روحانی ترقی کا موجب ہوجائے گا اور چونکہ نماز کو اللہ تعالیٰ کی حضوری اور اس کی یاد میں بڑا دخل ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ یہ اشاہ ہے دوسرے اعمال خیر کی طرف بھی ، ہر عمل خیر خدا تعالیٰ کی یاد ہے اور اس کی یاد بہت بڑی بات ہے آگے تربیت کے طور پر فرمایا کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کاموں کو خوب جانتا ہے اور جب سب کاموں کا اس کو علم ہے تو ان کاموں کو اختیار کرو جو اس کو پسندیدہ ہوں اور ان سے بچو جو اس کی ناراضگی کا موجب ہوں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جتنی دیر نماز میں لگے اتنی دیر تو ہر گناہ سے بچے امید ہے کہ آگے بھی بچتا رہے اور اللہ کی یاد کو اس سے زیادہ اثر ہے یعنی گناہ سے بچے اور اعلیٰ درجوں پر چڑھے۔ 12
Ayah 29:4646۔ اور تم لوگ اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ اور مناظرہ نہ کیا کرو مگر ہاں ایسے طریقے پر مباحثہ کرو جو طریقہ اچھا اور بہتر ہو لیکن وہ لوگ جو زیادتی کریں ان کی رعایت نہ کرنے میں مضائقہ نہیں اور اہل کتاب کے مقابلے میں یوں کہا کرو کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار اور اسی کے حکم پر ہیں ۔ اہل کتاب کی حالت نسبتاً کفار مکہ سے بہتر تھی اہل کتاب پڑھے لکھے لوگ تھے آسمانی کتابوں کو جانتے تھے ان کا نام لیتے تھے پیغمبروں سے واقف ، توحید اور قیامت کو بھی سمجھتے تھے البتہ ان کی کتابوں میں جو تحریف وغیرہ ہوگئی تھی اس سے بگڑ گئے تھے اس لئے قرآن کا منشا یہ تھا کہ اہل کتاب سے گفتگو نرم کی جائے اور کم از کم متفقہ باتوں میں باہمی سمجھوتہ کر لیاجائے جیسا کہ آل عمران میں ذکر گزر چکا ہے۔
مشرکین مکہ نہ صرف جاہل تھے بلکہ ان کا مذہب ہی کچھ نہیں تھا چند خاندانی رسومات تھیں جن کو یکے بعد دیگرے کرتے چلے آ رہے تھے۔ ان کو حمیت جاہلتہ نے اور سخت کردیا تھا ، چناچہ اس لئے یہاں بھی یہ بات مسلمانوں کو سمجھائی گئی کہ مذہبی گفتگو میں اہل کتاب سے نرمی اور تہذیب سے گفتگو کی جائے اور اہل کتاب اور خالص مشرکین سے گفتگو میں فرق کیا جائے۔ البتہ ! اگر کوئی شخص ان میں بد کلام ہو اور جو لوگ غیر مہذب ہوں ان سے گفتگو کرنے میں ان کی درشتی پر تم بھی کوئی سخت بات کہہ دو تو مضائقہ نہیں اگرچہ اس کا ترک بھی افضل ہے اور سختی کا جواب بھی نرمی سے دیا جائے تو بہتر اور افضل ہے۔ آگے گفتگو کا طریقہ تعلیم فرمایا کہ ان سے کہو ہم تو قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور تمہارے پاس جو آسمانی کتابیں توریت اور انجیل وغیرہ ہیں ان کو بھی مانتے ہیں کہ بیشک جس وقت یہ نازل ہوئی تھیں اس وقت انہی پر عمل کرنے کی ضرورت تھی پھر یہ کہ ہمارا تمہارا معبود برحق ایک ہی ہے اس میں کوئی فرق نہیں اور ہم اسی کے حکم بردار ہیں اگر تم بھی اس کی حکم برداری کرنے لگو تو پھر ہم تم ایک ہی ہیں ۔ اہل کتاب کو اس طرح نرمی سے سمجھائو اسلام کا مقصد یہ تھا کہ اہل کتاب جو کفار مکہ سے زیادہ سمجھدار لوگ ہیں اگر اسلام میں داخل ہوجائیں تو مسلمانوں کی طاقت وزنی ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور کتاب والوں کا دین اصل میں سچ تھا تو ان سے ان کی طرح نہ جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹو نرمی سے واجبی بات سمجھائو مگر جو ان میں سے بےانصافی پر آوے اس کو سزا دینی ہے۔ 12 قرآن تبلیغ اور مباحثوں میں بھی انصاف اعتدال اور فرق مراتب کا لحاظ رکھتا ہے۔
Ayah 29:4747۔ اور جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب یعنی قرآن کریم کو مانتے ہیں اور بعض لوگ ان منکرین عرب میں سے بھی ایسے ہیں جو اس کتاب یعنی قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں اور کفر پر اڑنے والے ہیں ۔ یعنی ضدی اور ہٹی قسم کے لوگ تو انکار ہی کرتے رہتے ہیں لیکن جو مصنف مزاج اور صحیح سمجھ رکھنے والے ہیں وہ مشرکوں میں سے بھی اور اہل کتاب میں سے بھی اس کو مانتے اور اس پر ایمان لے آتے ہیں اول قرآن کریم کے نزول پر استدلال کیا کتب سابقہ کے نزول سے پھر اہل کتاب کا ذکر فرمایا ان کی کتابوں میں تو قرآن کریم کی پیشین گوئی موجود ہے لہٰذا جو صحیح سمجھ رکھتے ہیں ۔ وہ قرآن کریم پر ایمان لے آتے ہیں اور مشرکین میں سے بھی جو مصنف ہیں وہ خود سمجھ کر یا اہل علم یا اہل کتاب کے ایمان سے استدلال کرکے قرآن کریم پر ایمان لے آتے ہیں اور بالکل اناکر تو وہی کرتے ہیں جو پرلے درجے کے ضدی اور ہٹی ہیں کوئی ظاہر ایمان لے آتا ہے کوئی دل سے سمجھتا کہ کتاب جھوٹی نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان لوگوں میں یعنی مشرکوں میں اور جن کتاب والوں نے اپنی کتاب ٹھیک سمجھی دے اس کو بھی مانیں گے۔ 12
Ayah 29:4848۔ اور اے پیغمبر ! آپ اس کتاب یعنی قرآن کریم سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے داہنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ایسا ہوتا تو یہ باطل پرست اور ہٹ دھرم جھوٹے اس وقت ضرور کسی شبہ میں پڑتے۔
نبی کریم ﷺ کی صداقت اور قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر ایک اور دلیل بیان کی گئی ہے کہ نزول قرآن کریم سے پیشتر آپ کوئی کتاب نہ پڑھ سکتے تھے نہ لکھ سکتے تھے اگر لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تھے تو اس شبہ کا امکان بھی تھا کہ لکھے پڑھے آدمی ہیں کہیں بیٹھ کر یہ قرآن کریم مرتب کرلیا ہوگا اگرچہ پھر بھی اس کی اعجازی فصاحت و بلاغت اس کی مقتضی تھی کہ اس کو منجانب اللہ مانا جائے لیکن اس وقت اہل زیغ اور اہل باطل کو شبہ کی گنجائش تو تھی اور آپ کے امتی ہو نیکی حالت میں تو افترا اور بناوٹ کہنے کی گنجائش ہی نہیں بلکہ اس کو منجانب اللہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ سیدھا ہاتھ اس لئے فرمایا کہ عام طور سے سیدھے ہاتھ سے لکھاجاتا ہے اس لئے ہم نے ترجمے میں صرف ہاتھ ترجمہ کیا ہے، غرض ! نبی کریم ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے میں شبہ کرنیوالوں کے شبہات لغو اور ناقابل توجہ ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جگہ تھی شبہ کی اگلی کتاب پڑھ کر یہ باتیں معلوم کیں حضرت تو نہ کبھی استاد کے پاس بیٹھے نہ ہاتھ میں قلم پکڑا ۔ 12
Ayah 29:4949۔ بلکہ یہ قرآن کریم صاف اور واضح آیات و دلائل کا مجموعہ ہے ان لوگوں کے سینوں اور ذہنوں میں جن کو سمجھ اور علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کو ماننے سے وہی انکار کرتے ہیں جونا انصاف اور ضدی و ہٹ دھرم ہیں ۔ یعنی قرآن کریم باوجود ایک کتاب ہونے کے بیشمار دلائل واضحہ اور معجزات کا مجموعہ ہے اور ان لوگوں کے اذہان اور صدور میں محفوظ ہے جنکو سمجھ اور علم صحیح عطا ہوا ہے جس پر کسی مصنف مزاج کو شبہ کی گنجائش نہیں اور بس وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو ظالم اور ہٹ دھرم ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبر نے کسی سے نہیں لکھا پڑھا مگر یہ وحی جو ان پر آئی ہمیشہ کو بن لکھے جاری رہے گی ۔ سینہ بسینہ اور کتابیں حفظ نہ ہوتی تھیں یہ کتاب حفظ ہی سے باقی ہے لکھنا افروز ہے۔ 12
Ayah 29:5050۔ اور یہ کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی جانب سے ہمارے حسب منشاء اور ہماری منہ مانگی اور ہماری فرمائش کے مطابق نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں ۔ آپ فرما دیجئے نشانیاں تو سب صرف اللہ کے قبضے میں ہیں میرے اختیار کی چیز نہیں ہے اور میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں کھول کر اور صاف طور پر نافرمانوں کو ڈرانے والا ہوں ۔ یعنی میں تو ایک رسول ہوں اور اپنی نبوت کی صداقت کے دلائل پیش کرتا ہوں ان دلائل میں سے ایک یہ کتاب بھی ہے جو خود ہزاروں دلائل واضحہ کا مجموعہ ہے کیونکہ اس کی ہر آیت اعجاز ہے اس کے علاوہ اور کیا نشانیاں مانگتے ہو۔ نشانیاں میرے اختیار میں نہیں ہر قسم کی نشانی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کو آگے فرمایا۔
Ayah 29:5151۔ کیا ان لوگوں کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر ایک کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے اور ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے بلا شبہ اس کتاب میں ان لوگوں کے لئے جو اہل ایمان ہیں بڑی رحمت اور نصیحت ہے۔ رحمت تو ظاہرہی ہے کہ ہزاروں احکام اور مسائل کی تعلیم ہے حرام و حلال واقفیت اس کتاب سے حاصل ہوتی ہے اور نصیحت یہ کہ ترغیب اور ترہیب ہے یہ اور نشانیوں میں بات کہاں ہوتی ہے۔
Ayah 29:5252۔ آگے ایک اور جواب دیا جاتا ہے اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان با اعتبار گواہ کے اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو لوگ جھوٹی باتوں کا یقین کرتے اور جھوٹی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کی توحید کا انکار کرتے ہیں تو وہی لوگ سخت نقصان اٹھانے والے ہیں اور وہی لوگ زیاں کار ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب میری رسالت کا گواہ ہے اور اس کا علم تمام امور پر محیط ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو معلوم ہے تو وہ تم کو تمہارے اعمال پر سزا دے گا اور اس کی سزا دینا یہی نقصان اور زیاں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کی گواہی یہی کہ سچوں کو دن پر دن بڑھایا اور جھوٹوں کو مٹایا ۔ 12
Ayah 29:5353۔ اور اے پیغمبریہ دن حق کے منکر آپ سے عذاب واقع ہونے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کے آنے کی میعاد اور عذاب کا ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر کبھی کا عذاب آچکا ہوتا اور یقینا وہ عذاب ان پر ضرور دفعتہ اور اچانک آجائے گا اور ان کو اس عذاب کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی۔ یعنی عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں عذاب کا ایک وقت مقرر ہے اگر عذاب کا وق مقرر نہ ہوتا تو ان کے طلب کرنے پر عذاب آچکا ہوتا ہاں وہ آئے گا ضرور آئے گا بھی اچانک کہ ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی کہ کب آئے گا اور کدھر سے آئے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس امت کا عذاب یہی تھا مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونا پکڑے جانا سو فتح مکہ میں مکہ والے بیخبر رہے کہ حضرت کا لشکر سر پر آکھڑا ہوا ۔ 12
Ayah 29:5454۔ یہ منکر آپ سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور بلا شبہ جہنم ان کافروں کو ہر طرف سے گھیرنے والی ہے۔
Ayah 29:5555۔ جس دن ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ان کو عذاب لپیٹ لے گا اور ڈھانک لے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے اس کا مز ہ چکھو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آخت کا عذاب تو عبث مانگتے ہیں اس عذاب میں تو پڑے ہی ہیں وہ کفر اور برے کام مرے پر نظر آئے گا کہ دوزخ کی آگ کیونکر جلاتی ہے۔ 12
یعنی عذاب دنیا میں بھی آئے گا اور آخرت کا عذاب تو ظاہرہی ہے کہ قیامت بھی اچانک ہی آئے گی گو اس کی علامت ظاہر ہوجائیں گی اور برزخ سے اٹھنا بھی اچانک ہوگا اور جہنم کے عذاب کا گھیرنا اور لپیٹنا بھی ہوکر رہے گا اس وقت ارشاد ہوگا جو اعمال کیا کرتے تھے اس کا اب مزہ چکھو۔
العیاذ باللہ یہ ذوقوا ما کنتم تعملون
یا تو حضرت حق فرمائیں گے یا عذاب ہی میں سے آواز آئے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ کہے گا یا وہ عذاب ہی بولے گا جیسے زکوٰۃ نہ دینے والے کا مال سانپ ہو کر گلے میں پڑے گا اور کلے چیرے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیراخزانہ ہوں ۔ 12
Ayah 29:5656۔ آگے مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی ترغیب ہے ارشاد ہوتا ہے اے میرے بندو جنہوں نے دعوت اسلامی کو قبول کرلیا ہے اور اے میرے بندو جو اہل ایمان ہیں میری زمین فراخ اور وسیع ہے سو تم صرف میری ہی عبادت کیا کرو۔ یعنی اے میرے بندو جو ایمان لے آئو ہو اگر تم اپنے طن میں آزادی کے ساتھ میری عبادت نہیں کرسکتے اور منکر تم کو میری عبادت نہیں کرنے دیتے اور تمہاری راہ میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں تو میری زمین بہتری وسیع اور فراخ ہے تم کوئی امن کی جگہ دیکھ کر وہاں ہجرت کر کے چلے جائو اور کسی دبائو سے میری عبادت میں فرق نہ آنے دو بلکہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب کافروں نے مکہ میں بہت زور کیا تو حکم ہوا ہجرت کا اسی تراسی گھر اٹھ گئے۔ جبشے کے ایک ملک کو فرمایا کہ کوئی دن کی زندگی ہے جہاں بنے تہاں کاٹ دو پھر ہم پاس اکٹھے آئو گے تاوطن چھوڑنا دل پر مشکل نہ لگے اور حضرت سے جدا ہونا ۔ 12
Ayah 29:5757۔ ہر متنفس اور ہر جاندار کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم سب کی بازگشت ہماری طرف سے اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جائو گے۔ یہ شاید اس لئے فرمایا کہ ترک وطن اور ہجرت کے حکم سے جو پریشانی ہو دور ہوجائے کہ آخر ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے اور دنیا ہی چھوڑنا ہے تو آج دین کی خاطر ترک وطن کرلیں تا کہ اجر بھی میسر آئے اور اللہ تعالیٰ کا حکم کی تعمیل بھی۔
Ayah 29:5858۔ آگے نیک اعمال پر اجر مذکور ہے ارشاد ہوتا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور نیک کام کرتے رہے تو ہم ان کو یقینا جنت کے ایسے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے پائیں اور نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان بالا خانوں میں ہمیشہ رہیں گے کیا خوب اجر اور صلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔
Ayah 29:5959۔ وہ عمل کرنے اور کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جو مصائب پر ثابت قدم رہے اور صبر کرتے رہے اور اپنے پروردگاری ہی پر بھروسہ کرتے رہے اور اسی پر توکل کرتے رہے۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی پابندی کرنے والوں کا صلہ بیان کیا اور یہ بتایا کہ وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے ہیں جس میں ہجرت کی تکلیف اور مصیبت بھی آگئی ۔ صبر کرنے والے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تھے یعنی اپنے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ پر ان کو بھروسہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس وطن کے بدلے وہ وطن ملے گا ۔ 12 آگے روزی کی طرف سے اطمینان دلایا ۔
Ayah 29:6060۔ اور کتنے ہی جانور ایسے ہیں جو اپنی غذا کل کے لئے اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ہی ان کو بھی روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی وہی روزی دیتا ہے اور وہ سب کی سننے والا اور سب کو جاننے والا ہے۔ یعنی اگر ہجرت اور ترک وطن میں روزی کا خیال مانع ہو تو روزی کا تو یہ حال ہے کہ بہت سے جانور بھی ایسے ہیں جو اپنی غذا بچا کر اور اٹھا کر دوسرے دن کے لئے نہیں رکھتے صبح کو بھوکے اٹھتے ہیں اور شام کو ان کا پیٹ بھرا ہوتا ہے تو تم انسان ہو اور ہماری راہ میں ترک وطن کررہے ہو تم کس طرح بھوکے رہ سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ روزی کی طرف سے خاطر جمع کردی کہ اکثرجانوروں کے گھر میں کل کی قوت نہیں ہوتا نیا دن اور نئی روزی ۔ 12
Ayah 29:6161۔ آگے پھر شرک کی کمزوری اور توحید کا اثبات ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور اے پیغمبر اگر آپ ان کافروں سے دریافت کریں اور پوچھیں کہ وہ کون ہے جس نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے تو وہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ وہ اللہ ہے پھر یہ لوگ کدھر الٹے جا رہے ہیں ۔ یعنی تکوینی امور کا نام لیتے ہیں لیکن الوہیت کا اقرار نہیں کرتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسباب رزق کے اسی نے بنائے سب جانتے ہیں پھر اس پر بھروسہ نہیں کرتے وہی پہنچا بھی دے گا مگر جتنا وہ چاہے نہ جتنا تم چاہو یہ آگے سمجھا دیا ۔ 12
Ayah 29:6262۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے روزی کشادہ اور فراخ کردیتا ہے اور جس کیلئے چاہے روزی کو تنگ کردیتا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے با خبر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ماپ کردیتا ہے یہ نہیں کہ نہ دے۔ 12 یعنی جسکی روزی چاہے فراخ کردے اور جسکی چاہے نپی تلی روزی مقرر کر دے کمتی یا بڑھتی دیتا ضرور ہے کیونکہ وہ ہر شے کے حال سے با خبر اور خوب جانتا ہے کس کو کتنی روزی ملنی چاہئے۔
Ayah 29:6363۔ اور اگر آپ ان منکرین توحید سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے جس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے اور مرے پیچھے زندہ اور ترو تازہ کردیا تو وہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے آپ کہہ دیجئے سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں مگر یہ لوگ مانتے نہیں بلکہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے بھی نہیں اور سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ یعنی آپ ان کا جواب سن کر الحمد اللہ کہئے جب ہر چیز کا خالق بھی وہی اور رازق بھی وہی پھر اب اس کی الوہیت کا اعتراف کرنے میں کیوں جھجکتے ہو لیکن یہ مانتے نہیں مانیں تو کیا یہ تو عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔
حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مینہ بھی ہر کسی پر برابر نہیں برستا اور اسی طرح حال بدلتے دیر نہیں لگتی مفلس سے دولت مند کردے۔ 12 شاہ صاحب (رح) نے تمام آیات کا تعلق ہجرت ہی کے مضمون سے رکھا یہ حضرت شاہ صاحب (رح) کی علمی بصیرت کا کمال ہے۔
Ayah 29:6464۔ آگے اس نہ سمجھنے کی وجہ کا رو ہے ارشاد ہوتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی تو محض جی کا بہلانا اور کھیل ہے اور محض ایک لہو و لعب ہے اور بلا شبہ حقیقی زندگی تو عالم آخرت کی ہی زندگی ہے اور پچھلا گھرجو ہے سو وہی ہے جینا کاش یہ لوگ اتنی بات سمجھتے۔ یعنی یہ منکر جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر غور و فکر نہیں کرتے اسکی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے مشاغل میں یہ ہر وقت منہمک رہتے ہیں ان کو یہی خبر نہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو محض لہو و لعب کے سوا اور کچھ نہیں اور محض ایک کھیل تماشا ہے ۔ زندگی تو حقیقی وہ ہے جو اس زندگی کے بعد شروع ہوتی ہے کاش یہ منکر اتنی بات سمجھ لتے تو اس عارضی دنیا کے مشاغل کو چھوڑ کر آخرت کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجاتے ۔ اسی لئے حضرت عائشہ رصی اللہ تعالیٰ عنہا نے موت کے دن کی تعبیر خوب فرمائی۔ چناچہ موت کے دن کو یوں سمجھاتی ہیں ۔ ھو اول یوم من ایام الاخرۃ واخریوم من ایام الدنیا۔ یعنی موت کا دن دنیوی زندگی کا آخری دن ہے اور آخرت کا زندگی کا پہلا دن ہے ، بہر حال موت کے دن سے جو زندگی شروع ہوتی ہے وہی اصل اور حقیقی زندگی ہے اگر کوئی اتنی بات سمجھ لے تو اس کی تمام تر توجہ آخرت کی اصلاح پر مرکوز ہوجانی چاہئے دہو دالمقود۔
؎ بازیچہ ایست طفل قریب متاع دہر بے عقل مرد ماں کہ بدیں مبتلا شوند
Ayah 29:6565۔ آگے پھر توحید کا اثبات ہے ، ارشاد ہوتا ہے پھر جب یہ لوگ کسی کشتی میں سوار ہوجاتے ہیں تو خالص اللہ تعالیٰ پر ہی اعتقاد رکھ کر اس کو پکارتے ہیں اور اسی پر خالص نیت رکھ کر اس کو پکارنے لگتے ہیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو نجات دیکر خشکی پر لے آتا ہے اور دریا سے جنگل میں پہنچا دیتا ہے تب ہی وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 29:6666۔ تا کہ جو احسان ہم نے ان پر کیا ہے اس کی نا شکری اور کفران نعمت کریں اور تا کہ یہ ہوائے نفسانی کی اتباع کر کے چند دن اور فائدہ اٹھالیں سو اب عنقریب یہ لوگ جان لیں گے اور ان کو سب معلوم ہوجائے گا کہ یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کبھی کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔ تو گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب کی دفعہ خدا نے بچا لیا تو ہم ایمان لے آئیں گے اور اسلام کے حلقہ بگوش ہوجائیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کو خشکی پر لے آتا ہے تب ہی شرک کرنا اور بتوں کو پکارنا شروع کردیتے ہیں جس کا انجام اور ماحصل یہ ہے کہ جو نجات ہم نے ان کو غرق سے دی تھی اس کی نا شکری کریں اور کفر پر قائم رہیں اور دنیوی زندگی کو کچھ اور دنوں برت لیں اور کچھ اور فائدہ اٹھا لیں اور من مانی کارروائیں کرتے پھریں ، بہر حال اب آگے چل کر ان کو سب معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 29:6767۔ کیا ان کفار مکہ نے اس بات کو نہیں دیکھا اور انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم نے حرم مکہ کو پناہ اور امن کی جگہ بنا دیاحالان کہ انہی ساکنان حرم کے ارد گرد اور قرب و جو ار کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں اور لوٹے مارے جاتے ہیں تو کیا اس پر بھی یہ لوگ باطل اور بےاصل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کی نا شکری اور کفران نعمت کرتے ہیں ۔
ہم سورة قصص میں کہہ چکے ہیں کہ مکہ کے حرم کا سب لوگ احترام کرتے تھے اور حرم کے رہنے والوں کو لوٹتے نہیں تھے اور نہ قبل کرتے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کا اہل مکہ پر بڑا احسان تھا آس پاس کے لوگوں کو ڈاکو مارتے بھی تھے لوٹتے بھی تھے اور ان کو نکال بھی دیتے تھے لیکن حرم میں رہنے والوں پر آنچ بھی نہ آتی تھی اللہ کے اس کھلے ہوئے احسان کا مقتضی یہ تھا کہ یہ اس ایمان لاتے اور اس وحدہٗ لا شریک کے ساتھ شرک نہ کرتے لیکن یہ بدنصیب پھر بھی بتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفران نعمت کا برتائو کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے اور سارے ملک عرب میں فساد تھا بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں یہ سچا احسان اللہ کا نہیں مانتے۔ 12
Ayah 29:6868۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور ناانصاف کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب سچی بات اس کو پہنچ جائے اور اس کے پاس آجائے تو اس سچی بات کی تکذیب کرے کیا ایسے کافروں کا آخری ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا ۔ یعنی بےدلیل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے اور کہے کہ وہ شریک رکھتا ہے اور سچی بات جو مدلل اور مع الدلیل آئے اس کو جھٹلائے اور اس کی تکذیب کرے ، تو واقعی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے اور ایسے ظالموں کا جہنم کے سوا ٹھکانہ بھی کہاں ہوسکتا ہے۔
Ayah 29:6969۔ اور جو لوگ ہمارے لئے مشقتیں برداشت کرتے ہیں تو ہم ضرور ان کو اپنی راہیں دکھا دیں گے اور یقینا اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کے ساتھ ہیں ۔ اور جو لوگ ہماری رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے مختلف مشقتیں برداشت کرتے ہیں تو ہم ان کے لئے اپنے قرب و محبت کی راہیں ظاہر کردیتے ہیں اور دکھا دیتے ہیں اور ہم حضرات مخلصین کے ساتھ ہیں دنیا و آخرت میں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی راہیں یعنی راہ قرب کی اور رضا کی جو بہشت ہے۔ 12
یعنی جو لوگ ریاضت و مجاہدے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر وصل کی راہیں آسان کردیتا ہے اور نور بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ جنت میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ ساتھ کا یہ مطلب کہ اس کی حمایت اور نصرت ان کے ساتھ رہتی ہے راستہ تو ایک ہی ہے لیکن ریاضت اور مجاہدے کے بہت سے شعبے ہیں اس لئے راہیں فرمایا۔
واللہ اعلم وعلم اتم واحکم تم تفسیر سورة العنکبوت وللہ والحمد